نقدو تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

فرموداتِ نبویؐ

مصنف:    مجاہد شبیر احمد فلاحی

ناشر:    ادارہ مطبوعات طلبہ جموں وکشمیر،جمعیت بلڈنگ، باراں پتھر،بٹہ مالو، سری نگر

سنہ اشاعت: ۲۰۱۲ء٭ صفحات: ۲۵۶٭ ۱۵۰ روپے

جناب مجاہد شبیر احمد فلاحی کے قلم سے دروس حدیث کے کئی مجموعے نکلے ہیں اور اسلامی جمعیت طلبہ جموںو کشمیر کے اشاعتی ادارے سے شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعارف زندگی نو کے صفحات میں کرایا جاچکا ہے۔ موصوف صالح، اسلام پسند اور متحرک نوجوان ہیں، انھوں نے ادارۂ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ سے تصنیفی تربیت حاصل کی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کے ناظم اعلیٰ رہ چکے ہیں اور اب وہاں کی جماعت اسلامی کی ایک تحصیل کے ناظم ہیں۔

اس کتاب میں پانچ احادیث نبویؐ کی مفصل تشریح کی گئی ہے۔ تشریح سے قبل مصنف نے ہرحدیث کی تخریج کرکے اس کا ترجمہ کیاہے اور مشکل الفاظ کی لغوی تحقیق بھی کی ہے۔ دوران تشریح ہم معنیٰ قرآنی آیات اور دیگر احادیث نبویؐ بھی پیش کی ہیں۔ ان احادیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے گِن کر کچھ کاموں کی انجام دہی اور کچھ کاموں سے اجتناب کی تاکید فرمائی ہے۔ یہ دروس حدیث پہلے ماہ نامہ زندگی نو، سری نگر کے اخبارات مومن اور کشمیر عظمیٰ کے جمعہ ایڈیشن اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی میں بالاقساط شائع ہوچکے ہیں۔

امید ہے، تحریکی حلقوں میں حسب سابق دروس حدیث کے اس مجموعے کو بھی مقبولیت حاصل ہوگی اور اس سے تربیتی پہلو سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

مصر وشام اور فلسطین— خون سے لالہ زار

مصنف:  ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی

ناشر: قاضی پبلشرزاینڈ ڈسٹری بیوٹرز،  B-35، نظام الدین (ویسٹ) نئی دہلی۔۱۳

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۹۰٭ ۸۰ روپے

ادھرکچھ عرصے سے عالم اسلام کے ممالک مصر، شام اورفلسطین میں انتشار برپا ہے۔ اغیار کی  سازشوں اور اپنوں کی نادانی سے یہ علاقے خونِ مسلم سے لالہ زار ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی قیادت میںاسلام پسندوں کو برسراقتدار آئے ابھی ایک سال ہی گزرا تھا کہ فوجی ٹولے نے جمہوریت پر شب خون مار کر بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کیا اور ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ شام میں اسد خاندان کے چالیس سالہ ظالمانہ اقتدار کے خلاف وہاں کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے تو فوج کے ذریعے انھیں کچلا جارہا ہے۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں وہاں ہزاروں ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں اور ملک کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔ اور فلسطینی مسلمان اسرائیل کی مسلسل جارحیت کا شکار ہیں اور ان کا ناطقہ بند کیا جارہا ہے۔

پروفیسر محسن عثمانی عالم عرب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کو وہاں کے حالات اور مسائل سے دلچسپی ہے۔ ان ممالک کے حالیہ انقلابات اور نشیب وفراز پر ان کے مقالات اخبارات ورسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کامجموعہ زیر نظر کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ موصوف نے ان مقالات میں وہاں کے حالات کا بھرپور تجزیہ کیا ہے۔ اور پس پردہ جوسازشیں رچی جارہی ہیں اورجو گیم کھیلے جارہے ہیں ان کو واشگاف کیا ہے۔ ان ممالک کی موجودہ صورتحال بڑی پیچیدہ ہے، اس کتاب سے ان کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کو اس خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے۔

 

وادیٔ خوناب

مصنف:               ایس احمد پیرزادہ

ناشر: کشمیر اسٹڈیز فائونڈیشن سری نگر

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۴۶۴٭ ۲۰۰ روپے

وادیٔ کشمیر میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ظلم وستم ، قتل وخون ریزی اور حیوانیت و بربریت کی تاریخ رقم کی جارہی ہے۔ آئے دن وہاں قتل وغارت گری کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ معصوم اور بے قصور افراد کا ناحق خون بہتا ہے۔ ۲۰۱۰ء کا سال اس اعتبار سے کچھ زیادہ ہی ہنگامہ خیز رہا  اس میں ایک سو پچیس (۱۲۵) سے زیادہ افراد کو مختلف واقعات میں ہلاک کردیاگیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو نہ جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے نہ غیر قانونی حرکات کا ارتکاب کر رہے تھے۔ان میں سے اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ زیر نظر کتاب میں ان میں سے چوراسی (۸۴) افراد کا تذکرۂ جمیل اکٹھاکردیاگیا ہے۔

جناب ایس احمد پیرزادہ کشمیر کے معروف صحافی ہیں۔ وہ روزنامۂ کشمیر عظمیٰ‘ میں کئی برسوں سے سیاسی وسماجی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔ دوسرے اخبارات ورسائل میں بھی ان کی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ۲۰۱۰ء میں بے گناہ  افرادکی پے درپے ہلاکتوں کی تاب نہ لاکر انھوں نے اس  کے خلاف بہ طور احتجاج لکھنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے اخبارات اور دیگر ذرائع سے ہلاک شدگان کی فہرست تیار کی، پھر ایک ایک کے گھر گئے، اہل خانہ، خاندان کے دیگر افراد، دوست و احباب اور اہل محلہ سے ملاقاتیں کیں۔ اس طرح جو معلومات حاصل ہوئیں انھیں بہت سلیقے سے اورمؤثر اسلوب میں قلم بند کیا۔ یہ تذکرہ بے قصور افراد پر مظالم کی مستند دستاویز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ظلم وجور کی بنیاد زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی۔ ظلم وزیادتی کرنے اور ستم ڈھانے والے اگر اس دنیا میں اس کی سزا پانے سے بچ جائیں تو لامحالہ انھیں مرنے کے بعد کی زندگی میں اس کا  خمیازہ بھگتناپڑے گا۔

اللہ تعالیٰ جناب پیرزادہ کو جزائے خیر دے ۔ ان کے بیان کے مطابق یہ کتاب کی جلد اول ہے۔ دوسرے مظلومین کا تذکرہ وہ آئندہ جلدوں میں پیش کریں گے۔

مولانا آزاد کی غبارِ خاطر اور اس کا شعری سرمایہ

مصنف:    ڈاکٹرعبید اقبال عاصم

ملنے کاپتہ:   مکتبہ اسلام، نزد مسجد رحمت سرسید نگر، علی گڑھ

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۲۳۲٭ ۱۵۰ روپے

علمی و ادبی حلقوں میں مولانا ابوالکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء) کا تعارف کرانے کی ضرورت ہے نہ ان کی معرکہ آرا تصنیف غبار خاطر کا ۔ یہ کتاب اردو ادب کا شاہ کار ہے۔ کہنے کو تو یہ ان خطوط کا مجموعہ ہے جو مولانا آزاد نے قلعہ احمدنگر کی جیل سے اپنے بے تکلف دوست صدر الافاضل نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن خاں شیروانی کے نام لکھے تھے، اگرچہ یہ خطوط مکتوب الیہ کو بھیجے نہیں گئے۔ غبار خاطر ، عرصہ ہوا، مشہور محقق جناب مالک رام کی تحقیق اور حواشی کے ساتھ شائع ہوئی ہے اور اب تک اس کے دس سے زائدایڈیشن منظر عام پر آئے ہیں۔ مالک رام نے کتاب میں عربی، فارسی اور اردو اشعار کی مکمل حوالوں کے ساتھ تحقیق کی ہے، اعلام، اماکن، آیاتِ قرآنی، کتب وغیرہ کا اشاریہ تیار کیا ہے اور دیگر توضیحات وتشریحات بھی کی ہیں، لیکن انھوں نے عربی اورفارسی اشعار کا اردو زبان میں ترجمہ نہیں کیا تھا۔ یہ خدمت زیر نظر کتاب   میں انجام دی گئی ہے۔

فاضل مصنف نے پہلے غبار خاطر کے ہر خط کا پس منظر کچھ اپنے اور کچھ مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں بیان کیا ہے،پھر پورے خط کا خلاصہ  تحریر کیا ہے، آخر میں اس میں وارداشعار کی نشاندہی کی ہے۔ یہ اشعار اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں کے ہیں۔ ساتھ ہی عربی اور فارسی اشعار کا اردو ترجمہ بھی کردیا ہے۔ مولانا آزاد نے بعض خطوط کے عنوانات رقم فرمائے تھے اوربعض بلا عنوان تھے۔ مصنف نے ان کا مطالعہ کرکے ان کے بھی مناسب عنوانات تجویز کردیے ہیں۔ غبارخاطر پر یہ ایک نئے انداز کا کام ہے۔ امید ہے اسے بہ نظر تحسین دیکھا جائے گا۔

کتاب میں عربی کے تیس (۳۰) سے کچھ زائد اشعار ہیں ۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ بیشتر اشعار کا ترجمہ غلط ہے۔ مصنف نے علی گڑھ سے عربی زبان و ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ اسناد حاصل کی ہیں۔ ان کے احباب بھی، جن کی معاونت کا انھوں نے اپنے پیش لفظ  میں تذکرہ کیا ہے، پی ایچ ڈی کی  ڈگری رکھتے ہیں۔ کتاب پر اساطین علم و ادب پروفیسر ریاض الرحمٰن خاں شیروانی، سابق صدر شعبۂ عربی، کشمیر یونیورسٹی سری نگر، پروفیسر سید ظل الرحمٰن صدر ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ اور پروفیسر ابوالکلام قاسمی، سابق صدر شعبہ اردو وڈین فیکلٹی آف آرٹس مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے توصیفی کلمات تحریر فرمائے ہیں، مگر حیرت ہوئی کہ عربی کے آسان اشعار کا بھی درست ترجمہ نہیں ہوا ہے اور کسی کی اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔

چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

عباراتُنا شتّٰی وَ حُسْنُکَ وَاحِدٌ

وَکُلٌّ اِلٰی ذَاکَ الْجَمَالِ یُشیر

اس شعر کا یہ ترجمہ کیا ہے:

’’ہماری تعبیرات بہت سی ہیں اور تیرا جمال ایک ہے اور تمام تعبیرات تک پہنچنے کے لیے یہی جمال ایک راستہ ہے‘‘۔

دوسرے مصر کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا:

’’ہر ایک اس جمال کی طرف اشارہ کر رہا ہے‘‘۔

عَنِ الْمَرْ  ِِٔ لِاَتْسألُ وَسَلْ عَنْ قرِیْنِہ

فَکُلُّ قَرِیْنِِ بِالْمُقارِنِ یَقْتَدِی

اس شعر کا یہ ترجمہ کیا ہے:

’’کسی انسان سے اس کی اپنی ذات کے بارے میں مت پوچھو، بلکہ اس کے عہد کے بارے میں معلوم کرو، کیوں کہ ہر عہد اپنےعہد سے وابستہ افراد کی رہ نمائی کرتا ہے‘‘۔

لفظ ’قرین‘ کو ’قرن‘ سمجھ کر اس کا ترجمہ عہد سے کردیا گیا ہے، حالاں کہ ’قرین ‘ کے معنی ساتھی اور دوست کے ہیں۔ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے : ’’کسی انسان کے بارے میں مت پوچھو، بلکہ اس کے ساتھی اور دوست کے بارے میں پوچھو،اس لیےکہ ہر شخص اپنے دوست ہی کی پیروی کرتا ہے‘‘۔

وَمِنْ مَذْھَبِیْ حُبُّ الدِّیَارِ لِاَھْلِہَا

وَلِلنَّاسِ فِیْمَا یَعْشِقُوْنَ مَذَاھِبُ

اس شعر کا یہ ترجمہ کیا ہے:

’’میرامذہب وطن اور اس کے رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ عام لوگ مذاہب کی چاہت میں مبتلا ہیں‘‘۔

اس کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا:

’’میرامسلک یہ ہے کہ کسی علاقے سے محبت وہاں رہنے والوں کی وجہ سے کی جائے۔ عشق کے معاملے میں لوگوں کے الگ الگ مسالک ہیں‘‘۔

فارسی زبان سے تبصرہ نگار کو مناسبت نہیں،اس لیے فارسی اشعار کے ترجمے کی صحت کےبارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ بہرحال امید ہے کہ کتاب کے دوسرے ایڈیشن سے قبل یہ اغلاط دور کرلی جائیں گی۔

مختصر تاریخ خلفائے اسلام

مصنف:   میر اشفاق علی

ناشر: ملت پبلی کیشنز، حیدرآباد، ملنے کا پتہ: ہدیٰ پبلی کیشنز، پرانی حویلی، حیدرآباد

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۲۴۲٭ قیمت:  ۔؍۳۰۰ روپے

اسلامی تاریخ پر دنیا کی مختلف زبانوں میں وسیع و قابل قدر لٹریچر موجود ہے۔ یہ کتابیں مسلم دنیا کی سیاسی تاریخ پر بھی ہیں اور ان میں مسلمانوں کی علمی پیش رفت اور تہذیب وتمدن کے فروغ میں ان کی خدمات اور کارنامے بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سی کتابیں مسلم مصنفین کی تالیف کردہ ہیں اور بہت سی کتابوں کو مستشرقین اور دیگر غیر مسلم اصحاب قلم نے تحریر کیا ہے۔ اس موضوع پر اردو زبان بھی خوب مالا مال ہے کہ اس میں طبع زاد کتابیں بھی ہیں اور دیگر زبانوں سے تر کی جمہ ہوئی کتابیں بھی۔

عموماً اسلامی تاریخ پر دستیاب یہ کتابیں کافی مبسوط اور ضخیم ہیں، اس لیے کہ چودہ سو سالہ تاریخ کا احاطہ کرنا اور اس طویل عرصے میں مسلمانوں کے زیرتسلط ممالک کے سیاسی حالات، تمدنی ترقیوں اور ان میں مسلمانوں کے علمی کارناموں اور خدمات کوبیان کرنا تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔ضرورت تھی کہ اس موضوع پر مختصر کتابیں تصنیف کی جائیں، تاکہ ان سے استفادہ زیادہ سے زیادہ عام ہو اور جو لوگ مبسوط اور ضخیم کتابیں پڑھنے کے لیے وقت فارغ نہیں کرسکتے وہ ان سے اپنی معلومات میںاضافہ کرسکیں۔ زیر نظر کتاب اس ضرورت کو بہ حسن وخوبی پوری کرتی ہے۔

جناب میراشفاق علی حیدرآباد کی ایک صاحب علم شخصیت ہیں۔ اس سے قبل ان کی کتاب قادیان سے مکہ علمی ودینی حلقوں میں مقبول ہوچکی ہے۔ اب انھوں نے تاریخ اسلام پر قلم اٹھایا ہے۔

اس کتاب میں آٹھ ابواب کے تحت عہدنبویؐ سے لے کر خلافت عثمانیہ ، بلکہ اس کے بعد آزاد مسلم ریاستوں اور مملوک سلاطین کے دور تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چارٹس اور خاکوں کی مدد سے اسے عام فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اختصار کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ کتاب کی تالیف میں تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی مستند اردو کی طبع زاد تصانیف اور انگریزی اور عربی سے ہونے والے تراجم کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اس لیے اس کے بیانات پر مکمل اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب دینی مدارس، اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کےلیے بھی مفید ہے اور عام قارئین بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

رجوع الی القرآن۔ اہمیت اورتقاضے (مقالات سیمینار)

مرتب:  اشہد رفیق ندوی

ناشر: ادارۂ علوم القرآن، شبلی باغ، علی گڑھ ۔یوپی، انڈیا۔۲۰۳۰۰۲

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۵۲۸٭ ۳۰۰روپے

ادارۂ علوم القرآن علی گڑھ ہر سال قرآن مجید سے متعلق کسی اہم پہلو پر سیمینار منعقد کرتا ہے۔ زیر نظرکتاب ۲۱؍۲۲؍ اکتوبر ۲۰۱۲ء کو منعقدہونے والے سیمیناربعنوان ’رجوع الی القرآن۔ اہمیت اورتقاضے‘ میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ چھ ابواب کے تحت اکیس (۲۱) مقالات پر مشتمل ہے۔

پہلے باب میں افتتاحی اجلاس کے کلیدی مباحث ہیں، جن میں مرکزی موضوع کا تعارف ، سیمینارکےمقاصد، منہج اور ترجیحات کی وضاحت کی گئی ہے۔ باب دوم ’تعارفِ قرآن‘ پرہے۔ اس میں تین مقالات شامل ہیں۔ پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی کا مقالہ :  قرآن مجید کا تعارف۔ قرآن کی روشنی میں کے عنوان سے ہے۔ ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی نے اپنے مقالے میں قرآن مجید‘ کے کتاب ہدایت کے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ تیسرا مقالہ مولانا اشہد رفیق ندوی کا ہے جس میں انھوںنے حفاظتِ قرآن کے الٰہی وعدے کے ایفاء کی عملی تدابیر سے بحث کی ہے۔تیسرا باب ’رجوع الی القرآن‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں پانچ وقیع مقالات شامل ہیں،جن میں رجوع الی القرآن کی مختلف جہات، معانی، طریقوں ، مناہج ، لوازم اور تقاضوں پر اظہار خیال کیاگیا ہے اور درسِ قرآن، مطالعۂ قرآن، تراجم وتفاسیر سے استفادہ کی انفرادی واجتماعی کوششوں کو زیر بحث لایاگیا ہے۔ مقالہ نگار پروفیسر محمد یٰسین مظہرصدیقی، پروفیسر مسعود احمد، مولانا سلطان احمد اصلاحی ، ڈاکٹرعبیداللہ فہد فلاحی اور ڈاکٹر صفدر سلطان اصلاحی ہیں۔

باب سوم ’تعلیم وتعلم‘ کے عنوان سےہے۔ اس میں مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی، ڈاکٹر مبین سلیم ندوی اور مولانا عبدالبراثری فلاحی نے بالترتیب قرآن پاک اور ہمارا تعلیمی نظام، عصری درس گاہوں میں قرآنی تعلیم کا جائزہ۔ قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم اور مختلف طریقہائے تدریس کا جائزہ کے عنوان سے بحث کی ہے۔ اس باب میں ابتدائی تعلیم سے منتہیٰ درجات تک، دینی درس گاہوں سے عصری جامعات تک، ہندوستان سے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب، مصر، ملیشیا وغیرہ تک تدریس قرآن کے نظام، مناہج ، طریقوں اور نصابوں کا بھرپور جائزہ لیاگیا ہے۔ مدارس میں رائج نظامِ تدریس قرآن کے تعلق سے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پورا نظام محور سے ہٹا ہوا ہے، قرآن مجید کو تمام علوم کا سرچشمہ سب تسلیم کرتے ہیں ،مگر نصابِ تعلیم میں اس کا انعکاس نہیں پایا جاتا۔ باب چہارم میں فہم قرآن میں معاون علوم وفنون، وسائل اور ذرائع پر اجمالی نظر ڈالی گئی ہے۔ اس میں پانچ مقالات شامل ہیں: پہلامقالہ مولانا محمد عمر اسلم اصلاحی کا ہے، جس کاعنوان ہے: ’ فہم قرآن کے لیے علوم قرآن کا فہم ناگزیر ہے‘۔ اس مقالے میں اسبابِ نزول ، جمع وترتیبِ قرآن ، مکی اور مدنی سورتیں، آدابِ تلاوت، ناسخ اور منسوخ، مفرداتِ قرآن، نظم قرآن، اقسامِ قرآن، امثال قرآن، حکمت قرآن اورعلوم قرآن کے دیگر موضوعات کا احاطہ کیاگیا ہے۔مولانا نسیم ظہیر اصلاحی اور ڈاکٹر ایاز احمد اصلاحی کے مقالات نظم قرآن کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے انگریزی زبان کے چند اہم تراجمِ قرآن کا تعارف کراتے ہوئے ان سے استفادے کا طریقہ بتایا ہے۔ مولانا نعیم الدین اصلاحی نے قرآن مجید کی بعض آیات کے حوالے سے مفسرین کی آراء کامحاکمہ کیا ہے۔اس کتاب کا آخری باب ’عصر حاضر میں قرآن مجید کی رہنمائی‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں بعض معاصر مسائل کوموضوع بحث بناکر قرآن کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے ’قرآن مجید سے احکام ومسائل کا استنباط اورعصر حاضر کے تقاضے‘ کے موضوع پر مبسوط مقالہ تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر محی الدین غازی کے مقالے کا موضوع ہے ’رجوع الی القرآن کی ایک اہم صورت۔ دور جدید کی رہنمائی کے تناظر میں‘۔ ڈاکٹر محمدرضی الاسلام ندوی نے اپنے مقالے میں قرآن مجید پر ہندو انتہا پسندوں کے اعتراضات کا جائزہ لیا ہے اور قرآن وسنت اور عقلی ونقلی دلائل کی روشنی میں صحیح نقطۂ نظر واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر حافظ سعید احمد نے اپنے مقالے میں یہ بحث کی ہے کہ قرآن غیر مسلموں کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے بارے میں کیا احکام دیتا ہے۔

یہ مجموعۂ مقالات مجموعی اعتبار سے ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ہے۔ ان مقالات میں باہم ربط اور ہم آہنگی محسوس ہوتی ہے۔ جس کی بنا پر اس کتاب کی حیثیت باضابطہ تصنیف کی ہوگئی ہے۔ اس خدمت پر ادارہ کے ذمے داران اور فاضل مرتب مبارکباداور شکریے کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو قرآن کی طرف پلٹنے کا ذریعہ بنائے اور اس سے استفادہ عام کرے۔    (زبیرعالم اصلاحی)

جنوری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau