ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے افکار کا اصولی و منہجی مطالعہ

دوسری قسط

ذو القرنین حیدر سبحانی

 ۴۔ فقہ، تقلید اور اجتہاد

 دین کی تعلیمات کی نوعیت کا صحیح شعور اور تبدیلی زمان و مکان کی گہری معرفت کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ نجات صاحب فقہ کی صحیح حیثیت طے کرکے، اجتہاد پر غیر معمولی زور دیتے تھے اور تقلید پر سخت تنقید کرتے تھے۔ اور ان تینوں موقف کے پیچھے جو اصل بنیاد تھی وہ وہی دین کا فہم اور وقت کا شعور تھا۔

 فقہ کی صحیح حیثیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘اصولی طور پر اللہ نے ہمیں صرف کتاب و سنت کی پابندی کا مکلف بنایا ہے۔ جدید اسلامی قانون سازی میں ہمیں ماضی کے فقہی ذخیرہ سے پورا استفادہ کرنا چاہیے لیکن یہ مخصوص زمان و مکان میں انسانی ذہن کی پیداوار ہے، جس کی پابندی کی نہ کوئی شرعی اور عقلی دلیل ہے، نہ یہ پابندی عملاً مفید ثابت ہو سکتی ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۷)

 کچھ مثالوں سے فقہ میں موجود تاریخی تصورات کی وقتی اور غیر دائمی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

 ‘‘حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی دار الحرب اور دار الاسلام کے درمیان تقسیم ایک عملی ضرورت کی علمی تعبیر تھی، نہ کہ الہی سند رکھنے والی دائمی تقسیم، اسی طرح کسی اسلامی حکومت کے تمام غیر مسلم باشندوں کی (جو اکثر و بیش تر نہ صرف پیدائشی، بلکہ پشتینی طور پر اسی ملک کے باشندے ہوں) ذمی کی حیثیت جو فقہ کہ کتابوں میں جگہ پاگئی، وہ دائمی حیثیت نہیں رکھتی۔’’(مقاصد شریعت: 160)

 وہ بار بار فقہ کے انسانی اور مخصوص حالات کی پیداوار ہونے کے پہلو پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

 ‘‘ایک اور بات سمجھ لیجیے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ فقہ مرتب ہے اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ انھیں سمجھانا چاہیے کہ فقہ ایک مخصوص زمانے کے لوگوں کا نتیجہ فکر ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے تحت نئے سرے سے سوچنا ہوگا۔ نئی فقہ مرتب کرنی ہوگی اور اجتہاد سے کام لینا ہوگا البتہ اس مرتب فقہ کو اپنے لیے نمونہ اور ہدایت بنایا جائے گا۔’’ (تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۶۹)

 آگے مزید کہتے ہیں:

 ‘‘ایک زمانے میں فقہ اسلامی زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی رہی۔ مگر اب چار سو سال سے یہ کام نہیں ہو رہا ہے۔’’ (تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۷۰)

 تقلید کے نتیجے میں سامنے آنے والی ایک بڑی خامی کا ذکر کرتے ہوئے نجات صاحب لکھتے ہیں:

 ‘‘ماضی کے فقہی ورثہ کو پابند کن درجہ دے کر روایتی دینی حلقوں نے اپنے کو غیروں سے کچھ سیکھنے کی صلاحیت سے محروم کر رکھا ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۹)

 وہ جس قدر مہلک اور مضر مغرب کی تقلید کو سمجھتے تھے اسی قدر از کار رفتہ اور گزرے ہوئے سیاق میں انسانوں کے ذریعے تیار ہونے والی فقہ کی تقلید کو سمجھتے تھے اور کھل کر اپنے حالات کے گہرے شعور کے ساتھ وحی سے براہ راست رشتہ قائم کرکے اپنی عقل و فہم کے استعمال کو ہی واحد درست رویہ سمجھتے تھے۔ چناں چہ وہ بہت کھل کر ایک جگہ لکھتے ہیں:

 ‘‘مسلمانوں کے اس مرض کے اثرات کہ یا تو وہ اپنے اسلاف کی تقلید کرتے ہیں یا     اہل مغرب کی وہ خود اپنی عقل و خرد سے کام لے کر اپنے لیے نئی راہ نہیں نکالتے، ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس کا اثر ان کی دنیوی سرگرمیوں پر بھی گہرا پڑا ہے اور ان کی دینی زندگی پر بھی۔ جب وہ سائنس اور عمرانی علوم کے طالب علم ہوتے ہیں تب بھی ان کا یہی حال ہوتا ہے اور قرآن و سنت کا علم حاصل کر رہے ہوتے ہیں تو بھی ان کا مزاج یہی ہوتا ہے۔ وہ معاشی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں تو بھی اسی طرح کرتے ہیں اور جب احیائے اسلام کے لیے تحریک چلاتے ہیں تو بھی ان کا انداز یہی ہوتا ہے۔ خود نہ سوچنا، خود اپنے لیے نئی راہیں نہ نکالنا، اقدام کی جگہ جھجک، اجتہاد کی جگہ تقلید یہی کیفیت ان کی ہر میدان میں ہے۔’’ (تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۱۳۴۔۱۳۵)

 اسی طرح ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:

 ‘‘پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک بار پھر ذہنی غلامی سے نکالا جائے۔ مغربی مفکرین اور اسلامی ورثے کے انسانی عناصر دونوں کی ذہنی غلامی سے۔’’ (تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۱۸۶)

 وہ صرف فقہ ہی کے حوالے سے مسلمانوں کے تقلیدی رویے کے خلاف نہیں تھے بلکہ ماضی میں دین کی تشریح و تفہیم کے حوالے سے جو کچھ بھی کام ہوا س کو حرف آخر سمجھنا اور اس کی اندھی تقلید کرنا بھی اسی طرح نقصاندہ مانتے تھے۔ اس حوالے سے وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

 ‘‘ہمارے ماضی کے ورثے میں مرتب شدہ فقہ کے ساتھ دینی فکر کے دوسرے اہم اجزا بالخصوص تشریح عقائد، علم الکلام اور صوفیانہ لٹریچر اور تصوف کی روایات کی بڑی اہمیت ہے۔ مسلمان معاشرہ آج جیسا ہے اس کی تشکیل میں اس لٹریچر نے ان علما و مشائخ کے توسط سے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، فیصلہ کن حصہ لیا ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۷۔۲۸)

 تحریک اسلامی کے قائدین سے ان کو یہ شکایت تھی کہ وہ فقہ کے علاوہ دوسرے قدیم ورثے پر تو درست موقف لینے میں کام یاب تھے لیکن فقہ کے معاملے میں یہ موقف وضاحت کے ساتھ نہ لے سکے۔ وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘ہمارے نزدیک دینی فکر کے ان دوسرے عناصر کے سلسلے میں تحریک اسلامی کے رہنماؤں کا موقف زیادہ واضح اور صاف رہا ہے، یعنی انھوں نے اسے بحیثیت مجموعی، مخصوص احوال و ظروف اور زمان و مکان کے مخصوص تقاضوں کے تحت قرآن و سنت کے انسانی فہم کا اظہار سمجھا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اسے دور جدید کے انسان کے لیے حجت نہیں قرار دیتے، بلکہ اکثر و بیشتر اسے غیر موزوں اور جدید اسلامی ذہن و مزاج کی تشکیل کے لیے مضر سمجھتے ہوئے تمام متعلقہ مسائل پر کتاب و سنت کی روشنی میں، آج کے احوال و ظروف اور موجودہ زمان و مکان کے تقاضوں کے پیش نظر از سر نو فکر کی دعوت دیتے ہیں۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۸)

 لیکن دوسری طرف ان کا یہ احساس بھی شدید رہا کہ عام علما و مشائخ تحریک کے اس موقف کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوئے اور اس کے نتیجے میں مسلم معاشرے کی اصلاح کا کام متاثر رہا ہے۔ ایسے میں نجات صاحب چاہتے تھے کہ بنا کسی رو رعایت کے ان کے اس رویے پر تنقید کی جائے اور درست رویہ اور درست افکار پیش کیے جائیں۔ وہ کہتے ہیں:

 ‘‘اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عام علما و مشائخ نے ان کے اس موقف کو قبول نہیں کیا ہے، اور آج بھی مسلمان عوام کے دینی افکار اور ان کے مجموعی مزاج کی تشکیل انھی غیر موزوں اثرات کے تحت ہوتی ہے۔ یہ چیز ایک طرف عوام کی مطلوبہ اصلاح میں زبردست رکاوٹ بنتی ہے اور دوسری طرف پورے مسلم معاشرے میں اس حرکی اقدامی کیفیت کے پیدا ہونے میں مانع ہے جو دور جدید میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیے ضروری ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا واضح ہے: علما و مشائخ کے غلط موقف پر تنقید، نئی دینی فکر کی جامع ترتیب، اور مسلمان عوام کی نئی فکری تربیت جو انھیں قدیم کلام اور تصوف کے غیراسلامی اثرات سے پاک کرکے مطلوبہ مثبت مزاج عطا کرے۔ اس تقاضے کی تکمیل اہم اسباب کی بنا پر ابھی نہیں ہوسکی۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۸)

 نجات صاحب تقلید کو چرچ کی ثقافت سے قریب تر دیکھتے تھے چناں چہ اندھی تقلید کے مقابلے میں آزادی ضمیر، آزادی فکر، اظہار خیال اور تبادلہ افکار کی آزادی کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

 ‘‘اسلام میں کوئی چرچ نہیں، نہ اللہ کے آخری رسول کے بعد کوئی معصوم عن الخطا ہے، جس کے کتاب و سنت کے فہم کا ہر ایک پابند ہو۔ فرد مومن کسی دوسرے انسان کے فہم قرآن و سنت کا پابند نہیں۔ ہدایات الہی کو سمجھنے اور ان کی اپنے مسائل زندگی پر تطبیق میں وہ کسی کی مدد لے سکتا ہے لیکن اس کی اندھی تقلید نہیں کرسکتا۔’’ (معاش، اسلام اور مسلمان: ۲۹)

 فقہ تو صدیوں پرانی چیز ہے نجات صاحب تو تبدیلی کے ساتھ ساتھ ماضی قریب میں پیش کیے گئے اسلامی افکار پر بھی نظر ثانی کو اتنا ضروری سمجھتے تھے کہ پچاس سالہ پرانی چیزوں کو بھی اس لائق نہیں سمجھتے تھے کہ ان پر موجودہ حالات کی رہ نمائی کے لیے مکمل بھروسا کیا جا سکے۔ چناں چہ وہ جرأت آمیز انداز میں لکھتے ہیں:

 ‘‘مثال کے طور پر اسی سوال کو لیجیے کہ آج کے ہندوستان میں اسلام کی دعوت کس طرح دی جائے کہ بالآخر یہاں قیام دین کی راہ ہم وار ہوجائے۔ یہ ایک نیا مسئلہ ہے۔ یہ پہلے کہیں موجود نہ تھا کیوں کہ آج کا ہندوستان آج پایا جاتا ہے وہ پہلے تھا ہی نہیں۔ آج کا ہندوستان کل کے ہندوستان سے بہت مختلف ہے۔ ہمیں اس سوال کا جواب خود سوچنا ہوگا۔ اس کا پورا جواب نہ مولانا مودودی کی تحریروں سے مل سکتا ہے، نہ مولانا الیاس صاحب کے ملفوظات میں، اس سے پہلے کے لوگوں کا ذکر کیا کیا جائے۔ اس سوال کا جواب ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اور اپنی عقل و تجربے کی مدد سے خود حاصل کرنا ہے۔ ہماری ٹریجڈی یہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کو بھی انسانی ذہنوں کے توسط سے سمجھتے ہیں۔ خود ان پر براہ راست غور نہیں کرتے۔ پھر حالات اور ضروریات کو بھی خود اپنے مشاہدے، اپنے روز مرہ کے تجربے اور اپنے حالات حاضرہ کے مطالعے کی روشنی میں سمجھنے کے بجائے دوسروں کے تجربے کا سہارا لینا چاہتے ہیں۔’’ (تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۱۳۵)

 راقم کا یہ شدید احساس ہے کہ تحریکات بالعموم اور تحریک اسلامی ہند بالخصوص ہمیشہ دین کی تفہیم و تشریح کے باب میں روایتی حلقے کے دباؤ میں رہی ہیں اور اس دباؤ کے نتیجے میں درست سے درست موقف کے تئیں بھی متذبذب بلکہ خاموش اور روایتی حلقے کے پیچھے رہی ہیں۔ اس صورت حال کے اسباب میں سے ایک سبب کی طرف نجات صاحب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘ہر ملک میں اسلامی تحریکوں کو سیکولر دانش وروں کے مقابلہ میں اور مسلمان عوام میں نفوذ کے لیے علما و مشائخ کی اہمیت محسوس کرکے ان پر تنقید کا لہجہ نرم کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات سیکولر قیادتوں سے سیاسی کشمکش میں عوامی تائید کی ضرورت نے ان کو اس فکری اصلاح کو نظر انداز یا کم از کم ملتوی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وقتی طور پر یہ طریقہ اختیار کرنا کتنا ہی ناگزیر کیوں نہ نظر آتا ہو ہمارے نزدیک اس اہم کام کے بغیر خود اس مقصد کا حصول دشوار ہے جس کی خاطر اس کام کو پس پشت ڈالا گیا ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۸۔۲۹)

 ایک دوسری جگہ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ تحریک اسلامی کا موقف اصولی طور پر بڑی حد تک صاف اور واضح رہا ہے لیکن عملی طور تحریک کے افراد اور قائدین اسی رویے پر قائم ہیں جس پر وہ پورا معاشرہ قائم ہے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

 ‘‘جماعت کے عام ارکان اور اس کے قائدین ایک ایسے معاشرے سے نکل کر آتے ہیں جو لمبے وقت سے انحطاط کا شکار ہے اور جس میں اجتہاد کی جگہ تقلید غالب ہے۔ جماعت نے جو اصول طے کیے ہیں وہ تو بہت شاندار ہیں لیکن جماعت کے لوگوں کا عملی رویہ بڑی حد تک اس رویے کے تابع ہے جو ان کے معاشرے میں غالب ہے۔’’

(Jamaat-e-Islami in Secular India, 88)

 وہ تقلید کے مقابلے میں اجتہاد کو بہر صورت بہتر مانتے تھے۔ وہ پورے وثوق سے کہتے ہیں:

 ‘‘اسلامی تاریخ سے سبق لیتے ہوئے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو نئے حالات میں نئی سوچ سے نقصان نہیں پہنچے گا، بلکہ نہ سوچنے اور حرکت میں نہ آنے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔’’ (مقاصد شریعت: ۱۴۶)

 وہ اجتہاد اور عقل کے استعمال پر بہت زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:

 ‘‘آپ قرآن کریم پر غور کیجیے۔ اس نے جب انسان کو مخاطب کیا تو اسے بار بار اپنی عقل کو استعمال کرنے پر ابھارا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دعوت یعنی اللہ پر ایمان لانے کی دعوت بھی عقل کو اپیل کرکے دی گئی ہے۔ قرآن بار بار انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ توحید تمھاری عقل کا تقاضا ہے، شرک عقل کے خلاف ہے ۔’’(تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۱۳۰)

 وہ وحی یعنی اصل علم اور اجتہاد کے فرق اور باہمی تعلق کو بہت خوب صورتی کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں:

 ‘‘اصل علم زمان و مکان اور اعداد و مقادیر سے بلند ہے جب کہ عملی زندگی میں زمان و مکان اور اعداد و مقادیر کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اجتہاد کا کام ہے کہ وہ اصل علم سے ایسے ایجنڈے برآمد کرے جو زمان و مکان کی قید میں برتے جاسکیں۔ علم دائمی ہے، اجتہاد اس کا وہ سایہ ہے جس کے تلے ہمارا حاضر پروان چڑھتا ہے اور روزمرہ کی زندگی گزرتی ہے۔ علم ایک ہے مگر اس کے سائے بدلتے رہتے ہیں۔ ’’(اکیسویں صدی میں اسلام، مسلمان اور تحریک اسلامی: ۹۳)

 نئے سوالات اور نئے مسائل کے تناظر میں پرانے افکار اور پرانے اصولوں کی تہی دامنی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے وہ اجتہاد کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:

 ‘‘اس سوال کا جو بھی جواب ہو میں اسے اجتہاد سے تعبیر کرتا ہوں۔ اگر آپ ان سوالوں کے جواب کتابوں میں تلاش کرنا چاہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو ناکامی ہوگی کیوں کہ ان کتابوں کے لکھنے والوں کے سامنے یہ مسائل نہیں تھے۔ اگر آپ ان کے حل کے لیے قیاس سے کام لینا چاہیں تب بھی مجھے شبہہ ہے کہ آپ کو زیادہ کام یابی مل سکے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ ہوا ہے وہ بالکل نئی نوعیت کا ہے۔۔۔ لہذا کسی نئی بات کا سامنا کرنا اور اس کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا اور فیصلہ کرنا ہی میرے نزدیک اجتہاد ہے۔ یہ بنیادی قسم کا اجتہاد ہوگا۔’’ (اکیسویں صدی میں اسلام، مسلمان اور تحریک اسلامی: ۸۰)

 یوں تو ایک ہزار سالہ پرانی سادہ اور زرعی معیشت کے مقابلے میں آج کی مستقل ارتقا پذیر معیشت میں بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کا حل کتابوں یا پرانے فتووں سے حاصل نہیں کیا جاسکتا لیکن نجات صاحب معیشت کے کچھ بظاہر سادہ سوالات اور ان میں نئے اجتہاد کی ضرورت پر متوجہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘آج کے دور میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب فتووں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اپنی دولت کو کہاں خرچ کیا جائے؟ اپنی بچت کو کہاں جمع کیا جائے؟ دولت کی نئی شکلوں میں سے کون سی شکل شرعی نقطہ نظر سے صحیح ہے؟ یہ اور اس جیسے بہت سے سادہ نظر آنے والے سوالات کے جوابات بھی پرانی کتابوں سے حاصل نہیں ہوسکتے۔’’ (اکیسویں صدی میں اسلام، مسلمان اور تحریک اسلامی: ۸۲)

 ساتھ ہی وہ اس اندیشے سے بھی باہر نکلنے کی پر زور دعوت دیتے ہیں کہ نئے اجتہادات پرانے ائمہ کے اجتہادات سے مختلف نہ ہوجائیں۔ وہ کہتے ہیں:

 ‘‘اس پر غور و فکر کے نتیجے میں آپ جس فیصلہ پر پہنچیں گے ہوسکتا ہے کہ وہ امام غزالیؒ کے موقف سے مختلف ہو۔ یا ان سے پہلے کے ائمہ اور مجتہدین کے موقف سے ٹکراتا ہو۔ میں کہنا چاہوں گا کہ ماہرین معاشیات اس بات پر متفق رہے ہیں کہ جدت طرازی ترقی کی شاہراہ ہے۔’’ (اکیسویں صدی میں اسلام، مسلمان اور تحریک اسلامی: ۸۴)

 ڈاکٹر صاحب کے نزدیک صرف سیاست و معیشت اور عام تمدنی زندگی کی تفصیلات کے لیے اجتہاد اور عقل کی ضرورت نہیں بلکہ ‘‘اقامت دین کی جد و جہد یا جسے احیائے اسلام وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ اس دائرے کا بھی بیشتر حال یہی ہے کہ مقاصد متعین ہیں، اصول اور بنیادیں واضح ہیں لیکن طریقے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ ’’(تحریک اسلامی عصر حاضر میں: ۱۳۱)

 نجات صاحب کا یہ بھی احساس تھا کہ جزوی اور فروعی مسائل میں تو پھر بھی لوگ اجتہاد کی ہمت کر جاتے ہیں لیکن تبدیلی جس نوعیت کی واقع ہوئی ہے اور جس کے نتیجے میں بنیادی اجتہاد ناگزیر ہے اس کی ہمت لوگ نہیں کرپاتے۔ وہ کہتے ہیں:

 ‘‘یہ ہماری مخصوص نفسیات ہے کہ ہم جزئی اجتہاد کر گزرتے ہیں مگر کلی اجتہاد اور رویہ کی تبدیلی سے، جس کے حالات متقاضی ہیں جھجکتے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ جھجک خوف خدا کی وجہ سے کم ہے، انسانوں کے خوف اور لومة لائم کے اندیشے سے زیادہ ہے۔’’ (ملک کا موجودہ نظام اور تحریک اقامت دین: ۳۹)

 نجات صاحب اجتہاد کے معاملے میں یا دین کو پڑھنے اور سمجھنے کے معاملے میں کسی ٹھیکیداری اور واسطے کے خلاف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ دین کو سمجھنے کا دروازہ ہر کسی کے لیے کھلا ہونا چاہیے اور موہوم اندیشوں کی بنا پر یہ دروازہ کسی پر بند نہیں ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی کسی زمانے یا کسی انسان کے ذریعے پیش کی گئی تشریح کو وحی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ اور ان کا یہ موقف ہر مذہب کے لیے تھا۔ چناں چہ وہ         بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ہر مذہب کے پیروکاروں سے کہتے ہیں:

 ‘‘ہر فرد کو وحی سے جڑنا چاہیے۔ ان کو براہ راست وحی سے تعلق بنانے دیجیے بجائے اس کے کہ وحی کی کوئی وقتی تشریح ان پر تھوپی جائے۔ ان پر بھروسا کیجیے۔ ان کو خطرات سے آگاہ کرائیے۔’’

آگے کہتے ہیں:

‘‘مذہبی رہ نما جو دین کے مصادر کو عام آدمی تک جانے سے روکتے ہیں اور ان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں وہ خطرناک ترین گناہ کے مرتکب ہیں۔ ان کو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی آسمانی دلیل نہیں ہے جو ان کو اس بات کا حق دے۔’’

(Relevance and Need for Understanding the Essence of Religious Traditions in the Contemporary World: 4)

 وہ اس غلط فہمی کو کہ اجتہاد کا دروازہ کھولنے اور غور و فکر کی آزادی دینے سے انتشار پیدا ہوگا، دور کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘تاریخ کا سبق یہ ہے کہ فکری ہم آہنگی کا راستہ سوچ وِچار پر قدغن اور فکری جکڑبندی سے نہیں طے ہوتا، بلکہ آزادانہ فکر، تبادلہ افکار اور غور و بحث کی ضرورت پڑتی ہے۔ انتشار و انحلال سخت گیری اور جبر کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ نرم خوئی اور رواداری کا۔’’ (مقاصد شریعت: ۲۵۸)

 تخلیقیت دور حاضر میں کام یابی کی شاہ کلید ہے اور اسلامی روایت میں تخلیقیت کا سب سے مؤثر اور کارگر آلہ اجتہاد رہا ہے۔ آج بھی مسلمانوں میں تخلیقیت پیدا کرنے کے لیے اجتہاد کے تصور کو زندہ کرنا ضروری ہے۔ نجات صاحب تخلیقیت اور اجتہاد کے اس گہرے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘اجتہاد کی ضرورت زندگی کے ہر شعبے میں ہر دور میں رہی ہے۔ ہمارے مدرسوں اور اسکولوں میں پہلے سے معلوم چیزوں کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے اور تخلیقیت پر زور نہیں دیا جاتا۔ ندرت خیال اور دوسروں سے الگ سوچنے کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ خصوصاً مسلم حلقوں میں فلسفہ تعلیم اس مفروضے پر قائم ہے کہ سب حقائق معلوم و معروف ہیں صرف انھیں دوبارہ متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ ’’(اکیسویں صدی میں اسلام، مسلمان اور تحریک اسلامی: ۸۳)

 نجات صاحب نئے زمانے میں سیاست، معیشت اور عام تمدنی زندگی کی تفصیلات کے لیے اجتہاد پر تو ابھارتے ہی تھے، ساتھ ہی دین و شریعت کے بعض ان ابواب میں بھی وہ اجتہاد پر زور دیتے تھے جن میں ماضی میں کسی نہ کسی حد تک اس زمانے کے احوال و ظروف کا اثر پڑا اور ان کی اصل حیثیت تاریخی تصرفات میں اوجھل ہوگئی۔ مثال کے طور پر وہ پرسنل لا کے مسائل میں اجتہاد پر بھرپور زور دیتے تھے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘تعدد ازواج کے حق کی تحدید اور ضابطہ بندی، طلاق کے اختیار کو بعض آداب کا پابند بنانا، حق خلع کی تجدید، مطلقہ کے حقوق، ایک ساتھ تین طلاقوں کا مسئلہ، صغیرہ کے نکاح، ولایت اجبار اور خیار بلوغ کے مسائل، نیز یتیم پوتے کی وراثت کے ضمن میں جبری وصیت کا مسئلہ اس دائرے کے چند ایسے مسائل ہیں جن پر غور و فکر ضروری ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۳۸۔۳۹)

 اسی طرح اسلام کے حدود یا فوجداری قوانین پر بھی وہ از سر نو اجتہاد کی پر زور دعوت دیتے تھے۔ چاہے شادی شدہ زانی کے رجم کا مسئلہ ہو، مرتد کی سزا کا مسئلہ ہو یا شراب پینے کی سزا کا مسئلہ ہو وہ ان تمام مسائل میں رائج الوقت فقہ سے غیر مطمئن نظر آتے تھے اور ان پر کھل کر گفتگو کرنے اور اجتہاد کرنے کے قائل تھے۔ مثال کے طور پر شادی شدہ زانی کے رجم کے حوالے سے اجتہاد کی دعوت دیتے ہوئے وہ کچھ سوالات اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔ نبیؐ نے جن متعین مجرموں کے سلسلے میں یہ طریقہ اختیار کیا، ان کے جرم کی نوعیت کی از سر نو تحقیق درکار ہے تاکہ یہ بات صاف ہو سکے کہ یہ سزا صرف احصان کے باوجود زنا کے ارتکاب کی تھی یا جرم کی نوعیت زیادہ پیچیدہ تھی۔ پھر یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اصل سزا سزائے موت ہے یا یہ مخصوص طریقہ سزا بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۳۰۔۳۱)

 حد خمر کے حوالے سے بھی وہ نئے اجتہاد کی ضرورت کے قائل تھے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘قرآن کریم میں شراب پینے والے کو سزا دینے کا ذکر نہیں، مگر یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ یہ قابل سزا جرم ہے۔ نبیؐ کا شراب خور کو سزا دینا ثابت ہے، مگر سزا کی جو کیفیت اور مقدار فقہ مرتب میں بیان ہوئی ہے، اس کی بنیاد خلفاء راشدین کا عمل اور صحابہ کا فیصلہ ہے، مذکورہ بالا مباحث کی روشنی میں یہ امر قابل غور ہے کہ جدید اسلامی قانون سازی میں اس بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۳۰)

 نجات صاحب عموماً شریعت کے معاملات میں صرف سوالات کھڑے کرنے اور علما و مفکرین کو دعوت فکر دینے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے اور کھل کر اپنی رائے یا اجتہاد نہیں پیش کرتے تھے البتہ مرتد کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ انھوں نے اجتہاد کی دعوت دی بلکہ بڑی حد تک انھوں نے مشہور رائے سے اپنا اختلاف ظاہر کر کے مرتد کی سزا کے خلاف اپنا موقف پیش کردیا۔ پہلے تو وہ مرتد کی سزا کی نزاکت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘قرآن کریم میں مرتد کی سزا نہیں بیان ہوئی ہے۔۔۔ آزادئ ضمیر کی ضمانت دینے کے باوجود ارتداد کو قابل سزا جرم قرار دینا اور اس جرم کی ایسی سزا دینا جو آئندہ اصلاح کے مواقع ختم کردے، نہایت نازک مسئلہ ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۳۱)

 پھر آگے مرتد کی سزا کے خلاف ایک مضبوط دلیل پیش کرتے ہوئے اس کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو آزادیاں مسلمان غیر مسلم اکثریت کے ممالک میں عزیز رکھتے ہیں ان سے مسلم اکثریت والے ممالک کے غیر مسلموں کو محروم رکھا جائے۔ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ دوہرے معیار نہ اختیار کیے جائیں۔ ’’(معاصر اسلامی فکر: ۳۲)

 ساتھ ہی وہ یہ اشارہ بھی دے دیتے ہیں کہ ان کو اصل مسئلہ مجرد ارتداد کی سزا سے ہے، محارب اور باغی کی سزا سے نہیں جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘ترک اسلام کے ساتھ اسلامی ریاست سے بغاوت اور اسلام دشمنی کا مسئلہ علیحدہ ہے، نازک تر مسئلہ، مجرد تبدیلی دین اور ترک اسلام کی سزا کا ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۳۱)

 وہ قرآن کی تفسیر میں بھی اجتہاد کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ مسلمانوں میں بعض آیات کی غلط تفسیر کے سبب غلبہ اور لڑائی کا جذبہ گھر کر گیا ہے۔ غیر مسلموں یا مشرکوں سے ہر حال میں جنگ جاری رکھنے کے لیے ایک بڑی دلیل قرآن کی یہ آیت بنائی جاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشرکوں سے لڑو جب تک کہ فتنہ ختم نہ ہوجائے۔ اکثر و بیشر عربی و اردو مفسرین نے فتنہ سے مراد شرک اور غلبہ شرک لے لیا ہے جیسا کہ نجات صاحب لکھتے ہیں: ‘‘قرآن کی آیت میں مذکور فتنہ کو بہت سے لوگوں نے غلطی سے ہر جگہ اور ہر وقت غلبہ کی جنگ کے حکم کے طور پر سمجھ لیا ہے۔’’(Muslim Minority: 16)

 اس کے برعکس نجات صاحب نے قرآن کے انگریزی مترجمین کے حوالے سے فتنہ کا دوسرا مفہوم پسند کیا جہاں فتنہ سے مراد جبر و ظلم لیا گیا ہے (ملاحظہ ہو یوسف علی، محمد اسد اور پکتھال کے اس آیت کے انگریزی تراجم)۔

 اس طرح فکر اسلامی کے لیے ایک اہم اصول یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ گزرے ہوئے علما و فقہا کی رایوں کی تقلید کے بجائے اپنے زمانے اور احوال سے بھرپور واقفیت کے ساتھ قرآن و سنت سے براہ راست رہ نمائی کی کوشش ہونی چاہیے اور اس اجتہادی کوشش میں ہر مسلمان کو اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق حصہ لینا چاہیے۔

 ۵۔ حدیث، مصالح اور احوال

 فکر اسلامی کے جدید مباحث میں ایک بہت اہم اور ساتھ ہی بہت حساس موضوع حدیث کا رہا ہے۔ ایک طرف روایتی حلقے ہیں جو حدیث کے ساتھ کسی طرح کے زندہ تعامل کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق نہ روایت کے حوالے سے حدیث پر نظر ثانی ہو سکتی ہے اور نہ درایت کے حوالے سے کوئی کلام ہو سکتا ہے اور نہ ہی حدیث کے معنی و مفہوم اور تاویل و تشریح کو لے کر کوئی نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف مستشرقین اور ان کے ہم نوا ہوجانے والے بعض مسلمان متجددین ہیں جو احادیث کو سرے سے غلط سمجھنے اور دریا برد کرنے کے قائل ہیں۔ ان دونوں کے بیچ ایک حلقہ ہے جو زندہ اجتہاد کا
علم بردار ہوتا ہے، جو دین کی فطرت کو بھی صحیح سے سمجھتا ہے اور تبدیل ہونے والے وقت کا بھی گہرا ادراک رکھتا ہے اور وہ حدیث کے معاملے میں ایک زندہ علمی رویے کا انتخاب کرتا ہے۔ نجات صاحب بھی اسی تیسری قسم کے حلقے کو درست سمجھتے تھے اور پسند کرتے تھے اور اس کے لیے مضبوط علمی بنیادیں فراہم کرتے تھے۔ نجات صاحب ان تینوں رویوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘چند مجموعوں میں درج ہر روایت کو لفظاً و معناً رسول کریمؐ کی طرف منسوب کرنے اور مستشرقین کی اتباع میں احادیث کے پورے ذخیرہ کی صحت کو مشکوک سمجھنے کے دو انتہا پسندانہ رویوں کے درمیان یہی وہ مسلک اعتدال ہے جو تحریک اسلامی کے رہ نماؤں نے اختیار کیا ہے۔ اصل مسئلہ زیر غور مسائل میں اس موقف کو عملاً برت کر دکھانے اور انتہا پسندانہ موقفوں پر علمی تنقید کا ہے۔ یہ کام ابھی از حد تشنہ ہے۔ ’’(معاصر اسلامی فکر: ۲۴)

 وہ جہاں ایک طرف تحریک اسلامی کے رہ نماؤں کے اصولی سطح پر مضبوط موقف کو سراہتے ہیں وہیں عملی طور پر ان کے اس رویے پر خود پوری طرح عمل پیرا نہ ہونے پر ان کی توجہ بھی دلاتے ہیں۔ عموماً حدیث پر گفتگو روایت اور درایت کے تناظر میں مرکوز رکھی جاتی ہے۔ نجات صاحب اس سے آگے بڑھ کر بحث کو مزید گہرائی میں اتارنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ نہ صرف روایت و درایت کا رہتا ہے اور نہ محض حدیث کے الفاظ کی صحیح تفسیر و تشریح کا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر احوال وظروف اور مقاصد و مصالح سے اس حدیث کا رشتہ جوڑ کر یہ دیکھنا کہ حدیث کا اصل مدعا کیا ہے ، خاص کر وہ احادیث جو دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے تعلق رکھتی ہوں۔ اس نکتے پر توجہ دلاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

 ‘‘اس دائرہ میں متعدد مسائل کے ضمن میں یہ سوال بہت اہم ہو گیا ہے کہ سنت ان مقاصد ومصالح کے اعتبار سے اور ان کے حصول کے لیے مزاج شریعت سے مناسبت رکھنے والے طریقے اختیار کرنے کا نام ہے، جن کا اعتبار نبیؐ نے اپنے زمانے کی دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کی تطہیر و تنظیم میں کیا تھا، یا خود ان متعین قواعد و ضوابط کا نام ہے جو آپؐ نے وضع کیے تھے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۴)

 اس مسئلے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اور مقاصد شریعت اور زمان ومکان کو حدیث کے مطالعے میں لازمی عناصر کے طور پر پیش کرتے ہوئے وہ آگے لکھتے ہیں:

 ‘‘سنت کے فہم کے لیے، خاص طورپر اگر اس کا تعلق دستوری، سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے ہو، پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ جس مسئلہ سے زیر غور سنت کا تعلق ہے اس میں ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے زمینی حقائق کیا تھے۔ لوگوں کی عادات کیا تھیں، ان کے درمیان عرف کیا تھا۔ نبیؐ نے جو حکم دیا اس کے نتیجے میں صورت واقعہ میں کیا تبدیلی درکار تھی۔ نبی کے اس تصرف (Intervention) کا مقصود کیا تھا۔ اگلا قدم یہ ہے کہ ہم اسی مسئلہ سے متعلق اپنے زمانے کے ارضی حقائق (Ground Realities) کو سمجھیں، آج کے عادات و اعراف کو نوٹ کریں، پھر دیکھیں کہ اس مقصود نبوی کی تکمیل کے لیے صورت واقعہ میں کیا تبدیلی درکار ہے اور اسے بروئے کار لانے کے لیے کیا پالیسی اختیار کرنا مناسب ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۵)

 قابل توجہ بات یہ ہے کہ نجات صاحب حدیث کے علم کو حد درجہ گہرائی اور گیرائی میں دیکھنے کے قائل تھے برخلاف علما و مشایخ کے عام رویے کے، جہاں پورا زور انکار حدیث اور اثبات حدیث پر ہوتا ہے یا ماضی میں حاصل کیے گئے فہم کو زبردستی موجودہ حالات پر تھوپنے کی کوشش ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیث کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جس میں تاریخی سیاق اور مصالح و مقاصد کے حوالے سے گفتگو زیادہ اہم ہوتی ہے۔ بالخصوص وہ مسائل جن پر حالات کا بہت ہی گہرا اثر پڑتا ہے جیسے سیاست کے مسائل، معیشت کے مسائل، معاشرت میں خواتین کے مسائل وغیرہ۔

 جب حدیث پر تحقیق کا کام اس قدر پیچیدہ اور محنت طلب اور فکر انگیز ہوگا تو پھر کسی بھی علمی تحقیق کے نتائج کی طرح اس میں بھی مختلف رائیں سامنے آئیں گی، مختلف نتائج فکر سامنے آئیں گے۔ ایسے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے اس پر نجات صاحب خوب صورت تجویز پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ‘‘ظاہر ہے کہ اس پورے عمل، سنت نبوی کی روایت اور درایت کے معیاروں پر تشخیص، ساتویں صدی میں اہل عرب کے حالات کی تحقیق، حکم نبوی کے مقصود کی تعیین، پھر عصر حاضر کے احوال کو سمجھنا اور ان حالات میں مقاصد شریعت کی تحصیل کے لیے موزوں پالیسی تک پہنچنا، اس کام میں قدم قدم پر رائیں مختلف ہوں گی۔ اس اختلاف آرا سے اسلام کے بتائے ہوئے شورائی طریقہ سے عہدہ برآ ہونا۔ اس کے لیے اختلافی مسائل میں اظہار خیالات اور تبادلہ آرا کی وہ فضا بحال کرنا ہوگی جو اسلام کے دور زریں میں پائی جاتی تھی مگر اب بوجوہ مفقود ہے۔’’ (معاصر اسلامی فکر: ۲۵)

 حدیث کا مذکورہ بالا پہلو سے تحقیقی و تفصیلی مطالعہ موجودہ وقت میں عالمی سطح پر کافی حد تک کیا جانے لگا ہے البتہ ہندوستان کے دینی و تحریکی حلقوں کے تناظر میں یہ پہلو آج بھی شدید توجہ کا طلبگار ہے۔ ایسے میں فکر اسلامی کا ایک اہم اصول حدیث کے تعامل میں احوال و ظروف اور مقاصد و مصالح کا پورا پورا لحاظ کرنا ہے۔ n

جولائی 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau