مسجد میں غیر مسلم اور وراثت کے چند مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

سوال: ہم نے اپنے محلے کی مسجد میں‘ مسجد پر یچے‘کاپروگرام کیا۔برادرانِ وطن مردوں اور خواتین کو مدعو کیا۔وہ کافی تعدادمیں آئے۔ان کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا۔وضو،نماز،روزہ وغیرہ کے بارے میں بتایا۔نماز میں ہم کیاپڑھتے ہیں، یہ بھی بتایا۔انھوں نے مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔آخرمیں ان کو سوالات کا موقع دیاگیا۔ان کے سوالات کے جواب دیے گئے۔اس پروگرام پر ان لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا،متاثرہوئے او رکہاکہ ہمیں یہ سب باتیں پہلی بارمعلوم ہوئی ہیں۔

محلے کے بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔انھوں نے کہاکہ برادران ِ وطن میں پاکی کا احساس نہیں ہوتا۔قرآن مجید میں انھیں ’ناپاک ’کہاگیاہے اور مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکاہے۔مزید برآں مسجد میں برادران ِ وطن کی عورتوں کو نہیں بلاناچاہیے۔ان میں حجاب کا تصور نہیں ہے اور طہارت کا بھی۔ایسے پروگرام اگرکرنے ہوں تومسجد کے سوا کہیں اور کرنے چاہئیں۔

براہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔کیاہمارایہ عمل غلط تھا؟کیامسجد پریچے کے پروگرام مسجد میں نہیں کرنے چاہئیں؟

جواب: اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برادران ِ وطن میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔طویل عرصہ سے ساتھ میں رہنے کے باوجود ان کے درمیان گہری خلیج حائل ہے۔ان کی غلط فہمیاں دورکرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں پسندیدہ اور موجودہ وقت کی ضرورت ہیں۔مساجد کے بارے میں بھی وہ غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ان میں سے بعض سمجھتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کو پُرتشدد اور تخریبی کارروائیاں کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔انھیں مسجد میں بلانے اور وہاں ان کے سامنے اسلام کی تعلیمات بیان کرنے اور نماز کا مشاہدہ کرانے سے ان کی غلط فہمیاں دورکرنے میں مدد ملے گی۔اس لیے‘ مسجد پریچے‘ کے پروگرام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔قرآن مجید میں ہے:

یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا (التوبة: ۲۸)

’’اے ایمان والو!بے شک مشرک نجس (ناپاک) ہیں۔لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘‘

اس آیت میں مشرکوں کو‘ نجس ’کہاگیاہے۔اس کا مطلب ظاہری نجاست نہیں،بلکہ معنوی نجاست یعنی کفروشرک ہے۔علما نے یہ بات صراحت سے کہی ہے۔علامہ ابوبکر جصاصؒ فرماتے ہیں:

’’مشرک پر اسم‘ نجس‘ کا اطلاق اس پہلو سے ہے کہ شرک سے (جس پر کہ اس کا عقیدہ ہے) اسی طرح اجتناب ضروری ہے جس طرح نجاست اور گندگیوں سے پرہیز لازمی ہے،اسی لیے انھیں نجس کہاگیاہے۔‘‘(احکام القرآن،طبع مصر۱۳۴۷ھ،۳؍۱۰۸)

علامہ شوکانی ؒنے لکھاہے:

’’جمہور سَلَف وخَلَف کا، جن میں ائمہ اربعہ بھی داخل ہیں، یہ مسلک ہے کہ کافر اپنی ذات میں نجس نہیں ہوتا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کھانے حلال کیے ہیں اور نبی ﷺ کے قول و عمل سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنی ذات میں نجس نہیں ہے۔آپؐ نے ان کے برتنوں میں کھایاہے۔ان میں پانی پیاہے،ان سے وضو فرمایاہے اور انھیں اپنی مسجد میں ٹھہرایاہے۔‘‘(فتح القدیر،طبع بیروت، ۱۹۹۴ء، ۲؍۴۴۶)

امام نوویؒ نے بھی اس موضوع پر تفصیل سے اظہار خیال کیاہے۔لکھتے ہیں:

’’کافر کا حکم بھی طہارت اور نجاست میں مسلمان ہی جیساہے۔یہی ہمارا(شوافع) اور جمہور سلَف وخلَف کا مسلک ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ مشرک نجس ہیں،تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے اعضائے جسم پیشاب پاخانہ جیسی چیزوں کی طرح نجس ہیں۔جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ آدمی طاہر ہے،چاہے وہ مسلمان ہویاکافر تواس کا پسینہ،لعاب اور آنسوبھی پاک ہیں،چاہے وہ بے وضو ہویاجنابت کی حالت میں۔ عورت حیض اور نفاس کی حالت میں ہوتوبھی پاک ہے۔ان سب باتوں پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔‘‘(شرح صحیح مسلم،جلد۲، جزء۲، ص۶۶)

عہد ِنبوی کے متعدّد واقعات سے غیر مسلموں کے مسجد میں داخلے کا ثبوت ملتاہے۔غزوہ بدرکے بعد عمیر بن وہب اللہ کے رسولؐ کو (نعوذ باللہ)قتل کرنے کے ارادے سے مدینہ گئے۔نبی ﷺ مسجد میں تھے۔انھوں نے مسجد میں جاکر آپؐ سے ملاقات کی اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اسلام قبول کرلیا۔صلح  حدیبیہ کے بعد ابوسفیان تجدید ِ معاہدہ کے ارادے سے مدینہ پہنچے تو اس موقع پر مسجد نبوی میں بھی گئے۔ثمامہ بن اثال جنگ میں گرفتار ہوئے توانہیں مدینہ لاکر مسجد ِ نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیاگیا۔رسول اللہ ﷺ کے حسن سلوک سے وہ مسلمان ہوگئے۔قبیلۂ ثقیف کا وفد آپؐ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہواتھا۔اسے مسجد نبوی میں ٹھہرایاگیا۔اس طرح کے اور بھی واقعات کتبِ سیرت میں پائے جاتے ہیں۔

مسجد میں مردوں کی طرح عورتیں بھی جاسکتی ہیں۔ان کے مسجد میں داخلے کی ممانعت نہیں ہے۔

ایسے پروگرام مسجد کے سوادوسرے مقامات پر کیے جاسکتے ہیں اور مسجد میں بھی ان کے انعقاد میں کوئی حرج نہیں ہے۔

جن حضرات کو‘ مسجد پریچے‘ کے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی جائے ان سے ملاقات کرتے وقت ان کے سامنے مسجد کی عظمت،تقدس اور احترام بیان کردیاجائے تووہ حضرات اس کا خیال رکھیں گے۔دیکھاگیاہے کہ ایسے پروگراموں میں شرکت کے لیے وہ حضرات بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں اور نہادھوکر مسجد میں آتے ہیں۔

وراثت کے بعض مسائل

سوال: میرے بیٹے کا کچھ دنوں پہلے انتقال ہوا ہے۔ وہ سرکاری ملازمت میں تھا۔ اس کی وراثت سے متعلق چند سوالا ت ہیں۔ براہ کرم ان کے جوابات سے نوازیں:

1۔بیٹے کے نام سے پراویڈنٹ فنڈ (PF)، گریجویٹی، ساتویں پے کمیشن کی بقایا رقم، جمع شدہ چھٹیوں کے بدلے ملنے والی رقم، لائف انشورنس (LIC) وغیرہ کی رقمیں ملی ہیں۔ کیا یہ سب بہ طورِوراثت تقسیم ہوں گی؟ 

2۔ بیٹے کے انتقال کے وقت اس کی ماں زندہ تھی۔ پندرہ دن کے بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ کیا بیٹے کی وراثت میں اس کی ماں کا بھی حصہ لگایا جائے گا؟ 

3۔مرحوم کے انتقال کے وقت ان کی ماں،باپ، بیوی، لڑکی اور ایک نابالغ لڑکا ہے۔ وراثت کس اعتبار سے تقسیم ہوگی؟ 

4۔مرحوم کی ملکیت میں چار پلاٹ ہیں۔ ان کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟

5۔ مرحوم نے اپنے سسر سے ایک مکان خریدا تھا۔ اسے کرایے پر اٹھا دیا تھا۔ انتقال کے بعد سسر نے اپنی بیٹی ( مرحوم کی بیوہ ) سے زبانی اجازت لے کراس پر مزید ایک منزل کی تعمیر کرلی اور اس کا کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ کیا یہ شرعاً درست ہے ؟

6۔فرض کیجیے، تجہیز و تکفین اور قرض کی ادئیگی کے بعدمرحوم کے ترکے میں ایک لاکھ روپے بچتے ہیں۔ اس کی تقسیم ورثہ کے درمیان کس طرح ہوگی؟

7۔ مرحوم نے اپنی بیوی کو nominee بنایا ہے۔ کیا جملہ رقوم پر صرف بیوی کا حق ہے یا تمام ورثہ کا ؟

جواب: دریافت کردہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:  

1۔(الف)سرکاری ملازم کو جو رقم اس کی ملازمت پر بہ طور مشاہرہ ملتی ہے اس میں وراثت جاری ہوگی اور جو رقم سرکار کی طرف بہ طور عطیہ ملتی ہے اس کا حق دار صرف وہ شخص ہوگا جسے سرکار نام زد کرے۔چناں چہ پے کمیشن کی بقایا رقم،چھٹیوں کے عوض دی جانے والی رقم، ہر ماہ مشاہرہ سے کٹنے والی رقم اورپراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔

(ب)گریجویٹی اور پنشن کے نام سے جو رقم سرکاری ملازم کو ملتی ہے وہ سرکار کی طرف سے ملازم کے لیےعطیہ ہوتی ہے۔یہ رقم اگر ملازم کے ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی زندگی میں ملے تواس کی ملکیت شمارکی جائے گی اور اس کے مرنے کے بعد اس میں وراثت جاری ہوگی۔البتہ اگر دوران ِ ملازمت اس کی وفات ہوجانے کے بعد جاری ہوتوسرکار کی طرف سے جس کو دی جائے وہ حق دار ہوگا۔

(ج)لائف انشورنس کے نام پرجمع کردہ اصل رقم وراثت میں شامل ہوکر تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی۔اضافی ملنے والی رقم میں وراثت جاری نہ ہوگی۔ورثہ کے لیے اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔اسے غریبوں میں تقسیم کردینا چاہیے۔

2۔مرحوم کے انتقال کے وقت ان کی والدہ زندہ تھیں۔مرحوم کی اولاد ہونے کی صورت میں والدہ کا حصہ 1/6(16.7%)ہے۔وہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کے ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔

3۔ورثہ میں ماں،باپ،بیوی،لڑکی،لڑکا ہیں تو ان کے درمیان وراثت اس طرح تقسیم ہوگی:

ماں1/6(16.7%)،باپ1/6(16.7%)،بیوی1/8(12.5%)۔ باقی لڑکے اور لڑکی کے درمیان2: 1کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔ لڑکے کو(36.1%)اور لڑکی کو(18.1%) ملے گا۔ کوئی بالغ ہو یا نابالغ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

4۔پلاٹ کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہوگی۔یاتوپلاٹ تقسیم کرلیے جائیں،یا ان کی قیمت نکال کر اسے تقسیم کیاجائے،یا انھیں فروخت کرکے ان کی رقم اسی تناسب سے تقسیم کی جائے۔

5۔داماد کے مال یا پراپرٹی میں سسر کا کوئی حصہ نہیں ہے۔داماد کے انتقال کے بعد سسرکو اس میں تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بیوہ کو بھی اجازت دینے کا حق نہیں ہے، کیوں کہ وہ صرف اس کی ملکیت نہیں ہے، بلکہ اس میں تمام ورثہ کا حصہ ہے۔

6۔اگر کل مال وراثت ایک لاکھ روپے ہے تووہ ورثہ کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا:

ماں: 16,667 روپے  باپ: 16,667 روپے بیوی: 12,500 روپے

لڑکی: 18,055 روپے   لڑکا: 36,111 روپے۔

7۔مرحوم نےnomineeاپنی بیوی کو بنایاہوتوشرعی اعتبار سے بیوی کل مال کی مالک نہیں ہوجائے گی،بلکہ وہ تمام ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

ستمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau