منصوبہ بندی اور مثبت امکانات

مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی

کسی بھی قوم اور ملت کی بقاء و ارتقاء کے لئے یہ پہلو بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ قوم میدان زندگی میں کبھی بے عمل نہ ہو، حالات کیسے ہی مخالف اور صورت حال کیسی ہی ناسازگار ہو، اپنے مشن سے بالکل غافل نہ رہے، اپنی بقا ء و تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے، کبھی منفی ذہنیت نہ پیدا ہونے دے، بلکہ ہمیشہ مثبت امکانات کی جستجو جار ی رکھے، مسلسل اور مخلصانہ جستجو کی برکت سے منزلیں بالآخر مل جاتی ہیں،اور مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ امت کے لئے ابھرنے اورغالب آنے کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے، اللہ نے یہ دنیا امکانات سے لبریز بنائی ہے، حالات کسی کو ایک بار گرادیںتو اس کے لئے مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ دیگر مواقع کا استعمال کر کے اپنے از سر نو ابھرنے کا سامان کرسکتا ہے، شرط صرف یہ ہوتی ہے کہ انسان عقل و خرد سے کام لے اور مسلسل جد و جہد سے کبھی اکتاہٹ کا شکار نہ ہو،صورت حال کیسی ہی ناموافق کیوں نہ ہو، نئی کامیابی کا امکان ہمیشہ آس پاس ہوتا ہے، ضرورت اس کی جستجو اور عزم و کوشش کی ہوتی ہے، زندگی ایک سفر ہے اوراس سفر میں اگر ایک راستہ بندبھی ہو تو دوسرا راستہ ضرور کھلا ہوا ہوتا ہے،بس ضرورت ذوق ِ جستجو اور عزم کامل کی ہوتی ہے۔

ہندوستان کی موجودہ صورت حال میں’’ ٹھوس منصوبہ بندی اور مثبت امکانات کی جستجو‘‘ کے حوالے سے یہ چند پہلو بطور خاص قابل توجہ ہیں:

تعلیم

امت کے ہر ہر فرد کو تعلیم یافتہ بنانے کی فکر ہونی چاہیے۔امت کی بڑی کمزوری جہالت ہے، بے شمار نقصانات اسی وجہ سے سامنے آتے ہیں، باہم نفرت و اختلاف کی فضا کا تعلق جہالت سے ہوتا ہے،موجودہ دوربطور خاص علمی ترقی کا دور ہے، ان حالات میں وہی قوم یا افراد کامیاب، بامراد، باعزت اور سرخ رو ہوسکتے ہیں جو علمی اعتبار سے اپنا تفوق اور اپنی برتری ثابت کریں ۔

امت کا المیہ یہ ہے کہ تعلیمی اعتبار سے اس کا گراف بہت نیچے ہے، اور جن طاقتوں سے امت کو براہِ راست مقابلہ در پیش ہے وہ اس حوالے سے بہت آگے ہیں، ظاہر ہے کہ اس کمزوری کے ساتھ تعلیم سے آراستہ مخالفین کے مقابلے کی پوزیشن میں کیسے آسکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امت نے اپنا سفر آگے کے بجائے پیچھے کی طرف طے کرنا شروع کردیا ہے، اس تعلیمی پسماندگی کا بنیادی سبب بے شعوری ہے، امت کا ایک  بڑا طبقہ تعلیم کی اہمیت سے بے خبر ہے، اس کے سامنے صرف بچوں کا معاشی مستقبل ہے، یہی وجہ ہے کہ پہلی کوشش کسی بھی طرح بچوں کو روزگار سے جوڑنے کی ہوتی ہے۔

تعلیمی بدحالی کے اسباب میں ایک اہم سبب امت کا اسراف اور فضول خرچی کا عمل ہے، فضولیات میں خرچ کرنے کا انجام تعلیم جیسے اہم ترین مشن کے لئے کچھ نہ کرسکنے کی صورت میں ہی برآمد ہوتا ہے۔

تیسرا سبب: بچوںکے گارجین(والدین اورسرپرستوں) کی بچوں کے تعلیمی معیار، ترقی، استحکام، تسلسل جیسے اہم اور حساس امور سے غفلت و لاپرواہی ہے، اسی مزاج کے نتیجے میں بچوں کا ذہن غیر تعلیمی بلکہ تخریبی سرگرمیوں میں لگنا شروع ہوتا ہے اور پھر وہ بگاڑ کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔

ایک بہت بنیادی سبب ہماری تعلیمی زبوں حالی کا یہ ہے کہ مسلم مینجمنٹ نظم کے تحت قائم بیشتر تعلیمی اداروں میں پورے طور پر نفع اندوزی کا رجحان موجود  ہے، وہاں تعلیم کو مقدس فرض باور کرنے کے بجائے  تجارت سمجھا جاتا ہے، اور ان کے دروازے خطیر رقم اداکرنے والوں ہی کے لئے کھلتے ہیں، اللہ کرے کہ علم کے یہ تاجر علم کو تجارت کے بجائے  عبادت سمجھیں  اور کاروبار کے بجائے مقدس خدمت سمجھنے لگیں ۔ پوری امت کو ایک کنبہ سمجھ کر قوم کے نونہا لوں کی جہالت سے بے چین ہوجائیں اور اپنا فرض ادا کرنے کے لئے سرگرم ہوجائیں۔

امت مسلمہ کے لئے اہم بنیاد قرآن، سنت اور سیرت ہے، نبی اکرم ا پر وحی کا آغاز سورۃ العلق کی جن ابتدائی آیات سے ہوا وہ درج ذیل تھیں:

اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ،خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اِقْرَأ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَاْلَمْ یَعْلَمْ            (العلق/۱-۵)

’’پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پید ا کیا ،اس نے انسان کو جمے ہو ئے خون سے پیدا کیاہے،پڑھو،اور تمہارا پروردگارسب سے زیادہ کرم والا ہے،جس نے قلم سے تعلیم دی،انسان کواس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا‘‘۔

یہ نبوت کا پہلا دن تھا، یہ وحی الٰہی کے پہلے بول تھے۔

آپ ا کی دعا ہے:

اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً۔       (مشکوۃ المصابیح: الدعوات: باب جامع الدعاء)

خدایا : میں آپ سے نفع بخش علم مانگتا ہوں۔

اور یہ دعا بھی منقول ہے :

اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ         (مشکوۃ المصابیح: الدعوات: باب الاستعاذۃ)

اے اللہ: میں ایسے علم سے آپ کی پناہ چاہتاہوں جو نفع بخش نہ ہو۔

ہر علم وفن جو انسانیت کے مفاد میں ہو، جس سے انسان کا نفع وابستہ ہو، اسلام اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ اس کا سرا اللہ کے نام اور نظام سے جڑا ہوا ہو۔

ارشاد نبوی ہے :

اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ، فَحَیْثُ وَجَدَہَا فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا  (مشکوۃ المصابیح:

کتاب العلم)

’’علم و حکمت کی بات صاحب ایمان کی متاع گمشدہ ہے ،لہذا جہاں سے بھی علم ملے ، صاحب ایمان اس کوحاصل کرنے کا سب سے بڑھ کر حقدار ہے‘‘۔

یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا، جو علم اور نبوت کے رشتے کو آشکارا کررہا ہے، حضور اکرم ا نے اپنا طریقۂ زندگی بتاتے ہوئے  فرمایا تھا:

اَلْمَعْرِفَۃُ رَأسُ مَالِيْ۔        (الشفاء: قاضی عیاض :۱/۱۲۸)

’’’معرفت میرا سرمایۂ زندگی ہے‘‘۔

آپ ا کی سیرت میں غزوہ بدر نمایاں اہمیت کا حامل واقعہ ہے ، اس غزوہ میں ۷۰؍ مخالفین گرفتار ہوئے، جن میں دو کو سنگین جرائم کی وجہ سے قتل کردیا گیا ، باقی ۶۸؍قیدیوں کے ساتھ حُسن سلوک کا بے مثال معاملہ ہوا، مدینہ منورہ آکر آپ انے قیدیوں کی بابت صحابہ سے مشورہ کیا، حضرت عمرؓ کی رائے یہ تھی کہ یہ کفر کے ستون ہیں، ان کی سزا قتل ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فدیہ کے عوض رہا کر نے کی رائے دی، آپ اکی شانِ رحمت وعفو نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دی ۔

(المستدرک:۳/۲۱)

چنانچہ قیدیوں میں جو پڑھے لکھے لوگ تھے، ان کا فدیہ دس مسلمان بچوں کو پڑھانا طے ہوا۔ (طبقات ابن سعد:۲/۱۴، شرح المواہب :زرقانی:۱/۴۴۲)

یہ اقدام ایجوکیشن فار آل (سب کے لئے تعلیم) کی انقلابی مہم کے تحت ہوا، اس سے اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ علم اپنے دشمنوں سے ملے تو بھی اسے سیکھا جائے۔

ہمارے موجود ہ حالات میں ملت کے درمند افراد کو یہ فکر کرنی پڑے گی کہ امت کا کوئی فرد تعلیم سے محروم نہ رہے، اور اس راہ میں جو رکاوٹیں ہوں ، مالی یا غیر مالی ان کے ازالہ کی ہر ممکن کوشش ہمارا فرض ہے۔

ذرائع ابلاغ کا وسیع اور مؤثر استعمال

امت مسلمہ کے افراد کومنفی پروپیگنڈوں اور مغالطوں کے ازالے کے لئےذرائع ابلاغ کا استعمال کرنا چاہیے۔ معاندین کے ذریعہ اسلام، تعلیمات اسلام او راہل اسلام کی پیش کی گئی خراب شبیہ کے جواب میں اپنی اصل اور پاکیزہ تصویر پیش کرنےکی ضرورت ہے۔ ذہنوں کو اسلام سے قریب لانے کے لئے پرنٹ، الکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بھرپور اور مؤثر استعمال ہم کرسکتے ہیں، آج کے حالات میں اپنا پیغام بہت کم وقت میں اور دور دور تک منتقل کرنے کے یہ ذرائع دعوتی نقطۂ نظر سے اللہ کی عظیم نعمت ہیں، جن کے مثبت استعمال سے ہم حالات کو اپنے قابومیں کرسکتے ہیں اور ناخوشگوار فضا کو خوشگوار بناسکتے ہیں۔

معاصر حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان روابط اور تعلقات کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل اور حساس مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، باعث تعجب و تأسف ہے کہ اکثر مسلمان اس تعلق سے حقیقی اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہیں اور اسی لئے وہ اس حوالے سے اسلام کے خلاف پھیلائے جارہے مغالطوں اور الزامات کا دفاع کرنے اور اصلی اسلامی نظام کومضبوط انداز میں پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

انسانیت ایک کنبہ ہے

پوری انسانیت ایک کنبہ ہے، پوری انسانیت کی تخلیق کا آغاز ایک نفس سے ہوا ہے، اسی  سے اللہ نے اس کا جوڑ پیدا کر کے پھر  پوری انسانیت کو وجود بخشا ہے۔ (سورۃ النساء:۱)

حدیث میں فرمایا گیا :

اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَی اللّٰہِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَی عِیَالِہِ

’’مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اللہ کی مخلوق میں سب سے پسند اللہ کو وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘۔

اسلام نے پوری انسانیت کو ایک خاندان اور کنبہ قرار دے کر اپنے حاملین کو انسانی اخوت اور انسانی بنیادوں پر باہم الفت و محبت اور خیر خواہی کا سبق اور پیغام دیا ہے۔

احترام انسانیت

دوسری قدر احترام انسانیت ہے، جو اس دنیا کے لئے اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کے گراں قدر عطیات میں سے ہے، قرآن نے انسان کی شرافت ، دیگر مخلوقات پر اس کی امتیازی فضیلت اور اس کے  خوب صورت سانچے میں پیدا کئے جانے کا واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ (الاسراء :۷۰، التین: ۴)

سیرت نبوی میںاس کی عملی مثالیں موجودہیں، ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر آپ ا کھڑے ہوگئے اور کسی کے پوچھنے پر فرمایا کہ کیا یہ انسان نہیں تھا؟ ( مشکوۃ المصابیح:کتاب الجنائز، باب القیام للجنازۃ)

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ ا کی نگاہ میں انسانی وجود کی قیمت اور اہمیت کیا تھی۔

اسلام کے جنگی قوانین کا طائرانہ مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کیسی حکمت اور ہمدردی کے ساتھ اسلام نے احترام انسانیت کو ہر ہر مرحلے پر پیش نظر رکھا ہے۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تعلقات کا ایک پہلو ’’سماجی تعلقات‘‘ ہیں، اس سلسلے میں قرآن نے یہ اصول طے کیا ہے:

’’اے مسلمانو: جو تم سے دین کے معاملے میں برسر پیکار نہیں ہیں، اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھر سے نکالا ہے، اللہ تم کو ان کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف سے نہیںروکتا، بلاشبہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔ (الممتحنہ: ۸)

اس آیت نے واضح کردیا ہے کہ جو غیر مسلم مسلمانوں سے بر سر پیکار نہ ہوں، مسلمان ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔

روایات میں آتا ہے کہ بعض انصار صحابہ اپنے بعض ضرورت مند قرابت دار یہودیوں کی مالی امداد اس لئے نہیں کرتے تھے کہ پہلے وہ اسلام قبول کریں تب ان کی مدد کی جائے گی، اللہ نے اس کو پسند نہیں فرمایا، اور بہر صورت مالی امداد کی تلقین کی۔( ملاحظہ ہو: سورۃ البقرۃ : ۲۷۲، تفسیر قرطبی:۳/۳۳۷)

سماجی تعلقات کا  اہم پہلو امن وامان( جان، مال اور آبرو کی حفاظت) ہے، اسلام نےغیرمحارب غیرمسلموں کی جان مال آبرو کو مسلمانوں کی طرح محترم قرار دیا ہے، کسی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل بتایا گیا ہے۔ (المائدہ:۳۲ )قرآن نے قصاص کے اصول کو مطلق رکھا ہے۔ (المائدہ:۳۵) جس سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان ناحق کسی غیر مسلم کو عمداً قتل کردے تو مسلمان سے قصاص لیا جائے گا، پھر بلا قصد و ارادۃً قتل کی صورت میں دیت کا جو حکم ہے اس میں بھی مسلمان اور غیر مسلم برابر رکھے گئے ہیں، ایک حدیث میں آیا ہے:

دِمَائُ ہُمْ کَدِمَائِ نَا، وَأَمْوَالُہُمْ کَأَمْوَالِنَا۔             (نصب الرایہ:۴/۳۶۹)

’’غیرمسلموں کے خون ہمارے خون کی طرح اور ان کے مال ہمارے مال کی طرح ہیں‘‘۔

مسلمانوں کی املاک کی طرح غیر مسلموں کی املاک بھی محترم ہیں، بغیر ان کی رضا کے ان کا مال استعمال کرنا جائز نہیں ہے، چوری پر ہاتھ کاٹنے کی جو سزا اسلام میں ہے اس میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں کے مال کی چوری کا حکم یکساں رکھا گیا ہے۔

اسی طرح عزت و آبر و کا معاملہ ہے، شریعت کی اس ضمن میں تعلیمات عام ہیں، سماجی تعلقات کے دائرے میں شرعی حدود کے تحت خوشی اور غم میں شرکت، عیادت، تعزیت، کھانا، کھلانا، پڑھنا، پڑھانا، حوصلہ افزائی، دل داری، سارے امور آجاتے ہیں۔

معاشی تعلقات

باہمی روابط کا دوسرا پہلو’’ معاشی تعلقات‘‘ ہیں، اسلام نے اس میں بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تفریق نہیں رکھی ہے، آپ ا نے فتح خیبر کے بعد یہودیوں سے بٹائی کامعاملہ طے فرمایا، نبوت کے بعد بھی بعض غیر مسلموں کے ساتھ مضاربت کا معاملہ رکھا، حضرت علیؓ نے ایک یہودی کے ہاں مزدوری کی، حضرت خبابؓ نے ایک غیرمسلم شخص کے لئے کام کیا، سفر ہجرت میں رہبر کے طور پر غیر مسلم فرد کا انتخاب ہوا، مسلم عہد حکومت میں متعدد غیر مسلم افرادسے خدمت لی گئی۔ اس تفصیل سے غیر مسلموں سے معاشی تعلقات پر روشنی پڑتی ہے اور اسلام کی وسیع النظری ثابت ہوتی ہے۔

سیاسی تعلقات

آپسی تعلقات کا تیسرا حصہ’’ سیاسی تعلقات‘‘ ہیں، سیاسی حالات زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور سماج کا امن و امان بھی راست طور پر سیاسی حالات سے مربوط ہوتا ہے، اسی لئے اسلام نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سیاسی روابط و تعلقات کی ، حسبِ ضابطہ شرعی، گنجائش  رکھی ہے، سیاسی تعلقات مشترک روابط کے لئے پہلا اصول مبنی بر انصاف قوانین کی پابندی ہے، اور دوسرا اصول ظلم کی مخالفت اور اس کی روک تھام میں آپسی تعاون ہے، احادیث میں اور  سیرت نبویہ میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔

مذہبی جذبات کا احترام

اسلام نے اپنے پیروکاروں کو مذہب کے تعلق سے ایک طرف اپنے دین پر استقامت کی تاکید کی ہے اور دوسری طرف اس کا بھی پابند بنایا ہے کہ دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے۔

یہ واضح رہنا چاہئے کہ مسلمانوں کے لئے ہر جگہ اور ہر طرح کے حالات میں عقائد (مثلاً توحید، رسالت و آخرت) عبادات (مثلاً نماز ،روزہ وغیرہ) پرسنل لا( مثلاً نکاح، طلاق،میراث وغیرہ) معاملات( مثلاً تجارت، اجارہ، سودوغیرہ) وغیرہ میں شرعی قانون کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ غیر مسلموں سے تعلق، ان شرعی قوانین کی پیروی سے دست برداری کی قیمت پر استوار کرنا‘ بالکل ناجائز ہے، دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان اپنی شناخت کی ہردم حفاظت کرتے رہیں اور تہذیبی اعتبار سے اپناوجود دوسروں کے ساتھ ضم نہ کریں۔

شریعت اس کے ساتھ ہر مسلمان کو دوسرے اہلِ مذاہب کے جذبات کا احترام سکھاتی ہےاور مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرنے کا بھی پابند بناتی ہے، اسی لئے مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ:

(۱) وہ کسی غیر مسلم کو قبول اسلام پر مجبور نہ کریں۔

(۲) غیرمسلموں کے معبودوں کو برا نہ کہیں۔

(۳) ان کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کریں۔

(۴) ان کی عبادت گاہوں کا احترام ملحوظ رکھیں۔

اس موضوع کی تفصیلات کے مطالعہ سے اسلام اور اہل اسلام کی رواداری اور فراخ قلبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ حالات اور ہمارا فرض

اس وقت ہمارے ملک میں بد قسمتی سے اقتدار ان افراد کو حاصل ہے جن کی نمایاں شناخت فرقہ پرستی اور تشدد ہے، بطور خاص مسلمانوں کے لئے آزمائش کے سخت حالات ہیں۔ان حالات میں ہم کو اسلامی تشخص اور ایمان و عقیدے کے تحفظ کی فکر کرنی ہے کہ یہی وہ واحد متاع عزیز ہے جو ہمارے لئے سامان نجات اور مایۂ فخر ہے۔

دوسری طرف ہمیں اپنے غیر مسلم بھائیوں( جن کی اکثریت آج بھی امن پسند ہے) کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے، بطور خاص معاملات اور اخلاق کے شعبوں میں ہمیںاسوۂ نبوی کو سامنے رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی، حسن معاملات اور حسن اخلاق کے ہتھیار سے ہی ہمارے اسلاف نے غیروں کے دل فتح کئے تھے، یہی نسخہ ہم کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

غیر مسلم برداران وطن مختلف جہتوں سے پھیلائے گئے پروپیگنڈوں کی زد میں غلط فہمی میں مبتلا ہیں، ہمیں ان کے ساتھ ہر مرحلۂ زندگی میں سماجی، معاشی، سیاسی  ہر پہلو سے اسلامی تعلیمات( جن کا کچھ خاکہ اوپر آیا ہے) کے مطابق معاملہ کرنے کی ضرورت ہے،حسن معاملہ اور حسن اخلاق کی خوشبو دورتک پھیلتی ہے، اس سے ایک طرف غیروں کے ذہن صاف ہوں گے، دوسری طرف وہ اس نتیجے پر بھی بآسانی پہنچ سکیں گے کہ اسلام کا دامنِ رحمت ہی تمام الجھنوں اور بے اعتدالیوں سے حفاظت کے لئے ان کی پناہ گاہ ہے۔

تعمیری اقدام

مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری جو مشکل حالات میں نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہے مثبت  اقدام سے دوری اور محض رد عمل پر قناعت ہے، حالات کے جواب میں عموماً صرف رد عمل( جوابی بیان بازی) پر اکتفا کیا جاتا ہے، جبکہ اگر ہم مثبت تعمیری اقدامات کی راہوںپرچلنے لگیں، صرف وقتی جواب و بیان پر قناعت نہ کریں، بلکہ مستقل بنیادوں پر اقدام کریں تو اس سے حالات کی سمت تبدیل کرنے میں بہت کامیابی مل سکتی ہے۔

حسن اخلاق اور خوبی ٔ کردار

امت مسلمہ کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے انفرادی و اجتماعی ، خارجی و داخلی ہر سطح پر اپنے اندر حسن اخلاق اور خوبیٔ کردار کا جوہر پیدا کرے۔ ہماری ذاتی زندگی کے لئے بھی اس کی اہمیت ناقابل انکار ہے، اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کے لئے اور مخالفین کے مغالطوں اور پروپیگنڈوں کا زہر ختم کرنے کے لئے  یہ بے حد ناگریز ہے۔آج امت کے ہر طبقے میں ہر سطح پر بے راہ روی کا عجیب طوفان آیا ہوا ہے۔ بطور خاص بے حیائی، بد دیانتی، بے صبری، جذباتیت، جنون انتقام، مادیت، ہوس ، حرصِ اقتدار، حقوق کی ادائیگی میں مجرمانہ کوتاہی، ذاتی حقیر مفادات کے لئے ملی مصالح  کی قربانی وغیرہ وہ مہلک روگ ہیں جو امت کی اخلاقی قدروں کو دیمک کی طرح کھاتے اور گھن کی طرح برباد کرتے جارہے ہیں۔

ایک عرب شاعر نے بہت پتے کی بات کہی ہے کہ :

وَإِنَّمَا اْلاُمَمُ اْلاَخْلاَقُ مَا بَقِیَتْ

فَاِنْ ہُمٗ ذَہَبَتْ اَخْلاَقُہُمْ ذَہَبُوْا

امتیں اور اقوام اخلاق کی بدولت زندہ رہتی ہیں، اخلاق نہ ہے تو امتیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔

امتوں کی حیات وبقاء کے لیے اخلاق کی اہمیت کلیدی نوع  ہے، اخلاق کی دولت سے محرومی زندگی کو بے روح  بنادیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خداوند قدوس نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے پیغمبروں کو مبعوث فرمایا تو انہیں خود اخلاق کا اعلیٰ مرتبہ عطا کیا اور ان کی تعلیمات میں اصلاح اخلاق کو بنیادی درجہ عطا کیا، قرآن کریم میں حضور اکرم اکے اخلاق عالیہ کے سلسلہ میں فرمایا گیا:

إِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ    (القلم: ۴)

’’بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ ترین درجہ پر ہیں‘‘۔

حسنِ اخلاق کی تاثیر یہ  ہے کہ وہ دلوں کو فتح کرتا ہے اور طوفانوں کے رخ موڑ دیتا ہے، تاریخ اس محیر العقول تاثیر کے نمونوں سے پر ہے، فتح مکہ کے موقع پر حضور اکرم ا کا مشرکین مکہ کے ساتھ حسن اخلاق اور عفو ودرگزر کا معاملہ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ لوگ جوق در جوق دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے اور کایا پلٹ گئی۔اخلاق کی طاقت نے ہر دور میں بے شمار معرکے سر کئے ہیں، لاتعداد موقعوں پر اُمت کو سربلند کیا ہے، دعوت اسلامی کا کارواں ہردور میں اسی طاقت کے ذریعہ تیز رفتار رہا ہے، قوموں کے عروج وزوال کے پس منظر میں اخلاقی بلندی وپستی کا اہم رول ہوتا ہے، اخلاقی بے راہ روی اور گراوٹ زوال وادبار کی پیغامبر ہوتی ہے اور اخلاقی پاکیزگی، رفعت، ترقی وعروج کی ضامن۔

امتِ اسلامیہ تاریخ کے ہر دور میں اخلاقی قوت سے مالا مال رہی ہے، اس وقت بھی یہ قوت موجود ہے ، مگر بہت ناتواںہے ا ور بے شمار رکاوٹوں کی زد میں ہے،ضرورت اس کی ہے کہ ان رکاوٹوں کا مقابلہ کیا جائے اور ہر قیمت پر اخلاقی قوت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اس لئے کہ اخلاقی قوت سے محروم قومیں تمام تر عسکری ودیگر قوتوں سے لیس ہونے کے باوجود بالآخر ناکام ہوتی ہیں، اسلام نے ہر شعبۂ زندگی میں اخلاقی خوبی کو اپنا نے کا حکم دیا ہے اور اسی پر عمل کرکے اس دور کا مسلمان اپنی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے اور تمام حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ہر طرح کے حالات میںعمومی طور پر اور موجودہ حالات میں بطور خاص امت کے سامنے اپنے تحفظ و ارتقاء کا اور سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ امت کے افراد اپنے اعلیٰ تعمیری مشن کے لئے یکسو ہوجائیں، مقصدیت کو ہمہ وقت پیش نظر رکھیں، مخالفتوں اور رکاوٹوں سے مرعوب ہونےکے بجائے’’ اپنی دنیاآپ پید اکر‘‘ کے اصول کو سامنے رکھیں۔

بامقصد افراد اپنے راستے کی تلخیوں اور ناخوشگواریوں سے نہیں الجھتے، ان کا یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ الجھاؤ انہیں ان کی منزل سے دور کردے گا، ان کے سامنے ہمیشہ منزل ہوتی ہے، وہ ہر لمحہ آگے پیش قدمی کی طرف توجہ رکھتے ہیں، وقتی اور ہنگامی حالات پر نہیں بلکہ مستقبل کے دیر پا اور دور رس نتیجے پر ان کی نگاہ رہتی ہے، گویا   ؎

میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے

مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے

قرآن مقدس میں جہاں مثالی اور اعلیٰ اوصاف و اقدار واخلاق کا ذکر آیا ہے، یہ پہلو بطور خاص  اجا گر کیا گیا ہے اور جہالت پر آمادہ مخالفین سے اعراض کرنے اور نہ الجھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (الاعراف: ۱۹۹) کامیاب اہل ایمان کا وصف امتیاز، اللہ کے مقرب بندوں کا کرداراور اہل ایمان کا خاص عمل یہی بتایا گیا ہے کہ وہ مخالفین سے الجھ کر اپنی راہیں کھوٹی نہیں کرتے، خوش اسلوبی، حکمت اور اعراض کی پالیسی اپنا کر اپنی راہ چل پڑتے ہیں، بالآخر اپنی منزل پالیتے ہیں۔(المؤمنون:۳۰، الفرقان:۶۳،القصص:۵۵)

امت کے مسائل کا حل اورعروج و اقبال کا رازافرادِ امت کےجذبۂ قربانی میں ہے، بدر سے لے کر آج تک تمام اہم مواقع پر،تمام ہنگامی اور خطرناک حالات میں اہل عزیمت کی قربانیوں سے ہی امت حالات کے گرداب سے نکلی اور غلبہ و کامیابی سے سرفراز ہوئی، اس وقت بھی امت کی اور بطور خاص نوجوانوں کی اس پہلو سے تربیت ضروری ہے، طوفانوں کا رخ مایوس ہوجانے،تھک کر بیٹھ جانے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے نہیں بدلتا ۔ اُسےہمت مردانہ، خطر پسندی، عزم و عمل اور قربانیوں سے ہی پھیرا جاسکتا ہے۔

مارچ 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau