تکثیری سماج اور دعوت

چند اہم پہلو (2)

محمد اسلم غازی

نبیؐ کا طریقہ دعوت قرآن اور حدیث کی روشنی میں:

اس مقام پر رُک کر ہمیں قرآن کی روشنی میں نبیؐ کے طریقہ کار کو سمجھنا چاہیے۔  کے علاوہ  نبیؐ کے طریقہ دعوت پر غائرانہ نظر ڈالیں تو یہ تدریج سامنے آتی ہے:

مکی دور:-٭خفیہ دعوت٭اہل خانہ و اقرباء کو دعوت٭فاران سے عام دعوت ٭انفرادی ملاقاتیں، میلوں، بازار، حج کے دوران اجتماعی دعوت٭سرداران قوم کو دعوت ٭بعض سرداران قوم سے تعاون لینا۔ ٭ہجرت

مدنی دور:٭یہود سے معاہدے٭قبائل میں وفود بھیجنا۔٭قبائل سے معاہدے ٭دفاعی جہاد (غزوہ خندق تک)٭صلح حدیبیہ٭بادشاہوں کو خطوط٭دیگر زبانوں میں داعین کی تیاری ٭اقدامی جہاد٭یہودیوں کا انخلاء اور سزائیں٭فتح مکہ کے بعد عام معافی٭           بتوں کا انہدام٭اسلامی معاشرے اور ریاست کا استحکام و توسیع

مکّی دور کی حکمت دعوت:   اس دور میں کل 90 سورتیں نازل ہوئیں۔

٭مکہ کے  4  ادوار:  خاموش دعوت(3 سال) اعلانیہ دعوت اور آغاز مخالفت (2 سال)،  آغاز فتنہ سے شدت فتنہ تک(5سال) ، آخری دور انتہائی سختی و مصیبت (3سال)  (ماخوذ از : تفہیم القرآن۔  سورہ الانعام کی شانِ نزول)

(1)خاموش دعوت کا دور

اس زمانے کی نازل شدہ 32سورتوں میں شرک کی مذمت نہیں کی گئی۔  صرف 7 سورتوں میں شرک پر ہلکی سی ضرب لگائی گئی ہے کہ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود ہوسکتا ہے؟

شرک پر تنقید نہیں:  الملک،  الحاقہ،  المعارج،  المزمل،  القیامہ،  الدھر،  المرسلات،  النٰزعات،  عبس،  التکویر،  الانفطار،  المطففین، الانشقاق،  الاعلیٰ،  الغاشیہ،  الفجر، الیل،  الضحیٰ،  الم نشرح،  التین،  العلق،  القدر،  الزلزال،  العٰدیٰت،   القارعہ،  التکاثر، العصر، الھمزہ،  الفیل،  قریش،  الماعون،  الکوثر۔32  سورتیں

شرک پر ہلکی پھلکی تنقید : الفاتحہ،  القلم،  الجن،  المدثر،  النبا،  الکٰفرون،  الاخلاص07  سورتیں =      39 سورتیں

٭خاموش دعوت انتہائی نزدیکی دوستوں اور خاص خاص سلیم الفطرت لوگوں کو۔

٭مثبت دعوت۔  توحید اور رسالت خاص طور سے ایک اللہ کی بندگی پرزور۔

٭آخرت پر دل نشین دلائل کے ساتھ بے حد زور۔

٭یتیموں، مسکینوں، غلاموں،  محتاجوں کی مدد پر ابھارنا۔   بخل کی برائی اور اس کے نتائج بد سے خبردار کرنا۔  انفاق پر زور اور اس کے فوائد کا ذکر۔

٭غرور و گھمنڈ ،دولت پر اترانا اور اخلاقی برائیوں کی مذمت اور ان کے انجام بد سے ڈرانا۔

٭لوٹ مار ، قتل، غارت گری ، انسانوں پر ظلم، بیٹیوںکو زندہ دفن کرنے کی خرابیاں بیان کرکے ان کے برے نتائج سے واقف کرانا۔

٭عذاب دوزخ سے ڈرانااور جنت کے انعامات سے رجھانا و لبھانا۔  دنیا و آخرت کے آرام و کامیابی کی منظر کشی۔

(2)اعلانیہ دعوت کا دور :    اس دور میں نازل شدہ 9 سورتوں میں شرک کی مذمت پر خاموشی ہے۔ 3 سورتوں میں اشارۃًشرک پر ضرب لگائی گئی ہے اور 8  سورتوں میں تردیدشرک واضح انداز میں کی گئی ہے۔

شرک پر تنقید نہیں: الرحمن ،  الواقعہ،  البروج،  الطارق،  البلد،  الشمس،  اللھب،  معوذتین        09  سورتیں

اشارۃً تنقید :  ق،  الذاریات،  الطور03  سورتیں

شرک پر واضح تنقید :- ص،  الزمر،  المومن،  حٰم سجدہ،  الشوریٰ،  الزخرف،  الدخان،  الجاثیہ08  سورتیں  =    20  سورتیں ۔

اس دوران دعوت ان نکات پر مرکوز رہی :  o  توحید ، رسالت، آخرت کے دل نشین دلائل  o آفاق و انفس سے استدلال  o   اخلاقی اور سماجی برائیوں پر شدید گرفت  o   انفاق کی اہمیت اور ترغیب وغیرہ اور ساتھ ہی خدمت خلق کے کام بھی کیے جاتے رہے مثلاً :  o   غلاموں کو آزاد کرانا  o   زندہ دفن کی جانے والی بچیوں کو بچانا  o کمزوروں ، بے کسوں کی مدد کرنا وغیرہ۔

(3)دورِ آغاز فتنہ :  شرک پر تنقیدمیں بتدریج اضافہ ہوتا ہے۔  18 سورتوں میں دلائل کے ساتھ شرک کی تردید کی گئی ہے جبکہ 2 سورتوں میں دیویوں کے نام لے کر خدا کے مقابلے میں ان کی بے بسی ظاہر کی گئی۔

شرک کی مدلل تردید  :  الشعراء،  النمل،  القصص،  العنکبوت،  الروم،  لقمان،   السجدہ،

سبا، فاطر، یٰسین،  الصافات،  القمر،  الکہف،  مریم،  طٰہٰ،  الانبیاء،  المومنون،  الفرقان-18   سورتیں

دیویوں دیوتائوں کے نام لے کر شرک پر تنقید  :-  نوح،  النجم-02  سورتیں   =    20  سورتیں

٭ ظلم و تشدد کے درمیان صبرو استقامت ، مسلمانوں کو اشتعال سے بچانا ، ظلم کے خلاف ہاتھ روکے رکھنا، حالات کو پرامن بنائے رکھنا۔  ان کاموں کی مصلحتیں یہ تھیں کہ مسلمانوں کی کمزور جماعت کا حتی الامکان تحفظ ہو اور ماحول کو مخاصمانہ بننے سے بچایا جائے۔

٭ایمان ، جان و مال وغیرہ کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت۔

(4)آخری دور (انتہائی سختی اور مصیبتیں) :  آخری دور میں 8 سورتوں میں دلائل کے ساتھ شرک کی کمزوریوں کو واضح کیا گیا۔  3 سورتوں میں شرک کا شدید ابطال کیا گیا۔

شرک کا مدلل ابطال :  یونس،  ہود،  یوسف،  الرعد،  ابراہیم،  الحجر،  النحل،  بنی اسرائیل08  سورتیں

شرک کا شدید ابطال:-  الانعام،  الاعراف،  الاحقاف-03  سورتیں     =   11  سورتیں

٭طاغوت کا ذکر  2 سورتوں میں ہے۔  الزمر، جو تیسرے دور میں نازل ہوئی تھی اور النحل، جو آخری دور کی نازل شدہ صورت ہے۔

٭دعوتی احتیاط ملاحظہ فرمائیں کہ جب دیوی دیوتائوں کا نام لے کر شرک کی تردید کی گئی تو امکان تھا کہ مسلمان مشرکین کے خدائوں کو برا کہنے لگیں اس لیے سورۃ الانعام میں کہا گیا کہ ان کے معبودوں کو برا بھلا مت کہو۔

٭آپؐ نے بعض سرداران مکہ سے مدد مانگی۔

٭تبدیلی ٔ مرکز ،  ہجرت مدینہ۔

خدمت خلق اور سماجی مسائل پر توجہ

نبیؐ اور تمام انبیاء ؑ کی سنتوں میں یہ بات بھی شامل رہی ہے کہ انہوں نے دوران دعوت مدعی قوم کے اخلاقی، سماجی اور معاشی مسائل حل کرنے کی کوششوں کو بھی اپنے اپنے مشن کا حصہ بنایا تھا۔  نیز خدمت خلق کے کام انجام دیے۔  اسلام میں بندگی ٔ رب کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کی بھی بڑی اہمیت ہے۔  خدمت خلق کا ہی دوسرا نام حقوق العباد ہے۔  قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی مؤمنانہ وصف ہے۔

اِلَّا المُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَآئِمُوْنَ o وَالَّذِیْنَ فِیْ ٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مُّعْلُومٌ o لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o (المعارج۔ 22تا 25)

ترجمہ: مگر وہ نمازی (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو پابندی سے نمازیں پڑھتے ہیں اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق مقرر ہے۔

حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یا خدمت خلق کے انکار کو قرآن کافرانہ عمل کے مشابہ قرار دیتا ہے:

اَرَئَ یْتَ الَّذِی یُکَذِّبُ بِاالدِّیْن o فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ o وَلَاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ المِسْکِین o (الماعون۔ 1-3)

ترجمہ:  ’’کیا تم نے دیکھا آخرت کو جھٹلانے والے کو؟ یہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانے دینے پر نہیں اکساتا‘‘۔

دکھاوے کی نماز پڑھنے والوں اور خسیس طبیعت لوگوں کو، جو دوسروں کی معمولی سی خدمت بھی نہیں کرتے، قرآن تباہی کی دھمکی دیتا ہے:

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ہُمْ عَن صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ o الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآئْ وْنَ o وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ o (الماعون۔  4-7)

’’  تو تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو نماز سے غافل ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں اور لوگوں کی ضرورت کی معمولی چیزیں بھی روکتے ہیں‘‘۔

آنحضورؐ نے تو حقوق العباد میں خیانت کرنے والوں کے ایمان کی نفی فرمائی ہے۔  آپؐ نے فرمایا کہ ’’خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے (یہ تین بار فرمایا) جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے لیکن اس کا پڑوسی بھوکا سوجائے۔  اس نوعیت کی اور بھی کئی حدیثیں ہیں۔

درج بالا تمام آیات مکی ہیں۔  مکہ میں مسلمانوں کو خدمت خلق کرنے کی بڑی تاکید کی گئی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مکہ دارالدعوت تھا۔  دعوت کی قبولیت کے لیے لازمی ہے کہ داعی سے مدعو مانوس ہو اور اسے اپنا خیرخواہ بھی تسلیم کرے۔  اسی لیے مکہ میں عبادات اور حلال و حرام کی  فہرست نازل فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حقوق العباد، خدمت خلق اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی اہمیت سے واقف کرایا اور انہیں داعی کے کردار کا لازمی وصف قرار دیا۔  مکہ میں صبر و ثابت قدمی سے کافروں کے مظالم سہنے کی حکمت بھی یہی تھی کہ مدعوئین اور داعیوں کے درمیان کشمکش کو پیدا ہونے سے روکا جائے جو دعوت کے لیے زہرہلاہل ثابت ہوسکتی تھیں۔  اس بات کو اُن دو پڑوسیوں کی مثال سے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے جو ہمیشہ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔  ان میں سے اگر کوئی ایک بیمار پڑ جائے تو وہ دوسرے کی پیش کردہ دوا بدگمانی اور شکوک کی بناء پر ہرگز استعمال نہیں کرے گا۔  البتہ اُن دونوں کے باہمی تعلقات خوشگوار ہوں تو دونوں آنکھ بند کرکے ایک دوسرے پر اعتماد کریں گے۔  پس داعی کے اخلاق و کردار، صداقت و دیانت اور انسانیت نوازی سے مدعو اگر واقف اور متاثر ہو تو پھر جلد ہی وہ اس کی دعوت سے بھی متاثر ہوکر رہے گا۔  اس کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایمان اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا بھی یہ بہت بڑا امتحان تھا کہ خوشنودیٔ رب کے لیے انہیں اپنے جانی دشمنوں، کو ان کے انسانیت سوز مظالم کے باوجود، نہ صرف معاف کرنا تھا بلکہ ان کی خدمت بھی کرنی تھی۔

آنحضوؐر تو نبوت ملنے سے پہلے ہی خیرخواہ انسانیت تسلیم کرلیے گئے تھے۔  چنانچہ غار حرا میں حضرت جبرئیل ؑ سے پہلی ملاقات کے بعد جب حیران و پریشان گھر لوٹے تو حضرت خدیجہؓ نے فرمایا تھا کہ اللہ آپ کو ہلاک نہیں کرے گا کیونکہ آپؐ کمزوروں اور بے بسوں کے مددگار ہیں۔

قرآن کریم کی اِن تعلیمات اور آنحضوؐر کی اخلاقی تربیت سے صحابہ کرامؓ پر زبردست اثرات مرتب ہوئے۔  آپؐ کی رہنمائی میں انہوںؓ نے دعوت دین، خدمت خلق اور حقوق اللہ کی ادائیگی کا زبردست کام انجام دیا اور اپنے سماج کے مسائل کو حل کیا۔  سینکڑوں غلام آزاد کرائے۔  سینکڑوں لڑکیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچایا۔  یتیموں ، کمزوروں، غلاموں ، خواتین ، مسافروں وغیرہ کے حقوق کا تحفظ کیا۔  عورتوں کا وقار بحال کرایا۔  شراب، جوا، سٹہ، فحاشی، عریانی، زناکاری، فریب دہی، چوری، لوٹ مار، قتل و غارتگری ، بردہ فروشی وغیرہ جرائم کا کُلّی استیصال کیاگیا۔  غریبوں ، بے سہاروں، یتیموں، بیوائوں، مطلقائوں، مریضوں، مسافروں، غلاموں وغیرہ کے لیے مالی امداد کا زبردست ادارہ بیت المال اور دیگر رفاہی ادارے بھی قائم کیے گئے۔  الغرض ایک مکمل رفاہی و فلاحی ریاست Welfare State   قائم کردی گئی۔

قرآن نے سابق انبیاء کرامؑ کی دعوتی جدوجہد کا جو نقشہ مسلمانوں کے سامنے بطور اُسوہ پیش کیا ہے اس میں انتھک اور مسلسل دعوت، مشکلات اور ابتلائوں میں پہاڑ کی سی ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ خدمت خلق، انسانوں کو مختلف تکالیف اور پریشانیوں سے نجات دلانے اور سماجی مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کا تذکرہ بہت زیادہ نمایاں ہے۔  چند مثالیں ذیل میں درج کی جارہی ہیں۔

(1)حضرت ھودؑ قوم عاد کی طرف مبعوث کیے گئے تھے جس میں شرک و بت پرستی کے علاوہ اونچی اونچی عمارتیں بنا کر اسراف اور فضول خرچی کے ذریعے اپنی شان و شوکت جتانے کی بڑی اخلاقی برائی تھی۔  حضرت ھودؑ نے ان دونوں بیماریوں کا علاج کرنے کی کوششیں بیک وقت کیں جن کا تذکرہ قرآن پاک میں دیکھا جاسکتا ہے۔  ملاحظہ فرمائیں سورۂ الشعراء، آیات 123 تا 140

(2)حضرت صالحؑ کو قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا جو پہاڑوں کی چٹانیں تراش کر ان میں بڑے بڑے محلات بناتی اور اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرتی تھی۔  حضرت صالحؑ  نے اُس کے شرک و کفر کے علاوہ اُس فضول اور بے فیض کام پر بھی گرفت کی تھی۔  ملاحظہ ہو سورۂ الاعراف، آیات 73 تا 79 ، سورۂ الشعراء آیات 141 تا 159

(3)حضرت ابراہیمؑ کے دور میں سب سے بڑا سماجی مسئلہ شاہی اور مجاوری کا استحصالی گٹھ جوڑ تھا جس نے لوگوں کو غلام بنا رکھا تھا اور عوام کی گاڑھی محنت کی کمائی کو شاہی محصولات اور مذہبی نذر و نیاز کے ہتھ کنڈوں سے لوٹ رہا تھا۔  ابراہیمؑ نے اس استحصالی گٹھ جوڑ پر ضرب کاری لگاکر عوام کو اس سے نجات دلائی تھی۔  ابراہیمؑ کی دعوتی مساعی کے نتیجے میں کفر و شرک سے تو صرف ایمان لانے والے ہی نجات پاسکے تھے لیکن شاہی اور مجاوری کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں ایمان نہ لانے والے بھی شاہی اور مذہبی استبداد سے آزادی پاگئے تھے۔

(4)لوطؑ نے اپنی قوم کو ہم جنسی کی بدترین اخلاقی پستی سے نکالنے کی بھرپور کوششیں کی تھیں۔  قرآن میں جہاں جہاں آپؑ کی دعوتی کوششوں کا تذکرہ ہے وہاں وہاں سماج کو اُس قبیح عادت سے چھٹکارا دلانے کی جدوجہد کا ذکر بھی لازماً کیا گیا ہے۔  ملاحظہ کیجیے سورۂ الاعراف آیات 79 تا  84 ،  سورہ ھود آیات 77 تا  83  ،  سورہ الحِجر آیات58 تا  77 ،  سورہ الانبیاء آیات 73 تا  75 ،  سورہ الشعراء آیات160 تا  175 ،  سورہ النمل آیات54 تا 58 ،  سورہ العنکبوت آیات 28تا 35۔

(5)حضرت شعیبؑ کی قوم میں ناپ تول میں بے ایمانی اور سنسان راستوں پر لوٹ مار کرنے کی بیماریاں تھیں(بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت شعیبؑ دو قوموں کی طرف بھیجے گئے تھے۔  اہل مدین اور اصحاب الایکہ۔ حوالہ: تفہیم القرآن جلد 5، تفسیر سورہ الشعراء آیت 176) آپؑ نے اپنی دعوتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اُن سماجی بیماریوں کی اصلاح کی بھی کوششیں فرمائی تھیں جن کا تذکرہ قرآن میں کیا گیا ہے۔  ملاحظہ ہو: سورہ الاعراف آیات 85تا 87 ، سورہ ھود آیات 84تا 95 ، سودہ الشعراء آیات 176تا 191 ، سورہ العنکبوت آیات 36، 37۔

((6 حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ کو مصر کے قبطیوں اور ان کے بادشاہ فرعون کے کفر وشرک اور ظلم واستحصال کے خاتمے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ساتھ ہی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد کراکے ان کی اصلاح کا کام بھی انہیں انجام دینا تھا۔ یہ اس دور کے بہت بڑے سماجی مسائل تھے۔ حضرات موسیٰؑ و ہارون ؑ کی جدوجہد قرآن میں بہت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔

(7)یوسفؑ نے خدمت خلق کا بڑا جامع منصوبہ بنایا تھا۔ آپؑ کی تدبیر سے مصر و عراق اور آس پاس کے ملکوں کی ایک بہت بڑی کافر و مشرک آبادی سات سالہ قحط کی ہلاکت سے محفوظ رہی تھی۔  قحط سے قبل آپ نے سات سالوں تک غلے کی بچت کرکے اس کا بڑا ذخیرہ محفوظ کرلیا تھا۔  اس کے علاوہ آپؑ نے مصر میں جاری عریانی ، فحاشی اور بدکارانہ ماحول پر ضرب کاری لگا کر ان کا استیصال کیا تھا۔

(8)دائود ؑ اور سلیمانؑ نبی ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ بھی تھے جن کے ذمے اپنی رعایا اور اطراف میں رہنے والے انسانوں کے لیے ایک رفاہی سلطنت کا قیام بھی تھا۔  یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام انبیاء کرامؑ کے پیش نظر ایک رفاہی و فلاحی اسلامی ریاست کی تشکیل ہی رہا ہے۔  ثبوت میں دو مثالیں پیش کررہا ہوں:

(i)حضرت نوحؑ کا قول قرآن میں سورۂ نوح آیات 10 تا 12میں درج ہے جس کا ترجمہ پیش ہے: میں نے کہا، اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔  وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا۔  تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا۔

(ii)نبیؐ نے مکہ میں حضرت خباّبؓ بن ارت سے فرمایا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب ایک تنہا خاتون صنعا سے حضر موت تک سفر کرے گی۔  وہ سونے کی ڈلیاں اچھالتے ہوئے جائے گی اور اسے سوائے خدا اور بھیڑیے کے کسی کا خوف نہ ہوگا۔

(9)حضرت عیسیٰؑ نے تو کوڑھیوں اور اندھوں کی اتنی زبردست خدمت کی تھی کہ خدمت کا دوسرا نام ہی مسیحائی پڑگیا۔

اسی انبیائی نمونے پر موجودہ تحریکات اسلامی کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔  چنانچہ مصر اور دیگر عرب و افریقی ممالک میں اخوان المسلمون ، فلسطین میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، ترکی میں انجینئر نجم الدین اربکان کی یکے بعد دیگرے مختلف پارٹیاں، پاکستان اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی، الجزائر میں الجمیعت الاسلامیہ وغیرہ نے دعوت دین کے ساتھ خدمت خلق کو اساس بنا کر عوامی ہمدردیاں حاصل کی ہیں۔  ان تمام تحریکات اسلامی نے بلدیاتی اداروں میں شامل ہوکر شہری سہولیات کی فراہمی میں کلیدی رول ادا کیا ہے اور اپنے اپنے ممالک میں متبادل حکمراں طاقت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔جماعت اسلامی ہند ابتداء ہی سے  انہیں اپنی پالیسی پروگرام میں نمایاں اہمیت دیتی رہی ہے اور ان پر سنجیدگی سے عمل آور ہے۔  مزید بہتری اور تیزی لانے کے لیے وہ اپنے متوسلین کی ان امور میں مسلسل تربیت بھی کررہی ہے۔

دعوت دین کا کام کرنے والی تمام چھوٹی بڑی تنظیموں اور افراد کو یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ ننگی، بھوکی، بے گھر، بیمار، ان پڑھ، بے روزگار اور ظلم و استحصال کی شکار بھارتی عوام کو صرف وعظ و نصیحت کرنا زیادہ مفید ثابت نہ ہوگا۔  ضرورت ہے کہ انبیاء کرامؑ کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے ہم  عوام کے مسائل حل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کریں۔  انہیں پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات دلانے کی منظم جدوجہد کریں۔  انہیں یہ باور کرادیں کہ ہم ان کے حقیقی خیرخواہ ہیں۔  ان شاء اللہ حالات بڑی تیزی سے اسلام کے حق میں تبدیل ہوجائیں گے۔

حصول تعاون اور معاہدے :

نبیؐ نے اپنے مشن کی کامیابی کے لیے تمام ممکنہ جائز ذرائع جو انہیں میسر تھے اختیار و استعمال فرمائے۔  اس سلسلے میں سب سے اہم طریقہ کار مکہ میں اپنے قبیلے کے افراد اور بعض طاقت ور مشرک سرداروں کی مدد حاصل کرنا تھا۔  دوران دعوت آپؐ کو حضرت حمزہؓ اور جناب ابوطالب کی حمایت حاصل تھی۔  آپؐ نے طائف کے دورے میں وہاں کے سرداروں عبدیالیل، مسعود اور حبیب سے بھی تعاون کی درخواست کی تھی۔  اس کے علاوہ طائف سے لوٹتے وقت آپؐ نے مطعم بن عدی کی مدد حاصل کی۔  حجرت حبشہ کے دوران وہاں کے شہنشاہ نجاشی کا تعاون حاصل رہا۔  مدینہ کے قبائل اوس و خزرج سے آپ نے تعاون حاصل کیا۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نبیؐ اور آپ کے صحابہ میں جو ایمانی قوت تھی اور ان کو وحی الٰہی سے جو تقویت ملتی تھی ہم اس سے محروم ہیں۔  یعنی وہ ہم سے نسبتاً اچھی حالت میں ہونے کے باوجود دعوت اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے مشرکوں سے مدد و تعاون لے سکتے تھے تو ہم جیسے کمزور تو اس کے زیادہ حقدار ہیں۔  چنانچہ آج ہمیں اپنے گردو پیش میں ایسے طاقتور اور بااختیار لوگوں کو تلاش کرنا چاہیے جن کی مدد سے ہم ’’اقامت دین‘‘ کے کاز کو آگے بڑھا سکیں۔  (برادران وطن کی معروف سماجی تحریکات و شخصیات سے ہمارے روابط اسی سنت کی روشنی میں دیکھے جانے چاہئیں)

نبیؐ نے مدینہ پہنچ کر یہودی قبیلوں اور آس پاس کے مشرک قبائل سے معاہدے کیے تاکہ نوخیز اسلامی ریاست کو امن و امان کا ماحول میسر آئے تو وہ استحکام و توسیع کے کام کرسکے۔  آپؐ نے دعوت اسلامی کے تحفظ کے لیے مشرکوں اور کافروں سے معاہدہ کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔آج مختلف سماجی تحریکات سے ہم معاہداتی طریقہ کار استعمال کررہے ہیں ان کو اس روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

بااثر افراد و گروہوں کاتعاون حاصل کرنا اور اپنے اطراف کے سماجوں سے معاہدے کرنا تکثیری سماج میں دعوت دین کو کامیابی کے مراحل کی طرف لے جانے کے لیے لازمی ہے۔

طریقہ کار میں تبدیلی:

درج بالا سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ’’دعوت کے ابتدائی مرحلے میں عمومی طور پر بڑا پرُحکمت طریقہ دعوت اختیار کیا گیا۔  دورِ نبوت اور موجودہ بھارت کے حالات میں جو زبردست فرق پہلے بتایا گیا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ طریقہ دعوت میں بھی فرق ہونا چاہیے۔

قرآن سے یہ بات ثابت ہے کہ حالات کی تبدیلی کی وجہ سے انبیاء کرام نے طریقہ دعوت میں  تبدیلیاں کی تھیں۔

دعوت کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں اس کا جائزہ قرآن و حدیث کی روشنی میں لیں تو درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

٭انبیاء کرام ؑ کی سیرتوں کے گہرے مطالعے سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ان کے طریقہ کار میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔  چند مثالیں:

٭یوسف ؑ کا طریقہ دعوت:  آپؑ نے غیر مسلم مملکت کے وسائل کی تقسیم اپنے ہاتھ میں لے کر دعوتی حکمت عملی اختیار کی۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ ج  اِنَّیِ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ ۔(یوسف:۵۸)

’’ یوسف نے کہا ملک کے خزانے میرے سپرد کردیجئے۔  میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔  ‘‘

٭موسی ٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی رہائی کی جدوجہد بھی کی اور دعوت پہنچانے کے لیے جادوگروں کا مقابلہ بھی کیا۔

فَلَنَا تِیَنَّکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِہٖ فَاَجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَلَا ٓاَنْتَ مَکَاناً سُوًے O قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمً الزِّیْنَۃِ وَاَنْ مُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحیً O                                                 (طٰہٰ۔   آیت 57، 58)

’’  اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں طے کرلے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے؟ نہ ہم اس عہد سے پھریں گے نہ تم پھریو۔  کھلے میدان میں سامنے آجا۔ موسیٰؑ نے کہا: نے کہا ’’جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔ ‘‘

٭دائود ؑ اور سلیمان ؑ نے بادشاہت کو ذریعہ دعوت بنایا۔  ملکہ سبا کو جس طرح شاہی قوت و طاقت کے پس منظر میں دعوت دی گئی وہ قابل غور ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَاتُوْنِی مُسْلِمِیْنَ O         (النحل۔   آیت 31)

’’  میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہوکر میرے پاس حاضر ہوجاؤ۔  ‘‘

٭آنحضورؐ نے حضرت معاذؓ بن جبل کو جب یمن کا گورنر بنایا تو انہیں اس بات کی اجازت دی کہ پیش آمدہ نئے حالات میں انہیں اگر قرآن و سنت سے کسی قسم کی رہنمائی نہ مل پائے تو وہ اجتہاد کرسکتے ہیں۔  یہ حدیث اس امر پر دال ہے کہ حالات کا تقاضہ ہو تو کام کے نئے طریقے دریافت کیے جاسکتے ہیں۔

موجودہ حالات پر انطباق:

میں سمجھتاہوں کہ درج بالا دلائل سے تکثیری سماج میں دعوت کا طریقہ کار منقح اور واضح ہوگیا ہوگا کہ:

وہ سماج (موجودہ بھارتی سماج) جہاں مختلف نظریوں، تہذیبوں، زبانوں، نسلوں، رنگوں اور علاقوں کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں جن میں پہلے ہی سے نفرت اور دشمنی کا ماحول ہے اور باہم قتل و غارت گری میں ملوث ہیں، ان کے سامنے دعوت پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پہلے داعی قوم سے ان کی نفرت اور بیزاری کو ختم کرایا جائے اور ان کو ایک دوسرے سے مانوس کیا جائے۔  اس کا طریقہ یہ ہے کہ داعی قوم مدعو قوم کا دل، اعتماد اور اعتبار جیتنے کے کام انجام دے۔  یعنی ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔  ان کے دکھوں کو بانٹنے کا کام کرے۔  اس ملک میں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں جن سے مسلمان بالکل بے پرواہ ہیں۔  یہاں تک کہ کارِ دعوت کا مدعی گروہ یعنی متوسلین اور وابستگان جماعت اسلامی ہند کی اکثریت کو بھی ابھی یہ شعور نہیں ہے کہ ملکی سماجی مسائل میں ہمارا کیا رول ہونا چاہیے؟

شراب اور منشیات کی نحوست جس کی وجہ سے ملک میں سالانہ لاکھوں لوگ ہلاک ہوتے ہیں، عریانی و فحاشی کی خباثت جس کی وجہ سے ہر آدھے گھنٹے میں ایک زنا بالجبر ہوتا ہے، بردہ فروشی اور عصمت فروشی کی لعنت جس میں دیش کی لاکھوں بیٹیاں مجبوراً پڑی ہوئی ہیں، بے کاری و بیروزگاری کی کلفت جس سے کروڑوں نوجوان متاثرہیں، بھکمری اور بیماریوں کی مصیبت جس میں ملک کی 40 فیصد آبادی مبتلا ہے ، جہالت اور ناخواندگی کی ظلمت جس میں ملک کی پچاس فیصد عوام ڈوبی ہے،جہاں سالانہ 10لاکھ بیٹیوں کو دوران حمل یا پیدا ہوتے ہی مار ڈالا جاتا ہے، جہاں جہیز اور ہنڈے کی لعنت میں روزانہ سینکڑوں دلہنیں زندہ جلا کر ہلاک کردی جاتی ہیں، جہاں سالانہ کئی لاکھ عورتوں اور بچوں کو اغواء کرکے بیچ دیا جاتا ہے، جہاں قرض کی نحوست میں پھنسے لاکھوں کسان ہر سال خود کشی کرتے ہیں۔  ان سب کے علاوہ جھوٹ، فریب، چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، قتل و غارت گری، اغوا، زنابالجبر، رشوت ستانی، بے ایمانی، گھوٹالے، بلیک مارکیٹنگ ، اونچ نیچ، معاشی و سماجی استحصال وغیرہ جیسے گہرے اور گمبھیر مسائل میں گھرے اس ملک کے عوام کسی نجات دہندہ کا انتظار کررہے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ مسائل کے حل کے لیے عیسائیوں، ہندوؤں، اور جینیوں کی تنظیمیں ، ٹرسٹ اور افراد مسلسل کوشاں ہیں۔  لیکن ان کاموں میں مسلمان بالکل شامل نہیں ہیں۔  مسلمانوں کے بارے میں مدعو قوم کا ایک اور تاثر گہرے سے گہرا ہوتا جارہا ہے کہ مسلمانوں کو یہاں صرف اپنے ادھیکاروں کی فکر ہے۔  یہاں کے مسائل کی ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔  چنانچہ یہاں کے دانش مند، انسان دوست، سلیم الفطرت لوگوں کے باہمی تعاون اور معاہداتی طریقوں سے اگر ہم ملکی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہوں گے تو اس طرح امید ہے کہ مدعو قوم داعی قوم کو اپنا ہمدرد و خیرخواہ سمجھنے لگے۔  جیسے کہ مشرکین مکہ نبیؐ کو امین و صادق اور یتیموں اور بے کسوں کا ہمدرد سمجھتے تھے۔  اس کے ساتھ ساتھ داعی قوم اپنے اخلاق و کردار کا سکہ مدعو قوم کے دلوں پر بٹھا دے اس طرح کہ وہ انہیں اخلاق و کردار اور انسانی ہمدردوں میں سب سے افضل و اعلیٰ سمجھنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور دعوت کے کام کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔

ملک کے دیگر طبقات سے ربط و تعلق

دلت، پسماندہ طبقات و قبائل اور اقلیتوں کے دل جیتنے کے لیے ہمیں ان سے گہرے برادرانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔  ہم خود کو ان کا خیرخواہ باور کرائیں اور انہیں بتائیں کہ قرآن میں اُن کا  ذکر بطور مستضعفین کیا گیا ہے اور ان کی مدد کے لیے کہا گیا ہے۔  قرآن دبے کچلے طبقات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔  اسلام میں ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلومین کی مدد کرنے کا حکم ہے۔  مثلاً:  سورۃ النساء۔   آیت 75۔    ترجمہ :

’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔  ‘‘

اسوۂ رسول اللہؐ میں حلف الفضول سے بھی ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کمزوروں اور بے بسوں کی مدد کی جائے۔  اگر ہم اپنے ملک کے پسماندہ اور دلت طبقات پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے اور انہیں روکنے کی عملی کوششیں کرتے ہیں تو ان شاء اللہ اس کے ذریعے ہماری دعوت کو قبولیت حاصل ہوگی۔

ہندو مذہب میں ذات پات اور اونچ نیچ کی جو گہری اور مضبوط تقسیم ہے اس سے ہماری کماحقہٗ واقفیت ضروری ہے بعض اوقات ہماری ناواقفیت سے دعوتی کام میں فائدے کی بجائے نقصان ہوجاتا ہے۔  مثلاً نچلی ذاتیں اور قبیلے اپنے کو ہندو کہنا پسند نہیں کرتیں۔  وہ خود کو  OBC ،  ST،  SC  کہتے ہیں۔  انہیں کوئی ہندو کہے تو چڑ جاتے ہیں۔  ہمارے بیشتر مقررین دلتوں کے مجموعے میں بھی ہندو مسلم بھائی بھائی قسم کی باتیں کرتے ہیں جو بالکل نامناسب ہے۔  یہاں کی دیگر اقلیتوں سکھ، بودھ، جین، عیسائی وغیرہ کے ساتھ بھی ہمارا رویہ بہی خواہانہ اور برادرانہ ہونا چاہیے۔  ان کے مذاہب کی ضروری معلومات بھی ہمیں ہونی چاہیے تاکہ کلمہ سوا کے طریقے کے مطابق ہم انہیں مخاطب اور متاثر کرسکیں۔

’’اے نبیﷺ ! کہو:  اے اہل کتاب !  آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔  یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ ‘‘(آل عمران۔   آیت 64۔    ترجمہ)

جین مت میں مرنے کے بعد نیکی اور بدی پر عذاب و ثواب کا تصور موجود ہے۔  عیسائیوں سے حضرت مریم کے  تذکرے اور جناب عیسیٰؑ کی نبوت کے متعلق  بائبل کے تذکار کے ذریعے  گفتگو اور دعوت کے راستے نکالے جاسکتے ہیں۔  اقلیتوں کے جان و مال اور اُن کے دستوری حقوق کا تحفظ کرنے میں باہمی تعاون بھی ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔  اس کام میں صرف زبانی ہمدردی ظاہر کرنے کی بجائے مظاہروں اور احتجاجات میں شرکت، متاثرین کی مالی اور قانونی امداد وغیرہ کی عملی صورتیں اختیار کرنے سے بہتر نتائج اور اثرات برآمد ہوسکتے ہیں۔

مذہب بیزاری، سائنسی ترقی، نئے نظریات، جدیدیت، مادہ پرستی، گلوبلائزیشن :

ہمارا ملک تیزی سے ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہورہا ہے۔  سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے یہاں بڑی اور دور رس تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔  TV، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک بستی میں تبدیل کردیا ہے۔  اب دنیا بھر کے جدید نظریات و رجحانات بڑی تیزی اور آسانی سے گائوں، دیہاتوں کے عوام تک پہنچ رہے ہیں، بلکہ مغربی اقوام تو ان جدید ذرائع کے ذریعے دنیا پر تہذیبی یلغار کررہی ہیں۔  لوگ دیہی اور سادہ زندگی کو ترک کرکے اب شہری زندگی کی طرف بشوق بڑھ رہے ہیں۔  شہری زندگی کا ایک منفی پہلو مادّہ پرستی کا رجحان بھی ہے جس کی وجہ سے کئی اخلاقی خرابیاں شہری سماج میں پیدا ہوئی ہیں۔  یہاں بھی یہ ساری خرابیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔  پرانی اخلاقی قدروں کا زوال، خود غرضی، والدین کے حقوق سے چشم پوشی ، رشتوں کی پامالی، عیش پرستی، مائکرو خاندان، تخفیف اولاد، مادّہ پرستی، صارفیت، حلال و حرام کی تمیز اُٹھ جانا، کرپشن ، جرائم ، عریانیت و فحاشی وغیرہ سائنسی ترقی، مادّہ پرستی اور گلوبلائزیشن کے نتائج بد ہیں۔

شہروں میں رہنے والے اندھا دھند ان قبائح میں مبتلا ہورہے ہیں۔  ان برُے اخلاق کے دیگر بُرے نتائج نئی نئی جسمانی اور جنسی بیماریوں کی شکل میں برآمد ہورہے ہیں۔  اس پر مستزاد بے روزگاری ہے جو گلوبلائزیشن اور MNC کلچر کا لازمی نتیجہ ہے۔  قرآن کی اخلاقی تعلیمات اور اس کا معاشی نظام آج کے پریشان حال انسان کی بڑی ضرورت بن جاتے ہیں۔  اس کے دکھوں کا مداوا اور امراض کا علاج اسلام کے پاس موجود ہے اس لیے صرف توحید ورسالت اور آخرت کے پیغام تک اپنی دعوت محدود رکھنے کی بجائے درج ذیل عملی صورتیں اختیار کی جانی چاہئیں:

(1)والدین کے حقوق، اولاد کے حقوق، رشتے داروں کے حقوق اور خاندان کی اہمیت پر جدید انداز کے لیکچر اور CDشو وغیرہ۔

(2)بیروزگاروں ، مقروض افراد (خصوصاً کسانوں) کی مالی مدد بیت المال / انفرادی / حکومتی اسکیموں سے۔

(3)قتل اولاد، دختر کُشی وغیرہ کے خلاف عملی اقدامات مثلاً پریس کانفرنس ، مظاہرے ، دھرنے کرنا، میمورنڈم دینا، Clinics جہاں غیر قانونی طور پر جنس کی تحقیقات ہوتی ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائیاں کرنا۔

(4)عریانیت اور فحاشی کے خلاف درج بالا منظم کوششیں اور قانونی کارروائیاں مثلاً FIR درج کرانا اور PIL داخل کرنا وغیرہ۔

(5)غیر سودی بینکنگ نظام قائم کرنے کی موثر جدوجہد کرنا۔  عبوری دور میں بلاسودی سوسائٹیاں قائم کرکے غریبوں اور چھوٹے تاجروں کو سودی استحصال سے بچانا۔  انفرادی طور پر یا بیت المال سے لوگوں کو اعانت / قرض فراہم کرنا۔

(6)گلوبلائزیشن ، MNCs کے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو واقف کرانا۔

(7)اس طرح کے کام کرنے والے NGOs کے تعاون سے مضبوط حزب اختلاف قائم کرنا۔

نئے لٹریچر کی تیاری:

گلوبلائزیشن، سائنسی ترقی، جدید تعلیم اور انٹرنیٹ نے پرانے مذاہب اور تہذیبوں کو تقریباً مٹا دیا ہے۔  حقوق انسانی اور مرد و زون کے مساوات کے فلسفے عام ہونے اور ان کے بُرے بھلے پہلوئوں کی عوام کو تمیز نہ ہونے سے ماحول بے حد المناک ہوگیا ہے۔  نئی نسل جس تیزی سے مغربی تہذیب کی دلدادہ ہو رہی ہے اسی سرعت سے وہ اخلاقی پستی میں مبتلا ہوکر تباہی کے گڑھے میں گر رہی ہے۔  مذہب بیزاری جلتی پر تیل کا کام کررہی ہے۔  اس خطرناک صورتحال کا مقابلہ پرانے علم کلام اور پرانے لٹریچر سے نہیں کیا جاسکتا۔  جماعت کے دعوتی لٹریچر میں بے شک توحید رسالت اور آخرت کے پراثر دلائل ہیں، شرک و کفر کا مدلل ابطال ہے، کمیونزم، سوشلزم اور سرمایہ داری کا موثر توڑ ہے لیکن ہمارے پاس وہ لٹریچر نہیں جو مذہب بے زاری، الحاد اور مادّہ پرستی کا مدلل رد کرکے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کرسکے۔

ہم وطنوں کے ذہنوں کو مطمئن کرنے کے لیے ہمارے پاس جدید سائنٹفک انداز میں لکھا ہوا لٹریچر ہونا چاہیے جو جدید سوالوں کے اطمینان بخش جواب دیتا ہو۔  مثلاً لوگ ہم سے پوچھتے ہیں تم جمہوری سیکولر ملک میں اپنے لیے برابر کے حقوق مانگتے ہو۔  اسلامی ریاست میں دیگر اقلیتوں کو یہی حقوق دو گے یا نہیں؟

ہم جنسی اور دیگر برائیاں کرنے کو لوگ گناہ کے بجائے اپنا حق تسلیم کرتے ہیں۔  اس کو کیوں منع کیا گیا ہے؟ اس کا مدلل سائنٹفک جواب ہونا چاہیے۔   عدالتیں اسی انداز میں فیصلے کررہی ہیں۔  لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ یہ ان کا حق نہیں ہے؟  ایسے سینکڑوں سوالات ہیں جو آج تکثیری سماج میں داعیوں کے سامنے منھ کھولے کھڑے ہیں لیکن ان کے پاس اطمینان بخش جواب ندارد ہیں۔  چنانچہ اس قسم کے نئے لٹریچر کی شدید ضرورت ہے۔

آخری بات:

نبیؐ کی سیرت میں ہمیں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ آپؐ نے مکی دور کے ابتدائی زمانے میں ہی بعض لوگوں کو اسلام کی ’’راست دعوت‘‘ دی تھی۔  ان واقعات پر گہرائی کے ساتھ غور و تدبر کی ضرورت ہے۔  غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس طرح کی راست دعوت آپؐ نے ان لوگوں کو دی

٭جو آپؐ کے بہت قریبی احباب اور اعزہ تھے۔

٭ وہ سلیم الفطرت لوگ جو آپؐ کے پاس آکر اسلام کے متعلق سوالات کرتے تھے اور نبیؐ کو یقین ہوتا تھا کہ یہ لوگ اس دعوت سے بدکیں گے نہیں۔

پس آج کے حالات میں بھی ’’راست دعوت‘‘ اپنے ان بے تکلف غیر مسلم دوستوں اور ساتھیوں کو دی جاسکتی ہے جن کے بارے میں ہمیں یقین ہو کہ وہ ہماری دعوت سے بدکیں گے نہیں۔  یا پھر ایسے لوگوں کو جو اس قسم کے سوالات کریں کہ جن کے جواب میں ’’راست دعوت‘‘ دی جاسکتی ہو۔  یا تعلیم یافتہ سلیم الفطرت لوگوں کے سامنے جو مسلمانوں کے حق تبلیغ کو صدق دل سے تسلیم کریں یا پھر ان مدعوئین کو تدریجاً جنہیں اخلاقی اصولوں کی اہمیت سے واقف کراتے ہوئے توحید، رسالت ،آخرت کی تلقین  سے گزر کر شرک کی تردید کے مرحلے تک آچکے ہوں۔   یہاں تک کہ وہ کفر اور اپنے شرکیہ عقائد کے خلاف کہی جانے والی بات پر غور و فکر کرنے لگ جائیں۔

جولائی 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau