تمکین و ترقی کی جدوجہد کا عملی خاکہ

سید سعادت اللہ حسینی

اشارات کے ان صفحات میں ہندوستان میں امت مسلمہ کی تمکین و ترقی کے موضوع کو دسمبر 2022سے زیر بحث لایا جارہا ہے اور اب تک نو قسطوں میں اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ان مباحث میں تمکین و ترقی کے لیے درکار تمام ضروری امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی، بنیادی اور اصولی رہ نمائی کے لیے قرآن و سنت کو مرجع بنایا گیا اور ان کی روشنی میں جدید سماجیاتی تحقیقات سے بھی استفادہ کیا گیا،قدیم اسلامی مصادر اور علمائے سلف کے ملفوظات کو بھی پیش نظر رکھا گیا اور امت مسلمہ کے موجودہ احوال سے متعلق جو کچھ معلومات، اعداد و شمار یا موضوعی مشاہدات دستیاب ہیں، ان سے بھی ممکنہ حد تک فائدہ اٹھایا گیا۔ اس بحث کو مکمل کرتے ہوئےاِس سلسلے کے اِس آخری مضمون میں امت کی تمکین و ترقی کا ایک عملی پروگرام تجویز کیا گیاہے۔ اس پروگرام کے تمام ہی اجزا کی تفصیلات، ان کی ضرورت اور تمکین و ترقی کے لیے ان کی ناگزیریت سے متعلق ضروری دلائل اور ان اجزا کے نظریاتی پہلو گذشتہ قسطوں میں تفصیل سے زیر بحث آچکے ہیں۔ درج ذیل تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلم ملت کی تمکین و ترقی کا مکمل ہمہ جہت عملی پروگرام بیک نگاہ سامنے لایاجائے۔

گذشتہ مباحث کا خلاصہ

عملی پروگرام تجویز کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اب تک کے مباحث کا مختصر خلاصہ پیش نظر رہے۔

  1. قوموں کی تیز رفتار ترقی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب ان کے سامنے کوئی بڑا چیلنج یا مشکل درپیش ہوتی ہے اور اس چیلنج کا وہ مناسب اور درست ریسپانس دیتے ہیں۔ اس لیے موجودہ حالات ہندوستانی مسلمانوں کے لیے تمکین و ترقی کے ایک زبردست بریک تھرو اور عروج و سربلندی کے ایک تیزرفتار دور کو مہمیز کرنےکا نادر موقع فراہم کرتے ہیں۔
  2. امت مسلمہ کی ترقی (empowerment)کے لیے عام طور پر تعلیم اورسرکاری نوکریوں وغیرہ پر توجہ دی جاتی ہے۔ یہ کافی نہیں ہےبلکہ اصل ضرورت محرکات کو مضبوط بنانے کی ہے۔ انفرادی مادی مفادات افراد کے لیے تو ترقی کا محرک بن سکتے ہیں لیکن پوری امت کی ترقی کے لیے محرک نہیں بن سکتے۔
  3. اجتماعی قوتیں اور اجتماعی کم زوریاں جماعتوں یا گروہوں کے احوال پر لازماً اثر انداز ہوتی ہیں۔ جب تک سماجی گروہوں کے اجتماعی احوال کو درست نہ کیا جائے، اس وقت تک پوری قوم یا پورے گروہ کی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔اس لیے ترقی کے لیے صرف افراد پر توجہ کافی نہیں ہے بلکہ امت کے اجتماعی احوال کو درست کرنا بھی ضروری ہے۔جس طرح ایک بیج اپنی نمو کے لیے بہتر ماحول، زمین اور آب و ہوا چاہتا ہے اور اگر یہ میسر نہ ہو تو مرجھا جاتا ہے اسی طرح انسانوں کی ترقی، امپاورمنٹ اور آگے بڑھنے کے لیے ایک اچھی ترقی یافتہ کمیونٹی ضروری ہے۔
  4. تمکین و ترقی کا سب سے اہم محرک اجتماعی نصب العین ہوتا ہے۔ مسلمانان ہند کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کے پاس اپنی ذمے داریوں، اپنے فرض منصبی اور اپنے وژن و مقصد کے سلسلے میں ایک مشترک تصور (shared vision)موجود ہو۔ یہ مشترک تصور پوری ملت کو باندھ کر رکھے۔ اس تصور کی اساس اسلام کے اصول ہوں۔
  5. تمکین و ترقی کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ مسلمان، اپنی خیر امت (انسانوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والی، یعنی نافع امت) اور امت وسط (عدل کی خاطر جہدجہد کرنے والا گروہ) کی حیثیتوں سے شعور اور جذبے کی سطح پر گہرا تعلق استوار کریں اور امت میں سب کے خواب، تمنائیں اور آرزوئیں اس سے ہم آہنگ ہوجائیں۔
  6. نظریاتی قوت (ideological power) تمکین و ترقی کی ایک نہایت اہم ضرورت اور اس کی مظہر ہے۔ یہ دیگر سماجوں کے خیالات اور خواہشات پر اس طرح اثر انداز ہونے کی صلاحیت ہے کہ وہ بھی وہی چاہنے لگیں جو آپ چاہتے ہیں۔
  7. اس وقت کے عالمی و ملکی حالات اسلام کی نظریاتی قوت کے بروئے کار آنے کے لیے بہت سازگار حالات ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان اس لیے اس قوت سے محروم ہیں کہ ملک میں جاری ان کی کوششوں میں اسلام کی خاطر نظریاتی جد وجہد کا عنصر بہت کم زور اور دبا ہوا ہے۔ اس پر ان کے درمیان ہمہ گیر اتفاق کی کمی ہے نیز ان کے اندر ابلاغ کی صلاحیت اور ابلاغ کے ذرائع پر قدرت کی بھی شدید کمی ہے۔
  8. علم (knowledge) اور تمکین و ترقی اور سیاست و قیادت کے درمیان ہمیشہ گہرا رشتہ رہا ہے لیکن علم کے دھماکے کے ہمارے زمانے میں یہ تعلق بہت گہرا اور مضبوط ہوگیا ہے۔اب ایک علمی سماج ہی ترقی یافتہ سماج ہوسکتا ہے۔ اس لیے تمکین و ترقی کے لیے علم اور اس کی طاقت کا حصول ناگزیر ہے۔
  9. علمی قوت اور علم محض ڈگریوں، نوکریوں یا پیشوں کا نام نہیں ہے۔ علمی قوت اصلاً علمی مزاج، علمی ماحول اور علم کے اطلاق کا نام ہے۔ صرف ملازمت اور پیشے کی جگہ پر اپنی تعلیم کا استعمال، آدمی کو صاحب علم نہیں بلکہ معیشت کے کارخانے کی بے جان مشین بنادیتا ہے۔ علم اس وقت قوت بنتا ہے جب افراد کا مزاج علمی ہو، زندگی کے تمام معاملات کو علم و تحقیق کی روشنی میسر ہو، زندگی بھر سیکھنے اور نئے علوم سے استفادے کا مزاج عام ہو،سماج کا مجموعی ماحول علمی ہو، تمام انفرادی و اجتماعی امور میں فیصلہ سازی علم و تحقیق کی اساس پر اور متعلق اہل علم و اہل تخصص کے مشوروں کی روشنی میں ہو۔
  10. قوموں کی طاقت و قوت اور اثر انگیزی میں ان کی اقتصادی ترقی کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ معاشی قوت مجموعی طور پر سماجی و سیاسی اثر و رسوخ بڑھاتی ہے۔معاشی پسماندگی نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی کم زوری کا بلکہ ان کی موجودہ ستم پذیری (vulnerability) کا بھی ایک اہم سبب ہے۔ اس لیے تمکین و ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔جو زور اور توجہ تعلیم کے فروغ پر دی جارہی ہے ویسی ہی توجہ معاشی ترقی پر بھی دینے کی ضرورت ہے۔
  11. معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ معاشی سوچ کی ریفریمنگ کی جائے اور اُس معاشی نفسیات کو فروغ دیا جائے جو اسلام کی تعلیمات سے معلوم ہوتی ہے۔ معاشی جدوجہد کے اسلامی مقاصد چہارگانہ ) مال کی حفاظت و نمو، تکافل اجتماعی اور اتفاق باہمی، عدل و قسط، اور تمدن کی تعمیر وترقی یا خلافت ارضی کے فریضے کی ادائیگی( کے شعور کو عام کیا جائے۔
  12. معاشی ترقی کے لیے اعلیٰ تعلیم کا پھیلاؤ، معاشی و مالیاتی شعور اور مالیاتی خواندگی کا فروغ، انٹرپرنرشپ اور تجارت و صنعت کی ترقی، اسلام کی معاشی قدروں کی ترویج اور نظام زکوۃ، نظام وراثت اور نظام وقف کا استحکام اہم ضرورتیں ہیں جن پر منصوبہ بند توجہ کی ضرورت ہے۔
  13. تمکین وترقی کے لیے درکار ایک اہم قوت تہذیبی قوت ہے۔ تہذیبی قوت اُس سماجی اثر کا نام ہے جس کے نتیجے میں حقائق و واقعات کے سلسلے میں لوگوں کی سوچ اور ان کے رویوں کو متاثر کیا جاتا ہے اور ان کے اعمال و اقدامات کو جبر اور لالچ سے کام لیے بغیر مطلوب رخ دیا جاتا ہے۔
  14. تہذیبی قوت کو کارفرما بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تہذیبی بنیادوں سے مسلمانوں کا رشتہ مستحکم ہو اور ابلاغ کے ذرائع، ادب، آرٹ، شاعری، فنون لطیفہ، میڈیا، سوشل میڈیا وغیرہ پر قدرت بڑھانے کی بھی سعی کی جائے۔ یہ ضروری ہے کہ ہمارے مخصوص تہذیبی اثاثے ترقی کریں۔ تہذیبی خود اعتمادی بڑھے۔ غلامی پذیری یعنی غلامانہ ذہنیت ختم ہو۔ تہذیبی ورثہ نمایاں ہو۔ وہ نئی نسلوں کو منتقل ہو۔ دوسرے تہذیبی گروہوں سے تعلق بڑھے اور ان پر اثر اندازی ہو۔ذہنی و فکری جمود دور ہو اور تہذیبی و ثقافتی تخلیقی عمل کی تحریک زور پکڑے۔
  15. تمکین و ترقی کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کی ایک اہم ضرورت تعلقاتی قوت(network power)ہے۔اس سے وہ تعلقات اور روابط مراد ہیں جو مسلمان شہری ملک کے دوسرے فرقوں اور ان کے افراد سے اور ملک کے مجموعی سماج سے رکھتے ہیں اور جس کے نتیجے میں سماج کے مختلف طبقات اور گروہوں کے اندر موجود امکانات، علوم و معلومات، تجربات اور وسائل سے اپنی بہتری اور ترقی کے لیے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
  16. تعلقاتی قوت کے لیے متعدد محاذوں پر کام کرنے اور رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو نہ رہائشی جغرافیائی گھیتوؤں میں قید ہونے دیا جائے اور نہ ذہنی، تمدنی اور سماجی لحاظ سے الگ تھلگ ہونے دیا جائے بلکہ فاصلہ پسندی کے رجحانات کی ممکنہ حد تک حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ آؤٹ ریچ اور مستحکم سماجی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔
  17. ترقی و تمکین کا اہم ترین عامل اخلاقی قوت ہے۔ اخلاقی قوت کا تعلق اجتماعی اخلاق سے ہے۔ ہر قوم کی کچھ مرکزی قدریں (core values)ہوتی ہیں جن پر رواج و عمل کا ہمہ گیر اتفاق پایا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ قدریں اس کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
  18. ہندوستانی مسلمانوں میں مرکزی قدروں کا نظام بہت کم زور ہے اور یہ ان کی کم زوری کے اہم اسباب میں سے ہے۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور ان کی مکمل اطاعت، صبر و شکر، توکل اور ضبط نفس، اندرونی وبیرونی طہارت، اعتدال و توازن،جہاد یعنی جہد مسلسل اور محنت و مشقت اور عدل و قسط یہ اسلام کی چھ مرکزی قدریں ہیں۔ ان قدروں پر وسیع عملی اتفاق پیدا کرنا اہم ترجیح ہے جو تمکین و ترقی کی بھی اہم ضرورت ہے۔

الف) علمی تحقیقات

عملی پروگرام کا ایک بڑ ااہم حصہ علمی تحقیقات سے متعلق ہے۔مسلمانوں کی تمکین و ترقی کا ایک مکمل اور مبسوط منصوبہ، تحقیق و ریسرچ کی مسلسل کمک کے بغیر نہ صحیح طور پر تشکیل پاسکتا ہے، نہ اس کا درست نفاذ ہوسکتا ہے اور نہ اس کے لیے کوششیں ثمر آور اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلہ مضامین میں بھی مصنف کو جگہ جگہ ٹھوس مطالعات، معلومات اوراعداد و شمار وغیرہ کی عدم دستیابی کا شدت سے احساس ہوتا رہاہے۔ اس لیے ترقیاتی پروگرام کا پہلا جزو ہمارے نزدیک علمی تحقیقات ہی ہے۔ ہم ذیل میں کچھ اہم موضوعات اور سوالات کا ذکر کررہے ہیں جن پر ہمارے خیال میں مسلسل ٹھوس مطالعات درکار ہیں۔

  1. ہندوستانی مسلمانوں میں سوچ و فکر کے مختلف دھارے، اپنی اجتماعی حیثیت، شناخت (identity)اور اجتماعی مقصد (mission of the community) سے متعلق ان کے درمیان موجود تصورات
  2. ہندوستانی مسلمانوں کا سماجی سرمایہ (social capital) ارتباطی سماجی سرمایہ (bonding social capital)اور تجسیری سماجی سرمایہ (bridging social capital)
  3. اسلام سے مسلمانوں کی نظریاتی و فکری وابستگی کی عملی صورت حال، اسلامی فکر کے سلسلے میں استقلال کے حوالے سے مختلف درجے اور مسلم آبادی میں ان کا تناسب
  4. ملک میں مسلمانوں کی شناخت، نسلی وقومی ہے یانظریاتی و فکری ہے؟ اگر دونوں کا امتزاج ہے تو اس میں کس کا تناسب کتنا ہے؟مسلمان کس حد تک ایک نظام فکر اور ملک کے لیے ایک منفرد سولوشن کے علم بردار کے طور پر جانے جاتے ہیں؟
  5. ملک کے عوام میں اسلام کے ابلاغ کی صورت حال، مثبت تعارف اور منفی شبیہ کی صورت حال، اسلام کے سلسلے میں رائج بیانیوں کا جائزہ، بہتر بیانیہ عام کرنے میں ناکامی کے اسباب۔
  6. ہندوستان کےا حوال میں اسلام کے سلسلے میں موثر بیانیوں کی تشکیل، یہاں کے لیے مخصوص زبان، تصورات اور بحث کے نکات کی تعیین، ملک میں موجود اور فروغ پذیر افکار وخیالات اور ان کے مناسب اسلامی ریسپانس کی تشکیل،ہندوستانی افکار اور فلسفوں کا مطالعہ، موجودہ سیاسی و نظریاتی احوال کے پس منظر میں یہاں کے ذہن کا فہم اور اس کے تناظر میں بیانیوں کی تشکیل۔
  7. ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی و علمی صورت حال، تحقیق و ریسرچ میں ان کا کنٹری بیوشن، زندگی بھر سیکھتے رہنے (lifelong learning)کے حوالے سے ان کے پڑھے لکھے افراد کی عملی صورت حال، علمی مزاج اور علم کے عملی زندگی میں استعمال و اطلاق سے متعلق عملی صورت حال۔
  8. پڑھے لکھے لوگوں میں علمی مزاج کی صورت حال، اٹکلوں اور افواہوں پر یقین، ٹوٹکوں اور عطائیوں پر غیر متوازن بھروسا، بے بنیاد علوم (pseudosciences) اورنامعقول سازشی نظریات کے چلن کے اعتبار سے عملی صورت حال، معاصر سماجوں سے ان کا تقابل۔
  9. پڑھے لکھے لوگوں، قائدین، دانش وروں وغیرہ میں ٹکنالوجی کی خواندگی(technology literacy)کی صورت حال، ذاتی اور اجتماعی فیصلوں میں ماہرین سے مشاورت اور ان کے مشوروں کو اہمیت دینے کی عملی صورت حال۔
  10. مسلم معاشرے میں علمی آزادی، اظہار خیال اور اظہار رائے کی آزادی کی عملی صورت حال، اہل علم خود کو اپنی آرا کے آزادانہ اظہار میں کس حد تک آزاد متصور کرتے ہیں اور سماج کا نامناسب دباؤ کتنا محسوس کرتے ہیں؟
  11. رویہ شناس معاشیات (behavioural economics)کے اصولوں کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی نفسیات کا جائزہ، ان نفسیاتی عوامل کی تشخیص جو معاشی ترقی میں رکاوٹ ہیں،انٹرپرنرشپ اور معاشی جدوجہد کے محرکات کی صورت حال اور زوال کے اسباب، مسلم تجارتوں، چھوٹی صنعتوں اورکاریگروں کا اس پہلو سے خصوصی جائزہ۔
  12. مالیاتی خواندگی کے اعتبار سے ہندوستانی مسلمانوں کی صورت حال، پڑھے لکھے لوگوں میں بچت، سرمایہ کاری، تمویل، نمو، مال کے بہتر استعمال، مالیاتی منصوبہ بندی، اخراجات کی ترجیحات اور ان میں توازن اور منصوبہ بندی وغیرہ کی صورت حال، مالی و معاشی امور سے متعلق ضروری معلومات کی صورت حال۔
  13. زکوۃ کی مکمل اسٹڈٰی (کتنی زکوۃ نکلنی چاہیے؟ کتنی عملاً نکل رہی ہے؟ کن مدات میں کس تناسب سے خرچ ہورہی ہے؟ اس کا سماجی فائدہ کتنا ہے؟ ) اور اس کے مجموعی نظام کو بہتر بنانے سے متعلق اصلاحی تجاویز۔
  14. نظام وراثت سے تعلق کی عملی صورت حال، کتنے فیصد خاندانوں میں شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم ہوتی ہے؟ غیر روایتی حصہ داروں (خواتین، بوڑھے ورثا) کو ان کا جائز حق دینے کی عملی صورت حال، خصوصاً دین دار حلقوں میں اور خصوصاً زرعی زمینوں اور خاندانی تجارتو ں میں۔
  15. نظام وقف کی صورت حال، اس کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کمیونٹی کی کوششوں کا جائزہ، بہتر بنانے کی وہ تدابیر جو موجودہ احوال میں کمیونٹی اختیار کرسکتی ہے۔
  16. مالیاتی و معاشی قدروں، اسلامی معاشی و مالیاتی اخلاقیات اور معاش سے متعلق اسلامی فقہ کے احکام سے تعلق کی عملی صورت حال۔علم و شعور کتنا ہے اور عمل کتناہے؟ خوبیاں، خرابیاں۔
  17. اشتراک باہمی کے مختلف طریقوں کی عملی صورت حال، خصوصا خاندانی زراعتوں اور خاندانی تجارتوں میں باہم اشتراک، معاصر سماجوں سے ان کا تقابل، کم زوری کے اسباب اور بہتر بنانے کی تدابیر، ان نفسیاتی عوامل کا جائزہ جن کی وجہ سے شراکت داریاں دیرپا ثابت نہیں ہوپاتیں۔
  18. ہندوستانی مسلمانوں کے تہذیبی اثاثوں، تہذیبی قوتوں اور تہذیبی کم زوریوں پر مکمل و مبسوط مطالعہ، ان تہذیبی اثاثوں کی نشان دہی جن کے فروغ اور احیا کے بھرپور امکانات موجودہ حالات میں پائے جاتے ہیں اور جو تہذیبی قوت فراہم کرسکتے ہیں۔ان کے احیا ء کے لیے ٹھوس تجاویز۔
  19. نئی نسل کو تہذیبی ورثے کی منتقلی کی صورت حال،عقیدہ و اقدار، زبان و ادب، طرز حیات اور رہن سہن، سماجی معمولات، وغیرہ کے سلسلے میں نئی نسل کا جائزہ اورخصوصاً تہذیب کے مثبت اور صالح عناصر کےسلسلے میں تہذیبی تسلسل (cultural continuity)کی کیفیت، اصلاح حال کے لیے تجاویز۔
  20. دین پسند حلقوں میں جمالیاتی اظہار کی کمی کے اسباب، فنون لطیفہ اور آرٹ سے کم زور تعلق کے اسباب اور ان کے تدارک کے سلسلے میں تجاویز۔
  21. جمالیاتی اظہار، فنون لطیفہ، آرٹ، فلم وغیرہ میں موجود فقہی رکاوٹیں، ان کے ازالے کی فقہی تدابیر، شریعت اسلامی کی دائرے میں جمالیاتی اظہار کے نئے اور اختراعی ذرائع اور طریقوں کی ایجاد
  22. مسلمانوں میں، ان کے قائدین اور اہل علم کی جانب سے رائج اُن بیانیوں کا جائزہ جو مسلمانوں میں تہذیبی خود اعتمادی کو ختم کرنے کا باعث بن رہے ہیں یا غلامی پذیری کی نفسیات کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں، خود ملامتی، کم زوریوں کے بیانیوں میں تعمیم (generalisation)، مبالغہ اور خوبیوں کے بیان میں بخل، احساس مظلومیت اور بے بسی کے احساس کی مبالغہ انگیز شدت اور اس طرح کے دیگر عوامل کی موجودگی یا عدم موجودگی کا جائزہ، تہذیبی خود اعتمادی کو مجروح کرنے میں ان کا کردار، اصلاح حال کی تجاویز۔
  23. مسلمانوں کے برادران وطن سے تعلقات کا جائزہ، رہائشی علاقوں میں فاصلہ پسندی، گھیتو، سلم، اور انکلیو کی طرف رجحان کا جائزہ، اسباب، خاص طور پر وہ اسباب جو کمیونٹی کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ رہائش کے علاوہ عام سماجی تعلقات میں فاصلہ پسندی کا رجحان، اس کی صورت حال، اثرات اور نقصانات کا جائزہ، خصوصا گذشتہ دس برسوں میں اس حوالے سے آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ، بہتر اور زیادہ فائدہ مند رویے سے متعلق تجاویز
  24. ہندوستانی مسلمانوں کی اخلاقی صورت حال، مرکزی اخلاقی قدروں اور سماجی معمولات کا جائزہ، اسلام کی اخلاقی ترجیحات سے ان کی مطابقت یا عدم مطابقت کا جائزہ
  25. ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی صورت حال، ان کی ہمہ گیر پسماندگی اور مرکزی اخلاقی قدروں اور سماجی معمولات سے ان کے تعلق کی اسٹڈٰی، اخلاقی اصلاح کی جاری کوششوں کا جائزہ، وہ کس حد تک مطلوب ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں؟ ان کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس تجاویز

ہمارے خیال میں ان 25موضوعات پر ٹھوس زمینی تحقیقی مطالعات، ہندوستانی مسلمانوں کی تمکین و ترقی کی اہم ضرورت ہیں۔ان میں سے ہر موضوع کی اہمیت اور تمکین و ترقی سے اس کے تعلق پر ہم اس سلسلے کے سابقہ مضامین میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں، اس لیے یہاں صرف ان کے تذکرے پر اکتفا کیا جارہا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے کاموں سے دل چسپی رکھنے والے افراد اور ادارے ریسرچ اور ڈاٹا کی ضرورت کو سمجھیں اور ان مطالعات کو بھی اپنی ترجیح میں شامل کریں۔ علمی و تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں ان موضوعات پر منصوبے بنائیں اور ان منصوبوں کی مالی سرپرستی کے لیے اہل خیر آگے آئیں۔

ب) بیداری، ذہن سازی اور رجحان سازی کی کوششیں

عملی پروگرام کا دوسرا حصہ بیداری، ذہن سازی اور رجحان سازی کی کوششوں سے متعلق ہے۔ تمکین و ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ امت کی اجتماعی سوچ، مزاج اور رویوں میں، خاص طور پر اس کے پڑھے لکھے متوسط طبقے (middle class)میں کچھ ٹھوس تبدیلیوں کی کوشش کی جائے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی مہمات اور تحریکات کی ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ امت کے قائدین، علما و دانش وران اور دیگر ذی اثر افراد اپنی تقریروں، تحریروں، بیانات اور عملی اقدامات کے ذریعے اس رخ پر تبدیلی کی مسلسل کوشش کریں۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت، اس کی ذہن سازی، مزاج سازی اور رجحان سازی میں ان نکات کا خیال رکھا جائے۔ انھیں ان کی تعلیم و تربیت کے پروگرام کا جزو اور اس کے مقاصد میں شامل کیا جائے۔ نئی نسل کی ان حوالوں سے ذہن سازی کے لیے خصوصی پروگرام کیے جائیں۔ رسالوں، مضامین اور سوشل میڈیا میں ان کو مسلسل زیر بحث لایا جائے۔

اب تک کے مباحث کی روشنی میں، ہمارے خیال میں درج ذیل نکات کے حوالوں سے تبدیلی مطلوب ہے۔ہم مثبت رجحانات کا بھی ذکر کررہے ہیں جنھیں عام کرنے کی ضرورت ہے اوراُن منفی رجحانات کا بھی ذکر کررہے ہیں جن کی بیخ کنی درکار ہے۔ان میں سے ہر ایک کی اہمیت اور تمکین و ترقی سے ان کے تعلق پر تفصیلی مدلل مباحث اس سلسلے کے سابقہ مضامین میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔

 ج) ادارہ سازی اور اجتماعی کوششیں

عملی پروگرام کاتیسرا حصہ ادارہ سازی سے متعلق ہے۔مسلمانوں میں اپنی ترقی و تمکین کی طرف توجہ بڑھی تو تعلیمی اداروں کے قیام کی تحریک پیدا ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم تمکین و ترقی کی ایک اہم ضرورت ہے لیکن ہمارے خیال میں صرف تعلیمی اداروں کا وجود کافی نہیں ہے۔ تمکین و ترقی کے لیے اور بھی متعدد قسم کے اداروں کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے اس قسم کے متعدد اداروں کے قیام کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن وہ بہت کم ہیں۔ ضرورت ہے کہ ملت کے اہل خیر اور سرگرم و فعال لوگ ان اداروں کے قیام کی طرف متوجہ ہوں اور توازن کے ساتھ ان سب اداروں کے قیام کی کوششیں کی جائیں۔

  1. تحقیق و ریسرچ میں نوجوانوں کو آگے بڑھانے، رہ نمائی کرنے، مدد کرنے اور اسکالرشپ فراہم کرنے والے ادارے
  2. نئی نسل اور نوجوانوں کی ذہن سازی اور ان کی تعلیم کی خاطر ایسے ادارے جو نظام تعلیم کی کمیوں کا ازالہ کریں، ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں اور صحیح رجحانات کو عام کریں (فہرست اوپر درج کی گئی ہے)، اس کے لیے شارٹ ٹرم کورس، تعطیلاتی کورس، ایوننگ کورس وغیرہ کا فروغ
  3. مسلمانوں میں علمی مزاج اور علم و تحقیق پسندی کو عام کرنے کی تحریکات، توہمات و خرافات، بے بنیاد نظریات، افواہ پسندی، اعجوبہ پسندی، اسرار پسندی، سازشیت، بے بنیاد علومpseudoscience وغیرہ کے خلاف کام کرنے والی تحریکیں اور انجمنیں۔
  4. تھنک ٹینک، پالیسی ریسرچ کے ادارے اور مسلم جماعتوں اور اداروں کو فیصلہ سازی میں مدد کرنے والے ادارے۔
  5. مختلف صلاحیتوں کی ٹریننگ اور ان کو فروغ دینے والے ادارے، مسلمان علما، قائدین اور دانش وروں کی مسلسل ٹریننگ کے لیے مخصوص ادارے، خاص طور پر ٹکنالوجی کی مطلوب صلاحیتوں کی ٹریننگ کے مراکز۔
  6. انٹرپرنرشپ کو فروغ دینے اور صنعت و تجارت میں لوگوں کو آگے بڑھانے کی تحریک، رہ نمائی اور مدد کے ادارے،تجارتوں کو بہتر بنانے (revamp, rebuild, improvement)کے لیے کنسلٹنسی اور مدد کے مراکز۔
  7. مالیاتی خواندگی بڑھانے، مالیاتی شعور کو عام کرنے والے نیز مالی معاملات، سرمایہ کاری، انتظام ِ دولت (wealth management) وغیرہ کے سلسلے میں رہ نمائی فراہم کرنے کے لیے خصوصی تحریکات اور ادارے۔
  8. تجارت و صنعت سے متعلق اخبارات (pink paper) کا فروغ، اردو اخبارات میں صنعت و تجارت و مالیات کے صفحے کی اشاعت۔
  9. مختلف میدانوں میں پریشر گروپ، حکومتی ایجنسیوں پر عدل و انصاف کے لیے دباؤ بنائے رکھنے والے ادارے، سرکاری محکموں کی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے والے ادارے، قانونی جہد کاری کے ادارے۔
  10. وراثت کی درست اسلامی تقسیم، خاص طور پر زرعی زمینوں اور خاندانی تجارتوں میں ورثا خصوصاً خواتین کو ان کا جائز حق دلانے کی طاقتور تحریک، وراثت کی تقسیم میں مدد کرنے والے ادارے
  11. خاندانی تنازعات کو حل کرنے کے مراکز، کونسلنگ کے مراکز،عائلی معاملات سے متعلق کنسلٹنسی کی خدمات۔
  12. سرکاری اسکیمو ں کو عام کرنے اور ان کے فائدوں کی عام مسلمانوں تک رسائی کو یقینی بنانے والے مراکز، سرکاری اسکیموں کے سلسلے میں محکموں اور حکومت پر اثر انداز ہونے والے پریشر گروپ، تھنک ٹینک،لابی انگ اور ایڈوکیسی کے مراکز۔
  13. بچت کی حوصلہ افزائی کرنے والے اور بلاسودی قرضے فراہم کرنے والے کو آپریٹیو ادارے
  14. اجتماعی نظام زکوۃ، بستیوں اور شہروں کی سطح پر مسلمانوں کا مشترکہ نظام جس کے ذریعے ازالہ غربت کے ٹھوس منصوبوں پر کام کیا جاسکے۔
  15. اوقاف کے تحفظ کی تحریکیں اور ان کے موثر استعمال میں مدد کرنے والے پروفیشنل ادارے
  16. آرٹ اور کلچر کی این جی اوز، ادبی تحریکات،فنون لطیفہ کی ٹریننگ اور ان کے فروغ کے مراکز، فلموں کی تیاری کے مراکز۔
  17. اردو زبان اور مسلمانوں کے تہذیبی ورثے کو نئی نسلوں میں منتقل کرنے کے لیے خصوصی کورس چلانے والے ادارے۔
  18. برادران وطن سے تعلق و اشتراک کو فروغ دینے اور مختلف میدانوں میں مل جل کر کام کرنے کے لیے مختلف النوع ادارے مثلاً ماحولیاتی تحفظ کے ادارے، خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے مشترک کوششیں، وغیرہ۔
  19. مسلمانوں کے اداروں میں شفافیت اور صالح قدروں کے فروغ کے لیے، نیز قانون اور شرعی تقاضوں کے مطابق خود کو بہتر بنانے میں مدد دینے کے لیے واچ ڈاگ اور این جی اوز
  20. ڈائیلاگ اور ڈسکشن کے مراکزجو اسلام کے مثبت تعارف کا بھی ذریعہ بنیں اور درپیش تنازعات کا سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈ سکیں۔
  21. میڈیا سے متعلق مختلف النوع ادارے اور منصوبے،میڈیا نریٹیو کو ڈیولپ کرنے والے ادارے، انٹرا کمیونٹی کے بجائے انٹر کمیونٹی (intercommunity communication) کو فروغ دینے والے اخبارات، رسالے اور چینل (یعنی ایسا میڈیا جو مسلمانوں کی باتوں کو برادران وطن تک پہنچاسکے) میڈیا ماہرین کی ٹریننگ کرنے والے ادارے، مسلمان قائدین اور دانش وروں کو میڈیا رابطہ کی ٹریننگ دینے والے ادارے، میڈیا پر نظر رکھنے والے ادارے۔
  22. مسلم علاقوں میں صفائی و پاکیزگی کے فروغ، حفظان صحت، تحفظ ماحولیات وغیرہ کی تحریکیں، نوجوانوں کی انجمنیں اور این جی اوز۔
  23. مسلم سماج کے اندر عدل کے مختلف پہلوؤں کو فروغ دینے اور سماجی ناانصافیوں کی بیخ کنی کے لیے تحریکیں، نوجوانوں اور خواتین کی انجمنیں اور این جی اوز۔
  24. اسلام کی تعلیم کے مطابق اور اس کے دائرے میں خواتین کی سماجی فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے ان کے خصوصی ادارے اور این جی اوز۔
  25. فقہی تحقیق کے ایسے ادارے جو صرف حلال و حرام کے فتوے نہ دیں بلکہ درپیش جدید تمدنی مسائل کے سلسلے میں ٹھوس عملی رہ نمائی کرسکیں اور شریعت کے دائرے میں نئے سولوشن ڈھونڈ سکیں اور اختراعی اسلامی سولوشن تجویز کرسکیں۔

یہ کوئی مکمل فہرست نہیں ہے۔ اس میں اور بھی اضافے ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں کی کم زوری کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ان کے درمیان رضاکارانہ خدمات (volunteerism) اور جہد کاری (activism)جو کچھ موجود ہے وہ محض چند شعبوں میں محدود ہے۔ پہلے خالص’مذہبی’ سمجھے جانے والے امور تک یہ کوششیں محدود تھیں، اب سیاسی احتجاج اور تعلیم وغیرہ امور میں بھی کوششوں کا آغاز ہوا ہے۔ زندگی کے دیگر متنوع شعبوں میں جہد کاری اور سرگرمی کا فقدان ہے۔ ترقی و تمکین کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے مختلف میدانوں میں کام ہو۔

اوپر بیان کردہ اداروں میں سے اکثر تحریکیں اور ادارے رضاکارانہ (voluntary)اور غیر نفع بخش (non profit) بنیادوں پر ہی چلائے جاسکتے ہیں۔ مسلمانون کی بڑی تنظیموں کو ان کے قیام کی پہل کرنی چاہیے۔ (الحمد للہ جماعت اسلامی ہند نے ان میں سے اکثر محاذوں پر کام شروع کیا ہے) اس کے ساتھ علاقوں اور شہروں کی سطح پر، بلکہ محلے اور کالونی کی سطح پر بھی نوجوان آگے بڑھ کر ان میں سے اپنی پسند کے کاموں کو اپنے ذمے لے سکتے ہیں۔ بعض ادارے ایسے بھی ہیں جو کمرشیل بنیادوں پر بھی قائم کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ کچھ لوگ اپنی انٹرپرنرشپ کی صلاحیت کو امت کے لیے مفید کاموں کی خاطر استعمال کرنا چاہیں تو اس کا بھی امت کو فائدہ پہنچے گا اور اس کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ آج دنیا کے اکثر معاشروں میں سماجی انٹرپرنرشپ (social entrepreneurship) ایک معروف رجحان ہے جس میں باصلاحیت لوگ بجائے اپنی صلاحیتوں کو مارکیٹ کے حوالے کرنے کے، کسی اہم سماجی مقصد کو اپنا کیریر اور مالی منفعت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ مناسب اخلاقی حدود کے دائرے میں، اس رجحان کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔ (مثلاً ایک قابل ماہر نفسیات کے لیے ایک متبادل یہ ہے کہ وہ کسی کارپوریٹ ہاسپٹل کو اپنی صلاحیتیں فروخت کردے اور دوسرا متبادل یہ ہے کہ وہ ایک پروفیشنل فیملی کونسلنگ سینٹر کھولے جہاں اسلام کی تعلیمات اور سائیکولوجی کے مسلمہ اصولوں کے مطابق لوگوں کی عائلی الجھنوں کو فیس لے کر سلجھایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دوسرا متبادل امت کے لیے زیادہ مفید ہے اور ایسے کاموں کی امت کی جانب سے حوصلہ افزائی ہونی چاہیے)۔

اختتامیہ

یہ خاکہ تمکین و ترقی کا خاکہ ہے۔ اس میں وہی امور پیش نظر رکھے گئے ہیں جو مسلمانان ہند کی طویل المیعاد ہمہ جہت تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ دعوت دین، دینی بیداری وغیر ہ امور سے کہیں تعرض کیا بھی گیا ہے تو اسی حد تک کیا گیا ہے جس حد تک تمکین و ترقی کا مقصد متقاضی ہو۔ اسی طرح دفاع و تحفظ کے مسائل بھی اس خاکے میں زیر بحث نہیں ہیں۔ سیاسی قوت اور سیاسی مسائل بلاشبہ بہت اہم مسائل ہیں اور ان کا گہرا تعلق تمکین و ترقی سے بھی ہے۔ لیکن اس موضوع پر ہم تفصیل سے اپنی کتاب ‘ہندتو انتہاپسندی نظریاتی کشمکش اور مسلمان’ میں اظہار خیال کرچکے ہیں اس لیے ان کو یہاں زیر بحث نہیں لایا گیا ہے۔

اس خاکے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تمکین و ترقی کا عمل ایک ہمہ جہت اور وسیع الاطراف عمل ہے۔ اس کی اساس ان کا عقیدہ، ان کے دینی تصورات، اسلام کی روشنی میں ان کی شناخت اور ان کا مقصد حیات ہے۔

تمکین و ترقی کی موجودہ کوششوں میں دو بڑے نقائص ہیں۔ اول تو یہ کہ ان میں اصل اساس پر توجہ کم ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تمکین و ترقی بھی اسی طرح ہوگی جس طرح کسی اور سماج مثلاً دلت، آدیباسی یا امریکہ و افریقہ کے سیاہ فاموں کی ہوسکتی ہے۔ یہ نقطہ نظر ہمارے خیال میں سخت مغالطہ انگیز اور نقصان دہ ہے اور مسلمانوں کی تمکین و ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسرا بڑا نقص یہ ہے کہ یہ پروگرام بہت محدود اور سطحی ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا ہےکہ مسلمانوں میں جدید تعلیم عام ہوگی اور ڈاکٹر انجنینئر بنیں گے تو یہ ان کی تمکین کے لیے کافی ہوگا۔ یہ خیال بھی ہمارے نزدیک نقصان دہ مغالطہ ہے اور اس کا ناقص ہونا تجربات سے بھی ثابت ہوچکا ہے۔ اس سے افراد اور خاندانوں کے حالات تو بہتر ہوسکتے ہیں، امت کی تمکین و ترقی کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے۔

تمکین و ترقی کے لیے عام طور پر پسماندہ اور غریب مسلمانوں کو توجہات کا مرکز بنایا جاتا ہے۔ اس خاکے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خرابی کی اصل جڑ تعلیم یافتہ مسلم مڈل کلاس ہے۔ جب تک اس کے رویوں، مزاج اور رجحان میں تبدیلی نہیں آئے گی اس وقت تک تمکین و ترقی کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔

اس خاکے پر اور اس پوری بحث پر قارئین کے تبصروں، تنقیدوں اور اضافے کی تجویزوں کا انتظار ہے۔

اپریل 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau