تحقیق پسندی کا فروغ

انصاف پر قائم معاشرے کی بنیادی ضرورت

(جس طرح معاشرے کی صالح قدروں اور اچھی روایات کی نگہبانی  اہل حق پر فرض ہے، اسی طرح قابل تقلید عملی نمونوں (role models)کی حفاظت بھی اہل حق پر فرض ہے۔ ایک اصولوں کی حفاظت ہے تو دوسری عملی حکمت کی حفاظت ہے اور دونوں ہی خیر کی ترویج میں یکساں ضروری ہیں۔)

قرآن مجید انصاف پر مبنی معاشرے کی تعمیر میں تحقیق پسندی کو انصاف کی بنیادی ضرورت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یٰۤاَیهَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ ۢ بِنَبَاٍ فَتَبَینُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًا ۢ بِجَهَالَةٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ (سورة الحجرات:6)

(اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔)

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے ایک جامع دعا سکھائی جس سے علم پر مبنی رویے کی اہمیت اور زیادہ اجاگر ہوتی ہے۔

اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَأَلْهِمْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا، وَأَلْهِمْنَا اجْتِنَابَهُ‘‘. (شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهین (1 / 36)

(اے اللّٰہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کے اتباع کی توفیق دے اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے۔ )

جس طرح عمل کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح انصاف کے قیام کے لیے صحیح علم اور صحیح معلومات کا ہونا ناگزیر ہے۔

تحقیق پسند ذہن (research-based mindset) کی ضرورت ہر زمانہ میں مسلم رہی ہے، لیکن ہم جس زمانہ میں رہ رہے ہیں جسے پوسٹ ٹرتھ کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ (جیسے سلطان محمود غزنوی جن کو بدنام کرنے کی کہانی انگریزوں نے پہلے گھڑی اور اس کے مخالف حقائق بعد میں سامنے آگئے۔)

اسی طرح جہاں عدالتوں اور انصاف کے مراکز سے پہلے میڈیا فیصلے کرتا ہو، توڑ مروڑ کر حقائق کو پیش کرکے سنسنی پھیلانا اور ٹی آر پی بڑھانے کے لیے تحقیق کی دقتوں اور صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے درکار وقت کے انتظار کی کوفت سے بچ کر فوراً من پسند فیصلے پیش کردینے والی روش عام ہو ایسے وقت میں قرآن مجید کی اس بنیادی تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

ملک عزیز کی عدالتوں میں میڈیا ٹرائل کے ذریعے غلط فیصلوں اور عدل و انصاف کی بربادی کی کئی مثالیں ہیں جس میں سوشانت سنگھ راجپوت ڈیتھ کیس2020، سونندا پشکر مرڈر کیس 2014, کلکتہ ریپ کیس چند نمایاں نام ہیں۔

یہ چند نمایاں مقدمات ہیں جن میں کسی مسلمان کا نام بھی نہیں ہے، ورنہ اگر مسلمانوں کے کیسوں کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے تو مقدمات کی ایک طویل فہرست تیار ہوجائے گی۔

ڈیپ فیک اور جعلی ویڈیو کے ذریعے جنسی ہراسانی، غلط رجحانات کے فروغ اور بے عزتی اور شخصی محاذ آرائی کے نت نئے ہتھیار وجود میں آگئے ہیں جن کی اگر تحقیق نہ کی جائے تو وہ بڑے نقصانات کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

قرآن مجید کے کئی معجزاتی پہلوؤں میں سے ایک بڑا معجزاتی پہلو یہ ہے کہ قرآن مجید انسانی عقل کو غیب کا سفر آنکھوں پر پٹی باندھ کر نہیں کرواتا بلکہ دلائل کی روشنی میں طے کرواتا ہے۔ جو کتاب عقل کی پرورش کا ایسا انتظام رکھتی ہو اسی سے توقع ہے کہ وہ ہر معاملہ میں تحقیق کی علم بردار ہو اور تحقیق پسندی کو فروغ دے۔

سنی سنائی باتوں پر چلنا اور جذبات کے ہاتھوں میں عقل کی باگیں تھمادینا اہل ایمان کی روش ہرگز نہیں ہوسکتی۔

عربی زبان میں جہل کا لفظ حلم کی ضد کے طور پر اور ان لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو جذباتی ہوتے ہیں۔ عقل مندی کے مغائر یہ رویہ نہ دنیا میں انسان کو کوئی فائدہ دیتا ہے نہ ہی آخرت میں۔

نوبل انعام یافتہ ڈینیل کاہنمن (Daniel Kahneman)نے اپنی تحقیق میں یہ بات پیش کی ہے کہ جو لوگ عجلت پسندی اور تحقیق کی زحمت اٹھائے بغیر فیصلے کرتے ہیں ان کے فیصلے اکثر غلط ہوتے ہیں، خصوصاً مالی معاملات میں ایسے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔

جو کتاب عالم غیب کے سفر میں عقل کے اطمینان اور اس کی تربیت کا ایسا پیش بہا انتظام کرتی ہو کیا وہ عالم الشہادہ میں عقل کو ظن اور واہموں اور جذباتیت کے حوالے کرسکتی ہے؟

اس کتاب کا تیار کیا ہوا ذہن کیا دنیوی معاملات میں عقل کے استعمال سے دست بردار ہوسکتا ہے؟ حق تو یہ ہے کہ اس کتاب کے تیار کیے ہوئے اذہان علمی و تحقیقی معاملات میں دنیا کی رہ نمائی و سربراہی کرتے، نئی دریافتوں کے جھنڈے گاڑتے، نئے علوم کی بنا ڈالتے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ساری دنیا میں سرفہرست ہوتے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس کی وجہ قرآن سے دوری ہے۔

قرآن مجید نے تحقیق پسندی پر آمادہ بھی کیا ہے اور اس سے دور کرنے والی چیزوں کی نشان دہی بھی کی ہے، جیسے عجلت پسندی، خواہشات نفس کا غلبہ، جذباتیت، ادھورا علم، ظن و گمان، آباء پرستی، اکثریت پرستی وغیرہ۔

جب معاشرے میں تحقیق پسندی کا فقدان ہو تو معاشرے میں اسکینڈل بنانا اور کسی کی بھی عزت اچھالنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے جس اسلامی معاشرے کی تعمیر فرمائی تھی اس معاشرے کی روشنی کو گل کرنے کے لیے ظلمت کے پرستاروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔ کئی جنگیں مسلط کیں۔ جب اپنے لشکروں سے کام نہیں بن پایا تو دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ لیکن بہرحال ناکامی ان کا مقدر بنی۔

شیطانی طاقتیں جب باہر سے کچھ کرنے اور اس معاشرے کو مٹانے میں ناکام رہیں تو انھوں نے اس معاشرے کو اندر سے نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں بننا شروع کردیں۔

باطل طاقتیں جب اسلامی معاشرے کی اخلاقی بلندی کا مقابلہ نہیں کرسکیں تو اسلامی معاشرے کے قد کو گھٹانے اور اسلامی معاشرے پر کیچڑ اچھالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اسلامی تہذیب جو اپنی بلندی اور درخشانی کے سبب سعید روحوں کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ انسانی فطرت والہانہ اسلام کی طرف لپک رہی تھی۔ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہورہے تھے اور اپنی سر کی آنکھوں سے اسلام کی رحمتیں اور برکتیں دیکھ رہے تھے۔

ایسے وقت میں باطل کے ہرکارے مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوئے اور انھوں نے بہتان تراشی اور اسکینڈل سازی کے ہتھیاروں سے مسلم معاشرے کو مجروح کرنے کا پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ عفت مآب مسلم خواتین اور شریف مسلم گھرانوں کے تعلق سے افواہیں اڑانا اور ان کو بدنام کرنا ان کا مشن تھا۔

قرآن مجید نے مسلمانوں کو اس فتنہ سے خبردار کیا اور اس پروپیگنڈہ مہم کے سدباب کے سلسلے میں نہایت اہم رہ نمائی فراہم کی جو معاشروں کو عدل و انصاف پر قائم رکھنے اور امن و ترقی کی راہ پر    گام زن رکھنے کے زرین اصول رکھتی ہے۔

جو شخص بھی کسی پر بہتان لگائے اس پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ اس الزام کا ثبوت پیش کرے۔ عام انسانی سماجوں میں عام طور پر کوئی بھی کسی پر بھی بغیر شہادتوں اور ثبوتوں کے الزام لگا دیتا ہے اور جس پر الزام لگایا جائے وہ بے چارہ اپنی صفائیاں دیتا پھرتا ہے اور ثبوت کے بار (Burden of proof)سے ہلکان رہتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ثبوتوں کے بار کو الزام لگانے والوں کی ذمہ داری قرار دیتی ہیں۔ اس سے معاشرے میں عزت کی حفاظت مقصود ہے،  ورنہ معاشرے میں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ کوئی بھی آسانی سے کسی پر الزام رکھ سکتا ہے۔

دوسری چیز یہ کہ اگر الزام رکھنے والے نے زنا کا جھوٹا الزام لگایا ہو تو اسے اسّی کوڑے مارے جائیں اور ایسے جھوٹے شخص سے گواہی کا حق جو سماج میں اس کے معتبر فرد ہونے کی دلیل بھی ہے، ہمیشہ کے لیے چھین لیا جائے۔ کسی معاملہ میں بھی اس کی گواہی قابل قبول نہ ہو۔ اسکینڈل کھڑا کرنے والوں کو اسّی کوڑوں کی یہ سزا علی الاعلان دی جائے گی۔ دوسروں کی عزت اتارنے والوں کی یہ سزا عین عقل وحکمت کا تقاضا ہے۔

اسلامی معاشرہ معاشرے کے کسی بھی فرد کی عزت کے سلسلے میں کتنا حساس ہوتا ہے اس کا پتہ سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ کی اس رائے سے چلتا ہے جو انھوں نے شرابی کی سزا کے طور پر تجویز فرمائی تھی۔ آپ کی رائے تھی کہ شراب پینے والا چوں کہ شراب پینے کے بعد بہت سی بے ہودہ باتیں کرتا ہے اور اس بکواس میں وہ دوسروں پر جھوٹی تہمت بھی لگاتا ہے اور جھوٹی تہمت لگانے کی سزا اسّی کوڑے ہیں، لہذا شراب پینے والے کی سزا اسّی کوڑے ہونی چاہیے۔

ہر معاشرے میں کچھ لوگ قابل تقلید نمونے (role model) ہوتے ہیں جو عام انسانوں کی قیادت کرتے ہیں اور پہاڑی کے چراغ کا کام کرتے ہیں۔ معاشرے کے عام لوگ انہی قابل تقلید نمونوں کی اتباع کرتے ہیں۔ شیطان اور شیطانی طاقتوں کو اسلامی معاشرے کے بگاڑ کی سب سے مؤثر شکل یہ نظر آتی ہے کہ ایسے قابل تقلید نمونوں کو مجروح کیا جائے اور ان کی شبیہ خراب کی جائے تاکہ معاشرے میں عمومی برائی پھیل جائے اور عام لوگ یہ کہنے لگیں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں، کوئی پارسا نہیں ہے، اس لیے تم بھی پارسا بننے کی ضد چھوڑو اور سب کی طرح تم بھی گناہ پسند بن جاؤ۔ اسلامی تعلیمات نے اس دروازے کو بند کرکے دراصل انسانی معاشروں میں برائی کے عام ہونے پر بند باندھا ہے۔ معاشرے کے قابل تقلید نمونوں کی حفاظت دراصل معاشرے کے خیر کی قوت واستعداد کو قائم رکھنے کا انتظام ہے۔ معاشرے میں اہل خیر کے لیے حمیت خیر سے محبت کا ایک پیمانہ ہے۔ جو معاشرے جھوٹے اسکینڈل بناکر اپنے عملی نمونوں کی شبیہ بگاڑتے ہیں یا اس پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں، وہ آپ اپنے معاشرے کے دشمن ہوتے ہیں۔ جس طرح معاشرے کی صالح قدروں اور اچھی روایات کی نگہبانی اہل حق پر فرض ہے اسی طرح صالح قابل تقلید نمونوں کی حفاظت بھی اہل حق پر ویسے ہی فرض ہے۔ ایک اصولوں کی حفاظت ہے تو دوسری عملی حکمت کی حفاظت ہے اور دونوں ہی خیر کی ترویج میں یکساں ضروری ہیں۔ وہ خیر جس کا کوئی عملی نمونہ نہ ہو اس کی تصوراتی اور یوٹوپین خیال سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

اس سلسلے میں عام مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ کوئی بھی اگر تمھارے سامنے کسی پر بہتان لگاتا ہے تو اس کی ہاں میں ہاں ملانا شروع نہ کردو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ عمل ہے اور اس سے زیادہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو پھیلایا جائے۔

اسلامی معاشرہ کوئی غیر جانب دار اور نیوٹرل معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ وہ خیر اور حق کا طرف دار معاشرہ ہوتا ہے۔ وہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے جس کے ذہن میں یہ خیال پیوست ہوتا ہے کہ ہر انسان محترم ہے الا یہ کہ اس کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے۔ جب کہ عمومًا معاشروں میں ہر انسان مشکوک سمجھا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا بے گناہ ہونا طشت از بام ہوجائے۔

دوسری چیزیہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں ہر ایک کی عزت پورے معاشرے کی عزت ہوتی ہے اور کسی پر بے جا بہتان پورے معاشرے کی عزت پر بہتان سمجھا جائے گا۔

بہتان تراشی کے برے عمل کے پیچھے کام کررہی ذہنیت کو بھی آشکار کیا گیا اور بتایا کہ جب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر گردانتا ہے تو وہ اس طرح کی برائی میں جاپڑتا ہے اور شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے۔

اس برائی میں کام کررہی دوسری ذہنیت یہ ہے کہ انسان کچھ لوگوں کو اپنا سمجھتا ہے اور اکثر کو پرایا سمجھتا ہے اور پرائے لوگوں کی برائی بیان کرنے میں اسے کوئی باک نہیں ہوتا۔

اس ذہنیت کا تیسرا پہلو یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے پاکیزہ ہونے اور دوسرے کے رذیل و    گناہ گار ہونے کا مغالطہ ہو جاتا ہے جو یہودیوں کی ذہنیت تھی۔

ان ذہنی سانچوں کا علاج اس طرح کیا گیا کہ تم سب ایک ہی جیسے لوگ ہو اگر تم میں کچھ خیر ہے پاکیزگی ہے تو یہ سراسر اللّٰہ کا احسان ہے۔ اسلام کی نظر میں ہر انسان دوسرے انسان کا بھائی ہے یا تو دینی رشتے سے یا آدم کی اولاد ہونے کے رشتے سے۔ تم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو اور کسی کو بے عزت کرنا دراصل خود کو بے عزت و بے احترام کرنا ہے۔

اگر معاملہ تمھارا اپنا ہوتا اور تم پر کوئی الزام تراشی اور بہتان تراشی کرتا تو تمھاری کیا خواہش اس کے سوا بھی کچھ ہوتی کہ معاملہ کی پوری تحقیق ہوجانے سے پہلے مجھے مجرم نہ گردانا جائے، پھر جو چیز تم اپنے بارے میں پسند نہیں کرتے اسے دوسروں پر کس طرح تھوپتے ہو؟

تحقیق کے بغیر جتنے امکانات مجرم ہونے کے ہوتے ہیں اتنے ہی بے گناہ ہونے کے بھی ہوتے ہیں۔ پھر جب تک تحقیق سامنے نہ آجائے مجرم کے بجائے بے گناہ کیوں نہ سمجھا جائے۔ یہاں بھی اگر معاملہ تمھارا اپنا ہوتا تو تم اپنے لیے کس چیز کو پسند کرتے، پھر وہی چیز اپنے بھائی کے لیے کیوں پسند نہیں کرتے؟

خبروں کی تحقیق کرنا اس لیے بھی ضروری قرار دیا گیا کہ یہ اصول پیش نظر رہے کہ نادانستگی میں بھی ہماری وجہ سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ دانستگی میں کسی کی عزت کو ہم سے نقصان پہنچے اس کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، البتہ نادانستگی میں نہ چاہتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے ہماری وجہ سے کسی کی عزت مجروح ہوجائے،کسی کی دل آزاری ہوجائے، اس سے بچنے کی پوری کوشش ہو۔

قرآن مجید اہل ایمان کو انصار اللہ کے عظیم منصب پر فائز کرکے ان کے سپرد یہ ذمہ داری کرتا ہے کہ ان کی پہچان حق کے سپاہی اور بھلائیوں کے علم بردار کی ہے۔ برائی کی فطرت یہ ہے کہ وہ خود رو جھاڑیوں کی طرح ہر طرف بغیر کوشش کے پھیل جاتی ہے جب کہ بھلائی کو پھیلانے کے لیے شعوری جدوجہد شرط لازم ہے جو معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

ہندوستان میں امت مسلمہ کو جو بڑے چیلنج درپیش ہیں وہ ہندوستانی مسلمانوں سے حقیقی دینی و علمی انقلاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ صرف لیپا پوتی یا فقہی و مسلکی جوابات سے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔    امت مسلمہ جس طرح غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کے طوفانوں میں گھری ہوئی کسمسا رہی ہے اس کا مقابلہ اپنے اندر عظیم علمی و فکری انقلاب اور پوری تحقیق کے ساتھ سچ کو پیش کرنے ہی سے ممکن ہے۔ یہ حالات امت مسلمہ سے تقاضا کرتے ہیں کہ امت کا قرآن مجید سے علمی و تحقیقی رشتہ پھر استوار ہو۔ صرف اسی صورت میں امید کی جاسکتی ہے کہ امت ان پیش آمدہ سنگین مسائل سے نبردآزما ہوسکے گی۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تحقیق پسندی کا فروغ

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223