گیارہویں بیماری: جھوٹ (کذب)
ہم نے جھوٹ (کذب) کو دل کی بیماریوں میں شمار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچ (صدق) اور جھوٹ اصل میں دل کی کیفیت ہوتے ہیں۔ سچا مومن اسے کہتے ہیں جو سچے دل سے ایمان لاتا ہے اور ایمان کا جھوٹا دعوے دار(منافق) وہ ہوتا ہے جس کا دل جھوٹ میں لت پت ہوتا ہے۔
علامہ ابن قیم رقم طراز ہیں: وَالْإِيمَانُ أَسَاسُهُ الصِّدْقُ. وَالنِّفَاقُ أَسَاسُهُ الْكَذِبُ. ایمان کی اساس سچائی ہے اور نفاق کی اساس جھوٹ ہے۔ (مدارج السالکین)
بظاہر کذب ایک بری صفت اور ایک عملی بیماری معلوم ہوتی ہے۔ بادی النظر میں دل کی بیماری سے اس کا تعلق محسوس نہیں ہوتا لیکن غور کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کذب دل کی اس خاص کیفیت کا نام ہے جس کا اظہار آدمی جھوٹ بول کر کرتا ہے۔ صدق اور کذب دونوں کی جڑیں دل کے اندر ہیں۔ آدمی سچ بولتا ہے تو اپنے دل کی کیفیت کا اظہار کرتا ہے اور جب جھوٹ بولتا ہے تو بھی اپنے دل کی کیفیت کا اظہار کرتا ہے۔ علامہ ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
كان أصل أعمال القلوب كلِّها الصدق، وأضدادُها من الرِّياء والعُجْب والكبر والفخر والخيلاء والبطر والأشر والعجز والكسل والجُبن والمهانة وغيرها أصلها الكذبُ؛ فكلُّ عمل صالح ظاهرٍ أو باطنٍ فمنشؤهُ الصدق، وكل عمل فاسدٍ ظاهرٍ أو باطنٍ فمنشؤهُ الكذبُ (کتاب الفوائد)
’’دل کے تمام اعمال کی اصل صدق ہے اور ان اعمال کے مخالف اعمال کی اصل کذب ہے۔ جیسے ریاء، خود پسندی، کبر، فخر،گھمنڈ، اترانا، سرکشی، درماندگی، سستی، بزدلی اور ذلت وغیرہ کی اصل کذب ہے۔ غرض ہر عملِ صالح خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی، اس کا منبع صدق ہے اور ہر فاسد عمل خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی اس کا سرا کذب میں ملتا ہے۔‘‘
لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کذب کا ایک ظاہری پہلو ہے جو ہمیں کسی فرد کے جھوٹ بولنے سے معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا ایک باطنی پہلو ہے جو دل کے اندر پیوست ہے اور وہی دل کی بیماری ہے۔
اسی چیز کو علامہ ابن قیم ؒ نے دوسری جگہ یوں لکھا ہے:
والشرك وَالْكذب والرياء شَجَرَة فِي الْقلب ثَمَرهَا فِي الدُنْيَا الْخَوْف والهم وَالْغَم وضيق الصَّدْر وظلمة الْقلب وَثَمَرهَا فِي الْآخِرَة الزقّوم وَالْعَذَاب الْمُقِيم (کتاب الفوائد)
’’شرک، کذب اور ریاء دل کی زمین پر اگے ہوئے درخت ہیں، دنیا میں جن کے ثمرات خوف، افسوس، غم، دل کی تنگی اور دل کی تاریکی ہوتے ہیں اور آخرت میں جس کے ثمرات زقوم اور ہمیشگی کا عذاب ہے۔‘‘
جھوٹ بولنا ایک بری صفت ہی نہیں ہے بلکہ یہ دل کی ایک نہایت سنگین بیماری بھی ہے۔ انسان کے دل میں ایمان کم زور ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس ماند پڑ جاتا ہے اس وقت وہ دنیا کے مفادات کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔ جھوٹ بولنا اللہ رب العزت کی سخت ناراضی کا سبب ہے۔ جھوٹا شخص لوگوں کے درمیان بے وقعت اور بے اعتبار ہوجاتا ہے۔ اس شخص سے لوگ گھن کرنے لگتے ہیں۔ جھوٹے شخص کی اپنی شخصیت بھی قبیح ہوتی ہے اور وہ ذلت و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر اس لیے مجبور ہوتا ہے کہ اس کا دل بیمار ہوتا ہے اور اس کا دل لذتِ دنیا کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔
جھوٹ بولنے کی دو بڑی قسمیں ہیں: ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے سلسلے میں جھوٹ بولنا۔ دوسرا دنیا کی چیزوں، واقعات اور لوگوں کے سلسلے میں جھوٹ بولنا۔ دونوں جھوٹ حرام ہیں اور اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی افترا پردازی کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (النحل: 116)
’’اور یہ جو تمھاری زبانیںجھُوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پرجھوٹ نہ باندھا کرو۔ جو لوگ اللہ پر جھُوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو نعوذ باللہ جھوٹا قرار دینا جہنم میں لے جانے والا عمل ہے اور اس کی سخت وعید آئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ (ق: 14)
’’ اور ایکہ والے، اور تُبَّع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، اور آخر کار میری وعید اُن پرچسپاں ہوگئی۔‘‘
نبی اکرم ﷺ کے بارےمیں جھوٹ بولنا اس سلسلے میں بھی سخت وعید آئی ہے۔ حدیث میں ہے:
إنَّ كَذِبًا عليَّ ليس كَكَذِبٍ على أحَدٍ، مَن كَذَبَ عليَّ مُتَعَمِّدًا فليَتَبَوَّأْ مَقعَدَه مِنَ النَّارِ(رواہ البخاري)
’’ بے شک میرے خلاف جھوٹ بولنا کسی عام شخص کے خلاف جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے۔جو میرے خلاف جان بوجھ کر جھوٹ بولے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘
حدیثِ شریف میں بھی جھوٹ بولنے کے سلسلے میں سخت وعید آئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إياكم والكذبَ، فإن الكذبَ يهدي إلى الفجورِ، والفجورُ يهدي إلى النارِ، وإن الرجلَ ليكذبَ فيتحرَّى الكذبَ حتى يُكتبَ عندَ اللهِ كذابًا (رواہ البخاری و مسلم)
’’جھوٹ بولنے سے پرہیز کرو، بے شک جھوٹ فجور کی طرف رہ نمائی کرتا ہے اور فجور جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
جھوٹ ایمان کے منافی ہے، مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا مشہور قول ہے:
إيَّاكم والكَذِبَ، فإنَّ الكَذِبَ مجانِبُ الإيمانِ (البيہقی فی شعب الايمان: 4807)
’’جھوٹ بولنے سے پرہیز کرو، اس لیے کہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے۔‘‘
کذب (جھوٹ) دل کی ایک سنگین بیماری ہے۔ کذب، صدق کی ضد ہے، خلاف واقعہ بات کو کذب کہتے ہیں۔ ابو الوفاء ابن عقیل ؒ نے کذب کی تعریف میں لکھا ہے:
الكَذِبُ: هو الخَبَرُ عن الشَّيءِ على خلافِ ما هو به (الواضح فی اصول الفقہ: 1/129)
’’کسی چیز کے بارے میں خلاف واقعہ خبر دینے کا نام جھوٹ ہے۔‘‘
ابن حجر ؒ نے کذب (جھوٹ) کے سلسلے میں ایک اہم بات لکھی ہے کہ جھوٹ جھوٹ ہے خواہ وہ جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے۔ وہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
الكَذِبُ هو الإخبارُ بالشَّيءِ على خِلافِ ما هو عليه، سواءٌ أكان عَمدًا أم خَطَأً (فتح الباری:1/201)
’’کسی چیز کے بارے میں خلاف واقعہ خبر دینے کا نام جھوٹ ہے خواہ وہ عمداً ہو یا غلطی سے۔‘‘
امام نووی ؒ نے کذب (جھوٹ) کے سلسلے میں ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے:
الإخبارُ عن الشَّيءِ على خِلافِ ما هو، عمدًا كان أو سهوًا، سواءٌ كان الإخبارُ عن ماضٍ أو مُستقبَلٍ (المنہاج شرح صحيح مسلم: 1/69)
’’کسی چیز کے بارے میں خلاف واقعہ خبر دینا جھوٹ ہے خواہ وہ عمداً ہو یا سہواً، ماضی کے بارے میں ہو یا مستقبل کے بارے میں۔‘‘
کذب (جھوٹ) ایک بھیانک بیماری ہے۔ انسان اگر آخرت کی کام یابی چاہتا ہے تو اسے جھوٹ سے توبہ کرنا ہوگا، جھوٹ سے اجتناب جنت کا راستہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج :30)
’’یہ تھا (تعمیرِ کعبہ کا مقصد)اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حُرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے ربّ کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔ اورتمھارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ماسوا اُن چیزوں کے جو تمھیں بتائی جاچکی ہیں۔ پس بُتوں کی گندگی سے بچو، جھُوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔‘‘
نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے مغضوب چیز جھوٹ تھی، آپؐ جھوٹ کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:
ما كانَ خلقٌ أبغضَ إلى رسولِ اللهِ ﷺ منَ الكذبِ (رواہ الترمذی)
’’نبی کریم ﷺ کے نزدیک سب سے مبغوض عادت جھوٹ تھی۔‘‘
جھوٹ بولنا اتنا قبیح عمل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے منافقین کی صفات میں شمار فرمایا ہے:
أربَعٌ مَن كُنَّ فيه كان مُنافِقًا خالِصًا، ومَن كانَت فيه خَصلةٌ منهنَّ كانَت فيه خَصلةٌ مِنَ النِّفاقِ حتَّى يَدَعَها: إذا اؤتُمِنَ خانَ، وإذا حَدَّثَ كَذَبَ، وإذا عاهَدَ غَدَرَ، وإذا خاصَمَ فجَرَ (رواہ البخاری)
’’چار خصلتیں جس میں ہوں گی وہ پکا منافق ہوگا اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی تو اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب وہ بولے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب وہ جھگڑا کرے تو گالم گلوچ پر اتر آئے۔‘‘
جھوٹ کے اسباب
جھوٹ جیسی بیماری مختلف اسباب کی وجہ سے انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ جھوٹ کا سب سے بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے خیال دل میں حاضر نہیں ہوتا ہے۔ ایمان کی کم زوری کی وجہ سے انسان کے اندر اپنے رب کے سامنے جواب دہی کا احساس کم زور پڑ جاتا ہے، وہ مفادِ دنیا کے لیے جھوٹ بولتا ہے اور آخرت میں اس کے انجام سے غافل رہتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (النازعات: 37 – 41)
’’تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا، جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔‘‘
جھوٹا شخص حصولِ دنیا کے لیے دن رات جھوٹ بولتا ہے، دنیاوی مفادات اس کے نزدیک مقدم ہیں۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کسی طرح بھی دنیا حاصل کی جائے۔ جھوٹ بول کر وہ دنیا سمیٹنا چاہتا ہے۔ وہ دنیا اور مفاداتِ دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا۔ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (الاعلیٰ:16۔17)
’’ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالاں کہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘
جھوٹ بولنے کا ایک سبب یہ ہے کہ آدمی سزا یا پریشانی سے بچنا چاہتا ہے، اسے اس بات پر یقین نہیں ہے کہ سچ بولنے سے دنیا و آخرت دونوں جہاں میں بھلائی ہے۔ وہ عارضی نفع کے لیے جھوٹ بول کر بظاہر پریشانی سے بچنے کی فکر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی چیز ہے۔ جھوٹ سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
دوسروں پر رعب جمانے کے لیے بھی آدمی جھوٹ بولتا ہے۔ ایسی باتیں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ لوگ عش عش کریں۔ ایسی ایسی خبریں لوگوں کو بتاتا ہے کہ لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی اس حرکت سے لوگ اس کو قابل سمجھیں گے اور اس کا احترام کریں گے۔
بعض افراد لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اس عمل سے لوگ خوش ہوں گے اور ان کا مقام لوگوں میں بلند ہوگا۔ شیطان اس عمل کو مزین کر کے پیش کرتا ہے۔ لوگ ایسے جھوٹوں کو تفریح طبع کے لیے استعمال تو کرتے ہیں لیکن ان پر بھروسا نہیں کرتے۔ یہ عمل بندۂ مومن کا نہیں ہو سکتا۔ نبی اکرم ﷺ نے ایسے شخص کے لیے ہلاکت کی وعید فرمائی ہے:
ويلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ بالحدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ القوْمَ فيَكَذِبُ ويلٌ لَهُ ويلٌ لَهُ (رواہ الترمذی)
’’ہلاکت ہو اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتیں کرتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو، ہلاکت ہو اس کے لیے، ہلاکت ہو اس کے لیے۔‘‘
جھوٹ کے نقصانات
جھوٹ بولنے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں، یہاں اختصار کے ساتھ چند اہم نقصانات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ جھوٹ بولنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اللہ رب العزت کے غضب کا سبب بنتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ (النحل: 62)
’’آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں جو خود اپنے لیے انھیں ناپسند ہیں اور جھوٹ کہتی ہیں اِن کی زبانیں کہ اِن کے لیے بھلا ہی بھلا ہے اِن کے لیے تو ایک ہی چیز ہے، اور وہ ہے دوزخ کی آگ ضرور یہ سب سے پہلے اُس میں پہنچائے جائیں گے۔‘‘
جھوٹ بولنے والا اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو وہ ذلیل و خوار ہو کر رہتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (النور :7)
’’اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام میں) جھوٹا ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی توفیق بندگانِ خدا کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، جسے ہدایت نہیں ملتی وہ دنیا و آخرت میں ناکام و نامراد ہوتا ہے۔ جھوٹ بولنے کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ جھوٹا شخص اللہ رب العزت کی ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے، لہٰذا ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اس مہلک مرض سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کر لیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (غافر: 28)
’’اس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بول اُٹھا: کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا ربّ اللہ ہے؟ حالاں کہ وہ تمھارے ربّ کی طرف سے تمھارے پاس بینات لے آیا۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پرپلٹ پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہول ناک تنائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔‘‘
برکت کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اگر مال و اسباب سے اللہ تعالیٰ کی برکت ختم ہو جائے تو آدمی آسودہ حال نہیں ہو سکتا اور وہ سکون و اطمینان کی نعمت سے محروم ہو جائے گا۔ سچ بولنے میں برکت ہے اور جھوٹ بولنے سے برکت چلی جاتی ہے۔ خرید و فروخت کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے:
البَيِّعانِ بالخيارِ ما لَم يَتَفَرَّقا، فإن صَدَقا وبَيَّنا بورِك لهما في بَيعِهما، وإن كَذَبا وكَتَما مُحِقَت بَرَكةُ بَيعِهما(رواہ البخاری)
’’خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اپنا معاملہ ختم کرنے کا اختیار ہے، بشرطیکہ وہ جدا نہ ہوئے ہوں۔ اگر دونوں سچے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے بات واضح کر دیتے ہیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوگی اور اگر وہ دونوں جھوٹ بولتے ہیں اور اپنی بات چھپاتے ہیں تو ان کی خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔‘‘
جھوٹ بولنا ایک بری عادت ہے، یہ بیماری دل کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، کوشش کرنا چاہیے کہ انسان اس سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کر لے، ورنہ یہ دنیا تو برباد کرے گی ہی، آخرت کو بھی برباد کر کے چھوڑے گی۔
جھوٹ دل کی مہلک بیماری ہے لیکن جھوٹ بولنے سے دل کی بیماری میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بیماری دل کو خراب کر دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (البقرۃ: 10)
’’ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہےجسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں،اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔ ‘‘
جھوٹ بولنے کے دنیاوی نقصانات بہت زیادہ ہیں، لیکن اس کا اخروی انجام بھی بہت شدید ہے، آخرت میں آدمی عذابِ الیم سے دوچار ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں جھوٹے تاجر کے بارے میں شدید وعید نازل فرمائی ہے:
ثلاثةٌ لا يُكلِّمُهم اللهُ ولا ينظرُ إليهم يومَ القيامةِ، ولا يُزكِّيهم، ولهم عذابٌ أليمٌ۔ قلتُ: من هم يا رسولَ اللهِ ﷺ ! قد خابوا وخسِروا؟ فأعادها ثلاثًا، قلتُ : من هم خابوا وخسِروا؟ فقال: المسبلُ، والمَنَّانُ، والمُنَفِّقُ سِلعتَه بالحلِفِ الكاذبِ أو الفاجرِ. (رواہ ابوداؤد)
’’تین طرح کے لوگ ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ نہ تو بات کرے گا نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ راوی صحابیؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ، وہ کون لوگ ہیں؟ وہ تو ناکام و نامراد ہوئے۔ تو آپؐ نے اپنی بات کو تین بار دہرایا، تو راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں جو ناکام و نامراد ہوئے؟ تو آپؐ نے فرمایا: اپنے ازار کو نیچے کرنے والا، اور احسان جتانے والا، اور اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعے خوشنما بنا کر بیچنے والا۔“
جھوٹ بولنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ جھوٹ شک و شبہ میں ڈالتا ہے۔ شک و شبہ یقین کی ضد ہے۔ آدمی شک کی زندگی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے اطمینانِ قلبی حاصل نہیں ہوتا۔ اطمینان تو سچ اور یقین میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
دعْ ما يَريبُكَ إلى ما لا يُريبُكَ فإنَّ الصدقَ طُمأنينةٌ وإنَّ الكذبَ رِيبَةٌ (رواہ الترمذی)
’’جو تمھیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر یقین کی طرف آ جاؤ، کیوں کہ بے شک سچ میں طمانیت و سکون ہے اور بے شک جھوٹ میں شک و شبہ ہے۔‘‘
جھوٹ بولنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ جھوٹے شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ نفاق ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا دل اور خراب ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (التوبۃ:77)
’’نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اِس بد عہدی کی وجہ سے جو انھوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو ان کا شیوہ ہے، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔‘‘
جھوٹ سے بچنے کے طریقے
جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے، لہٰذا جلد از جلد اس سے نجات حاصل کر لینا ضروری ہے۔ دل کی اس مہلک بیماری سے نجات حاصل کرنے کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے اوپر استحضارِ رب کریم پیدا کرے، کوئی دیکھ رہا ہو نہ دیکھ رہا ہو، اللہ رب العزت بندے کو دیکھ رہا ہے۔ یہ کیفیت جس قدر بندے کے اندر پروان چڑھے گی اسی قدر وہ جھوٹ سے چھٹکارا حاصل کر سکے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء : 1)
’’ لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دُنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دُوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ و قرابت کے تعلّقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔‘‘
جھوٹ سے نجات حاصل کرنے کا دوسرا اہم طریقہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت سے استعانت طلب کی جائے۔ وہی توفیق عنایت فرمانے والا ہے۔ وہی مدد فرمانے والا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف: 128)
’’موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا :اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کام یابی انھی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں۔ ‘‘
نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے استعانت طلب کرنے کا کثرت سے حکم فرمایا ہے۔ آپؐ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو نصیحت فرماتے ہوئے کہا:
يا غُلامُ، إنِّي أعلِّمُك كَلِماتٍ: احفَظِ اللهَ يحفَظْك، احفَظِ اللهَ تَجِدْه تُجاهَك، إذا سألْتَ فاسأَلِ اللهَ، وإذا استعَنْتَ فاستَعِنْ باللهِ (رواہ الترمذی)
’’اے بچے، میں تمھیں چند باتیں سکھاتا ہوں: اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو تو وہ تمھیں یاد رکھے گا، اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو تو تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو اور جب استعانت طلب کرو تو صرف اللہ تعالیٰ سے استعانت طلب کرو۔‘‘
جھوٹ جیسے موذی مرض سے نجات حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ نصوح کیا جائے۔ دل کی گہرائیوں سے توبہ اور پھر دوبارہ واپس نہ ہونے کا عہد۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَاۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحريم: 8)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تمھاری برائیاں تم سے دُور کر دے اور تمھیں ایسی جنّتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رُسوا نہ کرے گا۔ اُن کا نُور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے ربّ، ہمارا نُور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تُو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘
کذب (جھوٹ) سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو اچھی طرح یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ کذب اکبر الکبائر میں سے ہے۔ آدمی جب بھی جھوٹ بولتا ہے تو وہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے اور گناہِ کبیرہ پر اصرار بہت بڑا جرم ہے۔ یہ احساس جتنا قوی ہوگا جھوٹ سے نجات حاصل کرنے کا راستہ اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ألا أُنَبِّئُكُم بأكبَرِ الكَبائِرِ؟ قُلنا: بَلى يا رَسولَ اللهِ، قال: الإشراكُ باللهِ، وعُقوقُ الوالِدَينِ، وكانَ مُتَّكِئًا فجَلَسَ فقال: ألا وقَولُ الزُّورِ وشَهادةُ الزُّورِ، ألا وقَولُ الزُّورِ وشَهادةُ الزُّورِ، فما زالَ يَقولُها حَتَّى قُلتُ: لا يَسكُتُ (رواہ البخاری و مسلم)
’’کیا میں تمھیں بڑے کبیرہ گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ، بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپؐ ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپؐ بیٹھ گئے اور فرمایا: خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی، خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپؐ اس کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ راوی نے کہا کہ لگتا ہے آپؐ دہرانے کا عمل جاری رکھیں گے۔‘‘
جھوٹ سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی فرشتوں سے حیا کرے۔ ہماری حفاظت کے لیے فرشتے ہمہ آن چوکس رہتے ہیں اور کچھ فرشتے وہ ہیں جو ہماری باتیں اور ہمارے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ آدمی کو اس بات کا احساس دامن گیر رہنا چاہیے کہ وہ ہماری ہر بات لکھ رہے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق :18)
’’ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔ ‘‘
ایک حدیث میں ہے کہ آدمی جب جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس کے جھوٹ کی بدبو سے اس کے پاس سے ہٹ کر دور چلے جاتے ہیں۔ جھوٹ کا عمل اتنا سنگین اور اتنا خطرناک ہے کہ آدمی کو جھوٹ سے کوسوں دور رہنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إذا كذب العبدُ كذِبةً تباعدَ عنه الملَكُ ميلًا من نتنِ ما جاء به. (رواہ الترمذی )
’’جب کوئی بندہ جھوٹ بات بولتا ہے تو فرشتہ اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے اس کے پاس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘
جھوٹ سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی موت کو یاد کرے اور سوچے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دے گا۔ موت کی یاد سے غفلت کا پردہ آدمی کو اپنا احتساب کرنے اور برائیوں سے رکنے کا موقع نہیں دیتا ہے۔ موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے اور مہلتِ عمل ختم کر سکتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
أَكثروا ذِكرَ هاذمِ اللَّذَّات يعني الموتَ (رواہ الترمذي)
’’لذتوں کو ختم کر دینے والی، یعنی موت کا تذکرہ کثرت سے کیا کرو۔‘‘
جھوٹ سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العزت سے دعا کرے، اللہ رب العزت دلوں کو پھیرنے والا اور خیر کی توفیق دینے والا ہے، لہٰذا بندے کو اللہ تعالیٰ سے خوب خوب دعائیں کرنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ. (البقرۃ:186)
’’ اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنھیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیںیہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔ ‘‘
انسان کو جھوٹ جیسی سنگین بیماری سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے، اس سلسلے میں غیرمعمولی فکرمندی اور بڑے عزم کی ضرورت ہے۔ آدمی کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنی اصلاح کے لیے آمادہ ہو اور اس کے لیے بے حد فکر مند ہو۔ آدمی عزم کرے، منصوبہ بنائے اور اول و آخر اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگے تو انشاءاللہ تعالیٰ وہ اس بیماری سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔
جھوٹ بولنا شدید معیوب عمل ہے لیکن شریعت نے بڑے دینی مفاد کے لیے صرف تین مقامات پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آدمی شوق سے جھوٹ بولے اور غلط بیانی کرے بلکہ اگر ضرورت پڑ جائے تو جھوٹ بول سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لا يحلُّ الكذبُ إلَّا في ثلاثٍ كذِبُ الرَّجلِ امرأتَه ليرضيَها والكذبُ في الحربِ والكذبُ ليصلِحَ بينَ النَّاسِ (رواہ الترمذی)
’’جھوٹ بولنا صرف تین جگہوں پر جائز ہے: شوہر کا اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا، جنگ میں جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔‘‘
شوہر کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اظہارِ محبت اور اپنی حیاتِ زوجیت کو خوشگوار کرنے کے لیے جھوٹ بول سکتا ہے۔ زندگی کے دیگر معاملات میں جھوٹ بولنا اور ان میں دھوکہ دینا اور غلط بیانی کو شیوہ بنا لینا، یہ حدیث کا مطلب نہیں ہے۔ امام نووی ؒریاض الصالحین میں لکھتے ہیں:
وأما كذبه لزوجته وكذبها له فالمراد به إظهار الود والوعد بما يلزم ونحو ذلك، فأما المخادعة في صنع ما عليه أو عليها أو أخذ ما ليس له أو لها فهو حرام بإجماع المسلمين ( شرح النووی علی مسلم 16/158)
’’شوہر کا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنے سے مراد محبت کا اظہار، ضروری عہد و پیمان اور اسی طرح کی بات کرنا ہے۔ ایک دوسرے کے کاموں میں دھوکہ دینا اور ایک دوسرے کی حق تلفی کرنا حرام ہے۔ اس پر اجماعِ امت ہے۔‘‘
اسی طرح سے جنگ میں جھوٹ بولنا جائز ہے، دشمن کو شکست دینے کے لیے چال چلنا، چکمہ دینا، خلاف واقعہ چیز کا اظہار کرنا اور دھوکہ دینا جائز ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے:
سَمَّى النَّبيُّ ﷺ الحَربَ خَدعةً (رواہ البخاری)
’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنگ دھوکے کا نام ہے۔‘‘
تیسری اور آخری جگہ جہاں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے وہ لوگوں کے درمیان صلح کروانا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ اصلاحِ بین الناس اہم دینی فریضہ ہے۔ لوگ اگر جھگڑتے رہے اور لڑتے رہے اور ان کے درمیان تصفیہ نہیں ہوا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بات آگے بڑھ جائے، قتل و غارت گری تک نوبت آ جائے اور یہ شر بہت سارے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ ام کلثوم بنت عقبہ ؓفرماتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
ليس الكَذَّابُ الذي يُصلِحُ بينَ النَّاسِ، فيَنمي خَيرًا، أو يقولُ خَيرًا (رواہ البخاری و مسلم)
’’وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے بھلی بات نقل کرے اور اچھی بات کرے۔‘‘
ایک بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جھوٹ جھوٹ ہے، خواہ وہ سنجیدگی میں بولا جائے یا مزاح میں بولا جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا مشہور قول ہے:
الكَذِبَ لا يَصْلُحُ منهُ جِدٌّ ولا هَزْلٌ (رواہ احمد)
’’جھوٹ نہ تو سنجیدگی میں بہتر ہے اور نہ مزاح میں۔‘‘
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دل کی بیماریوں، خاص طور پر جھوٹ بولنے کی بیماری سے محفوظ فرمائے اور ہمارے دل کو قلبِ سلیم بنائے۔ آمین







