قلب کی قسمیں
گذشتہ مضمون میں یہ بات آچکی ہے کہ دل خیر و شر دونوں طرح کے خیالات و جذبات کی آماجگاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بندہ اپنے دل کو بہتر بنانے کی فکر کرے تو وہ ایک پاکیزہ دل بن جاتا ہے اور اگر وہ اس سلسلے میں کوتاہی کرے تو وہ ایک غافل و لاپرواہ دل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
آگے ہم یہ بتائیں گے کہ دل کی کیفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی تین بڑی قسمیں کی جا سکتی ہیں۔
دل اگر اپنے رب کی طرف مکمل یکسو اور ہر لمحہ اس کا اطاعت گزار ہے تو وہ قلبِ سلیم ہے۔ دل اگر ایمان اور عصیان کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے خواہشاتِ نفس کا پیروکار ہے تو وہ قلبِ مریض ہے۔ دل اگر مکمل طور پر گمراہی میں مبتلا ہے، اس پر شیطان حاوی ہوچکا ہے اور کوئی بھی بھلائی اور خیر کی چیز اس پر اثرانداز نہیں ہوتی تو وہ قلب میت ہے۔
علامہ غزالیؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:
القلوب فی الثَّبات على الخیر والشر والتردُّد بینهما ثلاثة: قلْب عُمِر بالتقوى، وزكَا بالرِّیاضة، وطهُر مِن خبائث الأخلاق۔ القلب الثانی: القلْب المخذول، المشحون بالهَوى، المدنَّس بالأخلاق المذمومة والخبائث، المفتوح فیه أبوابُ الشیاطین، المسدود عنه أبوابُ الملائكة۔ القلب الثالث: قلْب تبْدو فیه خواطرُ الهوى، فتدعوه إلى الشرِّ، فیلحقه خاطر الإیمان فیدْعوه إلى الخیر (احیاء علوم الدین: 3 / 45-46)
“خیر و شر پر جمنے اور ان کے درمیان متردد ہونے میں دل کی تین قسمیں ہیں: پہلا وہ جو تقویٰ سے آباد ہو، جس نے محنت و مشقت کے ذریعے تزکیہ حاصل کیا ہو اور اخلاق رذیلہ سے پاک و صاف ہو۔ دوسرا وہ جو رسوا ہوچکا ہو، خواہشاتِ نفس کا غلام اور مذموم و خبیث اخلاق سے پلید دل، جس کے لیے شیاطین کے دروازےکھلے اور فرشتوں کے دروازے بند ہوگئے ہوں۔ تیسرا وہ جس میں خواہشاتِ نفس کے جذبات پیدا ہوں تو شر کی طرف بھاگنے لگے اور جب ایمانی کیفیت متقاضی ہو تو خیر کی طرف لپکے۔“
قلبِ سلیم
قلبِ سلیم اللہ رب العزت کا پسندیدہ دل ہے۔ جس دل میں اللہ رب العزت کا خوف اور اس کی خشیت ہو۔ جس دل میں حب اللہ جل جلالہ اور حبِ رسول ﷺ موجزن ہو۔ جو ہمہ آن آخرت کی فکر اور جنت کے حصول میں سرگرداں ہو اور جو شوقِ دیدار الٰہی میں شب و روز بسر کرتا ہو۔
قیامت کے دن یہی دل کام آنے والا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یوْمَ لَا ینفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ (سورة الشعراء: 88-89)
“جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔“
قلب سلیم بیماریوں سے پاک دل، اخلاقِ حمیدہ سے متصف اور اخلاق رذیلہ سے محفوظ دل۔ یہ وہ دل ہے جو عباد الرحمن اور اسلام کے جیالوں کے سینوں میں دھڑکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس دل کی تشریح ایک حدیث میں فرمائی ہے:
قیلَ لرسولِ اللهِ ﷺ : أی الناسِ أفضلُ؟ ! قال: كلُّ مخمومِ القلبِ، صدوقِ اللسانِ، قالوا: صدوقُ اللسانِ نعرفُهُ، فما مخمومُ القلبِ؟ ! قال: هو النقی التقی، لا إثمَ علیهِ، ولا بغی، ولا غلَّ، ولا حسدَ۔ (رواہ ابن ماجہ و الطبرانی)
”رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے بہترین انسان کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ہر وہ شخص جو مخموم القلب ہو، زبان کا سچا ہو۔ صحابہؓ نے کہا: زبان کا سچا تو ہم جانتے ہیں، مخموم القلب کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: دل کا صاف، متقی و پرہیزگار، گناہ اور سرکشی سے دور اور کینہ و حسد سے پاک۔ “
قلبِ سلیم کی صفات
ذیل کی سطور میں قلبِ سلیم کی بعض صفات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ ان صفات سے یہ بات اور واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کو کن کن خوبیوں والا دل پسند ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اس کی روشنی میں ہم اپنے قلب کی تطہیر کریں اور اسے بہترین خوبیوں سے مزین کریں۔
۱۔ خاشع دل
قلبِ سلیم کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کے اندر اللہ رب العزت کے لیے خشوع و خضوع کی کیفیت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کے اسماء و صفات، اس کے ذکر اور اس کے احکامات کے سامنے وہ جھکا ہوا رہتا ہے۔ رب ذوالجلال کے سامنے خشوع و خضوع اور تذلل کی حالت میں ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَمْ یاْنِ لِلَّـذِینَ اٰمَنُـوٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُـهُـمْ لِـذِكْرِ اللّـٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ ( الحدید: 16)
“کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیںاور اس کے نازل کر دہ حق کے آگے جھکیں۔“
۲۔ مُخبِت دل
قلبِ سلیم کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کے اندر اخبات کی کیفیت ہوتی ہے۔ مخبت اس دل کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے آگے خود سپردگی کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی برضا ہو۔ اللہ تعالیٰ جس حالت میں رکھے اس حالت میں مطمئن ہو۔ اس کے نتیجے میں دل کو عزم و استقلال اور سکون و اطمینان کی جو کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ غیر معمولی ہے۔ قران مجید میں ارشاد ہے:
وَلِیعْلَمَ الَّـذِینَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیؤْمِنُـوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَـه قُلُوْبُـهُـمْ وَاِنَّ اللّـٰهَ لَـهَادِ الَّـذِینَ اٰمَنُـوٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیـمٍ(الحج: 54)
“اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جُھک جائیں، یقیناً اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔“
۳۔ منیب دل
منیب کا مفہوم ہوتا ہے رجوع کرنے والا، پلٹنے والا، نافرمانیوں سے توبہ کر کے اللہ رب العزت کی طرف پلٹنے والا اور غفلت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکنے والا۔ یہ دل بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ ہمیشہ اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرنے والا دل۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَّنْ خَشِىَ الرَّحْـمٰنَ بِالْغَیبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیبٍ ( قٓ: 33)
“جو بے دیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھااور جو دل گِرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔“
۴۔ وَجِل دل
ڈر کی وجہ سے لرزنے والا، کانپنے والا دل۔ یہ ڈر، خوف زدہ کرنے والا ڈر نہیں ہے، بلکہ رب کی تعظیم کی وجہ سے اس کی خشیت حاصل کرنے والا دل۔یہ وہ ڈر نہیں ہے جو دہشت کی بنا پر جدوجہد سے ناکارہ کر دے بلکہ وہ خشیت جو عمل کے لیے مزید مہمیز کرنے والی ہو۔ اس خاص کیفیت یعنی رب کی تعظیم میں لرزنے اور اس کی خشیت کی وجہ سے میدان عمل میں متحرک ہونے کی بنا پر دل میں ایک خاص قسم کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ یہ ہے قلب وَجِل جو اللہ رب العزت کو بے حد پسند ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُـوْنَ الَّـذِینَ اِذَا ذُكِـرَ اللّـٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُـهُـمْ وَاِذَا تُلِیتْ عَلَیـهِـمْ اٰیاتُه زَادَتْـهُـمْ اِیمَانًا وَّعَلٰى رَبِّـهِـمْ یتَوَكَّلُوْنَ (الانفال:2)
“سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کرلرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے ربّ پر اعتماد رکھتے ہیں۔“
۵۔ لین دل
قلبِ سلیم کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ نرم ہوتا ہے۔ جب اللہ رب العزت کا ذکر ہو تو وہ نرم پڑجاتا ہے اور اس کے اندر خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَللَّـهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّـذِینَ یخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ ثُـمَّ تَلِینُ جُلُوْدُهُـمْ وَقُلُوْبُـهُـمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّـٰهِ ۚ ذٰلِكَ هُدَى اللّـٰهِ یـهْدِىْ بِهٖ مَنْ یشَآءُ ۚ وَمَنْ یضْلِلِ اللّـٰهُ فَمَا لَـه مِنْ هَادٍ (الزمر: 23)
”اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے ، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں ، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے۔“
۶۔ رؤف و رحیم دل
ایسے دل میں رأفت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ ہر شخص کے لیے رحمت و شفقت کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَجَعَلْنَا فِىْ قُلُوْبِ الَّـذِینَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَـةً وَّرَحْـمَةً (الحدید:27)
“جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔“
۷۔ رقیق دل
بہترین دل کی ایک صفت رقّت ہے۔ بات بات پر اسے رب ذولجلال کا استحضار ہوتا ہے۔ لوگوں کے لیے اس کے دل میں رحم کا مادہ ہوتا ہے۔ اور جب بھی کوئی اہم بات اس کے سامنے آتی ہے تو اس پر رقّت طاری ہوجاتی ہے۔ رقیق القلب مومن اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے۔
نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ تین طرح کے لوگ جنت میں جائیں گے۔ ان میں ایک رحم کرنے والا رقیق القلب شخص ہوگا:
وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: منهم رَجُلٌ رَحِیمٌ رَقِیقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِی قُرْبَى وَمُسْلِمٍ (رواہ مسلم)
”اور اہلِ جنت کی تین قسمیں ہوں گی۔ ان میں ایک وہ شخص بھی ہوگا جس کا رویہ قرابت داروں اور ہر مسلمان کے ساتھ رحم دلی اور رقیق القلبی کا ہوگا۔“
۸۔مستغنی دل
قلبِ سلیم کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کے اندر استغناء کی کیفیت ہوتی ہے۔ دل کی مالداری سب سے بڑی مالداری ہے۔ قلبِ سلیم جب اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سارے جہان سے بے نیاز کردیتا ہے۔ مشہور حدیث قدسی ہے:
إنَّ اللَّهَ تعالى یقولُ یا ابنَ آدمَ : تفرَّغْ لعبادتی أملأْ صدرَكَ غنًى وأسدَّ فقرَكَ وإن لا تفعَل ملأتُ یدیكَ شغلاً ، ولم أسدَّ فقرَكَ (رواہ الترمذی)
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میری کامل بندگی کے لیے فارغ ہوجاؤ تو میں تمھارے دل کو مالداری (بےنیازی) سے بھر دوں گا اور تمھاری محتاجی دور کردوں گا۔ او اگر تم ایسا نہیں کروگے تو میں تمھارے دونوں ہاتھوں کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور تمھاری محتاجی دور نہیں کروں گا۔“
۹۔ مطمئن دل
بہترین دل کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ اس کے اندر اطمینان کی کیفیت ہوتی ہے۔ اطمینان و سکون سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے۔ قلبِ مطمئن وہی دل ہوسکتا ہے جس پر اللہ رب العزت کا فضل خاص ہو۔ ایسا دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَّـذِینَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد:28)
“ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے(اِس نبی ؐ کی دعوت کو) مان لیا ہے اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبر دار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے ۔“
درج بالا سطور سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ قلبِ سلیم کس طرح کا دل ہوتا ہے۔ اس کی اندرونی کیفیات کے مظاہر کیا ہوتے ہیں۔ خشیتِ الٰہی، خشوع و خضوع، اخبات و انابت، لینت و نرمی، رأفت و رحمت، رقّتِ قلبی، استغناء اور اطمینان و طمانیت جیسے اعلیٰ اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ یہ وہ دل ہے جو اللہ رب العزت کا پسندیدہ اور محبوب دل ہے۔ ہر مومن کی یہ تمنا ہونی چاہیے کہ اس کا دل قلبِ سلیم بن جائے۔ اس کے لیے جہاں کوشش کی ضرورت ہے وہیں دعاکا اہتمام بھی ناگزیر ہے کہ توفیق الٰہی جل جلالہ کے بغیر یہ کبھی بھی ممکن نہیں ہے ۔
قلبِ مریض
دل کو بہت ساری بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ ہم ان بیماریوں کا تذکرہ آگے کے صفحات میں کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ یہاں قلبِ مریض کی کیفیات اور صفات کا تذکرہ پیشِ نظر ہے۔ بیمار دل مخصوص علامات سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ دل اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ ہمیں اس سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ بیمار دل کے ساتھ رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت ممکن نہیں ہے، لہٰذا قلبِ مریض کو قلبِ سلیم میں تبدیل کرنے کی کوشش سنجیدگی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ قلبِ مریض کا تذکرہ قرآن مجید میں اس طرح بیان ہوا ہے:
فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُـمُ اللّـٰهُ مَرَضًا وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِیـمٌ بِمَا كَانُـوْا یكْذِبُوْنَ (البقرة:10)
“ان کے دلوں میں ایک بیماری ہےجسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیااور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں،اس کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔“
قلبِ مریض کی صفات
ذیل کی سطور میں قلبِ مریض کی کچھ اہم صفات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ یہ دل کی وہ کیفیات ہیں جن کی روشنی میں بیمار دل کو سمجھنا آسان ہوگا اور اس کی شناعت اور قباحت بھی واضح ہوجائے گی۔
۱۔ لاہی دل
کھلنڈرا دل، لھو و لعب میں مصروف اور غیر سنجیدہ دل۔ یہ دل اپنے حقیقی مقصد سے بے پروا ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَاهِیةً قُلُوبُهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِینَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ(الانبیاء: 3)
”دل اُن کے لہو و لعب میں لگے ہوئے ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتےہیں کہ یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جاوٴ گے؟رسُولؐ نے کہا ، میرا ربّ ہر اُس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے، وہ سمیع اور علیم ہے۔“
۲۔ غافل دل
جس دل میں غفلت نے بسیرا ڈال دیا ہو۔ یادِ خدا سے غافل، آخرت کی تیاری سے غافل اور اپنے اعلیٰ مقاصد سے بے پروا دل۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (الکہف: 28)
” کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔“
۳۔ مُرتاب دل
شک و شبہ اور پس و پیش میں پڑنے والا دل۔ یہ دل معرفت و یقین کی لذّت سے آشنا نہیں ہوتا۔ چیزوں کو سمجھتا تو ہے اور اس کو مانتا بھی ہے لیکن شک و شبہ میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ قلبِ مریض ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا یسْتَأْذِنُكَ الَّذِینَ لَا یؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْیوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِی رَیبِهِمْ یتَرَدَّدُونَ(التوبة: 45)
”ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردّد ہو رہے ہیں۔“
۴۔ نفاق زدہ دل
وہ دل جس میں اندر کچھ ہو باہر کچھ۔ دو رُخا دل۔ دعویٰ تو کچھ کرتا ہو لیکن عمل اس کے بر خلاف ہو۔ دل میں بہترین قسم کی تمنائیں رکھے لیکن اس کے مطاق حرکت و عمل نہ ہو۔ اپنے آپ کو دھوکہ دینے والا قلبِ مریض۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ یوْمِ یلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا یكْذِبُونَ (التوبة: 77)
”نتیجہ یہ نکلاکہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا ۔“
۵۔پھٹا ہوا دل
قلبِ مریض کی ایک یہ صفت یہ ہے کہ وہ پھٹا ہوا ہوتا ہے۔ متفرق اور منتشر دل۔ جو یکسو اور متحد نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے سلسلے میں دل پھٹے پڑے ہوں۔ دلوں میں اختلاف شدید ہو۔ ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی کے بجائے فتنہ سازیاں ہوں۔ ارشاد ربانی ہے:
لَا یقَاتِلُونَكُمْ جَمِیعًا إِلَّا فِی قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاءِ جُدُرٍ ۚ بَأْسُهُم بَینَهُمْ شَدِیدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِیعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یعْقِلُونَ (الحشر: 14)
”یہ کبھی اکٹھے ہو کر (کھلے میدان میں ) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں ۔ ان کا یہ حال ا س لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔“
۶۔ غلیظ دل
قلبِ مریض کی ایک صفت سخت ہونا ہے۔ دل کی سختی معیوب چیز ہے۔ بڑے سے بڑے مسائل آجائیں، دل نرم ہی نہیں ہوتا۔ بندۂ مومن کا دل نرم ہوتا ہے۔ ہر شخص کے لیے اس میں نرمی و شفقت ہوتی ہے۔ سخت دل جو کسی چیز سے متاثر نہ ہو مومن کا دل نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
فَبِمَا رَحْـمَةٍ مِّنَ اللّـٰهِ لِنْتَ لَـهُـمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْـهُـمْ وَاسْتَغْفِرْ لَـهُـمْ وَشَاوِرْهُـمْ فِى الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ یحِبُّ الْمُتَوَكِّلِینَ (آل عمران:159)
” (اے پیغمبر ؐ )یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ۔ ورنہ اگر کہیں تم تُند خواور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے، ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔“
۷۔ زائغ دل
ٹیڑھا دل۔ جس دل میں سلامت روی نہ ہو۔ صحیح خطوط پر سوچنے کے بجائے غلط اور ٹیڑھے انداز سے سوچے۔ فتنہ پرور دل۔ حق و انصاف کے سلسلے میں مثبت رویہ اپنانے کے بجائے کج روی اختیار کرے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
فَاَمَّا الَّـذِینَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ زَیغٌ فَیتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِیلِهٖ (آل عمران:۷)
”جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔“
۸۔ اندھا دل
قلبِ مریض کی ایک صفت اندھا پن ہے۔ دل کے اندھا ہونے کا مطلب ہے کہ اسے گہرائی سے چیزیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس سے بصیرت کا اندھا پن مراد ہے۔ مومن اپنے مضبوط ایمان اور عمل صالح کی بنا پر دل کی آنکھوں سے حق کی روشنی دیکھ لیتا ہے۔ اصل اندھا پن بصارت کا نہیں، بصیرت کا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَفَلَمْ یسِیـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَتَكُـوْنَ لَـهُـمْ قُلُوْبٌ یعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ یسْـمَعُوْنَ بِـهَا فَاِنَّـهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِىْ فِى الصُّدُوْرِ(الحج:46)
”کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔“
ایمان کا مسکن چونکہ دل ہے لہذا اس دل کو ہمیشہ قلب سلیم بنائے رکھنے کی فکر ہونی چاہیے۔ دل کی خبرگیری میں اگر کوتاہی ہو تو دھیرے دھیرے دل مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دل کے بارے میں فکر مندی دل کو پر وقار بناتی ہے، جہد و عمل کے لیے آمادہ کرتی ہے، اللہ تعالی سے قریب کرتی ہے اور جنت میں جانے کا مستحق بناتی ہے۔ (جاری)







