تطہیرِقلب

ساتویں بیماری: دل کی سختی

دل کی سختی (قساوتِ قلب) دل کی سنگین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اللہ رب العزت نے دل کو بہترین صلاحیتوں سے مالا مال جسمِ انسانی کا بادشاہ بنایا ہے۔ اس کے اندر نرمی، لطافت، محبت اور دوسروں کے لیے غم گساری کے جذبات موجود ہیں، لیکن جب انسان کا دل قلبِ سلیم ہونے کے بجائے مختلف بیماریوں کی آماج گاہ بن جاتا ہے تو دھیرے دھیرے دل کے اندر نرمی اور لطافت کے بجائے سختی اور قساوت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ دل حق و صداقت کو قبول کرنے کے بجائے ضلالت و گم راہی کا دلدادہ ہو جاتا ہے۔ پھر ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ کفر و شرک کی طرف میلان اور توحیدِ خالص سے تنفر کی بنا پر نرم و نازک دل پتھر ہو جاتا ہے، یا اس سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِی كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا یشَّقَّقُ فَیخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا یهْبِطُ مِنْ خَشْیةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (البقرۃ: ۷۴)

’’مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمھارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرح سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیوں کہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے۔ اللہ تمھارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘

نبی اکرم ﷺ ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں۔ آپؐ بہترین اخلاق پر فائز تھے اور سب کے لیے شفیق و رحیم تھے۔ آپؐ کا دل سب کے لیے محبت کے جذبات سے لبریز تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ یحِبُّ الْمُتَوَكِّلِینَ (آل عمران:۱۵۹)

’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔ اِن کے قصور معاف کردو، اِن کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمھارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسا کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔‘‘

نبی کریم ﷺ کا دل رحم کے جذبات سے لبریز تھا۔ آپؐ ہر شخص سے محبت فرماتے اور اس کے کام آتے تھے۔ بچوں سے بھی آپؐ غیر معمولی محبت کرتے۔ ایک مشہور حدیث ہے :

قَبَّلَ رَسولُ اللهِ ﷺ الحَسَنَ بنَ عَلی وعِندَه الأقرَعُ بنُ حابِسٍ التَّمیمی جالِسًا، فقال الأقرَعُ: إنَّ لی عَشَرةً مِنَ الولَدِ ما قَبَّلتُ منهم أحَدًا، فنَظَرَ إلیه رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ علیه وسلَّم ثُمَّ قال: مَن لا یرحَمُ لا یرحَمُ (رواہ البخاری)

’’ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔ آپؐ کے پاس حضرت اقرعؓ بن حابس تمیمی بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرعؓ نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں، میں نے ان میں سے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘

نبی کریم ﷺ کے اسوہ پر ہمیں عمل کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو دل کی سختی سے بچانا چاہیے۔ دل کو شفاف رکھنا اور اسے ہر طرح کی سختی سے محفوظ رکھنا قلبِ سلیم کی صفات میں سے ہے۔

دل کی سختی کی علامتیں

دل کی سختی کی بہت سی علامات ہیں، جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کا دل سخت ہو گیا ہے لہٰذا ہمیں ان علامات پر سنجیدگی کے ساتھ نگاہ رکھنا چاہیے کہ کہیں یہ ہمارے اندر تو ظاہر نہیں ہونے لگی ہیں۔

دل کی سختی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے ذکر سے غفلت برتنے لگتا ہے۔ اس کی طبیعت اللہ تعالیٰ کی یاد میں نہیں لگتی۔ دن بھر وہ لایعنی کاموں میں مصروف رہتا ہے، لیکن اسے اللہ کے ذکر کی فکر نہیں ہوتی۔ جب کہ بندۂ مومن کا شیوہ ہے کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:

الَّذِینَ یذْكُرُونَ اللَّهَ قِیامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَیتَفَكَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران:۱۹۱)

’’جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غورو فکر کرتے ہیں۔ ( وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں)‘‘پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ ‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ ہے کہ عبادات میں خشوع و خضوع کی کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ بندے کو عبادات میں لذت محسوس نہیں ہوتی اور وہ خشوع و خضوع کے بجائے پراگندہ خیالی کا شکار رہنے لگتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَةًؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن (الاعراف:۵۵)

’’اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے حیا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا بندۂ مومن کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا استحضار اس کے اندر سے کم ہونے لگتا ہے اور جواب دہی کا احساس کم زور ہو جاتا ہے۔ بندۂ مومن کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حیا کرے اور اس کا حق ادا کرے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

استحیوا من اللهِ تعالى حقَّ الحیاءِ(رواہ الترمذی)

’’اللہ سے حیا کرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بندے کے اندر خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی کا جذبہ کم ہونے لگتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے غلط کاموں سے نہیں رکتا، البتہ دنیا کا خوف اس کے اوپر مسلط رہتا ہے۔ بندۂ مومن کی صفت یہ ہے کہ اس کا ہر کام حبِّ الٰہی جل جلالہ اور خوفِ خدا کے جذبات سے لبریز ہوکر انجام پاتا ہے کہ جنت کا راستہ یہی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِی الْمَأْوَىٰ (سورۃ النازعات: ۴۰-۴۱)

’’اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا، جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بندے پر وعظ و نصیحت کام نہیں کرتی۔ وہ آخرت کے بارے میں بے حس ہوجاتا ہے اور شدید غفلت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اچھی بات بتائی جاتی ہے تو اس پر غور و فکر کرنے اور عمل کرنے کے بجائے اس کے خلاف سوچتا ہے، جب کہ مومن بندہ پورے شوق کے ساتھ اچھی باتوں پر عمل کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُوْۤا اِلَی اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ (الزمر:۱۷-۱۸)

’’اور جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رُجوع کرلیا اُن کے لیے خوش خبری ہے۔ پس (اے نبیﷺ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو جو بات کو غور سے سُنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانش مند ہیں۔‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ وہ ان کی بات نہیں مانتا، ان کا خیال نہیں رکھتا، ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے اور ان کی نافرمانی کرنے لگتا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ والدین کی نافرمانی گناہِ کبیرہ میں سے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

ألا أُنَبِّئُكم بأكبرِ الكبائِرِ؟ قُلْنا: بلى یا رَسولَ اللهِ. قال: الإشراكُ باللهِ، وعُقوقُ الوالِدَینِ، وكان متَّكِئًا فجَلَس فقال: ألا وقَولُ الزُّورِ، وشَهادةُ الزُّورِ. فما زال یقولُها، حتى قلتُ: لا یسكُتُ (رواہ البخاری و مسلم)

’’ کیا میں تمھیں بڑے گناہِ کبیرہ نہ بتاؤں؟ہم (صحابہؓ) نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں بتائیں تو آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپؐ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے، ٹیک چھوڑ کرآپؐ بیٹھے اور ارشاد فرمایا: خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ ؐ اسے بار بارکہتے رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ ؐشاید ارشاد فرماتے رہیں گے۔‘‘

دل کی سختی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ آدمی کسی سے ہم دردی نہیں رکھتا۔ وہ خود غرض ہو جاتا ہے اور دوسروں کے دکھ درد سے اسے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ غربا، مساکین، یتیموں، بیواؤں، بیماروں اور پریشان حال لوگوں کے بارے میں اس کے دل میں کوئی ہم دردی نہیں ہوتی۔ وہ بے رحم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو پریشانی میں دیکھتا ہے، لیکن اس کا دل نہیں پسیجتا۔ وہ سنگ دل بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں پر ظلم کرنے لگتا ہے۔ لوگوں کی خوشی پر تکلیف اور ان کی تکلیف پر اسے خوشی ہونے لگتی ہے۔ مسکینوں سے محبت مومنوں کی اہم صفت ہے۔ حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں :

أمَرَنی خَلیلی ﷺ بسَبعٍ: أمَرَنی بحُبِّ المَساكینِ، والدُّنُوِّ منهم.(رواہ احمد)

’’مجھے میرے خلیل ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا، (اس میں سے ایک بات یہ ہے) آپؐ نے مجھے مساکین سے محبت کرنے اور ان کے قریب ہونے کا حکم دیا۔‘‘

لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کے کام آئے۔ دل کی سختی لوگوں کی مدد سے روکتی ہے اور اسے خود غرض بنا دیتی ہے۔ قلبِ سلیم کا حامل شخص ہی لوگوں کے کام آسکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے:

أحبُّ الناسِ إلى اللهِ أنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ، وأحبُّ الأعمالِ إلى اللهِ عزَّ وجلَّ سُرُورٌ یدْخِلُهُ على مسلمٍ، أوْ یكْشِفُ عنهُ كُرْبَةً، أوْ یقْضِی عنهُ دَینًا، أوْ یطْرُدُ عنهُ جُوعًا، ولأنْ أَمْشِی مع أَخٍ لی فی حاجَةٍ أحبُّ إِلَی من أنْ أعْتَكِفَ فی هذا المسجدِ -یعنی: مسجدَ المدینةِ- شهرًا(رواہ الطبرانی)

’’لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے جو لوگوں کے کام آئے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کسی مسلمان کے دل میں خوشی ڈالنا ہے یا اس سے کوئی مصیبت دور کردینا ہے یا اس کا قرض ادا کر دینا ہے یا اس کی بھوک مٹا دینا ہے۔ میں کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ جاؤں، یہ بات میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں مسجد نبوی میں ایک مہینہ اعتکاف کروں۔‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی حبِّ دنیا میں مبتلا ہوجاتا ہے، آخرت کی فکر ماند پڑجاتی ہے۔ اس کی زندگی میں صرف ہائے دنیا ہائے دنیا رہ جاتا ہے۔ اس کی دوڑ دھوپ صرف متاعِ دنیا کے لیے رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت، رسول اللہ ﷺ کی محبت دل میں سرفہرست جگہ نہیں بناتی، بلکہ بہت ساری دنیوی محبتیں دل میں بسیرا کرلیتی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کار ہائے نما یاں سرانجام دے رہا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ وہ جنت سے دور ہو رہا ہوتا ہے۔ جس شخص کا دل سخت ہوجاتا ہے، اسے دنیا اور متاعِ دنیا کی محبت جکڑ لیتی ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت آدمی کے سنبھلنے کے لیے کافی ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:

قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِیرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَیكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِی سَبِیلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ یأْتِی اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا یهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ (التوبۃ: ۲۴)

’’اے نبی ؐ! کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسُولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہ نمائی نہیں کیا کرتا۔‘‘

دل کی سختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی کا اچھے کاموں میں دل نہیں لگتا۔ ان کے لیے طبیعت آمادہ نہیں ہوتی۔ وہ جانتا تو سب کچھ ہے، لیکن کرنے کے لیے تیار نہیں ہوپاتا۔ بقول مرزا غالب:

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آتی

علم کے بعد کی منزل یقین ہے۔ آدمی کو علم تو ہوتا ہے، لیکن اس بات پر یقین نہیں ہوتا۔ یہ دل کی سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آدمی جنازے کے ساتھ قبرستان جاتا ہے۔ نمازِ جنازہ کے بعد قبر پر مٹی ڈالنے تک کے وقفے میں وہ قبرستان میں ایران توران کی باتیں ہانکتا ہے، ہنستا ہے اور قہقہے لگاتا ہے۔ اسے اس بات کا علم تو ہے کہ ایک دن میں بھی لوگوں کے کندھوں پر سوار یہاں آکر دفنایا جاؤں گا، لیکن اس بات پر اسے یقین نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ قبرستان میں اپنی قبروں میں آرام کر رہے ہیں، یہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، لیکن اسے اپنی موت یاد نہیں آتی۔ یہ دل کی سختی کا مظہر ہے۔

قرآن مجید نے نماز سے مدد حاصل کرنے کو بہت گراں قرار دیا ہے، لیکن ان لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے جنھیں آخرت کی جواب دہی پر صرف علم نہیں بلکہ یقین ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِیرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِینَ الَّذِینَ یظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَیهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: ۴۵-۴۶)

’’صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے، مگر ان فرماںبردار بندوں کے لیے مشکل نہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ آخر کار انھیں اپنے ربّ سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ جانا ہے۔‘‘

دل کی سختی کے اسباب

دل کی سختی کے اسباب کئی ہیں، ان میں سے ایک بڑا سبب گناہوں میں ملوث ہونا اور ان پر دلیر ہونا ہے۔ آدمی جب گناہ کرتا ہے تو اس کا دل متاثر ہوتا ہے اور گناہ کی تکرار اور کثرت سے پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں دل سخت ہو جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

إنَّ العبدَ إذا أخطأَ خطیئةً، نُكِتت فی قلبِهِ نُكْتةٌ سوداءُ، فإذا هوَ نزعَ واستَغفرَ وتابَ، صُقِلَ قلبُهُ، وإن عادَ زیدَ فیها حتَّى تعلوَ قلبَهُ، وَهوَ الرَّانُ الَّذی ذَكَرَ اللَّه: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا یكْسِبُونَ  (رواہ الترمذی)

’’بے شک بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے۔ جب وہ اس سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے اور استغفار و توبہ کر لیتا ہے تو اس کا دل چمکا دیا جاتا ہے۔ پھر جب وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو سیاہی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ سیاہی اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔‘‘

یہ وہی چھانے والی سیاہی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

كَلَّا  بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا یكْسِبُونَ (المطففین: 14)

’’ہر گز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘

معصیت دل کی سختی کا سبب بنتی ہے اور معصیت سے آدمی کا حافظہ بھی کم زور ہو جاتا ہے لہٰذا معصیت سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ امام شافعی ؒ کا بہت مشہور شعر ہے:

شـَكَوتُ إِلى وَكیعٍ سوءَ حِفظی

فَأَرشَدَنی إِلى تَركِ المَعاصی

وَأَخبَرَنـی بِـأَنَّ العِلمَ نورٌ

وَنـورُ اللَهِ لا یهدى لِعاصی

                                                                (إعانۃ الطالبین: 2/ 167)

’’میں نے(اپنے استاد) وکیع سے اپنے حافظہ کی کم زوری کی شکایت کی تو انھوں نے مجھے معصیتوں کو چھوڑنے کی ہدایت کی اور مجھے بتایا کہ علم نور ہے اور اللہ تعالیٰ کا نور کسی گناہ گار کو نہیں دیا جاتا۔‘‘

دل کی سختی کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ آدمی غلط صحبت اختیار کرے۔ بُرے ساتھی آدمی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور دھیرے دھیرے اس کے قلب کو متاثر کر دیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إنَّما مَثَلُ الجَلیسِ الصَّالِحِ والجَلیسِ السَّوءِ كحامِلِ المِسكِ ونافِخِ الكیرِ؛ فحامِلُ المِسكِ إمَّا أن یحذیك، وإمَّا أن تَبتاعَ منه، وإمَّا أن تَجِدَ منه ریحًا طَیبةً، ونافِخُ الكیرِ إمَّا أن یحرِقَ ثیابَك، وإمَّا أن تَجِدَ ریحًا خَبیثةً. (رواہ مسلم)

’’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال عطر فروش اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔ عطر فروش تمھیں عطر ہدیہ کر دے گا، یا تم اس سے عطر خرید لو گے، یا کم از کم اس سے تمھیں اچھی خوش بو محسوس ہوگی، لیکن بھٹی دھونکنے والا تمھارے کپڑے جلا دے گا یا بدبو تمھیں مل کر رہے گی۔‘‘

اس لیے اس بات کی فکر کرنا چاہیے کہ آدمی اچھی صحبت اختیار کرے۔ اس سے بھلائیوں کی طرف رغبت ہوتی ہے اور دل پر خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

زیادہ ہنسنا بھی سنگ دلی کا سبب بن جاتا ہے۔ ہنسنا منع نہیں ہے، لیکن مستقل ہنستے رہنا اور قہقہہ لگانا غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔ ہنسنے کی کثرت دل کو مردہ کردیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لاَ تُكثروا الضَّحِكَ، فإنَّ كثرةَ الضَّحِكِ تمیتُ القلبَ (رواہ ابن ماجہ)

’’زیادہ نہ ہنسو، کیوں کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔‘‘

دل کی سختی کا ایک سبب أکلِ حرام ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ آدمی حلال کمائے اور حلال لقمہ کھائے۔ لقمۂ حرام آدمی کے دل کو متاثر کر دیتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا:

وذَكرَ الرَّجلَ یطیلُ السَّفرَ أشعثَ أغبرَ یمدُّ یدَه إلى السَّماءِ یا ربِّ یا ربِّ ومطعمُه حرامٌ ومشربُه حرامٌ وملبسُه حرامٌ وغذِّی بالحرامِ فأنَّى یستجابُ لذلِك(رواہ الترمذی)

نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کا تذکرہ کیا جو لمبے لمبے سفر کرتا ہے، جس کے کپڑے اور بال غبار آلود اور پراگندہ ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف دعا کے لیے اٹھاتا ہے۔ اے رب! اے رب! پکارتا ہے، جب کہ اس کا کھانا، پینا اور لباس سب حرام کا ہے اور حرام غذا کھا رہا ہے، تو کہاں سے اس کی دعا قبول ہوگی!‘‘

دل کی سختی کا علاج

احتسابِ ذات کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ہمیں ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے کہ ہمارا دل قلبِ سلیم بن جائے اور ہمیں دل کے امراض سے نجات مل جائے۔

دل کی سختی کے علاج کا ایک بڑا اہم طریقہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد دل کی سختی کو ختم کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس مرض میں مبتلا ہے تو اسے ذکر اللہ کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے۔ دل کا سکون اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہے اور اسی سے دل کی سختی ختم ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28)

’’ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنھوں نے (اِس نبی کی دعوت کو) مان لیا اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔‘‘

دل کی سختی کی ایک شکل دل پر زنگ کا لگ جانا ہے۔ زنگ ختم ہو تو سختی بھی ختم ہونے لگتی ہے اور دل نرم ہو نے لگتا ہے۔ ابن القیم ؒ اپنی کتاب الوابل الصیب میں لکھتے ہیں:

ولا ریب أن القلب یصدأ كما یصدأ النحاس والفضة وغیرهما، وجلاؤه بالذكر، فإنه یجلوه حتى یدعه كالمرآة البیضاء۔ (الوابل الصیب، ص 40)

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ دل کو زنگ لگتا ہے، جیسے تانبہ اور چاندی وغیرہ کو زنگ لگتا ہے اور اس زنگ کو دور کرنے کا طریقہ اللہ رب العزت کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو اتنا روشن کردیتا ہے کہ وہ صاف شفاف آئینے کی طرح ہوجاتا ہے۔‘‘

اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم مستقل اللہ رب العزت کے ذکر میں مصروف رہیں۔ یہ ذکر صرف لسانی ذکر نہ ہو بلکہ قلبی ذکر بھی ہو۔ آپؐ نے ایک صحابیؓ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

أنَّ رجلًا قال یا رسولَ اللهِ إنَّ شرائعَ الإسلامِ قد كثُرت علی فأخبِرنی بشیءٍ أتشبَّثُ به قال: لا یزالُ لسانُك رطبًا من ذكرِ اللهِ. (رواہ الترمذی)

ایک صحابیؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اسلام کے احکام مجھ پر زیادہ ہوگئے ہیں، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جو میں آسانی سے کرلوں۔ تو آپ ؐ نے فرمایا: تمھاری زبان مستقل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔‘‘

دل کی سختی کا ایک علاج یہ ہے کہ بندہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کثرت سے عاجزی اور استغفار کرے۔ اللہ تعالیٰ کی جناب میں تضرع اور عاجزی سے دل نرم ہوتے ہیں، ورنہ وہ قساوتِ قلبی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَینَ لَهُمُ الشَّیطَانُ مَا كَانُوا یعْمَلُونَ (الانعام: ۴۳)

’’پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انھوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔‘‘

دل کی سختی کے علاج کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دل کے اندر اللہ رب العزت کی خشیت پیدا کی جائے۔ خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی سے دل نرم ہوتا ہے اور اللہ رب العزت کی اطاعت و فرماں برداری کےلیے دل یکسو ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے ایسے دل سے جس کے اندر خشیتِ الٰہی نہ ہو:

اللهمَّ إنِّی أعوذُ بك من قلْبٍ لا یخشعُ (رواہ ابو داؤد)

’’اے اللہ تعالیٰ میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو خشیت اختیار نہ کرے۔‘‘

دل کی سختی کا ایک علاج یہ ہے کہ یتیم کی کفالت کی جائے۔ یتیم کے مسائل سے دل چسپی لینے اور اس کی کفالت کرنے سے دل نرم ہوتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حدیث ہے:

أن رجلا، شكا إلى رسول الله صلى الله علیه وسلم قسوة قلبه، فقال له: إن أردت أن یلین قلبك، فأطعم المسكین، وامسح رأس الیتیم (رواہ احمد)

ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپؐ نے اس سے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو کہ تمھارا دل نرم ہوجائے تو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔ (یعنی اس کی کفالت کرو)‘‘

دل کی سختی کا ایک علاج قبروں کی زیارت ہے۔ قبروں کی زیارت سے دل نرم ہوتے ہیں اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

كنتُ نهیتُكم عن زیارَةِ القبورِ ألا فزورُوها، فإِنَّها تُرِقُّ القلْبَ، وتُدْمِعُ العینَ، وتُذَكِّرُ الآخرةَ، ولا تقولوا هُجْرًا۔ (رواہ احمد)

’’میں نے تم کو قبروں کی زیارت سےمنع کیا تھا۔ سنو! اب اس کی زیارت کرو۔ اس لیے کہ یہ دل کو نرم کرتی ہے، آنکھوں کو اشک بار کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے اور کوئی نامناسب بات نہ کہو۔‘‘

دل کی سختی کا ایک بہترین علاج موت کی یاد ہے۔ موت کی یاد دل کو نرم کرنے میں بہت مددگار ہے۔ ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے کہ:

أنَّ امرأة أتت عائشةؓ لتشكو إلیها القسوة. فقالت: أكثری ذكر الموت، یرق قلبك وتقدرین عَلَى حاجتك. قالت: ففعلت، فآنست من قلبها رشدًا، فجاءت تشكر لعائشة -رضی الله عنها۔ (کتاب ذم قسوۃ القلب، ص۲۶۵)

’’ایک عورت حضرت عائشہؓ کے پاس اپنے دل کی سختی کی شکایت لے کر آئی تو آپؓ نے فرمایا: موت کو کثرت سے یاد کرو تو تمھارا دل نرم ہوگا اور تمھاری ضرورت پوری ہوگی۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا تو اس کا دل نرم ہوگیا۔ اس کے بعد وہ عورت حضرت عائشہؓ کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوئی۔‘‘

دل کی سختی ایک سنگین مرض ہے۔ اس کے مریض کے اندر رجوع الی اللہ کا جذبہ کم زور ہو جاتا ہے۔ وہ انابت الی اللہ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع اور عاجزی کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ بندۂ مومن کا شیوہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی پریشانی یا مسئلہ اس کے پاس آئے تو فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس کی بارگاہ میں عاجزی اور دعا کرتا ہے، جس سے اس کا دل نرم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت اس کے اوپر نازل ہوتی ہے۔

دل کی سختی ایک سنگین بیماری ہے۔ اس لیے ہمیشہ اس فکر میں رہنا چاہیے کہ ہمارے اندر کسی بھی طرح کی دل کی سختی نہ آنے پائے۔ ہمارے دل میں خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی پروان چڑھے اوراللہ کے ذکر کی کیفیت سے ہمارا دل آباد رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دل کی سختی سے محفوظ رکھے اور اسے قلبِ سلیم بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تطہیرِقلب

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223