مقصد تخلیق اور مقاصد شریعت

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی

اس  مقالے میں ہم یہ واضح کریں گے کہ مقاصد شریعت اور مقصد تخلیق میں کیا فرق ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں یہ بتایا جائے گا کہ انسانوں کی تخلیق کا مقصد امتحان وآزمائش ہے جب کہ مقصد شریعت رہنمائی اور قیام عدل ہے۔ ہمارے دینی لٹریچر میں دونوں موضوعات، مقصد تخلیق اور مقاصد شریعت پر الگ الگ کافی کام ہوا ہے مگر اس پر بحث نہیں ملتی کہ دونوں کے تقاضے مختلف ہوں تو کس کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ بحث ضروری ہے۔ اس بات کی وضاحت کے بعد کہ مقصد تخلیق کے تقاضے مقاصد شریعت کے تقاضوں پر مقدم ہیں یہ بتایا جائے گا کہ اس اصول کی خلاف ورزی، کہ مقصد تخلیق کے تقاضوں کو مقاصد شریعت کے تقاضوں پر مقدم رکھا جائے، کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ اپنی یہ رائے برائے غوروفکر پیش کی جائے گی کہ حالیہ دورمیں اسلام کے نام پر تشدد اور تخریبی کارروائیوں کے بعض واقعات بالخصوص مسلکی اختلاف کی بنا پر قتل وغارت بڑی حد تک ا سی خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ اسلامی خلافت کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیئے ھوے ھئں وہ بھی اس اصول کی خلاف ورزی کر رہے   ہیں ۔ اسلا م اور مسلمانوں کو ان کاروائیوں سے جو نقصان پہنچ رہا ہے ان کا سد باب اسی وقت ممکن ہے جب ہر خاص وعام یہ سمجھ لے کہ مقاصد شریعت کی تحصیل مقصد تخلیق کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے۔

اس بات پر زور دیا جائے گا کہ تقلید یا سیاسی گہماگہمی کے سبب کسی فرد کو ا ن مسائل میں جن کے بارے میں نص نہ موجود ہو عقل وفطرت کی آواز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ کی کتاب اور اسوۂ رسول کا مطالعہ کرتے رہنے والے کے لئے یہ آواز ہر دلیل اور دباؤ پر بھاری رہنی چاہئے۔ مقصدِ تخلیق یعنی آز مائش اگر ایک طرف آزادیِ انتخاب کو مستلزم ہے تو دوسری طرف اِجتہاد کا بھی طالب ہے۔ آ زمائش میں کامیابی کے لیے زندگی کے ہر موڑ پر و ہ راستہ اختیار کرنا ہے جو خدا کی مرضی کے مطابق ہو۔ چوں کہ قرآن و سنّت میں دی گئی ہدایات محدود ہیں اور وہ مواقع لا محدود ہیں جن میں ہدایت درکار ہوتی ہے، لہٰذا اجتہاد سے مفر نہیں۔ ہر مسلمان کو کوشش کرنا چاہیے کہ پیش آمدہ مسائل میں اﷲ کی مرضی معلوم کرے۔اسی کوشش کا نام اجتہاد ہے۔

اللہ تعالی نے انسانوں کو آزمانے کے لئے امتحان گاہ دنیا میں بھیجا تو ان کو عدل پر قائم رہنے اور عدل قائم رکھنے کی تاکید کی اور عدل کی راہ د کھانے کے لئے پیغمبروں کا سلسلہ قائم کیا۔ شریعت ان تعلیمات کا مجموعہ ہے جو عدل پر قائم رہنے اور عدل قائم رکھنے کے لئے دی گئی ہیں۔ مقصد تخلیق اور مقاصد شریعت کا باہمی تعلق اہمیت کا حامل ہے۔ انسانوں کی فلاح اس میں ہے کہ عدل قائم ہو اور قائم رہے۔ کیسے؟ اس طرح کہ انسانوں کے امتحان کا کام بھی جاری رہے۔ نظری طور پر اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ مقاصد شریعت کی تحصیل ا س طرح کی جائے کہ مقصد تخلیق یعنی امتحان وآزمائش کے کام میں خلل پڑے یا یہ کام معطل ہوجائے، مثال کے طور پر اگر کسی انسان یا انسانی گروہ پر شریعت جبراً نافذ کی جائے، بغیر اس کے کہ اس نے شریعت کو قبول کیا ہو، تو ظاہر ہے کہ اسے امتحان نہیں کہا جاسکتا۔ مقصد تخلیق فوت ہوجائے گا۔

اس  ضمن میں اس نکتہ پر بھی غور کیا جائے گا کہ مقاصد شریعت ایک باہم مربوط اور ہم آہنگ مجموعہ ہیں، ان کی تحصیل کا مطلوب طریقہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر متوازن تحصیل ہو نہ یہ کہ ایک پہلو پر اتنا زور دیا جائے کہ دوسرا پہلو دب جائے۔ ا س بات کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے گا تاکہ معاصر سیکولر نظریات کے زیر اثر اسلامی جدوجہد غیر متوازن اسالیب نہ اختیار کرے۔

مقصد تخلیق

اللہ تعالی نے قرآن حکیم کی متعدد آیات میں بتایا ہے کہ انسانو ں کی تخلیق اور انہیں زمین پر آباد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو آزمایا جائے۔

تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِہِ الْمُلْكُ۝۰ۡوَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ۝۱ۙ الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوۃَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ۝۲ۙ  (ملک:۱۔۲)

’’نہایت بزرگ وبرتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی)۔

وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ۝۰ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ۝۰ۡۖ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝  (انعام: ۱۶۵)

’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیئے ، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے والا او رحم فرمانے والا بھی ہے‘‘۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَيُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۔(سورہ کہف:۷)

’’یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں، ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔

امتحان زندگی میں کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کی جائے۔ اسی لئے فرمایا:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۝(ذاریات:۶۵)

’’میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں‘‘۔

عبادت وہی معتبر ہے جو شریعت کے مطابق ہو۔

قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا جَمِيْعًا۝۰ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِــعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ (بقرہ:۳۸)

’’ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تم تک پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں رہے گا‘‘۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۔(سورہ جاثیہ:۱۸)

’’اس کے بعد اے نبیﷺ ہم نے تم کو ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے‘‘۔

شریعتیں بھی امتحان وآزمائش کے لئے دی جاتی ہیں۔

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُہَيْمِنًا عَلَيْہِ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ۝۰ۭ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا۝۰ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ۝۰ۭ اِلَى اللہِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۝    (مائدہ: ۴۸)

’’پھر اے نبیﷺ ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منھ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم (انسانوں) میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا رب چاہتا تو سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا لیکن اس نے یہ اس لئے کیا کہ جو کچھ تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے لہذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو‘‘۔

عبادت انعام کی مستحق اسی صور ت میں ہے جب وہ آزادانہ اختیار پر مبنی ہو۔

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْـتَكْبَرُوْا عَنْہَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝۰ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْن۔(اعراف:۳۶)

’’اے بنی آدم یا درکھو اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنارہے ہوں تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا او راپنے رویہ کی اصلاح کرلے گا، اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے، اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا۝۰ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِہُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝  (یونس:۹۸)

’’اگرتیرے رب کی مشیت ہوتی (کہ زمین میں سب مومن وفرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آتے، پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟‘‘۔

لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ۝۰ۣۙ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۝۰ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى۝۰ۤ لَاانْفِصَامَ لَہَا۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ (بقرہ: ۲۵۶)

’’دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے، صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔

’’فلذلک فادع واستقم کما أمرت ولا تتبع أہواۂم وقل آمنت بما أنزل اللہ من کتابٍ وأمرت لأعدل بینکم اللہ ربنا وربکم لنا أعمالنا ولکم أعمالکم لا حجۃ بیننا وبینکم اللہ یجمع بیننا وإلیہ المصیر‘‘ (شوری: ۵۱)۔

’’(اے محمدﷺ)اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس پر مضبوطی سے قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ : ’’اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے)۔

امتحان وآزمائش کے لئے آزادئ اختیار ضروری ہے، اگرچہ پسندیدہ بات یہی ہے کہ آدمی عقل سے کام لے اور اچھائی اختیار کرے لیکن اگر کوئی اس کے خلاف راہ اختیار کرتا ہے تو اسے ایسا کرنے دیا جائے گا، کیونکہ آزادی اختیار چھین کر صحیح راہ پر چلا دینا مقصد تخلیق یعنی امتحان وآزمائش سے میل نہیں کھاتا۔

ہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْہِ كُفْرُہٗ۝۰ۭ وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِلَّا مَقْتًا۝۰ۚ وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُہُمْ اِلَّا خَسَارًا۔ (فاطر:۳۹)

’’وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے ، اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کفر کا وبال اسی پر ہے۔ اور کافروں کو ان کا کفر اس کے علاوہ کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب ان پر زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے اور کافروں کے لئے خسارہ میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں‘‘۔

قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ۝۰ۙ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا۝۰ۙ اَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُہَا۝۰ۭ وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُہْلِ يَشْوِي الْوُجُوْہَ۝۰ۭ بِئْسَ الشَّرَابُ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مُرْتَفَقًا۝                      (سورہ کہف: ۲۹)

’’کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے۔ ہم نے انکار کرنے والے ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کررکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا مونھ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بری آرام گاہ!‘‘۔

مقاصد شریعت

شریعت انسانوں کی دنیوی اور اخروی فلاح کا چارٹر ہے۔ شریعت پر عمل اور اس کے نفاذ سے عدل وقسط کا قیام عمل میں آتا ہے، آخرت میں اچھے انجام کے ساتھ دنیا میں بھی خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ دنیا سے ظلم وفساد کا ازالہ عمل میں آتا ہے اور انصاف واصلاح کا دور دورہ ہوتا ہے۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ۝        (سورہ حدید:۲۵)

’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایت کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں، یہ اس لئے کہا گیا کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اسے دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، یقیناًاللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے‘‘۔

طٰہٰ۝مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي۝اِلَّا تَذْكِرَۃً لِّمَنْ يَّخْشٰى۝(سورہ طٰہٰ: ۱۔۲)

’’طٰہٰ ہم نے یہ قرآن تم پر اس لئے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑجاؤ یہ تو ایک یاددہانی ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے‘‘۔

فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي۝۱۲۳ وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۝(طٰہٰ:۱۲۲۔۱۲۳)

’’پھر جو میری ہدایت پر چلے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بدحال اور جو میری یاد سے کترائے گا اس کی دنیوی زدگی تنگ حال ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے‘‘۔

آزمائش کے طور پر جو آزادی دی گئی ہے اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی برائی کی راہ اختیار کرے جس سے زمین میں صلاح کی جگہ فساد رونما ہو۔

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝(روم:۴۱)

’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھایا جائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں‘‘۔

اس کا علاج یہ ہے کہ قوم کے سمجھدار اور صالح لوگ فساد کے انجام بد سے آگاہ کرکے فساد سے روکیں۔

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّۃٍ يَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْہُمْ۝۰ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْہِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۝ (ہود:۱۱۶)

’’پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گذر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا ورنہ ظالم لوگ تو انہیں مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیئے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے‘‘۔

یہی نکتہ ہے جس کا سہارا لے کر فرشتوں نے یہ سوال اٹھا دیا تھا کہ جب اس نئی مخلوق کے ہاتھوں فساد مچائے جانے کا امکان ہے تو اسے بنایا ہی کیوں جارہا ہے:

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۝۰ۭ قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْہَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْہَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ۝۰ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ۝۰ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔(بقرہ:۳۰)

’’پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ’’انہوں نے عرض کیا‘‘ کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کرہی رہے ہیں، فرمایا: ’’میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے‘‘۔

اللہ تعالی کو فساد ناپسند ہے۔ وہ زمین میں صلاح چاہتا ہے۔ اس نے اصلاح کے طریقے بتا دیئے اور فساد کے انجام بد سے آگاہ کردیا۔ مگر حکمت الہی اس کی متقاضی ہوئی کہ اصلاح کا کام انسان انجام دیں اور اس کارگزاری پر ان کو انعام دیا جائے۔ جو فسادی بنیں وہ اپنی غلط کاری کی سزا پائیں گے اس دنیا میں اور اس کے بعد آخرت میں بھی، مگر اصلاح ان پر زبردستی مسلط کرنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا گیا ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُہٗ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيُشْہِدُ اللہَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِہٖ۝۰ۙ وَھُوَاَلَدُّ الْخِصَامِ۝ وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ(بقرہ:۲۰۴۔۲۰۵)

’’انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے کہ جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر باربار وہ خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے، مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے، جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا‘‘۔

فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۔ وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ۔ الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ۝(الشعراء:۱۵۰۔۱۵۲)

’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، ان بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے‘‘۔

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝(روم:۴۱)

’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھایا جائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں‘‘۔

مقصد شریعت چاہتا ہے کہ زمین ظلم و فساد سے پاک رہے مگر، مقصدِ تخلیق کے پیش نظر، یہ نہیں مناسب تھا کہ ظلم و فساد کے تمام راستے مسدود کر دیے جا تے۔ چنانچہ ایک کے ظلم سے دوسرے کو بچانے اور سماج کو فسادیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے، حدود و تعزیرات کے ذریعے روک تھام کے ساتھ ظلم و فساد کی آ زادی کو باقی رکھّا گیا۔ سورہِ روم کی مذکورہ بالا آیت میں ا یسا کرنے کی ایک اور حکمت کا بھی ذکر ہے: دنیا میں ظلم و فساد کے برے نتائج وارننگ کا کام کرتے ہیں۔

مقصد تخلیق اور مقاصد شریعت کے فرق کی اہمیت

ہمارے لئے مقصد تخلیق اور مقاصد شریعت میں اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنے اسلامی مشن، دعوت الی الخیر، کی انجام دہی میں اس حکمت الہی کو پامال نہ کریں جو اس فرق کی متقاضی ہوئی ہے، لوگوں تک اس ہدایت کو پہنچانا جو اللہ نے اپنے آخری رسول محمدﷺ کے ذریعہ رہتی دنیا تک کے لئے بھیجی ہے۔ اسی پر ہم مامور ہیں۔ ماننا نہ ماننا، ان ہدایات پر عمل کرنا یا نہ کرنا، یہ ان کا کام ہے جنہیں ہدایت الہی پہنچائی جارہی ہے، ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ انہیں ہدایات الٰہی کو ماننے یا ان پر عمل کرنے پر مجبور کرسکیں، اللہ تعالی نے ہمیں اس کا اختیار نہیں دیا ہے۔

مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْہِ كُفْرُہٗ۝۰ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ يَمْہَدُوْنَ۝۴۴ۙ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝   (روم:۴۴۔۴۵)

’’جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے اور وہ اپنے ہی لئے (فلاح کا راستہ) صاف کررہے ہیں تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے۔ یقیناًوہ کافروں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔

سلف صالح کو اس فرق کا پورا شعور تھا اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ شریعت کی پیروی سے آگے بڑھ کر شریعت کے نفاذ میں اس فرق کا لحاظ ضروری ہے۔ مقاصد شریعت کی تحصیل مطلوب ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ مقصد تخلیق جن آزادیوں کا تقاضا کرتا ہے ان کو پامال نہ کیا جائے۔ خدا کی شریعت کو اسلام نہ قبول کرنے والوں پر جبراً نافذکرنے سے احتراز اس لئے ضروری ہے کہ اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے کی آزادی باقی رہے۔ اسلام نہ لانے والوں کو آزادی ہے کہ وہ اللہ کے قانون کی جگہ اپنا قانون بنائیں۔ اس کا انجام برا ہوگا جس سے انہیں آگاہ کردیا گیا ہے مگر انہیں بزور قوت اسلامی شریعت کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔

جیسے فرشتوں کو تعجب ہوا تھا اسی طرح بہت سے نیک نیت مسلمانوں کو بھی یہ خیال ہوتا ہے کہ دنیا میں صلاح وخیر کو بزور قوت قائم کیا جاسکتا ہے اور حق کو نہ پہچاننے اور نہ قبول کرنے والوں کو بزور قوت اسلامی شریعت کے خلاف اپنے معاشی، سیاسی، سماجی طریقوں پر عمل پیرا ہونے سے روکا جاسکتا ہے تو ایسا کیوں نہ کیا جائے۔ چنانچہ بعض اسلامی گروہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ انسانوں کو خدا کا بندہ بن کر رہنے پر مجبور کریں۔یہ موقف درست نہیں ہے۔

اسی طرح بعض لوگ جو کسی ایک مسلک سے وابستہ ہوتے ہیں دوسرے مسلک سے وابستہ لوگوں کو برسر غلط مان کر ان کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور اگر وہ بدلنے پر نہ آمادہ ہوں تو ان کے خلاف کارروائیاں کرنے کو صحیح سمجھتے ہیں یہ موقف بھی غلط ہے۔

کچھ مسلمان یہ رویہ ان لوگوں سے تعامل میں اختیار کرتے ہیں جو اسلام کے دائرہ سے باہر ہیں تو کچھ مسلمان ایسے بھی ہیں جو یہی رویہ دوسرے مسلمانوں کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔ وہ جو  اپنے ہی مسلک کو سچا اسلام سمجھتے ہیں کسی دوسرے مسلک کو غیر اسلام سمجھ کر اسے نیست ونابود کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں، اس کے پیرووں پر حملے کرتے ہیں ان کی مسجدوں، مدرسوں وغیرہ کو تشدد کا ہدف بناتے ہیں۔ ان سب کاروائیوں کا جواز وہ زمین سے فساد دور کرنے اور اصلاح حال میں بیان کرتے ہیں۔ بعض لوگ ازالۂ منکر اور امر بالمعروف کے فریضہ کا بھی سہارا لیتے ہیں۔

حکمت دعوت

اسوۂ رسالت کی روشنی میں دعوت اسلامی کے خادموں کو اہم تر اور کم اہم امور میں فرق کرنے کے ساتھ انسانوں کے ذوق، رہن سہن کے طریقوں اور ان کی اپنی ترجیحات کی رعایت کو ملحوظ رکھنا چاہئے تاکہ دعوت کے اصل مقصود، (انسانوں کو راضی خوشی بندگی رب کی طرف بلانے میں) چھوٹی چھوٹی باتیں رکاوٹ نہ بنیں۔ خاص طور پر جن امور کی نسبت سے سماج کے کسی گروہ میں یہ احساس پایا جائے کہ ماضی میں اسے اس کا حق نہیں ملا ہے، کافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ اللہ نے تو تمام انسانوں کو یکساں شرف وکرامت سے نوازا ہے، جیسا کہ آیت ’’لقد کرمنا بنی آدم‘‘ (بنی اسرائیل:۰۷) میں صراحت ہے، مگر بہت سے علاقوں میں بہت سے انسانوں کو ذلیل اور حقیر بناکر رکھا گیا جس ذلت اور حقارت سے وہ اب نکل چکے ہیں مگر ان کے ماضی نے انہیں اس بارے میں غیرمعمولی حساس بنادیا ہے۔ یہی حال صنف نازک کا ہے۔ عرصہ تک انسانی سماج میں عورتو ں  کو مرد کی برابری کا وہ مقام نہیں دیا گیا تھا جو اللہ کی نظر میں جواب دہ بندے کی طور پر انہیں حاصل ہے۔ اب انہیں برابری کا حق ملا ہے تو جہاں انھیں اس میں کوئی کوتاہی نظر آتی ہے وہ اس کی تلافی کے لئے غیرمعمولی جوش وخروش سے آگے بڑھتی ہیں۔ اسلام کے داعی کو نابرابری یا عورت کو مرد کے ماتحت رکھنے کے رجحان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ دونوں صنفوں کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والا جان کر، ساتھ ہی ہر ایک کی علیحدہ مسؤلیت کو سمجھ کر، ان کو برابری کا درجہ دیتا ہے۔ عہد رسالت میں بعض قبائل کے عادات واعراف اس مزاج سے دور تھے چنانچہ نبیﷺ وصیت کرگئے کہ مرد صنف نازک کے ساتھ نرمی کا سلوک برتیں۔

الا واستوصوا بالنساء خیراً…..(ترمذی، سنن، باب  ما جاٗ فی حق المرٗۃ علیٰ زوجھا۔، حدیث نمبر: ۱۱۶۳)

یہ بات بڑی اہم ہے کہ صنف نازک کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید نبیٔ آ خر الزماں ﷺنےحجۃ الوداع کے موقع پر امت سے اپنے آ خری خطاب میں کی تھی، جیسا کہ محولہ بالا حدیث میں صراحت ہے۔

دنیا کے نئے احوال میں قابل توجہ یہ بات بھی ہے کہ جغرافی حدود اور فاصلے اپنی اہمیت کھوچکے ہیں اور آنا فاناً اتصالات اور تیز رفتار مواصلات نے دنیا کو ایک آبادی بنا رکھا ہے۔ باہمی مفادات کے تحت آبادیاں بھی ہر خطّہ میں ملی جلی ہوتی جارہی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ہر خطہ میں ہر نسل ورنگ کے لوگ گھلے ملے پائے جائیں گے۔ اس گھل مل کر رہنے کے کچھ تقاضے ہیں جو دین اسلام کے بنیادی ارکان میں سے کسی کو مجروح کئے بغیر بآسانی پورے کئے جاسکتے ہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ مشترکہ مفادات کے تحفظ اور انتظام وانصرام کے استحکام کے لئے کیا طریقے اختیار کئے جائیں تو اسلام نے باہمی مشورہ سے فیصلے کرنے اور استبداد کا طریقہ نہ اختیار کرنے کی تاکید کرکے ہمیں ا یک واضح راہ پر چلادیا ہے۔

دین اسلام کے فریم ورک میں اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہودی اور بدھسٹ، نیز وہ لوگ جو کسی آسمانی تہذیب کے قائل نہ ہوں یہاں تک کہ خدا کے منکرین بھی…… ایک ساتھ پرامن زندگی گذار سکیں۔

ایک نیا سوال جو ہماری پچھلی تاریخ میں سامنے نہیں آیا تھا یہ ہے کہ کسی خطّء زمین پر برابر کا حق رکھنے والے شہری اگر مختلف عقائد اور تصوّّ ر کائنات کے حامل ہوں اور طرزَ حکمرانی کے بارے میں مختلف رائیں رکھتے ہوں تو ان کے مل جل کر رہنے کا فارمولا کیا ہو کہ وہ امن و امان کی زندگی گزار سکیں انھیں برابر کے حقوق حاصل ہوں کسی کو بنیادی آزادیوں سے محروم نہ ہونا پڑے نہ اپنی مرضی کے خلاف عقائد اور نظریات ماننے پڑیں۔

مشکلات اس صورت میں اور بڑھ جاتی ہیں جب ان گروہون کو ایک دوسرے پر بھروسہ نہ ہو۔ جیسا کہ آج کل شمال افریقہ کے ان عرب ممالک میں ہو رہا ہے جہان حال ہی میں بادشاہی نظام کا خاتمہ ہوا ہے۔ سیکولر، لبرل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی لوگ چوں کہ خدا کا حکم جان کر ایک موقف اختیار کیئے ہوے ہیں لہٰذا و ہ کسی فارمولے کے تحت بھی اپنا موقف نہیں چھوڑ سکتے۔دوسری طرف اسلامی گروہ یہ سمجھتے ہیں کہ لبرل گروہ آزاد معاشرت اور بے قید معیشت کے مغربی ماڈل سے مختلف ہر نظام کو سبوتاز کرنے کے درپے رہیں گے۔

اس سوال کا کوئی قطعی جواب تلاش کرنے کے لیئے ہمیں زمینی حقائق کا قریب سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ایک تجربہ ترکی میں ہورہا ہے دوسرا تیونسیا میں۔ساتھ ہی ہمیں برطانیہ،جرمنی اور شمال امریکہ میں جاری عمل کو بھی دیکھنا ہوگا۔دائرہِ امکانات سے باہر کسی حل کی تمنّا بے سود ہے۔ارشادِ خداوندی فا تّقوااﷲ ما  ا ستطعتم کے مطابق سارے انسانوں کی جان اور بنیادی حقوق کی ضمانت کے ساتھ مشترکہ امور میں باہمی مشورے سے فیصلے کے طریقہ پر عمل کرنا چاہیے۔

گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال میں ذرائع نقل وحمل اور مواصلات نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ اس طرح کی ملی جلی آبادیاں وجود میں آتیں جو آج پھیلتی جارہی ہیں پھر بھی تجارتی ضروریات کے تحت ایسے Pocket وجود میں آگئے تھے جن کی آبادیاں ملی جلی تھیں۔ ان میں سے بعض آبادیاں بغداد اور بصرہ جیسی اسلامی اقتدار والی زمینوں پر تھیں تو بعض کیرالا کے ساحلی علاقوں اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ مقامات پر غیر مسلم راجاؤں کے اقتدار میں تھیں (جن میں سے بعض کا ذکر ابن بطوطہ کے سفر نامے میں ملتا ہے) ضرورت ان علاقوں کے مسلمانوں اور ان کے علماء کے بارے میں تفصیلی تحقیقی کام کی ہے۔

مقصد تخلیق کی اہمیت اور اولیت سمجھنے کا بڑا فائدہ انسان میں تواضع Humility پیدا ہونے کا ہے۔ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ جس راہ پر ہمارا تیز قدم آگے بڑھا نا مطلوب ہے وہ ایک لامتناہی راستہ ہے جو کبھی کسی ایسی جگہ نہیں لیجاتا جسے آپ آخری نقطہ قرار دیں، مسلسل قدم بڑھاتے رہنا ہی کامیابی ہے، کسی متعین نقطۂ کمال یا عروج تک پہنچ جانا نہیں بلکہ اس کی سعی کرتے رہنا ہی مومن کا کام ہے۔

ہماری زندگی اور انسانی تاریخ یوں تو زندگی کے ہر پہلو میں اس تجرباتی کیفیت کی مثالیں پیش کرتی ہے مگر عدل کی تلاش میں اس کی مثالیں بہت واضح ہیں۔چنانچہ معاشی زندگی میں عدل کی تلاش کے ایک گوشہ، نظام زر اور فنانس میں عدل کی تلاش کی مثال دینے کی کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ بڑھتی آبادی اور ترقی پذیر ذرائع نقل وحمل اور مواصلات کے ساتھ فنانس کی توسیع عمل میں آتی ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ رقمیں بھیجنے کی ضرورت پڑتی ہے، جب کہ بعض اوقات دوسری جگہ وہ سکہ نہیں چلتا جو پہلی جگہ چلتا ہے۔ اسی طرح ایک وقت سرمایہ لگا کر کچھ عرصہ بعد دوسرے وقت اس کے نتائج سامنے آنے کی صورت میں اس کی ضرورت پڑتی ہے کہ ’نفع‘ (بڑھوتری) یا نقصان (کمی) کی تعیین کی جائے اور اسے شرکاء کار کے درمیان تقسیم کیا جائے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مال آنے والا ہوتا ہے مگر اس کے ہاتھ میں آنے سے پہلے اس کے آنے کی تحریری اطلاع کی بنیاد پر اس کا سودا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسلام زندگی کو مشکل بنانا نہیں چاہتا بلکہ آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔

’’یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر‘‘ (البقرہ: ۵۸۱)

’’اللہ تمہارے ساتھ نرمی چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا‘‘

البتہ وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ شرکاء کار کے درمیان معاملات عدل پر مبنی ہوں اور کوئی ایسا معاملہ نہ ہو جو عام لوگوں کو نقصان پہنچائے۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ بدلتے حالات میں نئے نئے معاملات میں عدل کی تحقیق کوئی ایسا کام نہیں ہے جس میں شریعت ہاتھ پکڑ کر چلاسکے بلکہ چلنے والوں کو خودراستے تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ یہ کام ایسا ہے جس میں غلطی بھی ہوسکتی ہے، جس کے بعد غلطی کی تلافی کرکے راستہ بدلنا ممکن ہوتا ہے۔

فنانس انسانی زندگی کی ایک ضرورت ہے۔ہر سماج میں کچھ لوگوں کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آج مزید وسائل مل جائیں تاکہ وہ اپنی ذاتی یا کاروباری ضرورتیں پوری کر سکیں۔انھیں امید ہوتی ہے کہ ان وسائل کے استعمال کے نتیجے میں ان کو اتنی آمدنی ہو گی کہ وہ دوسروں سے لیئے وسائل کو اضافے کے ساتھ واپس کر سکیں گے۔ دوسری طرف سماج میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے پاس فاضل مال ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ مزید دولت کمانا چاہتے ہیں۔سماج کے ان دونوں گروہوں کے درمیان لین دین کے مروّجہ اور ممکن طریقوں میں سے کچھ عادلانہ ہوتے ہیں کچھ ظالمانہ۔اسلام نے سود پر قرض دینے کے طریقہ کو ممنوع قرار دے کر ظلم کا ایک دروازہ بند کر دیا ہے۔ لین دین کے دوسرے طریقے ممکن اور رائج رہے ہیں،عدل کے ضامن دوسرے طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

اوپر ایسی تحریروں کا ذکر آیا جن کا تعلّق مالی لین دین سے ہو، خاص طور پر نقد کی ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے سے۔ صک بھی مال کے استحقاق یا ملکیت کے بارے میں ایک تحریر کا نام ہے۔ صکوک کا ذکر حدیثوں میں پہلی بار سیدنا عمر بن الخطاب کے زمانہ میں ملتا ہے۔ موطا امام مالک کی حدیث نمبر 1313 سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر سے آنے والے گیہوں کا نظم حکیم بن حزام نامی صحابی کے ذمہ تھا۔ حکیم بن حزام نے آنے والے گیہوں کے صکوک کی تجارت سے کافی نفع کمایا۔ جب سیدنا عمرؓ کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس تجارت سے حاصل ہونے والے نفع کو بیت المال میں داخل کردیا جانا چاہئے۔ موطا امام مالک کی حدیث نمبر 1314 سے معلوم ہوتا ہے کہ اموی دور میں مروان بن حکم کے زمانہ میں بھی صکوک کا معاملہ ابھر کر سامنے آیا۔ فوجی خدمت کے عوض جن افراد کو سالانہ وظائف دیئے جاتے تھے انہیں وظیفہ کے طور پر ملنے والے غلہ کا ایک صکّ (چک  ۔  پرچی) پہلے مل جاتا تھا جسے وقت مقررہ پر دکھا کر وہ غلہ حاصل کرسکتے تھے۔ لوگوں نے ان صکوک کی خریدوفروخت شرو ع کردی جن پر دوصحابیوں نے اعتراض کیا اور خلیفہ نے اس کاروبار کو روک دیا۔ مگر صحیح مسلم کے شارح امام نووی نے مسلم کی حدیث نمبر 2818 کی شرح میں واضح کیا ہے کہ یہ کاروبار جاری رہا اور امام نووی اس کے جواز کے حق میں مصنف عبد الرزاق کی حدیث نمبر 131 کا حوالہ دیتے ہیں۔

اس مثال کا سبق یہ ہے کہ وقت گذرنے اور امکانات بڑھنے کے ساتھ لوگ نئے نئے طریقے اختیار کرتے ہیں جن کے نتیجہ میں بازار میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور ترقی عمل میں آتی ہے۔ حکومتیں اور ان کی رہنمائی کرنے والے اہل علم بجاطور پر ان نئے طریقوں کو عدل وانصاف کے معیار پر پرکھتے ہیں او ربازار کو ان قیود وشرائط کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو عدل کی تحقیق کے لئے درکار ہوں۔ دونوں فریق اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کرتے ہیں، جس میں اختلاف ہونا ممکن ہے۔ چنانچہ صکوک کی خریدوفروخت کی جو بحث پہلی صدی ہجری میں اٹھی تھی وہ آج تک جاری ہے۔ اکیسویں صدی میں عدل کے ساتھ معاشی ترقی کے لئے ہمارے لئے صکوک جیسی چیزوں کی روئداد جاننا بہت ضروری ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ معیشت میں مرضیات الہی کے تتبع میں اسلاف نے کیا کیا اور ہمیں کیا کرنا ہے۔ یہی حال زندگی کے دوسرے میدانوں بالخصوص حکمرانی اور معاشرت کا بھی ہے۔ تغیر پذیر دنیا میں اسلامی زندگی گذارنے کے لئے اجتہاد ناگزیر ہے اجتہاد کے لئے اپنے زمانہ کے حالات جاننے کے ساتھ ماضی کے تجربات جاننے کی بڑی اہمیت ہے۔

اس تفصیل سے جس نکتہ پر زور دینا مقصود ہے وہ یہ کہ مرضیات الہی کے تتبع اور عدل کی تلاش میں اجتہاد ناگزیر ہے، اور یہ کہ یہ اجتہاد بھی اسی آزمائش وامتحان کا ایک حصہ ہے جس کی وضاحت مقصد تخلیق کے طور پر ہم اوپر کرچکے ہیں۔ ہر مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر معاملہ میں قدم اٹھاتے وقت سوچے کہ اللہ کی مرضی کیا ہے اگر اسے اس سوال کا جواب نہ معلوم ہو جیسا کہ نئے پیش آمدہ مسائل بالخصوص بزنس، حکمرانی اور نئے رشتوں کے باب میں اکثر ہوتا ہے تو یہ جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے ۔ اہل علم سے رجوع، باہمی مشاورت، ….. وغیرہ سب اسی کوشش میں شامل ہیں۔ عقل وفطرت سے رہنمائی حاصل کرنا بھی اسی ضمن میں داخل ہے۔ اہم بات یہ نہیں کہ کسی مسئلہ میں کون سا طریقہ کام آتا ہے بلکہ یہ ہے کہ بندہ راہ پانے کی کوشش کرے۔ اس کوشش کا نام اجتہاد ہے۔ اسی کوشش کا عزم حضرت معاذ بن جبلؓ نے کیا تھا جس کی تائید وتوثیق اللہ کے رسول نے فرمائی تھی:

جب رسول اللہﷺ نے معاذ کو یمن بھیجنا طے کیا تو فرمایا: جب کوئی معاملہ تمہارے سامنے آئے گا تو فیصلہ کیسے کروگے؟ وہ بولے: میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ نبیﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تمہیں (اس کا جواب) نہیں ملا تو؟ (معاذ نے) کہا پھر اس کے رسول کی سنت کے مطابق (فیصلہ کروں گا)۔ آپﷺ نے پوچھا اگر تمہیں اللہ کے رسول کی سنت میں بھی جواب نہ ملا اور اللہ کی کتاب میں بھی نہ ملا تو کیا کروگے۔ معاذ بولے پوری کوشش کرکے رائے قائم کروں گا اور کوشش میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑوں گا۔ یہ سن کر رسول اللہﷺ نے اپنے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: شکر ہے اس خدا کا جس نے اللہ کے رسول کے پیغامبر کو اس طریقہ کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے)۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عام مسلمانوں کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ جب کوئی نیا مسئلہ سامنے آئے تو اہل علم کی طرف رجوع کریں اور ان کی رائے کے مطابق کام کریں۔ وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:

’’فاسئلوا أہل الذکر إن کنتم لا تعلمون‘‘ (نحل: ۳۴)۔

’’ اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے‘‘۔

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ۝(توبہ:۱۲۲)

’’سویہ کیوں نہ ہو کہ ہر گروہ میں ایک حصہ نکل کھڑا ہو، تاکہ (یہ باقی لوگ) دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے  ر ہیں اور تاکہ یہ اپنی قوم والوں کو جب وہ ان کے پاس واپس آجائیں ڈراتے ہیں عجب کیا کہ وہ محتاط رہیں‘‘۔

یہاں ہم اس بحث میں نہیں جائیں گے کہ ان آیات سے اس مسئلہ میں استدلال درست ہے کہ نہیں کیونکہ ان کا سیاق بظاہر مختلف ہے۔ یہاں ہم صرف اس امر کی طرف توجہ دلائیں گے کہ عام آدمی کی مشکل اس مشورہ کے ماننے کے بعد بھی باقی رہتی ہے کیوں کہ سوال باقی رہتا ہے کہ کس عالم کی طرف رجوع کیا جائے، چونکہ مختلف اہل علم مختلف رائے دیتے ہیں۔ خاص کر اس زمانہ میں جب کہ علماء فقہی مسالک: حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی ، اہل حدیث، جعفری، میں بٹے ہوئے ہیں اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ مسائل کو صرف اپنے مسلک کے فقیہ ؍عالم تک لے جائیں تو بہت سے اور سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مثلاً کیا ضروری ہے کہ ہر سائل کا کوئی مسلک ہی ہو، تقلید کیوں ضروری ہے وغیرہ۔

خلاصہ یہ کہ عام مسلمانوں کو سوچنے سمجھنے، قرآن وسنت کی طرف رجوع، اور عقل وفطرت سے رہنمائی حاصل کرنے کے حق اور ذمہ داری سے بری نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ معاملہ آخرت میں جواب دہی اور دنیا میں فلاح وکامرانی سے جڑا ہوا ہے۔

جن لوگوں نے مذکورہ بالا دلائل کے باوجود تقلید کو ضروری قرار دیا ہے اور عوام کو سوچنے سمجھنے کے حق سے محروم کیا ہے ان کو سب سے بڑی فکر یہ ہے کہ اتباع ہویٰ ۔ خواہش پرستی کا دروازہ کھل جائے گا۔ ان کو ڈر ہے کہ اگر عام مسلمانوں کو اس بات کا حق دیا گیا کہ وہ بزنس، حکمرانی اور سماجی رشتوں میں عقل وفطرت کی طرف رجوع اور اپنے فہم اسلام کی روشنی میں خود کوئی راستہ اختیار کرسکتے ہیں تو وہ ایسے راستے اختیار کریں گے جن سے ان کے مفادات حاصل ہوں، ان کی خواہشات پوری ہوں اور ایسا ہوا تو شریعت کا یہ منشا فوت ہوجائے گا کہ وہ انسانوں کو اپنی اغراض وخواہشات کی پیروی سے نکال کر اللہ تعالی کی بندگی میں لے جائے۔

اسی امکان کے پیش نظر ان لوگوں نے سد باب ذریعہ کے طور پر عام مسلمانوں کو خود تلاش حق کی ذمہ داری نہ دینا مناسب سمجھا ان کا خیال یہ ہے کہ جب عام مسلمان کسی عالم سے مسئلہ دریافت کرے گا تو وہ عالم خود اپنی یا مسئلہ پوچھنے والے کی خواہش اور مفاد کو سامنے نہیں رکھے گا بلکہ ’’شریعت‘‘ کے مطابق فتوی دے گا۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ یہاں بھی مقصد تخلیق کے لحاظ اور مقاصد شریعت کی تحصیل کے درمیان توازن برقرار نہیں رکھا جاسکا۔ اللہ کی حکمت متقاضی ہے کہ ہر مسلمان خود فیصلہ کرے۔ یہی تو آزمائش ہے کہ آدمی خواہش کے پیچھے چلتا ہے یا خدا کی مرضی کی تلاش کرتا ہے، یہ کام اسے خود کرنے دیجئے نہ کہ اس کا حق سلب کرکے اس کی ذمہ داری خود پوری کرنے کا بیڑا اٹھائیے۔

اپریل 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau