ایمان کا سرچشمہ قرآن

مفتی کلیم رحمانی

قرآن اور ایمان کے درمیان تعلق سامنے رہے تو ایمان میں اضافے کے لیے قرآن سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہاں قرآن کی چند آیات پیش کی جا رہی ہے جو قرآن اور ایمان کے تعلق کو واضح کرتی ہے اور یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ایمان قرآن سے ہی پیدا ہوتا ہے اور قران ہی سے بڑھتا ہے مطلب یہ کہ قرآن پہلے ہے اور ایمان اس کے تابع ہے، ایمان کو سمجھنے کے لیے پہلے قرآن کو سمجھنا ضروری ہے۔ چناں چہ ارشاد ربانی ہے وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنَاہُ نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّکَ لَتَہْدِیٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (شوریٰ: 52) ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے بھیجا آپ کی طرف ایک فرشتہ ہمارے حکم سے، آپ نہیں جانتے تھے کتاب کیا ہے اور نہ ایمان لیکن ہم نے اس کو روشنی بنایا ہم اس کے ذریعے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں ہمارے بندوں میں سے اور بے شک آپ سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کر رہے ہیں۔

مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ قرآن کے نزول سے پہلے نہ کتاب جانتے تھے اور نہ ایمان جانتے تھے مطلب یہ کہ حقیقی و تفصیلی ایمان آپ کو قرآن سے ہی حاصل ہوا ہے اگرچہ نبوت سے پہلے بھی آپ فطرت سلیم پر تھے اور آپ سے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام صادر نہیں ہوا ہے لیکن جہاں تک حقیقی ایمان اور اس کے تقاضوں سے واقفیت کی بات ہے تو وہ آپ کو قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور آپ سے متعلق یہی بات اللہ تعالی نے سورہ ضحیٰ کی ایک آیت میں بیان فرمائی ہے، وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔ اور پایا آپ کو ناواقفِ راہ پس آپ کو ہدایت عطا کی۔ مذکورہ دونوں ہی آیات سے ایمان کے متعلق قرآن کی اہمیت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب اللہ تعالی نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن کے ذریعے ہی ایمان سمجھایا ہے تو عام انسان اور مسلمان قرآن کے بغیر اور قرآن سے پہلے کیسے ایمان سمجھ سکتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں میں بعض افراد کی طرف سے یہ غلط بات بہت زور و شور کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے کہ صحابہ فرماتے ہیں کہ پہلے ہم نے ایمان سیکھا بعد میں قرآن سیکھا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ایمان کی دعوت ہی نہیں دی اور تمام صحابہ کرام نے قرآن سن کر ایمان قبول کیاہے، اور قرآن ہی کے ذریعے ایمان کو سمجھا اور سیکھا ہے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سب سے پہلے قرآن پر ایمان لائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کے آخری رکوع میں فرمایا ہے۔ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ۔ یعنی ایمان لائے رسولﷺ جو ان کی طرف نازل کیا گیا یعنی قرآن اور مومنون بھی ایمان لائے، یہاں مومنون سے مراد اوّلین طور پر صحابہ کرام ہیں۔ اسی طرح سورہ بقرہ کے پہلے رکوع میں اللہ تعالی نے متّقین کی صفات کا تذکرہ فرمایا ہے تو سب سے پہلے کتاب یعنی قرآن کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ یعنی اس کتاب میں کوئی شک نہیں ہے، متقین کے لیے ہدایت ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے متّقین کی صفات سے پہلے قرآن کی عظمت و اہمیت کو بیان کیا ہے، تاکہ کوئی تقوی اور ایمان کے متعلق قران کو نظر انداز نہ کرے، مگر افسوس ہے کہ بہت سے مسلمانوں نے ایمان اور تقوی کے متعلق قرآن کو نظر انداز کر دیا ہے۔

جس طرح ایمان قرآن سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح ایمان قرآن ہی سے بڑھتا ہے، چناں چہ سورہ انفال کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومنین کی جو صفات بیان فرمائی ہے، ان میں ایک اہم صفت یہ ہے کہ جب ایمان والوں کے سامنے اللہ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔ (انفال: 2)

ترجمہ: بے شک حقیقی مومنین وہ ہیں، جب ان کے سامنے اللہ کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان کے دل پِگھل جاتے ہیں، اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اگر قرآن پڑھنے اور سننے سے کسی کا ایمان نہیں بڑھ رہا ہے تو اس کو اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کا ایمان کیوں نہیں بڑھ رہا ہے۔ اس لیے کہ اللہ کا فرمان غلط نہیں ہو سکتا جب اللہ تعالی نے فرما دیا کہ حقیقت میں مومن وہی ہوتے ہیں کہ اللہ کی آیات کی تلاوت سے اُن کا ایمان بڑھ جاتا ہے لیکن یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ایمان کی بڑھوتری کا تعلق دل کی کیفیت سے ہے، جو بات دل تک پہنچتی ہے اسی سے دل کی کیفیت بدلتی ہے، اور جو بات دل تک نہیں پہنچتی اس سے دل کی کیفیت نہیں بدلتی۔ اور دل تک وہی بات پہنچتی ہے جس کو انسان سمجھتا ہے، اس لحاظ سے قرآن کا وہی پڑھنا اور سننا دل تک پہنچتا ہے جس کو پڑھنے اور سننے والا سمجھتا ہے۔ چوں کہ زیادہ تر قرآن پڑھنے اور سننے والے قرآن کو سمجھتے نہیں ہیں، اس لیے قرآن کے پڑھنے اور سننے سے ان کے ایمان میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی ہے، اس لیے قرآن پڑھنے اور سننے والوں کی ایک ذمّہ داری یہ بھی ہے کہ وہ قرآن سمجھے۔ یہ تقاضا قرآن کی عربی زبان سیکھنے سے پورا ہوتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر پڑھنے یا سننے سے بھی پورا ہوتا ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ دین کے سلسلے میں سب سے زیادہ بے توجّہی قرآن کی زبان سیکھنے اور قرآن کا ترجمہ و تفسیر پڑھنے اور سننے کی طرف سے پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ اخبارات کے پڑھنے اور سننے کی طرف سے اتنی بے توجّہی نہیں پائی جاتی، جب کہ قرآن مسلمانوں کے لیے وہ خبرنامہ ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کی خبر ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کے زمانہ کی خبر ہے، اور آج سے لے کر قیامت تک کی بھی خبر ہے، اور اس کے بعد جنّت اور دوزخ میں جانے تک کی خبر ہے، ساتھ ہی قرآن مجید ہمیں ہمارے دشمنوں سے بھی واقف کراتا ہے، اور ہمارے دوستوں سے بھی واقف کراتا ہے، ساتھ ہی دنیا اور آخرت کی ناکامی سے بچاتا ہے، اور دنیا اور آخرت کی کام یابی کا مستحق بناتا ہے۔ چناں چہ یہ حقیقت ہے کہ ماہِ رمضان کو جو دوسرے مہینوں پر فضیلت حاصل ہوئی ہے وہ نزولِ قرآن کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے اس لیے ایمان والوں کو دوسرے انسانوں پر اسی وقت فضیلت حاصل ہوگی جب وہ قرآن کو اپنے دل پر نازل کریں گے اور اپنے جسم پر نافذ کریں گے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن کو اپنے اوپر غالب کیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دنیا میں غالب کیا اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے قرآن کو چھوڑا تو اللہ تعالی نے دوسری قوموں کو ان پر غالب کر دیا ہے۔ بعض مسلمان قرآن سے ایمان بڑھنے کا اُسی طرح مذاق اڑاتے ہیں جس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں منافقین مذاق اڑاتے تھے۔ چناں چہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس کردار کو بیان کیا ہے۔

وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُورَۃٌ فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہٓ ٖ اِیْمَانًا فَاَمَّا الذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّہمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ. وَاَمَّا الذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتُوْا وَہُمْ کَافِرُوْنَ۔ (توبہ: 124-125)

ترجمہ: اور جب کوئی سُورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ اِس سورت نے کِس کے ایمان کو بڑھایا ہے، تو بہرحال جو ایمان والے ہیں تو ان کا ایمان اِس سورت سے بڑھ گیا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، تو ان کی گندگی پر گندگی زیادہ بڑھ گئی ہے اور وہ کفر کی حالت میں ہی مرتے ہیں۔

مذکورہ آیت سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اگر صحیح ایمان والے ہیں تو قرآن کے پڑھنے اور سننے سے ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، اور اگر منافقین ہیں تو قرآن کے سننے سے ان کا نفاق اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ قرآن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے سنانے کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ بڑھتا ہے، اور کفر و اہلِ کفر کا غلبہ کم ہوتا ہے چناں چہ مکّہ کے کافروں نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، اس لیے ان کی پوری کوشش اسی پر صرف ہو رہی تھی کہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن نہ سنیں اور جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سنائیں، وہاں بلند آواز سے شور کیا جائے، تاکہ قرآن کی آواز دب جائے۔ کفارِ مکّہ کی اِسی روِش کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں بیان فرمایا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَا تَسمَعُوا لِہٰذَا القُراٰنِ وَ الغَوا فِیہِ لَعَلَّکُم تَغلِبُونَ (حٰم سجدہ: 26)

ترجمہ: اور کافروں نے کہا مت سنو اِس قرآن کو اور اس میں شور و غُل کرو تاکہ تم غالب رہو۔

مذکورہ آیت سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ مکّہ کے کافروں نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی تھی کہ قرآن کو سننے دینے سے اسلام غالب آجائے گا اور اُس کو نہیں سننے دینے سے کافر غالب رہیں گے۔ آج بھی دنیا میں باطل حکومتوں اور حکم رانوں کی یہی کوشش ہے کہ لوگ قرآن نہ سنیں اور نہ پڑھیں اور جہاں قرآن کے پڑھنے اور سننے کا ماحول بن رہا ہے وہاں مختلف تدبیروں اور سازشوں سے قرآن سے دور کیا جائے۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سے مسلمان بھی قرآن کو سمجھنے سے روکتے ہیں، اس روش سے باز آجانا چاہیے، یہ اللہ کو ناراض کرنے والی روش ہے، اس لیے کہ قرآن صرف الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے، چناں چہ اصولِ فقہ کی کتاب نور الانوار میں قرآن کی تعریف اَلقُراٰنُ ھُوَاللَّفظُ وَالمَعنیٰ جَمِیعًا سے کی گئی ہے، یعنی قرآن میں الفاظ و معانی دونوں شامل ہے۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ قرآن کے معانی کو نہیں جاننا اور نہیں پڑھنا اور نہیں سننا آدھے قرآن کو نہیں جاننا اور نہیں پڑھنا اور نہیں سننا ہے۔

بلکہ قرآن کے الفاظ تو کم ہیں لیکن اس کے معانی الفاظ سے زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے مفسّرین نے کئی کئی جلدوں میں قرآن کے معانی و مطالب بیان کیے ہیں، جیسے مفتی شفیع صاحب فاضلِ دیوبند نے آٹھ جلدوں میں معارف القرآن کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی ہے، اسی طرح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے چھ جلدوں میں تفہیم القرآن کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی ہے۔ اور بہت سے مفسّرین نے تو اس سے بھی زیادہ جلدوں میں قرآن کی تفسیریں لکھی ہیں۔ لیکن افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والوں نے یہاں تک کہ بہت سے حفّاظِ قرآن نے بھی قرآن کے معانی و مطالب کو جاننے کی طرف سے ایسی بے حسی و غفلت اپنے اوپر طاری رکھی ہیں، گویا کہ قرآن نعوذ باللہ مُہمل یعنی بے معنیٰ کلام ہے۔ جب کہ یہی مسلمان اور حفّاظ اپنے دو تین سالہ بچے کے الفاظ کے معانی کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بچہ کیا بول رہا ہے۔ مگر وہ اپنے خالق و مالک اللہ کے کلام کے الفاظ کے معانی کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور سننے کا مسئلہ کوئی اختلافی و علمی مسئلہ نہیں ہے، جیسا کہ بہت سے مسلمانوں نے سمجھ لیا ہے بلکہ یہ اللہ کا واضح حکم ہے۔ چناں چہ اللہ تعالی نے قرآن میں کئی مقامات پر قرآن کو سمجھنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں صرف دو مقام کی دو آیتیں پیش کی جا رہی ہیں۔ اِنَّا جَعَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (زخرف:3) ترجمہ: بیشک ہم نے اس کو عربی قرآن بنایا تاکہ تم اس کو سمجھو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّآ اَنْزَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (یوسف: 2) ترجمہ: بیشک ہم نے اس کو نازل کیا عربی قرآن، تاکہ تم سمجھو۔ دین کی ایک اہم حقیقت کو اگر سامنے رکھا جائے تو کوئی بھی مسلمان قرآن کے سمجھنے سے انکار نہیں کر سکتا اور نہ اس کو علما کے لیے خاص سمجھ سکتا ہے، وہ یہ کہ قرآن کے پڑھنے اور سننے کے متعلق سنّتِ رسول ﷺاور سنّتِ صحابہ پر عمل کرنا ضروری ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے جب بھی قرآن پڑھا اور سُنا ہے سمجھ کر پڑھا اور سُنا ہے، اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے جب بھی قرآن پڑھا اور سُنا ہے سمجھ کر پڑھا اور سُنا ہے۔ مسلمانوں کو اس عظیم سنّت پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ اسی میں ان کے لیے دونوں جہاں کی کام یابی ہے۔

اپریل 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau