رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

قرآن مجید میں آیاتِ سجدہ

سوال:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیںحکم دیا ہے کہ ہم پندرہ (۱۵) مقامات پر سجدہ کریں۔ پھر ہم صرف چودہ (۱۴) مقامات پرسجدہ کیوں کرتے ہیں؟ ایک مقام پر سجدہ کیوں چھوڑدیتے ہیں؟ کیا ایک امام کی پیروی اللہ اور اس کے رسول کی پیروی سے بڑھ کر ہے ؟ براہِ کرم سنن ابی داؤد کی یہ حدیث (نمبر ۱۴۰۲) ملاحظہ کیجئے :حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا سورۂ حج میں دو سجدے ہیں ؟ آپ ؐ نے فرمایا : ہاں۔ او ر جس نے ان آیتوں پرسجدہ نہیں کیا۔ اس نے گویا ان کی تلاوت ہی نہیں کی۔ ‘‘

جواب:سورۂ حج میں دو سجدے ہیں: ایک آیت نمبر۱۸ پر اوردوسرا آیت نمبر ۷۷ پر ۔ دوسرا سجدہ امام شافعیؓ کے نزدیک ہے، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نہیں ہے۔۔ فقہا کے درمیان اس طرح کے بہت سے اختلافات ہیں۔ اسے اللہ اور رسول کوچھوڑ کر امام کی پیروی نہیں قرار دیا جاسکتا ہے ۔

قرآن مجید میں پندرہ (۱۵) ایسے مقامات ہیں جہاں سجدۂ تلاوت کیا جاتا ہے ۔ ان میں سے کچھ پر علماء کا اتفاق ہے اور کچھ پر اختلاف۔ متفق علیہ مقامات دس (۱۰)ہیں:

(۱) الاعراف: ۲۰۶ (۲) الرعد :۱۵(۳) النحل :۵۰( ۴) الاسراء : ۱۰۹( ۵) مریم : ۵۸  (۶) الحج : ۱۸( ۷) النمل : ۲۷(۸)السجدۃ:۱۵(۹) الفرقان :۶۰( ۱۰) حم  السجدۃ: ۳۸

پانچ مقامات پر سجدۂ تلاوت کیے جانے کے معاملے میں اختلاف ہے:

(۱) الحج : ۷۷ : شوافع اورحنابلہ اس پر سجدۂ تلاوت کے قائل ہیں۔ ان کی دلیل سنن ابی داؤد کی وہ حدیث ہے جو اوپر سوال میںدرج کی گئی ہے ۔ صحابۂ کرام میں حضرات عمر، علی ، عبداللہ بن عمر، ابو الدرداء اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے ہے۔

حنفیہ اورمالکیہ اس مقام پر سجدۂ تلاوت کے قائل نہیں ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ مشہور صحابی حضرت ابی بن کعبؓ نے قرآن مجید کے وہ مقامات گنائے جہاں انہوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدۂ تلاوت کرنے کی ہدایت سنی تھی، توانہوںنے سورۂ حج میں ایک ہی سجدہ (آیت نمبر۱۸) بتایا ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میںمروی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سورۂ حج کی آیت ۱۸ پر سجدۂ تلاوت ہے اور آیت ۷۷ پر سجدۂ نماز۔ وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں بھی سجدہ کے ساتھ رکوع کا تذکرہ آیا ہے وہاں سجدۂ نماز مراد ہوتا ہے، سجدۂ تلاوت نہیں۔ مثلاً سورۂ آل عمران کی آیت ۴۳ یہ ہے : یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ (اے مریم : اپنے رب کی تابعِ فرمان بن کر رہ ، اس کے آگے سر بہ سجود ہو اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا) ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ الحج:۷۷ پر مدینہ کے فقہاء وقرّاء سجدۂ تلاوت نہیںکرتے تھے۔(بدائع الصنائع : ۱؍۱۹۳، فتح القدیر : ۱؍۳۸۱ ، جواہر الاکلیل : ۱؍۷۱)

(۲) سورۂ ص میں حنفیہ اورمالکیہ کے نزدیک سجدۂ تلاوت ہے ۔البتہ حنفیہ کے نزدیک سجدہ آیت نمبر ۲۵ (فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِكَ۝۰ۭ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ۝۲۵) پر اور مالکیہ کے نزدیک آیت نمبر:۲۴ ( وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ۝۲۴۞ )پرہوگا ۔ شوافع اورحنابلہ کے نزدیک سورۂ ص میں سجدۂ تلاوت ضروری نہیں، اس میں سجدۂ شکر ہے۔

(۳) النجم : ۶۲ (۴) الانشقاق :۲۱(۵) العلق : ۱۹

جمہور فقہاء ان تین مقامات پر سجدۂ تلاوت کے قائل ہیں،البتہ امام مالک ؒ اس کا انکار کرتے ہیں۔ فقہاء نے اپنی آرا کے حق میں دلائل دیے ہیں ۔یہاں  ان کی تفصیل کی ـضرورت نہیں ہے ( تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے الموسوعۃ الفقہیۃ ، کویت، جلد ۲۴، صفحات: ۲۱۶۔ ۲۲۰).

کیا عورت کے لیے چست لباس پہننا جائز ہے ؟

سوال: آج کل عورتوں میں چست لباس بہت عام ہوگیا ہے ، خاص طور پر جسم کے نچلے حصے میں پہنا جانے والا لباس ۔ چنانچہ ٹانگوں کا حجم بالکل نمایاںرہتا ہے۔ دینی حلقوں کی خواتین بھی ایسا لباس زیب تن کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ کیاعموم بلویٰ کی وجہ سے ایسا لباس اب جواز کے دائرے میں آگیا ہے ؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔

جواب : ضروری ہے کہ لباس سے ستر پوشی ہو۔ شریعت میں عورت کے لیے چہرہ اورہاتھ(کلائی تک) کے علاوہ پورا بدن ستر قراردیا گیا ہے اوراسے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی بہن حضرت اسماءؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر ہوئیں۔ اس وقت ان کے بدن پر باریک کپڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا رُخ پھیر لیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

یَااَسْمَائُ ! اِنَّ الْمَرْاَۃَ اِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ تَصْلُحْ اَنْ یُّرٰی مِنْہَا اِلاَّہٰذَا وَہٰذَا ( سنن ابی دداؤد، کتاب اللباس ، باب فیما تبدی المرأَۃ من زینتہا ،۴۱۰۴)

’’اے اسماء! عورت جب سنِّ بلوغ کو پہنچ جائے تو مناسب نہیں کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی دے، سوائے اس کے اوراس کے ‘ ‘ ۔ (یہ فرماتے ہوئے آپؐ نے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا ۔‘‘

حدیث بالا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لباس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اتنا باریک نہ ہو کہ اس کا بدن جھلکے۔ اس لیے کہ اس صورت میں ستر پوشی نہیںہوسکتی ، بلکہ اس سے عورت کے محاسن میںاضافہ ہوگا۔ حدیث میں اس کے لیے بہت بلیغ تعبیراختیار کی گئی ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

نِسَاءٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …… لاَ یَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یَجِدْنَ رِیْحَہَا ( صحیح مسلم ، کتاب اللباس ، باب النساء الکاسیات العاریات ، ۲۱۲۸)

’’ایسی عورتیں جوکپڑے پہن کر بھی عریاں معلوم ہوں و ہ جنت میں نہیں جائیںگی ، بلکہ و ہ جنت سے اتنی دوری پر ہوںگی کہ جنت کی خوش بوبھی ان تک نہیں پہنچ سکے گی‘‘۔

عورت کے لباس کے لیے یہ بھی ضـروری ہے کہ وہ اتنا چست نہ ہو کہ اس کے جسمانی نشیب وفرا ز نمایاں ہوجائیں اوراعضاء کا حجم دکھائی دینے لگے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت دحیہ کلبی ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قطبی کپڑا تحفے میں بھیجا ۔ اسے آپؐ نے مجھے عنایت فرمایا ۔ میںنے اسے اپنی بیوی کودے دیا ۔ کچھ دنوں کے بعد آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا : ’’تم نے اس قطبی کپڑے کو کیوں نہیں پہنا؟ ‘‘ میںنے عرض کیا : ’’ اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے اپنی بیوی کو دے دیا ہے ۔ ‘‘ آپ ؐ نے فرمایا :

مُرْہَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَہَا غِلاَلَۃً، اِنِّی اَخَافُ اَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِہَا (احمد :۲۱۷۸۶)

’’اس سے کہو کہ اس کے نیچے استر لگالے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کے بغیر ہڈیوں کا حجم ظاہر ہوگا۔‘‘

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ مسلمان خاتون کے لیے چست لباس پہنا درست نہیں ہے ۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

دسمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau