رحمتِ الٰہی کا فکری و احیائی تناظر (1)

رحمت کی آفاقی بازگشت — کوہِ فاران سے وینس کی عدالت تک

عالمگیر سچائی کا ظہور کائناتی وسعت اور ازلی و ابدی آفاقیت کی شان رکھتا ہے۔ یہ سچائی نہ کسی قوم، نسل، زبان یا سرزمین کی میراث ہوتی ہے، نہ کسی لمحۂ وقت کی قید میں محدود۔ یہ وہ الہامی روشنی ہے جو انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے، اور جو ہر زمان و مکان میں اپنی تجلیات سے انسانی ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ یہی وہ ابدی پیغام تھا جس کا اعلان پندرہ صدیاں قبل کوہِ فاران سے رسولِ رحمت محمد ﷺ نے بلند کیا — وہ پیغام جس کی بنیاد محض عدل پر نہیں، بلکہ رحمت پر رکھی گئی۔

اسی سچائی کی حیرت انگیز بازگشت ہمیں انگلستان کے شاعرِ فطرت اور ادیبِ حقیقت شناس شیکسپیئر کے ڈرامے مرچنٹ آف وینس میں سنائی دیتی ہے۔ کردار ”پورشیا“کی زبان سے ادا کی گئی ”رحمت کی شان“دراصل انسانی فطرت میں  پیوست رحمتِ الٰہی کی آواز ہے۔ یہ وہی صدا ہے جو قرآن کے آغاز میں ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“کی صورت میں گونجتی ہے، اور جسے ہر مومن اپنی دعا میں اس طر ح دہراتا ہے کہ  ”ربِّ اغفر وارحم، انت خیر الراحمین“۔ اس عظیم حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے شیکسپیئر لکھتا ہے:

” رحمت ایک ایسا وصف ہے جو کسی دباؤ کے تحت نہیں ہوتا، یہ فطری طور پر بہتا ہے۔ یہ آسمان سے برسنے والی ہلکی بارش کی مانند ہے، جو خاموشی سے زمین پر گرتی ہے۔

یہ دوہرے انعام کا باعث بنتی ہے — جو رحم کرتا ہے وہ بھی بَرکت پاتا ہے، اور جس پر رحم کیا جاتا ہے وہ بھی۔

یہ وصف سب سے قوی شخص کی سب سے اعلیٰ طاقت بن جاتا ہے، یہ بادشاہ کے تاج سے بھی زیادہ قابلِ عزت معلوم ہوتا ہے۔

بادشاہ کا عصا اس کے دنیاوی اختیار کی علامت ہے، جو ہیبت، رعب اور دبدبے کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن رحمت اس ظاہری اقتدار سے بلند تر ہے، یہ بادشاہوں کے دلوں پر بھی حکمرانی کرتی ہے۔

یہ خالصتاً خدا کی صفت ہے، اس کی رحمت کی جھلک ہے۔

پس ! اگر تم عدل کا مطالبہ کر رہے ہو، تو ذرا اس بات پر بھی غور کرو۔ اگر عدل ہی کا راستہ چلایا جائے تو ہم میں سے کوئی بھی نجات نہیں پا سکتا، کیونکہ ہم سب خطا کار ہیں۔

ہم تو خدا سے رحمت کی دعا کرتے ہیں، اور یہی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم بھی دوسروں کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ کریں۔“ [1]

یہ  پیشکش درج ذیل نکات پر مشتمل معروضات کی کوشش ہے :

قرآن و سنت میں رحمتِ الٰہیہ کے تصور کی تعبیر اور اس کا فکری دائرہ

مسلم احیائی تحریکوں کے فکری اثاثے میں رحمت کے تصور کا تجزیاتی مطالعہ

جدید مسلم دنیا میں رحمتِ الٰہیہ کو فکری و تمدنی احیاء کے مؤثر اصول کے طور پر اختیار کرنے کی راہیں۔

دعووں سے حقیقت تک کا فاصلہ

”اسلام ایک نظامِ رحمت ہے “، ”اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے“، ”اسلام ہی انسانیت کے تمام مسائل کا حل ہے“—یہ اور اسی نوع کی دیگر خوبصورت اور بلند بانگ عبارتیں منبر و محراب، مسجد و مدرسہ، اور علمی و ثقافتی ایوانوں میں مدت ہائے دراز سے بلند ہوتی رہی ہیں — لیکن امتِ مسلمہ اور اسلامی تہذیب کا زوال ہر زماں نئی پستیوں کو چھوتا جا رہا ہے۔ بلاشبہ یہ نعرے نظریاتی حقیقت پر مبنی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر اسلام واقعی نظامِ حیات ہے تو پھر وہ کہاں ہے؟ اگر اسلام واقعی تمام مسائلِ انسانیت کا حل ہے تو آج انسانیت، اور سب سے بڑھ کر خود امتِ مسلمہ، بحرانوں میں کیوں گھری ہوئی ہے؟ امتِ مسلمہ اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور فکری طور پر نہایت  پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سعادت و سیادت کے سارے لوازمات بظاہر موجود و متوفر نظر آتے ہیں۔ آج ہمارے پاس قرآن محفوظ ہے، حدیثِ نبوی کی روایت زندہ ہے، دینی ادارے موجود ہیں، اور لاکھوں افراد انفرادی و اجتماعی سطح پر دینی اور تعلیمی مقاصد کے لیے کوشاں ہیں—لیکن ان سب کے باوجود، نہ صرف مسلم تہذیب ہر سطح پر مؤثر کردار سے محروم ہو چکی ہے بلکہ خود امت کا باطنی شعور بھی شدید بحران کا شکار ہے۔ امت کا یہ زوال محض کوئی عارضی لغزش یا سیاسی شکست نہیں، بلکہ یہ گہرے فکری، روحانی اور تہذیبی بحران کا مظہر ہے—ایسا بحران جو نہ صرف مسلم دنیا کے ظاہری نظاموں کو کھوکھلا کر چکا ہے بلکہ دلوں اور اذہان میں بھی ایک عظیم خلا پیدا کر چکا ہے۔ یہ سوال کہ — ”جب سرچشمۂ ہدایت اور سعادت محفوظ ہے اور سعی و جہد بھی ہے، تو پھر تہذیبی احیاء کیوں ناکام ہے؟“— درحقیقت ہمارے دور کا یہ سب سے بنیادی اور فکر انگیز  سوال ہے، اور اس سوال کا جواب نہ صرف مطلوب بلکہ اشد ضروری ہے ۔ ایسا جواب جو  اصل مرض کی  ظاہری نہیں بلکہ ‘وجودی’اور حقیقی سطح  پر تشخیص کر سکے۔

تہذیبوں کا زوال اور بنیادی سبب

انسان صرف ایک مشاہدہ کرنے والا وجود نہیں بلکہ دنیا سے ایک فعال اور بامعنی ربط قائم رکھنے والا وجود ہے۔ یہ ربط صرف معلوماتی نہیں بلکہ ایک زندہ مطابقت کے ساتھ ہے — ایسی مطابقت جس سے علم، اخلاق، اور تمدن تینوں سطحوں پر زندگی کا دھارا قائم ہوتا ہے۔ ہر وہ تہذیب جو اس وجودی مطابقت کو برقرار نہ رکھ سکے — یعنی حالات کے ساتھ مؤثر ربط (Relevance ) اور نتیجہ خیز اثراندازی ( Effectivity) پیدا نہ کر سکے — وہ زوال کا شکار ہو کر رہتی ہے۔ جب تہذیبیں اپنے وقت اور حالات سے ہم آہنگ نہیں رہتیں، اور ان کے نظریات و اقدار زمینی حقیقتوں سے کٹ جاتے ہیں، تو ان کا وجود ”غیر متعلق“( Irrelevant)ہو جاتا ہے۔ نظریات، فلسفہ، اور مذہب جب زندگی کے عملی میدان میں کوئی حقیقی تبدیلی نہ لا سکیں، تو وہ محض  بے ثمر ، تجریدی تصور (Sterile Abstraction)میں بدل جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بالآخر ایک ایسا فکری، عملی و روحانی جمود ہوتا ہے  جہاں عقل میں گہرائی نہیں، ارادے میں حرارت نہیں، اور طبیعت میں آمادگی نہیں — صرف موروثی اعتقادات اور اجتماعی تکرار باقی رہ جاتی ہے۔

اسلامی تہذیب کا اصل بحران-  ”متن محفوظ، مؤثر مطابقت مفقود “

مسلم امت اس اعتبار سے تو بڑی امتیازی حیثیت رکھتی ہے کہ اس کا دینی فکری اثاثہ ( متنِ کتابِ الٰہی ، احادثِ نبوی اور سنتِ مبارکہ) تو مکمل طور سے محفوظ و مأمون ہے ۔ لیکن اتنی بڑی خوش بختی کے ساتھ ساتھ  اس کی  محرومئ إفادہ بھی عدیم المثال ہے۔ اس  ضرر انگیز عارضہ کے دو بنیادی اجزاء ہیں :

دین کی زمانے سے غیرمطابقت (Irrelevance)

دین کا فرد اور معاشرے میں بے اثر ہو جانا (In-effectivity)

گویا دین اب محض “معلومات” بن چکا ہے، عملی قوت یا تہذیبی تشکیل کا ذریعہ نہیں رہا۔ وحی اور متن محفوظ ہونے کے باوجود، مسلمان موثر مطابقت ( Effective Relevance)سے محروم ہو چکے ہیں۔ قرآن و سنت اپنی اصل حالت میں محفوظ ہیں ، مسلمانوں کے ذہن میں ان کا تصور اب بھی قائم ہے؛ لیکن یہ اثاثے نہ حالات سے کوئی مؤثر ربط رکھتے ہیں؛ نہ فرد یا امت کے وجود میں کوئی تبدیلی پیدا کرتے ہیں؛ نہ دنیا میں علم، اخلاق اور طاقت کی تشکیل کا ذریعہ بن پا رہے ہیں۔

تہذیبی بقا کے تین ستون

تہذیبوں کے عروج وزوال میں جن تین عوامل کی حیثیت فیصلہ کن ہوتی ہے ان پر یہاں ایک اجمالی نظرضروری ہے۔

علمی قوت(Epistemic Power):علم کی تخلیق، اجتہاد، فکری جرأت اور دنیا کو نئے معانی دینے کی صلاحیت۔ یہی قوت تہذیب کو فکری قیادت عطا کرتی ہے۔

اخلاقی برتری(Moral Superiority): دیانت، امانت، احسان، انصاف اور روحانی پاکیزگی وہ اوصاف ہیں جو کسی تہذیب کو دوسروں کے لیے مثالی بناتے ہیں۔

تمدنی طاقت ( Strategic Power): تنظیم، معیشت، دفاعی صلاحیت ، ٹیکنالوجی کی برتری اور حربی تفوق تہذیب کو دنیا میں فعال کردار عطا کرتی ہے۔

زوال کا بنیادی سبب یہی ہوتا ہے کہ تہذیبیں ان تینوں جہات سے مفلوج ہو جائیں – اور یہی مسلم تہذیب کے ساتھ ہو چکا ہے۔ مسلم معاشرے میں تحقیق و تخلیق کے بجائے جمود، تقلید اور ماضی پرستی غالب آگئی۔ علم، فلسفہ اور سائنس میں پسماندگی نے فکری قیادت چھین لی۔ مسلم معاشروں میں اخلاقی بحران، کرپشن، ظلم اور ریاکاری نے اجتماعی کردار کو کھوکھلا کر دیا۔ نتیجتاً اخلاقی اعتبار سے دوسروں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ مسلم دنیا میں سیاسی انتشار، معاشی انحطاط، دفاعی کمزوری اور ادارہ جاتی زوال نے تمدنی قوت کو مفلوج کر دیا۔  ایسی قوم کا فرد ، جس میں نہ علم ہے، نہ اخلاق، نہ طاقت — محض ماضی پر فخر کر کے خود کو ”قدیم تہذیب“کا وارث سمجھے —  تو وہ  ایک دیوانہ، یا مریض ذہن کا حامل ہی ہو سکتا ہے۔

مسلم زوال کاسبب ”نظامی“سے زیادہ ، ”ادراکی“(Cognitive)بحران ہے۔ ہماری ناکامی کی جڑ محض ادارہ جاتی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارا ذہن زوال کے انداز میں سوچتا ہے، اور اسی سوچ کو احیاء کا نام دے دیتا ہے۔ ہم مغلوب ذہن کے ساتھ غلبے کی کوشش کر رہے ہیں — اور یہی داخلی تضاد شکست کی جڑ ہے۔

 وجودی عدمِ مطابقت (Correspondence Failure)

مسلمان ذہن و قلب ، وحی سے موثر توافق (Effectively Correspond)کرنے سے قاصر ہے۔ یعنی ہمارا ذہن وحی کی ساخت، اسلوب، اور مقصدیت سے فطری ہم آہنگی  پیدا نہیں کر پاتا۔ وحی ہمیں ایک ماورائی شعور عطا کرتی ہے، مگر ہمارا ذہن سیکولر وقت و فضا (Secular Time & Space) کے اندر قید ہے۔ ہم وحی سے علم(معلومات) لیتے ہیں، مگر اپنا زاویۂ فہم، زاویۂ وجود، اور زاویۂ ارادہ نہیں بدلتے۔ وحی شعورِ عبدیت مانگتی ہے — ہم شعورِ تسلط و آزادی میں الجھے ہوئے ہیں ۔

ربط کا زاویہ بگڑ چکا ہے

وحی کے ساتھ ہمارا ربط “علمی” ہے، لیکن “وجودی” نہیں۔ ہم نے وحی کو نظامِ ہدایت کے بجائے نظامِ معلومات (Information System) میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس ربط میں فکر ہے، فہم ہے، تعبیر ہے — مگر دل کی حرارت، عمل کی جرأت، اور ارادے کی تاثیر نہیں۔ قرآن ہمارے ذہن میں ہے، مگر ہماری شخصیت میں جذب نہیں۔ گویا ہم وحی کو محض سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کو اپنے لئے وجودی تحسین کی قوت ( Transformational Power)اور اپنی تخلیقِ نو کا سامان نہیں بناتے۔

عمل و ارادے کی خالی ساخت

تعلیم، خطبات، تحریریں — سب کچھ موجود ہے؛ مگر وہ شعورِ بندگی اور اقدامی ارادہ (Effective Will)مفقود ہے جو وحی کو وجودی تحریک میں بدلتا ہے۔ہم وحی کو پڑھتے ہیں، مگر اپنی وجودی ساخت کو وحی کے سانچے میں نہیں ڈھال پاتے ؛ وحی تو زندہ ہے — مگر ہم اس کے لیے مردہ ہیں۔

زاویۂ ربط کی علمی مسخ شدگی

وحی سے ربط امتِ مسلمہ کی فکری و روحانی زندگی کا اصل محور ہے۔ تاہم موجودہ عہد میں یہ ربط اپنے اصل جوہر سے محروم ہو کر رسمی، عقلی یا خوف پر مبنی زاویوں تک محدود ہو چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت ایک زندہ حقیقت اور محرکِ عمل کے بجائے محض معلومات، قانونی دفعات یا لسانی ذخیرہ بن کر رہ گئے ہیں۔ اس بگاڑ نے فرد کی روحانی بالیدگی اور امت کی اخلاقی و تہذیبی تعمیر کو شدید متاثر کیا ہے۔

ربطِ وحی کا زاویہ یا تو منجمد ہے، یا مصنوعی۔ کچھ حلقوں میں وحی کے ساتھ روایتی، رسمی ربط ہے۔ جس میں کوئی فکری تنوع اور تخلیقی سوال کی گنجائش نہیں؛ اور کچھ حلقوں میں ماڈرن علمیاتی سانچوں میں وحی کو ڈھالنے کی کوشش ہے جو اس کے فطری ساخت و مزاج کے عین منافی ہے۔ زاویۂ ربط یا تو جامد تقلید بن گیا ہے یا ماڈرن تجدد اور ان دونوں میں روحانی صدق، قلبی سوز، اور تجدیدی سوچ و فکر کی شدید کمی ہے۔ اس کا انجام یہ رہا کہ ربط قائم ہوا، مگر غلط زاویے سے؛ شعور بیدار ہوا، مگر غیر مؤثر شعور؛ سعی و جہد ہوئی، مگر لاحاصل اور غیر ثمر آور۔

اصلاح و نشأة کا حقیقی راستہ

مسلم تہذیب کی تجدید اسی وقت ممکن ہے جب علمی قوت کو بیدار کیا جائے، اخلاقی برتری کو بحال کیا جائے، اور تمدنی طاقت کو منظم کیا جائے۔ اصلاح و تمکن کی ہر سنجیدہ کوشش کا ہدف صرف ایک ہونا چاہیے: امت کو دوبارہ ایک ( Corresponding Being) بنانا — یعنی ایسا وجود جو وحی، عقل، ارادہ، اور دنیا کے حالات کے درمیان ربط و اثر پیدا کرے۔ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب:

دین متن سے نکل کر معاشرت میں داخل ہو؛

مسلماں کے باطن میں سوز اور ظاہر میں قوت پیدا ہو؛

امت علم، اخلاق اور طاقت — تینوں میدانوں میں وحی کی بنیاد پر تخلیقی صلاحیتوں کی حامل ہو جائے۔

وحی کے ساتھ ربط کو وجودی بنانا بہت ضروری ہے ، اس کو صرف معلوم کرنے کا نہیں، بلکہ وجود میں اتارنے کا عمل ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ذہن کی ”تشکیل نو“(Reconstitution)ضروری ہے۔ ایک ایسا ذہن جو وحی کے مقاصد، زاویۂ نظر اور اشاروں سے فطری مطابقت رکھتا ہو۔ باطن کی تربیت، ارادے کی قوت، اور خشیت و محبتِ الٰہی کی حرارت  پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ تجدید صرف ذہن سے نہیں، دل، ارادے اور عمل سے مکمل ہو سکتی ہے۔

احیاء کا حقیقی منہج – زاویۂ رحمت کی بازیافت

اسلامی تہذیب کی فکری و روحانی تجدید کا اصل راستہ ”زاویۂ رحمت“کی بازیافت سے جڑتا ہے۔ یہ وہ زاویۂ نظر ہے جو اللہ کی ذات و صفات، نبی کی بعثت، اور انسان کی فطرت کو ایک مربوط رحمانی شعور کے تحت دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے تعارف کا آغاز ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“سے فرماتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ اس کی ذات کا سب سے پہلا اور سب سے اہم پہلو رحمت ہے۔ یہی صفت، تمام اسمائے حسنیٰ کی اصل ہے۔ رب نہ صرف خالق اور مالک ہے بلکہ ”رحمن“ اور ”رحیم“ہے ، یعنی رحم اس کے تمام افعال اور فیصلوں کی بنیاد ہے۔

اسی زاویۂ رحمت کا مظہرِ اکمل رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جنہیں قرآن “رحمت للعالمین“کہہ کر متعارف کراتا ہے۔ آپ کی نبوت کا فیضان کسی قوم، نسل یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر، شفقت، عدل، اور ہدایت کا منبع ہے۔

اس رحمت کا تیسرا مظہر خود انسان ہے۔ انسان صرف ”عبد“ نہیں بلکہ ”عبد الرحمن“ہے، وہ مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ مکرم ہے، اور زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے۔ اسے اللہ نے نہ صرف عقل، ارادہ، اور شعور عطا کیا، بلکہ اس کے اندر صفاتِ رحمت کا جوہری وجود بھی  پنہاں رکھا۔ انسان اگر خودغرضی، ظلم، یا غفلت کا شکار ہو جائے تو اپنی اصل شناخت سے دور ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے وجود کو مرکزِ رحمت سے جوڑے رکھے تو وہ اللہ کے قریب تر ہو جاتا ہے۔

زاویۂ رحمت قرآن کو اللہ کی بے پایاں رحمت کا زنده  پیغام قرار دیتا ہے: ”یا أَیهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِینَ “ (یونس: ۵۷)۔ اس زاویے میں قرآن صرف ہدایت نہیں بلکہ قلب و روح کی شفا اور ربانی رحمت کا ذریعہ بن کر سامنے آتا ہے۔

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنزَلنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَ اتَّقُوا لَعَلَّکُم تُرحَمُوۡنَ ﴿الأنعام : ۱۵۵﴾

”اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ، ایک برکت والی کتاب ۔ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو ، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔“

زاویۂ رحمت وحی کے ساتھ قلبی، وجودی اور اخلاقی تعلق کی دعوت دیتا ہے، جو انسان کے اندرونی شعور کو بیدار کر کے اس کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہ دین کو ایک ایسی اخلاقی و تمدنی تحریک میں بدل دیتا ہے جو فرد کی زندگی کو بدل کر ایک رحمتی معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وحی اور دین کو دوبارہ ایک زندہ قوتِ محرکہ بنا کر امت کو زوال سے نکال کر تجدید، رحمت اور تہذیبی تعمیر کے سفر پر گامزن کر سکتا ہے۔ جب ہم زاویۂ رحمت کے تناظر میں — علم، اخلاق، اور طاقت — کو دیکھتے ہیں، تو ہر ایک کی تعبیر انقلاب انگیز ہو جاتی ہے۔

علم، صرف معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ نور ہے — ایک ایسا نور جو بصیرت عطا کرتا ہے، دلوں کو روشن کرتا ہے، اور بندے کو اللہ سے جوڑتا ہے۔ قرآن علم کو ”آیات“ اور ”بصائر“کہتا ہے، یعنی علم کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان حق کو پہچانے، اور پھر اس پر زندگی کو استوار کرے۔

اخلاق محض معاشرتی آداب کا مجموعہ نہیں، بلکہ صفاتِ رحمتِ الٰہیہ کا مظاہرہ ہے۔ حلم، عفو، عدل، شکر، صبر، رحم — یہ سب وہ اخلاق ہیں جن سے اللہ نے اپنی ذات کو متصف فرمایا، اور یہ اس کے انسانی منصوبۂ تخلیق کی اساسی غایت ہے ان صفات کو بندے کی شخصیت میں جھلکنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی اخلاقِ ربانی کی مجسم صورت تھی، اور آپ کے بارے میں فرمایا گیا کہ “وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ۔“

طاقت، جو اکثر تاریخ میں ظلم و تسلط کا ہتھیار بنی، اسلام میں تحفظِ حق اور اقامتِ عدل و خیر کا وسیلہ بنائی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے طاقت کو کبھی ذاتی فائدے یا قومی تسلط کے لیے نہیں استعمال کیا، بلکہ ہمیشہ مظلوم کی نصرت، عدل کی برقراری، اور فتنہ کے خاتمے کے لیے استعمال فرمایا۔ طاقت، جب رحمت کے تابع ہو جائے، تو خیر کا ذریعہ بنتی ہے، اور جب رحم سے خالی ہو جائے، تو فساد کا سبب۔

وحی اور دین سے مؤثر ربط کے چار شرائط

شناخت کی تطہیر — اللہ، رسول، اور خود کو “زاویۂ رحمت“سے پہچاننا؛

باطنی تربیت — دل کو خشیت و محبت ، اور رحمتِ الٰہیہ کا محل بنا کر زندگی حاصل کرنا؛

وجودی ہم آہنگی —نفس، عقل، ارادے، اور عمل کو وحی کے ساتھ ہم آہنگ(align)کرنا؛

عملی افق — رحمت کو علم، اخلاق، اور طاقت کی سطح پر فعال اور جاری کرنا۔

اصلاح و تعمیر کی اس راہ میں سب سے پہلے اللہ کے تصور کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عمومی انداز میں اللہ کی پہچان محض ایک حاکمِ مطلق اور مالکِ کائنات کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے لیکن زاویۂ رحمت سے اللہ کی پہچان کہیں زیادہ گہری، دلنواز اور محبت آمیز ہو جاتی ہے۔ وہ رحمٰن ہے، ربّ ہے، ودود ہے — یعنی ایک ایسا رب جو انسان کی پرورش کرتا ہے، اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی طرف شفقت سے متوجہ رہتا ہے اور اس کی ملوکیت و حاکمیت بھی اس کی بے پایاں رحمت ہی کا خاصہ ہے۔

اسی طرح رسول اکرم ﷺ کا تصورِ رسالت بھی صرف شریعت سازی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ زاویۂ رحمت کے تناظر میں آپ ایک مربّی، شفیق اور سراپا رحمت للعالمین کی حثیت سے منصبِ رسالت کے عظیم ترین اور منفرد مقام پر فائز ہیں۔ آپ انسانوں کے دلوں کو جیتنے والے، ان کے اخلاق سنوارنے والے اور دنیا کو اپنی رحیمانہ قیادت سے رہنمائی کرنے والے رسول ہیں۔

انسان کی خودی کا شعور بھی ازسرِنو تعمیر طلب ہے۔ عام طور پر انسان کو یا تو حقیر و کمتر سمجھا جاتا ہے یا پھر وہ اپنے نفس کے تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زاویۂ رحمت ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان مکرم ہے، اس کے اندر نیابتِ خدائے رحمن کی صلاحیت ہے، اور وہ عبدِ رحمٰن بن کر ہی اپنی عظمت کی حقیقی پہچان حاصل کر سکتا ہے۔

زاویۂ رحمت میں وحی کے ساتھ تعلق قلبی، وجودی اور اخلاقی ہو جاتا ہے — ایسا تعلق جو دل کی گہرائیوں میں اترتا ہے اور انسان کے رویے اور شخصیت کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔ نتیجتاً، اس پورے زاویے کے تحت جو اثر ظاہر ہوتا ہے، وہ محض علمی افہام تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی اور تمدنی تحریک میں ڈھل جاتا ہے۔ ایسا فکری و روحانی انقلاب جو فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی سنوارنے لگتا ہے۔ وحی سے ربط محض رسمی یا محض عقلی سطح پر قائم رکھنے سے زندگی کی اصل تبدیلی اور نشوونما واقع نہیں ہوتی۔

اسلام کا تاسیسی نظریہ(Archetypal Foundation)

اسلام کا دیباچہ — اس کا نظریاتی تعارف — تین دائروں سے تشکیل پاتا ہے ، اور یہ تینوں دائرے درحقیقت “خدائے الرحمن“کی ذاتی اور صفاتی تجلیات ہیں:

حق ( Truth) : جو “الرحمن“ سے نسبت رکھتا ہے ، یعنی ایک ایسا حق جو نہ صرف مطلق ہے بلکہ دائمی اور فعال رحمت کی شان رکھتا ہے۔

خیر ( Goodness ) : جو انسانیت اور کائنات کے لیے ہے —ایسا خیر جو مادی، اخلاقی، روحانی، دنیوی اور اخروی بہبود کا ضامن ہے۔

جمال ( Beauty ): جو فطرت اور روح، دونوں کو سیراب کرتا ہے — جو توازن، حسن، اور کشش کا حامل ہے۔

اور ان تینوں کی جڑ، ان کا منبع، اور ان کا نقطۂ اتصال “رحمت“ہے۔ جب حق اور خیر مکمل توازن، تناسب اور روحانیت کے ساتھ ظاہر ہوں، تو وہ جمال بن جاتے ہیں۔ یہی جمال انسان کو اپنی فطرت سے ہم آہنگ کرتا ہے، اور اُسے سچائی سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ: “جمال، حق کی تجلی ہے“ ( Beauty is the splendor of the Truth)۔ اسلام، درحقیقت، ایک ایسا دین ہے جو حق کو رحمت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے، خیر کو رحمت کے ساتھ نافذ کرتا ہے، اور جمال کو رحمت کے ساتھ مجسم کرتا ہے۔

امت مسلمہ اپنے وجود، علم، طاقت، اخلاق، تہذیب، اور تعلقات کو اس زاویۂ رحمت کے تحت ازسرِنو ترتیب دے تو  وہ احیاء کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہے — ایک ایسا راستہ جو انسان کو اللہ کی طرف، اور دنیا کو عدل، امن، اور حسن کی طرف لے جاتا ہے۔

تہذیبی زوال اور احیائے رحمتِ الٰہیہ کا فکری منہج

اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف فرد کی روحانی نجات کا ضامن ہے بلکہ انسانی تہذیب کی تشکیل، تعمیر اور تطہیر کا بھی جامع نظام فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب ہم امتِ مسلمہ اور مسلم تہذیب کے موجودہ احوال پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس نظام اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک گہرا خلا دکھائی دیتا ہے۔ مسلم دنیا ایسے فکری و تمدنی انتشار اور  زوال سے دوچار ہے جس میں اس کی شناخت، مرجعیت، اور قیادت  تینوں سطح پر بحرانی ہے ۔

اس فکری و تمدنی بحران کی ایک بنیادی جہت مسلم شعور کا الٰہی رحمت سے انقطاع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت، جو قرآنِ مجید کی روح ہے، اور جسے سورة الفاتحہ کے ”الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“سے لے کر ”رَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَیءٍ“(الاعراف: ۱۵۶) تک بارہا دوہرایا گیا، آج مسلم فکر میں انفرادی سطح پر محض خوش آئند تخیل تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ نتیجتاً، نہ تو مسلم معاشرے الٰہی رحمت کو اپنی اجتماعی و تہذیبی بقا کا محرک بنا پائے ہیں اور نہ ہی اس کو انسانیت کے لیے عالمگیر اخلاقی نظام کے طور پر پیش کر پاتے ہیں۔ آج کی مسلم دنیا میں قرآن کی تلاوت تو جاری ہے، شریعت کے احکام پر گفتگو بھی ہو رہی ہے، اور دینی وابستگیاں مختلف خانقاہی، جماعتی، یا مسلکی دائروں میں فعال بھی ہیں؛ لیکن اس سب کے باوجود روحِ قرآن، رحمتِ محمدی ﷺ کی خوشبو، اور خلافتِ انسانیہ کا شعور معدومیت کی حد تک مدھم ہوتا جا رہا ہے ۔

ہم نے اسلام کو ایک ”نظام“ تو کہا، مگر اسے رحمت، ہدایت، نور، اور تسخیرِ قلب کے جامع مفہوم سے جوڑنا بھلا دیا۔ ہم نے خلافت کا ذکر تو کیا، مگر یہ بھول گئے کہ خلافتِ ارضی کی اصل بنیاد  اِس  بارِ امانت میں ہے کہ انسان مظہرِ رحمتِ الٰہی بن کر دنیا کو عدل، احسان ،جمال، ہمدردی اور حکمت کا گہوارہ بنائے۔ جب تک مسلمان فرد اور امت اس باطنی معرفت اور ربانی نسبت کو بازیافت نہیں کرتے، وہ کسی بھی علمی، سیاسی، یا تنظیمی کاوش سے اپنے زوال کو حقیقی معنوں میں ختم نہیں کر سکتے۔

ضرورت ہے کہ رحمتِ الٰہیہ کو ایک فکری، اخلاقی، اور تہذیبی اصول کے طور پر ازسرِ نو دریافت کرنے کی کوشش ہو۔ اس اِدَعا کی دلیل یہ ہے کہ “عبادالرحمن“ ہونا ہی مسلم شناخت کا جوہر ہے، اور انسان کی تخلیق کا مقصد یعنی عبادت یا خلافت کا جوہر ، رحمتِ الٰہیہ کے مظہر کے طور پر دنیا میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ تاریخِ اسلام کی احیائی کوششوں  جیسے امام غزالی کا فکری کارنامہ اور شاہ ولی اللہ کا تجدیدی مشن — ان سب کی اساس میں الٰہی رحمت، توحید اور عدل جیسے اصول کارفرما رہے ہیں۔ آج ضرورت ہے کہ ان اصولوں کو مابعدالزوال (post-decline)دور میں ایک نئے نظریاتی و تہذیبی منہاج کے طور پر بروئے کار لایا جائے۔[3]

موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ اس داخلی زوال کی بنیادی جڑ تک پہنچتے ہوئے  یہ دریافت کرنے کی کوشش کی جائے کہ آج کا مسلمان، وحی کی روشنی میں اپنی گمشدہ شناخت یعنی “عبدالرحمن” بننے کے عمل کو کیسے بحال کرے؟ وہ کون سے فکری و روحانی راہِ عمل ہے جو اسے پھر سے ایک عالمگیر رحمت پر مبنی تہذیب کا معمار بنا سکتی ہے ؟ اسی تناظر میں ہماری اس پیشکش کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ رحمتِ الٰہیہ کو محض روحانی تسکین یا رسمی عبادات سے بلند تر ایک فعال، انفرادی ، اجتماعی ، تمدنی اور اخلاقی نظام کی بنیاد کے طور پر متعارف کروایا جائے—ایسا نظام جو نہ صرف امتِ مسلمہ کو اس کی گم شدہ راہ دکھا سکتا ہے بلکہ انسانی تہذیب کو ایک متبادل اخلاقی و روحانی قیادت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

قرآن کے تصورِ خدا میں رحمت کا مقام

خدا کا تصور ہمیشہ سے انسان کی روحانی، اخلاقی اور تمدنی زندگی کا مرکز و محور رہا ہے۔ کسی مذہب یا تہذیب کے  پیروکاروں کے نفسیاتی اور اخلاقی مزاج کو جاننے کے لیے یہ سوال نہایت اہم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے معبود کو کس طرح تصور کیا ہے؟ یعنی اس کا تصورِ الٰہی کیسا ہے؟ کیونکہ انسان کا خدا کے بارے میں تصور ہی اُس کے اخلاقی اصولوں، روحانی ذوق، اور سماجی رویوں کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ اجتماع(Sociology)کا یہ معروف مسلمہ ہےکہ اگر کسی قوم کی فکری اور اخلاقی حالت کو سمجھنا ہو، تو سب سے پہلے یہ دیکھو کہ اس قوم نے اپنے خدا کو کس روپ میں دیکھا، کن صفات سے متصف کیا، اور اس کے ساتھ کیسا تعلق قائم کیا؟ کیونکہ جس ”شکل و شباہت“ میں وہ خدا کو دیکھتے ہیں، وہ دراصل خود ان کے ذہن اور اخلاق کی شبیہ ہوتی ہے۔ یعنی انسان جیسا خدا کا تصور قائم کرتا ہے، ویسا ہی اُس کا اپنا کردار، اس کا نظامِ اقدار اور اس کی تہذیب بن جاتی ہے۔

قرآنِ کریم نے اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان کی ہیں، ان کا پہلا جامع تعارف سورۂ فاتحہ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ سورة گویا اُس خدائی تصور کی مکمل عبارت  ہے جو قرآن پوری انسانیت کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس مختصر مگر جامع مرقع میں ہم ایک ایسی شبیہ دیکھ سکتے ہیں جو ربوبیت، رحمت اور عدالت پر مبنی ہے۔ یہی تین بنیادی صفات ہیں جن سے قرآنی تصورِ الٰہی کی ہیئت تشکیل پاتی ہیں۔

الرحمن اور الرحیم: قرآن کے تصورِ رحمت کا گہرا امتیاز

قرآن نے اللہ تعالیٰ کی صفات میں سب سے نمایاں صفت رحمت کو قرار دیا ہے، اور اس کو دو عظیم ناموں کے ذریعے واضح کیا ہے:

الرحمن: وہ ذات جس میں بے پایاں، ہمہ گیر، اور عمیق رحمت موجود ہے؛ گویا وہ رحمت کا منبع اور سرچشمہ ہے، خواہ اس کا ظہور انسان فوراً محسوس کرے یا نہ کرے۔[4]

الرحیم: وہ ذات جس کی رحمت نہ صرف موجود ہے، بلکہ فعلی طور پر ظہور پذیر ہوتی ہے—یعنی اُس کے بندے، اُس کی مخلوق، اس رحمت سے مسلسل فیض یاب ہوتے ہیں۔

یہ دونوں اسماء ”رحمت“سے مشتق ہیں۔ عربی زبان میں رحمت ایسی رِقّتِ قلب اور نرمئ احساس کو کہتے ہیں جو کسی دوسرے کی بھلائی، شفقت، یا احسان کے ارادے کو ابھار دے۔ اس میں محبت ، شفقت ، احسان اور فضل —سب کے مفاہیم شامل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے رحمت، مجرد محبت سے کہیں زیادہ وسعت اور اثر پذیری رکھتی ہے کیونکہ یہ صرف تعلقِ قلبی پر موقوف نہیں بلکہ عملی فیضان رسانی کی محرّک بھی ہے۔

ایک ہی صفت کے دو نام کیوں؟ قرآن نے اللہ کی صفتِ رحمت کو رحمن اور رحیم  کے دو ناموں سے مسمٰی کیا کیونکہ:

قرآن جس تصورِ الٰہی کو انسان کے ذہن میں جاگزیں کرنا چاہتا ہے، اس میں سب سے نمایاں اور جوہری پہلو رحمت کا ہے۔

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی تمام صفات، اُس کی رحمت ہی کے مختلف پرت اور مظاہر ہیں۔

اس کی ربوبیت بھی رحمت ہے؛

اس کی عدالت بھی رحمت ہے؛

اس کا عذاب بھی رحمت کا آخری مظہر ہے، تاکہ ظلم نہ پھیلے اور عدل قائم رہے۔

جیسا کہ قرآن نے خود فرمایا: نَبِّیٔۡ عِبَادِیۡ  اَنِّیۡ  اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿الحجر: ۴۹﴾

(اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں ۔ )

(اور میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، الاعراف: ۱۵۶)

قرآنی تصورِ الٰہی میں ”رحمت“محض ایک صفت نہیں، بلکہ مرکزی و محیط صفت ہے۔ اس لیے قرآن نے بسم اللہ میں نامِ ذات کے ساتھ سب سے پہلے الرحمن کو رکھا؛ [۲] پھر الرحیم کو۔

سورہ فاتحہ میں دوبارہ دونوں صفات کو ایک ساتھ ذکر کیا؛

اس طرح ان دونوں صفات کو ساتھ جوڑ کر روزمرہ زندگی کے ہر عمل کو اسی رحمت کے دائرے میں رکھ دیا۔اور اس دائرہ کی وسعت کو لا متناہی کمال تک پہنچا دیا۔  وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَیءٍ(اور میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے)(الأعراف: 156)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو نظام بیان ہوا ہے، اس میں “رحمت” کلیدی تصور کے طور پر بار بار ابھرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ کائنات میں جو کچھ خوبی، کمال، ترتیب، حسن اور توازن موجود ہے، وہ سب رحمتِ الٰہی کا سبب اور تأثیر ہے۔ جب ہم کائنات کی ساخت، نظم، اور افعال پر غور کرتے ہیں، تو سب سے پہلے جو صفت ہمیں متوجہ کرتی ہے، وہ ربوبیت ہے۔ کیونکہ انسان کی پہلی شناسائی فطرت سے ہوتی ہے، اور فطرت کا سب سے پہلا اثر اس کی پرورش اور نگہداشت ہے۔ لیکن اگر ہم علم و فہم اور شعور و آگہی کے چند قدم اور آگے بڑھائیں ، تو ہمیں یہ صاف نظر آتا ہے کہ ربوبیت سے بھی بڑی ایک اور حقیقت ہے، جو کائنات کے ذرے ذرے میں کارفرما ہے۔ وہ حقیقت ”رحمت“ہے — اور خود ربوبیت اسی کی تجلی یا فیضان ہے۔ اسی لئے شانِ خداوندی قرآنِ مجید میں بڑے اہتمام و إصرار کے ساتھ خود اپنا تعرف اس انداز سے کراتی ہے کہ ”  نَبّی عِبَادِی أَنِّی أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ “ (الحجر:۴۹) ؛ اور   ”وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ “ (طٰہ: ٩٠) ؛ اور ” وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ “ (یوسف: ٦٤)۔

رحمت- فطرت کی جمالیاتی ساخت کی علت

کائنات محض بقا یا وجود کا نظام نہیں بلکہ جمال، تناسب، اعتدال اور لطافت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ ذرات کا باہمی نظم ؛ مادی عناصر کی معتدل ترکیب؛ روشنی، رنگ، آواز، اور خوشبو میں حسن ؛ اشیاء میں مقصدیت و افادیت ؛ زندگی میں مسلسل نشوونما اور ارتقاء  ؛ یہ سب کچھ کسی میکانیکی قوانین کا نتیجہ نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے:

”قُلْ لِمَن مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ”“(الأنعام: 12)

(کہو: جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے، اور اُس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دے رکھا ہے۔)

جمال — ضرورت سے ماورا فیضان:  فطرت میں جو بھی چیز پیدا ہوتی ہے، وہ کسی ضرورت کے تحت  پیدا ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ:

زندگی کے لیے روشنی، ہوا، پانی ضروری ہیں، لیکن ان میں خوبصورتی کیوں ہے؟

خوشبو، نغمہ، رنگ، اور حسن — کیا یہ سب صرف ضرورت کا نتیجہ ہیں؟

اگر صرف بقا ہی مقصود ہوتی، تو جمال کیوں کر ہوتا؟

قرآن اس کا جواب دیتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف قانونِ ضرورت کا تقاضا نہیں، بلکہ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ کی رحمت ایسا چاہتی ہے۔ وجود، نظم، حسن، اور خیر کا اولین محرک رحمت ِ الٰہی ہے۔ چونکہ فطرتِ کائنات میں رحمت نہ صرف موجود ہے بلکہ وہی اول محرک (First Cause)ہے: اللہ نے رحمت اپنی ذات پر لازم کر لی ہے، ” كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ“ (الأنعام : ۱۲) اور وَرَبُّكَ الْغَنِی ذُو الرَّحْمَة(الأنعام: ۱۳۳)

اس لیے ہر چیز ”بہتر“ بنتی ہے؛

اس لیے جو کچھ ہوتا ہے، اُس میں افادیت، بہتری، خیر اور جمال پایا جاتا ہے؛

اس لیے بگاڑ، بدصورتی اور فساد فطرت کے خلاف ہے، نہ کہ اس کا لازمہ؛

جیسا کہ قرآن نے فرمایا: وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَیءٍ”میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔“  (الأعراف: ۱۵۶)

رحمت فطرت کا اخلاقی اور جمالیاتی أصول ہے۔ فطرت کا ہر حصہ صرف “کارآمد” ہی نہیں، خوبصورت بھی ہے۔ منصوبۂ تخلیقِ کائنات کا یہ ایک جوہری نکتہ ہے۔ زندگی کی بقا کے لیے ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ، زندگی کو لطیف و خوشنما بنانے والے پہلو بھی فطرت نے عطا کیے ہیں۔ رنگوں میں حسن ہے؛ پھولوں میں خوشبو ہے؛ آوازوں میں نغمہ ہے؛ سطحۂ زمین میں نشیب و فراز ہے؛ تسلسلِ شب و روز میں سکون و حرکت کا امتزاج ہے۔ یہ سب کچھ محض ”ضرورت“ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر رحمت، لطف اور احسان کا اظہار ہے۔

جیسا کہ قرآن کہتا ہے: مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ۔( الملک: ۳)

کائنات ایک ایسا رحمانی نظم ہے جس کی  ہر چیز افادہ رکھتی ہے؛ ہر مظہر فیضان کا وسیلہ ہے؛ ہر تبدیلی کسی تعمیری مقصد کے تحت ہے؛ اور ہر خوبصورتی رحمت کے ذوق کا مظہر ہے۔ یہ کوئی اتفاقی یا کورا فطری نظام نہیں، بلکہ ایک الٰہی شعور، اخلاق، اور رحمت پر مبنی انجینئرنگ ہے۔

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ  اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ ۢ بَصِیۡرٌ(الملک:۱۹)

”کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمن ( کی رحمت) کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ۔ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔“ (جاری)

حواشی

  1. مرچنٹ آف وینس ، ایکٹ 4، سین 1 ؛ شکسپئر۔
    The quality of mercy is not strained. Mercy is not forced; it flows naturally, not under compulsion.It descends from above—like divine grace—soft and life-giving.

    Mercy is a double blessing: it uplifts both giver and receiver.

    True power lies in showing mercy, even more than in wearing a crown.

    A king’s sceptre symbolises worldly authority and inspires fear.

    Mercy transcends that external power; it resides within the noble heart.

    Mercy is a divine trait. Human rule becomes godlike when it blends justice with mercy.

    Strict justice would condemn us all; we all need mercy to be saved.

    We ask for mercy in prayer; therefore, we must also act mercifully toward others.

    (Portia’s Speech (Act IV, Scene 1) Original Shakespeare Text (Annotated

  2. سورة الفاتحہ (1:1) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؛ سورة الاسراء (17:110) قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰن۔
  3. Hermeneutics of Al-Ghazzālī Concerning Mercy (al-Rahmah) and its Social Applications: A Religio-Ethical Study – Al-Qantara, Volume 10, Issue 1 (2024)
  4. قال رسول الله : إن لله مئة رحمة، أنزل منها رحمة فی الأرض، فبها یتراحم الخلق، حتى إن الفرس لترفع حافرها، والناقة  لترفع خفها، مخافة أن تصیب ولدها، وأمسك تسعة وتسعین رحمة عنده لیوم القیامة [رواه البخاری]۔
    (رسولِ اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں۔ اُن میں سے ایک رحمت اُس نے زمین پر نازل فرمائی، اور اُسی کے ذریعے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے — یہاں تک کہ گھوڑی اپنا سم اٹھا لیتی ہے اور اونٹنی اپنا پاؤں اس خوف سے اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اپنے بچے کو تکلیف نہ پہنچ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں اپنے پاس یومِ قیامت کے لیے محفوظ رکھی ہیں۔)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رحمتِ الٰہی کا فکری و احیائی تناظر (1)

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223