رمضان المبارک اور حصولِ تقویٰ

ڈاکٹر محمد رفعت

اِنسان کی فِطرت ہدایت کی طلب گار ہے۔ فطرت کی اِس طلب کا اظہار اُس دُعا سے ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ نے اِنسانوں کو سِکھائی ہے۔ اِس تعلیم کے مطابق اقرارِ بندگی کرنے کے بعد اِنسان، اپنی فطرت کے تقاضے کے تحت، خالقِ کائنات سے درجِ ذیل دعا مانگتا ہے۔

ایاکَ نَعْبُدُ وایاکَ نَسْتَعِیْنُ oاھدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ o صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنعَمتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ المَغضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَo

﴿الفاتحہ: ۵-۷﴾

’ہمیں سیدھا راستہ دِکھا، اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا جو گمراہ نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔‘

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  سورہ فاتحہ کی حیثیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’قرآن اور سورہ فاتحہ کے درمیان حقیقی تعلق، کتاب اور اُس کے مقدمے کا سا نہیں بلکہ دُعا اور جوابِ دُعا کا سا ہے۔ سورہ فاتحہ ایک دُعا ہے بندے کی جانب سے اور قرآن اُس کا جواب ہے خدا کی جانب سے۔ بندہ دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار! میری رہنمائی کر۔ جواب میں پروردگار پورا قرآن اُس کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہے وہ ہدایت و رہنمائی جِس کی درخواست تو نے مجھ سے کی ہے۔‘ ﴿تفہیم القرآن، سورہ فاتحہ﴾

اللہ تعالیٰ کی ہدایت و رہنمائی اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب کی شکل میں دنیا میں موجود ہے ، مگر محض کتاب کی موجودگی کافی نہیں۔ اللہ کی ہدایت کے نافع اور موجب فلاح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اِنسان ہدایت کو سمجھ سکے اور سمجھنے کے بعد اُس کے مطابق اپنے عمل کو ڈھال سکے۔ اِن دونوں مراحل کے طے کرنے کے لیے تقویٰ ایک بنیادی شرط ہے۔ چنانچہ کتابِ الٰہی کے آغاز ہی میں اِس شرط کا تذکرہ کیاگیا ہے۔

الٓمّٓ oذٰلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ oالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَo ﴿البقرہ:۱،۲﴾

’الف-لام- میم- یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔﴾

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ  اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’یعنی جو بندے اپنے خدا سے ڈرتے ہیں اُن کو یہ کتاب راستہ بتلاتی ہے۔ کیونکہ جو اپنے خدا سے خائف ہوگا اُس کو امورِ مرضیہ اور غیرمرضیہ یعنی طاعت و معیت کی ضرور تلاش ہوگی اور جِس نافرمان کے دِل میں خدا کا خوف ہی نہیں اُس کو طاعت کی کیا فکر اور معصیت سے کیا اندیشہ۔‘

اس تشریح سے کیفیت ِ تقویٰ اور طلبِ ہدایت کا تعلق سامنے آتا ہے۔ اِرشاد الٰہی کا منشا یہ ہے کہ کتابِ الٰہی کاصحیح مفہوم انھی کی سمجھ میں آئے گا جِن کے دِل تقویٰ سے معمور ہوں اور جو رضائے الٰہی کی سچی طلب کے ساتھ اِس کتاب کی طرف رجوع کریں۔ تقویٰ کی صفت کے بغیر محض ذہانت اور فنّی تدابیر کے ذریعے اِنسان کتاب الٰہی کے مفہوم تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ ہدایت کا مفہوم سمجھ لینے کے بعد اِنسان کی فلاح کے لیے یہ بھی ناگزیر ہے کہ وہ ہدایت پر عمل کی توفیق پائے۔ یہ تو فیق بھی اُنھی بندگانِ خدا کو ملے گی جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہوں۔

جب تقویٰ اتنی اہم صفت ہے کہ ہدایت الٰہی سے استفادہ اسی پر موقوف ہے تو فطری طورپر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اس صفت کے حصول کا راستہ کیا ہے؟ قرآن مجید اِس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ کتابِ الٰہی کے مطابق تقویٰ کے حصول کے لیے ایمان کے بعد جن امور کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ ہیں:

﴿الف﴾ ضبطِ نفس

﴿ب﴾  منہیات سے پرہیز اور حدود اللہ کی نگہداشت

﴿ج﴾  عدل

﴿د﴾       اعمالِ صالحہ خصوصاً ایفائے عہد اور جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام

﴿ہ﴾  احتساب

تقویٰ کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں:

’﴿تقویٰ کا مفہوم ہے﴾ اللہ کی حدود کو توڑنے، اُس کی امانتوں میں خیانت کرنے اور اُس کے عہد کی بے حرمتی کرنے سے ﴿اس روش کے بُرے نتائج اور خدا کے غضب کے اندیشے کی بِنا پر﴾ بچنا۔.. متقی وہ شخص ہے، جس کے دِل میں خدا کی تعظیم اور اُس کے غضب کا اندیشہ ہو اور جو خدا کی قائم کی ہوئی حدود کو توڑنے، اُس کے عہد ومیثاق کی خلاف ورزی کرنے اور اُس کی امانتوں میں خیانت کرنے سے ڈرتا ہو۔‘ ﴿ماخوذ از : ’حقیقتِ تقویٰ‘﴾

ضبط نفس اور روزہ

کیفیت تقویٰ کے حصول کے لیے ضبطِ نفس ناگزیر ہے۔ ضبطِ نفس یعنی نفس کو کنٹرول کرنے اور اُسے اطاعت الٰہی کا خوگر بنانے کی ایک اہم تدبیر روزہ ہے۔ قرآن مجیدمیں روزے کی اِس صفت کا تذکرہ کیاگیا ہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلٰی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَo﴿البقرہ:۱۸۳﴾

’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اِس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘

مولانا شیر احمد عثمانیؒ  اِس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’یعنی روزے سے نفس کو اُس کی مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑے گی تو پھر اُس کو اُن مرغوبات سے جو شرعاً حرام ہیںروک سکوگے۔ روزے سے نفس کی قوت و شہوت میں ضعف بھی آئے گا تو اب تم متقی ہوجاؤگے۔ بڑی حکمت روزے میں یہی ہے کہ نفس سرکش کی اِصلاح ہو اور شریعت کے احکام جو نفس کو بھاری معلوم ہوتے ہیں اُن کاکرنا سہل بن جائے ﴿اور متقی بن جاؤ﴾۔‘

مولانا اشرف علی تھانویؒ  آیت بالا کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اُس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقویٰ کی۔ یہ روزے کی ایک حکمت کا بیان ہے۔ لیکن حکمت کا اِسی میں انحصار نہیں ہوگیا۔ خدا جانے اور کیا کیا ہزاروں حکمتیں ہوں گی۔‘

جناب امین احسن اصلاحی روزے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’شہوت اور نفسانی خواہشوں کے غلبے سے اِنسان کے اندر اللہ سے جو غفلت اور اُس کی حدود سے بے پروائی پیدا ہوتی ہے، اُس کی اِصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزے کی عبادت مقرر کی ہے۔‘

نفسِ انسانی کے جو پہلو سب سے زیادہ زوردار ہیں اُن میںشہوات، خواہشات اور جذبات سب سے نمایاں ہیں۔ اُن کی فِطرت میں اشتعال، ہیجان اور جوش ہے۔ اِس وجہ سے ﴿انِسانی﴾ ارادے کو اُن پر قابو پانے کے لیے ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ یہ ریاضت اتنی سخت اور ہمت شکن ہے کہ قدیم مذہب کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ تزکیہ نفس کے بہت سے طالبین سرے سے اس چیز ہی سے مایوس ہوگئے کہ اِن ﴿رجحانات﴾ کو قابو میں بھی لایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قابو میں لانے اور اُن کی تربیت کرنے کے بجائے اُن کو یک قلم ختم کردینے کی تدبیریں سوچیں اور اختیار کیں۔ لیکن اِسلام دین فطرت ہے اور یہ چیزیں بھی اِنسانی فطرت کے لازمی اجزا میں سے ہیں، جن کے بغیر اِنسان کے شخصی اور نوعی تقاضوں کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ اِس وجہ سے اِسلام نے ان کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ بلکہ اُن کو قابو میں کرکے اُن کو صحیح راہ پر لگانے کا حکم دیا ہے۔

لیکن ﴿بہرحال﴾ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان ﴿رجحانات﴾ کو قابومیں کرنا، اُن کو ختم کردینے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ایک منھ زور گھوڑے کو ختم کردینا ہوتو اس کے لیے زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ہے۔ بندوق کی ایک گولی اُس کوٹھنڈا کردینے کے بالکل کافی ہے۔ لیکن اگر اس ﴿گھوڑے﴾ کو رام کرکے سواری کے کام میں لانا ہوتو یہ مقصد ایک ماہر شہسوار بڑی ریاضتوں، بڑی مشقتوں اور بہت سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے بعد ہی حاصل کرسکتا ہے۔

روزے کی عبادت اِسلام نے اِس لیے مقرر فرمائی ہے کہ ایک طرف نفسِ اِنسانی کے یہ سرکش رجحانات ضعیف ہوکر اعتدال پر آئیں اور دوسری طرف اِنسان کی قوتِ ارادی ان ﴿رجحانات﴾ کو دبانے اور اُن کو حدودِ الٰہی کاپابند بنانے کے لیے طاقتور ہوجائے۔ اپنے اِس دوطرفہ عمل کے سبب، تزکیہ نفس کے نقطہ نظر سے… اِس عبادت کی بڑی اہمیت ہے اور اس کی برکات کی بھی کوئی حدو نہایت نہیں ہے۔‘ ﴿ماخوذ از: ’تزکیہ نفس‘﴾

رمضان المبارک اور حصولِ تقویٰ

یہ بات ہمارے سامنے آچکی کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان پر روزے فرض کیے تاکہ اُن میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوسکے۔ اِن روزوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے مہینے کا انتخاب فرمایا:

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰ نُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَن کَانَ مَرِیْضاً أَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ یُرِیْدُ اللّہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُواْ الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُواْ اللّٰہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَo  ﴿البقرہ:۱۸۵﴾

’رمضان وہ مہینہ ہے جِس میں قرآن نازل کیاگیا جو اِنسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے، اور ایسی واضح تعلیمات پرمشتمل ہے جوراہِ راست دِکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا، اب جو شخص اِس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہوتو وہ دوسرے دِنوں میں روزوں کی تعداد کو پوری کرے۔ اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اِس لیے یہ طریقہ تم کو بتایا جارہاہے ۔ تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو، اور جس ہدایت سے اللہ نے تم کو سرفراز کیاہے، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘

اِس آیت سے چند اہم امور پر روشنی پڑتی ہے:

﴿الف﴾ رمضان المبارک کی فضیلت کا اہم سبب نزولِ قرآن ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی عظمت سے جو شخص واقف ہو وہ خود بخود فضیلتِ رمضان کا بھی معترف ہوگا۔

﴿ب﴾    اپنی نوعیت کے اعتبار سے قرآن مجید سراسر ہدایت ہے۔ ہدایت کا نزول اِس لیے ہواہے کہ اِنسان اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ مزید برآں راہِ ہدایت کی نشاندہی پر مشتمل جو تعلیمات یہ کتاب پیش کرتی ہے وہ بالکل واضح اور کھُلی ہوئی ہیں۔

﴿ج﴾     یہ کتاب اِنسانوں کی ایک بنیادی ضرورت کو پورا کرتی ہے یعنی اُن پیچیدہ معاملات میں حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دیتی ہے جہاں اِنسان کی عقل عقدہ کشائی کے لیے کفایت نہیں کرتی۔

﴿د﴾       اِ س کتاب ہدایت کی عظمت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کیاجائے۔ اللہ کی کبریائی کا اعلان، دعوتِ الی اللہ ہی کی دوسری تعبیر ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے دعوتِ الٰہی کے فریضے پر مامور کرتے وقت درجِ ذیل ہدایت فرمائی تھی:

یَآ أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ oقُمْ فَأَنذِرْ oوَرَبَّکَ فَکَبِّرْ  o ﴿المدثر: ۱-۳﴾

’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اورخبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کااعلان کرو۔‘

اِن آیات کی تشریح کرتے ہوئے سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’﴿رَب کی بڑائی کا اعلان﴾ ایک نبی کا اولین کام ہے جسے اِس دنیا میں اُسے انجام دینا ہوتا ہے۔ اُس کا پہلا کام ہی یہ ہے کہ جاہل اِنسان یہاں جِن جِن کی بڑائی مان رہے ہیں اُن سب کی نفی کردے اور ہانکے پکارے دنیا بھر میں یہ اعلان کردے کہ اِس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سِوا اور کسی کی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِسلام میں کلمہ ’اللہ اکبر‘ کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اذان کی ابتدا ہی اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتی ہے۔ نماز میںبھی مسلمان تکبیر کے الفاظ کہہ کر داخل ہوتاہے اور بار بار اللہ اکبر کہہ کر اُٹھتا اور بیٹھتا ہے۔ جانور کے گلے پر چھُری بھی پھیرتا ہے تو ’بسم اللہ اللہ اکبر‘ کہہ کر پھیرتا ہے۔ نعرہ تکبیر آج ساری دنیا میں مسلمان کا سب سے زیادہ نمایاں امتیازی شعار ہے۔ کیونکہ اِس اُمت کے نبی نے اپنا کام ہی اللہ کی تکبیر سے شروع کیاتھا۔‘   ﴿تفہیم القرآن- سورہ مدثر- حاشیہ:۳﴾

﴿ہ﴾       کتابِ الٰہی کی عظمت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ اِس نعمت کا شُکر ادا کیاجائے ۔ اِس شکر کا ایک پہلو زبان اور دِل سے شُکر ادا کرنا ہے لیکن شُکر کے مفہوم میں یہ بات بھی لازماً شامل ہے کہ ہدایت کی اس نعمت سے فائدہ اُٹھایاجائے۔ ہدایت سے فائدہ اُٹھانے کے معنی یہ ہیں کہ اُسے سمجھاجائے اور اُس پر عمل کیاجائے۔ اِن دونوں کاموں- فہم اور عمل- کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔ رمضان کے روزے اِس لیے فرض کیے گئے ہیں کہ اِنسان کے اندر یہ تقویٰ پیدا ہوسکے۔ ہدایت، تقویٰ اور روزے کا یہ تعلق اِنسان کو مستحضررہے تو وہ رمضان المبارک کی قدر پہچانتا ہے اور اُس کے فیوض سے استفادہ انسان کے لیے آسان ہوجاتاہے۔

حدود اللہ کی حفاظت

اِنسان کے دِل میں تقویٰ موجود ہوتو توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے گا اور حدود اللہ کی حفاظت کرے گا۔ قرآن مجید تقویٰ کے اِن لوازم کا تذکرہ کرتا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

﴿الف﴾ سود کھانا تقویٰ کے منافی ہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَآ أَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃً وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ oوَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْٓ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ o﴿آل عمران:۱۳۰،۱۳۱﴾

’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑدو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے فلاح پائوگے۔ اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے۔

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ  اِن آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’اُحد کی ﴿جنگ میں مسلمانوں کی﴾شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔ اِس لیے حکیم مطلق نے اِس حالت کی اِصلاح کے لیے زَرپرستی کے سرچشمے پر بَند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیاکہ سود خواری سے بازآئو جِس میں آدمی رات دِن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جِس کی وجہ سے آدمی کے اندر روپے کی حِرص بے حد بڑھتی چلی جاتی ہے۔

سود خواری جِس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اُس کے اندر سود خواری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں: سود لینے والوں میں حرص وطمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں نفرت، غصہ اور بُغض و حسد۔ احد کی شکست میں اِن دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتاہے کہ سود خواری سے فریقین میں جو اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں اُن کے بالکل برعکس اِنفاق فی سبیل اللہ سے دوسری قسم کے اوصاف پیدا ہوا کرتے ہیں اور اللہ کی بخشش اور جنت اِسی دوسرے قسم کے اوصاف سے حاصل ہوسکتی ہے۔‘

﴿تفہیم القرآن- سورہ آل عمران- حاشیہ:۹۸،۹۹﴾

﴿ب﴾    کھانے پینے کے سلسلے میں حلال وحرام کے حدود کی پابندی لوازمِ تقویٰ میں سے ہے:

یَسْأَلُونَکَ مَاذَآ أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُونَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّہُ فَکُلُواْ مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْْکُمْ وَاذْکُرُواْ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہِ وَاتَّقُواْ اللّہَ انَّ اللّہَ سَرِیْعُ الْحِسَاب ﴿المائدہ:۴﴾

’لوگ پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا حلال کیاگیاہے؟ کہو، تمھارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں اور جِن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھایا ہو — جِن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پرتم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو — وہ جِس جانور کو تمھارے لیے پکڑرکھیں اُس کو بھی تم کھاسکتے ہو، البتہ اُس پر اللہ کا نام لو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔‘

﴿ج﴾     حجاب کے احکام دیتے ہوئے اُن کی پابندی کو لوازمِ تقویٰ میں شمار کیاگیا ہے:

لَّا جُنَاحَ عَلَیْْہِنَّ فِیْ اٰ بَآئِہِنَّ وَلَآ أَبْنَائِہِنَّ وَلَآ اخْوَانِہِنَّ وَلَآ أَبْنَآئ ْوَانِہِنَّ وَلَآ أَبْنَآئ أَخَوَاتِہِنَّ وَلَا نِسَآئِہِنَّ وَلَا مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُنَّ وَاتَّقِیْنَ اللَّہَ اِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْْئ ٍ شَہِیْداً  ﴿الاحزاب:۵۵﴾

’ازواجِ نبی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اُن کے باپ، اُن کے بیٹے، اُن کے بھائی، اُن کے بھتیجے، اُن کے بھانجے اُن کے میل جول کی عورتیں اور اُن کے مملوک گھروں میں آئیں۔﴿اے عورتو!﴾ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔﴾‘

﴿د﴾       حرام مہینوں کی حرمت کے پاس و لحاظ کو قرآن مجید نے تقویٰ کے لوازم میں شامل کیاہے:

الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْْکُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَیْْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْْکُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ  ﴿البقرہ:۱۹۴﴾

’ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہی ہے اور تمام حُرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔ لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘

عدل

عدل دینِ حق کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ تقویٰ اور عدل کی باہم مناسبت کا تذکرہ قرآن مجید اِس طرح کرتا ہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَآئ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُواْ اللّہَ اِنَّ اللّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ oوَعَدَ اللّہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ لَہُم مَّغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ عَظِیْمٌo   المائدہ:۸،۹﴾

’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور اِنصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ اِنصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو۔ یہ تقویٰ سے زیادہ مناسب رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے اُن سے وعدہ کیا ہے کہ اُن کی خطائوں سے درگزر کیا جائے گا اور انھیں بڑا اجر ملے گا۔‘

جناب شبیراحمد عثمانی آیاتِ بالاکی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’عدل کامطلب ہے کسی شخص کے ساتھ’بِلا افراط وتفریط کے‘ وہ معاملہ کرنا جس کا وہ واقعی مستحق ہے۔ عدل و اِنصاف کی ترازو ایسی صحیح اور برابر ہونی چاہیے کہ عمیق محبت اور شدید عداوت بھی اُس کے دونوں پلّوں میں سے کسی پلّے کو نہ جھکاسکے۔‘

جو چیزیں شرعاً مہلک ﴿یعنی حرام﴾ یا کسی درجے میں مضر ﴿یعنی مکروہ﴾ ہیں اُن سے بچتے رہنے سے ایک خاص نورانی کیفیت آدمی کے دِل میں راسخ ہوجاتی ہے۔ اِس ﴿کیفیت﴾ کا نام تقویٰ ہے۔ تحصیل تقویٰ کے اسباب… بہت سے ہیں۔ تمام اعمال حسنہ اور خصائلِ خیر کو اس کے اسباب… میں شمار کیاجاسکتا ہے۔ لیکن معلوم ہوتاہے کہ ’عدل و قسط‘ یعنی دوست و دشمن کے ساتھ یکساں اِنصاف کرنا اور حق کے معاملے میں جذباتِ محبت و عداوت سے قطعاً مغلوب نہ ہونا— یہ خصلت حصولِ تقویٰ کے موثر ترین اور قوی ترین اسباب میں سے ہے۔ اِسی لیے ’ھو اقرب للتقویٰ‘ فرمایا: ’﴿یعنی یہ عدل جِس کا حکم دیاگیا ہے تقویٰ سے قریب تر ہے﴾ کہ اس کی مداومت سے تقویٰ کی کیفیت بہت جلد حاصل ہوجاتی ہے۔‘

اعمالِ صالحہ اور حصولِ تقویٰ

تقویٰ کا تعلق اِنسان کے دِل سے ہے۔ اگر دِل میں تقویٰ موجود ہوتو اِنسان اچھے عمل کرے گا۔ اِسی طرح یہ بات بھی صحیح ہے کہ اعمالِ صالحہ کا اہتمام اِنسان کے قلب میں موجود تقویٰ کی کیفیت میں ترقی اور رسوخ کا باعث بنتا ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ اھْتَدَوْا زَادَھُمْ ھدًی وَاٰتَاھمْ تَقْواھمْ      ﴿محمد:۷۱﴾

’رہے وہ لوگ جنھوں نے راہِ ہدایت اختیار کی ہے، اللہ اُن کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انھیں اُن کے حصّے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے۔‘

جناب شبیر احمدعثمانی آیتِ بالا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’سچائی کے راستے پر چلنے کا اثر یہ ہوتاہے کہ آدمی روز بروز ہدایت میںترقی کرتا چلاجاتا ہے او ر اُس کی سوجھ بوجھ اور پرہیزگاری بڑھتی جاتی ہے۔‘

یوں تو کیفیت ِتقویٰ میں یہ ترقی، تمام اعمالِ صالحہ کا فیض ہے لیکن خاص طورپر جن نیک کاموں میں یہ تاثیر پائی جاتی ہے وہ حق کی تصدیق، پاسِ عہد اور جہاد فی سبیل اللہ ہیں۔ اِن کاموں کو تقویٰ کے ثمرات بھی قرار دیاجاسکتا ہے اور اُن کو کیفیت تقویٰ میں اضافے کے اسباب میں بھی شمار کیاجاسکتا ہے۔ تقویٰ اوراعمالِ صالحہ کے اِس تعلق کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

﴿الف﴾ قرآن مجیدبتاتاہے کہ اہلِ تقویٰ اُس پیغامِ حق کی عظمت کے قدر داں ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے:

وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْاْ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّکُمْ قَالُواْ خَیْْراً لِّلَّذِیْنَ أَحْسَنُواْ فِیْ ہَذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُ الاٰخِرَۃِ خَیْْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْن   ﴿النحل:۳۰﴾

’اور جب خدا ترس لوگوں سے پوچھا جاتاہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمھارے رَب کی طرف سے نازل ہوئی ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ’بہترین چیز اتری ہے۔‘ اس طرح کے نیکو کار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی اُن کے حق میں بہتر ہے۔ بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا۔‘

﴿ب﴾    حق کی تصدیق متقیوں کی صفت ہے:

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَبَ عَلٰی اللَّہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اذْ جَآئ ہ‘ط أَلَیْْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکَافِرِیْنَ oوَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٰ أُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَo                              الزمر:۳۲،۳۳﴾

’پھر اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اُس کے سامنے آئی تو اُسے جھُٹلادیا۔ کیا ایسے لوگوں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟ اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنھوںنے اُس کو سچ مانا، وہی لوگ اہلِ تقویٰ ہیں۔‘

﴿ج﴾     تقویٰ اختیار کرنے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کریں گے:

فَخَلَفَ مِن بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَرِثُواْ الْکِتَابَ یَأْخُذُونَ عَرَضَ ہَ ذَا الأدْنٰی وَیَقُولُونَ سَیُغْفَرُ لَنَا وَاِن یَأْتِہِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہُ یَأْخُذُوہُ أَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْْہِم مِّیْثَاقُ الْکِتَابِ أَن لاَّ یِقُولُواْ عَلٰی اللّہِ اَّ الْحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِیْہِ وَالدَّارُ الاٰخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ  ﴿الاعراف:۱۶۹﴾

’﴿بنی اسرائیل کی﴾ اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف اُن کے جانشین ہوئے جو کتابِ الٰہی کے وارث ہونے کے باوجود اسی دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے کہ ہمیں معاف کردیاجائے گا اور اگروہی متاعِ دنیا سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اُسے لے لیتے ہیں۔ کیا اُن سے کتاب کا عہد نہیں لیاجاچکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت کی قیام گاہ تو تقویٰ شعار لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے۔ کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟‘

﴿د﴾       یہی معاملہ اِنسانوں سے کیے ہوئے عہد کاہے:

بَلَی مَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَانَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن ﴿آل عمران:۷۶﴾

’جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے اور بُرائی سے بچ کر رہے تو ﴿جان لو کہ﴾ اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿ہ﴾       تقویٰ شعار اہلِ ایمان جہاد سے جی نہیں چُراتے:

لا یَسْتَأْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ أَن یُجَاہِدُواْ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ  ﴿التوبہ:۴۴﴾

’جو لوگ اللہ اوریومِ آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریںگے کہ انھیں اپنی مال وجان کے ساتھ ﴿اللہ کے راستے میں﴾ جہاد کرنے سے معاف رکھاجائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔‘

﴿و﴾       جو منافقین اِسلامی سوسائٹی کو نقصان پہنچارہے تھے اُن کے شرکا استیصال تقویٰ کا تقاضا ہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ یَلُونَکُم مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُواْ فِیْکُمْ غِلْظَۃً وَّاعْلَمُوآْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَo         ﴿التوبہ:۱۲۳﴾

’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، قتال کرو اُن منکرینِ حق سے جو تمھارے پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تمھارے اندر سختی پائیں۔ اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘

﴿ز﴾       سخت حالات میں اللہ اور اس کی پکار پر جہاد کے لیے آمادہ ہوجانے والے اہلِ تقویٰ سے اجر کا وعدہ کیاگیا ہے:

الَّذِیْنَ اسْتَجَابُواْ لِلّہِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُواْ مِنْہُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِیْمo     ﴿آل عمران:۱۷۲﴾

’وہ لوگ جنھوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اُس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا، اُن میں جو اشخاص نیکوکار اور متقی ہیں اُن کے لیے بڑا اجر ہے۔‘

احتساب

مذکورِ بالا تدابیر کے علاوہ حصولِ تقویٰ کی ایک ضروری تدبیر یہ ہے کہ آدمی اپنا جائزہ لے اور دیکھے کہ اُس نے آخرت کے لیے کیا تیاری کی ہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍط وَاتَّقُوا اللَّہَ انَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ oوَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللَّہَ فَأَنسَاہُمْ أَنفُسَہُمْ أُوْلَئِٰٓکَ ہُمُ الْفَاسِقُون  o﴿الحشر:۱۸،۱۹﴾

’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا تمھارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انھیں خود اپنا نفس بھُلادیا۔ یہی لوگ فاسِق ہیں۔‘

یہ حقیقت ہے کہ دیانت داری کے ساتھ اپنا بے لاگ جائزہ اِنسان کے سامنے اُس کی کمزوریاں اور بُرائیاں کھول کر رکھ دیتا ہے پھر اِنسان کے اندر ایمان اور زندہ ضمیر موجود ہوتو وہ اپنی اِصلاح کے لیے سرگرم ہوجاتاہے۔ اِس لیے احتساب کاعمل، تقویٰ کے حصول میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ انفرادی احتساب ایک خاموش کام ہے جو مجمع میں نہیں انجام پاتا۔ اِس لیے اس میں ریا کا کوئی اِمکان نہیں۔ بے لاگ احتساب کے بعدآدمی اپنی قوت ارادی کو کام میں لائے اور اپنی اِصلاح کی سعی شروع کردے تو اللہ کے فضل سے یہ توقع ہے کہ وہ متقیوں کی صف میں شامل ہوسکے گا۔

اگست 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau