انسانی زندگی محض جسمانی وجود کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت نفسیاتی، جذباتی اور روحانی نظام ہے۔ جدید دور کا انسان بظاہر سہولتوں اور ترقی کے درمیان سانس لے رہا ہے، مگر اس کا باطن اضطراب، بے سمتی، ذہنی انتشار اور جذباتی تھکن سے بوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ معلومات کی یلغار، مسلسل اسکرین، مادّی دوڑ اور تعلقات کی پیچیدگی نے انسانی ذہن کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے بار بار اپنے اندرونی نظام کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسلام نے اس انسانی ضرورت کو محض تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ رمضان المبارک کی صورت میں ایک ایسا الٰہی، فطری اور متوازن نظام عطا کیا جو گہرائی میں جاکر انسان کی نفسیات کا سرآغاز کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
رمضان محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ شعور، ارادے، جذبات اور رویوں کی ازسرِنو تشکیل کا مہینہ ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:
یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَیكُمُ الصِّیامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورة البقرہ:183)
(اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ )
تقویٰ محض ایک روحانی کیفیت نہیں بلکہ یہ نفسیاتی بیداری، خود نگرانی اور شعوری ضبطِ نفس کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ جدید نفسیات جسے خود نظمی (Self-Regulation)اور خود ضبطی (Self-Control)کہتی ہے، قرآن اسے ایک جامع اخلاقی و نفسیاتی نظام میں سمو دیتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیلف ریگولیشن اور سیلف کنٹرول صرف ظاہری زندگی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اس زندگی کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اور اس بڑے مقصد کے لیے اس زندگی کو منظم اور پابند رکھنا تقویٰ ہے۔
رمضان کی سب سے پہلی نفسیاتی تاثیر یہ ہے کہ انسان اپنی روزمرہ عادتوں کی قید سے باہر نکل آتا ہے۔ نفسیات کے مطابق انسان کی زندگی زیادہ تر عادتوں کے تسلسل (Habit Loops)کے تحت چلتی ہے، یعنی مخصوص محرکات، مخصوص ردِعمل اور مخصوص تسکین۔ رمضان اس خودکارتسلسل کو توڑ دیتا ہے۔ کھانے کے اوقات بدل جاتے ہیں، نیند کا نظام تبدیل ہوجاتا ہے، گفتگو محدود ہوجاتی ہے اور ترجیحات کا زاویہ بدلنے لگتا ہے۔ معمولات کایہی توقف (Routine Break) انسانی ذہن کے لیے ایک طاقت ور نفسیاتی سرآغاز (Psychological Reset)ثابت ہوتا ہے، کیوں کہ جب ذہن خودکار طرزِ عمل سے نکلتا ہے تو شعور بیدار ہوتا ہے۔
بھوک اور پیاس کا تجربہ محض جسمانی آزمائش نہیں بلکہ گہری نفسیاتی تربیت ہے۔ جدید نفسیات میں تسکینِ موخر (Delayed Gratification)کو مضبوط شخصیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ روزہ انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ فوری تسکین کے بجائے شعوری فیصلے کرے۔ نبی کریم ﷺ نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا: الصِّیامُ جُنَّةٌ “: روزہ ڈھال ہے۔ “(صحیح بخاری، کتاب الصوم) یہ ڈھال انسان کو نہ صرف گناہوں سے بلکہ نفسیاتی کم زوریوں، خواہشات کی غلامی اور جذباتی بے اعتدالی سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قوت ارادی کی بازیابی (Willpower Restoration)بھی کہتے ہیں۔
رمضان میں جذباتی نظم کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ غصہ، چڑچڑاپن اور غیر متوازن ردِعمل انسانی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ روزے کی حالت میں نبی کریم ﷺ نے واضح ہدایت فرمائی: فَإِذَا كَانَ یوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا یرْفُثْ وَلَا یصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْیقُلْ إِنِّی صَائِمٌ۔ ”: جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ فحش بات کرے اور نہ شور و جھگڑا، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑے تو کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔ “(صحیح بخاری، کتاب الصوم)
یہ محض روزہ کے آداب کا بیان نہیں ہے بلکہ جذباتی انضباط (Emotional Regulation)کی عملی تربیت ہے۔ روزہ انسان کو اپنے جذبات کو پہچاننا اور ان پر قابو پانا سیکھتا ہے، جو نفسیاتی ترتیبِ نو کا بنیادی ستون ہے۔
علامہ محمد غزالیؒ لکھتے ہیں کہ “فرائض کی ادائیگی میں تساہل اور نوافل کی ادائیگی میں چستی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی علامت ہے۔“رمضان میں عبادات کی فضیلت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ فرائض میں ایک لمحے کے لیے تساہل کا تصور نہیں آتا اور نوافل میں اعتدال کے ادائیگی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادات کی کثرت ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق بیدا رذہنی (Mindfulness)اور بامعنی معمولات (Meaningful Rituals)دماغ میں سکون پیدا کرنے والے نظام کو متوازن کرتے ہیں۔ ویسے بھی فرائض، نوافل، ذکر اور قیام سے اطمیان، تمازت اور زندگی میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن نے خود اسے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔ “سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔“(سورة الرعد:28)
یہ اطمینان محض روحانی نہیں بلکہ گہرا نفسیاتی سکون بھی ہے، جو اضطراب اور ذہنی بے چینی کو کم کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ رمضان میں معمولاتِ زندگی کو جس طرح ترتیب دیتے تھے، وہ اس نفسیاتی سرآغاز سے آگہی کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رمضان کے آخری عشرے میں آپؐ عبادت کے لیے کمر کس لیتے، راتوں کو قیام الیل فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ (صحیح بخاری، کتاب فضل لیلة القدر)
اعتکاف دراصل ایک مکمل نفسیاتی ترک ِمعمولات (Psychological Withdrawal) ہے، جس میں انسان دنیا کے شور سے نکل کر اپنے باطن سے دوبارہ جڑتا ہے۔ اس میں وہ کیفیت بھی حاصل ہوتی ہے جسے جدید نفسیات عمیق تدبر (Deep Reflection)کہتی ہے۔ اعتکاف یکسوئی کے ساتھ غوروفکر، تلاوت، ذکر، دعائیں، احتساب، مطالعہ، تنہا سونا، فضول گوئی سے پرہیزاور باطن کی پاکیزگی کا اہم ذریعہ ہے۔
صحابۂ کرامؓ رمضان میں اپنے نفس کا سخت محاسبہ کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول کہ اپنا حساب خود لے لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے، خود نگہی (Self-Monitoring)اور خود احتسابی (Self-Accountability)کا بیان ہے۔ یہ دونوں چیزیں شخصیت کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ رمضان المبارک میں شکر گزاری، غم خواری اور محبت و اخوت کا جذبہ عروج پر ہوتا ہے۔ یہی کیفیات عبادات میں حسن بندگی پیدا کرتی ہیں۔
یہاں یہ بات نہایت اہم ہوجاتی ہے کہ رمضان کے یہ روحانی اور اخلاقی اثرات انسانی نفسیات کے اُن بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں جنھیں آج کی جدید نفسیات مختلف اصطلاحات میں بیان کر رہی ہے۔ عصرِ حاضر کا انسان معلومات کے زائدبوجھ (Information Overload)، فیصلے لینے میں ناکامی (Decision Fatigue)، جذباتی خستگی(Emotional Burnout)اور وجودی ہیجان (Existential Anxiety) جیسے مسائل کا شکار ہے۔ رمضان انہی مسائل کا فطری علاج پیش کرتا ہے۔
جدید نفسیات میں نفسیاتی سرآغاز (Psychological Reset)کا مطلب ذہنی سانچوں، جذباتی ردِعمل اور طرزِ زندگی کو عارضی طور پر روک کر نئے توازن کے ساتھ دوبارہ ترتیب دینا ہے۔ رمضان میں روزہ دماغ کے (Prefrontal Cortex)کو مضبوط کرتا ہے، جو فیصلوں، ضبطِ نفس اور اخلاقی شعور کا مرکز ہے۔ یہ کیفیت تقویٰ میں شامل ہے۔
عصرِ حاضر کا ایک بڑا نفسیاتی مسئلہ ڈیجیٹل کا نشہ (Digital Addiction)ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نوجوان نسل ڈیجیٹل کے نشے میں اس قدر گرفتار ہے کہ زندگیاں تباہ ہورہی ہیں۔ مسلسل اسکرین اور سوشل میڈیا کا شور ذہن کو تھکا دیتا ہے۔ رمضان میں قدرتی طور پر گفتگو کم ہوجاتی ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسکرین ٹائم بھی گھٹتا، لیکن بدقسمتی سے اسکرین ٹائم بڑھ جاتا ہے۔ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے قابو پانے کی ضرورت ہے۔ رمضان کی مبارک ساعتوں میں اللہ کا ذکر، قرآن کی تلاوت اور زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام ہونا چاہیے۔ یہ نہایت قیمتی لمحات اسکرین پر ضائع کردینا بہت بڑی نادانی ہے۔ بعض لوگ تو اپنا اعتکاف بھی اسکرین کی نذر کربیٹھتے ہیں۔ یاد رکھیں ڈیجیٹل ڈیٹاکس(Digital Detox)ذہنی صفائی اور توجہ کی بازیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس سلسلے میں طاقت ور فیصلہ لینے کے لیے رمضان ایک فیصلہ کن موقع ہوسکتا ہے۔
عادات کی تبدیلی کے حوالے سے جدید نفسیات بتاتی ہے کہ مستقل تبدیلی کے لیے کم از کم تیس دن درکار ہوتے ہیں۔ رمضان کا پورا مہینہ انسان کو عادتوں کی ازسرنو ترتیب (Habit Reconditioning) کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا: مَنْ لَمْ یدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَیسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِی أَنْ یدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ “جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔“ (صحیح بخاری)
رمضان انسان کو مقصدِ زندگی پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ جدید وجودیاتی نفسیات (Existential Psychology)کے مطابق معنی (Meaning)اور مقصد (Purpose)انسانی ذہنی صحت کی بنیادی ضرورت ہیں۔ روزہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ محض صارف نہیں بلکہ جواب دہ مخلوق ہے۔
یوں رمضان ایک ایسا الٰہی انتظام ہے جو انسان کو اپنی سوچ، جذبات، عادات اور ترجیحات ازسرِنو ترتیب دینے کا موقع دیتا ہے۔ اگر انسان اس مہینے کو شعوری طور پر گزارے تو رمضان اس کی شخصیت کو متوازن، باوقار اور پُرسکون بنا دیتا ہے اور یہی اس مہینے کا اصل مقصد ہے۔
نفسیاتی سرآغاز میں معاون کچھ منتخب کتابوں کو رمضان کے شیڈول میں شامل کرنا چاہیے تاکہ نفسیاتی سرآغازیقینی ہوسکے۔ جذبات کی تربیت (علامہ محمد غزالیؒ) قرآنی بیانیہ (ایس امین الحسن) روحانیت (محی الدین غازی) علم، عمل،زندگی (ڈاکٹر حسن صہیب مراد ) نفسیاتی صحت جدید نقطۂ نظر اور اسلامی رہ نمائی (ایس امین الحسن) حضورﷺ دنیا کے سب سے بڑے ماہر نفسیات ( محمد انور بن اختر)، جیسی کچھ کتابیں مفید ثابت ہوں گی۔







