رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے بعضـ اوقات

سوال:                  جناب مائل خیرآبادی نے بچوں کے لیے ایک کتاب’ بڑوں کا بچپن‘کے نام سے لکھی ہے ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے دو واقعات بیان کیے ہیں: پہلا واقعہ  یہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی لڑکے سے آپ کو معلوم ہوا کہ شہر میں ناچ گانے کی محفل لگتی ہے اورلوگ کھیل تماشوں سے دل بہلاتے ہیں۔ آپ ؐ کے دل میں انہیں دیکھنے کا شوق ہوا ، لیکن اللہ تعالیٰ کویہ منظور تھا کہ آپؐ بچپن میں بھی پاک صاف اورنیک رہیں۔ چنانچہ آپ جاتےجاتے راستے میںکسی کام سے رک گئے اور پھر نیند آگئی ۔ آپ سو گئے اورصبح تک سوتے رہے ۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ خانۂ کعبہ کی دیوار گرگئی۔ مکہ کے لوگوں نے مل جل کر اسے اُٹھانا شروع کیا ۔ اُٹھانے والوں میں آپ ؐ اورآپ کے چچا عباسؓ بھی شامل تھے۔ عباسؓ نے آپ کا کندھا چھلا ہوا دیکھا تو آپؐ کا تہہ بندکھول کر آپ کے کندھے پررکھ دیا ۔ آپ ؐ مارے شرم کے بے ہوش ہوکر گرپڑے ۔ تھوڑی دیر میں ہوش آیا تو آپ کے منہ پر تھا۔ ’’میرا تہبند ، میرا تہبند ‘‘ جب آپ کا تہہ بند باندھ دیا گیا تو آپ ؐ کا دل ٹھکانے ہوا ۔

ان دونوں واقعات کے سلسلے میں بعض حضرات  نے سخت اعتراض کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے اللہ کے رسول ﷺ کی توہین ہوتی ہے ۔ یہ واقعات ثابت نہیں ہیں ۔ اس لیے انہیں مذکورہ کتاب سے نکال دینا چاہیے۔

بہ راہِ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں۔ کیا یہ دونوں واقعات غیر مستند ہیں؟

جواب:              مذکورہ دونوں واقعات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ آپ بچپن سے اعلان نبوت تک بھی اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تھے۔ چنانچہ آپؐ کی ذات گرامی سے نہ کسی شرکیہ عمل کا صدور ہوا اور نہ آپ کسی غیر شائستہ کام میں مبتلا ہوئے۔ پہلے واقعہ میں صراحت ہے کہ آپؐ نے لہو ولعب کی محفل میں جانے کا ارادہ تو کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے  آپ کو محفوظ رکھا اورآپ ؐ راستے ہی میں ایک جگہ سو گئے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ دوسرے واقعہ سے توآپ کی شدّتِ حیا کا اظہار ہوتا ہے ۔ ستر کھلتے ہی آپ شرم کے مارے بے ہوش گئے۔ ہوش آیا تو تہہ بند باندھنے کے بعد ہی آپ کوسکون ملا ۔

یہ دونوں واقعات حدیث وسیرت کی مستند کتابوں میں مذکور ہیں ۔ لہٰذا انہیں ضعیف یا موضوع قرار دے کر رد نہیں کیا جاسکتا۔ اوّل الذکر واقعہ کومشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب سیرۃ ابن اسحاق (تحقیق ڈاکٹر محمد حمید اللہ، ص ۵۸) میں بیان کیا ہے ۔ علامہ ابن کثیر ؒ، جوبہت بڑے محدّث ہیں، انہوں نے بھی اس کی روایت کی ہے ۔ (السیرۃ النبویۃ، ۱؍۲۵۱) ام حاکمؒ نے بھی المستدرک علی الصحیحین میں اس کو بیان کیا ہے اوراسے امام مسلم ؒ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے اورامام ذہبی ؒ نے اس کی تائید کی ہے۔دیگر کتابوں میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔ مثلاً دلائل النبوۃ ، ابونعیم ،ص ۱۴۳،الخصائص الکبریٰ ، سیوطی :۱؍۲۱۹ ، سبل الہدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد ، محمد بن یوسف الشامی، ۲؍۹۹۔۱۰۰۔

دوسرا واقعہ صحیح بخاری(کتاب الصلوٰۃ ، باب کراہیۃ التعرّی فی الصلاٰۃ وغیرھا ، ۳۶۴، کتاب الحج، باب فضل مکۃ وبنیانہا، ۱۵۸۲، کتاب مناقب الانصار، باب بنیان الکعبۃ ، ۳۸۲۹)اور صحیح مسلم (کتاب الحیض ، باب الاعتناء بحفظ العورۃ ، ۳۴۰) میں مروی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے۔ آپ کی پیدائش ، پرورش ، جوانی ، بڑھاپا، سب انسانوں کی طرح گزرا ہے ۔ آپؐ پر انسانی کیفیات طاری ہوتی تھیں ۔ جولوگ آپؐ کومافوق البشر سمجھتےہیں  انہیں مذکورہ بالا واقعات کودرست سمجھنے میں تردّد ہوتا ہے ۔ یہ واقعات معتبر کتب حدیث وسیرت میں مذکور ہیں۔ اس لیے ان کی تردید کرنے کے بجائے ہمیں اپنے ذہنی سانچے کودرست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خطبہ ٔ جمعہ ایک شخص دے، نماز دوسرا شخص پڑھائے

سوال:                   میرے گھر سے کچھ فاصلہ پر ایک بڑی مسجد ہے ، جس میں خطبۂ جمعہ کا کچھ حصہ اردو زبان میں دیا جاتا ہے ۔ میں پابندی سے اس میں نماز پڑھنے جاتا ہوں ، اس لیے کہ خطبے میں کچھ دین کی باتیں سننے کومل جاتی ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے خطبہ دیا ، لیکن نماز دوسرے صاحب نے پڑھائی ۔ مجھے عجیب لگا ۔ کیا یہ بات درست ہے کہ جمعہ کا خطبہ اورنماز الگ الگ افراد پڑھا سکتے ہیں ؟ اس میں کوئی کراہت نہیں ہے؟

جواب:              مستحب یہ ہے کہ ایک ہی شخص جمعہ کا خطبہ بھی دے اورنماز بھی پڑھائے ۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ایک شخص خطبہ دے اوردوسرا شخص نماز پڑھائے تو یہ جائز ہے ۔ یہ ائمہ ثلاثہ (امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ )کا مسلک ہے ۔ مالکیہ کے نزدیک خطیب لازماً وہی شخص ہونا چاہیے جونماز پڑھائے، اگر خطیب کے سوا کسی اورنے نماز پڑھائی تو وہ باطل ہوگی۔ یہ حکم عام حالات میں ہے ۔ کوئی عذر ہو، مثلاً امام بیمار ہو، یا وہ خطبہ دینے پر قادر نہ ہو، یا اچھی طرح خطبہ نہ دے سکتا ہو، تو ان کے یہاں بھی گنجائش ہے کہ کوئی دوسراشخص خطبہ دے دے ۔

جوحضرات اس کے قائل ہیں کہ ایک شخص کا نماز پڑھانا اوردوسرے کا خطبہ دینا جائز ہے وہ یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ نماز  وہی شخص پڑھاسکتا ہے جوخطبہ کے دوران موجو رہا ہو ۔ (تفصیل اورحوالوں کے لیے ملاحظہ کیجئے الموسوعۃ الفقہیۃ کویت، ۲۷؍۲۰۶)

نکاح کے فوراً بعد ولیمہ

سوال:                  کیا نکاح ہی کے دن ولیمہ کیا جاسکتا ہے ؟ نکاح کے موقع پر بہت سے رشتے دارجمع ہوتے ہیں ۔ اس مناسبت سے لڑکی والے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کومصارف سے بچانے کی ایک ترکیب یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اسی دن لڑکے کی طرف سے ولیمہ کردیا جائے۔ اس موضوع پرمیںنے گفتگو کی تو بہت سے لوگوں نے منع کیا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے ۔ ولیمہ رخصتی اورشب عروسی کے بعد ہونا چاہیے۔

بہ راہ ِ کرم شریعت کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں۔

جواب:              ولیمہ مسنون ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نکاح کیے سب میں ولیمہ کیا اور صحابۂ کرام کو بھی ولیمہ کا حکم دیا ۔ حدیث میں ہے کہ جب آپ ؐ کو علم ہوا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے نکاح کرلیا ہے تو آپؐ نے انہیں ولیمہ کرنے کی تاکید کی ۔ (بخاری :۲۰۴۹، مسلم :۱۴۲۷) آپ ؐ نے نکاح کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے ۔ (احمد : ۱۶۱۳۰) ولیمہ کے ذریعے یہ مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے۔

عُرف یہ ہے کہ ولیمہ شبِ زفاف  کے بعد ہو۔ عہدِ نبوی میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا ۔ بعد میں مختلف علاقوں میں بھی اسی کو رواج ملا۔ ولیمہ اصلاً خوشی کا اظہار ہے اورخوشی کی تکمیل شبِ زفاف سے ہوتی ہے ۔ اس لیے عام حالات میں ولیمہ شبِ زفاف کے بعد ہی کرنا چاہیے ، لیکن یہ ضروری نہیں ہے ۔ بلکہ اگرضرورت ہوتو نکاح ہی کے دن کیا جاسکتا ہے۔ فقہاء سے اس سلسلے میں مختلف اقوال مروی ہیں:

احناف اورمالکیہ کے نزدیک ولیمہ شبِ زفاف کے بعد ہونا چاہیے ۔ علامہ ابن تیمیہ ؒ کی بھی یہی رائے ہے ۔ شوافع کہتے ہیں کہ ولیمہ کا وقت نکاح کے بعد سے شروع ہوجاتا ہے ، البتہ بہتر ہے کہ شبِ زفاف کے بعد کیا جائے ۔ حنابلہ کی رائے ہے اورایک قول احناف اورمالکیہ کا بھی یہی ہے کہ ولیمہ نکاح کےفوراً بعد کیا جاسکتا ہے۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ ، کویت ، ۴۵؍۲۴۹)

ٹخنے سے نیچے کپڑا ہونے کی ممانعت

سوال:                  مردوں کے لیے ٹخنے سے نیچے لنگی، پاجامہ ، پینٹ یا کرتا وغیرہ پہننا جائز ہے یا ناجائز ؟ کیا حکم ہے؟

بعـض روایات میں ’تکبر‘ کی شرط ہے، اس کی بھی وضـاحت فرمادیں۔ آج کل  اکثر لوگ ٹخنے سے نیچے کپڑا پہنتے ہیں اورکہتے ہیں کہ میرے دل میں تکبر نہیں ہے۔ کیا ان کا یہ کہنا کافی ہے ؟ کیا ایسا کرنے سے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہ ہوگی؟

مدلل جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

جواب:              احادیث میں ٹخنے سے نیچے کوئی کپڑا ہونے کی سخت ممانعت آئی ہے اور اس پر وعید سنائی گئی ہے ۔ اس  موضـوع کی احادیث متعدد صحابۂ کرام سے مروی ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اِنَّ اللہَ لاَ یَنْظُرُ اِلَی الْمُسْبِلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (احمد: ۸۲۲۹)

’’ اللہ تعالیٰ روز قیامت (تہہ بند ) گھسیٹنے والے کی طرف نگاہِ التفات نہیں فرمائےگا‘‘۔

یہ روایت حضرت ابن عباسؓ سے بھی مروی ہے ۔(احمد:۲۹۵۵، نسائی: ۵۳۳۲)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مَنِ الاِزَارِ فَفِی النَّارِ (بخاری: ۵۷۸۷)

’’ٹخنے سے نیچے تہہ بند ہوگی تو اس حصہ کو جہنم میں ڈالا جائےگا‘‘۔

یہ روایت حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے بھی مروی ہے ۔ (احمد: ۲۰۰۹۸، ۲۰۱۶۸)

حضرت انس بن مالک ؓ اورحضرت ابوسعید خدریؓ سے بھی اس مضمون کی احادیث مروی ہیں۔ (احمد: ۱۳۶۰۵، موطا امام مالک : ۲۶۵۷، ابوداؤد: ۴۰۹۳)

بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعید اس شخص کے لیے ہے جوتکبر اورگھمنڈ کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسا کرے گا۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لاَ یَنْظُرُاللہُ یَومَ الْقِیَامَۃِ اِلَی مَنْ جَرَّ اِزَارَہُ بَطَرًا(بخاری : ۵۷۸۸)

’’اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نگاہ نہیں اُٹھائے گا جس نے اپنی تہہ بند کوگھمنڈ کے اظہار کے طور پر گھسیٹا ہوگا‘‘۔

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

لَا یَنْظُرُ اللہُ اِلَی مَنْ جَرَّ ثَوبَہُ خُیَلاَء َ(بخاری: ۵۷۸۳)

’’اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جواپنے کپڑے کوتکبّر کا مظاہرہ کرنے کے لیے گھسیٹے گا‘‘۔

عہدِ نبوی میں کپڑے ٹخنے سے نیچےرکھنا اوراسے گھسیٹے ہوئے چلنا متکبرین کا شیوہ تھا۔ اس لیے آں حضر ت ؐ نے خاص طور پر ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ ایک روایت سے اس کی وضاحت ہوئی ہے ۔ حضر ت جابر بن سلیم ھجیمی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا  :

اِرْفَعْ اِزَارَکَ اِلَی نِصْفِ السَّاقِ، فَاِنْ اَبَیْتَ فَاِلَی الْکَعْبَیْنِ ، وَاِیَّاکَ وَاِسْبَالَ الاِزَارِ،  فَاِنَّہَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ وَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ (ابوداؤد :۴۰۸۴)

’’اپنا تہہ بند نصف پنڈلی تک رکھو ، یہاں تک نہ چاہو تو ٹخنوں تک رکھو ۔ اس سے نیچے نہ کرو۔ اس لیے کہ یہ تکبر کی علامت ہے اوراللہ تعالیٰ تکبّر کوپسند نہیں کرتا ‘‘۔

اس حدیث میں ’ازار‘ (تہہ بند) کا لفظ آیا ہے ۔ بعض احادیث میں قمیص اورعمامہ کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔ (ابوداؤد : ۴۰۹۴، ابن ماجہ :۳۵۷۶) ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف انہی چیزوں کوگھسیٹنے کی ممانعت ہے ، بلکہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لباس کے قبیل کی ہرچیز اس میں شامل ہے ۔ چنانچہ پاجامہ ،شلوار ، پینٹ ،گاؤن وغیرہ بھی اگر ٹخنے سے نیچے ہوں توان پر بھی اس ممانعت کا اطلاق ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ممانعت مطلق ہے۔ اسے تکبّر کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص تکبر کے ساتھ ایسا کرے گا تو محض اس کے لیے وعید ہے ۔ اگر بغیر تکبر کے ایسا کرے گا تو اس کی اجازت ہے ۔ اسی لیے احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کوبھی دیکھا کہ اس کا زیریں لباس ٹخنے سے نیچے ہے اور گھسٹ رہا ہے ، اسے ٹوکا اورٹخنے سے اوپر کرنے کی تلقین فرمائی۔ چند واقعات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:

حضرت شرید بن سوید ثقفیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلۂ ثقیف کے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کا تہہ بند گھسٹ رہا ہے۔ آپ ؐ اس کے پاس تیز قدموں سے چل کر تشریف لے گئے اوراس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا : ’’اپنا تہہ بند اوپر کرلو اوراللہ سے ڈرو‘‘۔ اس شخص نے اپنی ٹانگیں کھول کر دکھائیں اورکہا : وہ ٹیڑھی ہیں۔ چلتے ہوئے دونوں گھٹنے آپس میں لڑتے ہیں ۔ (میں انہیں چھپائے ہوئے ہوں ۔ آپ ؐ نے فرمایا : ’’اپنا تہہ بند اوپر رکھو ۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی عیب نہیںہے‘‘۔ (احمد: ۱۹۴۷۲، ۱۹۴۷۵)

اسی سے ملتا جلتا واقعہ حضرت ابوامامہ باہلیؓ نے بیان کیا ہے کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہیں جارہے تھے ۔ راستے میں عمرو بن زرارہ الانصاریؓ سے ملاقات ہوئی۔ وہ عمدہ لباس اور تہہ بند میں تھے اور چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کپڑا گھسٹ رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کپڑے کا ایک کونہ اُٹھا یا اورتواضع اختیار کرنے کی تلقین کی ۔ انہوں نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول : میری ٹانگیں پتلی ہیں۔ آپؐ نے جواب دیا: ’’ اے عمر و بن زرارہ! اللہ عزوجل نے ہر ایک کی اچھی تخلیق کی ہے۔ اے عمر و بن زرارہ اللہ کپڑا گھسیٹنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی : ۷۹۰۹، احمد: ۱۷۷۸۲)

حضرت حذیفہ بن الیمانؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی ( یا اپنی پنڈلی ) پکڑی اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہاں تک تہہ بند رکھا کرو۔چاہو تو تھوڑا اورنیچے کرلو، لیکن وہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہونے پائے۔‘‘ (احمد: ۲۳۲۴۳، ترمذی : ۱۷۸۳)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جوڑا پہننے کے لیے دیا ۔ اس کا طول وعرض بڑا تھا۔ اسے پہن کر میں گھسیٹنے لگا۔ آپ نے فرمایا :’’ اے عبداللہ!  تہہ بند اوپر اُٹھاؤ ، جوحصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا اورزمین میں لگے گا وہ جہنم میں جائے گا‘‘۔ (احمد: ۵۷۱۳)

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر صحابہ کو کپڑا ٹخنے  سے اوپر رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس سے نیچے رکھنے سے منع کیا ہے۔

ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا گھسیٹ کرچلنے سے سختی سے منع کیا اوراس پر وعید سنائی تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا : میرے کپڑے کا ایک کنارہ ڈھیلا ہوجاتا ہے ۔ جب مجھے اس کا احساس ہوتا ہے تو اوپر کرلیتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذٰلِکَ خُیَلاَء َ’’تم ایسا گھمنڈ کی وجہ سے نہیں کرتے ہو‘‘۔ (بخاری: ۳۶۶۵)

اس تفصیل سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی ہدایت ٹخنوں سے نیچے کپڑا نہ رکھنے کی ہے ۔ اس لیے اس ہدایتِ نبوی  پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

۲۔  بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت اوروعید اس شخص کے لیے ہے جوتکبّراورگھمنڈ کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسا کرے۔

۳۔    اتفاقاً جس شخص کا زیریں کپڑا ٹخنے سے نیچے ہوجاتا ہو، اس کے ذریعے اس کا مقصد گھمنڈ کا مظاہرہ کرنا نہ ہو ، بلکہ بے خیالی میں ایسا ہوجاتا ہو، ایسا شخص حدیث میں مذکور وعید کا مستحق نہیں ہوگا۔ البتہ احتیاط کرنا  چاہیے۔

مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau