رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

قنوتِ نازلہ کتنے دن پڑھی جائے؟

سوال: فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے موقع پر بہت سی مساجد میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس جارحیت کو ساڑھے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قنوتِ نازلہ زیادہ سے زیادہ کتنے دن پڑھی جا سکتی ہے؟ اس کی کوئی حد ہے یا امام کی صواب دید پر ہے کہ وہ جتنے دن چاہے، پڑھ لے؟

جواب: ظلم و ستم کے شکار مسلمانوں کے لیے دعا اور ان پر شدائد و مظالم کرنے والوں پر بد دعا کے لیے قنوتِ نازلہ پڑھنا اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہے۔ آپؐ نے قنوتِ نازلہ نمازِ فجر میں پڑھی ہے اور دیگر نمازوں میں بھی۔

ہجرتِ مدینہ کے موقع پر قریش کے لوگوں نے بعض کم زور مسلمانوں کو مکہ میں زبردستی روک لیا تھا، انھیں مدینہ ہجرت نہیں کرنے دی تھی اور ان کو مختلف اذیتوں سے دوچار کرتے تھے۔ ایسے مسلمانوں میں ولید بن الولیدؓ، سلمہ بن ہشامؓ اور عیاش بن ربیعہؓ وغیرہ کا نام سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی نجات کے لیے قنوتِ نازلہ پڑھی، جس میں مشرکوں کے لیے بد دعا بھی کی۔ (بخاری: ۳۳۸۶، مسلم: ۴۱۴)

۴ھ میں بئر معونہ کا حادثہ پیش آیا۔ کچھ قبیلوں (رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان) کے وفود خدمت ِ نبوی میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ان کے ساتھ کچھ افراد کو اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بھیج دیا جائے۔ آپؐ نے ان کی درخواست قبول کی اور ستّر(۷۰) منتخب صحابہ ٔ کرام کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ ان لوگوں نے دھوکہ دیا اور راستے میں سب کو قتل کر دیا۔ اس حادثہ سے اللہ کے رسول ﷺ کو سخت صدمہ ہوا۔ آپؐ نے مسلسل ایک ماہ تک فجر کی نماز میں قنوت ِ نازلہ پڑھی۔ (بخاری: ۴۰۹۰)

قنوت ِ نازلہ کتنے دن پڑھی جائے؟ اس سلسلے میں شریعت میں کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت کی تعیین نہیں کی گئی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بئر معونہ کا واقعہ پیش آنے پر ایک ماہ تک اس کا اہتمام کیا تھا۔ بعض دیگر مواقع پر آپؐ سے اس سے کم مدت تک پڑھنا ثابت ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ امام جتنے دن چاہے قنوت ِ نازلہ پڑھ سکتا ہے۔ ایک ماہ سے کم بھی اور اس سے زیادہ بھی۔

کسی جگہ عارضی طور پر نماز پڑھنے سے وہ جگہ مسجد نہیں ہوجاتی

سوال: محلے کے لوگوں نے تیرہ (۱۳) برس قبل ایک مکان خریدا تھا اور اسے مسجد کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اس میں پنج وقتہ اور جمعہ کی نمازیں پابندی سے ہو رہی ہیں۔ آبادی بڑھ جانے کی وجہ سے اب مسجد میں جگہ ناکافی ہوتی ہے۔ اس لیے محلے کے لوگوں نے اس کی توسیع کا ارادہ کیا ہے۔ انجینئر صاحب کہتے ہیں کہ مسجد کے موجودہ ڈھانچے کو مکمل منہدم کرکے از سر نو مسجد تعمیر کرنی پڑے گی۔ مسجد کے بائیں جانب ایک مسلمان کا پلاٹ خالی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب تک مسجد کی تعمیر کا کام جاری رہے، کیا اس پلاٹ میں عارضی طور پر مسجد کو منتقل کر سکتے ہیں؟ ایسا کم از کم ایک برس کے لیے ہوگا۔ کسی صاحب نے کہا ہے کہ جس جگہ تین جمعہ کی نمازیں پڑھ لی جائیں وہ مسجد کے حکم میں ہوجاتی ہے، پھر وہاں سے مسجد ہٹائی نہیں جا سکتی۔ کیا یہ بات درست ہے؟

جواب: کسی جگہ تین مرتبہ جمعہ کی نماز باجماعت پڑھ لی جائے تو وہ جگہ مسجد نہیں بن جاتی ہے۔ مسجد کی تعمیر وقف کی زمین پر ہوتی ہے۔ کسی مسجد کی عمارت خستہ حال ہوگئی ہو اور اسے منہدم کرکے از سر نو تعمیر کی ضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں کہ اس سے قریب کسی مکان یا پلاٹ میں عارضی طور پر پنج وقتہ اور جمعہ کی نمازیں ادا کی جائیں۔ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حسبِ سابق نمازیں مسجد میں ادا کی جائیں گی اور جس مکان یا پلاٹ میں عارضی طور پر نمازیں ادا کی گئی تھیں، اس پر مسجد کا اطلاق نہیں ہوگا، اس کا مالک جس کام میں چاہے اسے استعمال کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں ضروری بات یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے زمین کو باقاعدہ وقف کیا جائے، اس کے کاغذات تیار کروا لیے جائیں، اس کے بعد ہی وہاں مسجد کی تعمیر کی جانی چاہیے۔

عدّت کا حساب کیسے کیا جائے؟

سوال: میرے والد صاحب کا گذشتہ ماہ انتقال ہوگیا ہے، والدہ عدّت میں ہیں۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ عدّت ِ وفات کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟ شمسی تاریخ کے حساب سے یا قمری تاریخ سے؟ فرض کیجیے، اگر گذشتہ ماہ کی ۷؍ تاریخ سے عدّت شروع ہو تو وہ کب پوری ہوگی؟

جواب: قرآن مجید میں عدّت کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا (البقرۃ: ۲۳۴)

‘‘اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو بیویاں اپنے بارے میں چار ماہ دس دن توقف کریں۔’’

اس آیت میں صراحت ہے کہ عدّت ِ وفات چار ماہ دس دن ہے۔ اس کا حساب قمری تاریخ کے اعتبار سے لگایاجائے گا۔ اس کی دو صورتیں فقہا نے بیان کی ہیں:

۱۔ اگر وفات ہجری تقویم کے حساب سے مہینہ کی پہلی تاریخ میں ہوئی ہو تو قمری کلینڈر کے لحاظ سے چار ماہ ماہ دس دن عدّت ہوگی، خواہ کوئی مہینہ انتیس (۲۹) کا ہی کیوں نہ ہو۔

۲۔ اگر وفات مہینے کے درمیان میں ہوئی ہو تو ایک سو تیس (۱۳۰) دن میں عدّت مکمل ہوگی۔ (چار مہینوں میں سے ہر مہینہ کو تیس دن کا فرض کرے، پھر اس میں دس دن کا اضافہ کرے۔) [فتاویٰ شامی: ۳؍ ۵۰۹]

مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی وفات ۷؍ جنوری (۲۴؍ جمادی الاخریٰ) کو ہوئی ہو تو اس کی بیوہ کی عدّت ۱۶؍ مئی کو مکمّل ہوگی۔

فروری 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau