رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

حائضہ عورت حج اور عمرہ کے مناسک کیسے ادا کرے؟

سوال :  حج کا  زمانہ قریب آگیا ہے۔ لوگ سفر حج پر جانے لگے ہیں، جن میں خاصی تعداد خواتین کی ہے۔ بعض خواتین کی طرف سے حیض سے متعلق سوالات دریافت کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی خاتون کو سفر شروع کرنے سے قبل، یا مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد طواف کرنے سے پہلے،  یا  ایامِ حج کا آغاز ہونے کے بعد، یا طوافِ زیارت سے قبل حیض آ جائے تو وہ کیا کرے؟

براہِ کرم وضاحت فرما دیں کہ حائضہ عورت حج اور عمرہ کے مناسک کیسے ادا کرے؟

جواب : عورت کے لیے حیض ناپاکی کی حالت ہے۔ اس میں نماز پڑھنا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ خانۂ کعبہ کا طواف نماز کے مثل ہے، اس لیے حالتِ حیض میں طواف کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حائضہ عورت عمرہ اور حج کے تمام مناسک ادا کر سکتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

الحائضُ تَقضِی المَنَاسِکَ کُلَّہَا اِلّا الطَّوافَ بِالبَیتِ ( مسنداحمد :۲۵۰۵۵)

’’حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف کرنے کے سوا تمام مناسک ادا کرے گی۔‘‘

مناسکِ عمرہ و حج کی ادائیگی کے سلسلے میں حائضہ عورت کے مسائل درج ذیل ہیں:

عمرہ یا حج کا سفر شروع کرتے وقت اگر عورت کو حیض آ جائے تو کوئی بات نہیں۔ وہ غسل یا وضو کر کے احرام کی نیت کرے اور تلبیہ (یعنی لبیک اللہم لبیک ۔۔۔)پڑھ لے۔ اب وہ حالتِ احرام میں سمجھی جائے گی اور اس پر احرام کی تمام پابندیاں عائد ہوں گی۔ احرام کی نیت کرتے وقت جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے وہ نہ پڑھے۔ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد انتظار کرے۔ جب پاک ہو جائے تو غسل کر کے بیت اللہ میں حاضری دے اور عمرہ ( طواف، سعی اور قصر) کرے۔

اگر عورت نے پاکی کی حالت میں احرام باندھا، لیکن مکہ مکرّمہ پہنچنے کے بعد عمرہ سے قبل حیض آگیا اور واپسی سے قبل حیض سے پاک ہوکر عمرہ کرنے کی کوئی صورت نہ ہو (جیسے کہ اسے جلد واپس ہونا ہو) تو مجبوراً حالتِ حیض ہی میں عمرہ کرلے اور حدودِ حرم میں ایک دم دے(یعنی قربانی کرے۔)

اگر عورت نے صرف حج کا احرام باندھا ہو اور وہ حالتِ حیض میں ہو تو مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم نہ کرے۔

اگر ۸؍ ذی الحجہ کو منیٰ جانے سے قبل عورت حیض سے پاک ہو جائے تو غسل کر کے طوافِ  قدوم کر لے۔ اگر پاک نہ ہوئی ہو تو طوافِ قدوم چھوڑ کر منیٰ چلی جائے۔ طوافِ قدوم چھوڑنے کی وجہ سے اس پر کفارہ یا دم لازم نہیں ہوگا۔

حائضہ عورت منیٰ، عرفات، مزدلفہ، پھر منیٰ کے تمام مناسک ادا کرے گی۔ حیض کی وجہ سے ان میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

۱۰؍ ذی الحجہ سے ۱۲؍ ذی الحجہ تک جو طواف کیا جاتا ہے وہ ‘طوافِ افاضہ’ یا ‘طوافِ زیارت’ کہلاتا ہے۔ یہ طواف فرض ہے۔ اگر اس زمانے میں عورت حیض سے ہو تو پاک ہونے تک طواف میں تاخیر کرے۔ چوں کہ یہ تاخیر عذر کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے اس پر کفارہ یا دم لازم نہیں ہوگا۔

اگر عورت حیض سے پاک ہونے تک مکہ مکرمہ میں نہیں رک سکتی تو حالتِ حیض ہی میں طوافِ زیارت کر لے اور حدودِ حرم میں ایک دم دے۔

۸۔ مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت جو طواف کیا جاتا ہے وہ‘ طوافِ  وداع’ کہلاتا ہے۔ یہ طواف واجب ہے۔ اگر عورت اس وقت حالتِ حیض میں ہو تو طوافِ وداع چھوڑ دے۔ اس کی وجہ سے اس پر کفارہ یا دم لازم نہیں ہوگا۔

کیا گود لینے والا ولدیت میں اپنا نام لکھوا سکتا ہے؟

سوال :براہ کرم ایک مسئلے میں میری شرعی رہ نمائی فرمائیں ۔

میری چار لڑکیاں ہیں۔ جب میری چوتھی لڑکی پیدا ہوئی تو میں نے اسے اپنے برادرِ نسبتی کو دے دیا۔ انہوں نے کاغذات بنوائے تو اس کے باپ کی جگہ اپنا نام لکھوایا۔ اب وہ لڑکی خاندان میں ان کی بیٹی کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔

میں نے سنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی بچی کو گود لے لے تو صرف اس کے نکاح کے وقت اس کے حقیقی باپ کا نام بتانا کافی ہوتا ہے، لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ ولدیت بدلنا گناہ کا کام ہے، بچے یا بچی کو اس کے حقیقی باپ کی طرف ہی منسوب کرنا چاہیے۔ میں نے یہ بات اپنے برادرِ نسبتی کے سامنے رکھی، لیکن وہ کچھ سننے کو تیار نہیں ہیں۔اب میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں کیا کروں؟ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں۔

جواب : اسلام میں نسب کی حفاظت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اولاد کو ان کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔ گود لینے والے یا کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا صریح حکم ہے:

وَمَا جَعَلَ أَدْعِیاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ یقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ یهْدِی السَّبِیلَ۔ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیكُمْ ( الأحزاب: ۴۔۵)

’’اور نہ اس نے تمہارے منھ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منھ سے نکال دیتے ہو، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو  مبنی بر حقیقت ہے اور وہی سیدھے طریقے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے۔ منھ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ ‘‘

اور اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

مَنِ ادَّعیٰ اِلیٰ غَیْرِ اَبِیْہِ وَ هُوَ یَعْلَمُ فَالجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ ( بخاری:۴۳۲۶)

’’جس شخص نے جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی، اس پر جنّت حرام ہے۔‘‘

صحیح ولدیت ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے کئی خرابیاں لازم آتی ہیں:

کسی شخص نے کسی لڑکی کو گود لیا ہو اور اس کے اپنے لڑکے بھی ہوں تو شرعی طور پر اس لڑکی کا نکاح اس کے کسی لڑکے سے ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ شخص اس کی ولدیت میں اپنا نام لکھوالے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف اس کے حقیقی رشتے جو اس کے لیے درحقیقت محرم ہیں، نسب سے ناواقفیت کبھی ان کی حرمت کی پامالی کا سبب بن سکتی ہے۔

گود لینے والے شخص کی وراثت میں اس لڑکی کا کوئی حصہ نہیں۔ لیکن ولدیت میں اس کا نام ہونے کی بنا پر وہ مستحقِ وراثت بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اس کے حقیقی رشتے داروں کی وراثت میں اس کا جو حصہ ہوسکتا ہے، اس سے وہ محروم رہ جاتی ہے۔

گود لینے والے اور اس کے بچوں سے اس لڑکی کا کوئی قریبی رشتہ نہ ہو تو پردے کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔

کسی بچی کو گود لینا، اس کی پرورش و پرداخت کرنا اور اسے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ ایسا کرنے والا بارگاہِ الٰہی میں اجر کا مستحق ہوگا۔ لیکن ضروری ہے کہ وہ اپنا نام سرپرست (Gaurdian)کی حیثیت سے لکھوائے ،خود کو اس کا باپ ظاہر نہ کرے اور نہ دستاویزات میں اپنا نام باپ کی حیثیت سے درج کروائے۔

اگر کبھی ایسی غلطی ہو جائے اور بعد میں اس عمل کے غلط ہونے کا احساس ہو جائے تو جلد اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ آپ اپنے برادرِ نسبتی سے بات کیجیے، ان کے سامنے قرآن و حدیث کے حوالے دیجیے اور انہیں سمجھائیے کہ ایک مسلمان کے لیے جانتے بوجھتے کوئی غیر شرعی اور ناجائز کام کرنا مناسب نہیں ہے۔ کاغذات کو بھی درست کروانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اس میں دشواری ہو تو کم از کم خاندان اور سماج میں یہ بات عام کر دینی چاہیے کہ فلاں شخص اس لڑکی کا باپ جب کہ فلاں اس کا سرپرست ہے۔

 رضاعت کا ایک مسئلہ

سوال: دو عورتیں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کا نام رابعہ ہے، دوسری کا فاضلہ۔ رابعہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام ایوب ہے۔ فاضلہ سے ایک لڑکی ہوئی، جس کا نام قانتہ ہے۔ اگر ایوب بچپن میں فاضلہ کا دودھ پی لے، جب کہ ان دنوں فاضلہ اپنی لڑکی قانتہ کو دودھ پلا رہی تھی، اس صورت میں براہ کرام میرے درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں :

۱۔کیا ایوب کا نکاح صرف قانتہ سے حرام ہے یا اس کی دوسری بہنوں سے بھی؟

۲۔ کیا ایوب کا کوئی بھائی فاضلہ کی کسی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے؟

۳۔کیا فاضلہ کے کسی لڑکے کا نکاح رابعہ کی کسی لڑکی سے جائز ہے؟

جواب: رضاعت (دودھ پینے )سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:

وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِی أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ ( النساء : ۲۳)

’’اور حرام ہیں تم پر تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور رضاعی بہنیں بھی۔‘‘

اور اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:

یَحرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا یَحرُمُ مِنَ النَّسَبِ ( بخاری: ۲۶۴۵ ، مسلم :۱۴۴۷)

’’رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں۔‘‘

اگر کسی بچے یا بچی نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کا نکاح اس عورت کے تمام بچوں سے حرام ہوگا، اس لیے کہ وہ سب اس کے رضاعی بھائی اور بہن ہو گئے۔ اگر دودھ پینے والا لڑکا ہے تو اس عورت کی کسی لڑکی سے اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر وہ لڑکی ہے تو اس کا نکاح دودھ پلانے والی عورت کے کسی لڑکے سے نہیں ہو سکتا۔

لیکن رضاعت کا رشتہ دوسروں میں منتقل نہیں ہوتا۔ دودھ پلانے والی عورت سے رضاعت کا تعلق صرف اس لڑکے یا لڑکی سے قائم ہوا ہے جس نے اس کا دودھ پیا ہے، اس کے دوسرے بھائیوں یا بہنوں سے نہیں، چنانچہ دودھ پلانے والی عورت کی کسی لڑکی کا نکاح دودھ پینے والے لڑکے کے کسی بھائی سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دودھ پلانے والی عورت کے کسی لڑکے کا نکاح دودھ پینے والے لڑکے کی کسی بہن سے ہو سکتا ہے۔

اس تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

ایوب کا نکاح نہ قانتہ سے ہو سکتا ہے نہ اس کی کسی بہن سے، اس لیے کہ وہ سب اس کی رضاعی بہنیں ہیں ۔

ایوب کے کسی بھائی کا فاضلہ کی کسی لڑکی سے نکاح ہو سکتا ہے۔

فاضلہ کے کسی لڑکے کا نکاح رابعہ کی کسی لڑکی سے جائز ہے۔

جون 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau