فجر کی سنتوں کے بعد تحیة المسجد
سوال: میں فجر کی سنتیں گھر پر پڑھ کر مسجد جاتا ہوں۔ اگر جماعت کھڑی ہونے میں کچھ وقت ہو تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ دو رکعت تحیة المسجد پڑ ھ لوں؟ یہاں ایک مولانا صاحب نے منع کیا کہ فجر کی سنت اور فرض کے درمیان کوئی نماز نہیں ہے۔ براہِ کرم وضاحت فرمادیں۔
جواب: کوئی شخص مسجد پہنچے اور دیکھے کہ جماعت کھڑی ہوگئی ہے تو سنت یا نفل نہ پڑھے اور فوراً جماعت میں شامل ہوجائے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
إذَا اُقِیمَتِ الصَّلاَةُ فَلَا صَلَاةَ إلّا المَكتُوبَةَ(مسلم: ۷۱۰)
’’جب نماز کی جماعت کھڑی ہوجائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔‘‘
اگر ابھی مسجد میں جماعت کھڑی ہونے میں کچھ وقت ہو اور اس نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو بہتر ہے کہ صرف سنتیں ادا کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپؐ فجر کی اذان کے بعد صرف دو سنتیں پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اگر وہ مسجد پہنچ کر پہلے دو رکعت تحیة المسجد ادا کرے، پھر سنتیں پڑھے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
اگر کسی شخص نے فجر کی سنتیں اپنے گھر پر ہی پڑھ لی ہوں، پھر وہ مسجد جائے، وہاں ابھی جماعت نہ کھڑی ہوئی ہو تو کیااس کے لیے جائز ہے کہ مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت تحیة المسجد پڑھ لے؟اس سلسلے میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ احناف کے نزدیک فجر کا وقت شروع ہونے کے بعدفرض نماز سے قبل دو رکعت سنّت کے علاوہ مزید کسی بھی قسم کی نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے، خواہ گھر میں یا مسجد میں ، تحیة المسجد ہو یا کوئی دوسری نفل نماز۔ فتاویٰ شامی میں ہے:
(و کرہ نفل) قصداً و لو تحیۃ مسجد ( بعد طلوع الفجر سوی سنّتہ)۔ (الدر المختار مع ردّ المحتار ، کتاب الصلاۃ،۳۷۵)
’’طلوع ِ فجر کے بعد سنت کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز مکروہ ہے، چاہے تحیة المسجد ہو۔‘‘
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
و لا یصلّی بعد طلوع الفجر الا رکعتی الفجر ، ھما سنّتی الفجر (الفتاویٰ الھندیةِ :۱؍۶۳)
’’ طلوعِ فجر کے بعد دو سنتوں کے علاوہ کچھ نہ پڑھے۔‘‘
ان کی دلیل ام المؤمنین حضرت حفصہ ؓ سے مروی یہ حدیث ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں:
کان رسول اللہ ﷺ اذا طلع الفجر لا یصلی الا رکعتین خفیفتین (مسلم:۷۲۳)
بعض دوسرے فقہا کہتے ہیں کہ آدمی کسی بھی وقت مسجد پہنچے ، اگر جماعت کھڑی نہیں ہوئی ہے تو وہ دو رکعت نفل تحیة المسجد کے طور پر پڑھ سکتا ہے۔ فجر کے وقت بھی اس کی اجازت ہے ۔ اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
إذَا دَخَلَ أحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلَا یجْلِسَ حَتّٰى یصِلِّی رَكْعَتَینِ(مسلم: ۷۱۴)
’’جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے۔‘‘
یہ حدیث عام ہے اور اس میں دیا گیا حکم تمام اوقات کے لیے ہے۔
شیخ عبد العزیز بن بازؒ نے یہی فتویٰ دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے: فتاویٰ ’نور علی الادب‘ (۲؍۸۷۸)۔
سفر میں دو نمازیں جمع کرنا
سوال: میں ایک دینی جماعت سے وابستہ ہوں۔ وقتاً فوقتاً اس کے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، جن میں پورے ملک سے افراد شرکت کرتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ باہر سے آنے والے شرکاء عموماً ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھ لیتے ہیں، حالاں کہ عصر اور عشاء کی نمازیں ان کے اوقات میں پڑھنا ان کے لیے ممکن ہوتا ہے۔، اس لیے کہ ہر نماز کے لیے وقفہ دیا جاتا ہے۔ وقفے کے اوقات وہ خوش گپیوں میں گزار دیتے ہیں، لیکن مسجد نہیں جاتے۔ توجہ دلانے پر کہتے ہیں کہ ہم نے جمع بین الصلاتین کرلیا ہے۔
کیا دو نمازوں کوجمع کرنےکی اجازت صرف حالت ِ سفر میں ہے، یا آدمی کہیں پہنچ کر دو چار روز کے لیے مقیم ہوگیا ہو، تب بھی جمع بین الصلاتین کر سکتا ہے؟
جواب:
نماز کے سلسلے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى المُؤْمِنِینَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (النساء :103)
” نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندئ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے ۔ “
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت ہی میں ادا کرنا چاہیے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے عمل سے ہر نماز کے اوّلِ وقت اور آخرِ وقت کی تعیین فرمادی تھی اور ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت کے اندر ہی ادا کرنے کا اہتمام فرمایا ہے ۔ سفر کے دوران میں جہاں کہیں آپ قیام فرماتے وہاں قصر تو کرتے تھے ، لیکن جمع بین الصلاتین نہیں کرتے تھے ، بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا فرماتے تھے ، البتہ سفر جاری رہنے کی صورت میں بعض اوقات آپ نے جمع بین الصلاتین کیا ہے ۔
اس لیے آپ کی سنّت کی اتباع کا تقاضا ہے کہ دورانِ سفر کہیں قیام ہو اور ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا ممکن ہو تو اس کا اہتمام کرنا چاہیے ، لیکن اگر دو نمازوں (ظہر و عصر اور مغرب و عشاء) میں سے کسی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ناممکن یا زحمت طلب ہو تو جمع بین الصلاتین کیا جاسکتا ہے ۔
کیا سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں ؟ اس سلسلے میں معروف یہ ہے کہ حنفی مسلک میں یہ جائز نہیں ہے ۔ حنفی علماء جمع صوری کی اجازت دیتے ہیں ، یعنی ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل اوّل وقت میں ، اسی طرح مغرب کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عشاء کی نماز بالکل اوّل وقت میں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کے اوقات متعین کردیے ہیں ۔ صرف دو صورتیں مستثنیٰ ہیں : ایامِ حج کے دوران میں۹؍ ذی الحجہ کو عرفات میں زوال کے بعد جمع تقدیم ، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنا اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچ کر جمع تقدیم ، یعنی مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں پڑھنا ۔ ان دو مواقع کے سوا کسی نماز کو اس کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ یہ حضرات اپنے اس موقف پر بعض احادیث اور آثارِ صحابہ سے استدلال کرتے ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ (فتاویٰ شامی ،کتاب الصلاة ، ج۱ ، ص :۳۸۱)
دیگر فقہاء (امام مالک ، امام شافعی اور امام احمدرحمہم اللہ) کے نزدیک جمع بین الصلاتین (دو نمازوں کو جمع کرنا) کی دونوں صورتیں جائز ہیں : جمعِ تقدیم بھی ، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر اور مغرب کے وقت میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھ لینا اور جمعِ تاخیر بھی ، یعنی عصر کے وقت میں ظہر اور عصر اور عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا ۔ ان حضرات کا استدلال بعض ان احادیث سے ہے جن میں رسول اللہ ﷺ کے جمع بین الصلاتین کا عمل انجام دینے کا ثبوت ملتا ہے ۔ مثلاً صحیح مسلم میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ایک روایت میں وہ بیان کرتے ہیں :
خَرجنَا مع النبی ﷺ فی غزوةِ تبوك ، فكان یصَلّی الظهرَ والعصرَ جمیعاً ، والمغربَ والعشاءَ جمیعاً ( مسلم :۷۰۶)
” ہم نبی ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھتے تھے ۔ “
جمع ِ صوری کو اختیار کرنا بہ ظاہر دشوار معلوم ہوتا ہے ۔ شاید اسی لیے موجودہ دور کے بعض حنفی علماء نے جمع بین الصلاتین کو مطلق جائز قرار دیا ہے ۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الشکور فاروقیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کا نام پیش کیا جاسکتا ہے ۔ اب حنفی مسلک پر عمل کرنے والے بہت سے لوگوں کا عمومی رجحان مطلق جمع بین الصلاتین کی طرف ہوگیا ہے ۔ سفر کی زیادہ سے زیادہ مدّت ۱۴؍ دن ہے ۔ چنانچہ ان کا کہیں چند دنوں کے لیے قیام ہو تو وہ بلا تکلّف قصر نماز پڑھنے کے ساتھ دو نمازوں کو جمع کرلیتے ہیں ۔
اس سلسلے میں علامہ ابن تیمیہ ؒ کا ایک فتویٰ نظر سے گزرا ، جو قابلِ غور معلوم ہوتا ہے ۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ سفر میں جمع بین الصلاتین افضل ہے یا قصر؟ اس کا انھوں نے یہ جواب دیا :
بَلْ فِعْلُ كُلِّ صَلَاةٍ فِی وَقْتِهَا أَفْضَلُ إذَا لَمْ یكُنْ بِهِ حَاجَةٌ إلَى الْجَمْعِ ، فَإِنَّ غَالِبَ صَلَاةِ النَّبِی ﷺ الَّتِی كَانَ یصَلِّیهَا فِی السَّفَرِ إنَّمَا یصَلِّیهَا فِی أَوْقَاتِهَا . وَإِنَّمَا كَانَ الْجَمْعُ مِنْهُ مَرَّاتٍ قَلِیلَةً ( مجموع الفتاویٰ : ۲۴ /۱۹)
” ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا افضل ہے ، اگر دو نمازوں کو جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو ۔ اس لیے کہ سفر میں رسول اللہ ﷺ زیادہ تر نمازیں ان کے اوقات میں ادا کرتے تھے ۔ آپ نے بہت کم مواقع پر جمع بین الصلاتین کیا ہے ۔ “
انھوں نے مزید فرمایا :
وَهَذَا یبَینُ أَنَّ الْجَمْعَ لَیسَ مِنْ سُنَّةِ السَّفَرِ كَالْقَصْرِ، بَلْ یفْعَلُ لِلْحَاجَةِ سَوَاءٌ كَانَ فِی السَّفَرِ أَوْ الْحَضَرِ (مجموع الفتاویٰ :۲۴ /۶۴)
” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کی طرح جمع سنّتِ نبوی نہیں ہے ، بلکہ ایسا صرف وقتِ ضرورت کیا جائے گا ، چاہے سفر میں ہو یا حضر میں ۔ “
کیا دورانِ عدّت عورت ملازمت جاری رکھ سکتی ہے؟
سوال:ایک خاتون کا خلع کل ہوا ہے۔ ان کا اپنے شوہر سے تعلق آٹھ مہینوں سے نہیں تھا۔ یہ خاتون خود کی اور اپنی ایک سالہ بچی کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے جاب کرتی ہیں۔ خلع کی عدّت ایک مہینہ ہے، لیکن یہ ایک مہینہ کی چھٹی نہیں کرسکتیں، کیوں کہ اس صورت میں ان کی جاب چلی جائے گی۔ جہاں یہ جاب کرتی ہیں وہاں پردے کا انتظام ہے۔ کیا دورانِ عدّت یہ اپنی جاب جاری رکھ سکتی ہیں؟ کیا ان کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے؟ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں۔
جواب:خلع کی عدّت کے احکام طلاق کی عدّت کے مثل ہیں۔ جمہور فقہاء کے نزدیک خلع کی عدّت بھی تین ماہ واری ہے۔ بعض فقہاء ایک ماہ واری قرار دیتے ہیں۔ یہ اختلاف اس بات پر مبنی ہے کہ خلع طلاق ہے یا فسخِ نکاح؟ جو فقہاء اسے طلاق مانتے ہیں ان کے نزدیک عدّتِ طلاق کے مثل عدّت ِ خلع بھی تین ماہ واری ہے۔ یہ رائے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ (ایک قول کے مطابق)، حضرت سعید المسیب، سالم بن عبد اللہ، سلیمان بن یسار، عمر بن عبد العزیز، حسن بصری، شعبی، نخعی اور زہری رحمہم اللہ کی ہے۔ ائمہ اربعہ بھی اس کے قائل ہیں۔ ابن حزمؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ جو فقہاء خلع کو فسخ مانتے ہیں ان کے نزدیک اس کی عدّت ایک ماہ ہے۔ یہ رائے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرات ابان بن عثمان، اسحاق بن راہویہ اور ابن المنذر رحمہم اللہ کی ہے۔ امام احمدؒ سے بھی ایک روایت اسی کی ہے۔علامہ ابن تیمیہؒ اور علامہ ابن قیمؒ بھی اسی کے قائل ہیں۔
عدّت کا اصل مقصد استبراءِ رحم ہے، یعنی یہ تحقیق کہ عورت کوحمل تو نہیں ہے۔ عدّت کے دوران حکم ہے کہ عورت زیب و زینت نہ اختیار کرے، خوش بوٗ نہ لگائے اور شدید ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے۔ البتہ وقتِ ضرورت گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے۔
حضرت جابرؓ نے بیان کیا ہے:’’ میری خالہ کو طلاق ہوگئی۔ دورانِ عدّت انھوں نے ارادہ کیا کہ کھجور کے باغ میں جاکر کھجوریں توڑ لائیں۔ خاندان کے ایک شخص نے انہیں گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پورا واقعہ بیان کیا۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:
بَلیٰ،فَجُدِّی نَخْلَکِ، فَاِنَّکِ عَسیٰ أن تَصَدَّقِی أو تَفْعَلِی مَعْرُوفاً(مسلم: ۱۴۸۳)
’’کیوں نہیں، تم جاکر کھجوریں توڑ سکتی ہو۔ اس طرح امید ہے، تمہیں کچھ صدقہ کرنے کی توفیق ہوگی، یا تم کوئی نیک کام کر سکوگی۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عدّت کے دوران عورت وقت ِ ضرورت گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ جو عورتیں ملازمت پیشہ ہیں انہیں چھٹی نہ مل پا رہی ہو تو وہ ڈیوٹی پر جا سکتی ہیں، البتہ وہ ڈیوٹی سے فارغ ہوکر فوراً گھر واپس آجائیں، خاص طور سے رات گھر پر ہی گزارنے کی کوشش کریں۔
وراثت کی تقسیم
سوال:میرے والد صاحب کا چند سال قبل ۲۰۱۷ء میں انتقال ہوا۔ان کی زوجیت میں دو بیویاں تھی۔چھوٹی بیوی کا انتقال دو برس قبل اور بڑی بیوی کا انتقال تین ماہ قبل ہوا ہے۔بڑی بیوی سے دو لڑکے اوردولڑکیاںاور چھوٹی بیوی سےچار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ ہم جملہ چھ بھائی اورچار بہنیں ہیں۔والد صاحب کی زرعی زمین (کھیت)کا رقبہ ایک ایکڑ ۳۴؍ گنٹہ ہے اور گھر 35×40 فٹ پر محیط ہے، جو گراونڈ فلور پر ہے ۔اس جا ئیداد میں شرعی لحاظ سے ہم چھ بھائیوں اور چار بہنوں کا کیا حصہ بنتا ہے؟برائے مہربانی وضاحت فرمائیے، عین نوازش ہوگی۔
جواب:قرآن مجید میں صراحت سے مذکور ہے: لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الاُنْثَیَیْنِ (النساء:۱۱) ’’لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘
اس بنا پر اپنے والد صاحب کی کل پراپرٹی کی مالیت نکالیے ، پھر اس کے سولہ(۱۶) حصے کیجیے۔ دو دو حصے ہر لڑکے کے اور ایک ایک حصہ ہر لڑکی کا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں ہر لڑکے کو 12.5%اور ہر لڑکی کو 6.25%ملے گا۔
مشمولہ: شمارہ اگست 2025