رسائل و مسائل

کیا الکحل آمیز دواؤں کا استعمال جائز ہے؟

سوال: بعض دواؤں میں الکحل استعمال کیا جاتا ہے، بعض دوسری چیزوں میں بھی۔ بہ راہِ کرم رہ نمائی فرمائیں، کیا الکحل مطلق حرام ہے یا دواؤں میں کس حد تک اس کا استعمال جائز ہے؟

جواب: الکحل مختلف چیزوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی بعض قسمیں کھجور، انگور اور کشمکش وغیرہ سے تیار ہوتی ہیں۔ ان کی حرمت پر علما کا اتفاق ہے۔ الکحل کی بعض قسمیں دیگر چیزوں، مثلا آلو، لوکی، گنا، جو وغیرہ سے تیار کی جاتی ہیں، بعض الکحل کیمیکل سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ عموما دواؤں اور اسپرٹ میں ایسے ہی الکحل کا استعمال ہوتا ہے۔ اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔

ویسے بھی علاج معالجہ میں اگر ناگزیر ہو تو حرام چیزوں کے استعمال کی گنجائش بتائی گئی ہے۔

رفاہی ادارہ میں زکوة کا استعمال

سوال: ہم ایک رفاہی ادارہ الخیر سوسائٹی کے نام سے چلا رہے ہیں۔ اس کے تحت ایک نئے سینٹر کا ان شاء اللہ آغاز ہوگا۔ اس سینٹر میں غریب ومستحق طلبہ وطالبات اور غریب خواتین کو مختلف کورس، جسے ٹیلرنگ، مہندی ڈیزائننگ، فیشن ڈیزائننگ، ناظرہ، تجوید، دینی تعلیم، بول چال کی انگریزی اور کمپیوٹر کے تحت مختلف کورس مفت میں یا بہت کم فیس پر سکھائے جائیں گے۔ اس ضمن میں درج ذیل امور پر شرعی رہ نمائی مطلوب ہے :

کیا درج بالا کورس کے سامان جیسے سلائی مشین اور کمپیوٹر وغیرہ زکوة کی رقم سے خریدے جاسکتے ہیں؟ واضح رہے کہ یہ ایک قسم کا خیراتی ادارہ ہے، جو عطیات پر کام کرتا ہے۔

کیا اس قسم کے خیراتی سینٹر کی تعمیر میں زکوة کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟

کیا اس ادارے کے تحت مسجد کے امام و مؤذن کی تنخواہ زکوة کی مدد سے دی جاسکتی ہے؟

گزارش ہے کہ درج بالا سوالات کے سلسلے میں شرعی رہ نمائی فرمائیں۔

جواب: ا۔ زکوة کی رقم کے اولین مستحق فقرا و مساکین ہیں۔ انھیں رقم زکوة کا مالک بنادیا جائے۔ وہ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔

2۔ غریبوں کی تعلیم کے لیے قائم کردہ اداروں میں زکوة کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ ان کی ضرورت کے سامان ٹریننگ سینٹر میں رکھے جا سکتے ہیں۔ سینٹر کی عمارت کی تعمیر بھی کی جاسکتی ہے۔

بعض فقہا (احناف) تملیک کو ضروری قرار دیتے ہیں، یعنی رقمِ زکوة کا غریبوں کو مالک بنانا ضروری ہے۔ لیکن دوسرے فقہا تملیک کو ضروری نہیں سمجھتے، وہ منفعت کو کافی سمجھتے ہیں، یعنی غریبوں کی منفعت کے لیے زکوة خرچ کی جاسکتی ہے۔

3۔ مسجد کے امام و مؤذن کی تنخواہ زکوة سے ادا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ تنخواہ کے علاوہ ان کی غربت کے پیش نظر ان کی امداد زکوة سے کی جاسکتی ہے۔

صدقۂ فطر کا استعمال کیسے کیا جائے؟

سوال: ہمارے شہر میں بزرگوں نے 1966سے بیت المال کا نظم قائم کر رکھا ہے۔ اس کے تحت پورے شہر کے ہر محلے سے مقرر کیے گئے نمائندوں کے ذریعے صدقة الفطر کی رقم بیت المال کی رسیدوں کے ذریعے وصول کی جاتی ہے اور اسی دن یا اگلے دن بیت المال میں جمع کرا دی جاتی ہے۔ 

اس رقم کو نمائندوں کی نشان دہی پر غریبوں، بیوا‎‎ؤں اوریتیم بچوں کے درمیان ماہانہ وظیفہ کی شکل میں تقسیم کیا جاتا ہے، مریضوں کی مدد کی جاتی ہے، کسی مسافر کی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ وظائف دینے کے بعد جو رقم بچتی ہے اسے ماہ رمضان المبارک میں ’رمضان ایڈ‘ کے نام سے انھی مستحقین کو دے کر پوری رقم ختم کر دی جاتی ہے۔ بیت المال میں زکوٰة کی رقمیں بھی جمع کی جاتی ہیں۔ زکوٰة میں سے اگر کچھ رقم بچ جاتی ہے تو وہ اگلے برس کام میں لائی جاتی ہے۔

ایک مولانا صاحب نے بتایا ہے کہ فطرہ کی رقم کو پورے سال جمع رکھنا درست نہیں ہے۔ اسے عید الفطر کی نماز سے قبل مستحق افراد تک پہنچا دینا ضروری ہے۔

براہ کرم واضح فرمائیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟ صدقۂ الفطر کی رقم کو نماز عید الفطر سے قبل ہی خرچ کر دینا چاہیے یا پورے سال جمع رکھ کر اس کے ذریعے مستحقین کی مدد کی جا سکتی ہے؟

جواب: صدقۂ فطر کی روح یہ ہے کہ عید الفطر کی خوشی میں تمام مسلمان شریک ہوں۔ کوئی غریب سے غریب مسلمان ایسا نہ بچے جس کے گھر عید الفطر کے دن فاقہ ہو اور اس کے یہاں کھانے پینے کے لیے کوئی چیز نہ ہو۔ اسی وجہ سے صدقہ فطر کو نماز عید سے قبل ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے:

فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِینِ، فَمَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِی زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِی صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ (أَبُو دَاوُد:1409، ابْنُ مَاجَهْ:1827)

’’رسولﷺ نے زکوة الفطر کو فرض قرار دیا ہے۔ اس کے دو مقاصد ہیں: اس سے روزہ دار سے دورانِ روزہ سرزد ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی ہو جاتی ہے اور غریبوں کو کچھ کھانے کو مل جاتا ہے۔ جو شخص اسے نماز عید سے قبل ادا کرے اس کا فرض ادا ہو گیا اور بارگاہِ الہی میں مقبول ہوا اور جس نے اسے نماز کے بعد ادا کیا اس کی ادائی کی حیثیت عام صدقات کی ہوگی۔‘‘

یہ حکم انفرادی طور پر صدقۂ فطر کی ادائی کے سلسلے میں ہے کہ ہر شخص اسے نماز عید سے قبل ادا کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر اس کا اجتماعی نظم ہے تو غریبوں میں اس کی تقسیم نماز عید کے بعد ہو سکتی ہے۔ عہد نبوی میں لوگ مسجد نبوی میں غلّے کے ڈھیر لگا دیتے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ اس کی حفاظت کا نظم فرماتے تھے، عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ اسے غریبوں میں تقسیم فرماتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں:

كان یأمر بإخراجها قبل أن یغدو إلى المصلّى وكان یقسمها إذا رجع

( المحلّی،ابن حزم،6؍120)

’’آپؐ عید گاہ کے لیے نکلنے سے قبل صدقہ ٔ فطر نکالنے کا حکم دیتے تھے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد اسے تقسیم کرتے تھے۔‘‘

اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر شخص کو ذاتی طور پر صدقۂ فطر نمازِ عید سے قبل نکال دینا چاہیے، البتہ کوئی تنظیم یا ادارہ اسے جمع کرنے کا اہتمام کرے تو وہ عید الفطر کے بعد اسے تقسیم کر سکتا ہے۔

صدقۂ فطر کو اجتماعی طور سے جمع کرکے اسے غریبوں میں تقسیم کے لیے پورے سال کا شیڈول بنانا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ اسے جلد از جلد تقسیم کر دینا چاہیے، البتہ بیت المال میں صدقۂ فطر کے علاوہ زکوة اور عام صدقات کی جو رقمیں جمع ہوتی ہوں انھیں پورے سال میں تقسیم کرنے کا نظم بنایا جا سکتا ہے۔

تقسیم ِوراثت کا ایک مسئلہ

سوال : میرے والد صاحب کا چند سال قبل 2017ء میں انتقال ہوا ۔ ان کی زوجیت میں دو بیویاں تھیں ۔ چھوٹی بیوی کا انتقال دو برس قبل اور بڑی بیوی کا انتقال تین ماہ قبل ہوا ہے ۔ بڑی بیوی سے دو لڑکے اور دولڑکیاں اور چھوٹی بیوی سےچار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔ ہم جملہ چھ بھائی اورچار بہنیں ہیں۔  والد صاحب کی زرعی زمین (کھیت)کا رقبہ ایک ایکڑ 34 گنٹہ ہے اور گھر 35×40 فٹ پر محیط ہے ، جو گراونڈ فلور پر ہے ۔

اس جا ئیداد میں شرعی لحاظ سے ہم چھ بھائیوں اور چار بہنوں کا کیا حصہ بنتا ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیے ، عین نوازش ہوگی۔

جواب : قرآن مجید میں بیوی کا حصہ اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں(12.5%)بتایا گیا ہے۔ (النساء : ۱۲) اور اولاد کے بارے میں یہ حکم ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے (النساء : ۱۱) ان احکام ِقرآنی کی روشنی میں درج بالا سوال کو کئی مرحلوں میں حل کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں یہ ورثہ تھے:  دو بیویاں، چھ بیٹے ،چار بیٹیاں۔

اولاد ہونے کی صورت میںدونوں بیویوں کو 12.5%ملے گا۔ ہر بیوی کے حصے میں 6.25%آئے گا۔

باقی اولاد کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر بیٹے کو ہر بیٹی کے مقابلے میں دو گنا ملے ۔ بہ الفاظ دیگر ہر بیٹے کو 10.49% اور ہر بیٹی کے حصے میں  5.47% آئے گا۔

دوسرے مرحلے میں بیویوں کے انتقال کے بعد ان کو جو کچھ ملا تھا وہ ان کے ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔

بڑی بیوی کے وارث اس کے دو لڑکے اور دو لڑکیا ںہیں۔اس کا حصہ(6.25%) ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو 2.08% اور ہر لڑکی کو 1.04% ملے گا۔

دوسری بیوی کے وارث اس کے چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔اس کا حصہ(6.25%) ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو 1.25% اور ہر لڑکی کو  0.62% ملے گا۔

اس طرح وارثوں کے حصے درج ذیل ہوں گے:

بڑی بیوی کے ہر لڑکے کو ملا: باپ سے+10.94ماں سے ملا2.08=    کل  13.02%

دو لڑکوں کا حصہ     13.02×2                                           26.04%

بڑی بیوی کی ہر لڑکی کو ملا: باپ سے+5.47ماں سے ملا 1.04=        کل   6.51%

دو لڑکیوں کا حصہ      6.51×2                                             13.02%

چھوٹی بیوی کے ہر لڑکے کو ملا: باپ سے +10.94ماں سے ملا1.25= کل  12.19%

چار لڑکوں کا حصہ       12.19×4                                                      48.76%

چھوٹی بیوی کی ہر لڑکی کو ملا: باپ سے+5.47ماں سے ملا 0.62=    کل   6.09%

دو لڑکیوں کا حصہ     6.09×2                                             12.18%

__________                                              100%

[ نوٹ:  آخری سوال کا جوجواب ماہ نامہ زندگی نو اگست ۲۰۲۵ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا اس میں غلطی رہ گئی تھی ، اسے درست کرکے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔]

مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223