رسائل و مسائل

خلع کے بعد عدّت

سوال: شوہر بیوی میں لڑائی ہوگئی، جس کی وجہ سے بیوی اپنے میکے چلی گئی۔ وہاں رہتے ہوئے اسے دو برس ہوگئے۔ اس عرصے میں دونوں کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس کے بعد خلع کے نتیجے میں علیٰحدگی ہوگئی۔

براہِ کرم بتائیں، کیا اس صورت میں عدّت گزارنی ضروری ہے؟ اگر ہاں تو کتنی مدّت؟ عورت ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ کیا وہ عدّت کے دوران میں اسکول جاسکتی ہیں؟

جواب: زوجین کے درمیان علیٰحدگی کی دو صورتیں ہوتی ہیں: اول یہ کہ بیوی تو شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہو، لیکن کسی وجہ سے شوہر اسے اپنے ساتھ رکھنے پر آمادہ نہ ہو۔ اِس صورت میں وہ طلاق دے گا۔ دوم یہ کہ شوہر تو رشتہ باقی رکھنا چاہتا ہو، لیکن بیوی کسی وجہ سے الگ ہونا چاہتی ہو۔ اِس صورت میں وہ شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے گی جسے شوہر کو منظور کرنا ہوگا۔

علیٰحدگی چاہے طلاق کے ذریعے ہوئی ہو یا خلع کے ذریعے، عورت کو ہر حال میں عدّت گزارنی یوگی اور اس کا آغاز اُس دن سے ہوگا جب طلاق یا خلع کی کارروائی عملًا ہوئی ہو۔ اگر زوجین تنازعہ کے بعد کچھ مدّت الگ الگ رہے ہوں تو اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ جس عورت کو حیض آتا ہو اس کی عدّت جمہور فقہا کے نزدیک تین حیض ہیں۔ بعض فقہا کے نزدیک خلع کی صورت میں عدّت صرف ایک حیض ہے۔ بہتر ہے کہ جمہور فقہا کی رائے پر عمل کیا جائے۔

عدّت کے دوران میں عورت کو زیب و زینت نہیں اختیار کرنی چاہیے اور بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں جانا چاہیے، البتہ کسی ضرورت کے تحت اسے گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے۔ مثلًا وہ بیمار ہو تو ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر کی رائے ہو تو اسپتال میں ایڈمٹ ہوسکتی ہے۔ اس کی کسی پراپرٹی پر کوئی قبضہ کرنے لگے تو وہ پولیس اسٹیشن اور عدالت جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ کسی اسکول یا کالج میں ٹیچر ہے تو دورانِ عدّت رخصت حاصل کرنے کی کوشش کرے، اگر رخصت مل جائے تو گھر پر ہی رہے، نہ ملے تو ٹیچنگ کے لیے وہ جاسکتی ہے۔ البتہ رات لازمًا گھر پر ہی گزارے۔ عہد نبوی کا ایک واقعہ ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی خالہ کو طلاق ہوگئی۔ دورانِ عدّت انھوں نے کھجوروں کو توڑنے کے لیے باغ میں جانا چاہا تو خاندان کے ایک شخص نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔ وہ اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پورا واقعہ سنایا۔ آپؐ نے فرمایا:

بَلَى، فَجُدِّی نَخْلَكِ؛ فإنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِی، أَوْ تَفْعَلِی مَعْرُوفًا(مسلم:۱۴۸۳)

(کیوں نہیں، تم اپنے باغ مین جاکر کھجوروں کو توڑ سکتی ہو۔ اس طرح امید ہے کہ تم صدقہ یا کوئی دوسرا نیک کام کرسکو گی۔)

تدفین میں تاخیر

سوال: ایک صاحب کا انتقال ہوا۔ ان کے کئی لڑکے بیرونی ممالک میں رہتے ہیں۔ ان کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ اس لیے ان کی نعش کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ روکے رکھا گیا۔ دوسرے دن شام کو ان کی تدفین کی گئی۔ کیا تدفین مین اتنی تاخیر مناسب ہے؟ کسی شخص کے انتقال میں اولاد کا شریک ہونا کیا اتنا ضروری ہے کہ کئی روز تک نعش کو روکے رکھا جائے؟ 

جواب: عام حالات میں کسی شخص کے انتقال کے بعد جلد از جلد اس کی تدفین کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس کی ہدایت فرمائی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:

أسرِعُوا بالجنازَةِ ، فإنْ تكُ صالِحةً فخیرٌ تُقدِّمُونَها إلیه ، وإنْ تَكُ سِوَى ذلكَ فشَرٌّ تَضعونَهُ عن رِقابِكمْ (بخاری:۱۳۱۵، مسلم:۹۴۴)

(جنازے کو تدفین کے لیے جلدی لے جایا کرو تاکہ اگر وہ نیک ہے تو جلد اسے آگے پہنچادینا بہتر ہے اور اگر نیک نہیں ہے تو اچھا ہے کہ جلد اس سے پیچھا چھوٹ جائے۔)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

إذا مات أحدُكم فلا تَحْبِسُوهُ، وأَسْرِعُوا به إلى قبرِهِ (طبرانی:۱۳۶۱۳)

(جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے روک کر نہ رکھو، بلکہ جلد اس کی تدفین کر دو۔)

حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے:

(اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ کسی کی وفات کے بعد اس کی تدفین میں جلدی کرنا مستحب ہے۔)

الموسوعة الفقھیہ میں ہے:

فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنی چاہیے اور بلا کسی معقول سبب کے تدفین میں تاخیر سے بچنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر جنازہ جمعہ کے دن صبح تیار ہو گیا ہو تو نماز جمعہ تک اسے روکے رکھنا، تاکہ لوگوں کی بڑی تعداد نمازِ جنازہ میں شریک ہو جائے، مکروہ ہے۔

لیکن اگر کوئی معقول سبب ہو تو تدفین میں تاخیر ہو جاسکتی ہے۔ مثلا قتل کا شبہ ہو اور مناسب تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہو تو جب تک تفتیش مکمل نہ ہو جائے تدفین روکی جا سکتی ہے۔ یا قریبی رشتے دار موجود نہ ہوں اور ان کے آنے میں زیادہ وقت نہ لگے تو ان کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔

ابن المفلحؒ حنبلی فرماتے ہیں:

کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کے ولی کی آمد تک اس کی تدفین میں تاخیر کرنے کے بارے میں دونوں رائیں ہیں: ایک یہ کہ ولی کا انتظار کیا جائے گا۔ تدفین میں اتنی تاخیر کی جا سکتی ہے کہ رشتے دار اور دوست و احباب جمع ہو جائیں، اگر انہیں زیادہ زحمت نہ ہو یا نعش میں بگاڑ پیدا ہو جانے کا اندیشہ نہ ہو۔ دوسری رائے یہ ہے کہ تدفین میں جلدی کی جائے گی اور کسی کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔

فقہ شافعی کی کتاب نہایۃ المحتاج (رملیؒ) میں ہے:

نماز جمازہ پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ جانے کے مقصد سے تدفین میں تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے رسولؐ نے جلد تدفین کرنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ ولی کا انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر امید ہو کہ وہ تھوڑی دیر میں پہنچ جائے گا اور اتنی مدت میں نعش میں کوئی فساد پیدا ہو جانے کا اندیشہ نہ ہو۔

تدفین کی وصیت پر عمل

سوال: ایک شخص کی وفات دہلی میں ہوئی۔ وہ حیدرآباد کا رہنے والا تھا۔ اس نے وصیت کر رکھی تھی کہ اس کا انتقال چاہے جہاں ہو، اس کی تدفین حیدرآباد لے جاکر کی جائے۔ کیا اس کے ورثہ کے لیے اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ کیا اگر وہ دہلی ہی میں اس کی تدفین کر دیں تو گناہ گار ہوں گے؟

جواب: کوئی شخص کسی جائز کام کی وصیت کرے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو تو ورثہ کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ مثلا کوئی شخص اپنی وفات کے بعد کسی مخصوص قبرستان میں تدفین کی وصیت کرے اور اس قبرستان کا مالک یا انتظامیہ اس کی اجازت دے دے تو وہیں اسے دفن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اجازت نہ ملے تو اسے مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔

اگر کسی شخص کا انتقال اس کے وطن سے باہر کسی دوسری جگہ ہو اور اس نے وطن ہی میں تدفین کی وصیت کر رکھی ہو تو اگر اس کےورثہ کے لیے اس کی نعش بہ آسانی اس کے وطن لے جانا ممکن ہو تو انہیں چاہیے کہ وصیت پر عمل کرنے کی کوشش کریں، لیکن اگر اس میں کچھ زحمت ہو، مثلا نعش منتقل کرنے میں بہت زیادہ مصارف آ رہے ہوں، تدفین میں بہت تاخیر ہو رہی ہو اور نعش میں فساد پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وصیت پر عمل نہیں کرنا چاہیے اور جہاں انتقال ہوا ہو وہیں تدفین کرن دینی چاہیے۔

امام نوویؒ نے اپنی کتاب ‘لاذکار’میں لکھا ہے:

کسی شخص نے اپنی تدفین کے بارے میں جو کچھ وصیت کی ہو اس پر لازما عمل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اس کا معاملہ اہل علم کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ جس کام کو وہ جائز قرار دیں اسے کرنا چاہیے اور جس کام سے روک دیں اس سے رک جانا چاہیے۔ مثلا کوئی شخص اپنی تدفین کسی مخصوص قبرستان میں کرنے کی وصیت کرے اور اس میں نیک لوگوں کی تدفین ہوتی رہی ہو، یعنی اس شخص نے یہ وصیت ان کی صحبت حاصل کرنے کے لیے کی ہو تو اس کی وصیت پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن اگر اس نے وصیت کی ہو کہ اس کی نعش دوسرے شہر لے جاکر وہاں تدفین کی جائے تو اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ بیش تر فقہا کے نزدین نعش کو تدفین کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانا درست نہیں ہے۔ محقق علما نے اسے حرام قرار دیا ہے اور بعض نے اسے مکروہ کہا ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ تدفین کے سلسلے میں کسی شخص کی وصیت پر عمل ضروری نہیں ہے، بلکہ ورثہ کو جہاں اس کی تدفین میں آسانی ہو وہاں وہ کر سکتے ہیں۔ وصیت پر عمل نہ کرنے کی صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوں گے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223