رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

خطبۂ نکاح میں پڑھی جانے والی آیتیں

سوال: خطبۂ نکاح میں جو تین آیتیں ﴿سورہ النساء:کی پہلی آیت، سورۂ آل عمران کی آیت نمبر۰۲اورسورۂ الاحزاب کی سترویں اور اکہترویں ٓیتیں﴾ پڑھی جاتی ہیں، کیا ان کاتعلق نکاح سے نہیں ہے؟ یہاں ایک امام صاحب نے جمعے کے خطاب میں یہ بات کہی تو عجیب سی لگی۔ بہ راہِ کرم وضاحت فرمادیں۔

محمد وجیہ اللہ

چترپور، رام گڑھ

جواب:نکاح کے موقعے پر جو خطبہ پڑھاجاتاہے، وہ حمد وثنا اور دعا کے ابتدائی کلمات کے بعد قرآن کریم کی چار آیتوں پر مشتمل ہوتاہے۔ اسے خطبۂ مسنونہ کہاجاتاہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کے موقعے پر یہی خطبہ پڑھاکرتے تھے۔ یہ صراحت حضرت عبداللہ بن مسعود ؒ کی زبانی سنن اربعہ میں موجود ہے۔

[ابودائود:۲۱۱۸، ترمذی:۱۱۰۵، نسائی:۳۲۷۹، ابن ماجہ:۱۸۹۲]

ان آیتوںکاتعلق نکاح سے اس معنی میں تو نہیں ہے کہ ان میں نکاح سے متعلق کوئی بات بتائی گئی ہو۔ لیکن ان میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ انسانی زندگی میں ہر موقعے پر ملحوظ رکھنے کی ہیں اور زندگی کاایک اہم موقع نکاح ہے۔ اس موقعے پر ان باتوں کی یاد دہانی بڑی معنیٰ خیز ہے۔ حضرت ابن مسعودؒ کی روایت میںاسے ’’خطبۂ الحاجۃ‘’ کانام دیاگیاہے، جسے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مواقع پر خاص طور سے نکاح کے موقعے پر پڑھاکرتے تھے۔[حوالہ سابق]

ان آیتوں میںبار بار اللہ سے ڈرنے اور تقوے کی زندگی اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ زندگی کے آخری سانس تک راہِ اسلام پر قائم رہنے پر زور دیاگیاہے اور ہمیشہ درست بات کہنے اور ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کاحکم دیاگیاہے۔ سورۂ نسائ کی آیت میں نسل انسانی کی ابتدائی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رشتوں کے پاس ولحاظ کی تاکید کی گئی ہے۔ ان باتوں کی یاد دہانی یوں تو ہر اہم موقعے پر ہونی چاہیے اور ہوتی بھی ہے، لیکن نکاح کے ذریعے جب ایک نیا خاندان تشکیل پارہاہو تو اس موقعے پر ان کی یاد دہانی کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتاہے۔

محترم مولانا سید جلال الدین عمری کی کتاب ’’اسلام کا عائلی نظام‘’ میں ان آیات کی بڑی مؤثر تشریح کی گئی ہے۔ آپ اُسے ملاحظہ فرمالیں تو بات کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔

مہر فاطمی کی حیثیت

سوال:مہرفاطمی کو مسنون قرار دیاجاتاہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ موجودہ دور میں اس کے برابر کتنی رقم بنتی ہے؟ اگر کسی لڑکی کامہر چاندی سونے کی شکل میں باندھا گیا، لیکن فوراً اس کی ادائی نہیں ہوئی، بل کہ اس پر دس پندرہ سال گزر گئے۔ اب مہر ادا کرنا ہوتو چاندی یا سونے کی موجودہ مالیت کے لحاظ سے حساب ہوگا یا اُس زمانے کے حساب سے جب مہر واجب ہواتھا؟

محمد جنید صدیقی

جمال پور، علی گڑھ

جواب:نکاح کے دوران جن کاموں کی انجام دہی کی تاکید آئی ہے، ان میں سے ایک مہر بھی ہے۔ اگرچہ وہ نہ نکاح کے ارکان میں سے ہے نہ اس کی شرائط میں سے، لیکن اس کی ادائی پر بہت زور دیاگیاہے۔

مہر اتنا ہی طے کرنا چاہیے جتنا شوہر آسانی سے ادا کرسکے۔ بہت زیادہ مہر مقرر کرنے کو فخر و مباہاۃ کی چیز سمجھ لیاگیا ہے۔ حالاںکہ یہ چیز شرعی اعتبار سے بھی غلط ہے اور عقلی اعتبار سے بھی۔ ایک مرتبہ حضرت عمربن الخطابؒ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’لوگو! بہت زیادہ مہر مقرر کرنے سے اجتناب کرو۔ اگر یہ کوئی اعزاز واکرام کی چیز ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ضرور کرتے۔ حالاں کہ آپﷺ نے جن خواتین سے نکاح کیا ان میں سے کسی کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر نہیں دیا اور آپﷺ نے اپنی صاحب زادیوں میں سے بھی کسی کامہر اس سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا۔ ﴿سنن ابی دائود:۲۱۰۷﴾

امام ابودائود نے وضاحت کی ہے کہ ایک اوقیہ چالیس درہم کاہوتاہے۔ اس اعتبار سے بارہ اوقیہ ۰۸۴ درہم کے برابر ہوئے۔

ایک دوسری روایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ ان سے کسی نے دریافت کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کاکیامہر طے فرمایاتھا؟ انھوںنے جواب دیا: ساڑھے بارہ اوقیہ ﴿سنن ابی دائود:۲۱۰۵﴾ یہ مقدار پانچ سو درہم کے برابر ہوتی ہے۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحب زادیوں کے لیے جو مہر طے فرمایاتھا وہی حضرت فاطمہؒ کابھی مہرتھا۔ اس کو الگ سے کوئی انفرادی اور امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ مہر فاطمی کو سنت قرار دیاجاتاہے، لیکن اسے اس معنی میں سنت سمجھنا غلط ہے، کہ اس سے کم یا اس سے زیادہ مہر طے کرنا غیرافضل ہے۔ اس معاملے میں درست رویہ یہ ہے کہ مہر حیثیت کے مطابق متعین کرنا چاہیے۔ کم یازیادہ کچھ بھی ہوسکتاہے۔ صحابہ کرام جو اتباع سنت کے بہت زیادہ مشتاق رہتے تھے، ان کے بہ کثرت واقعات مروی ہیں کہ انھوںنے کم سے کم مہر پر نکاح کیا۔

ہندستانی وزن کے اعتبار سے ایک درہم ایک چوتھائی تولے سے کچھ زیادہ ہوتاہے۔ اس لحاظ سے مہرفاطمی ۰۰۵ درہم کی مقدار ۱۳۱تولہ ۳ ماشہ چاندی کے برابرہے۔ یہ تحقیق مشہور عالم دین مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کی ہے۔ ﴿ملاحظہ کیجیے اسلامی فقہ، مولانا مجیب اللہ ندوی، تاج کمپنی دہلی ،۱۹۹۲؁ء، ۲/۸۵﴾ یہ مقدار انگریزی وزن کے اعتبار سے ایک کلوپانچ سو اکتیس ﴿۱۵۳۱﴾ گرام کے برابر ہے۔ اگر کوئی شخص مہرفاطمی پر نکاح کرتاہے تو اسے اس مقدار کی چاندنی کی مالیت کے برابر روپیہ ادا کرناہوگا۔

مہر جس وقت طے کیاجائے، بہتر ہے کہ اسی وقت ادا کردیاجائے۔ لیکن اگر کسی شخص نے اُس وقت ادا نہیں کیااور بعد میںکچھ عرصہ گزرجانے پر وہ ادا کرنا چاہے تو وقتِ ادائی مذکورہ مقدار ایک کلو۱۳۱گرام کی چاندنی کی مالیت کی بہ قدر روپیہ ادا کرنااس پر لازم ہوگا۔ اُس زمانے کے نرخ کا اعتبار نہ ہوگا جب اس پر مہر واجب ہواتھا۔

میراث کے چند مسائل

سوال:ایک صاحب کا انتقال ہوگیاہے۔ ان کے وارثوں میں صرف ان کی بیوی، ایک بیٹی اور ماں ہے۔ ان کے علاوہ اور کوئی رشتے دار نہیں ہے۔ ان کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

براہِ کرم مطلع فرمائیے؟

اظہراللہ خاں قاسمی

ہاسن ﴿کرناٹک﴾

جواب:﴿۱﴾میراث کے احکام قرآن کریم کی سورہ النسائ آیات:۱۱،۲۱،۶۷۱ میں تفصیل سے مذکور ہیں۔ ان میں درج ذیل جزئیات کابھی بیان ہے:

﴿الف﴾ ’’کسی شخص کاانتقال ہوجائے تو اگر وہ صاحب اولاد ہوتو بیوی کاحصہ ایک چوتھائی ہوگا اور اگر لاولدہوتو بیوی کاحصہ آٹھواں ہوگا۔‘’ ﴿النسائ:۲۱﴾

﴿ب﴾    ’’اگر اولادمیں اس کی صرف ایک لڑکی ہوتو وہ نصف ترکے کی مستحق ہوگی۔‘’ ﴿النسائ:۱۱﴾

﴿ج﴾     ’’صاحب اولاد ہونے کی صورت میں اس سے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا۔‘’ ﴿النسائ:۱۱﴾

﴿۲﴾جن رشتے داروں کے حصے متعین ہیں انھیں اصحاب الفرائض کہاجاتاہے۔ دوسرے رشتے دار عصبہ اور ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔ ان کی ایک ترتیب بنادی گئی ہے۔ ترکہ اصحاب ِ فرائض میں تقسیم کردیے جانے کے بعد اگر اس میں سے کچھ بچتاہے تو حسب ترتیب اس میں سے دوسرے رشتے داروں عصبہ و ذوی الارحام کو حصہ ملے گا۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔ آپ نے صراحت کی ہے کہ میت کے مذکور تین وارثوں کے علاوہ اس کا اور کوئی رشتے دار نہیں ہے۔

﴿۳﴾ ترکہ اصحاب الفرائض میں تقسیم ہونے کے بعد اگر کچھ حصہ بچ رہے اور اسے لینے والا کوئی رشتے دار ﴿عصبہ وغیرہ﴾ موجود نہ ہوتو اسے دوبارہ اصحاب الفرائض کے درمیان ان کے حصوں کی نسبتوں کے اعتبار سے تقسیم کردیاجائے گا۔ اسے فقہی اصطلاح میں ’’رد‘’ کہاجاتاہے۔ دوبارہ تقسیم کی صورت میں فقہ حنفی میں بیوی اور شوہر کو حصہ پانے سے محروم رکھاگیاہے۔ اس لیے کہ ان کے درمیان نسبی رشتہ نہیں ہوتاہے۔

صورت مسؤلہ میں بھی یہی معاملہ ہے۔ بیوی، بیٹی اور ماں کے درمیان ترکے کی تقسیم اس طرح ہوگی:

۱+۱۱+۱=

۳+۲۱+۴=

۹۱

۸

۲

۶

۶

۴۲

۴۲

پھرباقی ماندہ حصہ ﴿۲۴/۵﴾ اس طرح تقسیم ہوگاکہ اس میں سے بیوی کو کچھ نہ ملے گا۔

بیٹی اور ماں کے حصوں میں ۳:۱ کی نسبت ہے۔ اسی اعتبار سے یہ باقی ماندہ حصہ بھی ان کے درمیان تقسیم کردیاجائے گا۔

سوال:ایک شخص کاانتقال ہوگیا۔ اس کے رشتے داروں میں صرف اس کی بیوی، باپ اور تین بھائی تھے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پندرہ دن کے بعد اس کے باپ کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کاترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

شاہد حسین

بھمولہ، علی گڑھ

جواب:

۱-  میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کاحصہ ایک چوتھائی ﴿۴/۱﴾ ہے۔

۲- میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں باپ دوسرے درجے کا عصبہ ہے اور بھائی تیسرے درجے کے عصبہ ہیں۔ یعنی باپ کی موجودگی میں بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ بیوی کاحصہ نکالنے کے بعد کل ترکہ باپ کاہوگا۔

۳-  اب چوںکہ باپ کابھی انتقال ہوگیاہے، اس لیے باپ کا کل ترکہ اس کے بیٹوں ﴿سوال میں مذکور میّت کے بھائیوں﴾ میں تقسیم ہوجائے گا۔

اگرمسجد کاقبلہ صحیح رخ سے تھوڑا ہٹا ہوا ہو

سوال: ہمارے محلے میں سب سے قدیم مسجد ہے، جس کی کئی بارتعمیر نوبھی ہوئی ہے۔ چند روز قبل جدید قبلہ نماسے یہ معلوم ہواکہ مسجد میں جو قبلہ پہلے طے تھا، قبلہ اس سے 30oدائیں ہے۔ اب گزارش یہ ہے کہ آیندہ ہمیں صفیں پرانی طرح بنانے کی اجازت ہے یا نئے قبلے کی طرف رجوع کرناہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر 30ڈگری تک قبلہ صحیح رخ سے ہٹاہوا ہوتو کوئی حرج نہیں۔ مسجد کے قبلے کی طرف ہی رخ کرکے نماز پڑھتے رہنا درست ہے۔ گزارش ہے کہ اس معاملے میں اولین فرصت میں ہماری رہ نمائی فرمائیں۔

انتظامیہ کمیٹی

جامع قدیم کریم آباد پلوامہ﴿کشمیر﴾

جواب: اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوِہَکُمْ شَطْرَہُ  ﴿البقرہ:۱۴۴﴾

اس سے معلوم ہواکہ نماز کے لیے قبلہ رو ہونا ضروری ہے۔ اگر متعین طور سے قبلے کاعلم نہ ہوتو مختلف قرائن سے جاننے کی کوشش کی جائے گی اور صحیح معلوم ہوجانے کے بعد اسی سمت رخ کرنا ضروری ہوگا۔

مسجد ہے، کئی بار اس کی تعمیر ہوچکی ہے۔ ظاہر ہے، ہرتعمیر کے موقعے پر درست قبلہ متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہوگی۔ انسان بقدر استطاعت مکلف ہے۔ اس لیے اس میں اب تک پڑھی گئی تمام نمازیں درست ہیں۔ اب جدید قبلہ نما سے اگرقطعی طورپر معلوم ہوگیاہے کہ صحیح قبلہ مسجد کے قدیم قبلے سے ۰۳ ڈگری دائیں طرف ہے تو اداے نمازکے لیے قبلہ درست کرنا ضروری ہے۔ مسجد کو منہدم کرنا ضروری نہیں، بل کہ صفوں کا رخ درست کر لینا کافی ہوگا۔ البتہ مسجد میں معمولی ترمیم  کرکے رخ درست کر لیا جائے تو بہتر ہے۔

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau