رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

اردو زبان میں خطبۂ جمعہ

سوال:ہماری بستی میں خطبۂ جمعہ کے معاملے نے انتشار کی صورت اختیارکرلی ہے۔ ہماری مسجد میں کچھ عرصے قبل ایک نئے مولانا صاحب آئے۔ انھوں نے جمعے کا خطبۂ اولیٰ اردو زبان میں دینا شروع کردیا۔ اس میں وہ آسان زبان میں دین کی بنیادی اور اہم باتیں بتاتے اور عوام کو وعظ وتلقین کرتے تھے۔ اس سے عام لوگوںکو بہت فائدہ محسوس ہوا۔ لیکن جلد ہی کچھ لوگوں نے مخالفت شروع کردی۔ ان کا کہناتھا کہ خطبۂ جمعہ اردو زبان میں دینا جائز نہیں ہے۔ بالآخر بستی کے سربرآوردہ لوگوں کی میٹنگ ہوئی، جس میں طے پایاکہ امام صاحب جمعہ کے دونوں خطبے تو عربی زبان ہی میں دیا کریں، البتہ خطبے سے قبل منبر سے نیچے کھڑے ہوکر اردو زبان میں تقریر کردیا کریں۔ اس سے عوام کی تعلیم و تربیت کی ضرورت پوری ہوجایا کرے گی۔ لیکن امام صاحب نے اس تجویز کی مخالفت کی اور کہاکہ اس سے جمعہ کے خطبوں کی تعداد عملاً تین ہوجائے گی۔ نتیجتہً امام صاحب مسجد کی امامت سے علاحدہ کردیے گئے۔بہ راہ کرم واضح فرمائیں کہ خطبۂ جمعہ کا مسنون طریقہ کیاہے؟ کیا جمعہ کاخطبۂ اولیٰ اردو زبان میں دینا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے؟

عبدالرشید،سوائی مادھوپور، راجستھان

جواب:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ جمعہ ہمیشہ عربی زبان میں دیا ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام جو مختلف علاقوں میں ، حتیٰ کہ بلادِ عجم میں پھیل گئے تھے، انھوں نے بھی خطبۂ جمعہ عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں نہیں دیا۔ اس وجہ سے جمہور فقہا کہتے ہیں کہ خطبۂ جمعہ عربی زبان میں دینا مسنون ہے۔ امام ابوحنیفہؒ  کے نزدیک غیر عربی زبان میں بھی خطبہ دیاجاسکتا ہے۔ ان کے دونوں شاگردوں امام ابویوسفؒ  اور امام محمدؒ  ﴿صاحبین﴾ کے نزدیک جو شخص عربی زبان پر قادر ہو اسے عربی میں خطبہ دینا چاہیے۔ جو قادر نہ ہو اسے غیرعربی میں بھی خطبہ دینے کی اجازت ہے۔عموماً فقہاے احناف کا فتویٰ اور عمل صاحبین کے مسلک پر ہے۔ لیکن بعض فقہا نے غیرعربی زبان میں خطبہ دینے کی اجازت دی ہے۔ مثلاً علاّمہ عبدالحیّ فرنگی محلی نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے ﴿مجموعۃ الفتاویٰ، فصل: ۲۵﴾ مولانا محمد علی مونگیریؒ  بانی دارالعلوم ندوۃ العلمائ لکھنؤ نے بھی اس موضوع پر ایک مفصل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ’القول المحکم فی خطابۃ العجم‘ ہے۔

موجودہ دور میں اس چیز کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ خطبۂ جمعہ کو عوام کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایاجائے۔ اس بنا پر بعض علما کہتے ہیں کہ جمعے کے دونوں خطبے تو عربی زبان ہی میں دیے جائیں، البتہ خطبے سے قبل عوام کی زبان میں ان کے سامنے تقریر کی جائے، جس میں انھیں دین کی باتیں بتائی جائیں۔ اس طریقے کو اختیار کیاجاسکتا ہے، لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس طرح عملاً جمعے کے تین خطبے ہوجاتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں موجودہ دور کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے امام ابوحنیفہؒ  کے مسلک کو اختیار کرکے خطبۂ اولیٰ کو اردو میں دینا چاہیے۔

اس موقعے پر اسلامی فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ کے پانچویں سمینارمنعقدہ ۸-۱۶/ ربیع الثانی مکہ مکرمہ میں منظور شدہ ایک فیصلے کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے: ’’معتدل رائے یہ ہے کہ غیرعرب علاقوں میں جمعہ و عیدین کے خطبے کے صحیح ہونے کے لیے عربی زبان کی شرط نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ خطبے کے ابتدائی کلمات اور قرآنی آیات عربی زبان میں پڑھی جائیں۔ تاکہ غیرعرب بھی عربی اور قرآن سننے کی عادت ڈالیں اور عربی و قرآن سیکھناان کے لیے آسان ہو۔ پھر خطیب علاقائی زبان میں انھیں نصیحت و تذکیر کرے۔ ﴿مکہ فقہ اکیڈمی کے فقہی فیصلے، ایفا پبلی کیشنز نئی دہلی، طبع دوم ۲۰۰۴؁ء، ص:۱۰۷﴾

حالتِ سفر میں جمع بین الصلاتین

سوال:کیا حالت سفر میں جمع بین الصلاتین کی اجازت ہے؟

جواب:جمع بین الصلاتین سے مراد ظہر اور عصر یا مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعے پر میدانِ عرفات میں ظہر کے وقت ظہر اور عصر اور مزدلفہ میں عشا کے وقت میں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا فرمائی تھیں۔ فقہاء  کے درمیان اختلاف ہے کہ اس رخصت کی علّت سفر ہے یا یہ حج کے ساتھ خاص ہے؟ امام ابوحنیفہؒ  اور بعض دیگر فقہا مثلاً حسن بصریؒ ، ابن سیرین،ؒ  مکحولؒ  اور نخعیؒ  وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ حج کے ساتھ خاص ہے۔ دیگر مواقع سفر پر ظہر اور عصر یامغرب اور عشا کو جمع کرنا درست نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات تواتر سے ثابت ہیں اور جن احادیث میں حج کے علاوہ دیگر مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نمازوںکو جمع کرنے کاذکر ہے، وہ اخبارِ آحاد ہیں۔ اس لیے خبرواحد کی بنیادپر تواتر کو ترک نہیں کیاجاسکتا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اُن مواقع پر غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع صوری کی شکل اختیار فرمائی تھی۔ یعنی ظہر کو موخر کرکے اس کے آخری وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں ادا فرمایاتھا۔ اسی طرح مغرب اور عشا میں بھی کیاتھا۔

دیگر ائمہ ثلاثہ ﴿امام مالکؒ ، امام شافعیؒ  اور امام احمدؒ ﴾ حالت سفر میں جمع بین الصلاتین کی اجازت دیتے ہیں۔ان کے نزدیک جمع تقدیم اور جمع تاخیر دونوں جائز ہیں۔ ﴿امام اوزاعیؒ  کے نزدیک صرف جمع تاخیر جائز ہے، جمع تقدیم نہیں﴾ ان کی دلیل وہ بہت سی احادیث ہیں جن میںمتعدد مواقع سفر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر، اسی طرح مغرب اور عشاء کو جمع کرنے کا تذکرہ ہے۔ مثلاً حضرت انس بن مالکؒ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ  اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ  آپﷺ کامعمول بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ سفر میں جمع بین الصلاتین کیا کرتے تھے۔ ﴿بخاری:۱۱۰۶، ۱۱۰۷، ۱۱۱،۱۱۲، مسلم:۷۰۴﴾ حضرت معاذؓ  اور حضرت ابن عباسؓ  بیان کرتے ہیں کہ سفر تبوک میں آپﷺ ظہر و عصر اور مغرب و عشا ایک ساتھ ادا فرماتے تھے۔ ﴿مسلم:۷۰۵، ۷۰۶﴾

جمع بین الصلاتین کی احادیث اتنی کثرت سے ہیں کہ انھیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا اور نہ انھیں جمع صوری پر محمول کیاجاسکتا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس رخصت کی علت سفر کو قرار دیاجائے اور اس سے فائدہ اٹھایاجائے۔ بعض متاخرین احناف مثلاً علامہ سید سلیمان ندوی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ بھی اس کے قائل تھے۔واللہ اعلم بالصواب۔

اگست 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau