رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

یوم عاشورا کا روزہ

سوال:یوم عاشورا کی اہمیت کے بارے میں مشہور ہے کہ اس دن کئی تاریخی واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تاریخی واقعہ یہود کے بارے میں ہے کہ انہیں اس دن فرعون سے نجات ملی، اس لیے یوم عاشورا کو یہود کے ساتھ مخصوص نہیں کیاجاسکتا۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود سے امتیاز کرنے کے لیے یوم عاشورا سے قبل یا بعد ایک دن اور ملا کر دو دن روزہ رکھناچاہیے۔ کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یوم عاشورا اور یہود کا Yom Kippurایک ہی روز واقع ہوئے ہوں گے، کیا اب بھی ایسا ہوتا ہے؟ کیا یوم عاشورا کا روزہ رکھ لیا جائے اور بہ وجوہ دوسرے دن کے روزے کے بجائے فدیہ ادا کردیا جائے تو کیا ایسا کرنا درست ہوگا؟

عثمان محمد اقبال

جواب: عاشورا یعنی ۱۰/محرم الحرام کے روزے کے سلسلے میں کثرت سے احادیث مروی ہیں۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام جاہلیت میں قریش بھی اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، اس لیے کہ اسی دن خانۂ کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اس دن روزہ رکھنے کا معمول تھا، جو ہجرت مدینہ کے بعد بھی جاری رہا، بلکہ آپﷺ  نے صحابۂ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ہجرت کے دوسرے سال جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپﷺ  نے صحابہ کرامؓ  کو اختیار دے دیا کہ چاہیں عاشورا کا روزہ رکھیں، چاہیں نہ رکھیں۔ آپ ﷺ  نے فرمایا:

مَنْ شَائَ اَنْ یَّصُوْمَہ، فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ شَائَ اَنْ یَّتْرُکَہ، فَلْیَتْرُکْہُ۔ ﴿بخاری :۱۵۹۲،مسلم:۱۱۲۵﴾

’’جو شخص اُس دن روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے اور جو نہ رکھنا چاہے وہ نہ رکھے۔‘‘

بعض احادیث میں ہے کہ ’’مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہود بھی ۱۰/محرم کو روزہ رکھتے ہیں، تو آپﷺ  نے ان سے اس کی وجہ دریافت فرمائی۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرقاب کیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اس کے مظالم سے نجات دی تھی، اس کے شکر انے کے طور پر ہم روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ  نے جواب دیا: اس پر شکر ادا کرنے کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ ﴿بخاری : ۲۰۰۴، مسلم:۱۱۳۰﴾

ایک حدیث میں ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں ایک موقع پر فرمایا تھا:

لَئِنْ بَقِیْتُ اِلیٰ قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ التَّاسِعَ۔ ﴿مسلم:۱۱۳۴﴾

’’اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو ۹/محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔‘‘

لیکن آپﷺ  کی وفات اس سے قبل ہی ہوگئی، اس لیے آپﷺ  کا یہ ارادہ شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ اس حدیث کی بنا پر علماء  نے محرم کی دسویں تاریخ کے ساتھ نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھنا مستحب قرار دیا ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے اس سلسلے میں دواقوال منقول ہیں:

﴿۱﴾ اس کا مقصد یہود کی مخالفت اور ان کی مشابہت سے بچنا ہے۔

اس قول کی تائید حضرت ابن عباسؓ  سے مروی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَخَالِفُوْا فِیْہِ الْیَھُوْدَ، وَصُوْمُوْا قَبْلَہ، یَوْماً اَوْبَعْدَہ، یَوْماً، ﴿مسنداحمد،۱/۲۴۱﴾

’’عاشورا کے دن روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ اس کے لئے اس کے قبل یا بعد کے دن بھی روزہ رکھ لو۔‘‘

اس حدیث کو ہیثمیؒ  نے مجمع الزوائد ﴿۳/۱۸۸﴾ میں روایت کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے: ’’اس کی روایت احمد اور بزار نے بھی کی ہے۔ لیکن اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابی لیلیٰ ہے، جس پر محدثین نے کلام کیاہے۔‘‘

﴿۲﴾ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ تنہا نہ رکھا جائے ، جس طرح صرف جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع کیاگیا ہے۔﴿ترمذی: ۷۴۳﴾

علامہ ابن حجر عسقلانی نے بعض اصحاب علم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’عاشورا کے روزے کے تین درجے ہیں : یہ کہ کم ازکم ۱۰/محرم کو روزہ رکھا جائے۔ اس سے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ ۹/محرم کو بھی شامل کرلیاجائے۔ اور سب سے اچھا یہ ہے کہ محرم کی ۹،۱۰،۱۱ تینوں تاریخوں میں روزہ رکھا جائے۔‘‘ ﴿فتح الباری شرح صحیح البخاری، المکتبۃ السلفیۃ ۴/۲۴۶﴾

احادیث میں عاشورا کے روزے کی فضیلت مذکور ہے۔ حضرت ابوقتادہؓ  سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ اِنِّیْ اَحْتَسِبُ عَلیٰ اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہ،۔ ﴿ترمذی:۷۵۲﴾

’’میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ جو شخص عاشورا کے دن کا روزہ رکھے گا، اللہ اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کردے گا۔‘‘

اس بنا پر فقہا نے عاشورا کے روزے کو مستحب قرار دیاہے۔ جو شخص یہ روزہ رکھنا چاہے اسے چاہئے کہ محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھ لے۔ اگر نہ رکھ سکے تو گیارہویں کو رکھ لے۔ بلکہ امام شافعی نے تینوں دن روزہ رکھنا مستحب قرار دیا ہے۔ ﴿الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۲۸/۹۰﴾

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ روزہ صرف عاشورا کے دن بھی رکھا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ اس سے پہلے یا بعد کا دن بھی ملا یا جاسکتا ہے۔ صرف عاشورا کاروزہ رکھا جائے، دوسرے دن روزہ نہ رکھا جائے تو بھی فدیہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ تحقیق نہیں کی جاسکی کہ یہود کے یہاں مہینے کون کون سے ہیں؟ اور ان کا Yom Kippurاور یوم عاشورا عہد نبوی میں اتفاقاً ایک ہی دن واقع ہوگئے تھے یا اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

نمازجمعہ کے چند مسائل

سوال:بہراہِ کرم درج ذیل سوالات کی وضاحت فرمادیں:

﴿۱﴾ نماز جمعہ میں کل کتنی رکعتیں ہیں؟ کہاجاتا ہے کہ اس میں فرض اور سنن ونوافل کل ملاکر چودہ رکعتیں ہیں؟ یہ محض رواج ہے یا اس کے پیچھے کوئی سند اور دلیل ہے؟ فقہ السنۃ شائع شدہ از مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی میں لکھا ہے کہ جمعہ میں فرض سے پہلے سنتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں، جب کہ فتاویٰ عالم گیری میں فرض سے قبل کی سنتوں کا ذکر ہے۔

﴿۲﴾ کیا تین ہزار کی آبادی والے گاؤں میں تین مسجدوں میں نماز جمعہ بلاکراہت جائز ہے، جب کہ تینوں مسجدوں کا باہم فاصلہ سو،ڈیڑھ سو میٹر ہی کا ہو، اور ایک ہی مسجد میں اتنی جگہ ہوکہ پوری آبادی اس میں نماز پڑھ سکتی ہو؟

﴿۳﴾ نماز کے بعد امام صاحب وظیفہ کااہتمام کرتے ہیں اور مقتدی دُعا کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں، پھر اجتماعی طور پر دعا مانگی جاتی ہے، جب کہ قرآن میں نماز جمعہ ختم ہونے پر زمین میں پھیل کر اللہ کا فضل تلاش کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ بہ راہِ کرم اجتماعی دُعا کے جواز اور مواقع سے آگاہ فرمائیں۔ خورشید علی خاں، قائم گنج، فرخ آباد﴿یوپی﴾

جواب:﴿۱﴾ نماز جمعہ میں دورکعتیں فرض ہیں، امام ابوحنیفہ ؒ  کے نزدیک فرض سے قبل چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں سنت ہیں۔ امام صاحبؒ  کے شاگرد قاضی ابویوسف ؒ  اور امام احمدؒ  کے نزدیک فرض کے بعد چار رکعتوں کے علاوہ دورکعتیں مزید مسنون ہیں۔ اس طرح کل رکعتیں بارہ ہوجاتی ہیں۔

فقہ السنۃ میں یہ لکھا ہے کہ ’’جمعہ سے پہلے سنتوں کا پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ یہ بات بے بنیادنہیں ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ  نے متعدد روایتیں نقل کی ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں فرض سے پہلے سنتیں پڑھا کرتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی تحریر کیاہے کہ یہ تمام روایتیں ضعیف ہیں ۔ ﴿فتح الباری بشرح صحیح البخاری، المکتبۃ السلفیۃ، ۲/۱۲۶﴾ دوسری طرف بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ  نے فرض سے قبل سنتیں پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ حضرت ابوہریرہؒ  سے مروی ہے کہ آپﷺ  نے فرمایا : ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرکے مسجد آئے، پھر اسے جتنی توفیق ہو اتنی رکعتیں پڑھے، پھر خاموشی سے امام کا خطبہ سنے اور اس کے ساتھ نماز ادا کرے تو اللہ اس کی ایک ہفتہ اور مزید تین دنوں کی خطائیں بخش دیتا ہے۔ ﴿مسلم: ۸۵۷﴾ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ  کے بارے میں منقول ہے کہ وہ جمعہ میں فرض سے قبل چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ﴿ترمذی :۵۲۳﴾

احناف کے نزدیک نماز جمعہ ظہر کے مثل ہے اور چوںکہ ظہر میں فرض سے قبل چار رکعتیں مسنون ہیں، اس لیے ان کی ادائی جمعہ میں بھی فرض سے قبل کرنی چاہیے۔ امام بخاریؒ  نے اپنی صحیح کی کتاب الجمعۃ میں ایک باب یہ منعقد کیا ہے: باب الصلا ۃ بعد الجمعۃ وقبلھا ﴿جمعہ میں فرض کے بعد اور اس سے قبل نماز کا بیان﴾ اس کے تحت انہوں نے جو حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے قبل چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جمعہ کے بعد گھر جاکر دورکعتیں ادا کرتے تھے۔‘‘ اس سے شارحین نے یہ استنباط کیا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک جمعہ اور ظہر کا حکم یکساں ہے۔ ظہر کی طرح جمعہ سے قبل بھی چار رکعتیں پڑھنی چاہئیں۔ ﴿فتح الباری، ۲/۴۲۶﴾

﴿۲﴾ نماز جمعہ کی مشروعیت کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ آبادی کے تمام افراد ایک دن ایک جگہ اکٹھا ہوں اور باہم ملاقات کرکے ایک دوسرے کے احوال سے باخبر ہوں۔ ان کا ایک ہفتہ میں ایک بار اکٹھا ہونا آسان تھا اس لیے اس کا حکم دیاگیا ﴿حجۃ اللہ البالغۃ، شاہ ولی اللہ، طبع مصر، ۱۳۲۲ھ، ۲/۲۱﴾ اسی بنا پر  فقہاء  متقدمین کی رائے تھی کہ ایک شہر میں عام حالات میں ایک ہی جگہ نماز جمعہ ہوسکتی ہے۔ دیہاتوں میں جمعہ کی اجازت نہ تھی اور وہاں رہنے والوں کو حکم تھا کہ اگر انہیں جمعہ کی نماز پڑھنی ہے تو شہر آئیں۔ لیکن بعد میں حالات بدلے تو فقہا نے شہر میں ایک سے زائد مقامات پر نماز کی اجازت دے دی۔ چنانچہ البدائع میں امام کرخیؒ  سے مروی ہے کہ قاضی ابویوسفؒ  اور امام محمدؒ  کے نزدیک ایک سے زائد مقامات پر جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے۔ ﴿الموسوعۃ الفقہیۃ، ۲۷/۲۰۴﴾

موجودہ دور میں شہروں اور دیہاتوں میں آبادیاں بہت پھیل گئی ہیں، لوگوں کی مصروفیات بڑھ گئی ہیں، ایک جگہ تمام لوگوں کے اکٹھا ہونے میں طرح طرح کی زحمتیں ہیں، بازاروں میں جمعہ کے دن بھی دوکانیں کھلی رہتی ہیں۔ اور بھی دیگر بہت سے مصالح اور مسائل ہیں اس لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ مختلف مساجدمیں جمعہ کی نماز ہو اور لوگ اپنی سہولت سے قریب کی مسجدمیں نماز ادا کرلیں۔ اسی طرح نماز کا وقت مختلف مساجد میں الگ الگ رکھا جائے تو بھی نمازیوں کو سہولت ہوگی۔

﴿۳﴾ اجتماعی دعا کے موضوع پر زندگی نو ،اپریل ۲۰۱۲ئ میں جواب دیا جاچکا ہے۔ اسے ملاحظہ کرلیں۔

اُم المؤمنین حضرت خدیجہؓ  کا مہر

سوال:مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ’تذکارِ صحابیات‘ ﴿طالب ہاشمی﴾ میں حضرت خدیجہؓ  کا مہر پانچ سو درہم درج ہے، جب کہ اسی ادارہ سے شائع شدہ کتاب ’محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ‘میں ان کا  مہر بیس اونٹ لکھا گیاہے۔ بہ راہِ کرم مطلع فرمائیں کہ دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے اور یہ فرق کیوں ہے؟

محمدزاہد

ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی ۱۱۰۲۵

جواب: اُم المؤمنین حضرت حذیجہ بنت خویلدؓ  کے مہر کے بارے میں سیرت کی قدیم کتابوں میں دونوں طرح کے بیانات ملتے ہیں:

بعض سیرت نگاروں نے بیس نوخیز اونٹنیاں ﴿عشرین بکرۃ﴾ مہرقرار دیا ہے۔ ان میں ابن ہشام، ابن کثیر، شمس الدین ذہبی، اور سہیلی رحمہم اللہ قابل ذکر ہیں۔ بعد کے بہت سے سیرت نگاروں نے اسی کو اختیار کیاہے۔

جب کہ بعض دیگر سیرت نگاروں نے مہر کی مقدار ’’اثنتی عشرۃ اورقیۃ ونشا‘‘ قرار دی ہے۔ اوقیہ اور نشا سونے کے سکّے ہوتے تھے اور درہم چاندی کا۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتاتھا اور نشا بیس درہم کے برابر۔ اس طرح مہر کی مذکورہ مقدار پانچ سو درہم کے برابر تھی۔ اس مہر کا تذکرہ بلاذری، دمیاطی اور محب الدین طبری وغیرہ نے کیا ہے اور بعد کے بعض سیرت نگاروں نے اس کو اختیار کیاہے۔

بعض سیرت نگاروں نے دونوں بیانات میں جمع وتطبیق کی کوشش کی ہے۔ مثلاً محب الدین الطبری نے لکھا ہے: ’’دونوں بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے چچا جناب ابوطالب نے آپ کی طرف سے نقد مہر ادا کیا ہو اور آپ نے اپنی طرف سے بیس اونٹیاں مزید دی ہیں اور دونوں کا مجموعہ مہر قرار پایا ہو۔ ﴿السمط الثمین فی مناقب امہات المؤمنین، دارالحدیث القاہرۃ، ص:۲۸﴾ اور علی بن برہان الدین الحلبی نے اپنی کتاب ’السیرۃ الحلبیۃ ‘میں لکھا ہے: ’’ممکن ہے کہ بیس اونٹنیاں طے شدہ مہر کی مالیت کی ہوں اور آپ نے مہر کو نقد ادا کرنے کے بجائے اونٹنیوں کی شکل میں ادا کیا ہو۔‘‘﴿۱/۳۰۱﴾

اسی اختلاف کی بنا پر بعض جدید سیرت نگاروں نے اپنی کتابوں میں دونوں بیانات درج کردیے ہیں۔ ﴿مثلاً ملاحظہ کیجئے نساء النبی، بنت الشاطی، دارالکتاب العربی، بیروت ۱۹۷۹، ص:۴۰، زوجات الانبیاء ، وأمھّات المؤمنین، محمد علی قطب، الدارالثقافیۃ للنشرالقاہرۃ، ۲۰۰۴، ص۱۱۵، معمار انسانیت ،مولانا فضیل الرحمن ہلال عثمانی، جامعہ دارالسلام مالیر کوٹلہ پنجاب ، ۱۹۹۱، ص:۷۶﴾

عید الاضحی میں خوشی کا پہلو

سوال:عیدالاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد گار ہے، جو نصیحت کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عیدمیں خوشی کا کون سا پہلو ہے؟

جواب:اسلام میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کو خوشی کے دومواقع قرار دیاگیا ہے۔’عید‘ کے معنیٰ خوشی کے ہیں۔ احادیث میں ان کے لیے کثرت سے ’عیدین‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ عیدالاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشہور ’واقعۂ ذبح‘ کی یاد میں منائی جاتی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مختلف آزمائشوں میں مبتلا کیا، جن میں وہ پورے اُترے۔ ان میں سے ایک آزمائش بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی تھی۔ جب وہ اس آزمائش میں پورے اُترے تو اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا: وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔ الصّٰفّٰت:۱۰۷﴾ ’ذبح عظیم‘ سے مراد قربانی کی وہ سنت ہے جو اللہ تعالیٰ نے جاری کردی ہے ۔ اہل ایمان ہر سال دنیا بھر میں اپنے جانوروں کی قربانی کرکے وفاداری وجاں نثاری کے اس عظیم الشان واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔

عیدالاضحی میں خوشی کا پہلو یہی ہے کہ ہمیں اللہ کے محبوب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق حاصل ہورہی ہے۔ جانور کی گردن پر چھری پھیر کر ہم محض ایک رسم نہیں نبھاتے ، بلکہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے ایک عہد کرتے ہیں کہ ہم بھی اسی طرح تیرے ہر حکم کی تابع داری کریں گے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی اور اپنی ہر خواہش بے جا پرچھری پھیردیں گے۔ کاش ہم میں سے ہر شخص اس شعور کے ساتھ قربانی کا عمل انجام دے۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau