رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

صدقہ کے طور پر جانور ذبح کرنا

سوال: میرے چچا بہت بیمار تھے۔ انھوں نے صدقہ کے طور پر بکرا ذبح کرنا چاہا، لیکن لوگوں نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ جان کے بدلے جان نہیں لینا چاہیے۔ اگر آپ بیماری کی وجہ سے صدقہ کرناچاہتے ہیں تو مال صدقہ کردیں۔ بعض لوگوں نے کہاکہ جان کے بدلے جان لینے کا تصور ہندو مذہب میں پایا جاتا ہے ، اسلام میں یہ چیز جائز نہیں ہے۔ اس بنا پر یہ معاملہ الجھ گیا ہے اور ہمارے خاندان کے لوگ کنفیوژن کا شکار ہوگئے ہیں۔

بہ راہ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرماد یں۔ کیا مذکورہ صورت میں صدقہ کے طور پر جانور ذبح کرنا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے؟

جواب:اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تمام چیزیں انسانوں کی منفعت کے لیے پیدا کی ہیں۔ قرآن کریم میں ہے:

ھُوَالَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۔   (البقرۃ: ۲۹)

’’وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں‘‘۔

ان میں سے چوپائے بھی ہیں کہ انھیں باربرداری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَللہُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْكُلُوْنَ۔(المومن:۷۹)

’’اللہ ہی نے تمھارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں، تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھائو‘‘۔

عام حالات میں حلال جانوروں کو ذبح کرکے ان کا گوشت کھایا جاسکتا ہے اور بطور صدقہ اسے تقسیم بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پالتو جانوروں کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ یہ تمام صورتیں اسلامی شریعت میں جائز ہیں۔ کسی مناسبت سے جانور ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرنے کو ’جان کے بدلے جان لینا‘  کہہ کر اس سے روکنا صحیح نہیں ہے اور نہ اسے ہندوانہ تصور قرار دینا درست ہے۔

البتہ اگر بہ طور صدقہ جانور ذبح کیا جائے تو اس کا پورا گوشت صدقہ کرنا ضروری ہے، اس  میں سے کچھ حصہ اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔

مشترکہ خاندان میں رہائش

سوال: میں جوائنٹ فیملی میں رہتا ہوں۔ میری شادی کو دو سال ہوچکے ہیں۔ میری بیوی اور گھر کی دیگر خواتین کے درمیان کسی نہ کسی بات کو لے کر اَن بن ہوتی رہتی ہے، جس سے میری بیوی پریشان رہتی ہے اور مجھ سے الگ رہائش کے لیے کہتی ہے۔ معاشی حالات ٹھیک نہ ہونے کے سبب میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں کرپا رہوں۔ ہاں میں کرایے کے مکان میں رہ سکتا ہوں، مگر میری امی اس کے لیے راضی نہیں ہیں۔ میری رہ نمائی فرمائیں، میں کیا کروں؟

جواب:ہمارے ملک میں مشترکہ خاندانی نظام کی جو صورت رائج ہے، اس میں بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں۔ نئی نویلی دلہن سے خادم جیسا برتائو کیاجاتا ہے۔ سسر، ساس، نند، دیور اور خاندان کے دیگر افراد کی خدمت کرنا اور ان کی چھوٹی بڑی ضرورتیں پوری کرنا اس کی ذمے داری سمجھی جاتی ہے اور اس معاملے میں اگر اس سے کچھ کوتاہی ہوتو اس کو طعنے دیے جانے لگتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں جو خلوت (Privacy) مطلوب ہوتی ہے وہ بھی متاثر ہوتی ہے۔

بیوی کی ذمے داری اصلاً صرف شوہر کی خدمت ہے۔  البتہ خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ وہ اچھا برتائو کرے گی، ان کے ساتھ محبت سے پیش آئے گی اور ان سے خوش گوار تعلقات رکھے گی تو ان کی جانب سے بھی اسے محبت ملے گی اور خاندان کے تمام افراد باہم شیروشکر ہوکر رہیں گے۔اِسی طرح اگر بیوی کا معاملہ دیگر افرادِ خاندان  سے درست نہ ہوگا، یا وہ لوگ اس کے ساتھ اپنائیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو پھر ان کے درمیان اَن بن رہے گی اور گھر میں کشیدگی کی فضا قائم رہے گی۔

اگر مشترکہ خاندان میں کئی جوڑے رہتے ہوں تو کوشش کرنی چاہیے کہ ہر جوڑے کی پرائیویسی قائم رہے۔ وہ روزمرہ کے کاموں کو آپس میں اس طرح تقسیم کرلیں کہ کسی کے لیے شکایت کا موقع نہ رہے، باہمی معاملات میں محبت اور ایثار کی روش کو اپنائیں، چھوٹی موٹی شکایتوں کو نظرانداز کریں۔ لیکن اگر ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے ان میں اَن بَن رہتی ہو، ایک دوسرے سے شکایت میں اضافہ ہورہا ہو، یہاں تک کہ لڑائی جھگڑے کی نوبت آجاتی ہو تو بیوی کو الگ رہائش فراہم کرنا شوہر کی ذمے داری ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ الگ سے مکان خرید کر بیوی کو  دے، بلکہ معاشی تنگی کی صورت میں وہ اسے کرایے کا مکان فراہم کرسکتا ہے۔ مشترکہ خاندان میں رہتے ہوئے جوڑے باہم لڑتے جھگڑتے رہیں اور تنائو اور کشیدگی کے ساتھ زندگی گزاریں، اس سے بہتر ہے کہ وہ الگ الگ رہیں اور ان کے باہمی تعلقات خوش گوار رہیں۔

میرا ث کا ایک مسئلہ

سوال:ایک صاحب کا ابھی چند دنوں قبل انتقال ہوا ہے ۔ ان کے ورثاء میں ماں، بیوی، ایک بیٹی، دو حقیقی بھائی، دو حقیقی بہنیں اور ایک باپ شریک بھائی زندہ ہیں۔ والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ براہ کرم مطلع فرمائیں کہ ان کے درمیان میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب: میراث کے احکام قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان کے مطابق :

(۱) والدین میں سے ہر ایک کے لیے میراث کا چھٹا حصہ (۶؍۱) ہے،  اگر میت کی اولاد موجود ہو۔ (النساء:۱۱)

(۲) اگر میت کی اولاد ہوتو اس کی بیوی کا حصہ آٹھواں (۸؍۱) ہوگا۔ (النساء:۱۲)

(۳) اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو، بیٹا نہ ہو، تو اسے نصف  (۲؍۱)حصہ ملے گا۔ (النساء: ۱۱)

(۴)  اگر حقیقی بہنوں کے ساتھ حقیقی بھائی بھی ہوں تو ان کے لیے کوئی حصہ متعین نہیں، بلکہ اصحاب الفروض کے حصے نکالنے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان اس طرح تقسیم کیاجائے گا کہ بھائی کو بہن کا دوگنا حصہ ملے گا۔ (النساء: ۱۷۶)

(۵)  حقیقی بھائی کی موجودگی میں باپ شریک بھائی محروم ہوگا۔

اس تفصیل کی رو سے ماں کو چھٹا حصہ(۶؍۱) ، بیوی کو آٹھواں حصہ  (۸؍۱) اور بیٹی کو نصف حصہ   (۲؍۱) ملے گا۔ جو کچھ بچے گا اس کے چھ حصے کیے جائیں گے، ایک ایک حصہ ہر بہن کو اور دو دو حصے ہر بھائی کو ملیں گے۔

جنوری 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau