اذان اور دعوت میں تعلق

مفتی کلیم رحمانی

اذان کی ابتداء اورکلمات ِ اذان

آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے جب تک مکہ میں تھے، تب تک نہ اذان کی ضرورت تھی اور نہ اس کے لیے حالات ساز گار تھے، لیکن آنحضرتﷺ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے اور اہل ایمان کی بھی ایک بڑی تعداد مدینہ میں جمع ہوگئی تو اذان کی بھی ضرورت پیش آئی اور اس کے لئے حا لات بھی ساز گار ہوگئے تو پھر اذان کی ابتداء ہوئی۔ چنانچہ بخاری اور مسلم شریف کی ایک روایت میں اس ضرورت اور دقت کا تذکرہ یوں کیا گیا۔ ’’ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو شروع میں وقت کا اندازہ کرکے خود ہی نماز کے لیے آجاتے، کوئی بُلاتا نہیں تھا، ایک دن انہوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، بعض نے کہا نصاریٰ کی طرح ناقوس بنائو ، اور بعض نے کہا یہود کی طرح نرسنگہ بنائو، حضرت عمرؓ نے کہا تم ایک آدمی کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کی آواز دے ، بنیﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ، اے بلالؓ پس کھڑا ہو، اور نماز کے لئے آواز دے‘‘۔ (بخاری و مسلم)

مذکورہ روایت میں نماز کیلئے بُلانے کے متعلق ایک ضرورت کا تذکرہ کیا گیا ہے کچھ صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ جس طرح نصاریٰ لوگوں کو جمع کرنے کیلئے ناقوس بجاتے ہیں ، اسی طرح ہم بھی ناقوس بنائیں اور نماز کے وقت اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لئے جمع کریں، واضح رہے کہ ناقوس اعلان کرنے اور خبردار کرنے کا ایک آلہ تھا، جسے نصاریٰ استعمال کرتے تھے۔ کچھ صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہود لوگو ں کو جمع کرنے کیلئے ایک جانور کے سینگ سے آلہ بنا کر اس میں پھونکھتے ہیں اور اس کی آواز سے لوگ جمع ہوتے ہیں ، ہم بھی اسی طرح کا آلہ بنائیں،  اور نماز کے وقت اس میں پھونک مار کر لوگوں کو نماز کے لیے بُلائیں، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے مشورہ دیا کہ نماز کے وقت کسی کو بھیجا جائے اور وہ لوگوں میں الصلوٰۃ ، الصلوٰۃ کی آواز لگائے ، تاکہ لوگ نماز کے لئے جمع ہو جائیں ، چنانچہ آنحضورﷺ نے حضرت  عمر فاروقؓ کے مشورہ کو قبول فرما کر حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ نماز کے لیے آواز دیں۔

چنانچہ حضرت بلالؓ اذان کا باضابطہ حکم آنے تک نماز کے وقت لوگوں میں الصلوٰۃ جامعۃ، الصلوٰۃ جامعۃ کی آواز لگاتے جس سے لوگ نماز کے لئے جمع ہو جاتے، لیکن چند ہی دنوں کے بعد اذان کا باضابطہ حکم آگیا، جس کا تذکرہ مندرجہ ذیل روایت میںصراحت کے ساتھ کیا گیا ہے: ’’حضرت عبد اللہ بن زید بن عبد ربہّ سے روایت ہے جب رسول اللہﷺ نے ناقوس تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے لیے مارا جائے، مجھے ایک خواب نظر آیا وہ یہ کہ میں سویا ہوتا تھا ، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اُٹھائے ہوئے ہے،میں نے کہا ائے اللہ کے بندے کیا تو ناقوس بیچے گا اُس نے کہا تو اس کو لیکر کیا کرے گا، میں نے کہا ہم اس کے ذریعہ نماز کے لیے بُلائیں گے ، اس نے کہا ، کیا میں تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلائوں، میں نے کہا کیوں نہیں ، تو اس نے کہا تو اللہ اکبر سے لیکر اخیر تک اذان کے کلمات کہہ، اور اسی طرح اقامت بھی، میں صبح کے وقت نبی کریمﷺکے پاس آیا، اور میں نے جو خواب دیکھا تھا، بیان کیا، آپﷺ نے فرمایا، بیشک یہ ایک سچا خواب ہے اگر اللہ نے چاہا، پھر آپﷺ نے فرمایا تو بلالؓ  کے ساتھ کھڑا ہو، اور اس کو وہ کلمات بتلا جوتو نے خواب میں دیکھا ہے، پس حضرت بلالؓ نے ان کلمات کے ساتھ اذان دی تو حضرت عمر بن خطاب نے جیسے ہی اذان کے کلمات سنے وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس پہنچ گئے، اور کہا ائے اللہ کے رسولﷺ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مجھے آج رات خواب میںیہی کلمات دکھائے گئے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا، پس اللہ کے تعریف ہے، مطلب یہ کہ دو سچے خوابوں کے ذریعہ اذان کے کلمات سکھلادیئے‘‘۔(ابو دائود، ترمذی ، ابن ماجہ )

مذکورہ روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اذان کا حکم آنے سےپہلے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ نماز کے لیے بُلانے کے متعلق کس درجہ فکر مند تھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی صحیح فکر اپنے اندر پیدا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے ، چنانچہ نماز کے لیے بلانے کے متعلق آپﷺ اور صحابہ کرامؓ متفکر تھے تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ نماز کے لیے بلانے کے کلمات سکھلائے، بلکہ اسلام کی مکمل دعوت کے کلمات بھی سکھلا دیئے، اور ان کلمات کو بھی اذان کا لازمی حصہ بنا دیا گیا، ورنہ جہاں تک صرف نماز کے لیے بلانے کے کلمات کا تعلق ہے تو اذان کے پندرہ (۱۵) کلمات میں صرف دوہی کلمے ایسے ہیں جن میں براہ راست نماز کی دعوت اور نماز کا حکم ہے ، اور وہ ہیں،  حَیّ عَلیَ الصّلوٰۃ، حَیَّ عَلیَ الصَّلوٰۃ   یعنی آئو نماز کی طرف، آئو نماز کی طرف، بقیہ تمام کلمات اسلام کی عظیم اور مکمل دعوت پر مشتمل ہیں، یہی وجہ ہے کہ آنحضورﷺ نے اپنی امت کو اذان کے بعد کی جو دعا سکھلائی ہے ، اس میں اذان کو مکمل دعوت قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں حضرت جابرؓ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد مذکور ہے:’’  جس نے اذان سنا اور کہا ائے اللہ اس مکمل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب ، دے محمدﷺ کو وسیلہ اور بزرگی ، اور فائز فرما آپﷺ کو مقام محمود پر جس کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے، تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی‘‘۔ (بخاری شریف)

مذکورہ حدیث میں جو کوئی اذان دے اور اذان سنے اس کے لیے تلقین کی گئی ہے کہ وہ اذان کے بعد مذکورہ دعا پڑھے اس دعا میں خاص بات یہ ہے کہ اذان کو دین کی مکمل دعوت کہا گیا ہے، چنانچہ اذان میں جو کلمات رکھے گئے ہیں وہ اپنے اندر اسلام کی مکمل دعوت لیے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو کوئی  لَا اِلٰہَ اِلاّ اللہُ مُحّمَدُ رَسُولُ اللہِ  کا اقرار کرے وہ مکمل طور سے اسلام کو قبول کرنے والا شمار ہوتا ہے، اور اذان کے کلمات میں  لَا اِلٰہَ اِلاّ اللہُ کی گواہی بھی ہے، اور مُحّمَدُ رَسُولُ اللہِ کی گواہی بھی ہے، البتہ پورا قرآن مجید، اور نبیﷺ کی تیئس(۲۳) سالہ نبوی زندگی اسی کلمہ کا تقاضہ اور تشریح ہے، لہذا جس کو قرآن کی کسی بات سے اختلاف ہے، یا نبیﷺ کے کسی قول و عمل سے  اختلاف ہے تو وہ کلمہ کو قبول کرنے والا شمار نہیں ہوگا، بلکہ کلمہ سے اختلاف کرنے والا شمار ہوگا، اور اسلام کے کلمہ سے اختلاف کرنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا۔ ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جس نے بھی کلمہ پڑھا ہے، اب اس کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ پورے قرآن اور نبیﷺ کی پوری سیرت کا علم حاصل کرے، اگر کوئی کلمہ پڑھنے کے باوجود پورے قرآن اور نبیﷺ کی پوری سیرت کا علم حاصل نہیں کر رہا ہے تو گویا وہ کلمہ کا پورا علم حاصل نہیں کر رہا ہے ، اور اگر کوئی قرآن اور سیرت رسولﷺ سے غافل ہے تو گویا وہ اسلام کے کلمہ سے غافل ہے۔اور اذان میں یہ کلمہ تکرار کے ساتھ اسی لیے رکھا گیا ہے کہ دن میں سے پانچ مرتبہ عام انسانوں کے سامنے بھی اور مسلمانوں کے سامنے بھی اسلام کی مکمل دعوت آجائے۔اذان کے کلمات کی تشریح سے قبل مناسب ہے کہ فرمان رسولﷺ کی روشنی میں اذان کے کلمات کی ترتیب طریقہ اور تعداد بھی سامنے آجائے، چنانچہ حدیث کی مشہور و معروف کتاب، مسلم شریف کی روایت ہے ، اور اس روایت کومشکوٰۃ شریف میں نقل کیا گیا ہے:عَنْ اَبیِ مَحْذُوْرۃَ قَالَ اَلْقٰی عَلَیَّ رَسُولُ اللہِﷺ اَلتَّاْذِینَ ھُوَ بَنفسِہِ فَقَالَ قَاَلَ تَقُوْلُ اللہُ اَکبَرُ، اللہُ اکْبَر،اللہُ اَکبَرُ، اللہُ اکْبَر،اَشْھَدُاَنْ لَاّ ٓ اِلٰہُ اِلَّااللہُ،اَشْھَدُاَنْ لَاّ ٓ اِلٰہُ اِلَّااللہُ، اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ، اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ،ثُمَّ تَعُوْدُ فَتَقُولُ اَشْھَدُاَنْ لَاّ ٓ اِلٰہُ اِلَّااللہُ، اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ  اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ، اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ،حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃ،حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃ،حَیَّ عَلیَ الْفَلاح،حَیَّ عَلیَ الْفَلاح اللہُ اَکبَرُ، اللہُ اَکبَرُ لَاّ ٓ اِلٰہُ اِلَّااللہُ (رواہ مسلم)   ’’حضرت ابو محذورہؓ سے ہی ابودائود شریف اور مشکوٰۃ میں مروی ہے کہ آنحضورؐ نے انہیں سکھایا،  فَاِنْ کَانَ صَلٰوۃُ الصُّبْحِ قُلْتَ الْصَّلٰوۃ خَیرُمِنَ النَّومِ ،الْصَّلٰوۃ خَیرُمِنَ النَّومِ ۔

مذکورہ روایت کی بنا پر اذان کے انیس (۱۹) کلمات ہو جاتے ہیں ، اس لیے کہ اس میں شہاد تین کے کلمات کو چار چار مرتبہ دُہرانے کا ذکر ہے، لیکن ابودائود اور نسائی شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضورﷺ کے زمانہ میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ تھے، صرف  قدْقَامَتِ الصَّلٰوۃ،  قدْقَامَتِ الصَّلٰوۃ، دو مرتبہ تھا، جیسا کہ مروی ہے۔ عَنْ اِبْنِ عُمَرْ قَالَ کَانَ الْاَذَانُ عَلیَ عَھْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ مَرَّتَینِ مَرَّتَینِ وَ الْاِ قَامَۃُ مَرَّۃً مَرَّۃً غَیْرَاَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ قَدْ قَامَتَ الصَّلٰوۃُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ۔ (رواہ ابودائود، نسائی، دارمی ، مشکوٰۃ) شاید اسی روایت کی بناء پر دور نبوی سے لیکر آج تک تواتر کے ساتھ اذان میں شہادتیں کے کلمات دو، دو مرتبہ دُہرانے کا عمل جاری ہے۔اذان کے پندرہ کلمات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو، یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس میں سب سے زیادہ مرتبہ یعنی کل چھ مرتبہ اللہُ اَکْبَرْ کا کلمہ ہے، اور تین مرتبہ  لَاّ ٓاِلٰہُ اِلَّااللہُ  کا کلمہ ہے ، اور دومرتبہ  مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہُ   کلمہ ہے ، اور دو مرتبہ حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃ،اور دو مرتبہ حَیَّ عَلیَ الْفَلَاحِ کا کلمہ ہے۔اذان کے کلمات کی تعداد و تکرار کے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تعداد اور تکرار اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے ہے اس لیے اس تعداد و تکرار کو نہ ضرورت سے زائد کہا جا سکتا ہے اور نہ ضرورت سے کم ، بلکہ اس تعداد و تکرار کو دعوتی و تعلیمی لحاظ سے عین لازمی اور ضرورت کے مطابق کہا جا سکتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کرکے اپنی سنت کو قرآن میں یوں بیان فرمایا۔  اَفَحَسبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثاً وَ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرجَعُونَ، ( سورئہ مومنون آیت ۱۱۵) یعنی کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے؟ اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائو گے؟ مطلب یہ کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہاری پیدائش یوں ہی بے مقصد ہوئی ہے تو تم غلط سمجھتے ہو، صحیح سمجھ یہ ہے کہ ہمیں ایک مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے، اسی اصول سے یہ بات بھی واضح  ہوگئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بغیر مقصد کے پیداا نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بغیر مقصد کے کوئی حکم بھی نہیں دیا ہے، اسی اصول کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی دعا کے طور پر بھی بیان فرمایا۔ چنانچہ سورئہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے عقلمندوں کے قول و عمل کو نقل کرتے ہوئے فرمایا۔   رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَابَاطِلاً ۔ (آل عمران۱۹۱) ۔یعنی ائے ہمارے رب تو نے یہ بیکار نہیں  پیدا کیا ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس پوری کائنات میں ایک بھی چیز بیکار اور بے فائدہ پیدا نہیں ہوئی ہے، ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے پورے انسانوں کے لیے ایک بھی حکم بیکار اور بے فائدہ نہیں دیا، بلکہ اس نے تمام انسانوں کے لیے تمام احکام ایک مقصد اور فائدہ کے تحت دیئے ہیں اس لیے کسی شخص کو اگر اللہ کے کسی حکم میں نقصان نظر آرہا ہے تو یہ اس کی عقل کا نقص ہے،  لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں زیادہ تر وہی انسان عقلمند شمار ہوتے ہیں جو ناقص العقل ہیں یعنی اللہ کے احکام و ہدایات کو انسانوں کے لیے زحمت سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے احکام و ہدایات انسانوں کے لیے رحمت ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو انسان اللہ کی ہدایت کو نظر انداز کرکے شیطان کی ہدایت کی پیروی کرتا ہے تو اسے بدی نیکی معلوم ہوتی ہے اور نیکی بدی معلوم ہوتی ہے، چنانچہ آج دنیا میں زیادہ تر انسان شیطان کی اتباع و پیروی میں زندگی گذار رہے ہیں جس کی وجہ سے نیکی اور بدی کا پیمانہ بدل گیا ہے ، اور خصوصاً سیاست کے میدان میں ایسے ہی افراد انسانوں کے حکمراں اور لیڈر بنے ہوئے ہیں جو برائی کو اچھائی سمجھتے ہیں اور اچھائی کو برائی سمجھتے ہیں۔

یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر دنیا میں اسلامی حکومت کا اقتدار ہوتا تو آج کے یبستہ حکمراں یا تو جیلوں میں ہوتے یا پھانسی کے پھندوںپر ہوتے، کیونکہ ان حکمرانوں پر سینکڑوں اور ہزاروں ناحق انسانوں کے قتل کا نہ صرف یہ کہ الزام ہے بلکہ یہ اقراری مجرم ہیں، اور ان پر الزام ثابت ہے ، اور اسلام میں ناحق قتل کی سزا، قاتل کو قتل کردینا ہے، جس کو قرآن کی اصطلاح میں قصاص کہتے ہیں ، اور قصاص کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا ہے۔  وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃ یَااُولِ الْالْبَابْ (بقرہ۔ ۱۷۹) یعنی تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ائے عقل والو۔ اور اسی سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اگر قصاص نہ ہوگا تو تمہارے لیے موت و ہلاکت ہے ائے عقل والو، چنانچہ دنیا کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جب سے دنیا میں ناحق ہلاکتوں اور موتوں کا بازار گرم ہے، اور آج بھی دنیا اسلامی حکومت سے محروم ہے تو ہر طرف ظلم و قتل کا بازار گرم ہے۔ جس طرح اللہ کا کوئی حکم بے مقصد اور بے فائدہ نہیں ہے اسی طرح کسی حکم کی تعداد اور تکرار بھی بے مقصد اور بے فائدہ نہیں ہے، چنانچہ دو صحابیوں کو خواب میں اللہ کی طرف سے اذان کے کلمات کی جو تعداد و تکرار سکھلائی گئی ہے اور نبیﷺ کی زبان مبارک سے ان خوابوں کو جو سچے خواب ہونے کی سند حاصل ہوگئی ہے تو اذان کے کلمات کی تعداد اور تکرار بے فائدہ اور بے مقصد نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تعداد اور تکرار بھی ایک مقصد لیے ہوئے ہے، اور وہ یہ کہ یہ کلمہ اتنی ہی زیادہ بار توجہ کا حامل ہے۔

اذان کے متعلق سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ اسلام کی مکمل دعوت ہے، جیسا کہ اذان کے بعد کی جو دعا آنحضورﷺ سے منقول ہے اس میں اللَّھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِکے الفاظ ہیں  اے اللہ اسے اس مکمل دعوت کی حیثیت سے سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے، اذان کو صرف نماز کی دعوت و اطلاع کے طور لینا یہ اذان کے متعلق کم علمی اور کم فہمی کی بات ہے، یقینا اذان کا آغاز نماز کے لیے بُلانے کی ایک ضرورت کے غور و فکر ہی سے ہوا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اذان میں تمام انسانوں کو اسلام کی دعوت دینے کے الفاظ بھی شامل کردی ہے۔

لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان اذان کو صرف نماز کی دعوت و اطلاع کے طور پر سمجھتے ہیں ،جب کہ اس میں نماز کی دعوت و اطلاع کا صرف ایک ہی کلمہ ہے جو دو مرتبہ دُہرایا جاتا ہے اور وہ ہے ، حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃِ  یعنی آئو نماز کی طرف اذان کو محدود معنیٰ و مفہوم میں لینے کی وجہ سے آج امت مسلمہ بھی اور عام انسان بھی اذان کے پیغام سے محروم ہے، جبکہ اس میں غیر مسلموں کے لئے بھی اسلام کی عظیم اور مکمل دعوت کا پیغام موجود ہے جو تمام انسانوں کے لیے ایک رحمت ہے، لیکن ظاہر ہے جب خود مسلمان ہی اس کو صرف نماز کی دعوت و اطلاع سمجھتے ہیں تو غیر مسلم کیونکر اسے اسلام کی مکمل دعوت سمجھیں گے، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر مسلمان اذان کے کلمات کا مکمل مطلب سمجھ پائیں اور غیر مسلموں کو سمجھادیں تو دن میں سے پانچ مرتبہ ہماری اذانوں کے ذریعہ سے ان تک اسلام کی مکمل دعوت پہنچ جائیگی، اور کسی غیر مسلم کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے یہ کہنے کاموقع نہیں رہے گا کہ کسی مسلمان نے مجھ تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچائی، اور اگر اس کے باوجود کوئی غیر مسلم اللہ سے شکایت کرے کہ کسی نے مجھ کو  اسلام کی دعوت نہیں دی تو ہماری اذانیں خود اس کا جواب دیدیں گی کہ ہمارے ذریعہ سے تجھ تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی لیکن تو نے قبول نہیں کیا، لیکن اسوقت چونکہ غیر مسلم افراد اذان کے مقصد اور مطلب سے نا واقف ہیں، اس لیے وہ اللہ کے پاس شکایت کر سکتے ہیں کہ ہم تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی، مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کو اذان کا مطلب سمجھانے کا کتنا عظیم فائدہ ہے کہ مسلمانوں پر غیر مسلموں کو دعوت دین کا جو فریضہ عائد ہوتا ہے وہ ہماری اذانوں کے ذریعہ خود ہی ادا ہو جائیگا ، لیکن اس کے لیے سب سے پہلے مسلمانوں میں تفہیم اذان کی تحریک چلانی پڑیگی تب وہ تحریک  غیرمسلموں میں منتقل ہو سکتی ہے، اور اسی مقصد کے لیے یہ تحریر پیش کی جارہی ہے۔

اذان کے متعلق ایک کم علمی یہ بھی ہے کہ اس کو صرف مسجدوں سے ادا ہونے والے موذنین کے کلمات ہی سمجھ لیا گیا ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اس لیے کہ اذان کا جواب دینا واجب ہے ، اب مطلب یہ ہوا کہ اذان کے کلمات پوری امت مسلمہ کی طرف سے دن میں سے پانچ مرتبہ ادا ہونے والے کلمات قرار پاتے ہیں ، اور دوران اذان ، اذان دینے والوں اور اذان سننے والوں کی وہی صورت بنتی ہے، جو کسی مدرسہ اور مکتب میں ایک معلم اور ایک طالب علم کی بنتی ہے، مثلاً ایک معلم کسی کلاس میں اپنے طلباء کو قرآن کا کوئی جملہ پڑھاتا ہے، جیسے ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیہِ اور طلباء اس کے جواب میںیہی جملہ دہراتے ہیں، ٹھیک اسی طرح موذنین کے اذان کے کلمات کے جواب میں سننے والوں کو وہی کلمات دہرانے کی ہدایت ہے، البتہ حَیَّ عَلیَ الصَّلوٰۃ  اور  حَیَّ عَلیَ الْفَلاَح  کے جواب میں     لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ کہنے کی تلقین ہے،کیونکہ حَیَّ  عَلیَ الصَّلوٰۃ  اور  حَیَّ عَلیَ الْفَلاَح کے کلمہ کا یہی جواب بہتر ہے، اسی طرح فجر کی اذان میں الصَّلوۃُ خَیْرُ مِنَّ النَّوْم کے جواب میں قَدْ صَدَقْتَ وَ بَرَرْت کہنے کی تلقین ہے کیونکہ یہی اس کا جواب بہتر ہے۔ اذان کے ساتھ اس کے کلمات کو  دہرانے اور جواب دینے کے عمل کو رکھ کر اسلام نے ایک طرح سے پوری امت مسلمہ کو دن میں سے پانچ مرتبہ اسلام کی عظیم اور مکمل دعوت سے جُڑنے کی تلقین کی ہے ، تاکہ اس دعوت کی روشنی میں دوسری قوموں کو دعوت دینا امت  مسلمہ کے لیے آسان ہو جائے۔

لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ دین اسلام کی طرف سے اتنا زبردست نظم رکھنے کے باوجود امت مسلمہ کے بیشتر افراد اذان کے کلمات کا مطلب تک جانتے نہیں اور نہ مطلب جاننے کی طلب و جستجو رکھتے ہیں ، جبکہ وہ برسوں سے دن میں پانچ مرتبہ اذان کے کلمات کو سنتے اور دہراتے آرہے ہیں، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مسلمان اگر اذان کے کلمات کا مطلب سمجھ جائیں اور اس پر عمل پیرا ہو جائیں توان کی تعلیم و تربیت کے لیے یہی کلمات کافی ہو جائیں، یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اسلام نے اذان دینے کے عمل میں تو عورتوں کو شامل نہیں کیا لیکن اذان کا جواب دینے کے عمل میں عورتیں بھی شامل ہیں، اس لیے عورتوں کو بھی اذان کے کلمات کو دہرانا چاہیے اور اس کا جواب دینا چاہیے۔ اذان کی اس حقیقت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اذان پوری امت مسلمہ کی ایک اجتماعی آواز او ردعوت ہے، اس لیے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اذان کے پیغام کو نظر انداز کرکے زندگی گزارے۔درج ذیل میں اذان کے کلمات کا مطلب اور ان کے کچھ تقاضے پیش کئے جارہے ہیں تاکہ اذان کی حقیقت سے واقفیت حاصل ہو سکے اور اذان کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اذان کے تمام کلمات ایک طرح سے قرآن و حدیث سے نکلے ہوئے کلمات ہیں، اذان کے کلمات کو قرآن و حدیث کی تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ بھی کہا جاسکتا ہے، مطلب یہ کہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ قرآن وحدیث میں جو احکام بیان ہوئے ہیں، ان کا خلاصہ اذان کے کلمات میں بیان کردیا گیا ہے۔ یوں تو تکرار اور دہرانے کے لحاظ سے اذان کے کلمات کی تعداد پندرہ ہو جاتی ہے، لیکن اذان کے کلمات کی اصل تعداد پانچ ہی ہے، اور فجر کی اذان میں جو ایک زائد کلمہ  الصَّلٰوۃُ خَیْرُ مِّنَ النَّوم ہے اس کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد چھ ہو جاتی ہے۔ ان کلمات میں سب سے پہلا کلمہ اَللہُ اَکْبَرْ ہے ، جو اذان میں چھ مرتبہ دہرایا جاتا ہے، دوسرا کلمہ  لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ ہے، جو تین مرتبہ دہرایا جاتا ہے، تیسرا کلمہ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللہِ  ہے جو دو مرتبہ دہرایا جاتا ہے، چوتھا کلمہ حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃ ہے جو دو مرتبہ دہرایاجاتا ہے۔ پانچواں کلمہ  حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحَ  جو دو مرتبہ دہرایاجاتا ہے، اور چھٹا کلمہ الصَّلٰوۃُ خَیْرُ مِّنَ النَّوم  جو صرف فجر کی اذان کے ساتھ ہی خاص ہے، وہ بھی دو مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔

اذان کا دوسرا کلمہ ، اَشْھدُ اَنْ لّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ

اذان کا دوسرا کلمہ ، اَشْھدُ اَنْ لّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ہے،ترجمہ :( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔) اصل کلمہْ لآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ ہے لیکن اذان میں اسے گواہی کے انداز میں شامل کیا گیا ہے، اور وہ بھی مُتکّلم کے صیغہ کے ساتھ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس سے اس کا دعوتی اور اعلانی انداز او ر زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے، ویسے  لآ اِلٰہَ اِلَّااﷲ یہ قرآنی کلمہ ہے جو قرآن میں مختلف انداز سے مختلف مقامات پر آیا ہے جیسے سورئہ بقرہ میں اﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ کے الفاظ میںآیا ہے ، اسی طرح سورئہ یونس میں،  لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ کے الفاظ میں آیا ہے۔اور سورئہ صٰفّٰت کی آیت (۳۵) اور سورئہ محمد کی آیت (۱۹) میں تو  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مکمل ترتیب کے انداز میں آیا ہے۔ایک لغوی تحقیق یہ ہے کہ اِلٰہُ پر اَلِفْ لاَمْ  لگانے سے لفظ ’اللہ‘ بنا ہے اس صورت میں َاﷲُ اِسْم بَامُسَمّٰی ہو جاتا ہے ، یعنی’ اللہ‘ وہ ذاتی نام ہے ،جس میں معبود ہو نے کے معنی خود بخود شامل ہے، لیکن اللہ کے ساتھ  اِلٰہَ جوڑنے سے اس کے معبود ہونے کی صفت میں اور تاکید پیدا ہو جاتی ہے، اور مزید تاکید پیدا کرنے کے لئے اِلٰہُ سے پہلے لَاء  نفی لایا گیا ہے، جس کے معنی نہیں کے ہوتے ہیں، مطلب یہ کہ اللہ کے معبود ہونے کے اقرار سے پہلے اللہ کے علاوہ جتنے معبود ہیں ان کا انکار کرے، اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ اگر کوئی اللہ کے معبود ہونے کا اقرار کرتا ہے، اور غَیْرُ اﷲ کے معبود ہونے کا انکار نہیں کرتا ہے تو گویا اس نے اللہ کے معبود ہونے کا اقرار نہیں کیا، اس لئے اس کے ماننے کا کوئی اعتبار نہیں ہے، عربی میں اِلٰہَ  اور  اٰلِھَۃُ  ایسی ذات اور ہستی کو کہتے ہیں جو کائنات کی سب سے بڑی ہستی اور ذات ہو، اور صرف وجود اور خالق ہی کے لحاظ سے ہی بڑی نہیں ، بلکہ حاکم کے لحاظ سے بھی سب سے بڑی ہو، اور صرف حاکم ِتکوینی ہی کے لحاظ نہیں بلکہ حاکمِ تشریعی کے لحاظ سے بھی سب سے بڑی ہستی ہو، مطلب یہ کہ اللہ کو زمین و آسمان کے خالق و حاکم کی حیثیت سے ماننا ضروری ہے ۔

اسی طرح اللہ کوانسانوں کے خالق و حاکم کی حیثیت سے ماننا بھی ضروری ہے اور صرف جسمانی لحاظ سے ہی حاکم مان لینا کافی نہیں ہے ، بلکہ نظام زندگی کے متعلق بھی حاکم ماننا ضروری ہے ، اور زندگی کے تمام شعبوں میں ، دنیا کے تمام حاکموں سے سب سے بڑا حاکم ماننا ضروری ہے، اور دیکھا جائے تو اللہ کے علاوہ دراصل کسی کو حاکم بننے کا حق ہی حاصل نہیں ہے ، اللہ کے علاوہ جو بھی ہے وہ مخلوق و محکوم ہے اس لحاظ سے انسان کے لیے اللہ کا محکوم رہنے ہی میں بھلائی اور بلندی ہے، اس لیے کہ یہ عین عدل اور اصول کی بات ہے کہ کسی بڑے کی نظر میں وہی بڑے اور معزز شمار ہوتے ہیں،جو اس کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں، اس لحاظ سے اللہ کی نظر میں عام انسانوں کے مقابلہ میںانبیاء اور رسُولوں کامقام و مرتبہ اس لئے بڑا ہے کہ انھوں نے اللہ کی اتباع اور پیروی، عام انسانوں سے زیادہ کی ہیں، دنیا میں بھی عام طور سے یہی اصول چلتا ہے ، مثلاً کسی بادشاہ اور حکمراں کے نزدیک عام رعایا کے مقابلہ میں حکومت کے وزیروں اور ملازمین کا مقام و مرتبہ زیادہ ہوتا ہے۔

کیونکہ نہ صرف یہ کہ یہ بادشاہ اور حکمراں کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں ، بلکہ دوسروں کو بھی بادشاہ اور حکمراں کی اتباع کی دعوت دیتے ہیں، اور حکومت کے احکام کو عوام پر نافذ کرتے ہیں، لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان سیاست و حکومت کے معاملات میں غیر اسلامی حکمرانوں کی اتباع اور پیروی کرکے اللہ کی نظر میں معزز و مکرم بننا چاہتے ہیں تو ان نام و نہاد مسلمانوں کے سامنے بطور توجہ ایک مثال اور سوال رکھا جاتا ہے ،براہ کرم وہ اس پر غور فرمائیں، اور اپنے ایمان اور ضمیر سے پوچھ کر اس کا جواب دیں، وہ یہ کہ ایک شخص کا نگریس پارٹی کا ممبر ہے جو سیاست و حکومت کے معاملات میں اس کی مخالف پارٹی کی حمایت کرتا ہے ،کیا ؎ وہ کانگریس پارٹی کی نظر میں اونچا مقام حاصل کرسکتا ہے؟ ظاہر ہے کسی کا بھی ایمان اور ضمیر یہی کہے گا کہ وہ کانگریس کی نظر میں عزت حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ کانگریس کی مخالف پارٹی کی نظر میں عزت کا مقام حاصل کرے گا، اور کانگریس کی نظر میں منافق اور باغی شمار ہوگا۔ اذان کا دوسرا کلمہ  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  ایک طرح سے اسلام کی رکنیت میں داخل ہونے کا کلمہ ہے، جس کسی نے بھی سچے دل سے اس کلمہ کا اقرار کر لیا ہے، وہ اسلام کا رکن اور ممبر بن گیا، اگرچہ اس کلمہ کا ایک اورجز محمدرسول اللہ ہے ،اور اسلام کی رکنیت کے لیے اس کا اقرار بھی ضروری ہے ، لیکن چونکہ اذان کے کلمات میں کلمہ کے ان دو جزکو الگ الگ رکھا گیا ہے، اس لیے محمد رسول اللہ کی تفصیل اس کے بعد کے عنوان میں آئے گی۔

اذان میں  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  سے پہلے اَشْھَدُ  یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ لفظ کا اضافہ کرکے ایک طرح سے یہ بتلا دیا گیا کہ ایمان کے صحیح ہونے کے لیے صرف کلمہ کا اقرار ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس کی شہادت یعنی گواہی دینا بھی ضروری ہے،اپنے قول و عمل دونوں کے ساتھ ، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو پانچ کلموں کا نصاب تیار کیا گیا ہے، اور وہ دینی مکاتب و مدارس میں پڑھا یا بھی جاتا ہے، اس کے دوسرے کلمہ کا نام ہی کلمہ شہادت ہے، اور اس میں بھی اللہ ہی کے معبود ہونے اور محمدﷺ کے بندہ اور رسول ہونے کی گواہی ہے، گواہی کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کی سچائی کے اظہار اور اعلان کے لیے گواہی لی جاتی ہے، اور اس لیے بھی لی جاتی ہے کہ گواہی دینے والا اس سچائی پر قائم رہے، اس لحاظ سے   لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی گواہی کا تقاضہ ہے کہ اذان دینے والا اور اذان کا جواب دینے والے اس گواہی پر قائم رہیں، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ اذان دینے والا اور اذان کا جواب دینے والے  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  کے مطلب اور تقاضہ سے پورے طور پر واقف ہو ں ، ابھی زیادہ تر مسلمان  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  کے مطلب اور تقاضہ سے ناواقف ہیں، اسلئے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی مختصر و ضاحت پیش کی جارہی ہے۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یہ اسلام کا سب سے پہلا کلمۂ ہے اس کو کلمۂ توحید بھی کہتے ہیں ، کیونکہ اس میں ایک اللہ ہی کے معبود ہونے کا اقرار و اعلان ہے، اس کو کلمۂ طیبہ بھی کہتے ہیں ، کیونکہ یہ بہتر بات ہے ، بلکہ سب سے بہتر یہی بات ہے ۔

(جاری)

مشمولہ: شمارہ دسمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau