سیکولر جمہوری سماج میں داعی اور مدعو کے رشتے

محمد ضمیر رشیدی

دعوت کا عمل ہمیشہ محبت کی زمین پر اگتا ہے۔ دعوت کے لئے داعی کے اندر اپنے مدعو سے محبت و شفقت کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ داعی اپنے مدعو کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ دعوت الی اللہ سے عصمت من الناس کا فائدہ حاصل ہونا  اتنا یقینی ہے کہ وہ کسی براہِ راست کوشش کے بغیر اپنے آپ حاصل ہو سکتا ہے۔ وغیرہ۔ تاہم  ایسا بھی ہے کہ داعی گروہ مدعو گروہ سے کسی بھی قسم کا احتجاج ، شکایت  اور مطالبے کا رویہ اور معاملہ نہ رکھے۔ اس سلسلے میں کتابوں کے حوالے سے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں۔

حوالہ نمبر (1)    کتاب  : کاروانِ ملت ۔۔ صفحہ نمبر ۱۲۰

’’اگر ان سے یہ کہا جائے کہ ہندو تمھارے لیے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں اور مدعو سے مطالبہ اور احتجاج کو قرآن میں منع کیا گیا ہے، تو فوراً وہ یہ شبہ پیش کر دیں گے کہ اگر ہم مطالبے اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ دیں تو اس ملک میں ہم اپنے دستوری حقوق سے محروم ہوکر رہ جائیں گے۔ ‘‘

حوالہ نمبر (2)    کتاب  : کاروانِ ملت ۔۔ صفحہ نمبر ۱۸۷

’’ دوسری چیز جس کو فوراً ختم ہو جانا چاہیے وہ غیر مسلم اقوام کے خلاف احتجا ج اور مطالبات کی سیاست ہے۔ یہ سیاست بھی ساری دنیا میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ یہ غیر مسلم اقوام مسلمانوں کے لئے مدعو کے درجہ میں ہیں ۔ مادی مسائل کے عنوان پر ان کے خلاف ایسی مہم چلانا جس سے دونوں گروہوں میں نزاع کا ماحول پیدا ہوتا ہو سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ اس سے دعوت کی فضا ختم ہوتی ہے۔ اور دعوت کی فضا اتنی اہم چیز ہے کہ اس کو ہر قیمت پر باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ خواہ اس کو قائم کرنے کی خاطر مسلمانوں کو یکطرفہ طور پر نقصان اٹھانا پڑے۔‘‘

حوالہ نمبر (3)    کتاب  : دعوتِ اسلام  ۔۔ صفحہ نمبر ۳۴

’’ اقوامِ عالم کی عداوتوں اور سازشوں پر شکایات و احتجاج سے آخری حد تک پرہیز کیا جائے۔‘‘

حوالہ نمبر (4)    کتاب  : دعوتِ حق ۔۔ صفحہ نمبر ۳۵

’’ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان مادی مفادات کا ٹکراؤ جاری رہتا ہے۔ مگر داعی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے مدعوگروہ سے مادی چیزوں کے لئے نزاع شروع کر دے۔‘‘

بلا شبہ یہ سب غیر متعلق،غیر منطقی، بے بنیاد اور لغو باتیں ہیں۔قرآن مجید کی سورۂ الشعراء میں ایک آیت تکرار کے ساتھ آئی ہے ۔(آیت نمبر۱۰۹، ۱۲۷، ۱۴۵،۱۶۴ ؍اور ۱۸۰) جسمیں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے :

(ترجمہ ): ’’اے قوم میں تم سے نہیں مانگتا اس پر مزدوری، میری مزدوری اُس پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر کیا تم نہیں سمجھتے ‘‘۔

شیخ الاسلام حضرت مولاناشبیر احمد صاحب عثمانی  ؒ اس آیت کی تفسیرمیں فرماتے ہیں: ’’ یعنی اس قدر غبی ہو ، اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ ایک شخص بے طمع ، بے غرض محض درد مندی اور خیر خواہی سے تمھاری فلاحِ دارین کی بات کہتا ہے۔ تم اُسے دشمن اور بدخواہ سمجھ کر دست و گریباں ہوتے ہو۔‘‘

اوپر کی آیت میں اپنے مدعو یا مدعو گروہ سے اپنی دعوتی کوشش کے عوض کوئی مزدوری نہ مانگنے کی بات کہی گئی ہے۔  جس  کا مفہوم واضح ،متعین  اور صاف ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ داعی یا داعی گروہ اپنے مدعو سے دنیاوی معاملات میں بھی ایسا ہی معاملہ کریں۔ یعنی دنیا وی معاملات میں بھی کسی قسم کا مطالبہ یا حق نہ مانگیں۔

اگر اس معاملہ کو ایسا ہی سمجھ لیں تب تو ایک مسلمان ڈاکٹر ایک غیر مسلم مریض سے فیس نہیں لے سکتا۔

درحقیقت دعوتِ الی اللہ ایک خالص دینی عمل ہے۔جس کا اجر داعی کو اللہ تعالیٰ سے ملے گا مدعو سے نہیں۔مگر داعی اور مدعو کے درمیان دنیاوی معاملات اور امور ٹھیک اسی طرح طے کئے جائیں گے جس طرح وہ دنیاوی قاعدوں، ضابطوں اور معیاروں پر عام طور پر طے کیے جاتے ہیں۔

دراصل ہر ادارہ ، سوسائٹی، این جی اوز وغیرہ کا اپنا الگ الگ منشور و دستور ہوتا ہے جس کے تحت مختلف کام انجام دیے جاتے ہیں۔ مثلاً ہاوسنگ سوسائٹی کا دستور، میونسپلٹی کا دستور، کلب کا دستور وٖغیرہ ۔ ٹھیک اسی طرح کسی ملک کا بھی ایک دستور و منشور ہوتا ہے جسکے تحت عوام کی فلاح و بہبود اور راحت رسانی کے مختلف نظام عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے جاری ونافذ کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی شہری یا کسی گروہ ، جماعت ، سماج ، قبیلہ ، ذات کو دستو ر میں درج حقوق حاصل نہ ہو ں تو وہ باقاعدہ اسکے لئے شکایت و احتجاج درج کرواسکتے ہیں کہ یہ بھی اُن کا دستوری حق ہے۔

اب ایک مثال سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان بھر کے مختلف مسلم ممبران ِ پارلیمنٹ مسلمانوں کی زبوں حالی، تعلیمی پستی، معاشی کمزوری، سماجی ناانصافی کا معاملہ و موضوع پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھاتے ہیں۔ حکومت سے مختلف کمیشنوں ، کمیٹیوں کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے لئے تحریک چلاتے ہیں۔ مختلف کمیٹیوں ، کمیشنوں کی سفارشوں پر بحث کرواتے ہیں۔ سفارشوں اور تجاویزکو جاری و نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے پارلیمنٹ، اسمبلی،نوکری میں ریزرویشن اور فسادات مخالف بل وغیرہ لانے کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان بھر میں مختلف اسلامی و دینی تنظیمیں و تحریکیںقولی وعملی دعوتوں میں مصروف و سرگرم عمل ہیں۔ مثلاً اسلامی لٹریچر کی برادران وطن میں تقسیم، زلزلہ وسیلاب متاثرین کی بلاتفریق مذہب و قوم بازآبادکاری وغیرہ۔ چنانچہ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ داعی گروہ اپنے مدعو گروہ سے مطالبات واحتجاجات کا سلسلہ دراز کئے ہوئے ہے اور اپنی دعوتی سرگرمیوں کی اجرت مدعو گروہ سے مانگ رہا ہے۔ مختصر لفظوں میں یہ کہ شہری ، ریاستی وملکی انتظامات کے مطالبے خالص دنیوی نوعیت کے مسائل ہیں اور مسلمان اپنے دستوری و آئینی حقوق کا مطالبہ ٹھیک اسی طرح کر سکتے ہیں اور کریں گے۔ جتنا کوئی غیر مسلم گروہ ، طبقہ، ذات یا قبیلہ ۔

موجودہ دور میں سیکولرزم کے نام سے جمہوری طرز حکومت کا چلن ہے ۔اس نظامِ حکومت میں عوام کی حکومت ، عوام کے ذریعے، عوام کے لئے ہوتی ہے۔اس کے تحت اسٹیٹ یعنی ریاست کے سارے کام کاج غیر مذہبی طورپر انجام دیے جاتے ہیں۔ یعنی اسٹیٹ یا ریاست کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نا ہی سرکاری کام کاج میں کسی مذہب کی رعایت ، مداخلت یا مخالفت کی جاتی ہے بلکہ ریاست کی طرف سے ہرہر فرد اور قوم اور مذہبی گروہ کو مذہبی ، سیاسی، سماجی، معاشی مساوی اختیارات اور آزادی حاصل ہوتی ہے۔

اس طرز حکومت میں بندوں کو تولا نہیں جاتا بلکہ گِنا جاتا ہے۔ اس میں عوام کی اکثریت اور اتحاد فیصلہ کُن طاقت رکھتی ہے۔ اور اپنے مطالبات اور حقوق کی لڑائی کیلئے پُرامن مظاہروں ، احتجاجات اور ہڑتال وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کہ کہیں ہڑتال نہ ہوتی ہو۔ اور یہ روزانہ کا معمول کیوں نہ ہو کہ یہی ایک واحد ، یقینی اور دستوری ذریعہ ہے اپنے مطالبات کو منوانے کا۔ اس میں ہر طبقہ ، گروہ اور ذات وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے کوئی مُستثنیٰ نہیں۔ مثلاً ٹیچرس کی ہڑتال، ڈاکٹروں، نرسوں، وکیلوں اور سرکاری ملازمین کی  ہڑتال وغیرہ۔

اگر مذکورہ کتاب کے مصنف اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو بطور داعی گروہ توحید، رسالت اور آخرت کے ربانی پیغام سے تمام قوموں کو باخبر کرنے میں ہمہ تن مصروف ہونا چاہئے اور اسلام کو فکری حیثیت سے ایک معلم اور مسلّم چیز بنانا چاہئے تاکہ جس کو ماننا ہے وہ مانے اور جس کو نہیں ماننا ہے اس پر حجت قائم ہو جائے تو موصوف کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ یہ کام وہ کام ہے جس کی امید ایک مضبوط ،طاقتور اورمضبوط قوت ارادی والے داعی گروہ سے ہی کی جاسکتی ہے۔ایک کمزور ، حوصلہ شکن داعی گروہ بطور خود مدعو گروہ کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے۔ کیونکہ کمزور داعی گروہ کا مطلب ہے کمزوردعوت ۔اور مضبوط داعی گروہ کا مطلب ہے مضبوط دعوت۔ یعنی دعوتِ الی اللہ کا کام پوری آب وتاب اور شان وشوکت کے ساتھ جاری ہو جانا، یہ وہ کام ہے جس میں داعی اور مدعو دونوں گروہ کی دنیاو آخرت کی کامیابی ہے۔

جولائی 2013

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau