ہندوستان کے بعض حلقوں کی جانب سے

قرآن کریم پر کیے گئے اعتراضات کا جائزہ (1)

محمد رضی الاسلام ندوی

قرآن کریم پر اعتراضات کا سلسلہ اس کے زمانۂ نزول ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ مشرکینِ مکہ نے، جو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے، اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے۔ کبھی اسے گھڑی ہوئی کہانیاں ﴿اساطیر﴾ قرار دیا تو کبھی شعر، کہانت یا جادو کہا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد یہود کی جانب سے بھی برملا اسلام دشمنی کا اظہار ہونے لگا اور وہ بھی قرآن پر مختلف اعتراضات کرنے لگے۔ قرآن نے ان تمام اعتراضات کا مدلّل جواب دیا۔ بعد کے زمانوں میں بھی قرآن کریم پر اعتراضات و الزامات کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہردور میں اعدائے اسلام نے قرآن کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں خصوصیت سے مستشرقین (Orientalists) کا نام لیا جاسکتا ہے، جنھوں نے قرآنیات کے میدان میں اہم علمی کام انجام دیے ہیں، لیکن ان کے پس پردہ ان کی اسلام دشمنی کارفرما رہی ہے اور انھوں نے قرآن کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کرنے اور اس کی جانب بے بنیاد باتیں منسوب کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ہندوستان میں بھی اسلام کے مخالفین کی جانب سے قرآن پر اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔ آئندہ سطور میں قرآن پر ہندوستان میں کیے گئے بعض اعتراضات کا جائزہ لینا مقصود ہے۔

معترضین میں ایک نمایاں نام سوامی دیانند سرسوتی ﴿۱۸۲۴-۱۸۸۳؁ء﴾ کا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’ستیارتھ پرکاش‘ میں یہودیت اور عیسائیت پر اعتراضات کیے ہیں اورایک باب اسلام پر اعتراضات کرنے کے لیے بھی خاص کیا ہے۔ انھوں نے بہ کثرت قرآنی آیات نقل کرکے ان کے من مانے معانی و مفاہیم بتائے ہیں اور اسلام کو ظالمانہ اور غیر عقلی مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسلام اور قرآن پر بہت سے اعتراضات بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اکھل بھارت ہندو مہاسبھا نے ’دیش میں دنگے کیوں ہوتے ہیں؟‘ کے عنوان سے ایک فولڈر شائع کیا تھا، جس میں قرآن کی چوبیس ﴿۲۴﴾ آیتوں یا ان کے اجزاءکو نقل کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ قرآن مسلمانوں کو دوسرے دھرموں کے لوگوں سے جھگڑا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور کہا گیا تھا کہ جب تک ان آیتوں کو قرآن سے نکالا نہیں جاتا دیش کے دنگوں کو روکا نہیں جاسکتا۔انہی الزامات کے تحت کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور قرآن پر پابندی عائد کروانے کی کوشش کی گئی تھی، مگر فاضل ججوں نے دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے خارج کردیا۔اِن حلقوں کی جانب سے قرآن کریم کے سلسلے میں جو اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں، آئندہ سطور میں ان کا تذکرہ کرکے ان کا جائزہ لینے اور صحیح نقطۂ نظر واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

۱- لفظ ’کافر‘ کا مفہوم؟

ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ قرآن نے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے لفظ ’کافر‘ استعمال کیا ہے۔ ان میں ہندو بھی شامل ہیں۔ اس لفظ میں بغض، نفرت اور حقارت کا مفہوم شامل ہے۔ کافروں کے بارے میں قرآن میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان سے دنیا میں جس طرح کا معاملہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے او رمرنے کے بعد دوسری دنیا میں ان کے ساتھ جیسا معاملہ کیے جانے کی خبر دی گئی ہے، انھیں پڑھ کر مسلمانوں کے دلوں میں ان سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ان سے دُور رہنے اور ہر طرح کا تعلق منقطع رکھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لفظ ’کافر‘ کا یہی مفہوم ہے؟عربی زبان میں لفظ کفر کے اصل معنیٰ چھپانے اور ڈھانکنے کے ہیں۔ عربوں کے کلام میں اس مادہ سے جتنے الفاظ آئے ہیں سب میں یہ معنیٰ کسی نہ کسی شکل میں ضرور پایا جاتا ہے۔ ماہر لغت ابن درید الازدی نے لکھا ہے:

اصل الکفر التغطیۃ علی الشئ ۔﴿کفر کی اصل ہے کسی چیز کو ڈھانک لینا﴾

اسی لیے اہل عرب لفظ کافر کا اطلاق ان چیزوں پر کرتے ہیں جو کسی چیز کو ڈھانپ لیں۔ مثلاً ان کے کلام میں درج ذیل چیزوں کے لیے اس لفظ کا استعمال ملتا ہے:

رات: کہ وہ اپنی تاریکی سے تمام چیزوں کو ڈھانپ لیتی اور لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ کردیتی ہے۔

سمندر: کہ وہ بڑی سے بڑی چیز کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے۔

بڑی وادی: کہ اس میں پہنچ کر لوگ دوسروں کی نگاہوں سے چھپ جاتے ہیں۔

دریا: کہ وہ اپنے اندر چھوٹی بڑی چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔

گہرا بادل: کہ وہ ستاروں، چاند اور سورج کو چھپا لیتا ہے۔

کسان: کہ وہ زمین میں بیج ڈال کر اسے چھپا دیتا ہے۔

زِرَہ: کہ وہ فوجی کے جسم کو چھپا لیتی ہے۔

دور دراز کا علاقہ جہاں کسی کا گزر نہ ہو: کہ وہاں رہنے والے عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔﴿القاموس للفیروز آبادی﴾

اسی طرح عربی زبان میں ’کفر‘ ناشکری کے معنٰی میں بھی آتا ہے۔ اس میں بھی اس کے اصلی معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص کسی کی ناشکری کرتا ہے وہ گویا اپنے محسن کے احسان کو چھپا دیتا ہے اور اس پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ جمھرۃ اللغۃ میں ہے:

وکفر فلان النعمۃ اذا لم یشکرہا﴿فلاں نے نعمت کا کفر کیا، یعنی اس پر شکریہ ادا نہیں کیا﴾

البتہ عربی زبان میں لفظ ’کفر‘ کا غالب استعمال، اسلام وایمان کے بالمقابل ایک اصطلاح کے طور پر ہوتا ہے، ماہرین لغت نے اس کی صراحت کی ہے۔ ازدی نے لکھا ہے: الکفر ضد الاسلام۔ جوہری اور فیروزآبادی کہتے ہیں: الکفر ضد الایمان۔

قرآن کریم میں لفظ ’کفر‘ کااستعمال مختلف لغوی معانی کے لیے بھی ہوا ہے اورایمان کے بالمقابل اصطلاح کے طور پر بھی۔ ایک مقام پر وہ اصل لغوی معنیٰ ﴿چھپانے﴾ میں آیا ہے۔ دنیاوی زندگی کو لہو و لعب قرار دیتے ہوئے اس کی یہ مثال بیان کی گئی ہے:

کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہُ۔ ﴿الحدید:۲۰﴾

﴿اس کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے .﴾

اس آیت میں کسانوں کے لفظ ’کفار‘ لایا گیا ہے۔ کسان کو ’کافر‘ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھیتی کے دوران بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔بعض مقامات پر اس کا استعمال شکر کے بالمقابل ناشکری کے معنیٰ میں ہوا ہے:

فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُونِ۔ ﴿البقرۃ:۱۵۲﴾

﴿لہٰذا مجھے یاد رکھو، میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، ناشکری نہ کرو﴾

انَّا ہَدَیْنَٰہُ السَّبِیْلَ امَّا شَاکِراً وَامَّا کَفُوراً۔ ﴿الدھر:۳﴾

﴿ہم نے اسے راستہ دکھایا، اب خواہ وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا﴾

اور چوں کہ ناشکری نعمت کے انکار کو مستلزم ہے،اس لیے بعض مقامات پر یہ انکار اور برائ ت کے معنیٰ میں آیاہے:

انَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّہِ أَوْثَاناً مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُم بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُم بَعْضاً﴿العنکبوت:۲۵﴾

﴿تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنالیا ہے، مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے﴾

اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں۔ یہاں بہ طور مثال دو آیتیں درج کی جاتی ہیں :

وَمَن یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالایْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ۔ ﴿البقرۃ: ۱۰۸﴾

﴿جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا وہ راہ راست سے بھٹک گیا﴾

أفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ۔ ﴿البقرۃ: ۸۵﴾

﴿کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟﴾

مفسرین اور ماہرینِ لغت نے صراحت کی ہے کہ لفظ ’کافر‘ میں وہ تمام معانی پائے جاتے ہیں جن کے لیے اس کا عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ علامہ ابن الجوزیؒ  نے لکھا ہے: ’’لغت میں کفر کے معنیٰ چھپانے کے ہیں۔ کافر کو کافر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حق پر پردہ ڈال دیتا ہے‘‘۔ ﴿زادالمیسر:۱/۲۷۲﴾

جوہری فرماتے ہیں:’’کافر کو کافر اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احسانات کا انکار کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کو چھپا لیتاہے‘‘۔﴿تاج اللغۃ: ۱/۳۹۵﴾

ایک غلط فہمی کا ازالہ

بعض مسلمانوں کی جانب سے ایک خیال یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’ایسے ہر شخص کو جو اسلام کی اساسیات پر ایمان نہ رکھتا ہو، کافر نہیں کہا جاسکتا، یہ لفظ ’غیر مسلم‘ کے مترادف نہیں ہے۔ کافر اسی شخص کو کہا جاسکتا ہے جس تک اسلام کی دعوت پہنچائی جائے اور اس پر اتمام حجت کردی جائے، اس کے باوجود وہ اسلام قبول نہ کرے۔ اتمام حجت کے بعد بھی متعین طور پر کسی کو کافر نہیں کہا جاسکتا‘‘۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ کافر کااستعمال ایمان اور اسلام کے بالمقابل ہوا ہے۔ جو شخص بھی اللہ کے دین کو نہ مانے اور اسلامی عقائد کو تسلیم نہ کرے وہ کافر ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں لفظ کفر کی نسبت یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی طرف کی گئی ہے۔

اسلام اصولی طور پر دین حق کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان فرق کرتا ہے، تاکہ اس کے احکام کے نفاذ کے معاملے میں دونوں کے ساتھ الگ الگ برتاؤ کیا جاسکے۔ دین حق کے ماننے والوں کو ان احکام کا پابند بنایا جاسکے اور نہ ماننے والوں کو ان کی پابندی سے مستثنیٰ رکھا جاسکے۔ جہاں تک لغوی معنی کا تعلق ہے اس لفظ کے ذریعے نہ غیر مسلموں سے نفرت کا اظہارکیا گیا ہے اور نہ اس میں لغوی طور پر بغض و نفرت ، حقارت اور ذلّت کے معانی پائے جاتے ہیں۔

۲- کافروں کے بارے میں عذابِ جہنم کے بیان سے نفرت پیدا ہوتی ہے

ہندومعترضین کی جانب سے ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ قرآن میں جہنم کے عذاب کاتذکرہ تفصیل سے کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اسلام قبول نہیں کریں گے انھیں جہنم کا عذاب دیا جائے گا ، مثال کے طور پر وہ ان جیسی آیات کا حوالہ دیتے ہیں:

انَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِآیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَاراً کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنَاہُمْ جُلُوْداً غَیْرَہَا لِیَذُوقُوْا الْعَذَابَ انَّ اللّہَ کَانَ عَزِیْزاً حَکِیْماً۔ ﴿النساء: ۵۶﴾

﴿جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا ہے، انھیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے، تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے﴾

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا عَذَاباً شَدِیْداً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَسْوَأَ الَّذِیْ کَانُوا یَعْمَلُونَ. ذٰلِکَ جَزَآئُ أَعْدَآئِ اللّٰہِ النَّارُ لَہُمْ فِیْہَا دَارُ الْخُلْدِ جَزَآئً مبِمَا کَانُوا بِآیٰتِنَا یَجْحَدُونَ۔ ﴿حم السجدۃ: ۲۷-۲۸﴾

﴿ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزہ چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی۔ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کا گھر ہوگا۔ یہ ہے سزا اس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے﴾

وہ کہتے ہیں کہ ان آیات کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں غیر مسلموں کے بارے میں نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

کافروں کو آخرت میں دی جانے والی جو سزائیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ عدل و انصاف کے عین مطابق ہیں۔ یہ سزائیں اہل ایمان کے دلوں میں کافروں سے نفرت و حقارت نہیں، بلکہ ہم دردی پیدا کرتی ہیں اور انھیں آمادہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے ان بھائیوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی جدّو جہد کریں۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس دنیا میں پیدا کیا اور انھیں بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ ان کاتقاضا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے ا حکام بجالائیں۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ حقیقت میں بڑے ناشکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللّٰہِ ہُمْ یَکْفُرُونَ۔ ﴿النحل:۷۲﴾

﴿پھر کیا یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں﴾

جو لوگ اللہ کو چھوڑکر یا اس کے ساتھ دیوی دیوتاؤں کو پوجتے ہیں ،جو حقیقت میں نہ انھیں کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ، وہ اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا رویّہ بغاوت کے مترادف ہے۔ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو باغیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اس کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں۔ یہ اللہ کی نگاہ میں مجرم ہیں۔ اس نے ان کے لیے آخرت میں ایسی ہی سزائیں تجویز کر رکھی ہیں جن کے وہ مستحق ہیں:

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیٰتِہِ انَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ۔ ﴿یونس:۷۱﴾

﴿پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا، جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے، یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔ یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے﴾

یہ دنیا دارالامتحان ہے اور آخرت دارالجزاء۔ یہاں انسان جیسے کام کرے گا اس کا بدلہ آخرت میں پائے گا۔ جو لوگ دنیا میں اللہ کے باغی اور مجرم بن کر رہیں اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کریں انھیں آخرت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔ فرماں بردار اور نافرمان، اطاعت گزار اور سرکش، نیک اور مجرم دونوں کے انجام میں فرق کرنا عین تقاضائے انصاف ہے، لیکن یہ فرق آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ کرے گا۔ اس سے دنیا میں غیر مسلموں کے انسانی حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ اس سے اہل ایمان کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

۳- مشرکین نجس ہیں؟

کہا جاتا ہے کہ ہندوؤں کو قرآن میں ناپاک اور گندا کہا گیا ہے۔ اس تعبیر سے ان کے خلاف نفرت اور حقارت کا اظہار ہوتا ہے۔ معترضین کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے:

یاآَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ انَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا۔ ﴿التوبۃ:۲۸﴾

﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مشرکین نجس ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں﴾

اس آیت میں نجاست سے مراد جسمانی اور مادّی گندگی نہیں ہے، بلکہ عقیدہ کی خرابی اور شرک کی آلودگی ہے۔ اس پر مفسّرین اور علماء کا اتفاق ہے۔ امام نوویؒ  فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: مشرکین نجس ہیں۔ اس سے مراد عقیدے کی نجاست اور گندگی ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے اعضائ پیشاب پاخانہ جیسی چیزوں کی طرح نجس ہیں‘‘۔

اسلام عقیدے کے معاملے میں کوئی مداہنت اور رو، رعایت نہیں کرتا۔ وہ توحید کا عَلَم بردار اور شرک کے سخت خلاف ہے۔ اس کے نزدیک شرک ایک گندگی ہے، جس سے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے کا ذہن آلودہ ہوجاتا ہے۔ وہ اس گندگی کو ناپسند کرتا اور انسانوں کو اس سے پاک صاف رکھنا چاہتا ہے۔ اللہ کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید کے علم بردار تھے۔ انھوں نے اللہ واحد کی عبادت کے لیے خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ان کے پیرو شرک میں مبتلا ہوگئے تھے۔ وہ اللہ کی عبادت کے ساتھ متعدددیوی دیوتاؤں کی پوجا کرنے لگے تھے۔ خانۂ کعبہ کی دیواروں میں انھوں نے مورتیاں نصب کررکھی تھیں اور اس کے اندر اور مسجد حرام میں تین سو ساٹھ بت رکھ چھوڑے تھے۔ ۸ ہجری میں فتح مکہ کے بعد جب وہاں کا اقتدار توحید کے قائلین کے ہاتھ میں آیا تو یہ امر فطری تھا کہ وہ توحید کے مرکز کو مظاہر شرک سے پاک کردیں، چنانچہ فتح مکہ کے اگلے سال حج کے موقع پر اعلانِ عام کردیا گیا کہ خانۂ کعبہ اللہ کا گھر ہے اور مسجد حرام کو مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے شرک کی آلودگیوں میں مبتلا لوگوں کو آئندہ یہاں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔  ﴿جاری﴾

جون 2013

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau