قرآن مجید کے حقوق

ڈاکٹر تابش مہدی

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی ، آخری اور مکمل کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی ایک خطّے ، قریے، عہد یا رنگ ونسل کے لیے نہیں، بل کہ تمام ابناے آدم کے لیے نازل کی گئی ہے۔ ہر خطّے ، ہر قریے، ہرزمانے اور ہر رنگ و نسل کے لوگ اس کے مخاطب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں بالکل شروع ہی میں اعلان فرمادیاہے کہ یہ اُن تمام انسانوں کے لیے ہدایت ورہ نمائی کی کتاب ہے، جو اس سے ہدایت و رہ نمائی حاصل کرنا چاہیں۔ ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی بھی راستا اُسی مسافر کے لیے صحیح اور سیدھا ہوسکتا ہے، جو جاننے والوں کے بتانے یا نشان دہی کے مطابق اس پر چلے۔ اگرکسی کو مکہ مکرمہ کے راستے کی طرف رہ نمائی کی جائے، وہ اُسے چھوڑکر ترکستان کاراستا اختیارکرلے تو تاقیامت وہ مکہ مکرمہ پہنچ کر زیارتِ کعبہ سے سرفراز نہ ہوسکے گا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم کو اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرکے اپنے احکام وقوانین کی تکمیل کردی ہے۔ فرمایا:

الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الاِسْلاَمَ دِیْناً ﴿المائدہ:۳﴾

“آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیاہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے، اورتمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیاہے۔”

اِس آیت میں دین کو مکمل کردینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے فکرو عمل اور تہذیب و تمدن کاایک مکمل نظام بناکر دنیا کے تمام انسانوں کے سامنے پیش کردیاہے۔ اب کسی کو کسی بھی قسم کی ہدایت و رہ نمائی کے لیے کسی اور طرف نہیں دیکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکمیل دین، اتمامِ نعمت، فتح مبین اور فضلِ عظیم کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً oلِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہ‘‘ عَلَیْْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطاً مُّسْتَقِیْماً o وَیَنصُرَکَ اللَّہُ نَصْراً عَزِیْزاً o                                               ﴿الفتح:۱-۳﴾

“اے نبی! ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی، تاکہ اللہ تمھاری اگلی پچھلی ہرکوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تمھیں سیدھاراستا دکھائے اور تم کو زبردست نصرت بخشے۔”

ایک جگہ فرمایا:

وَأَنزَلَ اللّہُ عَلَیْْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْْکَ عَظِیْماً  ﴿النساء:۱۱۳﴾

اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایاہے، جو تمھیں معلوم نہ تھا۔ اور اس کافضل تم پر بہت ہے۔

قرآنِ مجید شفاء للناس بھی ہے۔ اِس میں انسانوں کی تمام بیماریوں کا علاج ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یَآ أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئ تْکُم مَّوْعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْن   ﴿یونس۵۷﴾

لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے، جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہ نمائی اور رحمت

قرآنِ مجید کا پیغام عالم گیر، آفاقی اور ابدی پیغام ہے۔ اِس کے صفحات ایسی آیات سے لبریز ہیں، جن سے بندگانِ الٰہی کے دلوں میں توحید کا نور روشن ہوتاہے۔ یہ آیتیں قلوب میں محبتِ الٰہی کا جوش اور عبادت و ریاضت کا ولولہ پیداکرتی ہیں۔ اِس میں نکاح، طلاق اور وراثت کے بھی احکام ہیں اور قرض و تجارت اور لین دین کے بھی۔ اس میں پڑھنے اور غور کرنے والے کو دنیا کی تخلیق، نظامِ کائنات، انسانی فطرت اور تمدن و معاشرت کابھی بیان ملے گا اور حسب ضرورت جہاد اور جنگ وجدال کابھی۔ اِس کو پڑھنے اور پھر سمجھنے اور غور و تدبر کرنے سے اللہ کی معرفت پیداہوتی ہے۔ اللہ کے جن خاص بندوں نے حسنِ تلاوت اور فہم قرآنِ مجید کا اہتمام کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فیوض سے سرفراز ہوئے۔

افسوس کہ امتِ مسلمہ اِس وقت قرآنِ مجیدکی طرف سے شدید غفلت کاشکار ہے۔ اس کو سمجھنا، اس پر غورو فکر کرنا تو دور کی بات ہے، وہ اس کی تلاوت سے بھی بے نیاز ہوگئی ہے۔ شیطان نے امت کے ایک بڑے طبقیکے ذہن میں یہ بات بیٹھادی ہے کہ قرآن کو بے سمجھے پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اِس لیے وہ یہ سوچنے لگاکہ ہے کہ ہم کو عربی تو آتی نہیں، ہم اِسے سمجھنے سے قاصر ہیں، اب ہماری یہ عمر تو رہی نہیں کہ ہم قرآن کی زبان سیکھ سکیں اور کسی کتاب کی عبارت کو بے سوچے سمجھے رٹے جانا ﴿اس کے نزدیک﴾ محض تضیع اوقات ہے۔ اِس لیے وہ قرآنِ مجیدکو ناظرہ پڑھنے اور سیکھنے کی بھی ضرورت نہیں محسوس کرتا۔ حالاں کہ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جسے محض پڑھنے اور تلاوت کرنے پر بھی دس گنااجر وثواب کاوعدہ ہے۔

قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا، اس کے معنی و مفہوم پر غورو تدبر کرنا، سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرنا، اس کی تعلیمات کو عام انسانوں تک پہنچانا، امتِ مسلمہ کے ایک ایک فرد کی ذمّے داری ہے۔ قرآنِ مجیدکا ہم پر یہ ایسا حق ہے، جس کی جواب دہی سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اس کے لیے ہر ایک کو اپنی صلاحیت، استعداد اور استطاعت کے مطابق اپنے خالق ومالک اور حاکم وبادشاہ کے سامنے مسئول ہوناپڑے گا۔ قرآنِ مجید کے علم کو فروغ دینااوراِسے اپنی زندگی کا مشن بناکر تمام ابناے آدم تک پہنچانا ہماری زندگی کے اہم فرائض میں سے ہے۔ یہ کام تحریر کے ذریعے بھی کیاجاسکتاہے اور تقریر کے ذریعے بھی۔ درس و تدریس، نجی گفتگوؤںاور عام ملاقاتی مکالموں کے ذریعے بھی۔

حقوقِ قرانِ مجید

قرآن مجید کے ہم پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں یا اس کی عظمت و بزرگی کے ہم سے جو تقاضے ہیں، انھیں ہم پانچ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

۱   شکر و قدردانی

۲    تعلیم وتلاوت

۳    اِبلاغ و ترسیل

۴   اقامت و نفاذ

۵    حفاظت وصیانت

شکرو قدردانی

شکرو قدردانی کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ایمان لاکر اس کی اہمیت کا اعتراف کیاجائے۔ ایمان میں دونوں پہلو شامل ہیں۔ باللسان بھی اور بالقلب بھی۔ قرآن مجید پر ایمان یہ ہے کہ زبان سے اس بات کا اعتراف واعلان کیاجائے کہ یہ وہ کتاب ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے مقرب فرشتے حضرت جبریل امین علیہ السلام کے ذریعے ہم تمام انسانوں کی ہدایت و رہ نمائی کے لیے نازل کی۔ اب اس کے بعد قیامت تک اللہ کی طرف سے ہدایت و رہ نمائی کا کوئی سلسلہ نہیں آئے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جامع، مکمل اور آخری کتاب ہے۔

جب کوئی انسان قرآنِ مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری اور مکمل کتاب تسلیم کرلیتا ہے تو گویا وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اب وہ مسلم یا مسلمان ہوگیا۔ لیکن اس کا یہ اعتراف و اقرار اللہ کے نزدیک محض زبانی قابلِ اعتبار نہیں ہوگا۔ اس کے نزدیک کوئی بھی انسان صحیح اور حقیقی معنوں میں ایمان والا اُسی صورت میں کہلائے گا، جب وہ اقرار باللسان کے ساتھ تصدیق بالقلب بھی کرے۔ وہ دل سے اس کی حقانیت کو تسلیم کرے۔ جب وہ زبان اور دل دونوں سے قرانِ مجیدکی حقانیت کو تسلیم کرلے گا تو قرآن مجیدکی عظمت و بزرگی اس کے دل پر نقش ہوجائے گی۔ جس طرح اس کے دل میں قرآنِ مجید کی عظمت و بزرگی میں اضافہ ہوگا، اسی طرح قرآنِ مجید پر اس کے ایمان و یقین میں بھی اضافہ ہوگا۔ پھر قرآنِ مجید کی پسند اس کی پسنداور قرآنِ مجید کی ناپسند، اس کی ناپسندکا معیار بن جائے گی۔ یہ قطعی نہ ہوگا اور نہ ہونا چاہیے کہ جس بات میں اس کے لیے سہولت ہو اُسے وہ قبول کرلے اور جس بات میں کسی قسم کی مشکل یا دشواری پیش آئے، سماج یا معاشرے کا خوف ہو اور اولاد یا اہلِ خاندان کا کسی قسم کا خسارہ سامنے آرہاہو، اُسے وہ نظرانداز کردے اور اس کی ادائی سے پہلو تہی کرے۔ مثلاً نمازوں اور روزوں کا اہتمام تو وہ کرے اس لیے کہ اس میں نہ سماج ، ملک یا اقتدار سے کسی قسم کاتصادم ہے اور نہ مال و دولت کا کوئی نقصان۔ لیکن حج و زکوٰۃ یا سماجی رسم ،رواج کے معاملے میں بے جا تاویلات کاسہارا لے۔

حاصل کلام یہ کہ قرآنِ مجید کے ہم پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کی ادائی کی پہلی اور اہم صورت یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمارے دلوں میں یہ یقین راسخ ہوکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسے ہمارے خالق ومالک اور حقیقی حاکم وبادشاہ نے ہم تمام انسانوں کی ہدایت و رہ نمائی کے لیے نازل کیاہے۔ یہ احساس ہمارے دلوں میں جاگزیں ہوتے ہی ہماری زندگی میں ایک انقلاب آجائے گا۔ ہم بہ جا طورپر اِسے اپنے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت کے طورپر دیکھیں گے۔ اِس کی تلاوت ہماری روح کی غذا بن جائے گی اور اس پر غور وفکر سے ہمارے قلوب و اذہان روشن و مجلّیٰ ہوجائیں گے۔

تعلیم وتلاوت

قرآنِ مجید کی تعلیم و تلاوت مسلمان کی بڑی اہم ذمے داری ہے۔ یہ قرآن مجید کاایسا حق ہے، جس سے سرِمو انحراف بھی شدید گھاٹے اور خسارے کی بات ہے۔ تلاوت کا لفظ صرف قرآنِ مجید کے لیے مخصوص ہے۔ قرانِ مجید کو سمجھ کر پڑھنے کو بھی تلاوت کہتے ہیں اور کسی مجبوری کی وجہ سے بے سمجھے پڑھنے کو بھی۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے، انھوں نے قرآنِ مجید کی زبان کو سیکھاہے، وہ سمجھ کر اس کی تلاوت کرتے ہیں اور اس پر غورو فکر کرتے ہیں، وہ اللہ کی طرف سے اجرعظیم کے مستحق ہیں۔ لیکن جو لوگ اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے عربی زبان نہیں سیکھ سکے ہیں، لیکن ان کے دلوں میںاس کتاب مقدس کی عظمت و توقیر جاگزیں ہے، وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ، پابندی سے، ٹھیر ٹھیر کر، صحیح مخارج کے ساتھ،تمام صفات کی رعایت کرتے ہوے اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ ان کے لیے بھی ہرحرف پر دس نیکیوں اعلان ہے۔ دنیا میں یہی ایک کتاب ایسی ہے، جس کا قاری کسی بھی حال میں اجر سے محروم نہیں رہے گا۔ البتہ یہ بات اللہ کے ہاں ضرور دیکھی جائے گی اور اِس سلسلے میں ہر انسان سے باز پرس بھی ہوگی کہ اس نے اِس کتاب عظیم کو صحیح طرح سے پڑھنے کی اور اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کی، پھر اس پر عمل کرنے کی کتنی اور کس حد تک کوشش کی۔ یہ واضح رہے کہ وہاں محض زبانی عذر نہیں چلے گا۔

قرآنِ مجید کے سلسلے میں کم سے کم ہمارے ہاں دو سطحوں پر غفلت اور کوتاہی پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو ایسے ہیں، جو محض حفظ و ناظرہ کو ہی تعلیمِ قرآنِ مجید باور کرتے ہیں۔ ایسی کوشش ان کے ہاں نہیں ملتی، جس سے قرآنِ مجید کے مفہوم کو سمجھاجاسکے۔ جب کہ کچھ لوگ ایسے ہیں، جو قرآنِ مجید کی زبان سے تو واقف ہیں، تحقیق و تدقیق کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن متن کو صحیح انداز سے نہ پڑھ پاتے ہیں اور نہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ قرآنِ مجید کے متن کو کچھ اِس انداز سے پڑھتے ہیں، گویا وہ کوئی عام سی اُردو، ہندی یا کسی دوسری علاقائی زبان کی کتاب ہے۔ نہ وہ سین، صاد اور ثا میں فرق کرتے ہیں نہ ذال، زا، ضاد اور ظا میں اور طا اور تا میں۔ حتیٰ کہ بسااوقات قاف اور کاف اور حا اور ہا میں بھی امتیاز نہیں کرتے۔ تفخیم، ترقیق، مد اور غنّے کی قدروں کو بالکل بالاے طاق رکھ دیاگیاہے۔ ستم بالاے ستم یہ کہ اِن میں بڑی تعداد علما اور معلمین تفسیر و حدیث کی ہے۔ جب ان کو اِس طرف متوجہ کیاجاتاہے تو وہ بڑی بے نیازی سے کہہ دیتے ہیں کہ اصل چیز تو فہم قرآن ہے۔ باقی چیزیں تو ’’شے مستزاد‘‘ یا ’’جبڑوں کی ورزش‘‘ کے ذیل میں آتی ہیں۔

قرآنِ مجید کی تعلیم و تلاوت کے سلسلے میں ہم پر اوّلین ذمّے داری یہ ہے کہ ہم اِسے احسن انداز میںپڑھنا سیکھیں، حروف کو صحیح مخارج سے نکالنے اور ان کی تمام صفات کے ساتھ ادا کرنے کی مشق کریں۔ کون حروف موٹے پڑھے جائیں گے اور کون باریک، اِن باتوں کو جانیں اور ان کے قاعدوں کے مطابق اِنھیں ادا کرنا سیکھیں۔ اوقاف اور وصل و فصل کے سلسلے کی معلومات حاصل کریں۔ یہ وہ علم ہے، جسے اِصطلاحاًتجوید کہاجاتاہے۔ اِس علم کے بغیر قرآنِ مجید کی صحیح و درست تلاوت کم از کم عجمیوں کے لیے ممکن نہیں ہے۔ علم تجویدکی رعایت کیے بغیر قرآن مجیدکی تلاوت کرنے کو لحن کہتے ہیں۔ لحن کی بھی دو قسمیں ہیں۔ لحن جلی اور لحن خفی۔ حرف یا حرکت کو گھٹانے، بڑھانے یا بدلنے کو لحنِ جلی کہتے ہیں۔ لحنِ جلی کے ساتھ قرآن پڑھنے کو حرام اور ناجائز بتایاگیاہے۔ اِس غلطی سے اُسی وقت بچاجاسکتا ہے، جب علم تجوید کو مقدور بھر سیکھاجائے۔ اگردوسرے بڑے اور وسیع علم کو سیکھاجاسکتاہے تو علم تجوید کو بھی بہ ہرحال سیکھاجاسکتا ہے۔ شرط توجہ او راہمیت محسوس کرنے کی ہے۔

تعلیم و تلاوت کے سلسلے کی دوسری اہم ذمے داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ ہم روزانہ قرانِ مجید کی تلاوت کا معمول بنائیں، حسب توفیق و استعداد اس کے معنیٰ و مفہوم پر غور کریں۔ اِس سلسلے میں یہ بات بھی قابلِ توجّہ ہے کہ قرآنِ مجید کے ظاہری اور باطنی دونوں آداب کا لحاظ رکھاجائے۔ ظاہری وباطنی آداب کامطلب یہ ہے کہ باوضو تلاوت کی جائے۔ ممکن ہو تو قبلہ رو ہوکر تلاوت کی جائے۔ شروع کرنے سے پہلے استعاذہ کریں، اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیم ﴿میں اللہ کی پناہ مانگتاہوں شیطانِ مردود سے﴾ یا استعاذے کے جو کلمات یاد ہوں انھیںپڑھیں۔جس مقام سے تلاوت شروع کی جانی ہے، اگر وہاں سے سورۃ بھی شروع ہورہی ہو تو استعاذہ کے ساتھ بسملہ بھی کریں، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ ضرور پڑھیں۔ جس وقت تلاوت کی جائے دل میں کلام وصاحبِ کلام کی عظمت و بزرگی کا استحضار ہو۔ انابت اور رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا کی جائے۔ اگر مفہوم سمجھنے پر قدرت ہے تو جو کچھ پڑھنا ہے، اس پر عمل کی بھی نیت ہو۔قرآنِ مجید کو بازیچۂ تحقیق نہ بنایاجائے۔ کم از کم غیرعلما طبقے کو چاہیے کہ اسلاف نے احادیثِ و تفاسیر کی روشنی میں جو تشریح کردی ہے یا جو مفہوم متعین کردیاہے،وہ اسی پر اعتمادکرے۔ نکتہ آفرینی کی کوشش نہ کرے۔اس سلسلے کی ایک بات اور قابلِ لحاظ ہے وہ یہ کہ قرآن مجید کا نام جب بھی لیاجائے اس کی کسی صفت کے ساتھ لیاجائے۔ مثلاً قرآن مجید، قرآن حکیم، قرآن کریم اور قرآن عزیز وغیرہ۔ خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی اس کاذکر کیا ہے بالعموم کسی صفت کے ساتھ کیا ہے۔ ’’مطلقاًقرآن‘‘ نام لینے کو فتوے کی رو سے غلط نہیں قرار دیاجاسکتا تاہم ادب وآداب کی بھی اپنی ایک حیثیت ہے۔

تلاوتِ قرآنِ مجید کے ذیل میں ایک منصوص اصطلاح ترتیل کی ہے۔ ترتیل کی اعلیٰ اور بہترین صورت یہ ہے کہ اِسے نمازوں میں تہجد میں یا دوسرے اوقات کی نمازوں میں اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر، ہاتھ باندھ کر، انتہائی سکون و اطمینان سے پورے استحضار اور حضورِقلب کے ساتھ پڑھاجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو محاطب کرکے فرمایاہے:

یَآ أَیُّہَا الْمُزَّمِّل oقُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلاًo نِصْفَہ‘‘ٓ أَوِ انقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً o أَوْ زِدْ عَلَیْْہِ وَرَتِّلِ الْقُراٰ نَ تَرْتِیْلاً o                       ﴿المزمل:۱-۴﴾

“اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے، رات کو نماز میں کھڑے رہاکرو، مگر کم، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھادو اور قرآن کو خوب ٹھیرٹھیر کر پڑھو۔”

ظاہر ہے کہ یہ تلاوت ایسی ہے، جو عام انسانوں خصوصاً عجمیوں کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جو آسان اور قابلِ عمل صورت ہو اسی کو اختیار کیاجائے۔

قرآنِ مجید کو مکمل یا اس کاکچھ حصہ یادکرنا بھی قرآنی حقوق میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں حفظِ قرآنِ مجید کی روایت کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔ بعض حلقوں میں تو حفاظِ قرآن مجیدتراویح کے لیے بھی بہ مشکل مل پاتے ہیں۔ وہاں اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں محسوس کی جاتی۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کی استعداد اور صلاحیت کے مطابق ان کے لیے حفظ کا اہتمام کریں۔ اگر کسی وجہ سے تکمیل نہ ہوسکے تو کم از کم کچھ حصّہ تو ضرور انھیں حفظ کرائیں۔

ابلاغ و ترسیل

قرآنِ مجید کا ہم پر تیسرا حق ابلاغ و ترسیل ہے۔ اِبلاغ اور ترسیل دونوں الفاظ ہم معنیٰ ہیں۔ ان کو بھیجنے اور پہنچانے کے معنیٰ میں استعمال کیاجاتاہے۔ قرآنِ مجید کاہم پر یہ بڑا حق ہے کہ ہم اُسے پڑھیں اور اس پر غورو تدبر بھی کریں اور اس میں انسانوں کے لیے جو ہدایات اور احکام ہیں، انھیںاللہ کے دوسرے بندوں تک بھی پہنچائیں۔ اِس کے لیے مسلم یا غیرمسلم کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ ہم پر ایک ایسا حق ہے، جس سے ہم کسی لمحہ غفلت نہیں برت سکتے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی صلاحیت، استعداد اور استطاعت کے مطابق جہاں اور جس حد تک ممکن ہواِسے ادا کرناہے۔

یہاں یہ بات خصوصیت کے ساتھ پیش نظر رہنی چاہیے کہ تدبر ،تذکر اور اِبلاغ بالقرآن ہرمسلمان پرقرآن مجید کا بنیادی حق ہے۔ لیکن چوں کہ قرآنِ مجید کی زبان عربی ہے، اِس لیے اس حق کو ادا کرنے کے لیے عربی زبان کا بنیادی علم ناگزیر ہے۔ قرآنِ مجید کے کسی مترجَم نسخے کی مدد سے یہ کام نہیں کیاجاسکتا۔ اِس سلسلے میں میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عربی زبان کی اتنی استعداد پیداکرنا ہر مسلمان کے لیے فرض عین کادرجہ رکھتا ہے کہ وہ کم سے کم قرآنِ مجید کے متن کی تلاوت کے وقت اس کے عمومی مفہوم کو سمجھ سکے۔ جس وقت وہ تلاوتِ قرآن مجید کررہا ہو، اس پر یہ بات منکشف ہوتی رہے کہ اِس وقت وہ کیا پڑھ رہاہے یا اس کے لیے قرآنِ مجید کا کیا پیام ہے۔ اگر ایسانہیں ہے تو وہ سخت خسارے میں ہے۔ اگر کوئی معمولی پڑھا لکھا شخص بھی دل سے یہ بات ٹھان لے کہ اُسے عربی زبان کی اتنی استعداد اپنے اندر پیدا کرنی ہے کہ بادی النظر میں زیرتلاوت آیتوں کا مفہوم و مطلب وہ سمجھ سکے تو دیر سویر کام یابی یقینی ہے۔

اِقامت و نفاذ

شکر و قدر دانی، تعلیم و تلاوت اور ابلاغ و ترسیل کے بعد ہم پر قرآنِ مجید کاچوتھا اہم حق اقامت و نفاذ ہے۔ ابلاغ وترسیل اور اقامت و نفاذ دونوں باہم لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآنِ مجید کے احکام و تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنا، جن کاموں کے کرنے کاحکم دیاگیاہے، ان کو پھیلانا، تمام انسانوں تک پہنچانا اور جن کاموں سے روکاگیاہے، ان سے بچنے کی تلقین کرنا، بل کہ انھیں سماج یا معاشرے سے ختم کرنے کی آخری حد تک کوشش کرناہرمسلمان کی ذمے داری ہے۔ اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔

قرآنِ مجید کو سمجھنے اور اس کے معنیٰ و مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کااصل مقصدیہی ہے کہ جو کچھ پڑھایا سمجھاجائے، اس پر عمل کیاجائے۔ اس کی تعلیمات کی خیرو برکت انسانی معاشرے پر اُسی وقت ظاہر ہوسکے گی، جب ہم اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کے لیے تیار کریں۔ ہمارے ہادی و رہبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قرآنِ مجید کے احکام وتعلیمات پر چل کر دکھایا، اس کے بعد آپﷺ کے تربیت یافتہ اصحاب کرامؓ نے ان احکام و تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں شامل کیا اور ان پر عمل کرکے دکھایا۔ ان کی پوری زندگی قرآنی احکام و تعلیمات کاآئینہ ہے۔

رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کی پوری زندگی ہمارے لیے مثالی اور نمونہ ہے۔ وہ جب قرآنِ مجید پڑھتے یا سنتے تھے تو اس پر عمل کرنے کے لیے بے چین ہوجاتے تھے۔ جب قرانِ مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّیٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون              ﴿آل عمران:۹۳﴾

’’تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی وہ چیزیں﴿اللہ کی راہ میں﴾ خرچ نہ کرو، جنھیں تم عزیز رکھتے ہو۔‘‘

تو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت یکے بعد دیگرے خدمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئی۔ کسی نے کہا: یا اللہ کے رسول! مجھے اپنافلاں مال سب سے زیادہ عزیز ہے، میں اُسے اللہ کی راہ میں پیش کرنا چاہتاہوں، کسی نے کہا: یارسول اللہ(ص)! میرا فلاں باغ مجھے بے حد عزیز ہے، میں اُسے اللہ کی راہ میں دیناچاہتاہوں، کسی نے کہا: میرا فلاں اونٹ مجھے عزیز ہے، میں اُسے اللہ کی راہ میں دیناچاہتاہوں۔ غرض کہ جس کے پاس جو چیز ایسی تھی، جو اُسے اپنی ضرورت کی وجہ سے عزیز تھی، اس نے اُسے اللہ کی راہ میں پیش کردیا۔ ایک صحابی حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوںنے اپنا بیروں کاباغ اللہ کی راہ میں پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُسے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں میں تقسیم کردو۔ جب قرآنِ مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

مَّن ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضَاعِفَہ أَضْعَافاً کَثِیْرَۃً ﴿البقرہ:۲۴۵﴾

’’تم میں کون ہے، جو اللہ کو قرض حسن دے۔تاکہ اللہ اُسے کئی گناہ بڑھاچڑھاکر واپس کرے۔‘‘

تو ایک صحابی رسول حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ خدمتِ رسول میں حاضر ہوے۔ دریافت کیا: یا اللہ کے رسول! کیا اللہ ہم سے قرض طلب کررہاہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں اے ابودحداح! اللہ اپنے بندوں سے قرض طلب کررہاہے۔‘‘ ابودحداح تڑپ اُٹھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں اقرار کررہاہوں کہ میں اپنے رب کو اپنا باغ قرض دے رہاہوں۔‘‘ حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ نے جو باغ دینے کا اقرار کیاتھا، اس میں کھجور کے کئی سو درخت تھے۔ اُسی باغ میں ان کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ اس اقرار کے بعد حضرت ابودحداحؓ نے باغ کے کنارے کھڑے ہوکر اپنی بیوی کو پکارا۔ کہا: اے اُمِّ دحداح! اب باغ سے باہر نکل آئو، میں نے یہ باغ اپنے رب کو دے دیاہے۔

احادیث وسیرمیں اس طرح کے بے شمار واقعات ملتے ہیں کہ جب کوئی ایسی آیت نازل ہوئی ، جس میں بندوں سے کسی قسم کامطالبہ کیاگیایا کسی بات سے روکاگیاتھا تو صحابہ کرامؓ نے بے چون و چرا اپنی حیثیت، استطاعت اور گنجایش کے مطابق اس پرلبیک کہا۔ اس رویّے کے لیے قرآنِ مجید کی اقامت و نفاذ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

حفاظت و صیانت

قرآنِ مجید کاہم پر پانچواں حق اس کی حفاظت و صیانت ہے۔ یہ اس کا بڑا اہم اور بنیادی حق ہے۔ اِس کی اہمیت کااندازہ اس بات سے بھی کیاجاسکتا ہے کہ خود اِس کو نازل کرنے والے نے اِس کی حفاظت و صیانت کی ذمّے داری لی ہے۔ فرمایا:

انَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ‘‘ لَحَافِظُونَ﴿الحجر:۹﴾

’’رہا یہ ذکر ﴿قرآنِ مجید﴾ تو اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔‘‘

اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بہت واضح اور دو ٹوک انداز میں بتایاہے کہ اِس کتاب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارنے والے ہم ہیں۔ ہم نے ہی اس کی ہر قسم کی حفاظت کاذمّہ لیاہے۔ یہ کتاب جس شان اور عظمت کے ساتھ نازل کی گئی ہے، اسی شان اور عظمت کے ساتھ کسی بھی تبدیلی اور لفظی و معنوی تحریف کے بغیر یہ قیامت تک محفوظ رہے گی۔ زمانہ خواہ کوئی بھی رخ اختیار کرلے اور دنیا میں چاہے جتنا بگاڑ آجائے اِس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔ یہ جو آج دنیامیں قرآنِ مجید کو مختلف پہلوئوں سے سیکھنے سکھانے اور پھیلانے کی کوششیں ہورہی ہیں، یہ سب اِسی حفاظتی ذمّے داری کا مظہرہیں۔

یہ تو صحیح ہے کہ ہر زمانے میں اعداے اسلام نے قرآنِ مجید میں اپنے اپنے انداز سے رد و بدل کرنے کی کوششیں کیں، اس کے پیغام کو خلط ملط یامبہم و مہمل بنانے کی مہمیں چلائیں، کبھی اس کے مفہوم پر حملہ کیا کبھی بے جا نکتہ آفرینی کاماحول بنایااور کبھی حرف کو بگاڑنے کی کوشش کی، لیکن انھیں کام یابی نہ ہوسکی اور وہ تاقیامت ناکام ہی رہیںگے۔ اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت و صیانت کی ذمّے داری لی ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور میں علمائ کی ایک بڑی تعداد قرآن مجید کے علوم و مفاہیم کو پھیلانے میں مصروف رہی ہے، قرأ و مجودین نے صحت مخارج اور طرز ادا کے ذریعے اس کی خدمت انجام دی اور حفاظ کرام نے حفظ کے ذریعے اس کی حفاظت کا کام کیا۔ یہ بات ہمارے مشاہدے میں آئے دن آتی رہتی ہے کہ چھے چھے اور سات سات سال کے بچے کامل صحتِ حروف،کسی زبر، زیر، پیش، جزم، تشدید حتیّٰ کہ کسی ایک نقطے کے فرق کے بغیر اپنے سینوں میں پورا قرآنِ مجید محفوظ کیے ہوے ہیں۔

یہ امتِ مسلمہ کے ایک ایک فرد کی ذمّے داری ہے کہ وہ قلم، کاغذ، تقریر، تحریر، حفظ ، قرأت، سماعت جس طرح بھی ممکن ہو قرآن مجید کی حفاظت و صیانت کے خدائی مشن میں حصہ لے۔ قرآنی تعلیمات پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی اس کے لیے تیار کرے۔

خلاصۂ کلام یہ کہ قرآنِ مجید اللہ کی سب سے بڑی اور آخری کتاب ہے۔ یہ دنیا کے تمام انسانوں کی خیرو فلاح کے لیے نازل کی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے، جس کا کوئی بھی بدل دنیا میں نہیں ہوسکتا۔یہ سراپا نور اور روشنی ہے۔ لہٰذا ہم پر اس کاحق ہے کہ ہم اس کے ساتھ شکر و قدر دانی کامعامللہ کریں، اس کی تعلیم و تلاوت کااہتمام کریں، اس کے ابلاغ و ترسیل اور اقامت و نفاذ کے لیے زندگی کے آخری سانس تک ساعی وکوشاں رہیں اور اس کی حفاظت و صیانت کے کام کو اپنی زندگی کا مشن بنالیں۔ اِسی پر ہماری ، آپ کی اور پوری دنیا کے انسانوں کی فلاح و کام رانی اور عزت و سرخ روئی کاانحصار ہے۔‘‘

مئی 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau