بچوں کے بڑھتے جرائم: ذمے دار کون؟

دنیا کے بیشتر معاشروں میں آج ایک افسوسناک منظر ابھر رہا ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے، جو کل کے معمارِ ہیں، آج جرائم کی دنیا میں قدم رکھ کر تخریب کار بن رہے ہیں۔ بچوں میں قتل، چوری، شراب نوشی، منشیات، لڑائی جھگڑے، اور ’’بچہ گینگ‘‘ جیسے خطرناک رجحانات تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

اس عمر کا حق تو یہ ہے کہ ہاتھوں میں کتاب و قلم ہو، زبان پر خیر کی باتیں ہوں، ذہن اختراعی و تخلیقی کاموں میں مصروف ہو، مگر افسوس! عمر کا یہ قیمتی حصہ جرائم کی نذر ہورہا ہے۔

سوال یہ ہے:  ان بچوں کے انحراف کا ذمہ دار کون ہے؟ اور ان کی اصلاح کا راستہ کیا ہے؟

موجودہ معاشرے میں بچوں کے جرائم کی اقسام

آج کے دور میں جب مادّی ترقی اپنے عروج پر ہے، اخلاقی زوال اور تربیتی خلا بھی اسی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً کم عمر بچے اور نو عمر نوجوان ایسے جرائم میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں جن کا تصور ماضی میں صرف بڑے مجرموں سے کیا جاتا تھا۔ ذیل میں ان جرائم کی چند نمایاں اقسام اور ان کی تفصیل پیش کی جاتی ہے:

تشدد: معمولی بات پر جان لے لینے کے درپے ہوجانا

بچوں اور نوجوانوں میں غصہ، ضد اور برداشت کی کمی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اکثر معمولی جھگڑوں پر — جیسے کھیل کے دوران ہار جانا، کسی دوست کا مذاق اڑا دینا، یا موبائل چھین لینا — بات بہت بڑھ جاتی ہے اور بعض اوقات نوبت اقدام قتل تک پہنچ جاتی ہے. میڈیا پر ایسے افسوسناک واقعات بارہا سامنے آتے ہیں کہ 14 یا 15 سالہ بچے نے اپنے ہم عمر کو معمولی رنجش میں چاقو سے مار ڈالا۔ اس کی بنیادی وجہ گھریلو ماحول میں سختی، تشدد پر مبنی فلموں اور ڈراموں کا اثر، اور صالح تربیت کی کمی ہے۔

چوری و ڈاکہ زنی: عیش پرستی یا دباؤ کے تحت

آج کے دور میں خواہشات کا سیلاب بچوں تک پہنچ چکا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ہم عمر مہنگے موبائل، برانڈڈ کپڑے یا لگژری سامان استعمال کرتے ہیں، تو وہ بھی اسی دوڑ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اگر والدین ان خواہشات کو پورا نہ کرسکیں، تو بعض بچے دکانوں سے سامان چرانے یا گھر سے رقم غائب کرنے جیسے چوری کے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات معاشی دباؤ یا گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے بھی وہ جرم کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ گھر والوں کی طرف سے چھوٹ ان کے حوصلے بڑھاتی ہے۔

نشہ آور اشیاء کا استعمال: گٹکا، شراب، سگریٹ، نشہ آور گولیاں

یہ جرم دراصل کئی دوسرے جرائم کی جڑ ہے۔ ابتدا میں بچے تجسس یا دوستوں کے دباؤ میں آ کر گٹکا، سگریٹ، یا نشہ آور گولیاں آزمانے لگتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہ عادت نشے میں بدل جاتی ہے، جو جسمانی و ذہنی تباہی کا باعث بنتی ہے۔یہ بچے اکثر چوری، جھوٹ، مار پیٹ، حتیٰ کہ بدکاری تک پہنچ جاتے ہیں۔

گینگ کلچر: دوستوں کے دباؤ میں بدمعاشی کا شوق

یہ رجحان خاص طور پر شہروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان دوستوں کے گروہ بنا کر “بدمعاشی“، “روڈ پر راج“ یا “ایریا پاور“ کے نام پر دوسرے بچوں کو ڈرانے دھمکانے لگتے ہیں۔انہیں یہ سب ” ہیرو بننے “ یا” طاقت دکھانے “کا ذریعہ لگتا ہے، مگر رفتہ رفتہ یہی گروہ اسلحہ، چوری اور تشدد جیسے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یہی گینگ کلچر بعد میں بڑے جرائم پیشہ گروہوں کی بنیاد بن جاتا ہے۔

 انٹرنیٹ اور موبائل جرائم: فحاشی، سائبر بلیک میلنگ، گیم کی لت

جدید ٹیکنالوجی نے جہاں علم کے دروازے کھولے ہیں، وہیں فتنوں کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ چھوٹے بچے اور نوجوان اکثر فحش ویب سائٹیں، ویڈیو، یا چیٹنگ ایپ کے ذریعے فحش کاموں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کچھ بچے دوسروں کی تصاویر یا ویڈیو چوری کر کے سائبر بلیک میلنگ کرتے ہیں، جس کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ مختلف گیم جیسے “PUBG”، “Free Fire” یا “BGMI” نے بچوں کو تشدد، قتل اور ورچوئل دنیا کے نشے میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ سب ان کی تعلیم، کردار اور عبادت سے دوری کا سبب بنتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں بد مزاجی: گستاخی اور تشدد

اسکول، کالج اور مدرسے بچوں کی شخصیت سازی کے مراکز ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ آج وہ بھی بدتمیزی، گستاخی اور تشدد کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کے ساتھ بدکلامی، دوستوں کے ساتھ لڑائی اور ریگنگ کلچر نے تعلیم کے ماحول کو متاثر کر دیا ہے۔ کئی بار طلبہ گروپوں کے درمیان جھگڑے خونریزی تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سب اخلاقی تربیت کے زوال، والدین کی غفلت اور میڈیا کے غلط اثرات کا شاخسانہ ہے۔

مذکورہ جرائم کے بنیادی اسباب

والدین کی تربیتی غفلت

گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے اور والدین اس کے پہلے استاد۔ بچہ جو دیکھتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔ اگر والدین نماز چھوڑنے والے ہوں، جھوٹ بولنے والے ہوں، ایک دوسرے سے جھگڑنے والے ہوں، یا موبائل میں مگن رہنے والے ہوں، تو وہ ناسمجھ بچہ انہی سب باتوں کو اپنا نمونہ سمجھ لیتا ہے۔ جب والدین بچوں کو وقت نہیں دیتے، ان کی بات نہیں سنتے، ان کی دوستیوں پر نظر نہیں رکھتے، تو وہ خود بخود باہر کی دنیا سے سیکھنے لگتے ہیں اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب شیطان ان کے ذہن میں غلط باتیں بٹھا دیتا ہے۔

قرآن کا حکم ہے:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِیكُمْ نَارًا(التحریم: 6)

“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ۔“

یعنی صرف اپنی نیکی کافی نہیں، بلکہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی نیکی کی راہ پر لانا والدین کی ذمہ داری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کُلُّكُم راعٍ وَكُلُّكُم مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیتِهِ (بخاری و مسلم)

“تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“

جب والدین اپنی تربیتی ذمہ داری سے غافل ہو جائیں، تو بچوں کے بگڑنے کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے۔

ماحول اور بری صحبت

بچے پر سب سے زیادہ اثر ماحول اور دوستوں کا ہوتا ہے۔ اچھی صحبت نیک بناتی ہے، اور بری صحبت تباہ کر دیتی ہے۔

اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:

اَلْمَرْءُ عَلَى دِینِ خَلِیلِهِ، فَلْینْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ یخَالِل( ابی داود)

“آدمی اپنے دوست کے دین (طور طریقے) پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص دیکھے کہ کس کو اپنا دوست بنا رہا ہے۔ “

یعنی انسان کی صحبت (دوستی اور میل جول) اس کے کردار، ایمان، اور اخلاق پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

اچھے اور برے ساتھی کی مثال بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِیسِ الصَّالِحِ وَالجَلِیسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِیرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ إِمَّا أَنْ یحْذِیكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِیحًا طَیبَةً، وَنَافِخُ الكِیرِ إِمَّا أَنْ یحْرِقَ ثِیابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیحًا خَبِیثَةً(بخاری و مسلم)

“اچھے اور برے ساتھی کی مثال مشک (خوشبو) بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ خوشبو والا یا تو تمہیں خوشبو دے دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں اس کی خوشبو ضرور آئے گی۔ اور لوہار کی بھٹی پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تم اس کی بدبو اپنے اندر لے لو گے۔“

اگر بچہ روز اسکول یا محلے میں جھوٹ بولنے والوں، بدتمیز یا شرارتی لڑکوں کے ساتھ وقت گزارے گا، تو ظاہر ہے وہ انہی کی طرح بن جائے گا، کیونکہ بری صحبت کا اثر دھیرے دھیرے دل پر چھا جاتا ہے، یہاں تک کہ نیک تربیت بھی کمزور پڑجاتی ہے۔

اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی دوستیوں پر نظر رکھیں، ان کے حلقۂ احباب کو جانیں اور انہیں ایسے ساتھیوں سے بچائیں جو بگاڑ کا سبب بنیں۔

میڈیا اور انٹرنیٹ کا زہر

آج کے دور میں میڈیا بچے کا سب سے بڑا استاد بن چکا ہے — مگر افسوس، یہ استاد اکثر بدترین رہنمائی کرتا ہے۔ٹی وی، فلمیں، کارٹون، یوٹیوب، گیم، سب میں تشدد، فحاشی، بغاوت اور گستاخی کے مناظر عام ہیں۔

چھوٹے بچے ”ہیرو“سمجھ کر انہی کرداروں کی نقل کرتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ فلم کا کردار جھوٹ بول کر کامیاب ہوا، مار پیٹ سے جیتا یا بڑوں کی بات کا مذاق اڑا کر ہیرو بنا تو وہی طرزِ عمل ان کے ذہن میں نقش ہوجاتا ہے۔

قرآن کہتا ہے: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ، كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا (الإسراء: 36)

“بے شک کان، آنکھ اور دل — سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“

یعنی ہم جو سنتے اور دیکھتے ہیں، اس کے اثرات کے لیے بھی جواب دہ ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ بچوں کے اندر اپنے حواس کے سلسلے میں احساس ذمہ داری پروان چڑھائیں اور ان کے دیکھنے، سننے اور استعمال کرنے والی چیزوں پر مکمل نگرانی رکھیں۔

اخلاقی و دینی شعور کا فقدان

جب تعلیم صرف دنیاوی کامیابی کے گرد گھومنے لگے اور دین، اخلاق، اور کردار تعلیم سے غائب ہو جائیں، تو نسلیں ظاہری طور پر ترقی یافتہ مگر باطنی طور پر کھوکھلی بن جاتی ہیں۔ بچوں کو قرآن کی آیات (مفہوم کے ساتھ) یاد کرائے بغیر، نبی ﷺ کی سیرت سکھائے بغیر، صرف کتابی علم دینے سے وہ “دنیوی عقل مند” تو بن سکتے ہیں، “نیک” نہیں۔ اسلام نے علم کو عبادت قرار دیا، مگر اس علم کی بنیاد “تقویٰ” ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:

إِنَّمَا یخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر: 28)

“اللہ سے تو بس وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔“

حقیقی علم وہی ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرے، مگر آج جب اسکولوں اور کالجوں سے یہ پہلو مفقود ہو چکا ہے، تو بچوں کے ذہنوں سے صحیح و غلط کا معیار مٹتا جاتا ہے اور وہ جرم و برائی کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔

سماجی ناہمواری

جب غربت بچوں کے ذہنوں میں احساسِ محرومی پیدا کرتی ہے، تو وہ غلط راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ جب ایک بچہ دیکھتا ہے کہ دوسرے کے پاس نئی چیزیں ہیں اور اس کے پاس کچھ نہیں، تو وہ حسد یا غصے میں چوری، جھوٹ یا فراڈ کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔ اسلام نے غریبوں کے ساتھ انصاف، ہمدردی اور مدد کا حکم دیا ہے، تاکہ یہ معاشرتی فرق جرم کا باعث نہ بنے۔

لہٰذا حکومت، سماج، اور اہلِ ثروت کا فرض ہے کہ وہ نئی نسل کو احساسِ محرومی سے بچانے کی کوشش کریں۔ محروم طبقے کے بچوں کے لیے تعلیم، روزگار اور تربیت کے مواقع پیدا کریں۔ ورنہ یہی بچے کل معاشرے کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔

معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری

اسلام نے انسان کو صرف اپنی ذات تک محدود رہنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، خیرخواہی اور اصلاحِ معاشرہ کا نظام قائم کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک اسلامی معاشرہ صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰة پر نہیں بلکہ باہمی محبت، عدل، انصاف، اور “تعاون علی البر والتقویٰ” پر قائم ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ: 2)

“اور نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی پر باہم تعاون نہ کرو۔“

یہ آیتِ مبارکہ ہمیں ایک عظیم اصول سکھاتی ہے کہ اسلامی معاشرہ تبھی سلامت رہ سکتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کے خیرخواہ بنیں، برائی کو دیکھ کر خاموش نہ رہیں، بلکہ اصلاح اور بھلائی کے کام میں ہاتھ بٹائیں۔ محلے کے لوگ، مسجد کے امام، اساتذہ، رشتہ دار اور والدین، سب کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماحول پر نظر رکھیں۔ اگر کوئی بچہ یا نوجوان غلط راستے پر چلنے لگے، بے راہ روی یا گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کو نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ سمجھائیں۔ کیونکہ خاموشی کبھی کبھی گناہ میں شریک ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ رَأَىٰ مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْیغَیرْهُ بِیدِهِ، فَإِنْ لَمْ یسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ یسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الإِیمَانِ۔ (صحیح مسلم)

“تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔“

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح صرف حکومت یا علماء کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر فرد کا کردار اہم ہے۔ اگر محلے کے لوگ اپنے آس پاس کے نوجوانوں، بچوں اور خاندانوں کی فکر کریں، ان کی تربیت میں مدد دیں، تو جرائم، بے راہ روی اور بگاڑ کے سامنے مضبوط روک لگ سکے گی۔

اسلامی معاشرہ ایک جسم کی مانند ہے۔ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر معاشرے کا ایک طبقہ گمراہی میں پڑ جائے اور باقی لوگ لاپروا رہیں تو رفتہ رفتہ پورا معاشرہ بیمار ہوجاتا ہے۔

لہٰذا اجتماعی ذمہ داری یہ ہے کہ:

خیر کے کاموں میں تعاون کیا جائے۔ ظلم، جھوٹ، فریب، بے حیائی اور بدعملی کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ضرورت مندوں، یتیموں، اور کمزوروں کی مدد کی جائے۔تعلیم، اخلاق اور دین کی روشنی کو عام کیا جائے۔

یاد رکھیں:

اسلامی معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلائے، اپنی ذمہ داری پہچانے، اور دوسروں کے لیے خیر کا سبب بنے۔

معاشرے کی اصلاح صرف کسی ایک شخص یا ادارے کا کام نہیں — یہ ہم سب کی اجتماعی امانت ہے، جس کا حساب اللہ کے حضور دینا ہوگا۔

اسلامی تربیت کے بنیادی مراحل

محبت کے ساتھ نظم و ضبط

بچے کو ڈانٹنے سے زیادہ مؤثر چیز پیار بھرا نظم ہے۔ نبی ﷺ بچوں سے شفقت فرماتے، مگر ساتھ ہی حدود بھی واضح کرتے۔

محبت کے ساتھ ساتھ، نبی ﷺ بچوں کی اصلاح بھی فرماتے تھے، تاکہ وہ صحیح عادتیں سیکھیں۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ایک دن میں نبی ﷺ کے پیچھے سواری پر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اے لڑکے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں، اللہ کو یاد رکھو، وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔“

یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کے دل میں محبت اور اعتماد پیدا کرتے تھے انہیں عزت دیتے، پیار سے بات کرتے۔

عبادت کی عادت ڈالیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مُرُوْا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْناءُ سَبْعِ سِنینَ“(ابوداؤد)

“اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔“

یعنی تربیت عبادت سے جڑی ہو، صرف تعلیم سے نہیں۔

اس لیے کہ تعلیم صرف معلومات دیتی ہے مثلاً یہ بتاتی ہے کہ نماز فرض ہے، سچ بولنا اچھا ہے، جھوٹ برا ہے۔ جبکہ عبادت ان معلومات کو عمل میں بدل دیتی ہے یعنی بچہ صرف جانتا نہیں بلکہ کرتا بھی ہے۔ جب عبادت کی تربیت ہو تو بچے کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر ذمہ داری، ضبط اور پاکیزگی آتی ہے۔ وہ سیکھتا ہے کہ ہر کام کا حساب اللہ کے سامنے دینا ہے۔

اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، تاکہ ان کی تربیت علم کے ساتھ عمل سے جڑے کیونکہ عبادت انسان کو اخلاق، نظم، صبر اور ایمان کی عملی تربیت دیتی ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ صرف تعلیم سے دماغ بنتا ہے مگر عبادت سے دل اور کردار بنتا ہے۔

اخلاقی اوصاف کی بنیاد رکھیں

بچے کے دل میں سچائی، امانت، شرم و حیا، خدمتِ خلق، احترامِ والدین یہ سب جذبات شروع سے ڈالنے چاہئیں۔

یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ بچپن وہ عمر ہے جب انسان کے رویے اور عادات سب سے زیادہ اثر پذیر ہوتے ہیں۔ اگر بچہ چھوٹی عمر سے سچ، امانت داری، شرم و حیا، والدین کا احترام اور دوسروں کی خدمت کے جذبات سیکھ لے تو یہ عادتیں اس کی پوری زندگی کے لیے مضبوط بنیاد بن جاتی ہیں۔ اگر یہ اوصاف بچپن میں نہ ڈالے جائیں تو بڑے ہو کر بچے کے اندر غلط رویے اور بری عادات آ سکتی ہیں، جنہیں بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ اخلاقی اوصاف بچے کو نہ صرف خود کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی اچھا انسان بننے میں مدد دیتے ہیں۔ معاشرے میں محبت، تعاون اور بھروسہ پیدا ہوتا ہے۔ گویا کہ چھوٹی عمر میں اچھے اخلاق کے پودے لگانا ایسا ہی ہے جیسے اونچی عمارت کی بنیاد مضبوط کی جائے. یہی بنیاد بچے کی پوری زندگی کی شخصیت اور کردار کو مطلوب شکل دیتی ہے۔

وقت کی قدر اور علم کی محبت پروان چڑھائیں

والدین، اساتذہ اور ذمہ داران کو چاہیے کہ بچوں کے دلوں میں ابتدا ہی سے وقت کی قدر اور علم کی محبت پیدا کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ وقت اللہ تعالیٰ کی قیمتی نعمت ہے، اسے ضائع کرنا نہ صرف نقصان دہ بلکہ گناہ ہے۔ جو انسان اپنا وقت فضول باتوں میں گنوا دیتا ہے، وہ دراصل اپنی کامیابی کے دروازے خود بند کر لیتا ہے۔ اسی طرح یہ احساس بھی دلایا جائے کہ علم کے بغیر زندگی اندھی ہے۔ جس کے پاس علم نہیں، وہ صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر پاتا، جیسے کوئی شخص اندھیرے میں راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ علم ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

غلطی پر نرمی سے اصلاح

اسلام سخت سزا نہیں بلکہ نرم اصلاح کا قائل ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا:

“اِِنَّ الرِّفْقَ لَا یكُونُ فِی شَیءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا ینْزَعُ مِنْ شَیءٍ إِلَّا شَانَهُ“(مسلم)

“نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے۔“

رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو نرمی و شفقت سے محروم ہوتے ہیں۔

آپؐ نے فرمایا :

مَنْ یحْرُمِ الرِّفْقَ یحْرَمِ الْخَیرَ كُلَّهُ (ابو داود، ترمذی)

“جو شخص نرمی اور شفقت سے محروم رہے، وہ ہر طرح کے بھلے اور اچھے کام سے بھی محروم رہتا ہے۔“

اگر بچہ کسی کام میں غلطی کرے، تو اسے ڈانٹنے یا مارنے کے بجائے شفقت اور نرمی سے سمجھانا زیادہ مؤثر ہے۔ اس لیے کہ نرمی دل کو نرم کرتی ہے، تعلقات مضبوط کرتی ہے اور انسان کے اعمال میں بھلائی لاتی ہے۔ یہ طریقہ دل میں سیکھنے اور اصلاح کی خواہش پیدا کرتا ہے، جبکہ سخت رویہ منفی ردعمل پیدا کرتا ہے۔ سخت مزاجی اور بے رحمی انسان کو خود غرض اور نفرت کرنے والا بناتی ہے اور نیکیوں سے بیزار کردیتی ہے۔

لہذا زندگی کے ہر کام میں نرمی، محبت اور حسن سلوک ضروری ہے۔ سختی یا تشدد انسان کے کام اور کردار دونوں کو بگاڑ سکتی ہے، جبکہ نرمی اور اخلاقی لطافت انسان کو بہتر، کامیاب اور دوسروں کے لیے پسندیدہ بناتی ہے۔

خطبا کا کردار

جمعہ کے خطبوں میں اخلاقی و تربیتی موضوعات کو خاص طور سے بیان کیا جائے۔ قرآن کی روشنی میں “تربیتِ اولاد“کے اصول عوام تک پہنچائے جائیں۔ نوجوانوں کے سامنے صحابہ کرامؓ کے کردار کے نمونے رکھے جائیں تاکہ وہ اسلامی اقدار سے آگاہ ہوں۔

اساتذہ کا کردار

استاد صرف پڑھانے والا نہیں بلکہ شخٖصیت ساز بنے۔ بچے کی عادتیں، سوچ اور اخلاق سب استاد کے اثر سے بدل سکتے ہیں۔ اسکولوں میں اساتذہ کو “کردار سازی کی تربیت” دی جائے تاکہ وہ علم کے ساتھ اخلاق بھی منتقل کریں۔

میڈیا و ابلاغ کا کردار

آج کا نوجوان زیادہ وقت میڈیا کے ساتھ گزارتا ہے، اس لیے اسلامی چینل، کارٹون، ڈرامے اور معلوماتی پروگرام بنائے جائیں جو کردار سازی میں مددگار ہوں۔

یوٹیوب، سوشل میڈیا، پر قرآنی اور اخلاقی مہمات چلائی جائیں۔

عملی تجاویز

گھرکی سطح پر

والدین روزانہ کم از کم 10 منٹ بچوں کے ساتھ اخلاقی گفتگو کریں۔

ہر گھر میں “قرآن کا وقت” مقرر ہو مثلاً مغرب کے بعد تلاوت اور مختصر تفسیر۔

والدین بچوں کو اپنے عمل سے نماز، سچائی، اور خدمتِ خلق سکھائیں۔

مسجد و محلہ کی سطح پر

مسجدوں کو صرف نماز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں نوجوانوں کے لیے تربیتی مراکز بنایا جائے۔

محلے کی سطح پر کھیل، مقابلے، مطالعہ مجالس اور “نیکی کی محفلیں“ قائم ہوں تاکہ بچے مثبت ماحول میں رہیں۔

علماء اور ائمہ ہر جمعہ ایک اصلاحی پیغام مختصر انداز میں دیں۔

آخری بات

بچوں کے جرائم دراصل معاشرے کے جرائم ہیں، کیونکہ بچے وہی بنتے ہیں جو ماحول انہیں بناتا ہے۔ اس لیے بچوں کی اصلاح کے لیے معاشرے کی اصلاح ضروری ہے اور یہ مسلم امت کا فرض منصبی بھی ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

بچوں کے بڑھتے جرائم: ذمے دار کون؟

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223