اسلامی تمدن میں اسکالر شپ کا نظام

جمادی الثانی (630ھ/1233ء) کی بات ہے۔ بغداد میں مستنصریہ یونیورسٹی کی تعمیر مکمل ہوئی، اس وقت اس کے تعلیمی اخراجات بشمول اساتذہ کی تنخواہیں، طلبہ کی کفالت اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے بڑے بڑے اوقاف مختص کیے گئے۔ امام شمس الدین ذہبی نے اپنی کتاب ’تاریخ الاسلام‘ میں ان اوقاف کا تخمینہ تقریباً 900,000 سونے کے دینار (جو آج کے تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہے) لگایا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا، ’’میں دنیا میں ایسا کوئی وقف نہیں جانتا جو اس کے حجم کے قریب بھی ہو، سوائے جامع دمشق کے اوقاف کے۔ ممکن ہے کہ اِس کا وقف اُس سے بھی زیادہ بڑا ہو‘‘۔ یاد رہے کہ اس کے کچھ ہی عرصے بعد (656ھ/1258ء) بغداد پر تاتاریوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔
اسلامی تہذیب میں تعلیمی سرگرمی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ مدارس اور یونیورسٹیوں کی تعمیر کا کام شاذ و نادر ہی کبھی موقوف رہا ہو۔ یہاں تک کہ سیاسی کم زوری کے شدید ترین ادوار میں بھی یہ سلسلہ نہیں رکا۔ اس کی ایک بڑی مثال تو یہی ہے کہ عظیم الشان مستنصریہ یونیورسٹی کی تعمیر اسی زمانہ میں ہوئی جب تاتاری فرماں روا ہلاکو بغداد پر حملہ کی تیاری کررہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت جارحانہ تاتاری حملے کے بالمقابل مسلم معاشرے کی قوت مزاحمت اور سیاسی شکست کو ثقافتی اور تہذیبی فتح میں بدلنے کی صلاحیت کا ایک سبب یہ بھی تھا۔ جس کی بدولت تھوڑے ہی عرصے بعد اس معاشرے نے حملہ آوروں کا رخ تبدیل کرکے انھیں اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ کرلیا۔جلد ہی ان وحشی قبائل کے ایک بڑے طبقے نے اسلام کو قبول کر لیا۔
علمی قلعوں کی مسلسل تعمیر نہ صرف بے داری اور روشن خیالی کی قوت کا ذریعہ تھی، بلکہ بحران اور مشکلات کے وقت ثبات و استقامت کا سرچشمہ بھی تھی۔ مسلمانوں نے ادراک کرلیا تھا کہ علمی تحریک کی نشو و نما اور مضبوطی کے لیے مال کی ضرورت ہے جس سے ان کی نسلوں کے لیے عزت و وقار کا سامان کیا جائے۔ ہونہار غریب طالب علم اپنی تعلیم کسی نہ کسی طرح اپنے بل پر بھی جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اگر تعلیمی امداد کے ذریعے اسے فکر معاش سے آزاد کردیا جائے تو اس کا علمی ارتقا کا سفر زیادہ تیز اور زیادہ بھرپور ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر استاذ کو موقع دیا جائے کہ وہ یکسو ہوکر نئی نسل کو پڑھانے اور علمی کتابوں کی تیاری کرنے کے لیے خود کو وقف کردے تو وہ زیادہ فیض پہنچاسکے گا۔ اسی فکر کے تحت اور اسلامی تعلیمات کے زیر اثر مسلم معاشروں میں اوقاف کے ذریعے دین داری اور ایثار کے اقدار کو عملی پیکر دیتے ہوئے اسکالرشپ کا رجحان فروغ پایا۔
یہ تعلیمی وظائف ایک طرح سے سماجی انصاف کے حصول یابی کا ایک ذریعہ بھی تھے۔ سماج کے جو طبقات پس ماندہ اور حاشیے پر ہوتے، ان کے بچوں کی تعلیم اس معنی میں ایک کام یاب ذریعہ تھی کہ وہ اپنی ذاتی محنت سے سماجی سیڑھی پر محفوظ طریقے سے چڑھ سکیں۔ ان کے لیے ترقی کا یہ سفر اسی وقت ممکن ہوپاتا، جب سخاوت سے بھرپور مالی امداد کا سہارا بھی ملے جس میں طلبہ کے درمیان کوئی تفریق نہ برتی جائے۔ یہ امداد متعدد مالیاتی مدوں سے پہنچائی جاتی۔ اس مقصد کے لیے زکوٰة کے حصے مختص ہوتے، اوقاف قائم کیے جاتے اور اہل ثروت پر اہل حکومت کے ذریعے کفالت کے فنڈ مختص کیے جاتے۔ یہ رقومات ان زمروں کے ذہین طلبہ پر صرف ہوتیں۔ اس طرح، تعلیمی وظائف کو طبقاتی فرق ختم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مثالی طریقہ ہے ان لوگوں کی مدد کا جو اپنے حالات کو بہتر بنانے کے لیے سرگرداں ہوتے ہیں، ایسے معاشرے میں جہاں علم کی قدر ہوتی ہے اور علما کو معاشرے کا رہ نما اور قائد مانا جاتاہے۔
تعلیمی امداد کی بہت سی متنوع شکلیں ہوتی ہیں۔ ایک شکل علمی برتری کے انعامات کی ہے،جو نمایاں طلبہ کی محنت اور صلاحیت کے اعتراف میں دیے جاتے ہیں۔دوسری شکل یہ ہے کہ تصنیف و تخلیق کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اہل علم کو حکومت کی طرف سے مادی اعزاز سے نوازا جاتاہے۔ مشہور ضرورتوں میں سے ایک ضرورت اوقاف کی ہے،جنکے ذریعہ طلبہ کی مدد کے لیے کتابیں، اسٹیشنری اور قیام وطعام کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
دنیا بھر کے طلبہ ہر تعلیمی سال کے آغاز میں اسکالرشپ کے آرزومند ہوتے ہیں، جس سے ٹیوشن فیس میں جزوی یا کلی راحت مل جائے اور انھیں تعلیم جاری رکھنے میں مدد مل سکے۔ آکسفورڈ ڈکشنری میں اسکالرشپ کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: ’’طالب علم کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کے لیے میرٹ یا کام یابی کی بنیاد پر دی جانے والی رقم۔‘‘ ترقی یافتہ ممالک میں اسکالرشپ کے لیے شہریوں کے درمیان سخت مقابلے کا مشاہدہ کیا جاتا، خاص طور پر تعلیمی مراحل سے جڑے طلبہ کے درمیان۔ سرکاری اور نجی اداروں کی طرف سے ان وظائف کے لیے بڑی رقومات مختص کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ میں کالجوں، جامعات اور وزارت تعلیم کی جانب سے فراہم کردہ تعلیمی وظائف کی کل رقم 46 بلین ڈالر سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ ہمارے اس دور سے بہت پہلے مسلمانوں نے علم و معرفت، تدریس اور تحصیل علم کی لگن کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی وظائف کا تصور پیش کیا۔ انھوں نے اسے سماج کے لیے ایک نفع بخش صنعت سمجھا، جس کے لیے اسلامی تہذیب کے تمام ادوار میں خطیر رقوم مختص کی جاتی رہیں۔ یہ مضمون اسلامی تہذیب و تمدن کے اسی روشن پہلو کو بیان کرتا ہے۔

سب سے پہلے نبوی نمونہ

حضرت محمدﷺ کو ایک ان پڑھ قوم کی طرف مبعوث کیا۔ آپؐ کی بعثت کے وقت قریش کے صرف درجن افراد لکھنا پڑھناجانتے تھے۔ مورخین کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ ان میں سب سے پہلے لکھنا پڑھنا والا کون تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حرب بن امیہ تھے،جن سے ان کے بیٹے ابو سفیان نے سیکھا، اورابو سفیان سے، حضرت عمر بن خطاب اور قریش کے ایک گروہ نے لکھنا پڑھنا سیکھا۔ ہمارے پاس اس دور میں تعلیم کے اخراجات کے بارے میں کوئی متعین معلومات نہیں ہیں، سوائے اس واقع کے جو ہمیں 2 ہجری / 624 عیسوی میں پیش آنے والی جنگ بدر کے بعد قیدیوں کے فدیہ کے سلسلہ میں معلوم ہوتا ہے۔ اس بنا پر اندازہ کیا جا سکتاہے کہ ایک شخص کے لیے ابتدائی تعلیم کی لاگت تقریباً چار سو چاندی کے درہم تھی۔ جو آج کے تقریباً آٹھ سو ڈالرکے برابر ہے۔
ہم نے یہ اندازہ اس طرح لگایا کہ ایک مشرک قیدی سے فدیہ لینے کی کم از کم رقم چار سو درہم تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس رقم کی ادائیگی نہ کرنے کے بدلے میں رسول اللہ ﷺ نے کچھ قیدیوں سے یہ معاملہ کیا کہ وہ انصار کے کچھ لڑکوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں گے۔ امام ابن القیم نے زاد المعاد فی ھدی خیر العباد میں ذکر کیا ہے کہ ’’ آپؐ کے حوالے سے ثابت ہوا کہ آپؐ نے بدر کے قیدیوں کو چار ہزار سے لے کر چار سو [درہم] کی رقم کا فدیہ لے کر رہا کیا اور بعض کا فدیہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو لکھنا پڑھانا سکھانا طے کیا۔‘‘
جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو قرآن کریم آیا اور اس نے علم رکھنے والوں کو دوسروں پر برتری کا اعلان کیا۔ فرمایا: قُلْ هَلْ یسْتَوِی الَّذِینَ یعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لا یعْلَمُونَ۔ ’’کہو، کیا علم رکھنے والے ان لوگوں کے برابر ہیں جو نہیں جانتے؟‘‘ (الزمر: 39)۔ اس کے علاوہ بہت سی نبوی احادیث علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے کی فضیلت کو بیان کرتی ہیں۔ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کو، خاص طور پر وہ جنھیں ’’اہل صفہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، سیکھنے کی ترغیب دیتے، انھیں علم کے حصول کے لیے یکسوئی فراہم کرتے اور بذات خود ان کی تعلیم کا کام انجام دیتے۔ انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اہل صفہ کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے۔ (المعجم الاوسط)
ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب ’ حلیة الاولیاء‘ میں اس حدیث پر تبصرہ کیا ہے: ’’ان کا مشغلہ کتاب کو سمجھنا اور سیکھنا تھا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے انھیں ’’اسلام کے مہمان‘‘ کی حیثیت دے کر اسے بھی زکوٰة، صدقہ اور تحائف کی ایک مد قرار دیا تھا۔ آپؐ نے ان کے لیے روزانہ کا راشن طے کیا تھا، جو ہر دو آدمیوں کے لیے کھجور کے ایک مد کے برابر ہوتا۔ (مد نبوی کی مقدار قریب آدھا کلو گرام ہے)۔ جیسا کہ طلحہ بن عمرو النضریؓ سے مروی طبرانی کی ایک حدیث میں ہے۔ اس طرح رسول اللہﷺ نے طلبہ کا پہلا ہاسٹل قائم کیا۔ علم و تفقہ حاصل کرنے کے لیے مدینہ آنے والے طلبہ کی یہاں میزبانی کی جاتی۔ اس کے مکین اہل صفہ کے نام سے جانے جاتے۔
اندازہ ہے کہ اہل صفہ کی تعداد ستّر تھی۔ ابو نعیم نے ان میں سے 52 کے نام بتائے ہیں۔ ان میں بہت سے بڑے علمی مرتبہ رکھنے والے لوگ تھے جیسے ابو ہریرہؓ، سلمان فارسیؓ، ابو سعید خدریؓ اور ابوذر غفاریؓ۔ صحابہ کرامؓ کے درمیان یہ بڑے علما اور فقہا میں سے تھے، جن کی طرف لوگ صحابہ کرامؓ کے دور میں اور ان کے بعد بھی تعلیم اور فتوے کے لیے لپکا کرتے تھے۔
طلبہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا خیال رکھنے کے بارے میں نبی کریمﷺ سے بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپ کے زیرِ تربیت صحابہ کرامؓ نے یہ فکرمندی بھی اختیار کی۔ ’’سنن ترمذی‘‘ میں تابعی ابو ہارون عبدی سے مروی ہے: ہم ابو سعید خدری کے پاس آتے تو وہ کہتے: رسول اللہﷺ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے تمھارا خیرمقدم ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لوگ تمھارے پیرو ہیں اور تمھارے پاس لوگ روئے زمین کے کونے کونے سے دین سیکھنے کے لیے آئیں گے۔ جب وہ تمھارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

ابتدائی دور سے سرپرستی

عہد نبوی کے گزرجانے کے بعداسلامی ثقافت میں علمی وظائف دینے کی روایت تیزی سے فروغ پانے لگی۔ مسلم معاشرے میں ذاتی وظائف کی مختلف ضرورتیں سامنے آئیں۔ ابتدائی دور کی ایک ضرورت یہ تھی کہ ایک شخص کسی میں کوئی خاص صلاحیت دیکھتا، مثلا ایک سے زیادہ زبان سیکھنے کی صلاحیت، تو وہ اس صلاحیت کی نشونما کے لیے اس کے نام وظیفہ جاری کردیتا۔
امام ذہبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلا میں ابو جمرہ نصر بن عمران ضبعی کے تعارف میں ان کے یہ بیان درج کرتے ہیں: ’’میں ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا کرتا تھا، اور وہ مجھے اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ ایک دن انھوں نے کہا: تم میرے ساتھ رہو میں تمھیں اپنے مال میں سے ایک حصہ دوں گا۔ میں دو ماہ تک ان کے ساتھ رہا۔‘‘ ابو جمرہ کا کام یہ تھا کہ ابن عباسؓ کی علمی مجالس میں فارسی داں حاضرین کے لیے فوری ترجمے کی ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ ابن عباسؓ کے اس عمل کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے کہ ’’بعض علما نے اس سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ تدریس کے لیے اجرت لینے کی اجازت ہے۔‘‘
اسلامی تہذیب میں علمی وظائف کی روایت گہری جڑیں رکھتی ہے۔ اس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ مکاتبِ فقہ کے قیام کی بنیاد رکھنے میں ایک موثر اور فعال عنصر کے طور پر شامل رہی۔ یہ کہنا بجا ہوگاکہ فقہ کے بڑے مکاتب کے بانیوں کو اپنی کم عمری میں وظیفے دستیاب نہ ہوتے، تو وہ علم میں آگے بڑھنے کے بجائے روزی کی تلاش میں سرگرداں رہتے، اور شاید ان کے فقہی مکاتب اس طرح علمی فراوانی اور تاریخی استحکام کے ساتھ قائم نہ ہوپاتے۔
یہ امام ابو حنیفہ ہیں، حنفی مکتبِ فکر کے بانی۔ وہ ایک بڑے تاجر بھی تھے۔ انھوں نے اپنے شاگرد ابو یوسف البجلی کی ذہین شخصیت میں اپنے علم کے وارث کو پہچان لیا۔ چنانچہ ان کے لیے علمی وظائف مقرر کیے اور علم کے حصول کے لیے انھیں یکسوئی فراہم کی۔ واقعہ مشہور ہے کہ جب مفلسی اور گھر کی ضروریات نے نوجوان ابو یوسف کو اپنے استاد کے زیرِ سایہ حدیث و فقہ کی تعلیم ترک کرنے پر مجبور کر دیا تو امام ابو حنیفہ نے ان کی خیریت دریافت کی ، جب درس سے غیر حاضری کی وجہ معلوم ہوئی تو ایک تھیلی میں سو درہم رکھ کر انہیں دیے اور فرمایا: ’’حلقہ درس سے وابستہ رہو، اور جب یہ تھیلی خالی ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔‘‘ کچھ دنوں بعد انہوں نےمزید سو درہم عطا کیے۔ امام ذہبی کی سیر اعلام النبلاء کے مطابق یہ سخاوت مسلسل جاری رہی۔ ان کے بقول: ’’امام ابو حنیفہ باقاعدگی سے امام ابو یوسف کو سو سو درہم عطا کرتے رہے!‘‘ شیخ امام ابو حنیفہ کی اپنے طالب علم کی اس سرپرستی کے باعث، جس کے والد غریب تھے اور ان کی ایک چھوٹی سی دکان تھی، امام ابو یوسف بعد میں ان عظیم فقہا میں شامل ہوئے جن پر ان کے فقہی مکتب کی بنیاد مضبوطی سے قائم رہی ۔ لوگوں نے ان سے امام ابو حنیفہ کے فقہ ومسلک کو سیکھا اور پھر وہ تاریخ اسلام کے پہلے قاضی القضاة (چیف جسٹس) مقرر ہوئے۔
یہ امام شافعی ہیں، جو غربت میں پروان چڑھے۔ ابتدائی تعلیم کے زمانے میں مکتب کے استاذ کو فیس دینے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ مجبوری میں وہ استاذ کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے، جس کے عوض استاذ بطور وظیفہ ان کی فیس معاف کردیتےتھے۔امام ابو بکر حمیدی جو امام شافعی کے شاگرد اور امام بخاری کے استاد تھے، کہتے ہیں: ’’میں نے شافعی کو یہ کہتے سنا: میں یتیم تھا اور اپنی والدہ کی کفالت میں پرورش پا رہا تھا۔ میری والدہ کے پاس استاد کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا، استاد اس بات پر راضی ہو گیےکہ ان کی غیر موجودگی میں، میں بچوں کی نگرانی کروں اور ان کا کام ہلکا کردوں۔ یہ روایت ابوبکر بیہقی نے ’احکام القرآن‘ میں نقل کی ہے۔
اپنی جوانی میں امام شافعی بغداد میں امام محمد بن حسن شیبانی کے حلقہ درس میں شامل ہوئے۔ امام محمد نے امام شافعی کی ذہانت کو پہچان لیا۔ ان کی خواہش ہوئی کہ وہ ان کے قریب رہیں۔ اس کے لیے وہ فراخ دلی کے ساتھ انھیں مال سے نوازتے رہے یہاں تک کہ امام شافعی نے ان سے بہت سا علم حاصل کرلیا۔ خود امام شافعی نے ان سے حاصل کیے ہوئے علم کی وسعت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ان سے ایک نر اونٹ کے بوجھ کے برابر علم لکھاہے۔ میں نے ’نر‘ اونٹ کہا اس لیے کہ میں نے سنا ہے کہ وہ مادہ اونٹ سے زیادہ بوجھ اٹھالیتا ہے۔‘‘ یہ بات ابو عبداللہ سمری حنفی نے اپنی کتاب ’’تاریخ ابوحنیفہ واصحابہ‘‘ میں نقل کی ہے۔ جب کہ ذہبی نے ابو عبید ہروی کی یہ بات نقل کی ہے کہ ’’میں نے شافعی کو محمد بن حسن کے پاس دیکھا۔ انھوں نے امام شافعیؒ کو پچاس دینار دیے تھے، اور اس سے پہلے بھی انہیں دینار دے چکے تھے، اور کہا اگر تم علم کی چاہ رکھتے ہو تو میرے پاس آتے رہو۔‘‘

فقہی بنیاد گذاری

اسلام کے سنہرے دور کی صدیاں گزرتی رہیں، مگر طالبانِ علم کی کفالت اور ان کی مالی سرپرستی کی روایت بھی مسلسل رہی۔ اس روایت کو امت کے اجتماعی ضمیر میں مستحکم کرنے میں فقہا کے فتاوی کا کردار بھی رہا۔ جس میں اسے فرض کفایہ کے زمرے میں شامل کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ ایسا حق واجب ہے جس کی ادائیگی نہ کرنے پر ریاست مداخلت کرے گی۔ حنفی فقہا کی ترجمانی کرتے ہوئے ابو منصور ماتریدی نے لکھا ہے کہ ’’مسلمانوں پر طالب علم کی کفایت کی حد تک کفالت واجب ہے جب وہ علم حاصل کرنے کے لیے نکلے۔ اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے گا جس طرح زکوٰة نہ دینے کی صورت میں زکوٰة دینے پر مجبور کیا جائے گا۔‘‘ یہ بات ابن عابدین دمشقی حنفی نے ’’ العقود الدریة فی تنقیح الفتاوى الحامدیة‘‘ میں نقل کی ہے۔
حنفی فقہا صراحت کے ساتھ اس کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ ’’طالب علم کے لیے ایک شہر کی زکوٰة دوسرے شہر بھی منتقل کی جاسکتی ہے۔جیسا کہ ’’ الموسوعة الفقهیة الكویتیة ’’ میں ذکر ہے۔ حالاںکہ عام اصول یہ ہے کہ زکوٰة کسی ایسے شہر سے دوسرے شہر منتقل نہیں کی جانی چاہیے، جہاں کے لوگ اس کے محتاج ہوں۔ نووی نے ’’المجموع شرح المهذَّب ’’ میں کہا ہے کہ ایسا طالب علم جو کام کرکے کمانے کی قدرت رکھتا ہو لیکن کچھ دینی علوم حاصل کرنے میں مشغول ہوجائے، اس کے لیے زکوٰة حلال ہے کیوں کہ علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے۔
علما نے طالب علم کی ضروریات، جیسے کتابیں، نصابی کتب ، سیاہی ، کاغذ اور دیگر تعلیمی سامان کو زکوٰة کے مصارف میں سے بتایاہے۔ ’’کیوں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی طالب علم کو ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ان کا حکم بھی اس کے اخراجات کی طرح ہے‘‘۔ (منصور بن یونس بُهُوتی حنبلی، كشاف القناع عن الإقناع)
مزید برآں، اسلامی فقہا نے طلبہ اور علما کی دیکھ بھال کو ریاست کا فرض قرار دیا اور ریاستی بجٹ میں ان کے لیے باقاعدہ ایک مستقل حق مقرر کیا۔ امام ابن عابدین حنفی نے اپنی کتاب ’’رد المحتار علی الدر المختار‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ بیت المال کے مصارف میں سے ایک شرعی علوم کے لیے ہمہ وقت فارغ علما اور طلبہ کی مکمل کفالت بھی ہے۔ اسی طرح بعض علما نے یہاں تک کہا ہے کہ طالب علم کے لیے زکوٰة وصول کرنا جائز ہے، خواہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ اپنے آپ کو علم سیکھنے اور سکھانے کے لیے فارغ کرچکا ہو۔ (ملاحظہ ہو: الموسوعة الفقهیة الكویتیة)
اس فقہی بنیاد گذاری کی بدولت، علمی وظائف نے مختلف شکلیں اختیار کیں، ان کے اغراض و مقاصد میں اضافہ ہوا اور ان سے مستفید ہونے والے زمرے متنوع ہوگئے۔ ان میں علما کے علاوہ مختلف فنون اور تخصصات کے ماہرین بھی شامل ہوئے۔ اموی شہزادہ خالد بن یزید دوسری قوموں کے ورثے میں مہارت رکھنے والے علما کو لانے اور ان کی کتابوں کا ترجمہ کرنے کے لیے انھیں فارغ کرنے کا اہتمام کرتا تھا۔ یہ دیگر زبانوں سے عربی میں ترجمہ کرنے کا پہلا علمی منصوبہ تھا۔
اس سلسلے میں ندیم یا ابن ندیم اپنی کتاب الفہرست میں کہتے ہیں: ’’جب خالد کے ذہن میں اس صنعت کا خیال آیا تو اس نے حکم دیا کہ یونانی فلسفیوں کی ایک جماعت حاضر کی جائے۔ یہ فلسفی مصر کے شہر میں سکونت پذیر تھے اور عربی کے ماہر ہوچکے تھے۔ ان کو یہ کام دیا گیا کہ اس میدان کی یونانی اور قبطی زبان کی کتابوں کو عربی میں منتقل کریں۔ یہ اسلامی تاریخ میں ایک زبان سے دوسری زبان کا پہلا ترجمہ تھا۔‘‘
یاقوت حموی نے معجم الأدباء میں ذکر کیا ہے کہ اسحاق موصلی جنھیں ذہبی نے امام، علامہ، حافظ اور موسیقی کے واقف کار کے طور پر بیان کیا ہے، ابن زیاد کوفی (ابن اعرابی کے نام سے معروف) کے بھرپور علمی تجربات کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ عرب کی وادیوں میں گھومے تھے اور وہاں کے باسیوں سے عربی زبان کا علم حاصل کیا تھا۔ اسحاق موصلی نے ابن اعرابی کے لیے وظائف جاری کیے تاکہ وہ پوری فراغت کے ساتھ عربی سیکھیں اور عرب دیہاتیوں کی زبان سے سنے ہوئے فصیح الفاظ اور صحیح اسالیب کی تدوین کا کام کریں۔ یہ اسی طرح کا تھا جیسے آج یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی طرف سے علمی تحقیق و ریسرچ کے لیے وظائف مختص کیے جاتے ہیں اور محققین کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ فراغت کے ساتھ اپنے علمی منصوبے اور تحقیقی پروجیکٹ انجام دیں۔

تنوع اور مقابلہ آرائی

اسکالر شپ کا یہ کلچر عام ہوتا گیا۔ انھیں مہیا کرنے اور مستحق طلبہ تک پہنچانے کے طریقے سب ترقی کرتےگئے ، یہاں تک کہ یہ نیکی کے عظیم کاموں میں شمار ہونے لگا۔ اسے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچانے اور بسا اوقات رازداری برتنے کا اہتمام کیا جانے لگا۔ نابینا نحوی ابراہیم بن سعید رفاعی کی سوانح میں خود طلبہ کے باہمی تعاون پر مبنی وظائف کی ممتاز مثال ملتی ہے۔ رفاعی، جو ایک نابینا نوجوان تھے، جنوبی عراق کے شہر واسط میں آئے، جامع مسجد میں داخل ہوئےاور عبد الغفار حُضینی کے حلقہ درس میں بیٹھنے لگے، وہاں انھوں نے قرآن کریم سیکھا۔ ان کےکھانے پینے کا خرچ حلقہ درس کے طلبہ کی طرف سے تھا۔ یعنی طلبہ نے خود آگے بڑھ کر ان کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ جس سے حصول علم کا سفر بلا رکاوٹ جاری رہا ، اور اپنے استاذ حضینی کی وفات کے بعد وہ اسی جامع مسجد میں مسند تدریس پر فائز ہوئے۔ (ملاحظہ ہو: جمال الدین قِفْطی کی کتاب إنْباه الرُّواة على أنْباه النُّحاة)
امام محدّث إبراهیم حَرْبی بیان کرتے ہیں ’’میرے گھر کے صحن میں ایک کمرہ تھا ، جہاں میری کتابیں رکھی جاتی تھیں۔ میں وہاں بیٹھ کر کتابت کرتا اور مطالعہ کیا کرتا تھا۔ ایک رات کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھاکون؟ اس نے جواب دیا: ایک پڑوسی۔ میں نے کہا: ’اندر آجؤ‘ اس نے کہا: ’پہلے چراغ بجھا دیجیے پھر میں اندر آؤں گا۔ میں نے چراغ پر کوئی چیز رکھ کراس کی روشنی چھپا دی اور کہا: ’اب اندر آجاؤ۔ وہ اندر آیا میرے پاس الگ چیز رکھ کر رخصت ہوگیا۔ جب میں نے دیکھا تو وہ ایک قیمتی رومال تھا ، جس میں پانچ سو درہم رکھے ہوئےتھے۔ حربی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں: ’’میں اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ وہ موسم تھا جب حج سے قافلے واپس آیا کرتے تھے۔ اتنے میں ایک شخص دو اونٹ، جو سامان سے لدے ہوئے تھے، لے کر آیا۔ اس نے وہ میرے حوالے کیا اور کہا: یہ ابراہیم حربی کے لیے ہیں، ان کے بھیجنے والے نے مجھ سے قسم لی ہے کہ میں ان کا نام ظاہر نہ کروں۔‘‘ (ملاحظہ ہو یاقوت حموی کی کتاب معجم الأدباء)
بعض اوقات یہ اسکالرشپ طلبہ میں تقسیم کیے جانے والے کپڑوں کی صورت میں ہی ہوتی تھی۔ سنہ831ھ / 1428ء میں، ہندوستان کے شہر گلبرگہ کے سلطان کی طرف سے شیخ علاء الدین بن بخاری حنفی کے پاس تین ہزار شالیں پہنچیں۔ انھوں نے ان میں سے ایک ہزار شالیں اپنے مقیم طلبہ میں تقسیم کردیں۔ یہ شالیںنہایت اعلی اور قیمتی لباس شمار ہوتی تھیں، بادشاہوں کے درمیان بطور تحائف ان کا تبادلہ ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر مؤرخ مقریزی نے اپنی کتاب ’السلوك لمعرفة دول الملوك‘ میں ذکر کیا ہے کہ ’’یمن کے سلطان رسولی مؤید نے ناصر بادشاہ محمد بن قلاوون کو جس میں دو ہزار ہندوستانی شالیں شامل تھیں۔ ‘‘
یہ وظائف کبھی نقد انعامات کی شکل اختیار کر لیتےتھے، اوران کا مستحق وہ قرار پاتا جو کسی علمی کتاب کو پڑھ کراچھی طرح یاد کر لیتا۔ کتابوں کی علمی اومسلکی اہمیت کے لحاظ سے انعامات کی قیمت میں فرق ہوتا۔ امام ذہبی نے اپنی کتاب ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ دمشق کے حکم راں ملک معظم عیسی ابن عادل ایوبی، [حنفی] مسلک سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ جو شخص زمخشری کی نحو کی مشہور کتاب المفصل سنادیتا اسے سو دینار انعام دیتے،اور جو امام محمد بن حسن شیبانی کی کتاب الجامع الکبیر سنا دیتا، اسے دو سو دینار عطا کرتےتھے۔
طلبہ کی کفالت ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا جس میں شہزادے، ممتاز تاجر، علما اور معاشرے کے مختلف طبقات بڑھ چڑھ کر حصہ لیتےتھے۔ خلفا اور سلاطین میں جو طلبہ اور علما کی فراخ دلانہ عطیات دینے کے لیے مشہور ہیں، ان میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید، ان کا صاحبزادے خلیفہ مامون الرشید شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سلطان نورالدین محمود زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی قابل ذکر ہیں۔ مدارس کی تعمیر و ترقی میں دونوں کا کردار تاریخ میں محفوظ ہے۔
اس حوالے سے جو وزراء مشہور ہوئے، ان میں عباسی وزیر فتح بن خاقان نمایا ہیں۔ انہوں نے عربی نثر کے امام ابو عثمان جاحظ اور دیگر ممتاز ادیبوں کی سرپرستی کی اور انھیں فراخ دلی سے وظیفے دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سرکاری خزانے سے جاحظ کے پورے ایک سال کے اخراجات کے بقدر رقم مختص کی تاکہ وہ خود کو تصنیف و تالیف کے لیے فارغ کرسکے۔ انہوں نے ایک مرتبہ جاحظ کو لکھا: ’’اپنے آپ کو ’’كتاب الرد على النصارى‘‘ کے لیے یکسو کردو۔ اسے ختم کر کے جلدی سے میرے پاس بھیج دو… تاکہ تمھیں ماہانہ مشاہرہ ملے۔ میں نے تمھارے لیے پورے سال کی تنخواہ پیشگی لے رکھی ہے!‘‘
امام ذہبی سیر اعلام النبلاء میں ذکر کرتے ہیں کہ مصر میں اخشیدوں کے وزیر، ابو الفضل ابن حنزابہ ایک عالم تھا ’’جو علم حاصل کرنے، کتابیں جمع کرنے اور علما پر خرچ کرنے کا بہت زیادہ شوق رکھتا تھا‘‘، امام ذہبی کے الفاظ میں وہ امام حافظ اور ثقہ تھے۔ اسی کے بلاوے پر امام دارقطنی مصر گئے، ایک مدت تک ان کے یہاں قیام کیا اور اس سے بہت سا مال حاصل کیا۔

علما نے بھی سرپرستی کی

طلبہ کے ساتھ سخاوت کے لیے مشہور خوش حال علما میں امام ابو حنیفہ تھے جن کا ذکر پیچھے گزرا۔ اسی طرح مصر کے امام لیث بن سعد فارسی قلقشندی بھی اس حوالے سے معروف ہیں۔ وہ تاجر تھے۔ انھوں نے امام مالک بن انس کے لیے وظیفہ مقرر کیا تھا، جس کی مدد سے انھیں مدینہ منورہ میں حدیث اور فقہ کی تدریس کے لیے علمی فراغت حاصل تھی۔ ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں حرملہ بن یحییٰ تجیبی مصری کا یہ بیان ذکر کیا ہے: ’’لیث بن سعد سال میں ایک سو دینار مالک کو بھیجتے تھے (آج کے قریب ۲۰ ہزار امریکی ڈالر)۔ مالک نے انھیں لکھا کہ میرے اوپر کچھ قرض ہے تو انھوں نے انھیں پانچ سو دینار بھیجے۔
ایک نام تیونس کے مالکیہ کے امام ابو محمد عبداللہ ابن ابی زید قیروانی کا ہے، جو رسالة ابن أبی زید کے نام سے مشہور فقہی کتاب کے مصنف ہیں۔ ابو زید دباغ انصاری نے اپنی کتاب ’’معالم الایمان فی معرفة اھل القیروان‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ وہ طلبہ کی سرپرستی کرتے، ان پر خرچ کرتے، ان کے لیے لباس کا انتظام کرتے اور انھیں زاد سفر دیتےتھے۔ ابن دباغ نے اس کی مثالوں میں یہ واقعہ ذکر کیا کہ اندلس سے کچھ طلبہ قیروانی کے پاس پڑھنے کے لیے آئے۔ انھوں نے ان کی عمدہ مہمان نوازی کی، ان کی رہائش کا انتظام کیا اور ان کی ضرورت بھر وظیفہ جاری کیا۔
اسی طرح ابن ابی زید اپنے ہم عصر علما کی اعانت بھی کرتے تھے۔ مثال کے طور پر جب یحیى بن عبد الله المغربی (شاید یحیى بن عبد الله بن یحیى اللیثی) قیروان آئے تو انھوں نے انھیں ایک سو پچاس سونے کی اشرفیاں پیش کیں۔ قاضی عبدالوہاب بغدادی مالکی کے پاس جب وہ بغداد میں تھے ایک ہزار دینار بھیجے۔
ایک اور نام ابو الحسن نیسابوری کا ہے، جن کا تعارف ذہبی نے تذکرة الحفاظ میں اس طرح کرایا: وہ تاجر تھے اور امامت کے مرتبے پر فائز تھے۔ آگے کہا وہ طلبہ پر خوب خرچ کرنے والے تھے۔
خطیب بغدادی بھی اس حوالے سے معروف ہیں۔ تاج الدین سبکی نے اپنی کتاب طبقات الشافعیة میں ان کے سلسلے میں لکھا ہے: خطیب بغدادی کے پاس بہت ثروت تھی۔ طلبہ کے لیے ان کی طرف سے عطیات جاری رہتے۔ طلبہ کو بہت سا سونا بھی دے ڈالتے۔ ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں تذکرہ کیا ہے کہ امام مؤرخ عزالدین ابن اثیر کا گھر طالبانِ علم کا ٹھکانا تھا۔ طلبہ کو وظائف فراہم کرنے والے علما میں امام متکلم عضد الدین ایجی شافعی بھی تھے۔ سبکی نے طبقات الشافعیة میں ذکر کیا ہے کہ وہ گراں قدر دولت کے مالک تھے اور طالبانِ علم کی دل کھول کر مدد کرتے تھے۔‘‘
ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ وظائف اور علمی اعانتیں فراہم کرنے والے اور ان سے فائدہ اٹھانے والے بھی صرف مسلمان نہیں تھے، بلکہ اسلامی تمدن کے دائرے میں سکونت پذیر دینی اقلیتوں کے افراد بھی شامل تھے۔ یہ ایجابی نوعیت کے دینی بقائے باہم کا ایک حسین مظہر ہے جو اسلامی تاریخ کے بیشتر حصوں میں غالب رنگ میں موجود رہا ہے۔ اب دیکھیے یہ ہیں عیسائی مذہب رکھنے والے امین الدولہ ابن تلمیذ نصرانی بغدادی جو اپنے وقت کے اعلی ترین صلاحیت کے طبیب تھے۔ یہاں تک کہ ذہبی نے اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں انھیں اپنے زمانے کا بقراط اور جالینوس قرار دیا۔ ان کی سالانہ تنخواہ بیس ہزار دینار (تقریباً چار ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ تھی۔ وہ یہ پوری رقم طلبہ اور غریب الوطنوں وغیرہ پر خرچ کردیتے تھے۔ وہ عیسائی مذہب پر تھے۔ (ملاحظہ ہو: مؤرخ ظہیر الدین ابن فندمه بیہقی کی کتاب تتمة صوان الحكمة)
ذہبی مزید بتاتے ہیں کہ ابن التلمیذ کا گھر بغداد کے مدرسہ نظامیہ سے متصل تھا جہاں اسلامی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ’’اگر مدرسے کا کوئی فقیہ بیمار ہوجاتا تو وہ اسے اپنے پاس منتقل کرلیتے اور اس کی بیماری کا علاج کرتے اور جب وہ صحت مند ہونے لگتا تو اسے رخصت کرنے سے پہلے دو دینار کا تحفہ دیتے۔
جیسا کہ آج ہم عصری تعلیمی وظائف کے نظام میں دیکھتے ہیں، وظیفہ اکثر بعض شرائط سے مشروط ہوتا تھا، اس لیے طالب علم یا عالم اس کی اہلیت کھودیتا اگر وہ ان شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ اسی ضمن میں دینی یا فقہی مسلک میں اختلاف بعض اوقات علمی وظائف کے خاتمے کا باعث بن سکتا تھا۔ اگر وظیفہ پانے والے کی طرف سے کوئی ایسی بات ہوجائے جس سے وظیفہ دینے والے کے مسلک کو ٹھیس پہنچے یا اسے راس نہ آنے والی رایوں کا صدور ہو۔
ندیم کی کتاب الفہرست میں ابو زید احمد بن سہل بلخی کے تعارف میں بلخی کا یہ بیان درج ہے: ’’حسین ابن علی مَرْوَرَّوْذِی (سامانیوں کے فوجی کمانڈر) میرے لیے مستقل طور سے متعین وظائف جاری رکھتے تھے۔ لیکن جب میں نے اپنی کتاب جو تاویلات کی کیفیت کے بارے میں تھی، املا کرائی تو انھوں نے وہ سلسلہ روک دیا۔ اسی طرح ابوعلی جَیہانی (سامانی وزیر) کی طرف سے بھی میرے لیے مشاہرہ جاری تھا۔ لیکن جب میں نے اپنی کتاب القرابین والذبائح املا کرائی تو مجھے مشاہرے سے محروم کردیا۔‘‘ حسین کا تعلق قرامطہ سے تھا جب کہ جیہانی دوئی پرست تھا۔ یعنی زرتشتی مذہب پر جو کہ نور و ظلمت کی دوئی کی ازلیت کا قائل ہے۔ (جاری)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

اسلامی تمدن میں اسکالر شپ کا نظام

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223