قرآن مجید کا سائنسی اعجاز

سائنسی اعجاز قرآن کے گونا گوں پہلو

سائنسی اعجاز کی چند مثالیں ذیلی سطور میں پیش کی جارہی ہیں، مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَھُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ھٰذا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ ھٰذا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَّ جَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخاً وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْراً (الفرقان:53)

(اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ ایک رکاوٹ ہے جو انھیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔)

دوسرے مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

مرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ بَیْنَھُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِ (الرحمن : 19-20)

(دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاز نہیں کرسکتے۔)

ان دونوں جگہ کی قرآنی آیات میں دو مختلف بحری مظاہر فطرت کو پیش کرکے اللہ کی قدرت کے ایک عجیب مظہر بنامِ برزخ یعنی پانی میں موجود دو علیحدہ قسم کے پردوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حیرت اس امر پر ہے کہ دونوں قسم کے پردوں کا وجود زمانۂ نزول قرآن میں کسی بھی ماہی گیر یا ماہر سمندر کے ا حاطۂ علمی میں نہ تھا۔ ان دو واقعاتِ فطرت میں مخفی طبیعیاتی و کیمیاوی پردوں کے وجود کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جب دو حقیقی سمندر مثلاً شمالی بحر اوقیانوس (North Atlantic Ocean)اور بحیرۂ روم (Mediterranean Sea)ترکی کے نزدیک آپس میں ملتے ہیں تو ایک غیرمرئی پردہ وجود میں آتا ہے،یہ پردہ دو سمندروں کی قدرے مختلف نمکیت (Salinity)سے پیدا ہوتا ہے جو شمالی اوقیانوس میں 35 یونٹ سے کم اور بحیرۂ روم میں 35 یونٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس برزخی نمود کی اصل وجہ ایک لطیف طبیعیاتی مظہرہے جس کو سطحی دباؤ (Surface tension)کہتے ہیں جس کی وجہ سے ان دو سمندروں کے پانی ملنے کے باوجود کچھ دیرتک طبیعیاتی و کیمیاوی طور پر مدغم نہیں ہوتے اور یہ پردۂ تمیزی وقتی طور پر قائم رہتا ہے البتہ مکانی مشاہداتی فریم میں یہ پردہ مستقل طورپر قائم رہتا ہے جو لوگ آج بھی اس کو وہمی اور تصوراتی پردہ کہتے ہیں وہ نفرت انگیز تعصب (Islamophobia)کے شکار ہیں کیوں کہ یہ معاملہ زمانی اور مکانی فریم (Frames)کے فرق کا ہے۔ مذکورہ بالا ساری تفصیل تو سورۂ الرحمن کی آیات نمبر 19،اور 20 کے متعلق ہے، جبکہ سورہ الفرقان کی آیت 53 شیریں اور تلخ و شور پانی والے دوسمندروں کے ملنے پر پیدا ہونے والے پردے کاذکر کرتی ہے۔اس قسم کا مظاہرہ بعض کھاڑیوں(Estuaries) میں مختلف الکثافت خطے یعنی پکنوکلائن زون(Pycnocline Zone) بننے کی وجہ سے ایک لطیف پردہ کی شکل میں عموماً ہوتا ہے اور الاسکا کی کھاڑی میں گلیشیر کے پانی کے ملنے سے دبیز پردہ کی شکل میں چشم بصارت بھی اسے بہت واضح طور پر دیکھتی ہے یہاں دونوں پانیوں کی نمکیت (Salinity)کے ساتھ ان کی کثافت (Density)اور درجۂ حرارت کا فر ق بھی اس حجابی برزخ کا ذمہ دار ہے،[1]کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اس میں اعجاز قرآنی کیا ہے؟ تو اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ نزول قرآن کے زمانے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طبیعیاتی حقیقت بیان کرنے والا کوئی انسان نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ نہ تواس وقت پکنوکلائن زون کا علم تھا اور نہ الاسکا جو شمالی امریکہ کی شمال مغربی حدود میں واقع ہے، اس علاقہ تک کسی مشرقی ملاح کی رسائی ہوسکی تھی۔براعظم ا مریکہ جس کو نئی دنیا کہا جاتا ہے اس کی دریافت نزول قرآن سے صدیوں بعد ہوئی اور الاسکا تو بہت بعد میں اٹھارہویں صدی عیسوی میں ایک ڈچ ملاّح نے دریافت کیا۔مزید حیرت انگیر امر یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم توریگستان ِعرب کے رہنے والے تھے، ان کا کوئی سمندری سفربھی تاریخ میں معلوم ومحفوظ نہیں ہے۔ اس مظہر کے خدائی ربوبیت کے پہلو پر مولانا مودودی ؒنے سمندر کے بیچوں بیچ شیریں پانی کے چشموں کا ذکر بھی اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں کیا ہے[2]۔ البتہ یہاں خصوصاً قرآن کا زور اس برزخ اور پردے پر ہے جو ایک واضح سائنسی نوعیت کا مظہر ہے اور جس تک رسائی چودہ سو سال قبل ممکن نہیں تھی۔

قرآن مجید میں سائنس دانوں کو متوجہ کرنے والی آیات تو بلا مبالغہ سینکڑوں ہیں اور ہر آیت ان کو چیلنج پیش کرکے اس اعتراف پر مجبور کررہی ہے کہ قرآن مجید کی حقانیت اور اعجاز پر کسی قسم کے شک و شبہہ تک کی گنجائش نہیں ہے۔ بہر کیف ہم اپنے اس موضوع بحث کو سورۂ الانبیاء کی تیس تا تینتیس آیات کے مجموعہ پر مرکوز کرتے ہوئے یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کے طبیعیاتی مظاہر پر غور و تدبرکی دعوت دے کر ان حقائق کی طرف رہ نمائی کرتا ہے جو انسانی فوز و فلاح کے لیے ناگزیر ہیں، کیوں کہ قرآن کریم کے نزدیک یہی حقیقت علم ہے، مقصد علم ہے اور معرفت حق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوٓا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاہُمَا ط وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآء کُلَّ شَیْْء ٍ حَیٍّ ط أَفَلَا یُؤْمِنُونَ (30) وَجَعَلْنَا فِیْ الْأَرْضِ رَوَاسِیَ أَنْ تَمِیْدَ بِہِمْ ط وَجَعَلْنَا فِیْہَا فِجَاجاً سُبُلاً لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ (31) وَجَعَلْنَا السَّمَآئَ سَقْفاً مَّحْفُوظاً وَہُمْ عَنْ اٰیَاتِہَا مُعْرِضُوْنَ (32) وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ (الانبیاء:33)

(کیا وہ لوگ جنھوں نے (نبی کی بات ماننے سے) انکار کردیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی؟ کیا وہ (ہماری خلّاقی کو) نہیں مانتے؟ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دئیے تاکہ وہ انھیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنادیں۔ شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کرلیں۔ اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔مگر یہ ہیں کہ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔)

ان آیات میں چند اہم امور قابل غور ہیں اولاً کیا لوگوں نے یہ نہیں دیکھا یا غور نہیں کیا، ثانیاً زمین و آسمان ملے ہوئے تھے پھر ہم نے جدا کیا، ثالثاً پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، رابعاً ہم نے زمین میں پہاڑ جما دئیے تاکہ وہ انھیں لے کر ڈھلک نہ جائے، خامساً ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا، سادساً سورج اور چاند کو پیدا کیا (اور)سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ ان چار آیات میں یہ چھ باتیں سائنس دانوں کے کان کھڑے کرنے والی ہیں اور قرآن مجید کے مخاطب اس جگہ وہ لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے منکر ہیں خواہ وہ زمانہ ماضی کے ہوں، حال کے یا مستقل کے۔اب یہاں ہمارے چند سوالات اہل سائنس سے ہیں کہ کیا آج عصری سائنس اکثر لوگوں کے قرآن پر ایمان لانے میں حجاب نہیں بنی رہتی ہے؟ کیا آج مغربی سائنس نے الحاد و مذہب بے زاری میں زبردست منفی رول ادا نہیں کیا ہے؟ کیا سائنس جدید کے علمبردار قرآن حکیم کو محض ایک مائتھالوجی اور اساطیر الاولین کی کتاب نہیں سمجھتے؟ کیا سائنس دانوں نے یہ باور کیا ہے کہ یہ کتاب کہیں خود ان سے خصوصاً مخاطب بھی ہوئی ہے؟ کیا انھوں نے ایک لمحہ ٹھہر کر کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ خلّاق عالم کا کلام ہوسکتا ہے؟ کبھی ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہے کہ جس کائنات میں ہم رہتے ہیں وہ اتنی خوبصورت، اتنی نفع بخش، اتنی بے خلل اور باہم دگر مربوط متوازن کیوں ہے؟ اس کائنات میں ہمارا مادی وجود اور کائنات سے پوری آہنگی اور ہمارا عقلی وجود مگراس کے باوجود علمی کم مائیگی جیسے سوالات کے جوابات آخر کیا ہیں؟ کیا یہ سوالات ہمیں اس کائنات کے بنانے والے کی طرف اور ہماری زندگی کو بامقصد بتانے اور بامعنی بنانے کی طرف متوجہ نہیں کرتے؟ کیا یہ سوالات عوام و خواص کسی کے لیے بھی کم اہم ہیں؟ کیا سائنس دانوں کے لیے یہ عجائبات قدرت، معرفتِ اشیا کی منزل تک نہیں لے جاتے؟ کیا معرفتِ اشیا کی قدر و اہمیت معرفتِ خالقِ اشیا کے بغیر اور معرفتِ خالقِ اشیا کی قدر معرفت ِاشیا کے بغیر مکمل ہوسکتی ہے؟اگر تمام سوالوں کا تسلی بخش جواب قرآنِ مجید میں موجود ہے تو وہ کتابِ علم وہدایت ہی نہیں بلکہ کلام اللہ بھی ہے اور کلام اللہ ہی نہیں بلکہ زندہ و جاوید معجزہ بھی ہے۔

انہی آیات کے تعلق سے اب ہم ان روایتی علماء سے بھی کچھ سوالات کی اجازت چاہتے ہیں جو قرآن حکیم کی ان آیات کی سائنسی تاویل کو برسر غلط سمجھتے ہیںمثلاً یہ کہ قرآن مجید اول تو آفاق و انفس یا کائنات میں غور و فکر کی دعوت ہی کیوں دیتا ہے؟ ثانیاً یہ کہ قرآن کائنات کے ان عجائبات قدرت اور ان مشاہدات کی طرف ہماری توجہ ہی کیوں مبذول کراتا ہے جو کہ کسی نہ کسی درجہ میںسائنسی مباحث ہیں ؟مثلاً یہ کہ ‘جَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیٍٔ حَیٍ’’ یعنی ہم نے ہر چیز کو پانی سے حیات بخشی یا یہ کہ ‘‘ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِھِمْ’’ یعنی ہم نے زمین میں پہاڑ جمادیے تاکہ وہ ان لوگوں کو لے کر ڈھلک نہ جائے، بالخصوص مؤخر الذکر آیت میں ہمارے نزدیک عجیب بات یہ ہے کہ یہاں ’’زمین میں پہاڑجمادیے‘‘ فرمادینا کافی تھا اس پر مزید یہ بتانا کہ ’’تاکہ وہ انھیں لے کر ڈھلک نہ جائے‘‘٭ بظاہر یہ اضافہ غیر ضروری معلوم ہوتاہے اوراس صورت میں قرآنی فصاحت و بلاغت کو مجروح کرتا ہے، اِلاّ یہ کہ اس ٹکڑے کی کوئی قابل اطمینان توجیہ کی جائے،بلکہ ہمارے نزدیک یہاں رحمت و ربوبیت الٰہی کی یاد دہانی کے لیے بھی زمین کا ڈھلکنے سے بچانے کا ذکر کردینا کافی تھاتویہاں پہاڑوں کو درمیان میں کیوں لایا گیا؟ویسے بھی نزول قرآن کے وقت تو سورج کا زمین کے گرد گھومنے کا تصور تھا جبکہ زمین کی محوری حرکت کا تصور بالکل دھندلا تھا۔اور اگر زمین کی محوری گردش بھی تسلیم کرلی جائے توبھی زمین کا ڈھلکنا ان کے نزدیک ایک دو کی کوڑی تھی۔ لہٰذا ان کے لیے ڈھلکنے کی بات بالکل عجیب اور نئی سی ہے جس میں عوام کے لیے بین احسان کا پہلو ڈ ھونڈنا بھی محل نظر ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ پہاڑوں کے زمین میں جمانے سے اس کے ڈھلکنے کا تعلق قرآن کے ایک سائنسی اعجاز کا موضوع ہی ہے۔ یاد رہے کہ ہم احسانات الٰہی کی یاد دہانی کے لیے اس طرح کی قرآنی تفہیم کا انکار ہر گز نہیں کررہے ہیں بلکہ اس قرآنی تفہیم ہی کے طریقہ و آلہ کے بطور علم سائنس کے رول کو اُجاگر کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح رات و دن کا سورج و چاند  سے تعلق توہمارے نزدیک عقل میں بغیر سائنسی حوالہ کے آسکتا ہے مگر آگے یہ فرمانا کہ‘‘ کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ’’ یعنی سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ اس کا تعلق سائنسی معلومات سے ہے یا یوں کہیں کہ ان آیات کی تفسیر میں جن علوم القرآن کی مدد کی ضرورت ہے ان کی ترتیب میں علم سائنس کی اوّلیت سے انکار ناممکن ہے۔ ان جیسی آیات کی بہترین تشریح علم سائنس کی مدد لیے بغیر ممکن نہیں۔مزید سوال یہ بھی ہے کہ کیا قرآن مجید پر غور و تدبر کوئی شخص اپنے تجزیہ و معلومات نیز مشاہدہ اور تجربہ کو بالائے طاق رکھ کر اور ان سے ہٹ کر کر سکتا ہے؟[3]۔

سورۂ الانبیاء کی چاروں مذکورہ بالا آیات دور جدید کے سائنس دانوں کے لیے قرآن سے رشتہ استوار کرنے اور اس کو معجزہ جاوداں تسلیم کرانے میں ناقابل بیان اہمیت کی حامل ہیں۔ اِن میں ہر آیت کے سائنسی اعجاز پر علیٰحدہ کتابیں لکھنے کااس وقت خاصا مواد موجود ہے۔ البتہ صفحات کی تنگی بیشک ہمیں مجبور کررہی ہے کہ ان آیات پر محض سرسری نظر ہی ڈالی جائے۔ سورہ الانبیاء کی ان مذکورہ بالا آیات میں پہلی آیت کے پہلے جزء میں ‘‘ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاھُمَا’’ کا تعلق‘‘اَنَّ السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ’’ سے بالکل عیاں ہے یعنی‘‘یہ سب آسمان اور زمین (یکجا) ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان دونوں کو (پھاڑ کر) علیٰحدہ کردیا۔’’ آسمانوں کی حقیقت و ماہیت سے آج تک کوئی واقف نہیں ہاں البتہ زمین سے وراء و بالا جو کچھ ہے اس کو ’’السموٰات‘‘ کہنا نزول قرآن سے قبل بھی درست تھا اور آج بھی اتنا ہی درست سمجھا جاتا ہے لہٰذا قرآن مجید کی اس آیت میں کسی ایسے واقعہ کا ذکر ہونا ہی سمجھ میں آتا ہے کہ جس میں یہ دونوں کسی بڑے انفجار کے نتیجہ میں علیٰحدہ علیٰحدہ ہوگئے۔

دنیا میں اس انفجار کو بگ بینگ(Big Bang)کا نام دیا جاتا ہے، یہ نظریہ دو صدیوں پرانا بھی نہیں جبکہ قرآن مجید میں یہ چودہ سو برسوں سے موجود ہے۔ صدیوں تک اس جزء آیت کی کوئی نہ کوئی عقلی توجیہ کی جاتی رہی اور یہ حقیقت ہے کہ فی زمانہ عظیم انفجار(Big Bang )بگ بینگ کے نظریہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اس آیت کی دل لگتی تشریح گویا یہی نظریہ کرتا نظر آتا ہے۔ جب یہ نظریہ منصہ شہود پر نہیں آیا تھا تو سائنسداں حضرات بھی کائنات کی پیدائش کے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے اور تصور رکھتے تھے۔ اسی طرح ہمارے مفسرین بھی اپنی عقل و معلومات کی روشنی میں اپنی آرا کا اظہار کرتے تھے البتہ اس آیت میں سائنسی اعجاز کے علم سے وہ بھی محروم تھے۔ اللہ رب العزت نے حٰم السجدہ کی آیت 53 میں جو پیشین گوئی اور قرآنی حقانیت کے ظہور کا جو وعدہ کیا ہے وہ عظیم انفجار(Big Bang) سے موسوم نظریۂ سائنس کے منصہ شہود کے بعد ہی ماہرینِ علومِ قرآن کی عقلی گرفت میں آیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

مذکورہ بالا آیات میں پہلی آیت ہی کا دوسرا جزء ہے کہ ‘‘وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ اَفَلاَ یُؤْمِنُوْنَ’’  یعنی ’’ہم نے ہر زندہ چیز پانی سے بنائی کیا وہ نہیں مانتے؟‘‘ اب اسی آیت کے ابتدائی اور انتہائی حصوں پر ذرا تدبر کی نظر ڈالیں کہ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں علم حیاتیات ترقی کی جو اعلیٰ منازل طے کرچکا ہے ان کی روشنی میں قرآن مجید کی حقانیت میں بالیقین ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں۔ یہ بھی سائنسی حقیقت ہے کہ تمام جاندار خلیات پر مشتمل ہوتے ہیں جن کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ لہٰذا پانی کا سب سے زیادہ تناسب اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ غالباً حیاتیاتی اشیا کا آغاز پانی میں ہوا اور یہی آج کی سائنسی تصورِ حیات کا لبّ لباب ہے۔ اس آیت کے ساتھ جب انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن میں آتا ہے تو سائنسی اعجاز کے مزید گوشے منکشف ہوتے ہیں جن میں‘‘مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَائٍ مَسْنُوْنٍ’’ (الحجر: 26)بھی ہے اور‘ طِیْنٍ لَّازِبْ’ (الصّٰفٰت: 11)کا مرحلہ بھی۔ یہ سب مل کر حیاتیاتی ارتقاء کے قرآنی اور سائنسی تصورات میں ہم آہنگی کو مؤید و مؤکد کرتے ہیں۔اور حیرت ہے کہ ہر نیا زمانہ قرآن کے گذشتہ سائنسی تصور سے زیادہ ہم آہنگ ہوتا ہے اور یہ قرآن کے سائنسی اعجاز کی دوسری جہت ہے۔

اس مقام پر بالخصوص آیت نمبر 31 میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ‘‘ وَجَعَلْنَا فِیْ الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِھِمْ’’ یعنی ہم نے زمین میں پہاڑ جمادیے تاکہ وہ انھیں لے کر ڈھُلک نہ جائے اور دوسرے مقام پر‘‘ وَالْجِبَالَ اَوْتَاداً’’ (النباء:7) یعنی ’’پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا‘‘کا اسلوب اختیارکیاگیا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے مقصد وجود کے تحت زمین کے توازن کو قائم کرنے کی حکمت اور منفعت بخشی کا ذکر کیا ہے۔ قرآن مجید کے نزول کے وقت تو کجا اس کے صدیوں بعد تک پہاڑوں کی جڑوں کا زمین میں میخوں کی طرح پیوست ہونا معلوم نہیں تھا۔ سائنس کی جدید دریافتوں سے قرآن کے مذکورہ دونوں بیانوں کی صداقت پوری طرح ثابت ہوتی ہے[4]۔ اس سلسلہ میں ذرا مزید تفصیل سے بتانا دل چسپی سے خالی نہیںہوگا۔ مثال کے طور پرکوہ ایورسٹ کی چوٹی سطح سمندرسے نو کلومیٹر اونچی ہے جبکہ اس کی جڑیں ایک سو تیس(130)کلو میٹر گہرائی تک ہیں۔ الحمد للہ زمین کو زلزلوں سے بچانے اور اس کے توازن کو قائم کرنے میں پہاڑوں کا ممد و معاون ہونازمانۂ حال کی سائنسی دریافتوں کا اہم حصہ ہے۔

اس سورہ کی 32ویں آیت میں فرمانِ ربّانی ہے‘‘وَجَعَلْنَا السَّمَائَ سَقْفاً مَحْفُوْظاً ’’یعنی اور’’ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا۔ یہ قرآن مجید کا ایک اور اعجاز ہے جو زمانہ گزرنے کے ساتھ سائنسی انکشافات کا بے پناہ ذخیرہ قرآن مجید کی تائید میں لارہا ہے۔ ایک طرف اوزون کی پرت زمینی جانداروں کو سورج کی زہریلی بالائے بنفشی شعاؤں سے بچاتی ہے تو دوسری طرف مقناطیسی پرت (Magnetosphere)سورج کے طوفانی شعلوں (Solar storms)سے بچاتی ہے۔ تیسری طرف خلاء کی منجمد کرنے والی منفی حرارت سے بچانے کے لیے آینواسفیر(Ionosphere)ایک حرارتی حاجز (Heat Insulator)کا کام کرتا ہے۔ چوتھی طرف خلاء سے شہاب ثاقب (Meteors)کی ہلاکت خیز موسلادھار بارش اس دنیا میں کسی جاندار کو زندہ نہ رکھتی اگر زمین کا فضائی کرہ (Atmosphere)نہ ہوتا۔ مزید برآں یہی فضائی کرہ زمین کے درجۂ حرارت کے توازن وتناسب میں کلیدی رول ادا کرتا ہے ورنہ اس کرۂ ارضی کی حیاتیاتی شناخت ناممکن تھی۔اور اخیر میں نہ کہ آخری نکتہ کے بطور عرض ہے کہ اسی فضائی کرہ کے وجود سے پانی کا ارضی و سماوی نظام قائم ہے۔غرضیکہ زمین سے اوپر نیلگوں اور ستاروں بھرا آسمان محض آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری حفاظت کا کتنا بڑا ذ ریعہ ہے، اس کا تصور بھی محال ہے[5]۔

اب ذرا سورہ الانبیاء کی 33ویں آیت کو لیں، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ‘یعنی ‘‘اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا، یہ سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں۔ ’’

اس آیت میں بھی سائنسی دل چسپی کے گوناگوں پہلو ہیں، سب سے پہلے یہ کہ سورج اور چاند کے ذریعہ انسانی زندگی میں بقا اور نمو کے بے شمار فوائدحاصل ہوتے ہیں کہ سورج ہی انسانی و حیوانی اور نباتاتی حیات کی اصل ِ وجود(Life Line)ہے بلکہ سورج اور چاند دونوںخشکی اور تری میں حیوانی زندگی کی صحت اور نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح رات اور دن کے اختلاف و تغیرات میں خالق اور رب کائنات کی خلّاقی و ربوبیت کی جو بے شمار نشانیاں ہیں ان کا احاطہ ممکن نہیں اور ان موضوعات پر متعدد سائنسی کتابیں موجود ہیں جو ان اختلاف و تغیرات اور سورج و چاند کی منفعت کو بہتر انداز میں اجاگر کرتی ہیں۔ یہاں قرآن کے اس سائنسی اعجاز کو خصوصاً یاد دلانا ضروری ہے کہ اس کتاب میں سورج اور چاند بلکہ ہر ایک جُرَمِ فلکی(Galaxial body)کو خلائی مدار میںمحوری گردش کے با وصف جو تیرتا ہوا بتایا گیا ہے وہ نزولِ قرآن کے وقت کے تمام نظریات سے صدیوں آگے کی بات تھی۔

ایک دل چسپ اور اہم سائنسی انکشاف زمانۂ حال ہی میں لوہے کی زمین پر موجودگی کے بارے میں یہ ہوا کہ ہمارے نظام شمسی میں یہ استطاعت نہیں کہ اس میں لوہا پیدا ہوسکے مزید برآں گذشتہ چند صدیوں میں لوہے کا خزینۂ قوت اور منفعت بخش ہونا سائنسی سطح پر بھی اُجاگر ہوا ہے[6]۔ اب ہم یاد دلادیں کہ سورہ الحدید کی پچیسویں آیت میں ارشاد ربانی کا ایک جز ہے‘‘ وَاَنْزَلْناَ الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَأْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ’’  یعنی اور ‘‘ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔’’ قرآن مجید کا یہ بیان کتنا برمحل اور سائنسی اکتشافات سے ہم آہنگ ہے کہ وہ لوہے کے لیے ‘‘خَلَقْنَا’’ اور‘‘جَعَلْنَا’’ کے بجائے ‘‘اَنْزَلْنَا ’’ کے کلمہ کا استعمال کرتا ہے۔ لوہے کے ارضی وجود کے بارے میں محکم عصری سائنسی نظریات یہ ہیں کہ در اصل لوہا صرف اس زمین کا تو کجا ہمارے نظام شمسی کابھی عنصر (Element)نہیں ہے بلکہ غالباً اس کہکشاں میں موجود ہمارے سورج سے بہت بڑے اور دہکتے سورج (Nova or super nova)کی ہزاروں گنا زیادہ حرارت سے وجود میں آیا ہے اور اس کا کوئی ٹکڑا کسی طرح خلا میں سفر کرتا ہوا ہماری زمین پر آگرا۔ اس نظریہ کو مزید تقویت ایسے پہنچی ہے کہ زمین پر گرنے والے بعض شہابیوں میں اس کی خاصی مقدار پائی گئی ہے، مزید برآں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق آج سے تین سے پانچ ہزار سال قبلِ مسیح قدیم مصر کے حطیوں نے اس کو پہلی بار شہابیوں کو گلا کر حاصل کیا۔ اب ذرا اس کی قوت بخشی اور نفع رسانی پر بھی غور و تدبر کریں کہ لوہا انسانی نظام حیات میں کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے کہ یہ ہمارے خون کے سرخ ذرات میں موجود ہیموگلوبن کا بنیادی عنصر ہے جس کا کام آکسیجن کو جسم کے ہر خلیہ تک پہنچانا ہے، یہاں یہ عرض کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آکسیجن کی منفعت بخشی در اصل ہیموگلوبن میں موجود لوہے کی آکسیجن سے نرم مگر مضبوط پکڑ(Gentle but strong bond)کی مرہون منت ہے لہٰذا قرآنی اشارہ‘‘فِیْہِ بَأَسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ’’  سے ایک مومن بایوکیمسٹ کتنا حظ حاصل کرتا ہوگا اور اس کے ایمان میں کتنی تقویت ہوتی ہوگی وہ اور اس کا رب ہی جانتا ہے۔ سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ سبحان اللّٰہ العظیم

اس زمین میں لوہے کی موجودگی ہماری زمین کے مقناطیسی کرہ (Van Allen Radiation Belts)کے بننے کا بھی ذ ریعہ ہے جو آفتابی شعلوں کے طوفانوں(Solar Storms)سے بچاتی ہے بلکہ ہمارے سارے کرۂ ارضی کے فضائی ماحول (Atmosphere)کے بننے کا بھی سبب ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوہے کے بغیر کاربن پر مبنی ارضی حیات ناممکنات میں سے ہے، اورنہ ابتدائی زمین کی اتنی حرارت ہوتی کہ جس سے فضائی ماحول (Atmosphere)اور کرۂ آب (Hydrosphere)کا وجود ممکن ہوسکاہے لہٰذا لوہا اس کائنات کی حیاتیاتی مرکزیت(Biocentricity)کی شاہ کلید بھی قرار پاتا ہے اور یہ سب کچھ‘‘اَنْزَلْنَا الْحَدِیْد’’کامعجزانہ کلمۂ قرآنی کا فیض ہے۔

قرآن مجید کے سائنسی اعجاز کا ایک دل چسپ پہلو یہ ہے کہ قر آن مجید کے نزدیک نہ صرف آفاق و انفس کی نشانیوں میں سائنس دانوں کے لیے حیرت کے سامان ہیں کہ آج سے چودہ سو سال قبل عرب کے ایک امیؐ کی زبان سے وہ سائنسی حقائق نکل رہے تھے جن سے اُس زمانہ کی متمدن دنیا اور دنیائے سائنس بھی خاموش بلکہ نابلد تھی، سائنس دانوں کو اس سے بڑی حیرت اس امر پر ہے کہ قرآن مجیدتو آگے بڑھ کر نئے سائنسی تحقیقات کے لیے بعض ایسے اشارے اور محرکات فراہم کرتا ہے جن پر ماہرینِ فن عش عش کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں [7]اور اس سے بھی آگے بڑھ کر صداقت و اعجازِ قرآنی کی تصدیق و ثبوت کے لیے نئے نئے انکشافات سورہ فصلت کی مذکورہ بالا قرآنی پیشین گوئی کے حق میں فراہم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ الحمد للہ

مذکورہ بالا دعووں کی تصدیق اور اسی اجمال کی تفصیل کے لیے چند مثالیں ذیلی سطور میں پیش کی جارہی ہیں:

اللہ تعالیٰ نے سورہ الرحمن میں فرمایا:

وَّالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ط اَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ (الرحمن :7-8)

(آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی، خبردار اس میزان میں سرکشی نہ کرو۔)

یہاں آسمان کے بلند کرنے سے میزان کا قائم کرنا کوئی نہ کوئی منطقی ربط تو ضرور رکھتا ہوگا نیز اس میزان کا انسانی دست برد کے سبب بگاڑ کاپیدا ہونا بھی اس اشارۂ قرآنی سے ثابت شدہ امر ہے۔ بالفاظ دیگر اس سرکشی کے نتیجہ میں سمائی میزان میں عدم توازن کا پیدا ہونا نظامِ قدرت میں گویا اُس قانونِ فطرت کے بطور مقدر تھا، جس کے خلاف پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا۔ مگر دشمنِ فطرت فلاسفہ اور سائنس دانوں نے صنعتی انقلاب کے نام پر اس سمائی میزان کو درہم برہم کردیا اور اب اپنے کرتوت کا دنیوی وبال، عالمی ماحولیاتی بحران کی شکل میں سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

اس آیت کو سورہ الروم کی آیت 41 سے ملا کر پڑھنے سے اس کے مزید گوشے وا ہوتے ہیں پس ارشاد ربانی ہے:

ظَھَرَ الفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النِّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ(الروم: 41)

‘‘خشکی اور تری میں ا نسانوں کے کرتوت کے بموجب فساد رونما ہوگیا ہے تاکہ لوگوں کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائیں، بہت ممکن ہے وہ باز آجائیں۔’’

سورۂ الرحمن کی مذکورہ بالا آیات سمائی میزان میں سرکشی کرنے سے زوردار انداز میں روک رہی ہیں، جو نظامِ فطرت کے بدیہی دنیوی انجام کو بتانے کے لیے‘ ‘ اشارة النص’’  ہیں اور سورہ الروم کی اکتالیسویں آیت عالمی ماحولیاتی بحران کا ذمہ دار اس سرکش انسان کو بناتی ہیں جس کا ذکر سورہ الرحمن کی متذکرہ آیات میں‘‘ دلالة النص’’ کی شکل میں ربّ ذو الجلال نے چودہ سو سال قبل کردیا تھا، چناں چہ گلوبل وارمنگ، اوزون ہول، موسمیاتی بگاڑ،اور اکالوجکل عدم توازن سبھی ‘‘اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ’’ سے اعراض کے شاخسانے ہیں۔ اگر انسان اب بھی باز آجائے اور بگڑی سمائی میزان کو سنوارنے میں لگ جائے تو ‘‘لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ’’ والوں میں شامل ہو کر مزید خسارے سے بچ سکتا ہے۔ سائنسی تحقیقات پوری طرح سے ان قرآنی بیانات کے حق میں ہیں[8]۔ قرآنی اعجاز کا یہ تنبیہی اور اصلاحی پہلو بھی یہاں ذہن میں رہے۔

حواشی و مراجع

[1] Gross, M. Grant,  “Oceanography”,  Prentice Hall International ed. p.242, 1987; Davis, Richard, A., “Principles of Oceanography”, A.W. Longman, p. 93, 1977; Thurman, H.V., “Introductory Oceanography”, Prentice Hall Ist Ed. pp. 300-301, 1997.

[2] مودودی،سید ابوالاعلیٰ، تفہیم ا لقرآن، مرکزی مکتبہ نئی دہلی۲۰۱۴ء، جلد سوم، سورہ الفرقان، حاشیہ ۶۸،ص۴۵۸۔

[3] احمد،سید مسعود،’’ عظمت و اعجازِ قرآنی کے عجیب و غریب پہلو‘‘، ادارہ دعوت القرآن، لکھنؤ۲۰۱۸ء، ص ۹۵-۹۷۔

[4] Grotzinger, John, P. & Jordon, Thomas, P. “Understanding Earth” W.H. Freeman 2014, P. 630.

[5] www.firstscience.com/SITE ARTI/magnetosphere.asp

[6] http://rationalreligion.co.uk / 9- scientific miracles of the quran/ bloggar: Umar Nasser, 1st Jan. 2020

[7] احمد،سید مسعود، ’’سائنسی تحقیقات کا قرآنی محرک، تحقیقات اسلامی، علی گڑھ، جولائی -ستمبر ۱۹۸۴، ص ۱۰۳ تا ۱۱۵

[8] احمد،سید مسعود ،’’ماحولیاتی بحرانی: اسباب و علاج‘‘ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی۲۰۱۱ء، ص ۲۲، ۲۸، ۵۳، ۶۷

مشمولہ: شمارہ اگست 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223