فکرِ آخرت

سید لطف اللہ قادری فلاحی

عَنِ ابْنِ عمر رضی الللہ عنہما قال: اَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلُّٰی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَنْکبِیَّ فَقَالَ: ’’کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أوْ عَابِرٌ سَبِیْلِ وَکَانَ اِبْنُ عُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ’’ اِذَا اَمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الصَّبَاحَ وَاِذَا اَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرْ اَلْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِکَ لِمَرْضِکَ وَمِنْ حَیَاتِکَ لِمَوتِکَ ( رواہ البخاری)

ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دونوں شانوں سے پکڑا اورفرمایا’’ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو گویا تم پردیسی ہویا مسافر ہو‘‘۔ اور ابن عمررضی اللہ عنہما اس حدیث کی تشریح یوں فرمایا کرتے تھے: جب تم زندہ سلامت شام کرو توصبح کو زندہ سلامت ہونے کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کے وقت زندہ سلامت ہوتو شام کوزندہ سلامت ہونے کا انتظار نہ کرو اوراپنی صحت کواپنی بیماری کے لیے غنیمت جانو اور اپنی موت کوزندگی کے لیے غنیمت جانو‘‘۔ (بخاری)

عقیدۂ  آخرت

اس حدیث کی تشریح میں بعد میںکروںگا پہلے میں یہ وضاحت کرناچاہتا ہوں کہ دینِ اسلام سے عقیدۂ آخرت کی کیا اہمیت ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آخرت لازمی ہے اور آنےوالی ہے۔ دنیوی زندگی محدود ہے اور اخروی زندگی لا محدود ہے ۔ ہرانسان کو دنیا کی زندگی میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ آخرت میں  ملنے والا ہے۔ دنیا دار العمل ہے اورآخرت دار الجزاء ہے ۔

سورۃ الاعلیٰ میں فرمایاگیا :

بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝۱۶ۡۖ وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى۝۱۷ۭ اِنَّ ہٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى۝۱۸ۙ صُحُفِ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى۝۱۹ۧ

ترجمہ:’’ بلکہ تم دنیا کی زندگی کوترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ یہ بات پہلے صحیفوں صحف ابراہیم وموسیٰ میں بھی ہے‘‘۔

مذکورہ آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آخرت کی زندگی ہی باقی رہنے والی ہے اوریہ تعلیم قرآن کریم میں نئی تعلیم نہیں ہے ۔ بلکہ پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی انسانوں سے یہی کہا گیا تھا کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور بالآ   خرآخرت کی زندگی ہمیشگی کی زندگی ہوگی ا ور وہاں دنیا کے اعمال کا حساب وکتاب ہوگا اور جزا وسزا ملے گی ۔ مگر انسان اپنی کم عقلی اوراپنی کوتاہیوں کی وجہ سے دنیا کی زندگی کونہ صرف لمبی بلکہ شائد دائمی ہی سمجھتا ہے ۔

لیکن جب یہ ختم ہوجائےگی اور آخرت کے احوال پیش آئیں گے تواس وقت اِس زندگی کا مختصر ہونا صحیح طورپر ذہن نشین ہوجائے گا۔ پھراس وقت تو یوں محسوس ہوگا گویا کہ ایک دن یا شائد پورا دن بھی نہیں بلکہ دن کا کچھ حصہ ہی وہ دنیا میں رہا تھا۔ جیسے سورۂ یونس آیت نمبر 45 میں ہے :

وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ

’’اور جس دن وہ انہیں اکٹھا کرے گا ایسے معلوم ہوگا گویا وہ ایک گھڑی دن سے زیادہ دنیا میں  نہیں ٹھہرے ‘‘۔

اِسی بات کی طرف سرکار ِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے : ’’ کہ دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی ایک انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے اورپھر دیکھے کہ پانی کی کتنی مقدار اس میں لگ کر آئی ہے‘‘۔ (مسلم)

انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی

انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیاں فکر آخرت سے کبھی خالی نہیں رہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی آخرت کی فکر میں گزاری اوراپنے پیروؤں کوبھی یہی تعلیم دی کہ آخرت کوہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔

سورۂ ص کا مطالعہ کریں ۔ جہاں حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، حضرت ایوب ، حضرت ابراہیم، حضرت اسحٰق اورحضرت یعقوب علیہم السلام کا تذکرہ کیا گیا وہاں معاً بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ:

اِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِكْرَى الدَّارِ۝۴۶(ص:46)

ترجمہ:’’ ہم نے ان لوگوں کوایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی‘‘۔

’’یعنی ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا ، ان کی ساری فکر وسعی آخرت کے لیے تھی، وہ خود بھی اس کویاد رکھتے تھے اوردوسروں کوبھی اس کی یاد دلاتے تھے۔ اِسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کووہ مرتبے دیے جودنیا بنانے کی فکر میں منہمک رہنے والے لوگوں کوبھی نصیب نہ ہوئے۔ اس سلسلہ میں یہ لطیف نکتہ بھی نگاہ میں رہنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لیے الدار(وہ گھر یا اصلی گھر) کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ اس سے یہ حقیقت ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ یہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہے ہی نہیں بلکہ یہ صرف ایک گزرگاہ ، ایک مسافر خانہ ہے ۔ جس سے آدمی کوبہرِ حال رُخصت ہوجانا ہے ۔ اصلی گھر وہی آخرت کا گھر ہے ۔ جوشخص اس کوسنوارنے کی فکر کرتا ہے وہی صاحبِ بصیرت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک لا محالہ اسی کوپسندیدہ انسان ہونا چاہیے ۔ رہا وہ شخص جو اس مسافر خانہ میں چند روزہ قیا م گاہ کوسجانے کے لیے وہ حرکتیں کرتا ہے جن سے آخرت کا اصل گھر اس کے لیے اُجڑ جائے وہ عقل کا اندھا ہے اورفطری بات ہے کہ ایسا آدمی اللہ کوپسند نہیں آسکتا‘‘۔ (تفہیم القرآن ج ۴)

انبیا ء کرام علیہم السلام کی فکر آخرت کا اندازہ ان دو فقروں سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ ارشادفرماتے تھے ان میں سے ایک فقر ہ یہ ہے’’ وَالَّذِيْٓ اَطْمَــعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗــــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ۝۸۲ۭ  (شعرا ء :۸۲)’’اور رب سے امید کرتا ہوں کہ روزِ جزامیں وہ میری خطا معاف فرمادے گا‘‘۔

ان کا ایک دوسرا فقرہ یہ دعا ہے :

وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِيْمِ(شعرا ء :۸۵)

’’اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما‘‘۔

انبیاء علیہم السلام کے پیروؤں کی فکر آخرت

فکرِ آخرت انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے والوں پر چھائی رہتی تھی۔ حضرت موسیؑ اورساحروں کا جب مقابلہ ہوا تو مقابلہ کے بعد جب ساحروں پر حقیقت عیاں ہوگئی تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے اورفکر آخرت ان پر ایسی چھائی کہ وہ جان کی بازی کھیل جانے سے بھی نہیں ہچکچائے۔

سورۂ مومن کے مرد مومن کے سرگز شت پڑھیے وہاں بھی آپ کومعلوم ہوگا کہ اس مرد مومن نے اپنی جان پر کھیل کر جوتقریر فرعون کے دربار میں کی تھی انہیں اس پر فکر آخرت نے ہی آمادہ کیاتھا ۔ ان کی تقریر کا یہ فقرہ کتنا دل آویز اورایمان سے لبریز ہے کہ یَقُوْمُ اِنَّمَا ہٰذِہِ الحٰیوۃُ الدُّنْیَا مَتَعٌ وَاِنَّ اْلآخِرَۃَ ہِیَ دَارُالْقَرَارِ‘‘ ’’اے میری قوم یہ دنیا کی زندگی تو متاعِ زندگی تو متاعِ چند روزہ ہے اصل دار القرار تو آخرت ہے ۔‘‘

اقامتِ دین کے اگلے  قائدین

اقامتِ دین کے اگلے قائدین ومتبعین کی زندگیاں فکرِ آخرت اورانابت الی اللہ کی زندگیاں تھیں اوریہی وہ برقی روتھی جس نے انہیں زندگی کے آخری لمحے تک اللہ تعالیٰ کہ والہانہ اطاعت میں سرگرم رکھا۔ انہوںنے اقامتِ دین کے لیے سردھڑ کی بازی لگادی اورجب دین پوری طرح قائم ہوگیا تو اسے قائم رکھنے میں جان کھپادی ۔ اللہ کی عظمت، اس کا جلال، آخرت کی فکر اوریوم الحساب کی ہولناکی  کا تصو ر ان کےدماغ پر چھا گیا اوران کی رگ وپے میں سرایت کرگیا تھا ۔ اس چیز نے ان کے دلو ں کو نرم اور رقیق بنادیاتھا ۔ وہ قرآن کریم پڑھتے یا سنتے تو سسکیاں لینےلگتے۔ ان کے سینے سے ایسی  آواز نکلنے لگتی جیسے آگ پر ہانڈی پک رہی ہو۔وہ قبریں دیکھتے تو اتنا روتے کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہوجاتی ۔  وہ میدان ِ جنگ میں حیدر کرار تھےلیکن تنہائیوں میں خدا کے خوف اور آخرت کی فکر سے اس طرح کانپتے ، تلملاتے اوربے چین ہوتے جیسے انہیں بچھونے ڈنک ماردیا ہو۔ وہ صداقت وامانت میں صدیق ہوتے لیکن چڑیوں کوچہچہاتے دیکھتے تو کہہ اُٹھتے کاش میں بھی چڑیا ہوتا کہ آخرت کے حساب کتاب سے بچ جاتا ۔

وہ جب بازاروں کی نگرانی اورحکومت کے انتظام کے لیے نکلتے تو ان کے ہاتھوں میں دُرّہ ہوتا جس سے بڑے بڑے بہادر بھی تھرّاتے لیکن جہاں و ہ کسی مصیبت زدہ کو دیکھتے تو اس وقت تک انہیں چین  نہیں آتا جب تک اس کی مصیبت دور نہ ہوجائے۔ ان کی حکومت نیابت اِلٰہی کا اعلیٰ نمونہ تھی لیکن ان کے احساس کا حال یہ تھا کہ وہ اس بات سے ڈرتے کہ کہیں کوئی کوتاہی وبال نہ بن جائے۔

فکر آخرت کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ ایک دن خدا کے حضور میں حاضر ہوکراپنے اعمال کا جواب دینا ہے اس لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک شخص صحیح معنوں میں آخرت کی جزا وسزا پر ایمان رکھتا ہو اوراپنے قول وعمل میں دیانتدار نہ ہو۔

تاریخ اسلام سے روشن نمونہ

تاریخ اسلام میں ایسی بے شمار ہستیاں پائی جاتی ہیںجنہوںنے روشن نمونے چھوڑدیے ہیں ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ ایک دیانت دار خلیفہ راشد تھے۔ انہوںنے اپنی حکومت کی بنیاد ہی فکر آخرت پر رکھی تھی ۔ بیت المال سے صرف اتنا ہی خرچ لیتے تھے جوان کے گھر کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کردے۔ چراغ کی روشنی میں سرکاری کام کرتے مگر جب کوئی ملاقاتی آجاتا تو چراغ بجھادیتے۔ پوچھا گیا توفرمایا کہ اب تک سرکاری کام کررہا تھا۔ اب ذاتی کام کررہا ہوں۔

سلطان ناصر الدین محمود دہلی کے تخت کے مالک ہونے کے باوجود ذاتی اخراجات کے لیے خزانے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے ۔ وہ اپنے ہاتھ سے قرآن مجید لکھ کر روزی کماتے تھے۔ گھر میں کوئی کنیز نہ تھی اورملکہ کو اپنے ہاتھ سے کھانا پکانا پڑتا تھا۔ ایک دن انہوںنے سلطان سے ایک خادمہ کے لیے درخواست کی ۔ سلطان نے جواب دیا کہ تمہاری خواہش تو ٹھیک ہے مگر کیا کروں میں خزانے کامالک نہیں ہوں۔ اس کی مالک میری رعایا ہے ، اس میں سے کچھ لےنہیں سکتا۔ اپنے ہاتھ سے جوکچھ کماتا ہوں اس میں  اتنی گنجائش نہیں کہ لونڈی رکھ سکوں اس لیے صبر کرو ۔ خدا صبر کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔

واقعات بے شمار ہیں۔ اصل چیز یہ دیکھنی ہے کہ ان کے اندر یہ صفات کیوں کر پیدا ہوئیں ۔ اس کی وجہ صرف آخرت کی فکر اور اس کی جواب دہی تھی ۔ فکر آخرت ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ انسان کے اندر اچھے خصال اوراچھی صفتیں اوراچھے کردار پیدا ہوتے ہیں۔ دیانت داری، شجاعت، صبر و استقامت ، عالی ظرفی، جذبۂ صدقات وخیرات، اوقات کی قدر وقیمت کا احساس ۔ ان میں سے ہر صفت کے لیے احادیث وسیر ت میں بے شمار واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

فکرِ آخرت کا مطلب دنیا سے کنارہ کشی نہیں ہے

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اورصلحاء عظام کی  زندگیوں پر فکرِآخرت غالب رہتی تھی مگر ایسا نہیںتھا کہ اس فکر سے وہ دنیا ہی سے کنارہ کش ہوگئے ہوں بلکہ آخرت کی کامیابی کی خاطر انہوںنے دنیا میں جانوں ا ور مالوں کی قربانیاں دے کر اسلامی انقلاب کوکامیاب بنایا۔ اسلام کو نافذ کیا۔ خلافت راشدہ کی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ سب کچھ اس لیے کیا کہ آخرت سنور جائے۔ فکر آخرت کا اقامتِ دین سے لازم وملزوم کا رشتہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ اقامتِ دین کی جدوجہد میں لگنے والے لوگ کفن پوش ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ آخرت میں اپنے مالک حقیقی کے سامنے سرخرو ہوجائیں۔ وہ ان سے خوش ہوجائے اوراپنی خوشنودی کا گھر جنت مرحمت فرمائے۔

اقامتِ دین کی جدوجہد کرنےوالے ہر کارکن کوفکر آخرت کے لحاظ سے اپنے حالات کا صحیح جائزہ خود لینا چاہیے ۔ ہم میں ہر شخص کواپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہیے کہ اس کے دل میں آخرت کی فکر کتنی ہے ؟ جس قدر یہ فکر مضبوط ہوگی اتنا ہی وہ اللہ کی راہ میں سرگرم عمل ہوگا۔ جس کے اندر اس فکر میں جس حدتک سستی ہوگی۔وہ اسی قدر راہِ خدا میں جدوجہد کرنے میں سست رفتار ہوگا۔

حدیث کی تشریح

ابتداء میں جوحدیث پیش کی گئی تھی اس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ  دنیا میں اس طرح رہو جیسے ایک پردیسی پردیس میں رہتا ہے ۔وہ اس مقام کواپنا وطن نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح اس دنیا میں اس مسافر کی طرح رہو جوکسی سرائے کواپنا مستقل گھر نہیں سمجھتا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی تشریح ایک دوسری حدیث میں اس طرح فرمائی کہ مجھے دنیا سے کوئی تعلق نہیں میری اور اس دنیا کی مثال اس سوار کی مانندہے جوکسی درخت کے سائے میں دوپہر کاٹتا ہے پھروہ رختِ سفر باندھتا ہے اوراس درخت کے سایہ کوچھوڑ دیتا ہے ۔

امیر المومنین سید نا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کا قو ل ہے :’’ یہ دنیا تمہارے قرار کی جگہ نہیں ہے ۔ اللہ نے اس دنیا کے بارے میں فنا کا فیصلہ کیا ہے اوردنیا کے رہنے والوں کے لیے کوچ لازم قرار دیا ہے‘‘۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس حدیث کی شرح بیان فرمائی ہے کہ انسان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے ۔ ایک سکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی لہٰذا انسان کو ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی صبح بخیر وخوبی بسر ہوئی تو ضروری نہیں کہ اس کی شام بھی بخیر وخوبی گزرے گی۔

اِغْتَنِمْ فِیْ الْفَرَاغِ فَضْلُ رُکُوْعٍ

فَعَسٰی اَنْ یَکُوْنَ مَوْتُکَ بَغْتَۃً

کَمْ مِنْ صَحِیْحٖ مَاتَ مِنْ غَیْرِ سُقْمٍ

ذَہَبَتْ نَفْسُہُ الصَّحِیْحَۃُ فَمَاتۃً

’’فارغ البالی میں زیادہ سے زیادہ رکوع وسجود سے کام لوہوسکتا ہے کہ یکایک تمہاری موت آجائے اس لیے کہ کتنے ہیں جنہیں بیماری کے بغیر موت آئی اورتندرست وتوانا انسان چشم زون میں موت کی نذر ہوگئے‘‘۔

اوریہ جوفرمایا کہ اپنی صحت کوبیماری سے پہلے اوراپنی زندگی کوموت سے پہلے غنیمت جانو۔ اس کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری  حدیث سے ہوتی ہے۔جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ پانچ چیزوں کوپانچ سے پہلے غنیمت جانو ۔ جوانی کوبڑھاپے سے ، صحت کو بیماری سے پہلے، تونگری کوفقر سے پہلے ، فراغت کومصروفیت سے پہلے اورزندگی کوموت سے پہلے ‘‘۔

ان آیات واحادیث کا لب لباب یہی ہے کہ ہمیں فکر آخرت ہونی چاہیے۔ دنیا پر آخرت کوترجیح دینا چاہیے ۔ آخرت کی سرخروئی پر ہم سب کی نگاہ ہونی چاہیے۔

سَبِیْلُکَ فِیْ الدُّنْیَا سَبِیْلُ مُسَافِرِ

وَلَا بُدَّ مِنْ زَادٍ لِکُلِّ مُسَافِرٍ

وَلَا بُدَّ لِلْاِنسَانِ مِنْ حمَلِ عِدَّۃٍ

وَلاَ سِیَّمَا اَنْ خَافَ صولۃ قَاہِرِ

’’دنیا میں تمہارا سفر مسافر کی مانند ہے  اور ہرمسافر کے لیے زادِ راہ کا ہونا لازمی ہے اورجوکوئی کسی جابر کے خوف سے ڈرتا ہواس کے لیے ہتھیاروں کا بندوبست ضروری ہے ‘‘۔

اللہ تعالیٰ ہماری زندگیوں میں فکر آخرت کوپیدا فرمادے ۔ ہماری ساری جدوجہد فکر ِ آخرت کے نتیجہ میں ہو اورکامیابی عطا فرمائے۔

ستمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau