قرآن مجید کا سائنسی اعجاز

(3)

اب ہم قرآن مجید کے سائنسی اعجاز کی ایک نئی جہت پیش کرنا چاہتے ہیں جس کا تعلق مراحل قیامت اور حشر و نشر سے ہے۔ ان پر ایمان لانے کے لیے آج کی سائنسی ترقیاں معاون ثابت ہورہی ہیں جب کہ نزول قرآن کے وقت ان کا ادراک ایک مشکل امر تھا۔مثال کے طور پر ہم تین آیات پر غور و تدبر کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ تین آیات درج ذیل ہیں۔

یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْْہِمْ أَلْسِنَتُہُمْ وَأَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (النور:24)

”وہ اس دن کو بھول نہ جائیں )جب کہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ اور پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔”

حَتّٰیٓ إِذَا مَا جَآؤُوْہَا شَہِدَ عَلَیْْہِمْ سَمْعُہُمْ وَأَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ(حم السجدہ:20)

” پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ا ن کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ ”

الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی أَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَا أَیْْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ أَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ  (یٰس: 65)

”آج ہم ان کے منھ بند کیے دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔”

ان آیات پر غور و تدبر کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوم حشر میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے (اللہ کی پناہ)خود ہمارے اعضا پیش کیے جائیں گے اور وہ زبان حال و قال سے ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔ ان آیات پر یقین مستحکم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض سامان اس دنیا میں مہیا فرمادیے ہیں مثلاً مجرم جب اس دنیا میں جرم کرتا ہے تو وہ اپنے جرم کے نشانات اور آثار چھوڑجاتا ہے یعنی اس کی شناخت انگلیوں اور انگوٹھوں کے نشانات سے ہوسکتی ہے اور آج کل آڈیو اورویڈیو ریکارڈنگ ہیں جو اس کی آواز و حرکات کو محفوظ کرلیتے ہیں، یہ اب بالکل عام ہوچکے ہیں،چناں چہ ’’سَمْعُھُمْ‘‘ کو سمجھنے کے لیے آڈیو رکارڈ اور ’’اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھِمْ‘‘مجرم کی حرکات و سکنات اور شوٹنگ وغیرہ کے لیے CCTV اور ویڈیو گرافی موجودہے۔ لیکن وہ مرحلہ اسی دنیا میں بھی آسکتا ہے جب کہ ہماری زبانیں بند کرکے ہمارے اعضا باقاعدہ گواہی دینے لگیں۔  بلکہ ابتدائی مرحلہ کے بطور آج بھی مجرم کی حرکات و سکنات اس کے جرم کی چغلی کھاتی ہیں اور اس کو Body language بھی کہتے ہیں۔اسی قبیل کی ایک مشین (Lie Detector) جھوٹ پکڑنے میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ علمِ سائنس کے متنوع مظاہر ہیں جو قرآن کی آیات کو سمجھنے اور ان پر یقین کرنے میں مؤمنین کے لیے معاون ثابت ہورہے ہیں اوراس طرح علم سائنس کی ترقی میں خیر کا پہلو شامل ہے جو قرآن مجید کے افہام اور اس کی آیات پر یقین لانے کے لیے ممدو معاون بن رہا ہے۔ دراصل دنیائے انسانیت کو یہ فائدہ قرآن مجید کے نزول کے طفیل ملا ہے۔

بہرحال مذکورہ بالا تینوں آیتوں کی حقانیت کا مکمل مظہر تو یوم جزا ہی میں سامنے آئے گا لیکن اگر ہم اپنی زبان میں یہ کہیں کہ اس روز ہماری آزادیٔ گویائی پر مہر لگا کر جھوٹ سچ کا پردہ فاش کرکے یہ گنجائش ہی نہ چھوڑی جائے کہ ہم منصف حقیقی کے روبرو غلط بیانی سے کام لے سکیں بلکہ اس روز فطرت انسانی اور نفس لوامہ کو زبان عطا کردی جائے۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم جو عمل کرتے ہیں اس کو ہمارے جسم کے اعضا ہی میں نقش کردیا جاتا ہو اور مستقبل میں سائنس کی رسائی اس تک ہوجائے تویہ کوئی خیالی بات نہیں اور موجودہ سائنس اس امکان کو رد نہیں کرسکتی۔قرآن مجید کی اس عظمت و اعجاز کو اہل علم و دانش اور ماہرینِ سائنس بہتر طریقہ سے سمجھ سکتے اور اس کی قدر کرسکتے ہیں۔

اس بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تقدیرکے مادی پہلو یا مادی تعبیر و مظہرکو سمجھنے کے لیے بھی اس سے متعلق آیات پر غور و تدبر کی نظر ڈالیں، مثلاً فرمایا گیا :

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰیo الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی o وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدیٰo (الاعلیٰ:1تا3)

”پاک ہے آپ کا پروردگار اعلیٰ جس نے انسان کوبنا کر نِک سُک سے درست کیا اور اس کی تقدیر بنائی پھر رہ نمائی فرمائی۔”

اکثر لوگ آج بھی بیرون سے ودیعت کی گئی تقدیر کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انسان خود اپنا تقدیر سازہے کسی نے اس کی تقدیر نہیں بنائی۔ لیکن کون جانتا تھا کہ علم سائنس ایک روز اتنی ترقی کرے گا کہ وہ نہ صرف یہ بتا سکے کہ انسان کی شکل و ہیئت، اس کا مزاج، اس کی جبلت اور دل چسپیوں کا محرک و مقدر خود اس کے ہر خلیہ میں ڈی این اے کی شکل میں موجود ہوتا ہے بلکہ سائنس اس میں تبدیلی لا کر خدائی صنعت کو بگاڑنے کا سبب بھی بن سکتی ہے اور قرآن مجید چودہ سو سال پہلے اس طرف بھی اشارہ کرچکا تھا لہٰذا ہمارے لیے قرآن حکیم پر ایمان لانے کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں۔ آج جینیٹک انجینئرنگ، بایو ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی نت نئی ترقیاں اور صلاحیتیں در اصل مصنوعی اذہان (Artificial Intelligence)اور مصنوعی انسان (Artificial Being)کے سُہانے یا ڈراؤنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں لگائی جارہی ہیں جو بالیقین قیامت کے ظہور کا پیش خیمہ ہوگی جس سے نہ صرف قرآن کریم کی بلکہ حامل قرآن حقیقی محمد رسول اللہ کی صداقت اور آپ کے ختم نبوت کا ناقابل تردید ثبوت فراہم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیوں پہلے ان امور کی واضح پیش گوئی کردی تھی۔

اس مضمون سے متعلق قرآ ن مجید کی درج ذیل آیت ملاحظہ ہو، فرمایا:

وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَآئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَاباً یَلْقَاہُ مَنشُوْراً  اقْرَأْ کَتَابَکَ ط کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْْکَ حَسِیْباً(بنی اسرائیل:13-14)

“ہم نے ہر انسان کا نصیبہ(برابھلا شگون) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز ہم اس کے سامنے اس کا نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پائے گا۔ لے تو اپنی کتاب خود ہی پڑھ لے۔ آج تو اپنے حساب کے لیے خود ہی کافی ہے۔ ”

اس آیت میں کئی باتیں قابل غور ہیں ایک تو یہ کہ ہر انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار اور ان کے لیے جواب دہ ہے دوسرے یہ کہ وہ جو کچھ کسب و اعمال کرتا ہے وہ اس کے گلے کا ہار بن جاتے ہیں یعنی رکارڈ ہوجاتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ اس کا وہ رکارڈ قیامت کے روز اتنا صاف روشن اور واضح ہوگا کہ اس کو کہیں اور جانے اور کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت تک نہ ہوگی وہ خود اپنی پوری زندگی کے کچے چٹھے کو بخوبی اور بغیر کسی مدد کے پڑھ سکے گا اور اپنا حساب بذات خود کرسکے گا۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی شکل وصورت، دل چسپیوں اور صلاحیتوں کو روز اول سے اس کے ہر خلیہ میں DNAکی شکل میں ڈال دیا ہے نیز دماغی خلیات neuronsپر مبنی علوم مثلاً neurologyکی نت نئی ایجادات نے ماضی کی ناممکنات کو ممکنات ہی نہیں بلکہ اثبات کے خانے میں ڈال دیا ہے۔ لہٰذا قرآن مجید اور عصری سائنس کے علم کی روشنی اور اشاروں سے ہمارا یہ گمان غالب ہے کہ ہر انسان جو عمل کرتا ہے وہ کہیں نہ کہیں رکارڈ ہوجاتا ہے اور نہ صرف قیامت کے روز بلکہ اس دنیا میں ہی پایۂ ثبوت کو پہنچ کر دنیائے سائنس پر منکشف ہوجائے گا تاکہ ’’سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہ الْحَقُّ‘‘ کا خدائی وعدہ پورا ہو، اور قرآن مجید کی حقانیت دو اور دو چار کی طرح مبرہن ہوجائے اور تاکہ قرآن مجید کے علمی و سائنسی اعجاز کی ایک اور دلیل دنیائے انسانیت کو فراہم ہوجائے۔

راقم الحروف نے اپنی اس بحث میں ’’وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدیٰ‘‘کا خصوصی ذکر کیا تھا اور سیاق کی روشنی میں خدائی تقدیر سازی کا اطلاق انسان پر کیا تھا مگر دلیل کے لیے اس نے DNAکا حوالہ دے دیا جس پر معترضین یہ سوال کرسکتے تھے کہ یہ DNAتو نہ صرف انسان میں بلکہ ہر جاندار(living being)میں ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں خَلَقَ، فَسَوّٰی، قَدَّرَ فَھَدٰی سب کلمات مطلق ہی آئے ہیں،محض انسان کے لیے ہی نہیں ہیں جس طرح‘‘ تخلیق‘‘ انسان و غیر انسان سب پر حاوی ہے، تقدیر بھی نامیاتی و غیر نامیاتی سبھی وجودوں کو شامل ہے۔ قرآن مجید میں اسی حقیقت کو سورہ القمر آیت 49 میں کھول کر واضح کردیا ہے کہ ’’اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ‘‘یعنی ہم نے ہر چیز کو ایک اندازہ پر بنایا ہے۔ چناں چہ سائنس نے بیشک ماضی قریب میں DNAکی شکل میں حیاتیات کی تقدیر سازی معلوم کرلی مگر غیر ذی حیات میں ان کی تقدیر کی ماہیت تک نہ پہنچ سکی۔

قرآن مجید ببانگ دہل یہ دعویٰ کررہا ہے کہ ’’اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ‘‘اب ہے کوئی سائنس داں جو قرآن کے اس دعوے کو چیلنج کرسکے؟ راقم حروف سائنس کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اور پورے وثوق سے عرض کررہا ہے کہ جس حقیقت کا اظہار قرآن چودہ سو سال قبل کرچکا ہے تو بجائے مخالفت کے سائنس بھی آج یہی نتیجہ اخذ کرے گی اور یہی ہمارے نزدیک قرآن کے علمی و سائنسی اعجاز کی دلیل ہے۔

اب یہاں ’’اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقَنٰہُ بِقَدَرٍ‘‘پر عصری سائنس کی روشنی میں چندمزید گزارشات رکھی جائیں گی، مگر اس سے پہلے یہ عرض کردیں کہ قرآن مجید میں بِقَدَرٍ اور مِقْدَارکے کلمات استعمال ہوئے ہیں چناں چہ سورہ الرعد کی آیت 8 میں ارشاد ربانی ہے ’’وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ‘‘یعنی ہر چیز اس کے نزدیک خاص اندازہ پر ہے۔مزید برآں اس تردد کو پوری طرح رفع کرنے کے لیے کلمہ ’’تقدیر‘‘کا استعمال بھی قرآنی آیات میں دکھادیا جائے چناں چہ سورہ الفرقان آیت 2 کا آخری ٹکڑا ’’وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا‘‘ یعنی اس نے ہر چیز کی تخلیق کی پس ان کو خاص اندازہ پر خاص اہتمام سے بنایا۔ یہاں ’’قَدَّرَہٗ تَقْدِیْراً ’’ میں اس تقدیر کے اہتمام کا پہلو نمایاں ہے۔ مزید برآں کلام الٰہی میں سورج اور چانددونوں کی تقدیر کو ’’حُسْبَاناً‘‘ (الانعام:96)سے، اورخصوصاً سورج کی تقدیر کو ’’تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا‘‘(یٰسین:38)سے سمجھایا گیا ہے ۔ یہ آیت اسی طرح مکمل ہوتی ہے کہ ’’ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْم”۔  جیسا کہ ظاہر ہے کہ تقدیر میں مقدار کا پہلو ناگزیر ہے اور ’’اندازہ‘‘ بھی وضاحتی معنیٰ ہے نہ کہ حقیقی۔ یہاں جملہ جانداروں میں تقدیر ساز سالمہ، DNA کو لے کر آیات قرآنی کی حقانیت ثابت کی گئی جب کہ کائناتی موجودات جبل و حجر اور شمس و قمروغیرہ ہیں۔ ان کی تقدیر کو بھی قرآن مجمل انداز میں بتا کر سورج اور چاند وغیرہ کی تقدیر مزید واضح کرتا ہے۔اگر عالمِ اکبر (macrocosm) میں تقدیر کا عمل دخل ہے تو عالمِ اصغر (microcosm)میں بھی تقدیر کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایک خلیہ کی اپنی تقدیر ہے تو ایک سالمہ کی تقدیر سے کیوں کر انکار کیا جا سکتا ہے اور اگر سالمہ کی تقدیر کو مان لیا جائے تو ذرّہ اور عنصر (atoms and elements)کی تقدیر کے امکان کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے۔

اب اشیا کی مادی تقدیر یا مادی تعبیر کو اٹامک سطح پر سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہر عنصر کے ایٹم میں نیوٹران، پروٹان، الیکٹران وغیرہ کی ’’مقدار‘‘ اور ’’تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرِّلَّھَا‘‘ یعنی اپنی منزل پر لگاتار سرگرم سفر ہونا ہی ان کی تقدیر ہے۔ مثال کے طور پر ہیلیم کی شناخت اور اس کی تقدیر اس کے ایٹم Atomمیں دو نیوٹران اور دو پروٹان اور دو الیکٹران کے وجود سے ہے جس میں الیکٹران اپنے مستقر پر سرگرم سفر رہتے ہیں۔ ا گر ہیلیم کے اس ایٹم میں سے ایک پروٹان نکال دیا جائے تو وہ اپنی پہچان کھودیتا ہے اور نئی پہچان کے ساتھ ایک نئے عنصر یعنی ہائڈروجن کی خصوصی شکل و ہیئت اور فطرت کو اختیار کرلیتا ہے، مثلاً ایک خاص عنصر جو ایک پروٹان اور ایک الیکٹران پر مشتمل ہے وہ در اصل ہائڈروجن ہے اگر اس میں ایک نیوٹران کا اضافہ کردیا جائے تو بھی وہ کیمیاوی ماہیت میں ہائڈروجن ہوگا مگر بھاری ہائڈروجن یعنی ڈیوٹریم کا ایٹم ہوگا اور اگر اس میں ایک اور نیوٹران ڈال دیا جائے تو وہ تابکار ہائڈروجن کا ایٹم بن جائے گا جس کو ٹریشیم نام دیا گیاہے۔ اسی طرح مختلف عناصرمیں نیوٹران اور پروٹان کی خصوصی تعداد ومقدارہے اور ان پروٹان کوبے اثر(neutralise)کرنے کے لیے پروٹان کے بقدر الیکٹران کی تعداد ہے جن سے مل کر تمام عناصر بنے ہیں اور یہی ان کی تقدیر سے عبارت ہے۔ اب اگر ذرا ایٹم (atom) کے مرکزیہ کے گرد گھومنے والے الیکٹران میں سے چند نکال دیے جائیں تو ان کی حقیقت و ماہیت یعنی تقدیر بھی بد ل جاتی ہے کہ وہ ریڈیکل اور آئن بن جاتے ہیں۔کوئی سائنس داں یہ نہیں کہہ سکتا کہ عناصر اور ایٹم اور ریڈیکل کی کوئی تقدیر (destiny)نہیں ہے اور قرآن مجید ہر شیٔ کی تقدیر چودہ سو سال قبل سے بتاتا آرہا ہے یہی اس کا اعجاز و کمال ہے۔یہاں تقدیر سے مراد اگر آخری منزل (destiny)ہے تو بھی ہر عنصر میں تبدیلی و ارتقا سائنس کی رو سے ایک حقیقت ہے۔

اگر بحث کا رُخ وجودِ زوجیت کی طرف موڑا جائے تو سورہ الذاریات کی آیت 49 میں ارشاد ربانی ہے:

وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘‘

“ہم نے ہر چیز کو جوڑوں کی شکل میں بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ ”

اسی مضمون کی دوسری آیت سورہ یٰسین کی آیت 36 ہے جس میں فرمایا گیا:

’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسُسِھِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘

“وہ ذات پاک ہے جس نے ان تمام چیزوں میں جوڑا بنایا جو زمین سے نکلتی ہیں (پیڑ پودے اور معدنیات) اور ان کے نفسوں میں بھی اور ان کے علاوہ (چیزوں میں بھی) جن کو وہ جانتے تک نہیں۔ ”

ان آیات کا ایک عام روایتی اور سیدھا سادہ مفہوم و مدلول ہے جیسے مرد و عورت، رات و دن، آسمان و زمین، نر و مادہ اور موت و حیات وغیرہ کا جوڑا اور ایک اعلیٰ سطحی علمی و سائنسی مفہوم بھی ہے۔ قرآن مجید کتاب آیات ہے اور اپنے مخاطبین کو ہر آیت کے ذریعے بعض ایسے اشارات کرکے جو ان کے علمی، ذہنی اور عقلی سانچے میں فٹ ہوجائیں کسی نہ کسی طرح ’’الحق‘‘ کی معرفت سے ہم کنار کرنے کا سامان کرتاہے۔ چناں چہ ایک سائنس کا طالبِ علم اشیا کی ماہیت، حقیقت و معرفت کے ذریعے خالقِ کائنات کی معرفت اور مقصد کائنات تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے اور اس کے اطمینان قلب کے لیے سائنسی حقائق کا قرآنی آیات سے ہم آہنگ ہونا بہت اہم ہے۔ جو لوگ ان آیات کے تعلق سے مشاہداتی اور تجرباتی پہلوؤں کا انکار کرتے ہیں وہ در اصل قرآن مجید کے طریقۂ دعوت و تزکیہ پر بھی انگلی اٹھانے کے مجرم قرار پاتے ہیں کیوں کہ قرآن مجید اشیا ئے کائنات پر غور و تدبر کے ذریعے اُن بڑے حقائق کی معرفت تک پہنچانا چاہتا ہے۔ وہ جب یہ کہتا ہے کہ ’’أَفَلَا یَنظُرُونَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْْفَ خُلِقَتْ oوَإِلَی السَّمآئِ کَیْْفَ رُفِعَتْo وَإِلَی الْجِبَالِ کَیْْفَ نُصِبَتْo وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْْفَ سُطِحَتْ (الغاشیہ:17-20) یعنی کیا یہ غور نہیں کرتے اونٹ پر کہ وہ کیسا بنایا گیا، آسمان پر کہ وہ کیسا اٹھایا گیا، اور پہاڑوں پر کہ وہ کیسے جمائے گئے،اور زمین پر کہ وہ کیسے بچھائی گئی تو در اصل اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین کے بارے میں ضروری معلومات ہی نہیں بلکہ تفصیلی علم کی ضرورت کا اثبات کرتاہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ قرآن سب سے پہلے عرب کے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا جو محض اُمّی تھے تو وہ ا ن کے مشاہدۂ فطرت کا انکار ی ہے یا ان کی اس عادت و دل چسپی (hobby)سے ناواقف ہے کہ وہ اونٹ، آسمان،پہاڑ اورزمین کے تعلق سے فہم و آگہی کے معاملہ میں ہم سب لوگوں سے زیادہ باریک بینی سے مشاہدے کے عادی تھے۔ جن امیین کو قرآن مجید غور و فکر کی دعوت دے رہا تھا ان کی غور و فکر کے مراحل میں بھی مشاہداتی اور تجرباتی علوم کو دخل تھا اور ان مراحل سے گزر کر وہ معرفت حق کی منزل تک پہنچتے تھے۔ ہر شخص کا ذہنی سانچہ اس کی عقل و علم اور دل چسپیوں کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کی معلومات اور دل چسپی کے راستہ سے حقائق کی معرفت آسان ہوتی ہے اور معاملہ صرف عرب کے چودہ سو سال پرانے مخاطبین ہی کا نہیں ہے بلکہ یہی آیات قیامت تک انسانوں کی ہدایت اور ان کے اطمینان قلب کا سامان فراہم کرتی رہیں گی لہٰذا کم از کم اتنا علم تو ہر قاری قرآن کوہونا ہی چاہیے کہ وہ ان عرب بدؤوں کے علم کے بقدر آیات الٰہی کے حسن و رفعت اور گہرائی کو سمجھ کر ان سے لطف اندوز ہوسکے۔

اب ذرا سورہ الذاریات اور یٰسین کی مذکورہ بالا آیات میں ’’زوجین‘‘ کے بارے میں قرآنی فرمان دوبارہ ملاحظہ کریں کہ در اصل قرآن کریم سورہ الذاریات میں سائنسی مزاج والے لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ پیش کررہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جملہ مخلوقات اور اس کی تمام تخلیقات میں ’’قانون ازواج‘‘ کی کارفرمائی ہے اور سورۂ یٰسین میں موجودہ ارشاد ربانی لوگوں کے سامنے یہ حقیقت بھی مبرہن کر رہا ہے کہ زمانی پہلو سے اور عملی پیمانہ پر ازواج کے علم کا کافی حصہ نامکمل ہے کہ ’’مِمَّا لَا یعْلَمُوْنَ‘‘ نے اس کی وضاحت کردی ہے اور حق تو یہ ہے کہ آج بھی طبیعیاتی سائنس اور کائنات کے مشاہدے یعنی انکشاف فطرت کا آلہ (tool)ہی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اب دیکھیے کہ قرآن کے نزول کے زمانہ میں صرف گنتی کی چیزوں میں قانون ازواج کا ہونا سمجھ میں آتا تھا۔ سائنسی ترقی سے معلوم ہوا کہ نہ صرف حیاتیات میں قانونِ ازواج کی موجودگی ہے بلکہ ایٹم اور اس سے چھوٹے ذروں تک میں، نہ صرف مادوں (matter) میں بلکہ توانائی کی تمام شکلوں میں مثلاً بجلی و مقناطیسیت وغیرہ تک میں یہ جاری ہے اور اب تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مادہ کا جوڑا توانائی ہی نہیں ایک اور چیز ہے جسے اینٹی میٹر (anti matter)کہتے ہیں۔ لہٰذا کائنات کا اور حیات دنیا کا جوڑا ہونا بھی قرین قیاس ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہے کیوں کہ دنیا میں ہر چیز کا جوڑا ہے اور قرآن اور سائنس دونوںاس نکتہ پر متفق ہیں کہ گزرتے زمانہ کے ساتھ ساتھ قانون ازواج کی نئی نئی مثالیں سامنے آتی رہیں گی۔اور اس طرح حیاتِ اخروی کے حق میں ثبوت بڑھتے اور مستحکم ہوتے رہیں گے۔

زیر بحث آیت‘‘وَمِنْ کُلِّ شَیٍٔ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ‘‘ ایک سائنسی حقیقت ہی کا اظہارنہیں بلکہ مستقبل میں کتنی سائنسی تحقیقات کا محرک فراہم کرتی ہے، اس کے تعلق سے راقم نے 1984ء میں مجلہ تحقیقات اسلامی میں شائع کردہ مضمون بعنوان سائنسی تحقیقات کا قرآنی محرک‘‘ میں مندرجہ ذیل عبارت پیش کی ہے ’’یہ امر کس قدر تعجب انگیز ہے کہ آج نباتات اور بجلی میں صفت زوجیت کا جو ثبوت فراہم ہوا ہے قرآن نے آج سے چودہ سو برس پہلے اس کی طرف اشارہ کردیا تھا۔ان آیات کریمہ کا یہ ظاہری مدلول ہے ورنہ ان میں تحقیق و تدبر کے اور بھی بہت سے پہلو ممکن ہیں مثلاً نباتات، حیوانات اور غیر جانداروں میں زوجیت کے دیگر مضمرات اور ان میں باہمی کیا تعلق ہے اور ان مختلف دائروں کے اندر زوجین میں یکسانیت اور عدم یکسانیت کے کون کون سے پہلو ہیں اور ان کی سائنسی تشریح کیا ہے۔ پھر سب سے بڑا مسئلہ ان تمام چیزوں کے اندر اس صفت زوجیت کو قائم و باقی رکھنے کے لیے کون سی قوت ذمہ دار ہے؟ وغیرہ‘‘[1] جیساکہ بار بار عرض کیا جاچکا کہ قرآن مجید کا اعجاز نہ صرف اظہار حقیقت کے گوناگوں پہلوؤں میں ہے بلکہ اس تحریک و رہ نمائی میں بھی ہے جو وہ مسلسل سائنس دانوں کو کررہا ہے اور کرتا رہے گا۔

یہاں اس اشکال پر بھی توجہ دلانا مقصود ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ خیال آتا ہوگا اور مخالفین تو اس کو وجہ اعتراض بھی بناسکتے ہیں کہ جو تحقیق معرض وجود میں آگئی یا جس نظریۂ سائنس کا آج چلن ہے اس کو قرآن کے حق میں پیش کرکے ہم کہتے ہیں کہ قرآن سائنس سے نہیں ٹکراتا اور قرآن کے داعی حضرات، متعدد آیات کو اپنے خیال کی تائید میں پیش کرتے ہیں جو بظاہر آج کی سائنس سے ہم آہنگ ہیں۔ ان داعیانِ اسلام کا یہ بھی دعویٰ ہوتا ہے کہ قرآن حکیم چودہ سو سال قبل اس حقیقت کو اپنی آیات میں پیش کرچکا ہے مثلاً ’’اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَق‘‘ یعنی پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے تخلیق کی اور انسان کی تخلیق ایک( مرحلہ) علق سے کی (جس کی ابتدا نطفۂ امشاج ہے)۔  اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کرام نے خوردبین کی ایجاد سے پہلے اس علق کی ماہیت پر کلام کرنے سے گریز کیا کیوں کہ وہ محض ظن و قیاس پر ہی مبنی ہوتا۔ خوردبین کی ایجاد کے بعد علقہ کا مشاہدہ ایک تجرباتی مشاہدہ تھا جو اپنے مزاج سے سائنس کا حصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا قرآنی صداقت کا دعویٰ تو اس وقت ہی سے شروع ہوسکتا ہے جب کہ حقیقت کا دنیوی انکشاف کا مرحلہ آجائے ورنہ سائنس داں حضرات کا دعویٰ بھی بے دلیل ہوگا اور محض ظن و تخمین پر مبنی ہوگا۔ قرآن کا یہ بیان چوں کہ چودہ سو برسوں سے سائنس دانوں کو چیلنج کررہا تھا اور خود ان کے پاس کوئی سائنسی کسوٹی نہیں تھی البتہ جب علم جنین کے ماہر سائنسداں کِیتھ مُور نے اپنے سارے سائنسی پیمانوں پر اس کو جانچ پرکھ کر جنین کے اس مرحلہ کو ’علق‘ کا بہترین مصداق پایا تب عالم انسانیت قرآن کے اس سائنسی اعجاز کو پرکھنے کے قابل ہوئی[2]۔

خلاصۂ کلام

دنیا میں اس وقت بے شمار کتابیں پائی جاتی ہیں اور لا تعداد کتابیں ماضی کے مختلف ادوار میں بھی موجود رہی ہیں۔یہ کتابیں بحیثیت مجموعی انسانی علوم کے تمام مضامین کا احاطہ کرتی ہیں۔ لیکن جب ان کتابوں کا قرآن کریم سے مقابلہ کیا جاتا ہے تو حیرت انگیزنتیجہ نکلتا ہے۔مثلاً قرآن مجید سائنس کی کتاب نہیں ہے مگر یہ کتاب کائناتی حقائق اور اہل سائنس کی دل چسپی (scientific flavour)کے حامل بیانات کا ناقابل تردید اور دل چسپ مرقع ہے۔ یہ فلسفہ کی کتاب نہیں ہے مگر اس کا فلسفہ چودہ سو برسوں سے کروڑوں انسانوں کے اذہان و قلوب پر حکومت کرتا ہے۔ یہ کوئی کتابِ ادب و لسانیات نہیں ہے پھر بھی اس کی فصاحت و بلاغت اور ادبی چاشنی زبان زد عام و خاص ہے، جس نے فصحاء عرب و عجم کو ہر زمانہ میں چیلنج کیا ہے اور ا پنے زمانہ کے سب سے بڑے شاعر لبید کو اس پر ا یمان لانے پر مجبور کرکے ان کو شعر و شاعری تک سے بیگانہ کردیا ہے۔ یہ کتاب دنیا کی کتابوں کی اساطیری کہانیوں سے یکسر پاک ہے جب کہ در حقیقت ایک زندہ وجاوید مذہب کی سب سے ا ہم اور متفق علیہ کتاب ہے۔ یہ کتاب جنت و جہنم کے مناظر اور اہل جنت اور اہل جہنم کے مکالمے قارئین کے سامنے اس طرح پیش کرتی ہے جیسے وہ لوگ اورجنت و جہنم آنکھوں کے سامنے ہوں حالاں کہ یہ فنون لطیفہ اور ڈرامہ کی کتاب نہیں ہے۔

اس کتاب نے اپنی زبان و ادب کو وہ معیار فراہم کیا اور وہ حسن و بالیدگی بخشی، وہ فصاحت و بلاغت کے اصول دیے اور وہ بے ساختگی و سلاست عطا کی کہ چودہ سو برسوں سے عربی زبان کے عروج و ارتقا کی کوئی گنجائش ہی نہ چھوڑی، چناں چہ آج بھی عربی زبان کے سارے لسانی و ادبی اوصاف کی کسوٹی صرف قرآن مجید کی زبان ہے۔ اسی کتاب نے آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل کے جنگجو، اُمّی، تہذیب سے تہی دامن بدوؤں میں جو انقلاب رونما کیا اور تہذیب و تمدن، اخلاق وکردار، علم و ہنر، جنگ و امن کے جو اصول و اقدار عطا کیے وہ آج کی مہذب و متمدن قوموں تک کے لیے نہ صرف باعث حیرت ہیں بلکہ ان کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اس کتاب نے نہ صرف علوم کی نئی جہات، نئے پیمانوں اور ان کے اوزان و معیارات کی کسوٹی سے روشناس کرایا بلکہ انسانوں کی زندگی کو بامقصد بنانے اور ترقی کرنے کے جو گُر بتائے ان میں کسی زمانہ میں بھی کسی اضافہ کی گنجائش تھی اور نہ آج تک ہے۔ اس کتاب نے انسانی زندگی کے جملہ شعبوں کے لیے جتنی جامع، مکمل، ہمہ گیر اور ہمہ جہتی ہدایات و رہ نمائیاں فراہم کیں، وہ نہ کسی مذہب نے فراہم کیں، نہ کسی فلسفی نے کیں، نہ کسی مصلح و رہبر نے کیں اور نہ کسی دوسری کتاب کا کوئی ایسا دعویٰ سامنے آیا۔ لا ریب یہ کتاب ہمہ جہتی اور یکتا معجزہ ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اس کتاب نے اپنوں اور غیروں دونوں پر اپنے زمانۂ نزول سے لے کر آج تک جو مثبت و مستحکم اور زریں نقوش مرتسم کیے ہیں، اہل علم و ادب کو جو حظ فراہم کیا ہے، اور عوام و خواص میں جو تحریک و حرکت پیدا کی ہے، جو مذہب و سائنس کا رشتہ جوڑا ہے، جو دین و دنیا کی دوئی کو مٹانے کا سامان کیا ہے، جو فلاح و نجات کا تصور دیا ہے، جو جنگ و امن کا فلسفہ دیا ہے، جو حقوق و فرائض اور ان میں ترجیحات کے احکام پیش کیے ہیں، جو عدل و انصاف اور اعتدال کا درس دیا ہے، یہ تمام چیزیں کسی بھی کتاب میں ڈھونڈھنا کارِ عبث ہے۔ یہ کتاب نہ صرف علم میں بلکہ تحریک میں اور انقلابی قوت میں بھی بہت عظیم بلکہ یکتا و لاثانی اور بے مثل ہے۔

قرآن مجید کا معجزہ ہونا تو کسی نئی دلیل کا محتاج نہیں، اس پر قرآن و حدیث کے بیانات ہی کافی ہیں، البتہ اس کی معجزانہ جہات اور ان کی تفصیلات پر مباحثہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، مثلاً یہ کہ آیا یہ صرف انسانی فلاح و خسران اور دیگر اسلامی تعلیمات کے اخروی پہلوؤں کے بیان کرنے ہی میں معجزہ ہے یا دنیوی امور کو دل کش ترین اسلوب میں پیش کرنا بھی معجزہ ہے؟ کیا قرآن مجید سائنس دانوں کے سامنے اسی طرح کے چیلنج رکھتا ہے جیسے غیر سائنسی علوم میں دعویٰ کیا جاتا ہے؟ اور کیا اس نے سائنسی امور میں بھی بعض ایسی پیشین گوئیاں کی ہیں جن کو آج کے سائنسداں سچ مچ (really)قابل اعتنا سمجھ سکتے ہیں یا جو پیشین گوئیاں آج پوری ہوچکی ہیں ان کو سائنس دانوں کی خاموش تائید حاصل ہے؟ اگر ان تمام سوالوں کے جواب ’ہاں‘ میں ہیں تو یقینا قرآن کا وہ اعجاز ہوگا جس کی قدر و منزلت اور اہمیت سے فی زمانہ کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

اس مقالہ سے بخوبی اندازہ ہوا ہوگا کہ ہمارے نزدیک قرآن مجید ایک علمی اور سائنسی معجزہ بھی ہے۔اس دعوے کو بعض اوقات مبالغہ انگیزی اور خوش فہمی پر محمول کرکے تخفیف کی جاتی ہے لیکن اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ نہ صرف کتاب الٰہی ہے جس کو اللہ رب العالمین نے نازل کیا ہے بلکہ اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے ثبوت کے لیے معجزہ بنا کر ہی بھیجا گیا ہے تو اس دعوے میں مبالغہ کا اعتراض بھی قائم نہیں رہتا۔

قرآن مجید الٰہیاتی اور وہبی علوم ہی میں نہیں بلکہ انسانی اور کسبی علوم میں بھی وہ رہ نمائی فراہم کرتا ہے جو کسی بھی کتاب میں تلاش کرنا بے سود ہے۔ اور ہمارا دعویٰ عام کتب مقدسہ اور خاص کتب خداوندی سبھی کو شامل ہے۔ اس علمی و سائنسی معجزے کی یکتائی اور اس کے امتیاز کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ یہ معجزہ نہ صرف اس معنی میں ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے حکماء و فلاسفہ کے سامنے ایک خاموش چیلنج پیش کیا بلکہ بدلتے زمانوں میں جب کہ علم سائنس کے بیشتر نظریات بھی خاصے تبدیل ہوئے قرآنی آیات کی تاویل و تشریح میں کوئی ایسی دِقت پیش نہ آئی جو سائنس دانوں کے علمی پیمانوں میں فٹ نہ ہو۔ اس نے تو ایسی پیشین گوئیاں تک کردیں جو زمانۂ حال کے سائنس دانوں کی دل چسپی کا باعث ہوسکتی تھیں اور اس نے ایسے بیانات دیے جن کا ماضی کے حقائق سے مستقبل کی ایجادات تک ثبوت فراہم ہونا تھا مثلاً فرعون کے جسم کی حفاظت کا محیر العقول واقعہ (یونس:92)یا ماحولیاتی بحران کا انکشاف(الروم:41)، ان میں سائنسی دل چسپی کا ہر بیان قرآن مجید کے سائنسی اعجاز کی دلیل اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ وہ تو آگے بڑھ کر سائنسی تحقیقات کے لیے عمومی تحریک ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ خصوصی و موضوعاتی تحریک بھی فراہم کرتا ہے اور اس میدان میں اعلیٰ تحقیقات کے لیے متعدد اشارے بھی کرتا ہے۔ کیا یہ اس کی عظمت و اعجاز کا ثبوت نہیں؟ مگریہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ سائنس کی کتاب نہیں ہے اور نہ اس کی آیات کی سائنسی تشریح ہمارے نزدیک قرآنی تفسیر یا مراد الٰہی قرار پاتی ہے۔ بلکہ یہ کتاب الٰہی تا قیامت تمام انسانوں کی کامل و مکمل ہدایت اور ان کو جنت اور رضاء الٰہی کی منزل تک پہنچانے کے لیے صراطِ مستقیم کی رہ نمائی کرتی ہے۔ ہاں البتہ قرآن مجید سائنسی مزاج کے لوگوں کو اطمینان قلب کا ایک قوی و نادر ذریعہ ضرور فراہم کرتا ہے جو اس کے اعجاز و عظمت کی ایک اضافی دلیل ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن عظیم کی عظمت و اعجاز کا کما حقہ عرفان مؤلف و قارئین سب کو نصیب فرمادے۔  آمین

حواشی و مراجع

[1] احمد، سید مسعود،‘‘سائنسی تحقیقات کا قرآنی محرک‘‘ تحقیقات اسلامی، علی گڑھ، جولائی – ستمبر 1984ء  ص104؍344

[2] Moore, Keith, L. ’’The Developing Human‘‘ Saunders; USA. 11th edition 2017. plus: ’’A Scientific interpretation of references to embryology in the Quran‘‘, Journal of the Islamic Medical Association of North America 18 (1) : 1986

مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223