دعوتِ انبیاء میں توحید کی تعلیم

محمد رضی الاسلام ندوی

انبیاے کرام کی دعوت کی اصل الاصول عقیدۂ توحید ہے۔ تمام انبیا نے اپنی دعوت کاآغاز اسی بنیاد ی نکتے سے کیاہے۔ ہرنبی نے اپنی قوم سے یہی بات کہی ہے کہ الٰہ صرف اللہ ہے، اس کے علاوہ اور کوئی الٰہ نہیں۔ قرآن کریم میں انبیا کے تعلق سے یہ بات اجمالاً بھی کہی گئی ہے اور صراحتاً بھی۔ اللہ تعالیٰ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتاہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ اِلَّا نُوحِٓیْ اِلَیْْہِ أَنَّہ‘ لَا اِلَہَ اِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ﴿الانبیاء :۲۵﴾

’ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم میری ہی بندگی کرو۔‘

سورۂ نحل کی ابتداء  میں کہاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے اپنے منتخب بندوں پر اپناپیغام اور حکم نازل کرتاہے۔ اسحکم کی وضاحت ان الفاظ میں ہے:

أَنْ أَنذِرُوآْ أَنَّہ‘ لآَ اِلَہَ اِلاَّ أَنَاْ فَاتَّقُون ﴿النحل:۲﴾

’کہ ﴿لوگوں کو﴾ آگاہ کرو،میرے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں۔ لہٰذا تم مجھی سے ڈرو۔‘

یہی دعوت قرآن کریم میں مختلف مقامات پر انبیاء  کے ناموں کی صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ چنانچہ حضرت نوحؑ ﴿الاعراف:۵۹، المومنون:۲۳﴾، حضرت ہودؑ ﴿الاعراف:۶۵، ہود:۰۵، المومنون:۳۲﴾، حضرت صالحؑ ﴿الاعراف:۷۳،ہود:۶۱﴾ اور حضرت شعیبؑ ﴿الاعراف:۸۵، ہود:۸۴﴾ ہر ایک نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے یہی کہا:

یَاقوم اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ‘

’اے برادرانِ قوم!اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔‘

خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی بنیادی تعلیم اپنے مخاطبین تک پہنچانے کی باربار تاکید کی گئی تھی:

قُلْ اِنَّمَآ أَنَا مُنذِرٌ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّار   ﴿ص:۶۵﴾

’کہو میں تو بس خبردارکردینے والا ہوں۔ کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ جویکتاہے اور سب پر غالب‘

قُلْ اِنَّمَا یُوحَی اِلَیَّ أَنَّمَا اِلَہُکُمْ اِلَہٌ وَاحِد ﴿الانبیاء :۸۰۱﴾

’کہومیرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمھارا خدا صرف ایک خدا ہے۔‘

مزید ملاحظہ کیجیے :الانعام:۱۹، الرعد:۳۰، الکہف:۱۱۰، حٰم السجدۃ:۶

لفظ ’الٰہ‘ میں لغوی طورپرمختلف معانی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً حاجت روا و مددگار، پناہ دینے والا، مشکل کشا، دعاؤں کا سننے والا، نفع یا نقصان پہنچانے والا، حاکم اور مقتدر۔ اللہ تعالیٰ کو ان تمام معانی کے اعتبار سے ’الٰہ‘ کہاگیاہے اور نفی کی گئی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی ’الٰہ‘ نہیں ہے۔

صفات الٰہی

اللہ تعالیٰ کی ذات کے معاملے میں توحید کی تعلیم کے ساتھ انبیاے کرام نے اس کی صفات کو بھی نمایاں کیا۔ ان کی دعوت میں توحید فی الذات اور توحید فی الصفات دونوں کا بیان ملتاہے۔ چند اہم صفات جو قرآن کریم میں دعوتِ انبیاء  کے ضمن میں وارد ہوئی ہیں، درج ذیل ہیں:

﴿۱﴾خالق

خلق ﴿پیداکرنا﴾ اللہ تعالیٰ کی ایک نمایاں ترین صفت ہے۔ اسی نے پوری کائنات کو وجود بخشاہے اور اسی نے انسانوں کو بھی پیداکیاہے۔ اس لیے صرف وہی اس بات کا سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اسی سے لو لگائی جائے اور اسی کے حکموں کی پابندی کی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے شرکیہ اعمال پر اس کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا:

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ oوَاللَّہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُون﴿الصّفّٰت:۹۵،۹۶﴾

کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزو ں کو پوجتے ہو؟ حالاںکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوںکو بھی جنھیں تم بناتے ہو؟

انھوں نے اپنے باپ اور قوم، سب کے سامنے شرک سے برأت کااعلان ان الفاظ میں کیا:

اِنَّنِیْ بَرآَء  ٌمِمَّا تَعْبُدُونَo اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّہ‘ سَیَہْدِیْنِo وَجَعَلَہَا کَلِمَۃً بَاقِیَۃً فِیْ عَقِبِہِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ   ﴿الزخرف:۲۶،۲۷﴾

’ تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں، میرا تعلق صرف اس سے ہے جس نے مجھے پیداکیا، وہی میری رہ نمائی کرے گا۔‘

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام نے فرعون کے دربار میںدعوتِ حق پیش کی تو اس نے دریافت کیا: تمھارا رب کون ہے؟ حضرت موسیٰؑ نے فرمایا:

رَبُّنَا الَّذِیْ أَعْطَی کُلَّ شَیْْء  ٍ خَلْقَہ‘ ثُمَّ ہَدَی  ﴿طہٰ:۵۰﴾

’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی پھر اس کو راستہ بتایا۔‘

حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم اللہ واحد کو چھوڑکر بَعل نامی بت پوجتی تھی۔ انھوںنے اسے سمجھایاکہ تمھاری پرستش کی مستحق وہ ذات ہے جس نے تمھیں پیداکیا ہے۔ فرمایا:

ِ أَلَا تَتَّقُونَ أَتَدْعُونَ بَعْلاً وَتَذَرُونَ اََحْسَنُ الْخَالِقِیْن ﴿الصّفّٰت:۱۲۵﴾

تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟ کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور اَحْسَنُ الخالقین کو چھوڑدیتے ہو؟

﴿۲﴾رازق

اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ کائنات کی ہر چیز کو وجود بخشا ہے، بلکہ اس کی روزی کابھی انتظام کیاہے ۔﴿ھود:۶﴾ رزق کی کنجیاں صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں، وہ جس کے لیے چاہتاہے روزی میں کشادگی کردیتاہے اور جسے چاہتاہے نپا تلا دیتاہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جو کسی دوسرے کے رزق کا مالک ہو۔ انبیاے کرام نے اپنی دعوت میں اس پہلو کو بھی نمایاں کیاہے:

انَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُونَ لَکُمْ رِزْقاً فَابْتَغُوا عِندَ اللّٰہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوہُ  ﴿العنکبوت:۷۱﴾

’درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمھیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو۔‘

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کی حرام خوریوں پر بڑے لطیف انداز میں طنز فرمایا:

یٰا قَوْمِ أَرَأَیْْتُمْ اِن کُنتُ عَلَیٰ بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقاً حَسَناً ﴿ھود:۸۸﴾

‘‘بھائیو! تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ﴿تو اس کے بعد میں تمھاری گم راہیوں اور حرام خوریوں میں تمھارا شریک حال کیسے ہوسکتاہوں﴾۔’’

﴿۳﴾منعِم ﴿نعمتوں سے نوازنے والا﴾

انبیاے کرام نے اپنی قوموں سے یہ بھی فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ تمھارے لیے اس دنیا میں وسائل رزق فراہم کیے ہیں، بلکہ دیگر بہت سی نعمتوں سے بھی نواز ہے۔ پھل، پھول، باغات، چشمے ، نہریں، کھیتیاں، غلّے، سورج، چاند ستارے، پہاڑ، دریا، جانور، کشتیاں، غرض دنیا کی چھوٹی بڑی تمام چیزیں جنھیں تم اپنے کام میں لاتے ہو، ان کی مدد سے اپنے لیے آسائشیںفراہم کرتے ہو اور جن کی بنا پر اس کائنات میں توازن قائم ہے، سب کو اللہ واحد نے پیداکیا ہے اور انھیں اس نے تمھاری خدمت میں لگادیا ہے، جن سے تم بڑے بڑے کام لیتے ہو۔ ان نعمتوں کو پاکر تمھارے اندر احسان شناسی اور شکرگزاری کاجذبہ پیداہوناچاہیے۔

حضرت ھود علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

أَتَبْنُونَ بِکُلِّ رِیْعٍ آیَۃً تَعْبَثُونَo وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُونَo وَاِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَo فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَطِیْعُونِo وَاتَّقُوا الَّذِیْ أَمَدَّکُم بِمَا تَعْلَمُونَoأَمَدَّکُم بِأَنْعَامٍ وَبَنِیْنَ oوَجَنَّاتٍ وَّعُیُونٍo ﴿الشعراء :۱۲۸-۱۳۴﴾

’یہ تمھارا کیاحال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بناڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمھیں ہمیشہ رہنا ہے اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّاربن کر ڈالتے ہو۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ڈرو اس سے جس نے وہ کچھ تمھیں دیاہے جو تم جانتے ہو۔ تمھیں جانوردیے، اولادیں دیں، باغ دیے اور چشمے دیے۔‘

مزیدملاحظہ کے لیے الاعراف:۶۹،ھود:۵۲

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے ان نعمتوں کاتذکرہ کیا:

أَتُتْرَکُونَ فِیْ مَا ہَاہُنَا اٰمِنِیْنo فِیْ جَنَّاتٍ وَّعُیُونٍ o وَزُرُوعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُہَا ہَضِیْمٌ o وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتاً فَارِہِیْنَ o الشعراء :۱۴۶-۱۴۹﴾

’کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان ،جو یہاں ہیں، بس یوںہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤگے؟ ان باغوں اور چشموںمیں؟ ان کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟ تم پہاڑ کھودکھود کر فخریہ ان میں عمارتیں بناتے ہو۔‘

مزید ملاحظہ کیجیے: الاعراف:۴۷، ھود:۶۱

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:

وَاذْکُرُواْ اِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ    ﴿الاعراف:۶۸﴾

’یادکرو وہ زمانہ جب کہ تم تھوڑے تھے، پھر اللہ نے تمھیں بہت کردیا۔‘

﴿۴﴾رب

اللہ تعالیٰ کی صفت ’رب‘ کاذکر تمام انبیاے کرام کی دعوتوں میں ملتاہے۔ انھوںنے اپنی قوموں کو خبردی کہ وہ ان کے پاس رب العالمین کے فرستادہ ہیں، اس کی طرف سے روشن نشانیاں لے کر آئے ہیں، ان کابھروسا صرف اسی کی ذات پر ہے، جو ان کا اور دنیا کے تمام انسانوں کا رب ہے۔ اپنی اس خدمت پر وہ صرف رب العالمین ہی سے اجر کے طالب ہیں، انھوںنے اپنی قوموں کو تلقین کی کہ صرف اپنے رب کی پرستش کرے اور اسی سے اپنی خطاؤں پر معافی مانگے۔ دعوت انبیاء  کے ضمن میں آیات بہ کثرت ہیں۔ چند درج کی جارہی ہیں:

حضرت نوحؑ کی دعوت پر جب ان کی قوم نے انھیں گم راہ کہاتو فرمایا:

یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلٰ کِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ﴿الاعراف:۱۶﴾

’’اے برادرانِ قوم! میں کسی گم رہی میں نہیں پڑاہوں، بل کہ میں رب العٰلمین کارسول ہوں، تمھیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتاہوں۔‘‘

اسی طرح حضرت ھود علیہ السلام کی قوم نے جب ان کی دعوتِ توحیدکو بے عقلی کی باتیں قرار دیا تو انھوں نے بھی یہی بات فرمائی۔ ﴿الاعراف:۷۶،۸۶﴾

حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا:

قَدْ جَآء  تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ ﴿الاعراف:۳۷﴾

’’تمھارے پاس تمھارے رب کی کھلی دلیل آگئی ہے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے ان کی دعوت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ کہایہ تو اپنے حقیقی خیالات پیش کررہاہے یا مذاق کررہاہے۔ انھوں نے جواب دیا:

بَلْ رَّبُّکُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَہُنَّ ﴿الانبیاء :۶۵﴾

’’بل کہ فی الواقع تمھارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت میں صفاتِ الٰہی کے ضمن میں’’رب‘‘ کا استعمال باربار ہواہے۔ انھوں نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اعلان کیاکہ وہ رب العالمین کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو ان کے اور فرعون کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِیْنَ o قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْْنَہُمَآ ان کُنتُم مُّوقِنِیْنَ o قَالَ لِمَنْ حَوْلَہ’ أَلَا تَسْتَمِعُونَ o قَالَ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الْأَوَّلِیْنَ o قَالَ اِنَّ رَسُولَکُمُ الَّذِیْ أُرْسِلَ اِلَیْْکُمْ لَمَجْنُونٌ o قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْْنَہُمَآ ان کُنتُمْ تَعْقِلُونَo ﴿الشعراء :۳۲-۸۲﴾

’’فرعون نے کہا: ‘اور یہ رب العالمین کیاہوتاہے؟ موسیٰؑ نے جواب دیا: آسمانوں اور زمین کارب اور ان سب چیزوں کا رب جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو۔ فرعون نے اپنے گرد وپیش کے لوگوں سے کہا:سنتے ہو؟ موسیٰؑ نے کہا:تمھارا رب بھی اور تمھارے ان آباء  و اجداد کارب بھی جو گزرچکے ہیں۔فرعون نے ﴿حاضرین سے﴾ کہا:تمھارے یہ رسول صاحب جو تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں۔موسیٰؑ نے کہا: مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کارب اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعوت ان الفاظ میں پیش کی:

فَاتَّقُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُونِ ا ِنَّ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُم ﴿آل عمران:۰۵،۱۵﴾

’’لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی‘‘

لفظ ’رب‘ کا استعمال کلامِ عرب میں مختلف معانی کے لیے ہوتا ہے اور وہ تمام معانی ذاتِ باری تعالیٰ پرصادق آتے ہیں۔ مفسرطبری نے لکھاہے:

لفظ ’رب‘ کااستعمال کلامِ عرب میں مختلف معانی کے لیے ہوتاہے، مثلاً وہ سردار جس کی اطاعت کی جائے، وہ شخص جو کسی چیز کی اصلاح کرنے والا ہو، وہ شخص جو کسی چیز کامالک ہو، سب کو’رب‘ کہاجاتاہے۔ ہمارا رب ایسا سردار ﴿حاکم﴾ ہے جس کی سرداری میں کوئی مشابہت و مماثلت نہیں۔ وہ اپنی مخلوقات پر اپنی نعمتیں تمام کرکے ان کے معاملات کی اصلاح کرنے والا ہے۔ ایسا مالک ہے جس کے لیے تخلیق بھی ہے اور حاکمیت بھی۔ ﴿تفسیرطبری﴾

علامہ ابن کثیرؒ  فرماتے ہیں:

’رب تصرف کرنے والے مالک کو کہتے ہیں، عربی زبان میں اس کا اطلاق سردار پر اور اصلاح کے لیے تصرف کرنے والے پر ہوتا ہے۔ یہ سب معانی اللہ تعالیٰ کے حق میں صحیح ہیں، ﴿تفسیرابن کثیر﴾

﴿۵﴾علیم

انبیاے کرام نے اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ’علم‘ کو بھی نمایاں کیاہے۔ انھوںنے اپنی قوموں کو ڈرایاہے کہ تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے۔ اس کی نظر میں وہ لوگ بھی ہیں جو اس کی بتائی ہوئی سیدھی راہ پر چل رہے ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو سرکشی اور نافرمانی کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر دنیا میں نافرمانوں کی وہ گرفت نہیں کررہاہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ان کے کرتوتوں کی خبر نہیں ہے، بل کہ درحقیقت وہ انھیں ڈھیل دے رہاہے۔ جب ان کو دی گئی مہلت عمل ختم ہوجائے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں پائیںگے، ان پر عذاب آئے گا یا نہیں؟ اورآئے گا تو کب؟ اس کاعلم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی طویل دعوتی جدّوجہد کے باوجود ان کی قوم کی اکثریت ایمان نہیں لائی۔ حضرت نوحؑ نے اسے ڈرایا کہ اگر تم اپنا رویّہ نہیںدرست کروگے تو اللہ کے عذاب میں گھِرسکتے ہو، مگر قوم کے لوگوںپر اس کاکچھ بھی اثر نہیں ہوا، بل کہ الٹے کہنے لگے کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، اسے لاکر دکھاؤ۔ انھوں نے فرمایا:

َ اِنَّمَا یَأْتِیْکُم بِہِ اللّہُ اِن شَآء  وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِیْنَ ﴿ھود:۳۳﴾

’وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگرچاہے گا اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو‘

یہی رویہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے بھی اپنایا۔ وہ بھی عذاب الٰہی کی تنبہہ پر خوف کھانے کی بہ جائے حضرت ہود سے جھگڑنے لگی اور ان کامذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جس عذاب کی تم دھمکی دے رہے ہو اسے کب لاؤگے؟ حضرت ہودؑ نے جواب دیا:

اِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللّٰہِ وَأُبَلِّغُکُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِہٰ وَلَکِنِّیْ أَرَاکُمْ قَوْماً تَجْہَلُون ﴿الاحقاف:۲۳﴾

’اس کا علم تو اللہ کو ہے، میں صرف وہ پیغام تمھیں پہنچارہاہوں، جسے دے کر مجھے بھیجاگیاہے، مگر میں دیکھ رہاہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے شرک اور بت پرستی پر تنقید کی اور مختلف تدابیر سے اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ کٹ حجّتی پر اترآئی۔ اس وقت حضرت ابراہیمؑ نے دو ٹوک انداز میں شرک سے اپنی برأت کااعلان کرتے ہوئے فرمایا:

أَتُحَآ جُّوٓنِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ اِلاَّ أَن یَشَاء  َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء  ٍ عِلْماً أَفَلاَ تَتَذَکَّرُون ﴿الانعام:۸۰﴾

’کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، حالاں کہ اس نے مجھے راہ راست دکھادی ہے اور میں تمھارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے۔ میرے رب کاعلم ہرچیز پر چھایاہوا ہے۔ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤگے؟‘

حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے لوگ بپھرگئے اور کہنے لگے کہ اگر تیرا حمایتی جتھا نہ ہوتا تو ہم تجھے جیتا نہ چھوڑتے۔ حضرت شعیبؑ نے فرمایا:

یَا قَوْمِ أَرَہْطِیْ أَعَزُّ عَلَیْْکُم مِّنَ اللّہِ وَاتَّخَذْتُمُوہُ وَرَائ کُمْ ظِہْرِیّاً اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیْط ﴿ھود:۹۲﴾

’بھائیو! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے ﴿برادری کا تو خوف کیا اور﴾ اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟جو کچھ تم کررہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں پیش کیں، مگر انھوں نے جھٹلایا اور جادو قرار دیا۔ جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

رَبِّیْ أَعْلَمُ بِمَن جَآء  بِالْہُدٰی مِنْ عِندِہٰ وَمَن تَکُونُ لَہُ عَاقِبَۃُ الدَّارِ اِنَّہُ لَا یُفْلِحُ الظَّالِمُون ﴿القصص:۳۷﴾

’میرا رب اس شخص کے حال سے خوف واقف ہے، جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیاہے اور وہی بہتر جانتاہے کہ آخری انجام کس کا اچھاہوتاہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔‘

شرک کی مذمّت

انبیاے کرام نے اپنی قوموں کو جہاں ایک طرف توحید کی دعوت دی ہے، وہیں دوسری طرف انھیں شرک سے روکاہے۔ دونوں چیزیں لازم و ملزوم رہی ہیں۔ شرک کامطلب ہے اللہ کی ذات، صفات اور حقوق واختیارات میںکسی اور کوشریک کرنا۔ قوموں کے انحراف اور گم رہی کی بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ انھوںنے اللہ واحد کو چھوڑکر یا اس کے ساتھ بہت سے دیوی دیوتاؤں کو خدا بناڈالا، جو صفات صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو زیباتھیں وہ ان کی طرف منسوب کردیں، جن حقوق اور اختیارات کامالک صرف اللہ تھا، وہ انھیں دے دیے یا ان میں اللہ کے ساتھ ان سب کو بھی شریک کرلیا۔ اللہ کے پیغمبروں نے اپنی قوموں کے سامنے بہت صاف اور دوٹوک الفاظ میں شرک سے برأت کااظہارکیا ہے اور اللہ کے ساتھ دوسرے نام نہاد معبودوں کو شریک ٹھہرانے سے روکا ہے۔

حضرت ہودؑ کی دعوتِ توحید کے سلسلے میںجب ان کی قوم نے آناکانی کی تو انھوں نے فرمایا:

قَدْ وَقَعَ عَلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَادِلُونَنِیْ فِیْ أَسْمَآء  سَمَّیْْتُمُوہَآ أَنتُمْ وَاٰبَآؤکُم مَّا نَزَّلَ اللّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ﴿الاعراف:۷۱﴾

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کواکب پرستی میں مبتلاتھی، انھوںنے بہت لطیف انداز میں اس کی شناعت بیان کی اور اس سے روکنے کی کوشش کی، مگر جب وہ نہ مانی اور کٹ حجّتی پراترآئی تو حضرت ابراہیمؑ نے علی الاعلان شرک سے برأت کااظہار کیا اور اپنی قوم کے رویّے کی مذمت کی۔ قرآن نے اس کاتذکرہ ان الفاظ میں کیاہے:

ْ قَالَ یَا قَوْمِ اِنِّیْ بَرِٓیْئ ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونo اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo وَحَآجَّہ‘ قَوْمُہ‘ قَالَ أَتُحَآجُّوٓنِّیْ فِیْ اللّٰہِ وَقَدْ ہَدَانِ وَلآَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہٰ اِلاَّ آَٔن یَشَاء  َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء  ٍ عِلْماً أَفَلاَ تَتَذَکَّرُونَo وَکَیْْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَانا    ﴿الانعام:۷۸-۸۱﴾

’ ’اس ﴿ابراہیم﴾ نے کہا: اے برادرانِ قوم! میں ان سب سے بے زار ہوں، جنھیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو، میں نے یکسو ہوکر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا، جس نے زمین اور آسمانوں کو پیداکیا ہے اور میں ہرگز شرکت کرنے والوںمیں سے نہیں ہوں۔‘ اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا: ’کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالاںکہ اس نے مجھے راہ راست دکھادی ہے اور میں تمھارے ٹھہراء ے ہوئے شریکوںسے نہیں ڈرتا،ہاںاگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتاہے۔ میرے رب کاعلم ہر چیز پر چھایاہواہے۔ پھر کیاتم ہوش میں نہ آؤگے؟ اور آخر میں تمھارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جب کہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے، جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟‘‘

اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے معبودانِ باطل کی پرستش کرنا، ان سے لَولگانا، انھیں طاقت و قوت اور اقتدار کامالک سمجھنا اور معاملاتِ زندگی میں ان کی اطاعت کرنا شرک ہے، جس سے اجتناب کرناچاہیے، یہ تعلیم حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت میں بہت نمایاں ہے۔ قید خانے میں جب ان کے قیدی ساتھیوںنے ان کے سامنے اپنے جواب بیان کرکے ان کی تعبیر جاننی چاہی تو انھیں دعوت حق پیش کرنے کا بہت اچھا موقع ہاتھ آگیا۔ انھوںنے اللہ پر ایمان نہ لانے اور آخرت کاانکارکرنے والوں سے اپنی برأت اور اہل حق کے راستے کی پیروی کااظہار کیا تو ساتھ ہی شرک کی مذمت کی اور اس کاغیرعقلی ہوناواضح کیا۔ انھوں نے فرمایا:

مَا کَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِن شَیْْئ ٍ ذٰلِکَ مِن فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَ کِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَشْکُرُونَo یَا صَاحِبَیِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَیْْرٌ أَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُo مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِہِ اِلاَّ أَسْمَاء  سَمَّیْْتُمُوہَآ أَنتُمْ وَاٰ بَآؤُکُم مَّآ أَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہ ﴿یوسف:۳۸-۴۰﴾

’ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ درحقیقت یہ اللہ کافضل ہے ہم پراور تمام انسانوں پر ﴿کہ اس نے اپنے سوا کسی کابندہ ہمیں نہیںبنایا﴾ مگر اکثر شکر نہیں کرتے۔ اے زنداں کے ساتھیو! تم خود ہی سوچوکہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑکر تم جن کی بندگی کررہے ہو، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباواجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماں روائی کااقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔‘

آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پوری قوت کے ساتھ شرک کا ردکیاہے۔ اس کی مذمّت، ابطال، نقد اور نامعقولیت کے اظہارسے پورا قرآن بھرا ہے۔ مثلاً:اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہٰ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَآء  ُ وَمَن یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰیٓ اِثْماً عَظِیْماً ﴿النساء :۴۸﴾

’اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتاہے معاف کردیتا ہے، اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا، اس نے افترا کرکے بہت بڑے گناہ کاارتکاب کیا۔‘

یہی آیت اسی سورت میں ایک دوسری جگہ بھی آئی ہے۔ وہاں آیت کاآخری ٹکڑا یوں ہے:

وَمَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً  ﴿النساء :۱۱۶﴾

’جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گم رہی میں بہت دور نکل گیا‘

بت پرستی کا رد

جوافراد یا قومیں شرک میں مبتلا ہوئیں، انھوں نے بے شمار چیزوں کو خدا بناڈالا۔ جو چیز بھی انھیں مافوق الفطرت نظرآئی یا اس سے کسی فائدے کی امید ہوئی یا اس سے ضررر کااندیشہ ہواوہ انھیں مقدس معلوم ہوئی اور اس کے سامنے انھوں نے اپنی جبینِ نیاز خم کردی۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، درخت، سانپ، گائے اور نہ جانے کیاکیا چیزیں معبودوں کی فہرست میں شامل ہوگئیں۔ شرک کا بدترین مظہر بت پرستی ہے۔ انسان اپنے ہاتھ سے مٹی پتھر کے بت بناتاہے، پھر انھی کے آگے اپنا سر جھکانے لگتاہے، حالاں کہ وہ کھلی آنکھوں سے دیکھتاہے کہ وہ اسے نفع پہنچانے پرقادر ہیں نہ نقصان۔

انبیاے کرام نے اپنی قوموں کو مظاہر شرک سے اجتناب کی تلقین کرنے کے ساتھ بتوں کی پرستش سے بھی روکا۔ ان کے سامنے اس کی نامعقولیت واضح کی اور اس کے بُرے انجام سے ڈرایا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم جن بتوں کو پوجتی تھی ان میں سے ود، سواع، یغوث اور نسر کے نام قرآن میں مذکور ہیں۔ ﴿نوح:۳۲﴾ حضرت نوحؑ نے اسے اس سے تائب ہونے اور اللہ واحد کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم ’بعل‘ کی پجاری تھی۔ اس پر انھوںنے اس کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا:

ِ أَلَا تَتَّقُونَ، أَتَدْعُونَ بَعْلاً وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِیْن ﴿الصفت: ۱۲۵﴾

’کیاتم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟کیاتم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑدیتے ہو؟‘

بت پرستی پر سب سے سخت تنقیدیں انبیاے کرام میں سے حضرت ابراہیمؑ کی دعوت میں ملتی ہیں۔ ان کی پیدایش اور ان کی پرورش ایک بت پرست خاندان میں ہوئی۔ ان کا باپ بہت بڑا پروہت تھا۔ ان کی قوم بت پرستی میں غرق تھی۔ حضرت ابراہیمؑ نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد اپنے باپ اور قوم کے سامنے دعوتِ حق پیش کی تو ان کی بت پرستی کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مختلف پہلوؤں سے رد کیا۔ قرآن کی بہت سی سورتوں میںاس کی تفصیل مذکورہے۔ مثلاً:

وَاِذْ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ لأَبِیْہِ اٰزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً اٰ لِہَۃً اِنِّیْ أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْن ﴿الانعام: ۴۷﴾

’ابراہیم کا واقعہ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ آزر سے کہاتھا ’کیا تو بتوں کو خدا بناتاہے؟ میںتو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گم رہی میں پاتاہوں‘

اِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ وَقَوْمِہٰ مَاذَا تَعْبُدُونَ o أَئِفْکاً اٰلِہَۃً دُونَ اللّّٰہِ تُرِیْدُونَ   ﴿الصفت:۸۵،۸۶﴾

’جب اس ﴿ابراہیم﴾نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کررہے ہو؟ کیا اللہ کو چھوڑکر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟‘

اِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ وَقَوْمِہٰ مَا ہَذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْ أَنتُمْ لَہَا عَاکِفُونَoقَالُوا وَجَدْنَا اٰ بَاء  نَا لَہَا عَابِدِیْنَoقَالَ لَقَدْ کُنتُمْ أَنتُمْ وَاٰ بَاؤُکُمْ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍo   ﴿الانبیاء :۵۲-۵۴﴾

’یادکرو وہ موقع جب کہ اس ﴿ابراہیم﴾ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہاتھاکہ ’یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہورہے ہو؟ انھوںنے جواب دیا: ’ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایاہے‘ اس نے کہا: ’تم بھی گم راہ ہو اور تمھارے باپ دادا بھی صریح گم رہی میں پڑے ہوئے تھے‘

وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ اِبْرَاہِیْمَ oاِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ وَقَوْمِہٰ مَا تَعْبُدُونَ oقَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَہَا عَاکِفِیْنَ oقَالَ ہَلْ یَسْمَعُونَکُمْ اِذْ تَدْعُونَ o أَوْ یَنفَعُونَکُمْ أَوْ یَضُرُّونَo                     ﴿الشعراء :۶۹-۷۳﴾

’اور انھیں ابراہیم ؑ کا قصہ سناؤ جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھاتھاکہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟ انھوںنے جواب دیا: ’کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انھی کی خدمت میں لگے رہتے ہیں‘ اس نے پوچھا:کیا یہ تمھاری سنتے ہیں جب تم انھیں پکارتے ہو؟ یا یہ تمھیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟‘

پھرحضرت ابراہیمؑ نے ایک موقعے پر جب شہر کے بت خانے کے بتوں کو پاش پاش کردیا اور شبہ ہونے پر قوم ان سے اس معاملے میں پوچھ گچھ کرنے آئی تو انھوںنے اس موقعے پر بھی بتوں کی بے بسی اور ان کی پرستش کی نا معقولیت واضح کی۔

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ oوَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ﴿الصفت: ۹۵،۹۶﴾

’اس نے کہا: کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوںکو پوجتے ہو؟ حالاں کہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیداکیاہے اور ان چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو‘

قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ مَا لَا یَنفَعُکُمْ شَیْْئاً وَلَا یَضُرُّکُمْ o أُفٍّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ أَفَلَا تَعْقِلُون ﴿الانبیاء :۶۶،۶۷﴾

’﴿ابراہیم نے﴾کہا: ’پھر کیا تم اللہ کو چھوڑکر ان چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمھیں نفع پہنچانے پر قادر ہیںنہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمھارے ان معبودوںپر جن کی تم اللہ کو چھوڑکر پوجا کررہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟‘

ایک اللہ کی عبادت

تمام انبیاء  کی دعوت کااصل الاصول یہ ہے کہ اللہ واحد کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم میںاپنے رسول کو بھیجاتو اس کے ساتھ اپنے بندوں کے لیے یہ پیغام بھی نازل کیاکہ صرف اسی کو ’الٰہ‘ سمجھیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ یہ بات قرآن کریم میں اجمالی انداز سے بھی بیان کی گئی ہے اور الگ الگ ہرپیغمبر کانام لے کر بھی تصریح کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ اِلَّا نُوحِیْ اِلَیْْہِ أَنَّہُ لَا اِلَہَ اِلَّا أَنَا فَاعْبُدُون  ﴿الانبیاء :۲۵﴾

’ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجاہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّٰہَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوت﴿النحل:۳۶﴾

’ہم نے ہرامت میں ایک رسول بھیج دیا ﴿اور اس کے ذریعے سے سب کو خبردار کردیا﴾ کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘

اس آیت میں اللہ کی عبادت کے ساتھ ’طاغوت‘ سے بچنے کاحکم دیاگیاہے۔ طاغوت طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی حد سے آگے بڑھنے اور سرکشی کرنے کے ہیں۔ طاغوت کا اطلاق کافر، ساحر، بت، شیطان اور ہرسرکش جن اور وانس پر کیاگیاہے۔ ﴿ابن الجوزی، نزھتہ الاعین النواظر فی علم الوجوہ والنظائر، طبع حیدرآباد،۲/۶۲﴾ امام رازی نے پانچ اقوال نقل کیے ہیں، جن میں سے چار اول الذکر کے مثل ہیں، پانچویں قول میں کافر کی بہ جائے کاہن ہے، پھر لکھاہے:

’حقیقت یہ ہے کہ چوں کہ ان چیزوں سے تعلق کی بنیاد پرآدمی حد سے تجاوزکرتاہے، اس لیے ان چیزوں کو سرکشی کے اسباب میںشمار کیاگیاہے۔ البقر/۲۵۶﴿رازی، تفسیر کبیر﴾

سورۂ اعراف اور سورۂ ھود میں پیغمبروں میں سے حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب علیہم السلام کی دعوت تفصیل سے مذکور ہے۔ہرپیغمبر نے اپنی قوم سے ایک اللہ کی ہی عبادت کرنے کی تاکید کی۔ ہر ایک نے یہی کہا:

یٰقَوْمِ اعْبُدُواْ اللّٰہَ مَا لَکُم مِّنْ اِلٰہٍ غَیْْرُہ ﴿الاعراف:۵۹،۶۵،۷۳،ھود:۵،۶۱،۸۴﴾

’اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا ستمھارا کوئی خدا نہیں ہے‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کی تفصیلات قرآن کریم میں مختلف مقامات پر مذکور ہیں۔ سورۂ عنکبوت میں ہے کہ انھوںنے ایک موقعے پر فرمایا:

اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوہُ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ اِن کُنتُمْ تَعْلَمُون﴿العنکبوت:۶۱﴾

’اللہ کی بندگی کرواور اس سے ڈرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو‘

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے جیل کے ساتھیوں کے سامنے دعوتِ توحید تفصیل سے پیش کی تو اس میں یہ بھی فرمایا :

أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ اِلاَّ اِیَّاہُ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَ کِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُون ﴿یوسف:۴۰﴾

’اس کاحکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقۂ زندگی ہے، مگراکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘

حضرت عیسیٰؑ کی دعوت قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ ہرجگہ صراحت ہے کہ انھوںنے ایک اللہ کی عبادت کی تعلیم دی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع کیا۔ فرمایا:

یَا بَنِیْ اِسْرَائِیٓلَ اعْبُدُواْ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ ﴿المائد:۷۲﴾

’اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی‘

[مزید: آل عمران:۵۰،۵۱، المائدہ:۱۱۷، التوبہ:۳۱، مریم:۳۶، الزخرف:۶۳،۶۴]

پیغمبرخاتم النبیینﷺکی اصل دعوت بھی یہی ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے:

یَآ أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ﴿البقرہ:۱۲﴾

’لوگو! بندگی اختیارکرو اپنے اس رب کی جو تمھارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہوگزرے ہیں، ان سب کا خالق ہے۔ تمھارے بچنے کی توقع اسی صورت سے ہوسکتی ہے۔‘

اللہ تعالیٰ بنی آدم کو مخاطب کرکے اپنا عہد یاد دلاتا ہے جس کی پابندی کا انھوںنے اقرار کیاتھا:

أَلَمْ أَعْہَدْ اِلَیْْکُمْ یَا بَنِیْ آٰ دَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْْطَانَ اِنَّہ‘ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ o وَأَن اعْبُدُونِیْ ہَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ﴿یٰس:۶۰،۶۱﴾

’اٰدم کے بچو! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے‘

لفظ ’عبادت‘ قرآن کی اہم اصطلاحات میں سے ہے۔ بہ قول علامہ راغب اصفہانی :

’عبودیت‘ فروتنی کے اظہار کو کہتے ہیں۔ لفظ ’عبادت‘ میں اس سے زیادہ بلاغت پائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا اطلاق انتہائی درجے کی فروتنی پر ہوتاہے۔ اس کا مستحق صرف وہی ہوتاہے جو انتہائی انعام و احسان کرنے والا ہو، یعنی اللہ تعالیٰ۔ عبادت کی دوقسمیں ہیں: ایک ہے تسخیری عبادت، دوسری ہے اختیاری عبادت۔یہ ذوی العقول کے لیے ہے۔ اُعْبُدُورَبَّکُمْ ﴿اپنے رب کی عبادت کرو﴾جیسی آیات میں اسی کاحکم دیاگیاہے۔‘ ﴿راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن﴾

علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

’عبادت کے لغوی معنی فروتنی کے ہیں۔ اصطلاح شرع میںاس کااطلاق انتہائی محبت، عاجزی اور خوف کے مجموعے پر ہوتاہے اور اسی کو کامل اطاعت سے تعبیر کرتے ہیں۔‘  ﴿تفسیرابن کثیر﴾

علامہ ابن تیمیہؒ  نے رسالہ ’العبودیۃ‘ میں تفصیل سے اظہار خیال فرمایاہے:

’عبادت ایک جامع لفظ ہے۔ اس کا اطلاق ان تمام باطنی وظاہری اقوال وافعال پر ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پسند ہیں، مثلاًنماز، زکوٰۃ، روزہ ، حج، سچائی، امانت داری، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، ایفاے عہد، نیکی کا حکم دینا، بُرائی سے روکنا، کافروں اور منافقوں سے جہادکرنا، پڑوسی ، یتیم، مسکین، زیردست انسانوں اور چوپایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، دعا، ذکر، قرأت وغیرہ۔ اسی طرح اللہ اور اس کے رسول سے محبت، اللہ کاڈر، اس کی طرف انابت، دین کو اس کے لیے خالص کرنا، اس کے حکم پہ جم رہنا، اس کی نعتوں پر شکر کرنا، اس کے فیصلے پر راضی رہنا، اس پر بھروسہ کرنا، اس کی رحمت کی امید رکھنا، اس کے عذاب سے ڈرنا، یہ اور اس جیسے دیگر امور بھی اللہ کی عبادت میں سے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کی عبادت ہی وہ غایت ہے جو اللہ کو محبوب اور پسندیدہ ہے اور جس کے لیے اس نے مخلوق کو پیداکیا ہے۔ اس کاارشاد ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُون ﴿الذاریات:۶۵﴾

’میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں‘ اسی کے لیے اس نے تمام رسولوں کو بھیجا، جیساکہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: اَعْبُدُوااللّٰہَ مَالَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرَہ‘ ﴿اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے﴾ یہی بات حضرت ھودؑ حضرت صالح، حضرت شعیبؑ اور دیگر پیغمبروں نے کہی تھی۔ اس کام کو اس نے اپنے رسولوں کے لیے موت تک لازم کردیاتھا۔

نومبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau