سمرقند کا مقدمہ

شیخ علی طنطاوی | ترجمہ: اکمل فلاحی

اسلامی تاریخ کا یہ حیرت انگیز اور نادرہ روزگار واقعہ

طبری اور بلاذری نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں ذکر کیا ہے

 (سمرقند پر مسلم افواج کا قبضہ ہوچکا تھا۔ شہر سے باہر جنگل کی تاریکی میں وہاں کا خفیہ اور پر اسرار معبد تھا، مسلمانوں کے قبضے سے معبد کے کاہن شدید ناراض تھے، غصہ اور مایوسی ان پر چھائی ہوئی تھی، انھوں نے آخری حربے کے طور پر ایک جواں مرد کو اپنا قاصد بناکر مسلمانوں کے خلیفہ کے پاس بھیجا، سمرقند کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے۔ بہت طویل سفر کرکے وہ آخر کار دمشق پہنچ گیا۔)

یہ دمشق ہے، یہ دنیا کا منبر ہے، یہیں سے وہ فرمان جاری ہوتا ہے جو ہر جگہ مانا جاتا ہے، وہ مشرق میں سمرقند جا پہنچتا ہے اور مغرب میں اسپین سے بھی آگے گزر جاتا ہے، یہیں وہ شخص رہتا ہے کہ چین کے پہاڑوں سے بحرِ ظلمات تک کوئی ایسی طاقت نہیں جواس کے حکم کی خلاف ورزی کرے۔

لیکن اس تک وہ پہنچے کیسے؟

اس کے دل پرمایوسی چھانے لگی، اس نے ایک سرائے میں رات گزاری، جب صبح ہوئی تو سب سے خوب صورت لباس زیب تن کیا اور خلیفہ سے ملنے نکل گیا۔ اس پرشدید ہیبت طاری تھی، کہ اسے اس خلیفہ کا سامنا کرنا جس کی آدھی زمین پرفرماں روائی ہے، اسے یاد آیا کہ کیسے کسریٰ سے ملاقات کے ڈر سے دل پھٹے جاتے تھے۔ دربان اس کے دروازے پرکھڑے رہتے اور ذرا سے شک کی بنیاد پرقتل کردیتے، کسی کی کوئی بات مزاج پر گراں گزرتی تو اسے سولی پر چڑھادیتے۔ اس نے اپنی گردن پکڑ لی اسے لگا کہ وہ مار دی گئی اور اس کا سر تن سے جدا ہوگیا، یہ سوچتے ہی اس کا جوش و ولولہ غائب ہوگیا، وہ سوچنے لگا کہ معبد کا مشن چھوڑ کر صحیح سالم اپنے ملک واپس لوٹ جائے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ وہ کاہنوں کو کیا منھ دکھائے گا۔

وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا چلا جارہا تھا، جب وہ دمشق کی کسی پر شکوہ عمارت سے گزرتا، اسے خلیفہ کا محل تصور کرتا اور اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا۔ پھر اس نے ایک ایسی عمارت دیکھی جس کی شان و شوکت کی کوئی نظیر نہیں، اس کا دروازہ کافی بڑا تھا، اس نے لوگوں کوداخل ہوتے اور نکلتے دیکھا، نہ کوئی کسی سے پوچھ رہا ہے اور نہ کوئی دربان کسی کو روک رہا ہے، وہ اپنی ہمت جٹا کے اندر داخل ہوا، جب اس نے دیکھ لیا کہ کوئی اسے روک نہیں رہا ہے تو اسے سکون ملا، پھر وہ کیا دیکھتا ہے کہ وہ ایک بہت کشادہ صحن میں آگیا، اس کی زمین پر چمکتے ہوئے سنگ مرمر جو آئینے کی طرح چمکتے، اس کے چاروں طرف اونچی اونچی دیواریں تھیں۔ انھیں انوکھے نقش و نگار سے سجایا گیا تھا، صحن کے بیچ ایک وسیع پانی کا حوض تھا، اس پر سورج کی شعائیں پڑتیں تو اس کامنظر دل فریب ہوتا۔ پھر وہ صحن پار کرکے ایک ہال میں پہنچ گیا، جو کشادگی میں صحن سے کم نہ تھا، اس کی چھت سنگ مرمر کے ستونوں پر بنی تھی، ستونوں پر محراب اور محراب کے اوپر ان سے چھوٹے چھوٹے پائے اور پائے کے اوپر کمانیں اورمحراب نما روشن دان بنے تھے، چھت سے چاندی کی زنجیریں لٹکی ہوئی تھیں جن میں فانوس کے جھومر لگے ہوئے تھے۔

وہ حواس باختہ لوگوں کے درمیان چلنے لگا، اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرے، بس وہ ایک ایسے آدمی سے جا ٹکرایا جو اٹھتے بیٹھتے اللہ کا نام لیتا۔ اس نے اجنبی دیکھ کر اس کاحال دریافت کیا، بے ساختہ اس کی زبان سے نکل پڑا کہ وہ اپنے ملک سے آیا ہے اور خلیفہ سے ملنا چاہتا ہے، پھر وہ یہ سوچ کر لرز گیا کہ اس نے خلیفہ کا ذکر تعظیم کے ساتھ نہیں کیا ہے، ابھی وہ آدمی غضب ناک ہوجائے گا اور اسے پولیس کے حوالے کردے گا، اور آخرکار اسے جیل جانا پڑے گا۔۔ لیکن اس نے آدمی کو پرسکون لہجے میں کہتے سنا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں تمھیں ان کے گھر کا پتہ بتاؤں:

سمرقندی: کیا یہ اس کا گھر نہیں ہے؟

دمشقی (مسکراتے ہوئے): نہیں؛ یہ اللہ کا گھر ہے، یہ مسجد ہے، کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ پڑھ لی؟! ویسے ہاں کہتا، وہ تو سمرقند کے دین پر تھا، جس کے بارے میں اسے اسرار سے بھرے ہوئے اس معبد اور خوف ناک حلیے والے کاہنوں کے علاوہ اسے کچھ نہیں معلوم۔

دمشقی نے اپناسوال دہرایا۔

سمرقندی: جواب دیتے ہوئے بولا: نہیں؛ نہیں پڑھی، مجھے نہیں معلوم کہ نماز کیا چیز ہے۔

دمشقی: تمہارا دین کیا ہے؟

سمرقندی: میں سمرقند کے کاہنوں کے دین پرہوں۔

دمشقی: ان کا دین کیا ہے؟

سمرقندی: مجھے نہیں معلوم۔

دمشقی: تمہارا رب کون ہے؟

سمرقندی: معبد کے ڈراؤنے دیوتا۔

دمشقی: جب تم ان سے مانگتے ہو تو کیا وہ تمھیں دیتے ہیں؟ جب تم بیمار پڑتے ہو تو کیا وہ تمھیں شفا دیتے ہیں؟

سمرقندی: میں نہیں جانتا۔

تب اس دمشقی نے اسے اسلام کے بارے میں بڑے دل نشین انداز میں بتایا۔ وہ غور سے سنتا رہا- اس کے اندر کی دنیا بدل رہی تھی۔

پھر آدمی نے کہا: اب چلو میں تمھیں خلیفہ کا گھر بتاتا ہوں، حالانکہ یہ ان مختصر آرام کا وقت ہے۔

وہ اس کے پیچھے ہولیا، اس کاحال یہ تھا کہ اس دین کی خوب صورتی اور اس کی بلندی کے بارے میں سوچے جارہا تھا، اس کی آنکھوں سے پردہ ہٹ رہا تھا، اب وہ ان فتوحات اور اس بے مثال قوت کے راز کو جان گیا تھا۔ کہاں یہ روشن دین جواپنے ہر پیروکار کو اپنا ترجمان بنادیتا ہے، اورکہاں وہ پر اسرار دین؟ کہاں؟!

وہ مسجد کے جس دروازے سے داخل ہوا تھا اس سے نکلنے کے بجائے دوسرے دروازے سے نکلا، نکلتے ہی اس آدمی نے اسے حیرت میں ڈال دیا، وہ ایک سادہ سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا کہ یہ خلیفہ کا گھر ہے۔

اس نے حیرت میں ڈوب کر کہا: یہ؟! کیا یہ ممکن ہے کہ خلیفہ کا گھر عام لوگوں کے گھروں سے کہیں زیادہ معمولی ہو؟ وہ دمشق کے بہت سے پر شکوہ محلات دیکھتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔

اس نے دمشقی آدمی کی طرف دیکھا، اسے لگ رہا تھا کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہے مگر اس کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے وہ دروازے کی طرف آگے بڑھا، دمشقی کی بات پر اسے ابھی بھی شک تھا۔ اس نے وہاں ایک ادھیڑ عمر آدمی کو دیکھا، جو مٹی سے بنی دیوار کی مرمت کر رہا تھا اور ایک خاتون کو دیکھا جو آٹا گوندھ رہی تھی۔۔ وہ غصے اور ناراضگی کے عالم میں واپس آیا اور اس دمشقی سے کہا: تمھیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ تم مجھ سے ایسا مذاق کرو، میں تم سے خلیفہ کا گھر پوچھ رہا ہوں اور تم مجھے گارے مٹی کا کام کرنے والے کا گھر بتا رہے ہو؟

دمشقی: کون گارا بنانے والا؟

سمرقندی: اس گھر والا جو اس کام میں مصروف ہے۔

دمشقی: تمہارا بھلا ہو! بخدا یہ امیرالمومنین ہیں۔ اور یہ خاتون۔۔ کیا جانتے ہو یہ خاتون کون ہے؟ یہ خلیفہ عمر(بن عبدالعزیز) کی بیوی، خلیفہ عبدالملک کی بیٹی، خلیفہ ولید اور خلیفہ سلیمان کی بہن، یہ عرب کی سب سے معززخاتون ہیں۔ امیرالمومنین لوگوں میں سب سے خوش حال زندگی گزارنے والے تھے، لیکن ان کے اندر عمر بن خطاب جیسی خو بو تھی جس نے انھیں اس رنگ میں رنگ دیا، جسے تم دیکھ رہے ہو، تو جاؤ، ان کا دروازہ کھٹکھٹاؤ اور بلا جھجھک اپنی شکایت ان کے سامنے پیش کرو؛ بخدا وہ مغرور یا ظالم بادشاہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے خاکسار، نرم خو اور نرم دل بندے ہیں، جب وہ حق دیکھ لیتے ہیں تو اسے نافذ کردیتے ہیں، ان کے سامنے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی اور جب اللہ کی خاطرغصہ ہوتے ہیں تو آندھیاں اور بجلیاں ان کے غصے کے سامنے ہیچ ہوتی ہیں، بس تم جاؤ، اللہ کی توفیق تمھارے شامل حال رہے۔

سمرقندی خلیفہ کے گھرکی طرف پس و پیش کی حالت میں چل پڑا، ایک قدم آگے بڑھاتا پھر رک جاتا، اس کے اندر جوش و خروش کی آگ بھڑک رہی تھی، وہ چلتا پھر جب اس پر شک کی آندھیاں چلتیں تو رک جاتا، اسے اپنے ملک کے بادشاہوں کاخیال آتا تو محلات کی رکاوٹوں، دروازوں پر مامور دربانوں، بے نیام تلواروں اور بلند نیزوں کے بارے میں سوچنے لگتا، پھریہ گھردیکھتا۔۔اور اس شخص کے بارے میں سوچتا جس کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ وہ امیرالمومنین ہے، تواس کے تحیر میں اور اضافہ ہوجاتا۔ وہ حاکم کو جانتا ہے جو سختی کے ساتھ حکومت کرتا ہے اور اس رعیت کو بھی جانتا ہے جو ڈر کے مارے اطاعت کرتی ہے، رہا عدل والا حاکم اور محبت والی اطاعت، تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے وہ اپنے ملک میں نا آشنا تھا!

اسے یقین ہوگیا کہ یہ آدمی اس سے مذاق کر رہا ہے، وہ اس کے پیچھے دوڑا، اور اسے التجا کی: میں تمھیں اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا یہی امیرالمومنین کا گھرہے؟

دمشقی: ہاں، بخدا یہی ان کا گھر ہے! یہ اس آدمی کاگھرہے جس کے لیے زمین کی برکتیں سمٹ آئیں، اس نے سونے کو تولا اور اپنے ہاتھوں سے مستحقین کودے دیا، فقراء کوجواہرات عطا کیے، ضرورت مندوں میں موتی تقسیم کیے اور خود اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے دنیا کے سونے اور جواہرات بھر سکیں، یقینا وہ متاع دنیا سے بڑا ہے؛ اسی لیے اس نے اسے حقیر جانا اوراس سے عظیم شے (جنت) کا طالب رہا!

اس نے زندگی اوراس کی خوش حالیوں کو اس لیے نہیں چھوڑا کہ کسی پہاڑ کے غار میں اپنا ٹھکانہ بنالے اور لوگوں سے پردہ کرلے، یا کسی مسجد میں معتکف ہوجائے اور بس اللہ سے مناجات کرے۔ اگر وہ ایسا کرتا تو مشہور عابد و زاہد ہوتا، لیکن اس میں کوئی ایسی بات نہ ہوتی جو روایت کی جاتی اورنہ کوئی ایسا حیرت انگیز کارنامہ ہوتا جو بیان کیاجاتا۔ وہ دنیا سے بے رغبت ضرور ہے، لیکن وہ دنیا کا ایک فرد ہے، اس پر دنیا کے معاملات اور اس کی اصلاح کی ذمے داری ہے، گویا وہ گہرے پانی میں ہوتے ہوئے ڈوبتا نہیں اورآگ میں ہوتے ہوئے جلتا نہیں۔ وہ قناعت پسند ہے لیکن اس کے سر میں حکیموں کا دماغ، اس کے سینے میں بہادروں کا دل اور اس کے منھ میں ادیبوں کی زبان ہے، وہ اپنی عقل کی بدولت اس وسیع سلطنت کو چلاتا ہے، وہ قائد بھی ہے، مفتی بھی ہے، معلم بھی ہے۔۔اس ملک کا نظام اچھا کیا، جس کی بدولت امن و امان قائم ہوا، بغاوتوں کا دروازہ بند ہوا، مخالفت کرنے والے باز آگئے، بنو امیہ سے دشمنی رکھنے والے خاموش ہوگئے، شیعہ اورخوارج، مصری اور یمنی، گورے اور کالے آپس میں محبت کرنے والے بن گئے، بھیڑیے اور بھیڑ ایک گھاٹ سے پانی پینے لگے۔

جس صبح ان کی خواہش کے بغیر خلافت کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کی گئی انھوں نے ایک زوردار آواز سنی، جس سے زمین ہل گئی، اس وقت وہ امیرالمومنین سلیمان کی تدفین سے واپس آرہے تھے، پوچھا: یہ کیاہے؟ لوگوں نے کہا: سونے سے آراستہ اورنگینوں سے مزین خلافت کی سواریاں ہیں، آپ کے پاس لائی گئی ہیں تاکہ آپ ان پر سوار ہوجائیں، بولے: میرا ان سے کیا لینا دینا؟ انھیں مجھ سے دور ہٹاؤ اور میرا خچر لاؤ۔ حکم دیا کہ انھیں بیچ کران کی رقم مسلمانوں کے بیت المال میں ڈال دی جائے۔ ان کا خچر قریب لایا گیا تو اس پر سوار ہوئے، ایک سپاہی ان کے پاس آیا اور ان کے سامنے برچھی لے کر چلنے لگا، اس سے کہا: مجھ سے دور ہوجاؤ، مجھے تم سے کیا سروکار؟ میں تو مسلمانوں میں کا ایک آدمی ہوں!

خچر پر چلنے والا وہ آدمی اندلس، مراکش، جزائر، تیونس، طرابلس، مصر، حجاز، نجد، یمن، شام، فلسطین، اردن، لبنان، عراق، عجم، ارمینیا، افغان، بخاریٰ، سندھ اورسمرقند پرحکومت کرتا ہے۔

وہ چلتے رہے اورلوگ اس کے آگے آگے چلتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجدمیں داخل ہوئے اور منبر پر کھڑے ہوکر کہا: اے لوگو! مجھے خلافت کی ذمے داری دے کر آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے، اس میں نہ میری رائے شامل ہے، نہ میری خواہش اور نہ مسلمانوں کا کوئی مشورہ۔ میں تمہاری گردن سے اپنی بیعت کاقلادہ اتار رہا ہوں، تم اپنا کوئی خلیفہ چن لو۔

لوگوں نے بیک آوازکہا: ہم نے آپ کا انتخاب کیا ہے، ہم آپ سے راضی ہیں۔

پھر انھوں نے خضرا کا رخ کیا، جانتے ہو خضراء کیاہے؟ جنت ارضی ہے، جس میں دنیا بھر کے خزانے اورعمدہ قسم کے قیمتی نوادرات جمع کیے گئے ہیں، یعنی وہ محل جس کی شان و شوکت بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہوتے ہیں۔ حکم دیا کہ اس کے پردے اتار دیے جائیں، ان کے حکم پر وہاں کی سب چیزوں کو فروخت کرکے ان کی رقم کو بیت المال میں رکھنے کاحکم دیا اور اپنے اس گھر کا رخ کیا۔ لوگوں نے کہا: یہ نیک آدمی ہے، حکومت کا وہی مستحق ہے۔

لوگوں نے سوچا کہ انھوں نے اپنے گھر کا رخ کیا ہے، اس میں جم کر بیٹھیں گے اور تسبیح و تہلیل کا ورد کریں گے، لیکن ہوا یہ کہ جلدی جلدی وہ قلم اور کاغذ تیار کرنے لگے، اور اپنے ہاتھ سے علاقے کی ساری ریاستوں کے نام ہدایات لکھنے لگے، لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کاخلیفہ دنیا سے بے رغبت ہے لیکن اس سے خوب واقف ہے۔

صبح سے چاشت تک یہ سب کرتے رہے، پھر قیلولہ کے لیے چلے گئے، ان کا بیٹا عبدالملک ان کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین! کیا کر رہے ہیں؟ کہا: بیٹے! قیلولہ کررہا ہوں، اس نے کہا: آپ قیلولہ کررہے ہیں، مظلوموں کی داد رسی نہیں کر رہے ہیں؟ بولے بیٹا: تمہارے چچا سلیمان کی (تجہیز و تدفین) کے امور انجام دینے کی وجہ سے رات بھر جاگتا رہا، نماز ظہر کے بعد میں شکایتوں کو سنوں گا۔ کہا: اے امیر المومنین! اس بات کی کیا ضمانت کہ آپ ظہر تک زندہ رہیں گے؟ انھوں نے فوراً قیلولہ چھوڑا اور نکل پڑے اور اپنا منادی بھیجا جو آواز دیتا: سنو! اگر کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہے تواسے پیش کرے، میں خود اپنی طرف سے، اپنے گھر والوں اور تمام لوگوں کی طرف سے اس کے ساتھ انصاف کروں گا۔ بخدا اس نے کہنے سے زیادہ کرکے دکھایا!

ہاں اے غریب الوطن، یہ امیرالمومنین کا گھر ہے، تمھیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ وہ چھوٹا ہے، تنگ ہے، اس کے دروازے اور اس کی دیواریں سجاوٹ سے خالی ہیں، اس کا کوئی پہرے دار اور اس کے دروازے پر کوئی سپاہی نہیں ہے، کیوں کہ یہ گھر روئے زمین پرموجود تمام محلوں سے زیادہ معزز ہے، اس لیے تم جاؤ اور ڈرو نہیں!

اس نے دروازے پر دستک دی، خلیفہ باہر نکلے، اسے بلایا اور حال دریافت کیا، اس نے قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی کہ وہ دھوکے سے سمرقند میں داخل ہوگئے اور اس پر قبضہ کرلیا۔ خلیفہ نے کہا: بخدا ہمارے نبی نے ہمیں نہ ظلم کرنے کا حکم دیا اورنہ ہمارے لیے اسے جائزقراردیا، اللہ نے تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان عدل و انصاف کولازم کیا ہے۔ اے لڑکے۔۔قلم اورکاغذ لے آؤ۔

لڑکا ایک چھوٹا سا کاغذ لایا، جس پر انھوں نے چند سطریں لکھیں، اسے مہر بند کیا اور اس سے کہا: اسے اس علاقے کے گورنرکے پاس لے جاؤ!

وہ سمرقند کی طرف لوٹ پڑا، اب اس کے اندر ایمان کی شمع روشن ہوچکی تھی، اس نے اسلام قبول کرلیا تھا، وہ جب کسی شہر پہنچتا تو مسجد میں داخل ہوتا اور صف میں کھڑا ہوجاتا، اس کا کندھا اس کے اسلامی بھائی کے کندھے سے ملاہوتا اور دونوں کا رخ ایک ہوتا، اس کے دل میں ایمان ہوتا اور اس کی زبان پر تسبیحات اور تکبیرات کے کلمات ہوتے۔۔اس نے محسوس کیا کہ وہ اس بڑی جماعت کا ایک حصہ ہے، اس نے اس دین کی عظمت اور اس کی حلاوت کو پالیا جب یہ منظر دیکھا کہ انھی میں کا ایک شخص نمازیوں کی امامت کر رہا ہے، وہاں نہ کوئی پادری ہے اورنہ کاہن، وہ زمین کے ہر حصے پر نماز پڑھتے ہیں، کیسا معبد اور کیسا مجسمہ، وہ سب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا مامور۔ اسے اس دائرے کی عظمت کا احساس ہوا جو کعبہ سے شروع ہوتا، ناہم وار اور ہم وار، تنگ اور کشادہ، آباد اورغیر آباد، شہر اور دیہات ہر جگہ کے افراد کو اپنے اندر سمو لیتا۔

لوٹتے ہوئے دنیائے اسلام کی وسعت اس پر گراں نہ گزری، اب وہ اس کی اپنی دنیا ہوگئی تھی، اس سفر میں اسے کوئی مشقت اور تکان لاحق نہ ہوئی، کیوں کہ جب نماز ہوجاتی تو مسجد میں اس کا حال دریافت کرنے والا کوئی نہ کوئی مل جاتا، اگر اسے معلوم ہوتا کہ یہ اجنبی ہے تو اسے اپنے گھر لے جاتا، اس کی خاطر تواضع کرتا اور زاد سفر بھی اس کے ساتھ کردیتا، وہ سمرقند جاتے ہوئے کفر کی حالت میں تھا، اور چھپتا چھپاتا گیا تھا، اب وہاں سے واپسی پر اسلام کی حالت میں، اسے سفر کی طوالت، اور علاقے کی اجنبیت کا احساس تک نہیں ہورہا تھا۔ اسلامی بھائی اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے، اس طرح وہ مسجد کے راز اور اس دین کی خوب صورتی کو روز دیکھ رہا تھا!

وہ معبد پہنچا، جنگل میں گھرا ہوا معبد ہیبت ناک اور پر اسرار تھا، لیکن اس کے دل پر اس کی ہیبت کا ذرا بھی اثر نہیں تھا، کیوں کہ اس کے سامنے اسلام نے زندگی کی تاریکی کو واضح کردیا تھا، اس نے زندگی کے حقائق اور اس کے اوہام کا فرق دیکھ لیا تھا۔ اس نے اپنا اسلام چھپائے رکھا، راز دارانہ طریقے سے دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ کھول دیا گیا، کاہنوں نے اسے دیکھا توایسا لگا کہ انھوں نے اسے کبھی دیکھا ہی نہیں، اس نے جو کچھ دیکھا تھا ان سے بیان کردیا، ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی جارہی تھیں، پھر وہ مہر شدہ فرمان لے کر شہر کے حاکم کے پاس پہنچا، اس نے کھول کر خلیفہ کا حکم پڑھا، لکھا تھا کہ ایک قاضی مقرر کیا جائے، اس کے سامنے سمرقند کے کاہن اور قتیبہ کا نمائندہ مقدمہ پیش کریں، وہ جوفیصلہ کرے اسے نافذ کیا جائے۔

حاکم نے حکم کی تعمیل کی اورجمیع بن حاضر الباجی کو قاضی مقرر کیا اور مقدمہ کا وقت طے کردیا۔ جب وہ واپس آیا اور بڑے کاہن کو بتایا تو پہلے سے دمکتے ہوئے اس کے چہرے پرسیاہی چھا گئی، جس طرح روشن دن کے آسمان میں کالے بادل چھا جاتے ہیں اور صبح صادق کے مانند اس کے سامنے ظاہرہونے والی امید کی کرن اس طرح بجھ گئی،جس طرح بادل میں چمکنے والی بجلی بجھ جاتی ہے۔۔اسے یقین ہوچلا کہ یہ مقدمہ مسلمانوں کی طرف سے محض ایک دھوکہ ہے۔۔مقررہ دن آگیا، تمام قرب و جوار سے اہل سمرقند جمع ہوئے، وہ کاہن بھی آئے جو معبد میں چھپ کر رہتے تھے، جنھیں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا اور قتیبہ کا نائب بھی آیا۔ مقدمہ مسجد میں پیش ہونا تھا لیے سب قاضی کے انتظارمیں بیٹھ گئے۔

کاہنوں کو کسی چیز کے بارے میں کوئی توقع نہیں تھی۔۔اورکس چیزکے بارے میں توقع کرتے؟ کیا اس کی توقع کہ مسلمان قاضی ان کے حق میں یہ فیصلہ کرے گا کہ سمرقند سے مسلمانوں کو کھدیڑ کر بھگادیا جائے؟ کیا ان کے حق میں فیصلہ کرے گا جو دھوکہ کھاچکے ہیں، جو قاضی کے دین کے مخالف ہیں، جن کی اب کوئی طاقت نہیں؟

اور وہ کس کے خلاف فیصلہ کرے گا؟ کیا اس زبردست فاتح کے نائب کے خلاف جس سے بڑھ کر نہ کسی عظیم قائد نے مشرق کی سرزمین پر قدم رکھا، نہ اس سے زیادہ کام یابی حاصل کی اور نہ اس سے بڑی فتح پائی، یعنی عرب کا سکندر:قتیبہ؟

دل کسی ایسے فیصلے کے انتظارمیں دھڑک رہے تھے جسے تاریخ کے دونوں کان سن لیتے، اور نگاہیں مسجد کے اس دروازے پرٹکی تھیں جس سے اس قاضی کو داخل ہونا تھا، جس کی گردن پر بہت بھاری امانت کا بوجھ ڈالا گیا تھا؛ ایسے موقع پر ایک طرف اس کی امت کی مصلحت، اس کے ملک اور اس عظیم شہر کی سیادت تھی جس پر اسلام کا جھنڈا لہرا رہاتھا اور جس کے اہل اسلام مالک تھے اور دوسری طرف حق کا مسئلہ تھا اور یہی درحقیقت قاضیوں کے قدم پھسلنے اور دلوں کی آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔

کاہنوں نے دیکھا کہ مسجد میں ایک آدمی داخل ہوا، شکل اور حلیے سے معمولی انسان، جسم کم زور دبلا پتلا، اس نے اپنے سر پر عمامہ باندھ رکھا تھا اور اس کے پیچھے ایک نوجوان تھا۔ وہ آیا اور زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا اور وہ نوجوان اس کے پاس ہی کھڑا ہوگیا۔

کیا یہی وہ شخص ہے جواس اہم اور سنگین مقدمے کا فیصلہ کرنے آیا ہے؟ جس مقدمے کا تعلق مسلمانوں کی اس ملک پر برقراری سے ہے، کیا یہی مسلمانوں کا قاضی ہے؟

کاہنوں کے دلوں میں امید کی جوآخری کرن تھی وہ بھی بجھ سی گئی۔ لڑکے نے کسی عہدے اور لقب کا ذکر کیے بغیر امیر کا نام لے کر پکارا، وہ آیا اور اس کے سامنے بیٹھ گیا، پھر بڑے کاہن کا نام لے کر آواز دی اور اسے اپنے بغل میں بٹھایا۔ اس کے بعد مقدمے کی کارروائی شروع ہوگئی۔

قاضی نے دھیمی مگر با وقار آواز میں کاہن سے کہا: تم کیا کہتے ہو؟

کاہن:بیشک معزز قائد (قتیبہ بن مسلم) ہمارے ملک میں کسی اطلاع کے بغیر دھوکے سے داخل ہوگیا۔

قاضی (امیر سے): تم کیاکہتے ہو؟

امیر: اللہ تعالی قاضی کو صحیح فیصلے کی توفیق دے۔ بے شک جنگ تو دھوکے کا نام ہے اور یہ عظیم ملک ہے، اسے اللہ نے ہمارے ذریعے سے کفر کے قبضے سے نکال کر اسے مسلمانوں کی ملکیت میں دے دیا ہے۔

قاضی: کیا تم لوگوں نے اس کے باشندوں کو اسلام کی طرف دعوت دی، انھیں جزیے کی پیش کش کی؟

امیر: نہیں۔

قاضی: تم نے اقرار کرلیا ہے۔ بیشک اللہ تعالی نے اس امت کی مدد صرف دین کی پیروی کرنے اور اخلاقی بلندی پر قائم رہنے کی بنا پر فرمائی ہے، خدا کی قسم ہم اپنے گھروں سے اللہ کی راہ میں نکلے ہیں؛ اس کے دین کو پھیلانے کے لیے۔ اس لیے نہیں نکلے کہ ہم زمین پرحکومت کریں، ہم اس لیے نہیں نکلے کہ کہیں ناحق غلبہ حاصل کریں۔ میرا فیصلہ ہے کہ مسلمان اس ملک سے نکل جائیں اور یہ ملک اس کے باشندوں کو لوٹادیں۔

کاہنوں اور اہل سمرقند نے دیکھا اور سنا، لیکن انھیں آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی پر یقین نہیں آرہا تھا، انھیں لگا کہ وہ خواب دیکھ رہے ہیں، وہ ہکا بکا رہ گئے، ان کی اکثریت کو اس کا خیال بھی نہ رہا کہ مقدمہ ختم ہوگیا ہے اور قاضی اور امیر جا چکے ہیں۔ سمرقند کا قاصد بڑے کاہن کا چہرہ دیکھنے لگا، اس نے محسوس کیا کہ حق کی روشنی اس کے دل میں چمک اٹھی ہے۔ کاہن اپنی دنیا کو دیکھتا تو وہ اسے تنگ اور کھوکھلی نظر آتی اور اسلام کی دنیا کو دیکھتا تو وہ ہری بھری، کشادہ اور خیر و عدل سے لہلہاتی نظر آتی۔ اس کی دنیا کیسی تھی؟ سخت چٹانوں کے درمیان ایک اندھیری کھائی جہاں نہ سورج کی کرن پہنچتی، نہ چاند کی روشنی، نہ موسم بہارکے پھول کھلتے، نہ عظمت کا جمال ہوتا اور نہ ایمان کا جلال۔

اس کے دل میں نور چمک اٹھا، اس نے دیکھا کہ اس کا دین اس کے مصنوعی پر اسرار معبد کے مانند ہے، اس معبد کا اسلام کے معبد سے کیا تعلق جہاں ابھی اس نے انصاف کی جلوہ آفرینی دیکھی، یہ تو بہت پاک سرزمین ہے؟ کہاں اس کی تنگی اور کہاں اس کی کشادگی؟ کہاں اس کی تاریکی اور کہاں اس کی روشنی؟ کہاں اس کی پست چھت اور کہاں اس کا اونچا آسمان، اور کشادہ آفاق؟

کچھ ہی گھڑیاں گزری تھیں کہ اچانک اس نے سنا کہ فضا بگل کی آواز سے گونج رہی ہے اور پھر دیکھا کہ قریبی افق کے کنارے جھنڈے لہرا رہے ہیں، پوچھا: یہ کیا ہے؟

لوگوں نے کہا:حکم نافذ ہوچکا ہے اور مسلم فوجیں باہر نکل رہی ہیں۔

یہ وہی فوج ہے جس کی راہ میں شہرِ یثرب سے لے کر سمرقند تک کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوسکی، جوقیصر و کسریٰ اور خاقان کی فوجوں کو صفحہ ہستی کی داستان بنا چکی، وہ کچھ لمحوں کے مقدمے اور پست آواز والے دبلے پتلے آدمی کے دو بول کے فیصلے پر واپس لوٹ رہی ہے۔

بڑا کاہن سوچ رہا تھا کیا اس کے معبد کی چٹانیں حق کے سیلِ رواں کو روک پائیں گی اوراس کی تاریکی اسلام کے نورکو بجھادے گی؟

نہیں؛ اللہ کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ صبح طلوع ہو اور رات کی تاریکی کو مٹادے۔ دنیا پرایک نئے دن کا ظہور ہوچکا ہے، اب ہم ہرگز اس دن کے نور کو چھوڑ کر معبد کی تاریکی میں نہیں چھپیں گے۔

کاہن اس سے پوچھنے لگے: آپ کیا سوچ رہے ہیں؟

بڑا کاہن: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورمحمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور پھر سمرقند کی تاریخ بدل جاتی ہے، وہ نعرۂ تکبیرسے جھوم اٹھتا ہے، مسلم فوج اب مسلم ملک میں داخل ہوتی ہے؛ لوگ اس کا محبت واحترام سے استقبال کرتے ہیں، نہ کوئی حاکم رہتا ہے نہ کوئی محکوم، نہ کوئی غالب رہتا ہے نہ کوئی مغلوب۔ تمام لوگ اسلامی بھائی بن جاتے ہیں۔

پورا سمرقند خوشی خوشی اسلام میں داخل ہوجاتا ہے، اب وہ کبھی اس سے نہیں نکلے گا۔

جنوری 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau