Opens in a new tab

دنیا کا بدلتا منظر نامہ اور عالم اسلام

دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ گذشتہ تین سالوں میں عالمی منظرنامے میں جس رفتار سے اور جس پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، اُس کی نظیر حالیہ تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ اسرائیلی مظالم اور غزہ کی حوصلہ مند مزاحمت نے عالمی رائے عامہ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور اس کے بعد ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت اور ایران کی جانب سے حیرت انگیز جرأت و استقامت کے ساتھ اس جارحیت کے مقابلے نے نہ صرف مشرق وسطی کی سیاست میں بڑی دور رس تبدیلیاں پیدا کی ہیں بلکہ عالمی احوال کو بھی متاثر کیا ہے۔

ابھی دونوں جنگوں اور ان کے اثرات کی صورت حال پوری طرح واضح نہیں ہے۔ غزہ میں جنگ بندی تو ہوگئی ہے لیکن ابھی بھی شہر کا ساٹھ فی صد حصہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ نہ حماس نے ہتھیار حوالے کیے ہیں اور نہ شہر کی تعمیر نو کے امریکی منصوبے کا عملاً آغاز ہوا ہے۔ اسی طرح ایران میں اپریل 2026 میں جنگ بندی کا اعلان ہوا اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد امریکہ نے ‘جنگ بندی کے خاتمے’ کا بھی اعلان کردیا۔ حملے اور بات چیت، دونوں سلسلے بیک وقت جاری ہیں اور اب ایران کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے اصل تنازعے کی بجائے آبنائے ہرمز پرکنٹرول کا سوال بنیادی سوال بن گیا ہے۔ اس طرح حالات ابھی بھی تبدیلی کے مراحل سے گزررہے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ان حالات کی کوکھ سے بالآخر کیا نکلے گا لیکن اتنی بعد تو طے ہے کہ دنیا ویسی نہیں رہے گی جیسی پہلے تھی۔ منظرنامہ بدلے گا اور بڑی گہری تبدیلیاں لے کر آئے گا۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

ذیل کی سطروں میں، اب تک کے واقعات کو بنیاد بناکرعالمی منظرنامے کا سرسری جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی اور ان حالات میں عالم اسلام اور اسلامی تحریکات کے متوقع اور مطلوبہ کردار پر بھی کچھ گذارشات پیش کی جارہی ہیں۔

عالمی منظرنامہ: کچھ اہم تبدیلیاں

امریکہ کی قیادت میں ایک عالمی ریاست یا ایک عالمی نظام کا قیام، مغربی دنیا کا دیرینہ خواب ہے[1]۔ جیو پالیٹکس کے ممتاز ماہرین نے مغربی پالیسی سازوں کو اچھی طرح سمجھا رکھی ہے کہ اس خواب کی تکمیل میں یوریشیا کی مرکزی اہمیت ہے۔ اور مشرق وسطیٰ یوریشیا کا دروازہ ہے۔ چنانچہ یوریشیا پر کنٹرول اور مشرق وسطیٰ پر مکمل تسلط مغربی پالیسیوں کا ہمیشہ مرکزی ہدف رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مغربی طاقتوں کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ بحیرہ جاپان سے لے کر بحر متوسط تک، یوریشیا کے علاقے میں سیاسی و فوجی اتحاد کی کوئی شکل پیدا نہ ہونے پائے اور یہ ممالک اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ فوجی، معاشی، سیاسی، علمی، ہر اعتبار سے امریکہ و یورپ پر منحصر رہے[2]۔ اس پس منظر میں، حالیہ دنوں میں واقع ہونے والی تبدیلیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ ہمارے خیال میں درج ذیل تبدیلیوں کے آثار بہت واضح ہیں اور یہ ساری تبدیلیاں بڑی بنیادی اور گہری ہیں۔ ساری دنیا پر یہ تبدیلیاں اثر انداز ہوں گی لیکن عالم اسلام پر خصوصاً ان کے اثرات بہت گہرے اور دوررس ہوں گے۔

نام نہاد سپرپاور کے دور کا خاتمہ اور ہمہ قطبیت multipolarity کی ابتدا

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امریکی پالیسیوں کا رخ، مذکورہ بالا خواب کی تکمیل اور اس کے لیے محولہ بالا اسٹریٹجیوں ہی پر مبنی تھا۔ اس نے اس دوران یوریشیا میں بالعموم اور مشرق وسطی میں بالخصوص ہر اتحاد کو روکنے کی کوشش کی، خود انحصاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی ہر سنجیدہ سعی کو پوری قوت کے ساتھ دبادیا اور ہر اس آواز کو اٹھنے سے پہلے ختم کردیا جو اس کے تسلط کو چیلنج کرسکتی تھی۔ افغانستان اور عراق میں اس نے عالمی برادری کی رائے کو بری طرح نظر انداز کرکے جارحانہ مداخلت کی اور نہ صرف وہاں حکومتیں بدل ڈالیں بلکہ ان ملکوں کے انتظامی و فوجی ڈھانچوں کو تہس نہس کرکے ناقابل تلافی نقصان پہنچادیا۔ لیبیا، شام، یمن، صومالیہ، فلپائن، ہیتی، شمال مغربی پاکستان، وینزویلا وغیرہ میں بھی وہ راست یا اپنے حلیفوں کے ذریعے فوجی مداخلت کرتا رہا اور وہاں کے سیاسی و سلامتی کے نظاموں میں اپنی مرضی کے مطابق بنیادی تبدیلیاں لاتا رہا۔ متعدد خلیجی ممالک میں اس نے اپنی فوجیں اتاریں، ان کی سرزمینوں پر اپنے فوجی اڈے قائم کیے اور اسرائیل کے اطراف میں حفاظتی حصار کھڑا کردیا۔ یہ تو راست مداخلت کی مثالیں ہیں، بالواسطہ اور معاشی، سفارتی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے ملکوں کے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہونے کے تو لامحدود واقعات ہیں۔ امریکہ کی اس بالادستی اور دہشت نے اسے ’سپر پاور‘ کا مقام دے دیا تھا اور اس کی مرضی کے خلاف کسی بھی طرح کا قدم اٹھانا تیسری دنیا کے لیے ناممکن سمجھا جانے لگا تھا۔

یہ صورت حال مشرق وسطی اور عالم اسلام میں خاص طور پر زیادہ نمایاں اور شدید تھی۔ اس خطے کی حفاظت و سلامتی کا سارا ٹھیکہ اس نے اپنی مرضی سے اپنے ذمے کرلیا تھا۔ ان ممالک کی مقتدرہ قوتیں، امریکہ جیسی سپر پاور کے سائے میں خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھنے لگی تھیں اور اس حفاظت و سلامتی کی ہر قیمت امریکہ کو دینے کے لیے ہر دم تیار رہتی تھیں۔ امریکہ کے قریب ترین حلیف کی حیثیت سے اسرائیل کی پوزیشن غیر معمولی طور پر مستحکم ہوگئی تھی۔ اس کے سارے روایتی دشمن، امریکہ کے زیر اثر آگئے تھے اور مزاحمت کے امکانات بہت کم ہوگئے تھے۔ چنانچہ ’سپر پاور‘ کے نہایت قابل اعتماد نمائندے کی حیثیت سے اسرائیل مشرق وسطی کا سب سے بااثر اور طاقت ور ملک بن گیا تھا۔

حالیہ دونوں جنگوں کا سب سے بڑا اثر یہی ہے کہ اس نے اس صورت حال کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مشرق وسطی کے عرب ممالک اب اپنی سلامتی کے حوالے سے امریکہ پر اعتماد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ پہلے حماس جیسی چھوٹی سی طاقت نے کئی مہینوں کی مزاحمت کے ذریعے اس اعتماد کو درہم برہم کردیا، پھر ایران نے اس کو شدید زک پہنچائی۔ حالیہ مکہ معاہدہ(Makkah Defense Alliance) اس بے اعتمادی کا اہم ترین مظہر ہے جس کے تحت امریکہ کے سابقہ مضبوط ترین حلیف، امریکی سرپرستی کے بغیر اپنی سلامتی کے متبادل راستے تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ درج ذیل نکات سے اس بات کی مزید وضاحت ہوگی۔

۱۔ اس صورت حال نے درمیانی قوتوں کے لیے، اپنےمفادات کے تحفظ کی خاطر، باہم یا اپنی مرضی کے ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے اور نئی دوستیاں قائم کرنے کے مواقع پیدا کردیے ہیں۔ مذکورہ مکہ معاہدہ کے علاوہ بھی، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشا اور ملیشیا جیسے ممالک، امریکہ کے ساتھ ساتھ چین، روس، ہندوستان وغیرہ کے ساتھ الگ الگ معاہدے کررہے ہیں اور امریکہ پر اپنا انحصار تیزی سے کم کرنے کے لیے کوشاں نظر آرہے ہیں [3]۔ برکس(BRICS) ، ایس سی او (SCO) وغیرہ جیسے متبادل پلیٹ فارم زیادہ سرگرم اور بااثر کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں[4]۔

۲۔ تیسری دنیا کے ممالک کے درمیان تعاون باہمی کے ایک نئے دور کی ابتدا ہورہی ہے۔ امریکہ اور اس کی قیادت میں ترقی یافتہ ممالک نے جنوب global south یعنی ترقی پذیر ممالک کو معاشی اور فوجی لحاظ سے، اپنے اوپر منحصر رکھنے کی منصوبہ بند اور مؤثر کوشش کی تھی۔ اب یہ حصار تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارےUNCTAD کی تازہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال تیسری دنیا کے ممالک کی باہمی تجارت south-south merchandise پہلی بار 7.2ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے [5] یعنی سال گذشتہ کے مقابلے میں تقریباً اٹھارہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس صدی کے اوائل میں عالمی تجارت کا بڑا حصہ (55فیصد) ترقی یافتہ ممالک کے درمیان آپس کی تجارت north-north merchandise پر مشتمل تھا۔ شمال اور جنوب کے درمیان تجارت تقریباً ایک تہائی کا احاطہ کرتی تھی اور ترقی پذیر ممالک کی باہم تجارت محض گیارہ فیصد (0.7 ٹریلین ڈالر) تھی۔ اب عالمی تجارت کے یہ تینوں اجزا لگ بھگ برابر ہونے کے قریب ہیں۔ یہ عالمی معاشی منظر نامے کی بہت بڑی تبدیلی ہے۔

۳۔اس دورانیے میں فوجی طاقت کے بعد امریکی بالادستی کا اہم ترین وسیلہ شاید ڈالر کی طاقت تھی۔ اب تیسری دنیا کے ممالک ڈالر کو پوری طاقت سے چیلنج کرنے لگے ہیں۔ چین، روس، برازیل اور بھارت اب اپنی تجارت کا بڑا حصہ (بعض تجارتوں میں نوے سے پچانوے فیصد تک) مقامی کرنسیوں میں کرنے لگے ہیں[6]۔ امریکی تسلط والے سوِفٹ (SWIFT) نظام کی جگہ چین کا سپس CIPS، برکس کا برکس پے (نئی دہلی کے حالیہ برکس اجلاس میں اس کے لیے بڑے اہم فیصلے ہوئے ہیں[7]) اور ایشیائی ملکوں کے ایمبرج (MBridge) جیسے پلیٹ فارم تیزی سے مالیاتی لین دین کے لیے استعمال ہونے لگے ہیں[8]۔ روس، ایران اور چین اب پٹرول کے لیے بھی چینی کرنسی یوان استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس سے ‘پیٹرو ڈالر’ کی بدنام زمانہ طاقت بھی کمزور ہونے لگی ہے[9] اور اس کے نتائج بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ اس سال 2026کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر مرکزی بنکوں کے ریزرو (foreign-exchange reserves)میں ڈالر کا تناسب گھٹ کر محض 57فیصد رہ گیا ہے[10] (اس صدی کے آغاز میں تین چوتھائی ریزرو ڈالر کا ہوا کرتا تھا[11])

۴۔اس صورت حال نے دنیا کو امریکہ کے استحصالی و استبدادی پنجوں سے آزاد کرانے کی راہیں ہم وار کرنا شروع کردی ہیں اور فلسطین جیسے مسائل کے سلسلے میں زیادہ آزادانہ اور منصفانہ مواقف اختیار کرنے کے لیے ممالک کو مواقع فراہم کیے ہیں۔ چنانچہ بہت سے ممالک نے فلسطین کے حق میں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف ایسی واضح پالیسیاں اختیار کرنا شروع کردی ہیں جن کا تصور بھی مشکل تھا۔ مثلاً اس دورانیے کا ایک اہم واقعہ ‘ہیگ گروپ ‘ (The Hague Group)کا قیام اور اس کی سرگرمی ہے۔ گذشتہ سال(جنوری 2025) مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے آٹھ ممالک (افریقہ سے جنوبی افریقہ، سینیگال اور نامیبیا، جنوبی امریکہ سے بولویا، کولمبیا ، کیوبا اور ہانڈورس اور ایشیا سے ملیشیا) جمع ہوئے اور فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی زیادتیوں کے مقابلے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا[12]۔ جنوبی افریقہ کی صدارت میں کام کی شروعات کے بعد بائیس اور ممالک اس اتحاد میں شامل ہوگئے۔ اب اس میں برازیل، چیلی اور میکسیکو جیسے جنوبی امریکی ممالک اور اسپین اور آئر لینڈ جیسے یوروپی ممالک بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ان سب نے صرف روایتی قراردادوں پر اکتفا کرنے کی بجائے، عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف کارروائی اور سزا دلانے کی کوشش، اسرائیل سے اسلحہ کی تجارت اور دفاعی تعاون پرپابندی، بندرگاہوں پر اسرائیلی جہازوں کی حمل و نقل پر پابندی، اسرائیل کی حامی کمپنیوں کو کنٹریکٹ کی منسوخی وغیرہ جیسے متعدد ٹھوس اقدامات شروع کردیے۔ اس ماہ (ستمبر 2026) اُن کا جو اجلاس منعقد ہوا[13]،  اسے عالمی مبصرین بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔ اس اجلاس کے بعد فلسطین کا مسئلہ ان ممالک کے لیے محض بیانات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ عملی میدان میں ممالک کے ایک پورے طاقتور گروپ نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی، قانونی، معاشی اور سیاسی کشمکش شروع کردی ہے۔ اس واقعے نے یہ راہ ہم وار کردی ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک ایسے حساس مسائل پر بھی اب عالمی طاقتوں کی جانب داری اور ان کے غیر منصفانہ واقف کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ یہ صورت حال دیگر مسائل کے لیے بھی اس طرح کے بھرپور اقدامات کی راہ ہم وار کرسکتی ہے[14] ۔ ہم نے یہ بات لکھی تھی اور جگہ جگہ کہتے بھی رہے کہ غزہ کی مزاحمت ساری تیسری دنیا کی آزادی کے لیے فضا پیدا کرے گی[15] ۔ لگتا ہے کہ اس کی ابتدا ہوچکی ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ ہمہ قطبیت کا لازمی مطلب نہ منصفانہ عالمی نظام ہے اور نہ کمزور قوموں کی آزادی اور خود مختاری ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک طاقت کی بالادستی کی جگہ متعدد طاقتوں کی باہمی کشمکش کمزور قوموں کے اور زیادہ استحصال کا ذریعہ بنے۔ ہمہ قطبیت نے نئے امکانات ضرور پیدا کیے ہیں لیکن ان امکانات کو حقیقی آزادی اور منصفانہ عالمی نظام کے فروغ کا ذریعہ بنانے کے لیے بہرحال ایک مشکل فکری، سیاسی اور تہذیبی جدوجہد درکار ہے۔

آزادی و خود مختاری (Strategic Self Reliance) ہی اصل طاقت ہے۔

ان واقعات نے عالمی سیاسیات کے اس بنیادی اصول کو پھر پوری قوت سے واضح کردیا ہے کہ ملکوں کی اصل طاقت ان کی آزادی، خودمختاری اور خود انحصاری ہوتی ہے۔ نئے عالمی حالات میں بالخصوص، ملکوں کی قوت (strength)نہ ان کی معیشت کے حجم سے طے ہورہی ہے اور نہ فوج اور فوجی طاقت سے بلکہ قوت کا اصل راز اب یہ ہوگیا ہے کہ آپ بیرونی دباؤ کو برداشت کرنے اور دوسرے ملکوں پر انحصار کی معذوری کا شکار ہوئے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں؟ دولت، اسلحہ اور افواج کی بہتات، تیل اور معدنیات جیسے بنیادی وسائل پر تسلط اور اہم ترین عالمی گزرگاہوں پر کنٹرول کے باوجود، اگر آپ کا انحصار کسی بھی عالمی طاقت پر ہو تو نہ آپ کے علاقے اور عوام کی سلامتی یقینی ہے اور نہ آپ کے مفادات محفوظ ہیں۔ یہ حقیقت اب پالیسی کی سطح پر بڑے پیمانے پر تسلیم کی جانے لگی ہے اور اُن ممالک میں بھی تسلیم کی جانے لگی ہے جو برسوں سے ‘سپر پاور’ کے سائے میں خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھتے رہے تھے۔ امور خارجہ کے ماہرین کے درمیان کرائے گئے ایک عالمی سروے کے مطابق اب اسٹریٹجک خود انحصاری strategic self-reliance کو خارجہ پالیسی کی اولین اور اہم ترین ترجیح مانا جارہا ہے اور اُسے ملکوں کی معاشی ترقی اور جنگوں کی روک تھام جیسے اہداف پر بھی فوقیت دی جانے لگی ہے[16]۔ ممالک ہی نہیں بلکہ تجارتی کمپنیوں نے بھی سابقہ رجحان کے برخلاف اب دوسرے ملکوں پر انحصار کو کم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ خصوصاً سپلائی چینsupply chain پر انحصار کو کم کرنا اب کمپنیوں کی ایک اہم ترجیح بنتی جارہی ہے[17]۔

گذشتہ ماہ (22ستمبر 2026) قطر کے امیر شیخ تمیم الثانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ مشرق وسطی کا اصل مسئلہ ایک ایسے مشترکہ علاقائی سلامتی کے نظام کا نہ ہونا ہے جو خود مختاری، سرحدوں کے احترام، تنازعات کی پر امن یکسوئی اور عدم مداخلت جیسے اصولوں پر مبنی ہو[18]۔ یعنی جس ملک میں مشرق وسطی کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے، وہ بھی اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اصل ضرورت علاقے کے ملکوں کے باہمی تعاون پر مبنی آزاد سلامتی کے نظام کی ہے۔ اس سے دو ہفتے قبل قطر اور متحدہ عرب امارات کے حوالے سے یورو نیوز نے یہ خبر شائع کی تھی کہ دونوں ممالک یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار اب ممکن نہیں ہے۔ انہیں اپنی سلامتی کے علاقائی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے[19]۔  سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سیکوریٹی معاہدہ اور پھر سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور مصر کے درمیان معاہدے اور ان معاہدوں کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کا اعلان، اس بدلتے ہوئے منظر نامے کے واضح شواہد ہیں[20]۔

 طاقت کے نئے سرچشمے

حالیہ واقعات نے فوجی طاقت کے روایتی تصور کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہزار ڈالر کا ایک چھوٹا سا ڈرون، کئی ملین ڈالروں کے ٹینک کو تباہ کرسکتا ہے۔ ترقی یافتہ جہاز اور بڑے بڑے ٹینک بوجھ بن سکتے ہیں۔ ٹکنالوجی اور راستوں اور گزرگاہوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اصل اسلحہ بنتی جارہی ہے۔ نئی دنیا میں فوجی طاقت کی اہمیت تو ہے لیکن وہ سیاسی کنٹرول یا اسٹریٹجک کام یابی کی یقینی ضمانت نہیں ہے[21]۔ دشمن کے اثاثوں کو برباد کرنے کی صلاحیت سے زیادہ اب یہ صلاحیت اہم تر سمجھی جارہی ہے کہ اس کے جن صنعتی اور ٹکنالوجیکل نظاموں پرمعیشت، سلامتی اور سیاسی خود مختاری کا انحصار ہے، ان کو آپ کس حد تک اور کیسے متاثر کرسکتے ہیں؟ سیمی کنڈکٹر اور مائکرو چپس، آرٹفشیل انٹلی جنس، ڈاٹا کیبل اور ان کی گزرگاہیں، وغیرہ جیسے وسائل پر کنٹرول اب اصل طاقت بنتا جارہا ہے[22]۔ اس صورت حال نے تیسری دنیا کے ملکوں کے لیے مواقع کی ایک پوری نئی دنیا پیدا کی ہے۔ بہت سے ممالک خاموشی سے اس صورت حال کا فائدہ بھی اٹھارہے ہیں۔ تائیوان اب دنیا بھر کےجدید ترین سیمی کنڈکٹر مائکروچپس کا نوے فی صد تیار کرنے لگا ہے[23]۔ یہ ایک ایسی صنعت ہے جس پر ساری دنیا کی معیشت، دفاعی ٹکنالوجی، کمیونکیشن، اے آئی وغیرہ جیسے اہم ترین محاذ مکمل طور پر منحصر ہیں۔ چین نے نایاب معدنیات (Rare Earth Elements)کی عالمی سپلائی پر مکمل تسلط حاصل کرلیا ہے۔ 2024 میں عالمی ریفائن شدہ پیداوار کا تقریباً 91 فیصد اور ان معدنیات سے بننے والے مستقل مقناطیسوں کی پیداوار کا تقریباً 94 فیصد کا تعلق چین سے تھا۔ اس تسلط نے اسے دنیا بھر کی جدید صنعت، برقی گاڑیوں، توانائی اور دفاعی ٹکنالوجی میں غیر معمولی اسٹریٹجک اثر و رسوخ فراہم کردیا ہے[24]۔ خود ایران کی طاقت اور مزاحمت کا راز بعض ٹکنالوجیوں میں اس کی دسترس اور آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی اس کی صلاحیت ہے۔ تیسری دنیا اورعالم اسلام کے متعدد ممالک کے لیے موقع ہے کہ وہ اس طرح کی منفرد صلاحیتوں اور وسائل کی شناخت کریں اور ان کی افزائش کرکے دنیا کو خود پر منحصر ہونے کے لیے مجبور کریں۔

اسلام اور اہل اسلام کی اخلاقی برتری کا وسیع اعتراف

متعدد مطالعات اور تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات نے اسلام اور اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے عالمی آبادی کے ایک قابل لحاظ حصے پر بڑے مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس صدی کی پہلی چوتھائی میں دہشت گردی کے مبینہ واقعات اور ان پر وسیع پروپگنڈے نے اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں جو منفی رائے عامہ پیدا کی تھی، اس کے ازالے کے مواقع پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ خصوصاً غزہ کے مسلمانوں کی استقامت (صمود) اور اخلاقی مزاحمت نے صبر و استقامت، ظلم کی مزاحمت اور عدل و قسط جیسے اسلامی تصورات کو بڑے پیمانے پر توجہات کا مرکز بنایا ہے۔ ایک برطانوی تھنک ٹینک نے اپنے تفصیلی سروے میں واضح کیا ہے کہ اس دوران نہ صرف یہ کہ قبولِ اسلام کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے بلکہ اسلام قبول کرنے والے نوجوانوں کی ایک قابل لحاظ تعداد نے یہ بات کہی ہے کہ قبولِ اسلام کا بڑا محرک فلسطینی مسلمانوں کی استقامت ہے[25]۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکہ و یورپ کے نوجوانوں میں قرآن مجید کے مطالعے کے شوق نے ایک لہر کی شکل اختیار کرلی ہے اور اخبار کی سرخی کے مطابق اس لہر کا اصل مقصد بھی فلسطینی مسلمانوں کے صبر و ثبات (resilience)کا راز سمجھنا ہے[26]۔

مغربی ملکوں میں عوام اپنی حکومتوں کے مقابلے میں فلسطین کے حق میں میدان میں آگئے ہیں۔ پیو فاونڈیشن کے تازہ ترین سروے کے مطابق عالمی سطح پر اب عوام کی دوتہائی تعداد اسرائیل کے تعلق سے منفی رائے رکھتی ہے[27]۔ اسپین ، سویڈن اور برطانیہ جیسے ملکوں میں ستّر فیصد یا اس سے متجاوز عوام منفی رائے رکھتے ہیں[28]۔

نیویارک جیسے شہر میں جو یہودیوں کا ایک بڑا مرکز مانا جاتا ہے، زہران ممدانی کی فتح (جو فلسطینیوں کے حقوق کی کھلے عام تائید کرتے ہیں اور اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت کرتے ہیں) ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ سروے کے مطابق ممدانی کے باسٹھ فیصد ووٹروں نے فلسطین کی حمایت کو ممدانی کے لیے ان کی تائید کا اصل سبب قرار دیا ہے[29]۔ چند سال پہلے تک اس صورت حال کا شاید تصور بھی مشکل تھا۔ برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں بھی ایسے امیدوار کام یاب ہوئے ہیں (مثلاً لیسٹر جنوب، بلیک بورن وغیرہ) جو ’غزہ کے حامی‘ سمجھے جاتے ہیں۔[30]

یہ عوامی رائے کا دباؤ ہی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے، فلسطین کو تسلیم کرنے کی ایک لہر سی آئی ہوئی ہے۔ ان تین برسوں میں اکیس نئے ممالک نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہے، ان اکیس میں بارہ یورپی ممالک ہیں اور ان میں برطانیہ، فرانس، کناڈا، آسٹریلیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے اہم حلیف سمجھے جاتے رہے ہیں۔[31]

عالم اسلام : مطلوب ریسپانس

اس طرح بدلتے عالمی منظر نامے میں عالم اسلام کے لیے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ان امکانات کا تعلق سیاسی، معاشی، فوجی، اخلاقی و نظریاتی تمام محاذوں سے ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، یہ ابھی بھی محض امکانات ہیں۔ انہیں ٹھوس حقیقت میں بدلنے کے لیے طویل اور صبر آزما جدوجہد درکار ہے۔ تاریخ میں ایسا بار بار ہوا ہے کہ زبردست امکانات پیدا ہوئے اور قوموں کی غفلت، سست روی یا غلط اسٹریٹجی و طرز عمل کی وجہ سے ضائع ہوگئے۔ کسی بڑی طاقت کی کمزوری سے دوسری طاقتوں کو خود بخود عروج نہیں مل جاتا اور نہ کسی عالمی نظام کا بحران لازماً کسی متبادل نظام کی کام یابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اس وقت اصل سوال یہی ہے کہ عالم اسلام اس صورت حال کو کیسے دیکھتا ہے اور اس پر کس قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی پر اس کے مستقبل کا انحصار ہے۔

عالم اسلام سے ہماری مراد صرف مسلمان ملکوں کی حکومتیں نہیں ہیں۔ ہمارے خیال میں اصل کلیدی کردار وہاں کے عوام اور اسلامی تحریکوں کو ادا کرنا ہے۔ عصر حاضر کی جیو پالیٹکس کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں غیر حکومتی عناصر اور ان کے نیٹ ورکوں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایڈوکیسی کے عالمی وفاق، فلاحی اداروں کے اتحاد، سول سوسائٹی نیٹ ورک، حقوق انسانی کے نیٹ ورک وغیرہ کا رول عالمی رائے عامہ بنانے اور عالمی قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ نیوکلیائی ہتھیاروں کی روک تھام، بارودی سرنگوں کے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کےمقابلے کے لیے متعدد عالمی پالیسیاں اس طرح کے نیٹ ورکوں ہی کے دباوً میں تشکیل پائی ہیں۔ [32] اگر اسلامی تحریکیں کام کے روایتی طریقوں سے اوپر اٹھ کر نئے حالات میں اپنے کردار کی از سر نو تشکیل کریں تو وہ بہت اہم اور کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔

ہمارے خیال میں عالم اسلام کے لیے تین محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ضروری ہے: خود کفالت اور اسٹریٹجک خود مختاری، فعال اور کارکرد اداروں (institutions)کی تعمیر و ترقی اور ایسی نسلوں اور افراد کی تیاری جو علم، کردار، قیادت اور تخلیقی صلاحیت سے آراستہ ہوں۔

سب سے بڑا خطرہ انتشار ہے

ان حالات میں عالم اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ انتشار ہے۔ عالمی طاقتوں کی یہ کوشش اب بہت تیز اور طاقت ور ہوجائے گی کہ وہ ہمہ قطبی صورت حال کو عالم اسلام کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کریں۔ جس طرح سرد جنگ کے زمانے میں اسلامی دنیا دونوں خانوں میں بٹی ہوئی تھی، اسی طرح اس نئی صورت حال میں بھی مسلمان ملکوں کو طرح طرح کے باہم متصادم بلاکوں میں تقسیم کرنے کی مسلسل کوشش ہوگی۔ اسلامی تاریخ میں سیاسی اختلافات اور مذہبی و مسلکی اختلافات ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت دیتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی اندیشہ یہی ہے کہ قدیم مسلکی تفریقات کو مشتعل کرکے سیاسی انتشار کے فروغ کی کوشش کی جائے گی اور حسب ضرورت نئے مسلکی تنازعات بھی تخلیق کیے جائیں گے اور پوری قوت سے اٹھائے جائیں گے۔ اس کے آثار اب ہر مسلم سوسائٹی میں نظر آنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا نے یہ کام بہت آسان کردیا ہے کہ گڑے مردے اکھاڑے جائیں اور کلامی و فقہی آرا کے صدیوں سے دبے ہوئے اور بھولے بسرے اختلاف و تنوع کو عوام میں بڑے اختلافات کے طور پر عام کیا جائے اور امت واحدہ کی تقسیم در تقسیم کو ممکن بنایا جائے۔ اس صورت حال کا مقابلہ عالم اسلام کی ایک ایسی اہم ضرورت ہے جس پر اس کے مستقبل کا بڑا انحصار ہے۔ یہ علما اور اسلامی تحریکوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کی روک تھام کا بیڑا اٹھائیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ خود مسلکی لڑائیوں میں فریق نہ بنیں بلکہ امت کو بھی اس لائق بنانے کی مسلسل کوشش کریں کہ وہ مسلکی، قومی، جغرافیائی اور مفادات پر مبنی ہر قسم کی تفریق و تقسیم سے اوپر اٹھ کر صحیح معنوں میں امت واحد اور خیر امت کی پوزیشن اختیار کرے۔ عوام اور دینی طبقات میں اتحاد کی فضا بنے گی تو عالمی طاقتوں کے لیے اور مقامی حکومتوں کے لیے بھی، اس طرح کا انتشار پیدا کرنا دشوار ہوجائے گا۔

اسلام کی روشنی میں نئے سولوشن

متبادلات کی پیشکش اور ان کوزیر بحث لانا اس وقت اصل کام ہے۔ عالم اسلام کے لیے یہ ایک زرّیں موقع ہے کہ وہ ایک نئے تہذیبی بیانیےcivilisational narrative کا علم بردار بن کر سامنے آئے۔ سیاسی و دانشورانہ مباحث اور پالیسی سازی کی سمت پر عالمی طاقتوں کی اجارہ داری کا دور تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ خود ترقی یافتہ ملکوں کے عوام اب متبادل بیانیوں کو نہ صرف سننے کے لیے آمادہ ہورہے ہیں بلکہ ان کو قبول بھی کررہے ہیں۔ اسلامی مفکرین اور اداروں کے لیے یہ حالات ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ عدل، معاشی مساوات، خاندانی استحکام، ٹکنالوجی کی اخلاقیات، ماحولیات کا تحٖفظ، انسانی عز و شرف کا احترام اور عالمی تعلقات کی اخلاقیات وغیرہ موضوعات پر سنجیدہ مباحث پوری قوت سے اٹھائیں۔

مباحث کو اٹھانے کا مطلب صرف غالب افکار پر تنقید نہیں ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ تنقید ومخالفت کا دور اب تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ اس دور کی غالب صدا ‘تاریخ کا خاتمہ’ end of history نہیں ہے بلکہ لبرلزم پر اعتماد کا خاتمہ (end of liberal confidence) ہے۔ معاصر نسل کو اب جدیدیت کے دعووں اور بڑبولوں (metanarratives) پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔ اس لیے صرف تنقید کافی نہیں ہے بلکہ واضح متبادل کی ضرورت ہے۔ ٹھوس پالیسی تجاویز درکار ہیں۔ تمدنی انقلاب کے واضح نقوش مطلوب ہیں۔

عالمی سیاست، طاقت اور فکر و دانش کے تیزی سے ہمہ قطبی ہونے کا موجودہ رجحان اسلامی قدروں اور بیانیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کررہا ہے۔ یہ مسلمانوں اور اسلامی تحریکوں کی بصیرت، ان کے فکر و دانش کے معیار، ان کے اداروں کی کارکردگی اور دنیا بھر کے عوام سے ان کے انگیجمنٹ کا امتحان ہے۔ اس امتحان میں وہ کام یاب ہوتے ہیں تو یہ مواقع ان کے لیے بہت سازگار حالات پیدا کرسکتے ہیں۔

متبادلات کی پیشکش کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں مستقل، پیہم اور سنجیدہ ڈائیلاگ کا موضوع بنایا جائے۔ اب مسلمان ممالک بھی مضبوط تہذیبی حصار میں محفوظ ‘مسلمان معاشرے’ نہیں رہے۔ وہ ایک عالمی ہمہ تہذیبی معاشرے کا جزو ہیں اور دنیا بھر کے اثرات قبول کررہے ہیں اور دوسروں کو متاثر کرنے کی بھی اہلیت کے حامل ہوگئے ہیں۔ ہر جگہ کی اسلامی تحریک کی یہ ذمے داری ہے کہ صرف مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھنے کے بجائے عالم انسانیت کو اپنا مخاطب بنائے۔ اپنے بیانیوں کو مقامی مسلمانوں کی جذباتی تسکین تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عالمی رائے عامہ میں تبدیلی کا سنجیدہ ذریعہ بنانے پر توجہ دے۔ اس شکایت کی بجائے کہ ہمیں صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا، سمجھانے کی ذمے داری اور چارج خود لے۔

آزادی: خودانحصاری، ادارہ سازی، افراد سازی

اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ فکری آزادی(intellectual freedom) اور فکری سلامتی (intellectual security) عالم اسلام کی اس وقت سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے بڑا موقع بھی۔ فکری انحصار (intellectual dependence) نے ماضی میں عالم اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور نئے منظر نامے میں یہی عالم اسلام کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ فکری خود انحصاری کے لیے ضروری ہے کہ تحقیق، علوم کی تخلیق(knowledge production)، پالیسی سازی وغیرہ کے لیے مستحکم ادارہ جاتی نظام کے قیام و استحکام کو اہم ترجیح بنایا جائے۔

اس کام کے لیے ضروری ہے کہ افراد سازی اور ادارہ سازی پرخاص توجہ دی جائے۔ ایران کی کام یاب مزاحمت کا راز یہی ہے کہ اس نے برسوں صبر و استقلال کے ساتھ ان محاذوں پرتوجہ دی۔ چین اسی ترجیح کے نتیجے میں ایک عالمی طاقت بن گیا۔ عالم اسلام اس وقت انسانی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ نوجوان آبادی، تعلیم کا بڑھتا رجحان، صلاحیتوں کی تیز رفتار ترقی، خواتین اور طالبات میں تازہ دم توانائی اور صلاحیتوں کے ظہور کی لہر اور نوجوانوں کے عزائم اور امنگیں، یہ مواقع ہر مسلمان معاشرے میں بہت واضح ہیں۔ انہیں آسانی سے بہت بڑی اسٹریٹجک طاقت میں بدلا جاسکتا ہے۔ عالمی معیار کے سائنس دانوں، محققین اور قائدین کی تیاری عالم اسلام کی اصل ترجیح ہونی چاہیے اور اسلامی تحریکوں کو بھی اس کام میں پوری طاقت کے ساتھ اپنے معاشروں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس کے لیے آزاد، فعال اور کارگرد اداروں کی تعمیر و تشکیل بھی ایک اہم مطلوب ترجیح ہے۔ اداروں سے ہماری مراد تعلیمی ادارے بھی ہیں، مالیاتی و معاشی ادارے، علمی و تحقیقی ادارے اور طرح طرح کے آزاد حکومتی ادارے بھی۔ اداروں کی کمزوری امت مسلمہ کی مجموعی کمزوری کا ایک اہم سرچشمہ ہے۔ عالم اسلام میں فعال اور کارکرد اداروں کی تعمیر و تشکیل میں اسلامی تحریکوں نے ماضی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی جہاں جتنے امکانات ہیں، ان کو بروئے کار لاتے ہوئے اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔

ان اداروں کی اہمیت یہ بھی ہے کہ ان سے اسلامی متبادلات کی دنیا کے سامنے عملی پیشکش کا موقع ملتا ہے۔ اس موضوع پر ان صفحات میں ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں[33]۔

آزاد، فعال، کارکرد اور اسلامی تصورات کا عملی مظاہرہ کرنے والے ادارے اور صالحیت و صلاحیت سے آراستہ اعلیٰ معیار کے افراد و قائدین، ان دونوں اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے تو عالم اسلام خود انحصاری اور آزادی کے ایک نئے دور میں داخل ہوسکتا ہے اور نئے عالمی منظر نامے میں مطلوب فعال کردار ادا کرسکتا ہے۔

ہندوستان کا رول

ان حالات میں ہندوستان کے رول کی خصوصی اہمیت ہے۔ ہندوستان اور چین نہ صرف آبادی کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے ممالک ہیں بلکہ نئے حالات میں متعدد حوالوں سے دنیا کی بااثر قوتوں کی حیثیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ گذشتہ سال چاتم ہاوز کی ایک رپورٹ جاری ہوئی تھی جس کے مطابق چین اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو نئے عالمی نظام کی صورت گری کا اہم ترین عامل قرار دیا گیا تھا[34] ۔ آبادی کے ساتھ ہندوستان کی معیشت، اس کی اسٹریٹجک پوزیشن اور ایشیا، افریقہ، عالم اسلام اور یوروپ و امریکہ سے اس کے تعلقات اور متعدد اہم امور میں ان کا ہندوستان پرانحصار، ان سب کی وجہ سے ہندوستان کی خصوصی اہمیت ہوجاتی ہے۔

ہندوستان کی اضافی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس کی بڑی مسلم آبادی، اسے بھی ایک طرح سے عالم اسلام کا حصہ بناتی ہے۔ تنگ نظر سیاسی و مذہبی اختلافات سے اوپر اٹھ کر یہاں کی قیادت دور اندیشی اور عدل و انصاف کی بنیادی قدروں کو اساس بناکر سوچے تو ہندوستان عالم اسلام کے ساتھ مل کر ایک بڑی تبدیلی کی قیادت کرسکتا ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ اہمیت کا لازمی مطلب لیڈرشپ نہیں ہے۔ لیڈرشپ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ آپ پر اعتماد کرسکیں۔ ہندوستان اپنی تاریخ میں غیر معمولی عالمی اعتماد بھی حاصل کرتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں بدقسمتی سے ملک کی خارجہ پالیسی پر نظریاتی اثرات نے اس اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اتنی بڑی طاقت ہونے کے باوجود ہندوستان کوامریکہ و اسرائیل کے فرماں بردار حلیف کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ ہندوستان کو ایک ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو تفریق و تعصب کی بجائے استعمار مخالف اور ظلم مخالف اخلاقیات پر مبنی ہو۔ جس میں عملیت pragmatism ضرور ہو لیکن بنیادی اخلاقی اصولوں کی واضح برتری ہو۔ امریکہ اور مغربی دنیا سے معقول انگیجمنٹ ہو لیکن ان پر انحصار نہ ہو اور سب سے بڑھ کر ترقی پذیر دنیا کا مکمل اعتماد حاصل ہو اور ترقی پذیر دنیا ایک جرأت مند اور اصول پسند لیڈر کے طور پر ہندوستان کو دیکھ سکے۔ ہمارا ملک اس رول کی طرف آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف اپنے لیے ترقی و عروج کے ایک نئے عہد کی ابتدا کرسکتا ہے بلکہ عالمی امن و امان اور ایک بہتر دنیا کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

ملک کے اندر امن و امان اور سب کے حقوق کے احترام کی صورت حال، عالمی اعتماد کے حصول کی ایک لازمی شرط ہے۔ جو ملک یہ مظاہرہ کرسکے کہ اس کے اندر مختلف فرقے اور تہذیبی گروہ مساوی حقوق سے بہرہ ور ہوکر امن و انصاف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، دنیا کی نگاہ میں وہی ملک ایک ایسی دنیا کی تشکیل کی قیادت کرنے کا اہل مانا جاسکتا ہے جہاں مختلف چھوٹی بڑی قومیں آزادی کے ساتھ رہ سکیں اور انہیں عدل کی ضمانت مل سکے۔

موجودہ عالمی حالات میں ہمارے ملک کے لیے بھی یہ زرّیں موقع سامنے آرہا ہے۔ ہماری بھی ذمے داری ہے کہ اس کردار کے لیے اہل ملک کو تیار کریں اور یہ کردار یہاں ماحول کی جس تبدیلی کا متقاضی ہے، اس کے لیے کوشش کریں۔

حواشی و حوالہ جات

1.اس خواب کی تفصیل سمجھنے لیے ہم خاص طور پر درج ذیل مصادر تجویز کریں گے۔

  • The paper “The Unipolar Moment” By Charles Krauthammer first published in the Foreign Affairs on 1-01-1990 and then The Unipolar Moment Revisited published in ‘The National Interest’ in Winter 2002/2003 issue
  • Highly influential report of ‘Project for New American Century’ (PNAC) titled ‘Rebuilding America’s Defenses: Strategy, Forces and Resources For a New Century’ (September 2000)

2. اس اسٹریٹجی کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو مشہور کتاب

  • Zbigniew Brzezinski, The Grand Chessboard: American Primacy and Its Geostrategic Imperatives (New York: Basic Books, 1997)

3. ان کوششوں کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو

  • https://moderndiplomacy.eu/2026/06/20/the-rise-of-strategic-middle-powers/

4. https://www.aljazeera.com/news/2026/9/1/sco-slams-attacks-sanctions-on-iran-key-takeaways-from-bishkek-summit?utm_source=chatgpt.com

5. UNCTADکی تفصیلی رپورٹ ملاحظہ ہو:

  • https://unctadstat.unctad.org/insights/theme/227

6. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تحقیقی رپورٹ

  • Anon, 2026. The impact of BRICS de-dollarization on exchange rate fluctuations. International Review of Economics & Finance, 108, p.105141. Available at: ScienceDirect [Accessed 18 October 2026]

7. ملاحظہ ہو، ہندوستان کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پربرکس کا اعلامیہ

  • https://www.mea.gov.in/bilateral-documents?dtl/41776

8. https://www.reuters.com/world/asia-pacific/china-led-cross-border-digital-currency-platform-sees-surge-2026-01-16/

9. Alshareef, S. (2026). The petroyuan paradox: Economic foundations and political hurdles in the de-dollarization of Gulf oil trade. Capital & Class, 0(0).

10.  آئی ایم ایف کے متعلق اعداد و شمار کے لیے ملاحظہ کریں

  • https://data.imf.org/en/datasets/IMF.STA:COFER

11.  ibid

12. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو گروپ کی ویب سائٹ اور گارڈین کی تفصیلی رپورٹ

  • https://thehaguegroup.org/home
  • https://www.theguardian.com/law/2025/jan/31/south-africa-and-malaysia-to-launch-campaign-to-protect-justice

13. https://theunitednationscorrespondent.com/the-hague-group-holds-high-level-meeting-at-the-un-issues-concrete-proposals-to-enforce-international-law/

14. https://www.theguardian.com/law/2025/jan/31/south-africa-and-malaysia-to-launch-campaign-to-protect-justice

سید سعادت اللہ حسینی؛ نقاب کشا فرقان؛ زندگی نو، ڈسمبر  15.2023

16. Indonesian Institute for Foreign Affairs (IIFA) — IIFA Global Expert Survey 2026: A World Hedging Its Bets

17.  Allianz Trade Global Survey 2026: Business as unusual; ttps://www.allianz.com/en/economic_research/insights/publications/specials_fmo/260408-Global-Trade-Survey.html?utm_source=chatgpt.com

18. https://www.diwan.gov.qa/en/briefing-room/speeches-and-remarks/2026/september/22/hh-the-amir-speech-at-the-opening-session-of-the-81st-un-general-assembly?utm_source=chatgpt.com

19. https://www.euronews.com/2026/09/08/qatar-and-uae-say-gulf-cannot-rely-on-us-alone-for-regions-security?utm_source=chatgpt.com

20. https://thearabweekly.com/mecca-defence-alliance-takes-first-steps-towards-strategic-permanence

21. Amit Kumar and Christian Kaunert; Why decisive military victories are increasingly difficult to achieve

  •  https://blogs.lse.ac.uk/europpblog/2026/07/09/military-superiority-decisive-victory-contemporary-warfare/?utm_source=chatgpt.com

22. https://www.oecd.org/en/publications/competition-in-artificial-intelligence-infrastructure_623d1874-en/full-report/component-5.html?utm_source=chatgpt.com

23. https://www.oecd.org/en/publications/competition-in-artificial-intelligence-infrastructure_623d1874-en/full-report/component-5.html?utm_source=chatgpt.com

24. https://www.iea.org/reports/rare-earth-elements/executive-summary?utm_source=chatgpt.com

25. https://en.didpress.com/22528/

26. https://www.theguardian.com/books/2023/nov/20/palestine-quran-islam-americans-tiktok

27.  ملاحظہ ہو پیو فاونڈیشن کا ماہ جون میں کیا گیا سروے

  • https://www.pewresearch.org/short-reads/2026/06/04/most-people-across-36-countries-have-negative-views-of-israel-and-little-confidence-in-netanyahu/?utm_source=chatgpt.com

28. حوالہ سابق

29. https://www.jta.org/2025/07/29/united-states/zohran-mamdanis-pro-palestinian-positions-drove-83-of-his-new-voters-in-the-ny-primary-poll-shows?utm_source=chatgpt.com

30. https://www.reuters.com/world/uk/pro-gaza-candidates-dent-labours-uk-election-victory-2024-07-05/?utm_source=chatgpt.com

31. https://www.aljazeera.com/news/2025/9/23/which-are-the-150-countries-that-have-recognised-palestine-as-of-2025

32. CIVICUS. (2025 & 2026). State of Civil Society Report. CIVICUS World Alliance

  •  https://publications.civicus.org/publications/2025-state-of-civil-society-report/

33. ملاحظہ ہو زندگی نو کے اشارات:ماہ جنوری2025 تا مارچ 2026

34. https://www.chathamhouse.org/2025/04/how-china-india-relations-will-shape-asia-and-global-order

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

دنیا کا بدلتا منظر نامہ اور عالم اسلام

حالیہ شمارے

اکتوبر 2026

شمارہ پڑھیں

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223