یک رخے پن کے اجتماعی نقصانات

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

مزاج کی بے اعتدالی کا اولین مظہر انسان کے ذہن کا یک رخا پن ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا ہوکر آدمی بالعموم ہر چیز کا ایک رخ دیکھتا ہے، دوسرا رخ نہیں دیکھتا۔ ہر معاملے میں ایک پہلو کا لحاظ کرتا ہے، دوسرے کسی پہلو کا لحاظ نہیں کرتا۔ ایک سمت جس میں اس کا ذہن ایک دفعہ چل پڑتا ہے، اسی کی طرف وہ بڑھتا چلا جاتا ہے، دوسری سمتوں کی جانب توجہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس سے معاملات کو سمجھنے میں مسلسل ایک خاص طرح کے عدم توازن کا ظہور ہوتا ہے۔ رائے قائم کرنے میں بھی وہ ایک ہی طرف جھکتا ہے۔ جس چیز کو اہم سمجھ لیتا ہے بس اسی کو پکڑ لیتا ہے۔ دوسری ویسی ہی اہم چیزیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم چیزیں، اس کے نزدیک غیر وقیع ہوجاتی ہیں۔ جس چیز کو برا سمجھ لیتا ہے اسی کے پیچھے پڑ جاتا ہے، دوسری ویسی ہی بلکہ اس سے زیادہ بڑی برائیاں اس کے نزدیک قابل توجہ نہیں ہوتیں۔ اصولیت اختیار کرتا ہے تو جمود کی حد تک اصول پرستی میں شدت دکھانے لگتا ہے، کام کے عملی تقاضوں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ عملیت کی طرف جھکتا ہے تو بے اصولی کی حد تک عملی بن جاتا ہے اور کا میابی کو مقصود بناکر اس کے لیے ہر قسم کے وسائل و ذرائع استعمال کرڈالنا چاہتا ہے۔

یہ کیفیت اگر اس حد تک رک جائے تو بھی غنیمت ہے، لیکن آگے بڑھ کر یہ سخت انتہا پسندی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پھر آدمی اپنی رائے پر ضرورت سے زیادہ اصرار کرنے لگتا ہے۔ اختلاف رائے میں شدت برتنے لگتا ہے۔ دوسروں کے نقطہ نظر کو انصاف کے ساتھ نہ دیکھتا ہے، نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بلکہ ہر مخالف رائے کو بد سے بدتر معنی پہنا کر ٹھکرانا اور ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ چیز روز بروز اسے دوسروں کے لیے اور دوسروں کو اس کے لیے ناقابل ِبرداشت بناتی چلی جاتی ہے۔

اس مقام پر بھی بے اعتدالی رک جائے تو خیریت ہے، لیکن اگر اسے خوبی سمجھ کر مزید پرورش کیا جائے تو پھر معاملہ بدمزاجی، چڑچڑے پن اور تیز زبانی اور دوسروں کی نیتوں پر شک اور حملوں تک پہنچ جاتا ہے، جو کسی اجتماعی زندگی میں بھی نبھنے والی چیز نہیں ہے۔

(اسلامی تزکیہ نفس، ص ۳۵)

مارچ 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau