پانچ ذہانتیں: ارتقا کی تدبیریں

انسان کی شخصیت کی ترقی صرف تعلیمی قابلیت یا معلومات کو یکجا کرنے پر منحصر نہیں ہوتی۔ زندگی کی پیچیدگیوں کا مقابلہ کرنے ، سماجی تعلقات کو مضبوط کرنے ، مشکل وقت میں استقامت سے جمے رہنے ، کسی چیز کو سمجھنے یا سیکھنے اور اپنے کاموں کو بحسن وخوبی انجام دینے کے لیے پانچ بنیادی ذہانتیں لازمی ہیں:

  1. Intelligence Quotient) IQ)
  2. Adersity Quotient) AQ)
  3. Spiritual Quotient) SQ)
  4. Emotional Quotient) EQ)
  5. Curiosity Quotient) CQ)

اللہ رب العزت نے انسان کو احسن تقویم میں بنایا ، بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی اور دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے تمام چیزوں کا علم ودیعت کیا ۔ ( بعض مفسرین نے کہا ہے کہ تمام علوم کے بنیادی عناصر رب کائنات نے آدم کے اندر سمو دیے پھر انسان کو تجسس اور تحقیق کرنے کے لئے آزاد کردیا ۔) اس دنیا میں سیکھنے ، سمجھنے ، برتنے اور دوسروں تک کسی نافع بات کو پہنچانے کے لئے ان پانچ ذہانتوں کا مطالعہ یقیناً مفید ثابت ہوگا ۔ تحریکات اسلامی کے کارکنوں کو ان ذہانتوں کو سمجھنے اور انھیں ترقی دینے کے لئے کوشاں رہنا چاہیے۔ کیونکہ وہ ایک عظیم مشن کے علم بردار ہیں۔ یہ مشن گوناگوں صلاحیتوں اور ہر قسم کی ذہانتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ پانچوں ذہانتیں انسانی کارکردگی کو تقویت دیتی ہیں اور مشکل وقت میں مشکل کاموں کو حسن و خوبی سے انجام دینے کی استطاعت پیدا کرتی ہے ۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اسلامی تحریک کی کہکشاں میں بیک وقت تمام ذہانتوں کی جلوہ افروزی ہونی چاہیے۔ علامہ اقبال نے پر امید ہوکر کہا تھا:

عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے

شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی

ہم ذیل کی سطور میں ان پانچوں ذہانتوں کے سلسلے میں گفتگو کریں گے۔

IQ: علمی اور منطقی ذہانت (Intelligence Quotient)

علم اور ذہانت میں وہی فرق ہے جو سمندر اور جہاز میں ہوتا ہے۔ سمندر جتنا بھی گہرا ہو، اگر جہاز نہ ہو تو انسان کنارے ہی بیٹھا رہتا ہے۔ IQ وہ جہاز ہے جو علم کے سمندر میں سفر کرتا ہے، اس کی گہرائیوں کو چھوتا ہے اور نایاب موتی نکال لاتا ہے۔

علمی و منطقی ذہانت (IQ)محض یادداشت یا تیزی کا نام نہیں، بلکہ پانچ درج ذیل بنیادی صلاحیتیں اس کے لئے ضروری ہیں۔

  1. مشاہدہ (Observation)
  2. تجزیہ (Analysis)
  3. استدلال (Reasoning)
  4. مسائل کا حل (Problem-solving)
  5. فیصلہ سازی (Decision-making)

اگر ان میں سے ایک بھی کمزور ہو تو انسان یا تو ماضی کے رٹے ہوئے جوابات دہراتا رہتا ہے یا نئے چیلنجوں کو دیکھ کر اس کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں اور مستقبل کے خوف سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں ۔

وحی کے ذریعے اللہ رب العزت نے سب سے پہلے ان پانچ بنیادی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ۔ فرمایا گیا :

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ ۝ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۝ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۝ الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ یعْلَمْ [سورہ العلق ۱-۵]

پڑھو (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ۔پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے ۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔

یہ پانچ آیتیں پانچ مرحلے ہیں

  1. پڑھو (مشاہدہ)
  2. تخلیق کو سمجھو (تجزیہ)
  3. رب کے نام سے پڑھو (استدلال)
  4. قلم سے لکھو (ریکارڈنگ ، تنقید، تبصرہ اور تحریر )
  5. جو نہ جانتے تھے وہ سیکھو (تخلیقِ علم یا حصولِ علم یا علمِ جدید یا تحقیق )

یہ وہی سائنٹیفک میتھڈ ہے جسے آج مختلف طریقوں سے پیش کیا جاتا ہے۔

علمی و منطقی ذہانت کے فروغ کے لئے اسلامی طریقے

تدبرِ قرآن : ہر آیت کو پڑھ کر تین سوال لازمی پوچھنا کہ اس آیت کا ظاہری معنی کیا ہے؟ باطنی پیغام کیا ہے؟ میری موجودہ زندگی پر اس کا انطباق کس طرح ہوسکتا ہے؟

حدیث کو مختلف شروحات کے ساتھ پڑھنا اور خود نتیجہ نکالنے کی کوشش کرنا ۔ پھر اسے چیک کرنا کہ صحیح سمت میں ہم سوچ رہے تھے یا نہیں۔

فقہی قیاس پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ کچھ منتخب عصری مسائل کے حل کی مشق کرنا جیسے کرپیٹو کرنسی میں تعامل کرنا اور اس کی زکوة وغیرہ ( مقاصد شریعت کا مطالعہ اور اس کا اطلاق ) ۔ اس سلسلے میں دور حاضر کی فقہ اکیڈمیوں کے فیصلے اور قراردادیں، نیز عصری موضوعات پر لکھے گئے تحقیقی مقالے اور کتابیں مفید ہوں گی۔

سیرت النبیﷺ کا گہرائی سے مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ موجودہ حالات میں سیرت سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔

علمی اور منطقی ذہانت بڑھانے کے لیے عصری طریقوں کو اپنانا بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔

تجزیہ کو بہتر بنانے کے لئے ایک معروف طریقہ سٹرکچرڈ اینالیٹک ٹیکنیکس( ,SAT’s Structured Analytic Techniques) اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے خیالات اور شواہد کو منظم کیا جاتا ہے۔ہم اس کے ذریعے تجزیہ کاری کی مشق کرسکتے ہیں۔ مثلاً “ایسے بیانات یا مفروضوں کا تجزیہ کرکے شواہد جمع کرنا جن کے ذریعے امکانات پر عمل کرنے یا اس کی نفی کرنے میں آسانی ہو ۔اسے Analysis of Competing Hypotheses کی مشق “ کہتے ہیں ۔

ہر فیصلے سے پہلے امکان (probability)کا اندازہ لگانا ۔ جس کی وجہ سے نئی راہیں دستیاب ہوتی ہیں اور مواقع میسر آتے ہیں ۔ لیکن فیصلوں سے پہلے امکان کا اندازہ لگانا حقیقت میں ایک مستقل تربیت یا مشق کے ذریعے ہی ممکن ہے کیونکہ کسی چیز کو فیصل کرتے وقت مستقبل کا اندازہ لگانا وسیع الذہن ہونے کی دلیل بھی ہے ۔ اس کے لیے عام رائے سے ہٹ کر out of the box سوچنے کی تربیت ضروری ہے ۔

مسائل کی پیچیدگیوں کو دور کرنے کا حل تلاش کرنا اور اس کی مشق کرنا۔ (مثلاً کسی پیچیدہ مسئلہ کی باریک سے باریک تفصیلات جمع کرنا تاکہ مسئلہ کی اصل وجوہات سمجھنے میں آسانی ہو )

جرائد کے مضامین پڑھ کر ان کی منہجیت پر تنقید لکھنا۔

حیاتِ طیبہﷺ سے مثالیں

اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت میں منطقی ذہانت نمایاں نظر آتی ہے، آپ نے صحابہ کی منطقی ذہانت کی ترقی کے لیے سازگار ماحول تشکیل دیا تھا۔

غزوہٴ بدر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جگہ کا انتخاب کرتے وقت آپ ؐنے حضرت حباب بن منذرؓ کا مشورہ سنا، فوراً زمینی حقائق (پانی، ہوا کی سمت، دشمن کی نفسیات) کا تجزیہ کیا اور پوزیشن تبدیل کی۔ یہ خالص حقائق پر مبنی فیصلہ Data-driven Decision تھا ۔

صلح حدیبیہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری شرائط مسلمانوں کے خلاف تھیں، مگر آپ ﷺ نے 10 سالہ امن کو ایک اسٹریٹجک ونڈو سمجھا جس سے دعوت پھیلے گی۔ دو سال میں اسلام کی غیر معمولی وسعت و ترقی اس تجزیے کی صداقت پر گواہ بنی۔

IQ بڑھانے کی عملی مشقیں

روزانہ قرآن کی آیت مع ترجمہ پڑھیں اور اس سے اپنے لئے ایک عملی کام یا رہنمائی نوٹ کریں۔ اس مشق کے لئے عبداللہ جاوید صاحب کی کتاب العروة الوثقی اور ادہم شرقاوی صاحب (ترجمہ برادر ابوالاعلیٰ سبحانی ) کی کتاب رسائل من القرآن بطور نمونہ سامنے رکھی جاسکتی ہے۔

ہفتے میں ایک Case Studyکریں یا پڑھیں اور اطمینان بخش حل تک پہنچنے کی کوشش کریں، مثلاً نفسیاتی مسائل ، کاؤنسلنگ کیس اسٹڈی ، بچوں کی پرورش ، خاندانی مسائل پر کوئی تدبیر زیرغور لائیں ۔ اس کے لئے ایس امین الحسن صاحب کی کتاب بچوں کی ذہانت کا فروغ ، عبدالعظیم صاحب کی کتاب بند گلی سے نکلنے کا راستہ ، مبشرہ فردوس صاحبہ کی کتاب پرورش مفید ثابت ہوگی ۔

ماہانہ ایک نئے شرعی یا سماجی مسئلے پر کسی عالم یا سماجیات کے ماہر کا تحقیقی مقالہ پڑھیں ۔ اس کے لئے امام غزالی کی تصنیف احیاءعلوم الدین ، ابن خلدون کا مقدمہ ، ابوالحسن علی ندویؒ کی کتاب تاریخ دعوت وعزیمت ، وغیرہ کا مطالعہ مفید ہوگا ۔

سالانہ ایک مکمل کتاب کا تنقیدی جائزہ لکھیں۔

AQ: مصیبتوں میں ثابت قدم رہنے کی ذہانت (Adversity Quotient)

زندگی کبھی سیدھی لائن پر نہیں چلتی۔ کامیاب لوگ وہ نہیں جو مشکلات دیکھ کر فرار کی راہ اختیار کرلیتے ہیں ، بلکہ وہ ہیں جو مشکلات کے بیچ میں سے اپنا راستہ بناتے ہیں اور اپنا ایمان اور وقار بچا لیتے ہیں۔ نفسیات کی زبان میں اس صلاحیت کا نام Adversity Quotient یعنی AQکہتے ہیں ۔قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یسْرًا • إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُس٘رًا پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔( سورہ الشرح 5تا 6)

تنگی کے ساتھ آسانی محض خیال نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی جانب سے یقین دہانی ہے۔ نیز یہ ایک سائنسی اور روحانی مشاہدہ بھی ہے کہ ہر دباؤ کے بعد ضرور فراخی آتی ہے۔ نبی کریمﷺ کی پوری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔ طائف کے پتھر، شعبِ ابی طالب کی بھوک، اُحد کی شکست، خندق کی گھیراؤ والی راتیں۔ ہر تنگی کے بعد آسانی ہی آئی۔

اس ذہانت (AQ) کے فروغ کے لئے اسلامی طریقہ

قرآن میں مذکور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کو زیر مطالعہ لائیں جس سے ہمیں احساس ہو کہ روئے زمین کی مقدس ترین ہستیاں بھی پریشانی میں مبتلا ہوئی ہیں اور اللہ نے ان کے آسانیاں پیدا فرمائیں، مثلاًحضرت یوسف ، حضرت موسیٰ ، حضرت ابراہیم، حضرت یونس کے واقعات وغیرہ۔

مشکل کی وجہ تلاش کر کے اپنی ممکنہ غلطیوں/ خطاؤں پر توبہ اور اصلاحِ نفس کرنا ۔

سیرت کے مشکل ترین واقعات کو بار بار پڑھنا اور اپنی موجودہ تنگی سے موازنہ کرنا ۔ مثلاً طائف کا سفر ، شعب ابی طالب کی قید ، ہجرت کا سفر ، وغیرہ ۔

مصیبت میں استقامت کی ذہانت کے عصری طریقے

Cognitive Reframing یہ ایک نفسیاتی تکنیک ہے جو منفی یا غیر معقول سوچ کے نمونوں کی شناخت، جانچ اور اسے زیادہ حقیقت پسندانہ اور مثبت اثرات میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہر مشکل کو “ پریشانی” کے بجائے “نیا آغاز” سمجھنا چاہیے ۔

Deliberate Stress Exposure یہ بھی ایک قسم کی مشق ہے کہ ہفتے میں ایک دن آرام دہ چیزوں کو چھوڑنا یا روز مرہ کے معمولات میں انوکھی تبدیلی لانا تاکہ دماغ تناؤ برداشت کرنا سیکھے۔ مثلاً ایک دن کے لئے ڈیجیٹل فاسٹنگ ( ڈیجیٹل ڈیوائس بند رکھنا ، ایک دن کا فاقہ یا سخت کوشی ، وغیرہ) یا تن آسانی والی سہولیات کو کچھ وقت خیرباد کہنا ۔

Growth Journaling بھی ایک طریقہ ہے جس میں ڈائری لکھنے کی مشق کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہر مشکل کے بعد لکھنا کہ ”اس نے مجھ میں کیا نیا اچھا پیدا کیا؟“

گہری گہری سانس Deep breaths کی مشق کریں اس کی وجہ سے تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ سانس اندر لیں اور کچھ سیکنڈ روکیں پھر دھیرے دھیرے سانس چھوڑیں ۔

AQ بڑھانے کے لیے عملی مشقیں

مشکل آتے ہی کاغذ پر تین کالم بنائیں اور لکھیں کیا ہوا ؟ میری ذمہ داری کیا تھی؟ آگے کیا بہتر کروں گا ؟

ہر ہفتے ایک دن کوئی آرام والی چیز چھوڑ دیں، شام کو ایک سبق لکھیں کہ آج اس میسّر شدہ آرام دینے والی چیز کو استعمال نہ کرنے سے مجھے کیا سبق ملا۔

ماہانہ ایک پرانی مشکل کو یاد کریں اور لکھیں کہ اس نے آپ کو کتنا مضبوط بنایا۔

 SQ: روحانی ذہانت (Spiritual Quotient)

سب سے گہری کامیابی وہ ہے جو دل کے سکون کے ساتھ ملے۔ پیسہ، شہرت، تعلقات، سب کچھ ہو مگر اندر سے خالی پن رہے تو وہ کامیابی جھوٹی ہوتی ہے۔ روحانی ذہانت (SQ) ذہن و قلب پر اللہ رب العزت کا احسان ہے جو انسان کو اپنے خالق سے جوڑتی ہے، زندگی کو معنی دیتی ہے اور ہر حال میں اطمینان عطا کرتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ یقیناً اللہ کے ذکر میں دلوں کو اطمینان ہے ۔ (سورة الرعد:۲۸) دنیا کی کوئی دوائی، کوئی تھراپی، کوئی کامیابی دل کے حقیقی سکون کی جگہ نہیں لے سکتی۔ سکون کا اصل ذریعہ اللہ کا قرب ہے۔ نبی اکرمﷺ کی سیرت اس آیت کی زندہ تصویر ہے۔ مکہ کے سب سے مشکل دنوں میں بھی راتوں کو طویل قیام، آنسوؤں کے ساتھ دعائیں اور صبح کو صحابہ کے چہروں پر وہی اطمینان۔ فتح مکہ کے دن بھی آپؐ کا سر سجدے میں تھا۔ یہ SQکی معراج ہے۔

روحانی ذہانت کی آبیاری کے لیے اسلامی طریقہ

روزانہ رات کے آخری پہر میں کچھ منٹ اللہ کے سامنے روتے ہوئے مناجات کرنا ۔

نماز کو خشوع کے ساتھ پڑھنا، ہر رکعت میں ان آیات کو پڑھنا جن کا ترجمہ یاد ہو ، اچھی قراءت کا اہتمام کرنا ۔

ہر جمعہ کو سورت الکہف پڑھنا اور اس کے پیغام پر غور کرنا۔

ہر حال میں اللہ کی رضا تلاش کرنا، اچھے میں شکر، برے میں صبر کرنا ، حسب استطاعت صدقہ کرنا۔

چند عصری طریقے مفید ہوسکتے ہیں

Heart Coherence Practice: دل کی دھڑکن اور سانس کو ہم آہنگ کرنے کی مشق کرنا ۔ Heart Math Institute کی تحقیق کے مطابق 5 منٹ کی یہ مشق تناؤ کے ہارمون کو اسّی فیصد کم کرتی ہے۔ یہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ ناک سے پانچ سیکنڈ تک سانس لی جائے اور منہ کے ذریعے دھیرے دھیرے چھ سیکنڈ میں سانس چھوڑیں ۔ دن میں تین بار ایسا کیا جائے اسے 3-5-6 کا اصول بھی کہتے ہیں۔

Gratitude Journaling: رات کو تین چیزیں لکھنا جن پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔

Contemplative Silence: یہ خاموشی دراصل غور وفکر کے لئے اختیار کی جاتی ہے جس کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے ۔ اسے خصوصی طور پر روحانی ارتقاء کے کی جاتی ہے روزانہ 10 منٹ خاموش بیٹھنا، پوری توجہ کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا شامل ہے ۔ بہت سے لوگ کوئی نعت ، حمد یا اسماء حسنیٰ وغیرہ سننے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ یہ بھی مناسب ہے ۔

روحانی ذہانت کے فروغ کے لئے عملی مشقیں

رات کو سونے سے پہلے 5 منٹ دل سے اللہ سے باتیں کریں، جیسے سب سے قریبی دوست سے حالِ دل بیان کرتے ہیں ۔

ہر نماز کے بعد 2 منٹ بیٹھ کر دل میں اسمائے حسنیٰ معنی کو ذہن میں رکھتے ہوئے دہرائیں، کوئی اور خیال نہ آنے دیں ۔

ہفتے میں ایک گھنٹہ فطرت کے مناظر میں تنہا گھومیں یا وقت گزاریں، فون ساتھ نہ لے جائیں ۔ فطرت کے مناظر کا بغور مطالعہ کریں ۔

ماہانہ ایک رات قیام اللیل ضرور کریں، چاہے صرف دو رکعت ہی کیوں نہ ہو ۔

EQ: جذباتی ذہانت (Emotional Quotient)

انسان سب سے پہلے دل سے سوچتا ہے، پھر دماغ سے۔ جو شخص اپنے جذبات کو سمجھے، ان پر قابو پائے اور دوسروں کے جذبات کو پڑھ سکے، وہی لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ آج کی دنیا میں سب سے قیمتی صلاحیت یہی EQ ہے۔ یہ جذباتی ذہانت نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کے جذبات کی قدر کرنے کے لئے بھی ضروری ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی شخصیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ (سورة القلم:4) اے محمد ﷺ! بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔ نبی ﷺ کی ساری کامیابی کا راز آپ کا بلند اخلاق تھا۔ آپ ﷺ غصے میں بھی نرمی کرتے تھے، طائف میں پتھر کھانے کے بعد بھی بددعا نہیں کی، فتح مکہ کے دن دشمنوں کو معاف کر دیا۔ یہ اعلیٰ ترین جذباتی ذہانت تھی۔ جذباتی ذہانت جتنی مضبوط ہو گی، زندگی کی ہر لہر میں کشتی اتنی ہی مستحکم رہے گی۔ دل مطمئن ہو گا تو دنیا کا کوئی طوفان ہلا نہ سکے گا۔

سیرت سے مثالیں

ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا، صحابہ غصے میں بھڑک اٹھے، آپ ؐنے روکا اور نرمی سے سمجھایا۔

ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ ؐکھڑے ہو گئے۔ صحابہ حیران ہوئے تو فرمایا: ”کیا وہ انسان نہیں تھا؟“

حدیبیہ میں صحابہ جذبات میں آکر آپے سے باہر ہورہے تھے، آپ ؐنے ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انہیں مطمئن کیا ۔

چند اسلامی طریقے ایسے ہیں جنہیں اپنانے سے ہماری جذباتی ذہانت کی آبیاری ہوتی ہے ۔

غصے میں خاموش ہو جانا اور ”أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ“ پڑھنا۔ جس بات پر غصہ آئے یا جس کی وجہ سے غصہ آئے اسے معاف کردینا ۔

دوسروں کی بات مکمل سننا، فوراً جواب نہ دینا ۔

ہر شخص سے اس کے مزاج کے مطابق بات کرنا (جیسے نبی کریم ﷺ بچوں سے پیار سے اور بوڑھوں سے عزت واحترام سے بات کرتے تھے ۔)

روزانہ کسی ایک کے لیے دعا کرنا، ایسے لوگون کے لیے بھی جن سے سے ناراضگی ہو ۔ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا ۔

چند عصری طریقے

جذبات کو نام دینا (Emotional Labeling): جب غصہ، دکھ یا خوشی ہو، فوراً اس کا نام لیں،مثلاً ”ابھی مجھے غصہ آ رہا ہے“، دماغ فوراً پرسکون ہوتا ہے ۔ جب کسی جذبہ کو مناسب نام دیتے ہیں تو وہ نارمل کیفیت میں آ جاتا ہے ۔

متوجہ ہوکر سنیں (Active Listening) : بات سنتے وقت صرف سننا چاہیے ۔ سامنے والے کو اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ توجہ سے سن رہے ہیں ۔ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس کی وجہ سے یہ پیغام جائے کہ آپ سننے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ۔

 دوسرے کے درد کو خودمحسوس کرنا (Empathy Mapping): کسی کے سامنے بیٹھ کر سوچنا ”وہ اس وقت کیا محسوس کر رہا ہو گا ؟“ یا اس کی بیماری یا دکھ میں کیا حال ہورہا ہے ؟

90 سیکنڈ رول (ڈاکٹر Jill Bolte Taylor کی تحقیق) : کوئی جذبہ 90 سیکنڈ سے زیادہ نہیں رہتا اگر ہم اسے کیمیکل کی غذا نہ پہنچائیں ۔ اگر کوئی منفی خیال آئے تو اسے 90 سیکنڈ میں دور کرنے کی عادت ڈالیں یا فوراً اپنے منفی رویہ سے متاثر انداز ہونے والے عزیز واقارب کا خیال دل میں لائیں۔

جذباتی ذہانت کے لئے چند عملی مشقیں

روزانہ ایک شخص سے 5 منٹ گہری بات کریں، صرف سنیں، کوئی مشورہ نہ دیں

غصہ آئے تو 10 تک گنیں، پھر مسکرا کر جواب دیں

ہر رات سونے سے پہلے تین لوگوں کے اچھے پہلو لکھیں جن سے آج ملے تھے یا یاد کریں کہ آج میں فلاں سے ملا اس میں کیا کیا اچھائیاں ہیں ۔

ہفتے میں ایک بار کسی ایسے شخص سے رابطہ کریں جس سے رنجش ہو، صرف حال پوچھیں۔

CQ: تجسس کی ذہانت (Curiosity Quotient) جاننے کی بھوک جو دنیا بدل دیتی ہے۔

ایک چھوٹا بچہ جب پہلی بار آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے ۔۔۔”چاند اتنا دور کیسے ہے؟“۔۔۔۔”بارش کہاں سے آتی ہے؟“۔۔۔ یہ ”کیوں“ اور ”کیسے“ ہی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ نفسیات اسے Curiosity Quotient یعنی CQکہتی ہے۔ یہ وہ بھوک ہے جو نہ کبھی بھرتی ہے، نہ کبھی پرانی ہوتی ہے۔ جو اسے زندہ رکھتا ہے، وہ فتوحات در فتوحات کرتا جاتا ہے۔ قرآن نے تجسس کی ذہانت کو سب سے پہلے جگایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں 850 سے زیادہ بار سوالات کیے ۔۔۔۔ أَفَلَا تَعْقِلُونَ؟۔۔۔ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ؟۔۔۔ أَفَلَا تَبْصِرُونَ؟۔۔۔۔ کیا تم غور نہیں کرتے؟ سوچتے نہیں؟ دیکھتے نہیں؟

یہ محض زبانی سوالات نہیں، تجسس جگانے کا اعلان ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں، چاند، سورج کو دیکھ کر پوچھا: “یہ میرا رب کیسے ہو سکتا ہے جو غروب ہو جاتا ہے؟“یہ CQ کی سب سے بہترین مثال قرآن مجید نے پیش کی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓکی ذہانت کو پروان چڑھانے کے لئے مثبت تجسس پیدا کیا ۔ایک صحابی نے پوچھا: “یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے؟“ آپ ؐنے فوراً جواب نہیں دیا، بلکہ انتظار کیا کہ وہ خود سوچیں یا جواب کے انتظار میں اور اس کا تجسس بڑھے ۔ جب کوئی نئی بات آتی تو آپؐ فرماتے: “یہ کیا ہے؟““یہ کیسے ہوا؟“۔ اکثر احادیث کے ابتدائی الفاظ پر غور کہ “کیا تمہیں معلوم ہے “ ۔ صحابہ فرماتے اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے ۔

آئن سٹائن نے کہا تھا کہ “میرے پاس کوئی خاص ٹیلنٹ نہیں، بس میں بے حد سے زیادہ تجسس رکھتا ہوں“۔ ایلون مسک سے راکٹ بنانے کی وجہ پوچھی تو جواب ملا: “مجھے جاننا تھا کہ خلاکیسا ہے۔“ CQ وہ آگ ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔ جس دن انسان پوچھنا چھوڑ دے، اس دن وہ مر جاتا ہے، چاہے جسم زندہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا “جو شخص علم کی تلاش میں نکلا، وہ جنت کے راستے پر ہے“یہ راستہ سوال سے ہی شروع ہوتا ہے۔کیا آپ تیار ہیں اپنا CQ جگانے کے لیے ؟ لیکن یاد رہے سوال تعمیری ہواور مثبت سمت ہو ، بلا وجہ سوالات ہمارے ذہن کو منتشر کر دیتے ہیں ۔ یہ الٹے سیدھے سوالات زندگی کو صحیح سمت دینے کے بجائے بے راہ کردیتے ہیں ۔ لہٰذا وہی سوال کیا جائے جس کا علم حاصل کرنا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں کم از کم ایک مخصوص وقت تک علم حاصل کرنا چاہیے ورنہ یہ اس کی علامت ہے کہ ہم صرف سوالات کرنے والے بنتے جارہے ہیں ۔

 CQکیسے بڑھایا جاسکتا ہے ؟

قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ بہت زیادہ گمان سے بچو لہٰذا یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ گمان الگ چیز ہے اور تجسس الگ چیز ہے ۔ گمان میں مثبت و منفی ہونے کا احتمال ہے جب کہ تجسس کسی چیز کو جاننے سمجھنے کا اشتیاق ہوتا ہے ۔ بہترین شخصیات میں تجسس کی سطح بہت بلند ہوتی ہے ۔ تجسس بصیرت و حکمت پیدا کرنے کی تربیت گا ہے ۔ ہم بھی وہ طریقے اپنا سکتے ہیں مثلاً ۔۔۔

ہر آیت پڑھ کر ایک نیا سوال پوچھیں: “اللہ یہاں مجھے کیا سکھانا چاہتا ہے؟“یا بندے سے اللہ کلام کررہا ہے تو کیا حکم دے رہا ہے ؟

رات کو آسمان دیکھ کر حضرت ابراہیم کی طرح سوچیں: “یہ سب کون چلا رہا ہے؟“کس طرح کی physics اللہ رب العزت نے کائنات میں بنائی ہے ؟

سیرت کا کوئی واقعہ پڑھ کر پوچھیں: ”اگر میں وہاں ہوتا تو کیا کرتا؟“

دعا میں بھی سوال کریں: “ا اللہ! مجھے اپنی نشانیوں کا راز سمجھا دے۔“

عصری طریقہ

معمولات زندگی کی تھوڑی تبدیلی یا دن کے معمولات کو صحیح ترتیب دینے سے بہت سی تبدیلی آسکتی ہے ۔

روزانہ ایک “نئی چیز“ کا سوال پوچھیں (چاہے گوگل سے)

”مجھے نہیں پتا“کہنے کی عادت ڈالیں، یہ ماننے میں شرم حائل نہ ہو ۔ لیکن اس کے ساتھ پتہ کرنے کی عادت بھی ڈالنا ضروری ہے ۔

ہفتے میں ایک نیا موضوع شروع کریں، چاہے صرف 10 منٹ پڑھیں ۔

بچوں سے سیکھیں، ان کے سوالوں کے جواب خود تلاش کریں ۔

پازیٹیو کام کی عملی مشق ضروری ہے ۔

روزانہ ایک نیا “کیوں“لکھیں اور اس کا جواب تلاش کریں۔

ہفتے میں ایک نئی چیز چھو کر دیکھیں (پودا، مشین، کتاب) اور سوچیں یہ کیسے کام کرتی ہے ۔

نئی مہارتیں سیکھنا شروع کریں۔

جب کوئی بچہ سوال پوچھے تو فوراً جواب نہ دیں، بلکہ اس کے ساتھ مل کر بچوں کی طرح سوچیں اور بچوں کی نفسیات کے مطابق جواب تلاش کریں۔

IQ، EQ، AQ، SQ اور CQ کا یہ عظیم سفر دراصل انسان کے احسنِ تقویم پر ہونے کی عکاسی کرتا ہے جس کا اعلان ربِ کائنات نے خود فرمایا۔ یہ پانچ ذہانتیں کوئی الگ الگ صلاحیتیں نہیں، بلکہ ایک ہی نورِ انسانی کے پانچ خوبصورت رنگ ہیں جو باہم مل کر چمکتے ہیں تو انسان محض ایک کامیاب فرد نہیں رہتا، بلکہ زمین پر اللہ کی طرف سے دی ہوئی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے ۔

یہ پانچ ذہانتیں ایک دوسرے کے بغیر ادھوری ہیں۔ IQ کے بغیر EQ سرد منطق بن جاتی ہے، EQ کے بغیر SQسطحی جذباتیت، AQ کے بغیر CQمحض مجبوری ، اور CQ بغیر SQبے راہ روی کا خطرہ رکھتی ہے۔ جب یہ پانچوں ایک ساتھ پھلتی پھولتی ہیں تو انسان کے اندر حسین و جمیل توازن پیدا ہوتا ہے۔ شخصیت کا یہ توازن نبی کریم ﷺ کے اسوہ مبارکہ کا پیغام ہے: عقلِ کُل، قلبِ رحیم، صبرِ جمیل، روحِ مطمئنہ اور تجسسِ جاوید۔

آج جب دنیا مصنوعی ذہانت کی چکاچوند میں کھوتی جا رہی ہے، تب بالکل یہی لمحہ ہے کہ ہم اپنی نسل کو بتائیں کہ مشین یا ٹیکنالوجی بہت سے کام کر سکتی ہے، لیکن دل کی گہرائی، روح کی بلندی، مصیبت میں استقامت اور کسی چیز کو جاننے یا سیکھنے کی لازوال بھوک صرف انسان کے پاس ہے۔ ان پانچ ذہانتوں کا ادراک کسی کو ہو جائے تو وہ ممتاز و اشرف بن سکتا ہے ۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ قرآن کی تلاوت سے عقل کو جِلا بخشیں، سیرت کی محبت سے دل کو منور کریں ، مصائبِ طائف کے مطالعہ سے صبر کو پختہ بنائیں، قیامِ لیل سے روح کو منوراور ”افلا تعقلون“ کے سوالات سے تجسس کو جگائیں ۔

اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

ہو جس کے جوانوں کی خودی صُورتِ فولاد

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا

پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد

حوالہ جات

  1. قرآن مجید (ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری اور تفہیم القرآن )
  2. صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ
  3. تفسیر ابن کثیر
  4.  NSSO Youth Survey 2024
  5.  CMIE Unemployment Data 2025
  6.  NFHS-5¡ ASER 2025¡ UNESCO Education Statistics 2024
  7.  Lokniti-CSDS Youth Study 2025
  8.  Pew Research 2023
  9.  NITI Aayog Youth Index 2024

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

پانچ ذہانتیں: ارتقا کی تدبیریں

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223