اسلام کا مستقبل، عوام اور حکومتیں

احمد الریسونی | ترجمہ: محی الدین غازی

ملک وملت میں اصلاح ودعوت کی تیز رفتاراور ہدف رخی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ صورتِ حال کابار بار جائزہ لیا جائے، اہلِ نظر کے بے لاگ تجزیوں سے استفادہ کیا جائے، اورماضی کی غلطیوں کا تدارک کرتے ہوئے، بہتر سے بہتر وسائل اور اسالیب کی جستجو کی جائے۔ اسی کے پیش نظر، دور حاضر میں اصول فقہ اور مقاصد شریعت کے سرکردہ عالم استاذ احمد ریسونی کی ایک فکری تحریر ہندوستان کے کچھ اہل فکر ونظر کے تبصرے کے ساتھ یہاں شائع کی جارہی ہے۔ اس تحریر پر مزید رایوں کا ہم استقبال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی مختصر اور مفید تحریروں کو اگلے شمارے میں بشکل مراسلات شائع کیا جائے گا۔ امید ہے یہ سلسلہ زندگی نو کے قارئین میں فکری سرگرمی کو تحریک دے گا۔ (ادارہ)

 

بہت سی اسلامی جماعتیں، اور بہت سے ارباب علم ودعوت اسلام کے وجود، اسلام کے نفاذ، اور اسلام کے انجام اور مستقبل کو بڑی حد تک ریاست کے موقف، ریاست کی اسلام پسندی، اور ریاست کی اسلام برداری پر منحصر قرار دیتے ہیں۔ وہیں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا حقیقی ظہور اور اسلام کا حقیقی مستقبل ’’اسلامی ریاست کے قیام‘‘ یا بالفاظ دیگر ’’اسلامی نظام‘‘ کے قیام کی صورت میں ہی رونما ہوتا ہے۔

بلاشبہ اسلامی ریاست یا اسلامی حکومت اسلام کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے۔ وہ اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کے لیے مضبوط قلعہ ہے، اور اسی لیے اس کے قیام کے لیے اٹھنا، اس کی راہ میں جدوجہد کرنا اور قربانیاں پیش کرنا شرعا مطلوب اور معتبر ہے۔ تاہم جب اسلامی ریاست کا قیام ہی اصل کام اور فوری ہدف قرار پائے، یا وہی سب سے پہلی ترجیح اور سب سے اونچی غایت ہوجائے، تو پھر تقاضا بنتا ہے کہ ٹھیر کر غور کیا جائے، اور لازم آتا ہے کہ تحقیق کی جائے، تاکہ ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھا جائے، اور اسے اس کی حقیقی قدروقیمت دی جائے۔

ہم نے اپنی اسلامی تحریکات میں دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کو اپنا شعار اور اپنا مرکزی ہدف، اور اپنی جستجو اور سرگرمی کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی امت میں صرف ایک ہی کمی ہے جسے پورا کرنے کی شکل بس یہ ہے کہ چھینی ہوئی خلافت کی بازیافت کی جائے، کہ اسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوں، اور اس کی عظمت سے دل سکون پائے۔

کچھ لوگوں نے ’’پہلے اسلامی ریاست‘‘ کا علم اٹھایا ہوا ہے، وہ اس کے فوری قیام کے لیے اپنی ساری جدوجہد وقف کیے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں اور مادی اور معنوی امکانات کو اس کے لیے مختص کردیا ہے۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسلامی نظام اور ریاست کو سب کچھ تو نہیں مانتے، اور سب سے اول کے بھی قائل نہیں ہیں، لیکن اسے اپنی بڑی بنیادوں میں ایک بڑی بنیاد قرار دیتے ہیں، اور اپنے تجزیوں، اپنی پالیسیوں، اور اپنے طریقہ کار کا رخ اس کی بنا پر طے کرتے ہیں۔ گویا کہ وہ ان کی سب سے قیمتی متاع مطلوب ہے۔

یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے میں یہاں کچھ ایسی باتوں کی وضاحت کرنا چاہوں گا، جو میرے خیال میں (بغیر افراط اور تفریط کے) اسلام میں ریاست کے مقام کو طے کرنے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی شریعت میں کوئی ایسی صریح نص نہیں پاتے ہیں، جس میں ریاست کے قیام کا حکم ہو اور جو ریاست کے قیام کو لازم کرتی ہو۔ اسی طرح ہم ریاست کے قیام کے تعلق سے ترغیب اور ترہیب والی نصوص بھی نہیں پاتے ہیں، جس طرح باقی تمام فرائض کے سلسلے میں خوب پاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ریاست کے قیام کا وجوب اور خلیفہ کے تعین کا وجوب اجتہاد اور استنباط پر مبنی ہے، اس کے استدلال میں شرعی مصالح اور قیاس کارفرما نظر آتے ہیں، اس حکم کی شرعی بنا یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جس حال کو چھوڑا تھا اسے جاری وساری رہنا چاہیے۔

مزید برآں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست اور اسلامی نظام کے وجوب کا تعلق مقاصد سے نہیں بلکہ وسائل سے ہے۔ ریاست کا مسئلہ شریعت کے اس اصول کے تحت آتا ہے کہ ’’واجب کی ادائیگی کے لیے جو ضروری ہو وہ بھی واجب ہے‘‘ گویا یہ واجب لذاتہ نہیں ہے، بلکہ واجب لغیرہ ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ واجب لغیرہ کا درجہ واجب لذاتہ سے کم تر اور اس کی اہمیت بھی اس سے کم ہوتی ہے۔ اس سے دو باتیں نکلتی ہیں: ایک بات یہ کہ واجب لغیرہ کے قیام کی کوشش واجب لذاتہ کو قربان کرکے نہیں ہونی چاہیے، نہ تو اس کوشش سے واجب لذاتہ کو نقصان پہنچے، اور نہ وہ اس کی وجہ سے فوت ہووے۔ دوسری بات یہ کہ جس امر کا قیام وسیلہ ریاست کے قیام پر منحصر ہے، اگر اس امر کا قیام ریاست کے بغیر ممکن ہوجائے تو اس وسیلے کا وجوب جزوی طور پر ساقط ہوجائے گا۔

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ موجودہ ریاست کے سائے میں یا اس کے ذریعے سے کبھی دین کا کچھ حصہ قائم ہورہا ہوتا ہے، اگرچہ وہ ریاست خود دین سے منحرف یا دین بیزار یا دین دشمن کیوں نہ ہو، اور اگر وہ غیر جانب دار یا ہمدرد ہو تب تو بات ہی اور ہے۔

تو ایسی صورتوں میں بھی ’’اسلامی ریاست‘‘ کی اہمیت اور اس کی ضرورت اس قدر کم ہوجاتی ہے جس قدر ’’موجودہ ریاست‘‘ دین کی اقامت کے، اور دین کے احکام پر ذاتی اور اجتماعی زندگی میں عمل آوری کے مواقع اور امکانات فراہم کرے۔

مزید برآں، وہ ریاست جسے ہم وسیلہ سمجھتے ہیں، اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو وہ حقیقت میں ایک وسیلہ نہیں بلکہ وسائل کا مجموعہ ہے۔ وسائل کا یہ مجموعہ الگ الگ کیا جاسکتا ہے، اصول فقہ کی اصطلاح میں تبعیض کے قابل ہے، بایں صورت کہ بعض وسائل بعض دوسرے وسائل کے بغیر بھی وجود پذیر ہوسکتے ہیں، اور کبھی یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض کی وجود پذیری ممکن ہو اور بعض کی نہ ہو، بعض درست ہوں اور مشروع ہوں اور بعض بگڑے ہوئے ہوں اور قابل رد ہوں۔ اس کا مطلب یہ کہ جو موجود ہوں، درست ہوں اور شریعت میں قابل قبول ہوں، یا جنہیں وجود میں لانا اور ان کی اصلاح کرنا ممکن ہو، بس وہی ’’اسلامی ریاست‘‘ کا حصہ ہیں، جنہیں تھامنا اور جنہیں اہمیت دینا ضروری ہے۔

بڑی غلطی اور خطرناک دلدل جس میں بعض اسلامی تحریکیں گری ہیں، یا گررہی ہیں،دراصل ہدف کو چھوڑ کر وسیلے میں مشغول ہوجانا، اور وسیلے کی دھن میں ہدف کو ضائع کردینا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے ریاست کے قیام کی خاطر، اپنی عمریں لگادیں، اپنی زندگیاں کھپا دیں، اور اپنی ساری توانائیاں خرچ کردیں۔ لیکن اس ریاست کا دور دور تک کوئی سراغ نہیں ملتا۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ریاست والی منزل اور زیادہ دور اور دشوار ہوگئی۔ اس طرح نہ ان سے ریاست قائم ہوئی، اور نہ ان سے امت مستفید ہوئی۔

اس سے زیادہ خراب اور خطرناک بات یہ ہے کہ ریاست کی طلب اور اس کے قیام کی جدوجہد بند راستے سے دوچار ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں ریاست کی طلب وہاں پہنچادے جہاں راستے بند ہوجاتے ہوں اور تباہی وبربادی منھ کھولے کھڑی ہو، اور اس کے بعد بھی ضد، اصرار اور ٹکراؤ جاری رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا قیام سیاسی سماجی اور تاریخی اسباب وشروط اور قوانین کے تابع ہوتا ہے۔ محض خواہش یا قرار داد کی بنا پر یا جدوجہد اور قربانیوں کے سہارے نہ ان کو بے اثر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان سے کنارا کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ محنتیں اور قربانیاں کتنی ہی سچی، مخلص اور عظیم کیوں نہ ہوں۔ بہت پہلے ابن عطاء اللہ اسکندری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا: ما ترک من الجھل شیئا من أراد أن یظھر فی الوقت غیر ما أظھرہ اللہ ’’اللہ نے جس وقت جو ظاہر کیا اس کے ماسوا جس نے اس وقت ظاہر کرنا چاہا، اس نے جہالت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘‘ تو جو یہ چاہے اور اس پر اصرار کرے کہ وہ پیش نظر مقصد حاصل کرلے اور اسے وجود پذیر کردے، اور یہ نہ دیکھے کہ آیا اللہ نے اس کے اسباب مہیا کیے ہیں اور اس کی شرطوں کو تیار کیا ہے، تو ایسا شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ سماجی قوانین اور اجتماعی سنتوں سے بالکل ناواقف ہے۔

بلاشبہ انسان کا عمل، اس کی محنت اور اس کی پیش قدمی اور کامیابی بھی اسباب وشروط ہی کا حصہ ہے، تاہم اس کے علاوہ بھی بہت سے محرکات ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں فیصلہ کن ہوتے ہیں، یا اثر انداز ہوتے ہیں، اور جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان سے غفلت برتی جاسکتی ہے۔

اور اگر ہم یہ فرض بھی کرلیں کہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کا قیام ایک دینی کام اور ایک دینی فریضہ ہے، اور یہ بھی مان لیں کہ وہ اپنے آپ میں لذاتہ مطلوب ہے، پھر بھی اس کے شیدائیوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اندازہ لگائیں اور اپنی حکمت عملی میں تدریج کو ملحوظ رکھیں، اور اپنی طلب میں حسن پیدا کریں، کیوں کہ جس نے اپنے سواری کے جانور کو اتنا تھکایا کہ وہ مرگیا، وہ کہیں کا نہیں رہا، نہ تو وہ سفر ہی پورا کرسکا اور نہ ہی اپنی سواری باقی رکھ سکا۔ فان المنبت لا سفرا قطع ولا ظھرا أبقی۔ لیکن اگر ریاست کا معاملہ شرعی اعتبار سے اس درجہ کا نہ ہو اور اس صفت سے متصف نہ ہو تو پھر اس سب کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تحریک کے افرادکے سامنے بہت وسیع میدان ہے کہ وہ اپنے بہت سے اہداف کو حاصل کرلیں،اپنے دین کے بہت سے احکام پر عمل کرلیں اور اپنے معاشرے کی اصلاح کا بہت سا کام کرلیں، باوجود اس کے کہ وہ کسی ریاست کو قائم نہ کرسکیں اور کوئی اقتدار حاصل نہ کرسکیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ وہ امت کی صفوں میں کام کریں اور امت کی تعمیر کریں۔ ان کا راستہ ہو: ’’ریاست کے قیام کے بدلے امت کا قیام‘‘ اور اس کی وضاحت حسب ذیل ہے:

پہلے امت کی تعمیر

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی، جب بھی کوئی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی سے چمٹ جائیں گے، سب سے پہلے حکومت والی کڑی ٹوٹے گی، اور سب سے آخر میں نماز والی کڑی ٹوٹے گی۔

اسلامی ریاست کی اہمیت اور اس کی ترجیحی حیثیت بتانے اور ملت کی اصلاح اور تعمیر نو کی تحریک کے ضمن میں ریاست کی بازیافت کو ضروری بتانے کے لیے، اس حدیث کو بطور دلیل بہت زیادہ پیش کیا جاتا ہے، کیوں کہ اس حدیث میں حکومت کو اسلام کی ایک کڑی قرار دیا گیا ہے۔

البتہ اس حدیث میں دو حقیقتیں مضمر ہیں جن کی طرف اس کا حوالہ دینے والوں کی توجہ نہیں جاتی ہے۔

پہلی بات: حکومت اسلام کی کڑیوں میں سب سے کمزور کڑی ہے۔ کیوں کہ شکست وریخت سے سب سے پہلے سب سے کم زور اور کم ٹھوس حصہ دوچار ہوتا ہے۔ جب کہ زیادہ مضبوط اور زیادہ ٹھوس حصہ حوادث کا مقابلہ سب سے زیادہ کرتا ہے، وہ سب سے آخر تک باقی رہتا ہے اور وہ سب سے آخرمیں شکست وریخت سے دوچار ہوتا ہے۔ پس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام کے وجود اور بقا کے لیے سب سے کمزور ستون حکومت ہے اور سب سے مضبوط نماز ہے۔

دوسری بات: اسلام میں یہ امکانی قوت ہے کہ وہ باقی رہے برقرار رہے اور نشوونما پاتا رہے باوجود اس کے کہ حکومت والی کڑی بگاڑ سے دوچار ہوکر یا زوال وسقوط کا شکار ہوکر ٹوٹ چکی ہو۔ کیوں کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنا دین نازل کیا ’’تاکہ وہ اسے ہر دین پر غالب کردے‘‘ اور یہ کہ یہ دین قیامت تک رہنے کے لیے ہے، پس جب حکومت والی کڑی اسلامی تاریخ کے آغاز ہی میں ٹوٹ گئی تو اس کا مطلب ہے کہ ایک لمبے عرصے تک اس ٹوٹی ہوئی کڑی پر بھروسہ کیے بغیر ہی اسلام زندہ اور تابندہ رہے گا۔

اس نبوی اشارے کا مصداق اور اس کی تفصیل اسلام اور مسلمانوں کی ابتدائی صدیوں سے لے کر اب تک کی تاریخ میں موجود ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام بڑھتا گیا، اس کا تنا مضبوط ہوتا گیا اور اس کا اثر ہر دور میں اور ہر جگہ پھیلتا گیا، اگرچہ حکومت والی کڑی ٹوٹ چکی تھی۔ اسی طرح مسلمانوں نے اپنی عظمت وشوکت کی حفاظت کی، اپنی سرحدوں کا تحفظ کیا، اپنی تہذیب کو استوار کیا، اپنے علوم کو ترقی دی، اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی سلطنت کو وسیع کیا، اور ساری دنیا میں اپنا دین پھیلایا، اگرچہ ان کی ریاست، ان کے حکمراں اور ان کی حکومتیں بگاڑ کرپشن اور کمزوری میں گرفتار رہیں۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دوسری کڑیاں جو حکومت والی کڑی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اور زیادہ تاثیر کی حامل ہیں، باقی رہیں اور اپنا کام کرتی رہیں۔ اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ امت طاقت ور مضبوط فعال اور پھلنے پھولنے والی بنی رہ سکتی ہے اگرچہ اس کی حکومت کے نظام میں خلل ہو، بگاڑ ہو اور بیماریاں ہوں۔

اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ریاست سب کچھ نہیں ہے، اور وہ سب سے اہم بھی نہیں ہے۔ اور جب ریاست سب کچھ ہوجائے یا سب سے اہم ہوجائے خواہ انسانوں کی زندگی میں یا ان کے ذہنوں ہی میں، تو اس وقت وہ لوگوں کے لیے ان کی صلاحیتوں، ان کی پیش قدمیوں اور ان کی قوت کار کے لیے سب سے خطرناک چیز ہوجاتی ہے۔

جب لوگ ریاست کو اس طور سے دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک محدود دائرہ ہے، اور اس کے محدود کام ہیں، اور یہ کہ ریاست امت کی جگہ نہیں لے سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے نہ ہونے سے امت کے کام ختم ہوجاتے ہیں، تو اس وقت وہ ریاست کی مجبوری اور ریاست کی عقیدت سے آزاد ہوجاتے ہیں، اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی، اپنے حالات کی درستگی، اپنے معاشرے کی تعمیر اور اپنے مشن کی علم برداری کے لیے کمربستہ ہوجاتے ہیں، خواہ ریاست کا رویہ کچھ بھی ہو، اس کے تعاون کی کیفیت کیسی ہی ہو، خواہ وہ بالکل ساتھ نہ دے، اور خواہ وہ بگاڑ کی شکار کیوں نہ ہو۔

یہ روشن حقیقت ہے کہ مسلم عوام اور مسلم علما نے بہت طویل زمانہ اور متعدد صدیاں اسی بنیاد پر گزاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی قوت میں اضافہ ہوتا گیا، وہ دن بدن پھیلتا گیا، اسلامی اقوام متحد ہوکر آگے بڑھتی گئیں اور دنیا کو فیض پہنچاتی رہیں، حالانکہ ان کے نظام ہاے حکومت کو بیماریاں اور خرابیاں لاحق رہیں، جن کے برے اثرات کا نہ مجھے انکار ہے اور نہ میں انہیں کم کررہا ہوں۔

یہ حقائق ہم پر لازم کرتے ہیں کہ ہم امت کی فکر کریں، امت کی توانائیوں کو بروے کار لائیں، اور اس کے وسائل کار کو ترقی دے کر فعال تر بنائیں۔ اس سے پہلے کہ ہم ریاست اور ریاست کے اداروں کی فکر کریں۔ ہمارا شعار ہونا چاہیے: ’’امت کی تعمیر پہلے، امت میں تحریک پہلے‘‘ بناء الأمۃ وتفعیلھا أولا۔

ہمیں یاد کرنا چاہیے کہ امت سو کروڑ سے زیادہ ہے، اس میں سے کروڑوں مغربی ملکوں میں پائے جاتے ہیں، امت میں دسیوں لاکھ اہل علم اور اہل ثروت ہیں، اہل فکر اور تخلیق کار ہیں، داعی اور کارکن ہیں۔ دسیوں لاکھ ہیں جو تیار ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ اپنے دین کے لیے، اپنی امت کے لیے اور ساری انسانیت کے لیے کچھ پیش کریں، قربانی دیں اور زبردست جدوجہد کریں۔ یہ توانائیاں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا شمار اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے، انہیں بس تحریک دینے اور رخ دینے کی ضرورت ہے، ضرورت ہے کہ کوئی انہیں صحیح راستہ دکھادے، دعوت، تعلیم، صحافت، سیاسی اور ثقافتی پرامن کشمکش، اور رفاہی اور ترقیاتی کاموں کے متعدد میدانوں میں۔

علما اور اسلامی تحریکوں کے ہراول دستوں کے سامنے جو بڑا امتحان ہے، جس سے انہیں کامیابی سے گزرنا ہے، وہ امت کی توانائیوں کو تمام سمتوں میں فعالیت سے ہمکنار کرنا ہے، معاشرے کو اس مقام پر پہنچانا ہے جہاں وہ خود کار اجتماعیت بن جائے، جسے آج سول سوسائٹی کہتے ہیں۔

آخری بات: ہماری کامیابی کا انحصار دوسرے کی ناکامی پر نہیں ہے۔

بہت سے مسلم قلم کاروں مفکروں اور داعیوں کا حال یہ ہے کہ جب اسلام کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو فورا اس پر بات کرنے لگتے ہیں کہ اسلام کو دشمنوں کی سازشوں اور بیرونی چیلنجوں اور منصوبوں کا سامنا ہے۔

اور جب اسلام کے مشن، اسلام کی تہذیب اور انسانیت کے لیے اسلام کی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو فورا ہی وہ اسے مغربی تہذیب کے بحران اور اس کی خامیوں اور ناکامیوں سے جوڑ دیتے ہیں اور مغرب کی شکست وریخت کے آثار ظاہر ہونے اور مغرب کی بربادی کے حتمی ہونے کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

گویا اسلام کے روشن مستقبل اور اس کے مشن اور تہذیب کے ظہور کے لیے اگر گنجائش نکلے گی تو مغربی تمدن کے کھنڈرات کے اوپر ہی نکلے گی۔ اور مسلمانوں کو عظمت جبھی حاصل ہوگی جب مغرب ناکام ہوجائے گا اور اس کی قوت پارہ پارہ ہوجائے گی۔

اس طرح گویا ہمیں اسی کا انتطار کرنا ہوگا یا اسی کے لیے کام کرنا ہوگا، کیوں کہ اس کے بعد ہی وہ وقت آئے گا جب ہم اپنا کردار سنبھالیں، اپنا مشن انجام دیں، اور اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔

یہ بالکل ضروری نہیں ہے، اور خود یہ خیال کسی حصے میں درست بھی نہیں ہے، انسانیت کا مفاد اور وہیں مسلمانوں کا مفاد بھی اس میں ہے کہ جہاں تک ہوسکے، مغربی تمدن کو بچایا جائے، اسے بہتر بنایا جائے، اور اسے ترقی دی جائے۔ اور یہ اسی طرح ہوگا کہ ایک طرف تو مغربی تمدن سے گفتگو کی جائے، اس میں نفوذ کیا جائے، اس کے مثبت حصوں کا احاطہ کیا جائے، اور انہیں اپنایا جائے۔

اور دوسری طرف اسلام کی پیش قدمیوں اور کامیابیوں کو بڑھایا جائے، اس کے لیے اسلامی عقیدے، اسلامی اخلاق، اسلامی قدریں اور اسلامی شریعت کو سامنے لایا جائے۔ ساتھ ہی اہل اسلام کے قابل تقلید نمونوں اور کارناموں کو بھی ذریعہ بنایا جائے، جو غیر اہل اسلام کے اندر اسلام کا شوق پیدا کریں۔

مسلمانوں پر، بحیثیت مسلمان ہونے کے، لازم ہے کہ وہ اسلام کے مستقبل اور اس کے مقام، اس کے کردار اور اس کے مشن، اس کی کامیابی اور اس کی افادیت کے سلسلے میں پختہ یقین رکھیں، دوسروں کی کامیابی یا ناکامی پر، ان کی طاقت یا کمزوری پر، ان کی فتح یا شکست پر منحصر سمجھے بغیر۔ دوسرے لفظوں میں: اسلام کا اپنا مقام اپنی طاقت اور اپنا مستقبل ہے، مغرب کی قوت وشوکت کے باوجود، اور اس کی تہذیب اور بالادستی کے رہتے ہوئے بھی۔

جاپانی قوم بیدار ہوئی، اور امریکی تسلط اور عسکری اور سیاسی ہزیمت کے نیچے رہتے ہوئے بھی جس میدان میں چاہا کامیابی حاصل کرلی۔ اسی طرح جرمن، جنوبی کوریا اور تائیوان نے بھی کیا۔

ہاں، صورت حال میں بہت کچھ حقیقی فرق بھی ہے۔ تاہم اس کے حقیقی امکانات بھی ہیں کہ اسلام آگے بڑھے اور اسلام کی حیثیت ہی میں وہ کامیاب بھی ہو۔ اس کے بھی حقیقی امکانات ہیں کہ مسلمانوں کی بیداری، ان کی ترقی اور ان کی تہذیبی پیش قدمی کے لیے بہت کچھ کیا جائے۔ اس یقین کے ساتھ کہ حق کا غلبہ اور کامیابی اس پر منحصر نہیں ہے کہ ’’پہلے‘‘ باطل کو زوال آئے اور اس کا صفایا ہوجائے۔ بلکہ حق کا ظہور، اس کی کامیابی اور اس کا استقرار دراصل باطل کے زوال اور اس کی بے دخلی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

 

نومبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau