حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جبرئیل مجھے ہمسایہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی برابر تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ ہمسایہ کو وراثت میں شریک کر دیں گے ۔“
تشریح: یعنی شاید ایک ہمسایہ دوسرے ہمسایہ کا وارث قرار دے دیا جائے گا۔ اس حدیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پڑوسی کے حقوق کی ادائی کس قدر ضروری ہے۔ شریعت نے پڑوسی کو وراثت میں شریک تو نہیں کیا کیوں کہ اس طرح وہ پڑوسی نہیں بلکہ گھر کا ایک فرد قرار پاتا اور اس سے مختلف قسم کی دشواریاں پیدا ہوتیں۔ پڑوسی کی اصل حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے شریعت نے اس کے ساتھ ہر طرح کے حسن سلوک کی تاکید کی ہے۔ کسی شخص کے بھلے ہونے کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پڑوسی اس سے خوش ہوں اور اگر اس کے پڑوسی کو یہ معلوم ہو کہ وہ اب کہیں دوسری جگہ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اس کے جدا ہونے کے احساس سے مغموم ہو جائے ۔ اس کے بر خلاف جس کے پڑوسی اس سے نالاں ہوں اور اس کے چلے جانے کو اپنے لیے نجات تصور کرتے ہوں تو ایسا شخص خدا کی نگاہ میں کبھی پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔ مومن تو وہ ہے، جو اپنے شرارت پسند ہمسایوں کو بھی شکایت کا موقع نہ دے اور ان کا ہمدرد و غم گسار بنارہے۔ پڑوسی کا ایک بڑا حق یہ ہے کہ ہم اس کے بارے میں سوء ظن سے کام نہ لیں اور اگر اس کی طرف سے کسی کمزوری کا صدور ہو تو ہم چشم پوشی سے کام لیں۔ کسی کی اصلاح کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ اس کے ساتھ شریفانہ طرز عمل اختیار کیا جائے۔ (کلام نبوت،حصہ سوم: ص167)






