قرآنی توحیدِ رحمت اور اس کی مرکزیت
اسلامی الٰہیات میں رحمت (رَحمَہ) محض ایک صفاتی پہلو نہیں بلکہ کائناتی نظام اور انسانی وجود کا مرکزی محور ہے۔ مشیتِ الٰہی نے انسانی منصوبے کو ایک ایسا روحانی و تمدنی مشن قرار دیا، جو اللہ کی رحمت کو انسانی اداروں، اخلاقیات، معیشت، سیاست اور معاشرت میں مجسم کرتا ہے۔ قرآنی آیات اور احادیث نبوی اس نکتہ پر زور دیتی ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد اللہ کی رحمت کا با شعور مظہر بننا ہے — دیگر انسانوں، مخلوقات اور ماحولیات کے ساتھ تعلقات میں۔
اس امتیازی تخلیقی منصوبہ کو قرآن براہِ راست ذاتِ حق کی شانِ رحمت سے منسوب کرتے ہوئے ایسے تصورِ خدا کو پیش کرتا ہے:
جو رب العالمین ہے؛ الرحمن ہے؛ الرحیم ہے؛
جو تنہا کُل رحمت کا سرچشمہ ہے اور ہر مخلوق کا وجود صرف اسی کی رحمانیت و رحیمیت کا فیضان ہے۔ اس کی رحمت ہر ذرہ، ہر قانون، ہر حسن اور ہر فائدہ بخش عنصر میں ظہور پذیر ہے۔
اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ( البقرہ : ۱۶۳) “تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اس رحمٰن اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ۔ “
قرآن کریم سراسر کتابِ رحمت ہے، خاتم الانبیا ء اکمالِ رحمت یعنی “ رحمت اللعالمین “ ہیں اور پیروانِ رسولِ رحمت “عبادالرحمن “ ہیں۔ وَ مَاۤ اَنزَلنَا عَلَیکَ الکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اختَلَفُوا فِیہِ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحمَۃً لِّقَومٍ یُّؤمِنُونَ ﴿النحل : ۶۴﴾” اِس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ ان کے لئے ہر اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لئے رہنمائی اور رحمت ہے ۔“
قرآن کا پیغام ہے کہ کائنات کا یہ حسین، معتدل، مربوط اور بامقصد نظام دراصل ظہورِ رحمتِ الٰہی کا تسلسل ہے۔ یہ صرف وجود کا نہیں، جمال کا، حسن کا اور خیر کا ظہور ہے اور اس کی اصل ”اللہ الأحد والصمد کی رحمت“ ہے۔ کائنات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی حقیقت جو نمایاں ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فطرت کی ہر شے، ہر عمل اور ہر مظہر کسی نہ کسی فائدے، حکمت اور فیضان کا حامل ہے۔
یہ افادہ کسی اتفاقی نظم یا بے ارادہ قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ نہایت حکیمانہ ارادۂ إلٰہی اور لامتناہی رحمت کا آئینہ دار ہے۔ گویا تمام کائنات ایک ایسی عظیم کارگاہ ہے جو انسان کی ضروریات کی تکمیل، راحت و سکون اور نشوونما کے لیے بنائی گئی ہے۔ قرآن کا اعلان ہے: وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا ۔ “اس نے تمہارے لیے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو مسخر کر دیا۔“(الجاثیہ: 13)
وَ مِن رَّحمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیلَ وَ النَّہَارَ لِتَسکُنُوا فِیہِ وَ لِتَبتَغُوا مِن فَضلِہٖ وَ لَعَلَّکُم تَشکُرُونَ ﴿القصص:۷۳﴾ ” یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں ) سکون حاصل کرو اور ( دن کو ) اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو “ ۔
تمام قوانینِ فطرت کی ساخت رحمتِ الٰہیہ سے گوندھی ہوئی ہے۔ اور تمام عالم پر سلطانئ رحمان ہی کی جلوہ گری ہے۔
اَلرَّحمٰنُ عَلَی العَرشِ استَوٰی( طہ: ۵) وہ رحمان( کائنات کے ) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے ۔
الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضَ وَ مَا بَینَہُمَا فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ اَلرَّحمٰنُ فَسئَل بِہٖ خَبِیرًا ۔ ﴿الفرقان : ۵﴾ ”وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی ( کائنات کے تخت سلطنت ) ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا ۔ رحمان ہی سے مانگو، وہ باخبر ہے ۔“
حقیقی بادشاہی صرف اور صرف خدائے رحمان کی ہے،چاہے دنیا میں ہو یا آخرت میں ۔
اَلمُلکُ یَومَئِذِ ۣ الحَقُّ لِلرَّحمٰنِ ؕ ﴿ الفرقان : ۲۶﴾
”اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہوگی ۔“
اللہ کی سلطنت میں سب سے زیادہ کارفرما قانون، قانونِ رحمت ہے۔ اس کی تمام کارسازیاں اس کی رحمت کی جلوہ افروزیاں ہیں۔ اسی لئے قرآن نے ہر عظیم، جلیل،جمیل، نافع اور خیر والی چیز – جیسے قرآن، تورات، جنت، نبوت اور بارش – کو ’’رحمت‘‘ کے لفظ یا اس کی مشتقات سے تعبیر کیا ہے۔
وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِیهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْن “اور اُس نے اپنی رحمت سے تمھارے لیے رات اور دن بنایا ہے تا کہ تم اس میں آرام کر سکو اور تا کہ تم اُس کا فضل تلاش کر سکو اور تا کہ تم شکر بجا لاؤ۔“ ( الفرقان : ۷۳ )
رب رحیم کا ارشادہے: وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا اور تمہیں ہر وہ چیز دی جو تم نے مانگی۔ اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو گے۔ (ابراہیم: 32–34)
قرآنی خطاب میں رحمت صرف ”رحم“ کے مادّے سے براہِ راست نکلنے والے الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ بہت سی بالواسطہ تعبیر وں میں بھی ظاہر ہوتی ہے — جن میں کسی نہ کسی پہلو میں رحمت شامل ہے، یا وہ اس کا نتیجہ ہیں، یا اُس کے اسباب میں سے ہیں؛ جیسے ہدایت، رفق، تسخیر، انعام، تکریم اور ربوبیت وغیرہ۔ غرض پوری زندگی کا نظام اللہ کی رحمت پر قائم ہے اور تمام مخلوقات کے وجود کا تعلق اسی سے سب سے زیادہ گہرا ہے ، چاہے وہ خود اس کو محسوس کریں یا نہ کریں۔
قرآنی خطاب میں ”رحمت“ کے بہت سے لطیف اشارے اور کئی جہات ہیں، جو معانی اور دلالات کے ایک بڑے خزانے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے ”رحمت“ اللہ کی سب سے زیادہ ظاہر اور عام صفات میں سَرِفہرست ہے۔ اس میں نبوت، قرآن، جنت، رزق، نصرت، اُلفت، مغفرت، دعا کی قبولیت، عصمت، وسعت، تخفیف، رفعِ حرج — اور بہت سی دوسری دلالتیں جمع ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔
کبھی کبھار ہمیں کائنات میں کچھ تخریبی مظاہر — جیسے زلزلے، آتش فشانیاں، طوفان، سیلاب وغیرہ — نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب تخریب نہیں بلکہ تعمیر ہی کا حصہ ہیں۔ جیسے سنگ تراش اگر پتھر نہ تراشے تو مجسمہ وجود میں نہیں آتا، جیسے درختوں کو نہ کاٹا جائے تو عمارت کی لکڑی کہاں سے آئے، ویسے ہی کائنات کے انقلابی مظاہر بھی کسی بڑی بہتری اور تعمیری ترتیب کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ خدائے رحمان کی قہاری، جباری، قوت و ہیبت — ان سب میں مخلوق کے لئے پوشیدہ رحمت ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ بہ یک وقت عزیز ( طاقتور) بھی ہے اور رحیم بھی۔ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ( الشعراء :۱۹۱) اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی ۔
وجودِ انسانی : رحمتِ الٰہی کا امتیازی مظہر
کائنات اپنی تمام وسعت، نظم اور حسن کے باوجود رحمتِ الٰہی کے سمندر کی ایک لہر ہے۔ اسی بے کنار رحمت کے طفیل ہر مخلوق کو وجود عطا ہوتا ہے، مگر انسان کا وجود ایک مخصوص عنایت، ایک خاص التفات کا مظہر ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے: هَلْ أَتَىٰ عَلَى ٱلْإِنسَٰنِ حِینٌ مِّنَ ٱلدَّهْرِ لَمْ یكُن شَیـًا مَّذْكُورًا ۔
“کیا انسان پر ایک وقت ایسا نہ گزرا کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز بھی نہ تھا؟“(الدهر:1)
یعنی انسان اپنی اصل میں عدم اور گمنامی کی تاریکی میں تھا؛ نہ اس کا کوئی وجود تھا، نہ ذکر، نہ پہچان۔ مگر پھر خدائے رحمان نے، کسی استحقاق یا مطالبے کے بغیر، محض اپنے فیضِ رحمت سے اسے وجود بخشا۔ انسان کے لئے یہ عطائے وجود ( Existence )، سب سے پہلی اور بنیادی بخشش ہے۔ وجود — یعنی زندگی اور شعور— یعنی ہدایت، خدائے رحمان کی وہ اساسی رحمت ہے جس پر باقی سب نعمتیں قائم ہیں۔ اس کے بغیر کسی اور نعمت کا تصور ہی محال ہے۔ یہی رحمت تمام عنایت، ہدایت اور بقا و دوام کی بنیاد ہے۔ زندگی کا ظہور، شعور کا عطیہ اور ہر موجود کا وجود — سب کچھ رحمتِ الٰہی کی جلوہ گری ہے۔
الرَّحْمَٰنُ – عَلَّمَ الْقُرْآنَ – خَلَقَ الْإِنسَانَ – عَلَّمَهُ الْبَیانَ
خدائے رحمٰن، جس نے قرآن کی تعلیم دی، انسان کو پیدا کیا اور اُسے بیان سکھایا۔ (سورة الرحمن:1-4)
تخلیق ِ انسان، علمِ قرآن، بیان اور شعور یعنی ادراک و اظہار — یہ سب کچھ خدائے رحمن کے منصوبۂ رحمت کا حاصل ہے۔ وجود کوئی حادثہ نہیں، نہ کوئی طبیعی ضرورت یا میکانیکی نتیجہ۔ یہ ایک مخصوص، باعنایت اور بامقصد رحمت ہے۔ اس کا شعور انسان کو اللہ کی ربوبیت، الوہیت اور رحمت کی طرف جھکاتا ہے۔ یہی جھکاؤ اصل میں انسان کے مقصدِ تخلیق یعنی عبودیت کی بنیاد ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِیعْبُدُونِ ۔ “اور میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں“۔ (الذاریات:56)
پس، اگر انسان صرف اس حقیقت پر غور کر لے کہ “میں ہوں اور یہ ہونا اللہ کی رحمت سے ہے“، تو محبت، شکر، خشیت اور اطاعت کی بنیاد از خود قائم ہو جاتی ہے۔ عبادت دراصل اسی شعورِ رحمت کا طبعی وعملی اظہار ہے۔ رحمت الٰہی عبودیت کا جوہر ہے، اسی لئے تخلیقِ انسانی کا گوہرِ مقصود ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو نظام بیان ہوا ہے، اس میں “رحمت“کلیدی تصور کے طور پر بار بار ابھرتا ہے:
الرحمن، الرحیم، الرؤف، الودود، ارحم الراحمین، ذُو الرَّحْمَة، واسع الرحمة — یہ تمام اسما و صفات رحمتِ الٰہی کی امتیازی شان کو نمایاں کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کردہ حدیث قدسی میں اللہ فرماتے ہیں: “میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“(بخاری، مسلم)
یہ اعلان انسان کی تخلیق اور اس کے انجام دونوں کے بارے میں ایک رحمت کا مرکز ی تصور فراہم کرتا ہے۔
انسان کی تخلیق ایک رحمتی مشن ہے۔ قرآن میں انسان کی تخلیق کا مقصد خلیفة اللہ فی الارض بیان کیا گیا ہے: “إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً“(البقرہ: ۳۰) یہ خلافت محض اقتدار کا اعلان نہیں، بلکہ ایک رحمتی نمائندگی (Merciful Representation) ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین پر اپنی صفاتِ جمالیہ — خاص طور پر رحمت، عدل، حلم، عفو — کو ظاہر کرنے کے لیے منتخب کیا۔ انسان کی خِلقی ساخت ہی میں خالقِ انسان نے ایک امتیازی اور عجیب صفاتی قرب رکھا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو “نَفَخْتُ فِیهِ مِن رُّوحِی” (الحجر: 29) کے حوالہ سے ایک بلند روحانی مرتبہ دیا ۔ اللہ کی “روح” کا نفخ، کوئی جسمانی اشتراک نہیں بلکہ صفاتی قرب کی علامت ہے۔ یہ قرب انسان کو صرف عقل یا ارادہ نہیں، بلکہ رحمت و شفقت جیسے صفات سے مزین کرتا ہے۔ چنانچہ: والدین کی رحمت، نبیوں کی شفقت، اہلِ علم کا حلم، اہل اللہ کا جذبِ محبت، عدلیہ کا انصاف یہ سب انسانی معاشرے میں “رحمتِ الٰہی“ کی مختلف تجلیات ہیں۔ انسان محض ایک “سماجی حیوان “( Social Animal ) یا “نرا عقلی وجود “( Rational Being ) نہیں، بلکہ “رحمتِ الٰہی کا سفیر“ہے۔ وہ جتنا خدا کی رحمت سے جڑتا ہے، اتنا ہی وہ حقیقی انسان بنتا ہے۔ اسلامی تصورِ انسان، “رحمت“ کو اس کی شناخت، مقصد اور مشن بناتا ہے۔
سیرتِ نبوی اور رحمت کا نظام
نبی اکرم ﷺ کی شخصیت محض ایک روحانی و مذہبی رہنما یا سماجی مصلح نہیں، بلکہ اللہ کی صفاتِ رحمت کا مجسم مظہر ہے۔ قرآن مجید نے اس بات کو بلیغ ترین انداز میں یوں بیان فرمایا: “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِین“ (الأنبیاء: ۱۰۷)۔اس پر مستزاد، خدائے رحمن نے اپنے رسول کو اپنی دو اعلیٰ صفات کے ساتھ بیان کیا اور آپؐ کو اپنے دو خوبصورت ناموں سے مسمٰی کیا۔ آپؐ کے لئے فرمایا: بِالْمُؤْمِنِینَ رَءُوفٌ رَّحِیم (مومنوں پر نہایت شفیق اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔) (التوبہ: ۱۲۸)
اور بِعَینہٖ یہی بات اللہ عزوجل نے ان ہی ناموں سے اپنے لئے فرمائی: إنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِیم (بے شک اللہ لوگوں پر بہت شفیق اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔) (البقرہ: ۱۴۳) ؛ ناموں کا یہ اشتراک نبئ رحمت کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
نبوی رحمت کا تصور: جذبات سے ادارہ سازی تک
عموماً نبی ﷺ کی “رحمت“کو صرف ذاتی نرمی یا اخلاق حسنہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ آپؐ کی سیرت رحمتِ الٰہی پر مبنی انفرادی، اجتماعی، ریاستی، عدالتی اور سماجی نظام کے قیادت کرتی ہے۔ مثالیں:
فتح مکہ میں عام معافی: ریاستی رحمت
مسجد نبوی کا قیام: روحانی و معاشرتی رحمت
مواخاتِ مدینہ: معاشی و سماجی رحمت
معاہدۂ حُدیبیہ: سیاسی حکمت و رحمت ( جنگ کو آخری تدبیر بنایا)۔
یتیموں، عورتوں، غلاموں، غیر مسلموں سے حسنِ سلوک Social Welfare:سماجی و انسانی رحمت
حلم (بردباری):طائف میں پتھروں سے زخم خوردہ ہو کر لہو لہان ہونے کے بعد بھی معافی اور دعائے خیر ؛ غصے پرمکمل کنٹرول۔
عفو ودرگزر: فتح مکہ پر دشمنوں کو عام معافی، انتقام کی نفی۔
عدل (انصاف) Rule of Law : قریش کی خاتون کے چوری والے معاملہ میں نبی ﷺ نے فرمایا: “میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو حد نافذ ہو۔“ [1]
اقلیتوں کا تحفظ: نبی ﷺ نے مدینہ میں یہودیوں کے ساتھ میثاقِ مدینہ کے ذریعے ایک مشترکہ معاشرتی نظم قائم کیا جو عدل، مساوات اور شہری حقوق پر مبنی تھا۔ یہ اسلامی تمدن میں بین المذاہب رحمت کا پہلا معیاری ماڈل ہے۔
مذہبی آزادی : میثاقِ مدینہ، نجران کے عیسائیوں کے وفد کی میزبانی
ادارہ سازی: رحمت کا ادارہ جاتی نظام ۔ نبی ﷺ نے مدینہ میں مختلف ادارے قائم کیے: مسجد نبوی اور اس میں عبادت گاہ، تعلیم گاہ، سیاسی مرکز، بیت المال
کثیر مذہبی ( Plural ) معاشرے کی کامل رہنمائی : مذہبی آزادی، شہری مساوات، اشتراکِ عدل
اور بین المذاہب مکالمہ۔
نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ ایک ہمہ گیر، حکیمانہ اور رحمتی نظام کی تشکیل کا آئینہ دار ہے۔ اگر مسلمان آج بھی نبی ﷺ کی سیرت کے نظامی پہلو کو سمجھ کر پورے اخلاص و دیانتدار ی کے ساتھ اختیار کریں، تو نہ صرف اپنا تشخص بحال کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک ”رحمت مرکز“ متبادل ماڈل پیش کر سکتے ہیں۔
اسلام کا تصور قوت رحمت کے پیراڈائم میں
اسلام کا تصورِ قوت اگر رحمت کے پیراڈائم میں دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر روایتی طاقت کے تصورات (قہر، جبر، غلبہ) سے مختلف اور ایک اعلیٰ اخلاقی و روحانی جہت کا حامل ہے۔ اسلام میں قوت اپنی اصل میں ربّانی امانت ہے، جو محض تسلط اور غلبہ کے لیے نہیں، بلکہ رحمت، عدل اور خدمت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ قرآن میں قوت کا اصل مقصد ظلم کا خاتمہ اور عدل کا قیام ہے:
﴿لِیقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ (الحدید: 25)۔ تاکہ لوگ عدل پر قائم ہو جائیں۔
لیکن قرآن اس قوتِ عدل کو محض قانون یا جبر پر مبنی تصور نہیں کرتا، بلکہ رحمت کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے اسے کمزوروں کے لئے تحفظ، ظلم کا انسداد، انسانی کرامت( Dignity Human ) کی بحالی اور زمین پر نظامِ رحمت کے قیام کو مقصود بتاتا ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو دشمن کو صرف زیر نہیں کرتی، بلکہ جگری دوست میں بدل دیتی ہے؛ ﴿ادْفَعْ بِالَّتِی هِی أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَینَكَ وَبَینَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِی حَمِیمٌ﴾ (فصلت: 34)
قوت کا اخلاقی ماخذ: صبر اور مرحمہ
اسلامی قوت صبر اور مرحمہ کی دو بنیادوں پر قائم ہوتی ہے:
صبر: قوت کو جذباتیت، جلد بازی اور انتقامی رویے سے محفوظ رکھتا ہے؛ اور قوت کو نظم اور ضبط دیتا ہے۔
مرحمہ: قوت کو انسانیت، شفقت اور ایثار میں ڈھالتا ہے؛ دشمن کو بھی جذبۂ خیر خواہی سے اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اہل ایمان کو “أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَینَهُمْ“ (الفتح: 29)کہا : یعنی قوت سختی نہیں بلکہ حکمت و مرحمہ ہے۔ رحمت کا خُلق، عمدہ سلوکی قدروں میں سے ایک جامع قدر ہے۔ یہ صاحبِ قوت کو خیر کی طرف لے جاتی ہے اور ضررسے روکتی ہے، اس اعتبار سے یہ تمام سلوکی اخلاق کا ایندھن یا قوتِ متحرکہ ہے۔
قوت کا نبوی ﷺ ماڈل
اللہ نے رسولِ عربی ﷺ کو شانِ امتیازی کے ساتھ رحمة للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ رحمت آپؐ کی سیرتِ مبارکہ کی سب سے نمایاں صفتِ ثابتہ ہے اور یہ تین صورتوں میں ظاہر ہوئی:
پہلی یہ کہ آپ کی ذاتِ مبارکہ اور اخلاق میں “رحمت“ سرایت کیے ہوئے تھی؛ دوسری یہ کہ آپ کی شریعت کے سارے احکام میں رحمت شامل ہے۔تیسری یہ کہ آپؐ کی لاثانی قیادت رحمة للعالمینی کے جوہر سے تشکیل پائی تھی ۔ نبئ الرحمہ ﷺ کے ماڈل میں قوت کے ہتھیار و اَسْلِحَہ کی شانِ رحمت اس روایت میں بہت خوبصورتی سے واضح ہوتی ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
جب میں نے رسول اللہ ﷺ کا اَسْلِحَہ تلاش کیا تو دیکھا کہ آپؐ کی ایک تلوار پر لکھا تھا:
اُعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكْ، وَصِلْ مَنْ قَطَعَكْ، وَأَحْسِنْ إِلَىٰ مَنْ أَسَاءَ إِلَیكَ، وَقُلِ الْحَقَّ وَلَوْ عَلَى نَفْسِكَ
”جو تجھ پر ظلم کرے، اسے معاف کر دو۔ جو تجھ سے تعلق توڑے، اس سے رشتہ جوڑو۔ جو تیرے ساتھ برائی کرے، اس کے ساتھ بھلائی کرو۔ اور سچ بولو، خواہ وہ تمہارے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔“
یہ تلوار پر کُندہ تھا — وہ تلوار جو جنگ کے لیے اٹھائی جاتی تھی، اس پر ان الفاظ کا نقش ہونا — سبحان اللہ!
بڑی حیرت اور تعجب کا مقام ہے ! یہ عبارت جنگی ہتھیار پر کندہ تھی مگر اس میں جنگ سے متعلق ایک حرف بھی نہیں! بلکہ یہ تو وہ روحانی و اخلاقی پیغام ہے جو اسلام کی اصل پہچان ہے۔ یہ اُس عظیم عسکری قائد کی تلوار پر منقش کلمات ہیں جس نے انسانیت کو “ فتح مبین” سے آشنا کیا ۔ رسولِ اکرم ﷺ کا جوہرِ امتیاز ایک ایسی رحمت ہے جس کی کارفرمائی عام حالت میں ہی نہیں بلکہ جنگ وجدال جیسے شدید معرکوں میں بھی جاری و ساری رہی ۔ یہ دراصل ایمان کے سب سے مشکل پہلوؤں کی بات ہے — یہ سنتِ نبوی کے سب سے چیلنجنگ پہلوؤں کا معاملہ ہے ۔ دراصل رسول ﷺ ایک ایسا پیغام لے کر آئے جو اپنے ساتھ بڑے چیلنج اور اثرات لے کر آیا۔ یہ پیغام محض ایک فکری نظریہ نہیں، بلکہ عملی تقاضوں اور انقلابی تبدیلیوں کا دعوت نامہ ہے۔ یہ سچائی کا پیغام ہے اور سچائی کے تقاضے ہوتے ہیں — اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی طرزِ زندگی بدلنی پڑے گی، کچھ احکام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ جی ہاں، شریعت کے احکام، عبادات، توحید کا پیغام، رسول اللہ ﷺ کی سنت — وہ جو ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی — یہ سب دین کے حصے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم ان تعلیمات کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتے ہیں — یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارا ایمان آزمایا جاتا ہے۔ اور یہی وہ کلمات تھے جو نبی اکرم ﷺ کی تلوار پر کندہ تھے۔ تصور کیجیے — جب آپؐ کی تلوار پر یہ لکھا ہو تو آپؐ کے دل کے اندر کیا درج ہوگا؟ رحمةا للعالین۔
یہ نقش خود ساختہ نہیں تھا بلکہ اُس ہستی کے فرمانِ برحق کا نتیجہ تھا جو رحمت کا خالق ہے، جو رحمت کا مصدرِ مطلق ہے، جس کی ذاتی پہچان ہی رحمت ہے، جو خود الرحمن الرحیم ہے —— وہ رب العالمین جس کی رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے، وہ مالکِ حقیقی جس نے رحمت اپنے اوپر لازم کر لی ہے، جو ہر رحمت کا حقیقی سرچشمہ ہے— اسی خدائے رحمان کا فرمان ہے: ”وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِینَ“ (الأنبیاء: 107)
”اور ہم نے آپ کو (اے محمد ) تمام جہانوں کے لیے سراسر رحمت بنا کر بھیجا۔ “
جب ہم دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان الفاظ کو اپنی زندگی میں کیسے برتا، تو ذہن حیران رہ جاتا ہے۔
آپؐ کے ہمدم اور چچا حضرت حمزہؓ کو شہید کر کے ان کا کلیجہ چبایا گیا، لیکن جب مجرم زیرِ دام آیا تو نبی ﷺ نے انصاف و انتقام کے بجائے کمالِ رحمت اور عفو و درگزر کا مظاہرہ کیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو آپؐ نے جانی دشمنوں تک کو معاف کر دیا — بلکہ انہیں ان کے مناصب پر بھی باقی رکھا تاکہ تالیف ِ قلبی سے ان کی اصلاح و تربیت کی راہ ہموار ہو۔ ذرا سوچیے، نبی ﷺ ان جذبات و احساسات کے داخلی معرکوں سے کیسے نبرد آزما ہوئے! کیسے آپؐ نے ان تمام زخموں، دشمنیوں اور خیانتوں کے باوجود دل کو پاک رکھا؟ کیسے نبی ﷺ نے غصہ، انتقام، قبائلی برتری — ان سب سے اپنے دل کو بچا لیا !
یہ “رحمت“ ہی تھی …… “رحمت للعالمین “ کی رحمت! یہ محض ایک جذباتی صفت نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت اصولِ زندگی، نہیں بلکہ روحِ زندگی ہے، جو ذاتی، اجتماعی، قانونی، جنگی اور سیاسی تمام پہلوؤں پر غالب ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: “إنما بُعثتُ لأُتمِّمَ مكارمَ الأخلاقِ“ (موطا امام مالک، مسند احمد)
“مجھے تو اس لیے بھیجا گیا کہ میں اخلاق کی تکمیل کروں“ ۔ تکمیلِ اخلاق کیا ہے؟
“تکمیلِ اخلاق“سے مراد ہے اخلاقی خوبیوں کا اعلیٰ ترین درجہ، یعنی انسان کے اندر وہ اوصاف پیدا ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمالیہ کا پرتو ہوں۔ یہی مفہوم ہے اس قول: “تخلّقوا بأخلاقِ الله“کا یعنی “اللہ کے اخلاق کو اپناؤ“ — ظاہر ہے کہ مخلوق بندہ خالق کا ہمسر نہیں ہو سکتا، لیکن وہ اللہ کی صفاتِ رحمت، عفو، حلم، سخاوت، کرم وغیرہ کو بشریت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی زندگی میں مجسم کر سکتا ہے اور یہی ہے تکمیلِ اخلاق۔
تکمیلِ اخلاق — یعنی رحمتِ مجسم : آپؐ نے جن اعلٰی اخلاقی خوبیوں کی تکمیل کی وہ سب دراصل رحمتِ الٰہی کے مظاہر ہیں، ایسی رحمت جو زمانی حد بندیوں سے آزاد اور دو نوں جہانوں پر محیط ہے۔ تکمیلِ اخلاق کا مطلب ہے “انسان میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو جائیں جو اُسے اللہ کی رحمت کا آئینہ دار بنا دیں۔“
اور یہی ہے نبی کریم ﷺ کا اصل مشن — انسان کو اخلاق کے اس درجے تک پہنچانا جہاں وہ خالق کے اخلاق یعنی رحمتِ الٰہیہ کا مظہر بن سکے۔
“رحمت – اظہارِ دین کی تلوار“ ایک نہایت عمیق اور علامتی تعبیر ہے، جو اسلام کے تصورِ قوت کو “رحمت“کے پیراڈائم میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دین کو غلبے اور جبر کی تلوار سے نہیں، بلکہ رحمت اور خیر کے اظہار سے غالب کیا جاتا ہے۔ جس طرح تلوار دشمنی کا خاتمہ کر کے فیصلہ کن نتیجہ پیدا کرتی ہے، اسی طرح رحمت دلوں کو فتح کر کے فکری و اخلاقی سطح پر ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے۔ تلوار جامد نہیں رہتی، بلکہ چلتی ہے۔ اسی طرح رحمت بھی محض جامد تصور نہیں ہے بلکہ ایک فعال اور انقلابی قوت ہے جو فرد اور معاشرے کو بدل دیتی ہے۔ “قوتِ رحمت“ دلوں کے قلعے فتح کرتی ہے۔ جبر سے حاصل ہونے والی اطاعت عارضی اور کراہیت والی ہوتی ہے، لیکن رحمت سے جنم لینے والی اطاعت پائیدار اور رضاکارانہ ہوتی ہے۔ قرآن نے نبی ﷺ کی بعثت کو “رحمت للعالمین“ کہا، جو اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام کا حقیقی غلبہ صرف رحمت کے ظہور سے ممکن ہے، نہ کہ مادی جبر سے۔ اقامتِ دین کا مطلب معاشرے پر حکم چلانا نہیں بلکہ رحمت کے اصولوں کو ظاہر کرنا ہے۔ اس “تلوار“ کا وار دلوں پر ہوتا ہے اور یہ معاشرتی بگاڑ کو ختم کر کے انسانی فطرت کو اس کی اصل طرف لوٹا دیتی ہے۔ کلیدی نکتہ یہی ہے کہ رحمت، اسلام کی فیصلہ کن قوت ہے — یہی “اظہارِ دین کی تلوار“ہے، جو عقل کو قانع، دل کو مسخر اور معاشرے کو عادلانہ و مہربان نظم میں بدل دیتی ہے۔ (جاری)
حواشی:
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ مخزومیہ خاتون (فاطمہ بنت اسود) جس نے (غزوہ فتح کے موقع پر) چوری کر لی تھی، اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کون کرے! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے اسامہ! کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا (جس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ [صحیح البخاری/كتاب أحادیث الأنبیاء/حدیث: 3475]







