قرآن کا پیغام: مقامیت سے آفاقیت تک

(نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ مکی دور میں جب آخری پیغمبرؐ مکہ کے لوگوں سے اپنی دعوت کا آغاز کررہے تھے، مکی سورتوں میں متعدد بار یہ اعلان کیا گیا کہ یہ دعوت تمام جہان والوں کے لیے ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مکہ میں بار بار یہ اعلان ہوا کہ رسول ساری انسانیت کے لیے ہے اور مدینہ میں بار بار یہ اعلان ہوا کہ رسول کی تیار کردہ امت ساری انسانیت کے لیے ہے۔)

دوسرے تمام رسولوں کی طرح اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ بھی اپنے علاقے اور اپنی قوم میں مبعوث ہوئے۔ اللہ کی سنت کے مطابق اسی علاقے اور قوم کی زبان میں آپ کو کتابِ الٰہی دی گئی۔ سابقہ رسولوں کی طرح آپ بھی اپنی قوم میں صادق اور امین کی حیثیت سے معروف تھے۔ ہر رسول کی طرح آپ نے بھی اپنی قوم کو مخاطب کیا اور دین کی دعوت دی۔ آپ نے بھی اپنی قوم کو ان تاریخی اور جغرافیائی حوالوں سے سمجھانے کی کوشش کی جن سے وہ متعارف تھی۔ آپ نے بھی اپنی قوم کی طرف سے آنے والے سوالوں کو ایڈریس کیا اور اپنی قوم کی مخالفت اور تکذیب کا سامنا کیا۔ اسے ہم مقامیت کہہ سکتے ہیں۔ یعنی نبوت کا مقامی پہلو۔ مقامیت کا یہ پہلو نہ صرف سیرت میں موجود ہے بلکہ خود قرآن مجید کی بہت سی آیتیں مقامیت کے اس پہلو کی ترجمانی کرتی ہیں۔ آخری رسول کے اپنی قوم کے ساتھ مکالمے پورے قرآن مجید میں جا بجا نظر آتے ہیں۔

قرآن مجید میں یہ صراحت بار بار آئی ہے کہ اپنی قوم کو خبر دار کرنا آخری رسول کی بعثت کا اہم مقصد اور اولین کام تھا۔

درج ذیل آیتیں ملاحظہ فرمائیں:

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أُنْذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ [یس:6]

(تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں)

اسی مضمون کی درج ذیل آیتیں بھی ہیں:

[القصص:46]، [السجدة:3]

وَكَذَلِكَ أَوْحَینَا إِلَیكَ قُرْآنًا عَرَبِیا لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا. [الشورى:7]

(ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو)

ان آیتوں میں مکہ اور اطراف مکہ میں بسنے والی قوم کو خبردار کرنے کی بات کہی گئی ہے، ظاہر ہے کہ آپ نے زندگی بھر یہ کام کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا ہرگز درست نہیں ہے کہ آپ کی دعوت صرف آپ کی قوم کے لیے تھی۔ آپ نے دعوتی کام ایک خطے میں ضرور کیا مگر دعوت پوری دنیا اور رہتی دنیا تک کے لیے پیش کی۔

بعض آیتوں میں یا قوم اور قومك کی تعبیریں بھی آئی ہیں۔

وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَیكُمْ بِوَكِیلٍ [الأنعام:66]

(تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر داروغہ نہیں بنایا گیا ہوں)

تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَیبِ نُوحِیهَا إِلَیكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا [هود:49]

(اے محمدؐ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم)

وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یصِدُّونَ [الزخرف:57]

(اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے)

قُلْ یا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّی عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [الزمر:39]، [الأنعام:135]

(کہہ دو کہ اے قوم تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا)

ان آیتوں میں اس قوم کے رویے کا بیان ہے، جس قوم کو آپ خبردار کررہے تھے۔ لیکن ان آیتوں میں کہیں یہ نہیں ہے کہ آپ کی دعوت صرف اس قوم کے لیے تھی۔

مقامی نقطہ آغاز اور آفاقی دعوت

مقامیت کا پہلو ایک حقیقت ہے، جس کا انکار نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آخری پیغمبر کی دعوت مقام اور قوم تک محدود نہ تھی بلکہ رہتی دنیا تک کے سارے انسانوں کے لیے تھی۔ قرآن مجید میں اس آفاقیت کی صریح الفاظ میں بخوبی وضاحت کردی گئی۔ کچھ آیتیں ملاحظہ فرمائیں:

وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِیدًا [النساء:79]

(اے محمدؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اوراس پر خدا کی گواہی کافی ہے)

قُلْ یاأَیهَا النَّاسُ إِنِّی رَسُولُ اللَّهِ إِلَیكُمْ جَمِیعًا الَّذِی لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  [الأعراف:158]

(اے محمدؐ، کہو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے)

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِیرًا وَنَذِیرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا یعْلَمُونَ [سبأ:28]

(اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں)

پہلی آیت میں الناس کہا، دوسری آیت میں الناس کے ساتھ جمیعًا کہا اور تیسری آیت میں کافة کہا۔

آپ کوتمام انسانوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ تعبیر قرآن مجید میں کسی اور رسول کے بارے میں نہیں آئی ہے۔ یہ صرف حضرت محمد ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔

اسی طرح قرآن مجید کے بارے میں ایک تعبیر متعدد بار آئی ہے جو اس کی آفاقیت پر کھلی دلالت کرتی ہے۔ العالمین کی تعبیر۔ یہ تعبیر بھی کسی اور کتاب کے بارے میں نہیں آئی ہے۔

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِینَ [ص:87]

(یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے)

[القلم:52]، [التكویر:27]، [یوسف:104]، [الأنعام:90]

آخری پیغمبر کے بارے میں بھی العالمین کی یہ تعبیر خصوصیت کے ساتھ آئی ہے۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ [الأنبیاء:107]

(اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے)

العالمین کی تعبیر آفاقیت پر طاقت ور طریقے سے دلالت کرتی ہے۔ اس کی معنویت کا اندازہ کرنے کے لیے رب العالمین کی تعبیر کو سامنے رکھنا چاہیے جو قرآن میں بار بار آئی ہے۔

آفاقیت کا یہ پہلو صرف قرآن میں نہیں ہے، اللہ کے رسول کی سیرت میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

آخری رسالت اور سابقہ رسالتوں میں فرق

دیگر رسولوں اور آخری رسول کے درمیان یہ فرق قرآن مجید میں بہت واضح طور سے نظر آتا ہے۔ دیگر رسولوں کے یہاں مقامیت بہت واضح طور سے نظر آتی ہے، جب کہ آخری رسول کی آفاقیت کو قرآن الگ سے نمایاں کرتا ہے۔

اس کی ایک بلیغ مثال سورہ اعراف میں ہمیں ملتی ہے۔

اس سورت میں تفصیل سے ذکر ہے کہ کس قوم کے لیے کس رسول کو بھیجا گیا۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ یاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ [الأعراف: 59]

(ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو)

وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ یاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ [الأعراف: 65]

(اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اس نے کہا “اے برادران قوم،  اللہ کی بندگی کرو)

وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ یاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ [الأعراف: 73]

(اور قوم ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اس نے کہا  اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو)

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِینَ                                                                                                                                                                                                                                                                                          [الأعراف: 80]

(اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا “کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو، کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟)

وَإِلَى مَدْینَ أَخَاهُمْ شُعَیبًا قَالَ یاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ [الأعراف: 85]

(اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا “اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو)

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى بِآیاتِنَا إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَاِیهِ [الأعراف: 103]

(پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا)

ان قوموں اور ان کے رسولوں کے ذکر کے بعد اللہ کے آخری رسولﷺ سے مخاطب ہوکر کہا گیا کہ آپ اپنے آفاقی رسول ہونے کا اعلان کیجیے۔

قُلْ یاأَیهَا النَّاسُ إِنِّی رَسُولُ اللَّهِ إِلَیكُمْ جَمِیعًا الَّذِی لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  [الأعراف:158]

(اے محمدؐ، کہو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے)

اس طرح بہت واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر تمام رسولوں کی دعوت مقامی تھی، جب کہ آخری رسول کے یہاں مقامیت اور آفاقیت دونوں پہلو جمع ہوجاتے ہیں۔ دعوت کی ابتدا فطری طریقے سے مقام اور قوم سے ہوتی ہے اور پھر اس کا دائرہ پھیل کر پوری انسانیت کو سمیٹ لیتا ہے۔ اس کے اولین مخاطب ام القری (مکہ) اور اس کے گردوپیش کے علاقے بنے، لیکن اس کے حقیقی مخاطب رہتی دنیا تک کے تمام انسان ہیں۔

ایک آفاقی پیغام کے لیے یہ بالکل فطری اور معقول صورت تھی۔ وحی کے نزول کا معنی سورج کے طلوع ہونے کی طرح نہیں ہوتا ہے کہ بیک وقت پوری انسانیت پر طلوع ہوجائے۔ وحی الٰہی کے سلسلے میں اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ اس کا نزول منتخب انسان (رسول) پر ہوتا ہے۔ اور انسان کے ذریعے سے لایا ہوا پیغام انسانوں ہی کے راستے آگے بڑھتا ہے۔ رب علیم و حکیم کی جانب سے آفاقی پیغام کی ابتدا مقامی مخاطبت سے ہونا اور مقامی مخاطبت کے تمام تقاضوں کو برتنا عین علم و حکمت کے مطابق ہے۔

سورہ سبا میں ایک طرف تو آخری رسالت کی آفاقیت کا صراحت سے اعلان کیا گیا:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِیرًا وَنَذِیرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا یعْلَمُونَ [سبأ:28]

(اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں)

دوسری طرف یہ بھی کہا گیا آپ کی دعوت کی ابتدا ایک ایسی قوم سے ہوگی جس کے پاس اس پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا:

وَمَا آتَینَاهُمْ مِنْ كُتُبٍ یدْرُسُونَهَا وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَیهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَذِیرٍ [سبأ: 44]

(اور ہم نے اِن لوگوں کو نہ پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا۔)

سورہ فرقان میں پہلے تو کہا گیا کہ یہ قرآن اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تاکہ وہ ساری انسانیت کو خبردار کرے۔

تَبَارَكَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِیكُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا [الفرقان:1]

(نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو)

پھر اسی سورت میں آگے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں خبردار کرنے والا بھیجتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور ساری انسانیت کے لیے ایک خبردار کرنے والا بھیج دیا۔

وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِی كُلِّ قَرْیةٍ نَذِیرًا [الفرقان: 51]

(اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے)

وَلَكِنْ بَعَثْنَاك إلَى أَهْل الْقُرَى كُلّهَا نَذِیرًا (تفسیر الجلالین) لیکن ہم نے آپ کو تمام بستیوں کی طرف خبردار کرنے والا بناکر بھیجا۔

آخری رسول کی اولین مسلم امت

آخری رسالت کے مقامی پہلو میں ایک اور نکتہ پوشیدہ ہے۔ قرآن مجید کی آیتوں سے ختم نبوت کے سلسلے میں اللہ تعالی کی اسکیم یہ سامنے آتی ہے کہ آخری پیغمبر ایک داعی و مبلغ امت تیار کرے اور وہ امت اس پیغام کو ساری دنیا تک پہنچائے۔

جس طرح آخری پیغمبر کا آنا انسانی تاریخ کا نہایت اہم واقعہ تھا، اسی طرح اس پیغمبر کے ذریعے ایک امت کی تیاری بھی نہایت اہم کام تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا دراصل انہی دونوں چیزوں کے لیے تھی۔

وَإِذْ یرْفَعُ إِبْرَاهِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ. رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَینِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّیتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَینَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ. رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ یتْلُو عَلَیهِمْ آیاتِكَ وَیعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَیزَكِّیهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ [البقرة: 127 – 129]

(اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: ”اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے. اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے. اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔)

اس کے بعد قرآن میں تین مرتبہ اولین مسلم امت کے اسی پہلو کو بیان کیا گیا۔

كَمَا أَرْسَلْنَا فِیكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ یتْلُو عَلَیكُمْ آیاتِنَا وَیزَكِّیكُمْ وَیعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَیعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ [البقرة: 151]

(جس طرح ہم نے تم میں تمہی میں سے رسول بھیجا جو ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہاری زندگیاں سنوارتا ہے اور تمہیں کتاب وحکمت اور وه چیزیں سکھاتا ہے جن سے تم بےعلم تھے۔)

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ یتْلُو عَلَیهِمْ آیاتِهِ وَیزَكِّیهِمْ وَیعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ                                                                                                                                                                                                                                                                                                          [آل عمران: 164]

(درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔)

هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیینَ رَسُولًا مِنْهُمْ یتْلُو عَلَیهِمْ آیاتِهِ وَیزَكِّیهِمْ وَیعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ. وَآخَرِینَ مِنْهُمْ لَمَّا یلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ [الجمعة: 2 – 3]

(وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے. اور (اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔)

یہ آیتیں اللہ کے رسولﷺ کی دعوت کا پہلو بتانے کے لیے نہیں بلکہ تربیت کا پہلو بتانے کے لیے ہیں۔ اللہ کے رسول کی دعوت تو آفاقی تھی، البتہ آپ کا ایک کام اس آفاقی دعوت کے لیے ایک اہل ترین امت کو تیار کرنا تھا۔ وہ امت بلاشبہ ایک خاص زمانے اور خاص مقام میں تیار کی گئی تھی لیکن ساری انسانیت کے لیے تیار کی گئی تھی۔

قرآن مجید میں کسی رسول کے فرائض میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ اپنی امت کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ یہ فریضہ آخری پیغمبر ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ وجہ واضح ہے کہ آخری رسول کے ذریعے سے ایسی امت کی تیاری پیش نظر تھی جو دعوت و تبلیغ کے اس انبیائی مشن کو لے کر اٹھے۔

ایسی امت کی تیاری مقامی سطح پر ہی ممکن تھی۔ قرآن کی درج ذیل آیتوں سے بھی یہ بات بخوبی سامنے آتی ہے۔

وَجَاهِدُوا فِی اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیكُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِیكُمْ إِبْرَاهِیمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِینَ مِنْ قَبْلُ وَفِی هَذَا لِیكُونَ الرَّسُولُ شَهِیدًا عَلَیكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ [الحج: 78]

(اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم“ رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ)

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیكُونَ الرَّسُولُ عَلَیكُمْ شَهِیدًا. [البقرة: 143]

(اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک “امت وسط“ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو)

كُنْتُمْ خَیرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ [آل عمران: 110]

(اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو)

اسلامی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اولین مسلم امت نے اپنی اس ذمے داری کو بہتر طریقے سے ادا کیا اور دنیا کے کونے کونے تک اسلام کی دعوت کو پہنچایا۔ اللہ کے رسولﷺ کے زمانے میں جس طرح دین کی دعوت پر سب سے زیادہ توجہ تھی، آپ کے بعد بھی صحابہ کرام نے اسے اسی ارتکاز و اہتمام کے ساتھ جاری رکھا۔

آفاقی رسالت کا مقامی مرکز

اسلام ایک عالمی اور آفاقی دین ہے۔ عالمیت و آفاقیت کے باوجود اس دین کا ایک مرکزی مقام بھی ہے اور وہ خانہ کعبہ اور اس کے گرد و پیش کا علاقہ ہے۔ خانہ کعبہ کی مرکزی حیثیت آخری رسول کے عہد میں طے نہیں ہوئی بلکہ وہ آپؐ سے صدیوں پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں طے کی گئی تھی۔ خانہ کعبہ کی وجہ سے مکہ شہر کو ام القری (بستیوں کے مرکز) کی حیثیت حاصل تھی۔ خانہ کعبہ دنیا کی تمام عبادت گاہوں کا قبلہ تھا۔ آخری رسول کی ایک نشانی یہ بھی تھی کہ اس کی بعثت ام القری میں ہوگی۔ غرض آخری رسول کی بعثت سے پہلے سے یہ طے تھا کہ آخری رسول کا پیغام آفاقی ہوگا اور اس کا مرکز مکہ اور خانہ کعبہ رہے گا۔ اس حوالے سے بھی قرآن مجید میں بہت سے مقامی حوالے ملتے ہیں، لیکن وہ اسلام کو مقام میں محدود نہیں بتاتے بلکہ اس کے مرکزی مقام پر دلالت کرتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنا مسکن بنالیا تھا لیکن اس کے باوجود دین اسلام میں مرکزی مقام مکہ ہی کو حاصل رہا۔ کیوں کہ اس کی مرکزیت قدیم، ثابت اور غیر متغیر ہے۔

آفاقی رسالت اور ختم نبوت

رسالت کی آفاقیت اور ختم نبوت میں گہرا تعلق ہے۔ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اور آپ کی رسالت آفاقی ہے۔

جب تک رسولوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، ان کی دعوت مقامی رہی۔ حکیم و دانا ہستی کی طرف سے اس سلسلے کا اختتام ایک آفاقی رسالت سے ہوا۔ اس رسالت کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے لیا اور اس رسالت کی تبلیغ کی ذمے داری آخری رسول کی اس امت پر ڈالی گئی، جسے اسی کام کے لیے تیار کیا گیا۔

جو لوگ ختم نبوت کے انکاری ہیں انہیں سب سے زیادہ پریشانی قرآن کی آفاقیت اور محفوظیت سے پیش آتی ہے۔ اسی طرح جولوگ قرآن کی آفاقیت کا انکار کرتے ہیں، وہ درحقیقت ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔

مقامی اور آفاقی پہلوؤں کی ہم آہنگی

قرآنی دعوت کے دونوں پہلو یعنی مقامی اور آفاقی، قرآن مجید میں جگہ جگہ بغل گیر نظر آتے ہیں۔ ان کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ اولین مخاطب کے سمجھنے کے لیے تاریخ وجغرافیہ کے وہ حوالے دیے گئے ہیں جن سے وہ کسی قدر واقف تھے اور جو ہدایت کے اصول دیے گئے ہیں ان کی آفاقیت کا عالم یہ ہے کہ ہر دور کے لوگوں کی ہدایت کے لیے وہ پورے طور پر سازگار اور موزوں معلوم ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر سورہ فیل میں جو واقعہ ہے وہ مقامی نوعیت کا ہے لیکن اس واقعہ سے جو سبق نکلتا ہے وہ آفاقی ہے۔ سورہ قریش میں جس صورت حال کا بیان ہے وہ قریش سے تعلق رکھتی ہے لیکن جو پیغام برآمد ہوتا ہے وہ مکمل طور پر آفاقی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلم امت کے دل و دماغ میں یہ بات ہمیشہ پختہ یقین کی صورت میں رہی کہ قرآن ساری دنیا کی ہدایت کے لیے ہے اور اسلام کو ساری انسانیت کا دین ہونا چاہیے۔

اب یہ اہل اسلام کی ذمے داری ہے کہ وہ آخری رسول کو مقامی رسول کے بجائے آفاقی رسول اور آخری کتاب قرآن مجید کو مقامی کتاب کے بجائے آفاقی کتاب کی حیثیت سے پیش کریں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

قرآن کا پیغام: مقامیت سے آفاقیت تک

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223