سرورِ کائنات کا مکی عہد

ڈاکٹر تابش مہدی

رسول جن یا فرشتہ نہیں، بلکہ انسان ہوتاہے۔ وہ بالکل اُسی طرح کسی باپ کے نطفے اور ماں کے بطن سے پیدا ہوتاہے، جس طرح کہ ہم، آپ اور دنیا کے تمام دوسرے انسان پیدا ہوئے ہوتے آرہے ہیں۔ عام انسانوں کی طرح اُسے بھی آب و ہوا، غذا، لباس اور رہائش کی ضرورت پیش آتی ہے، اُسے بھی رنج و مصیبت، دُکھ، سُکھ اور صحت و بیماری وغیرہ سے سابقہ پیش آتا ہے اور وہ بھی زندگی کے ہر شعبے میںاللہ کے بنائے ہوئے قوانین اور اس کی مشیت اور ارادے کا پابند ہوتا ہے۔

رسول وہ برگزیدہ انسان ہوتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت و رہ نمائی کے لیے دنیا میںمبعوث کیا ہو۔ وہ صرف اور صرف اللہ کی طرف سے ہوتاہے۔ دنیا کاکوئی انسان خواہ کتنا ہی بڑا عالم وفاضل اورمفکر ومدبر کیوں نہ ہو،وہ اپنی کوشش یا خواہش سے نبی یا رسول نہیں بن سکتا۔ بعض بدبخت ایسے بھی دنیا میں پیداہوئے ہیں، جنھوں نے ازخود اپنی نبوت کا اعلان کردیا۔ خواب والہام کا سہارالے کر نبی، رسول، مسیح یا مہدیِ موعود بن بیٹھے۔ لیکن امت نے ایک لمحے کے لیے بھی انھیں قبول نہیں کیا۔ بل کہ اُنھیں اور اُن کے بدنصیب وکورباطن پیرووں کو متفقہ طورپر دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ اِس لیے کہ نبوت یارسالت محض عطیہ الٰہی ہے، یہ منصب اُسی کو ملا ہے، جسے اللہ نے عطا کیا ہے۔

نبی یا رسول انسانوں سے کسی نفع یا فائدے کا طالب یا خواہش مند نہیں ہوتا۔ اُس کی محنت، جدوجہد، لگن اور دعوت وتبلیغ کے کام میں صبرو استقامت، رنج وغم کی برداشت، حق پر قائم رہنے اوردوسروں کو حق پر لانے کاکام اللہ کے حکم سے، اللہ کے لیے اور اللہ کے بندوں کی فلاح و کام رانی کے لیے ہوتاہے اور یہ سب کچھ اللہ کی دی ہوئی ہدایت اور رہ نمائی کی روشنی میں ہوتا ہے۔اپنی مرضی سے وہ کچھ نہیں کرتا۔

رسول کا علم استادوں، مدرسوں، مکتبوں یا کتابوں کا احسان مند نہیں ہوتا۔ اسے مشیت الٰہی کے علاوہ کسی ذریعے یا وسیلے کی ضرورت نہیں ہوتی، اُسے علم لدنی حاصل ہوتاہے، وہ علم الٰہی کا امین ہوتاہے، اس کی زبان پر وہی آتاہے، جو اس کا رب چاہتا ہے۔ بل کہ اُس کا ہر قول و فعل اللہ کے احکام وقوانین کی توضیح و تشریح بن جاتا ہے۔

جب ہم تاریخ کامطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں طرح طرح کے عظیم و نام ور رہ نما اورمصلحین نظرآتے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے کارنامے ہیں اور اپنی اپنی شناخت ہے۔ لیکن انبیاء  و رُسل کے علاوہ ایک شخصیت بھی ایسی نظر نہیں آتی، جس نے انسانوں کی پوری اجتماعیت کو اندر سے بدل دیا ہو۔ رسولِ کائنات احمد مجتبیٰ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ آپﷺ  نے اپنی دعوت سے انسانوں کی پوری اجتماعیت کو اندر سے بدل دیا اور ’صبغۃ اللہ‘ کا ایک ہی رنگ مسجد سے لے کر بازار تک ، مدرسے سے لے کر عدالت تک اور گھروں سے لے کر میدانِ جنگ تک چھاگیا۔ ذہن بدل گئے، خیالات میں انقلاب آگئے، دیکھنے کا زاویہ بدل گیا، سوچنے کاانداز بدل گیا، عادات واطوار میں تبدیلی آئی۔ غرض کہ زندگی کے ہر شعبے کی کایا پلٹ گئی۔

رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ایسے حالات میں ہوا، جب پوری انسانی دنیا ظلمتوں اور تاریکیوں کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مصر، ہند، بابل، نینوا، یونان اور چین میں انسانی تہذیب و تمدن کا چراغ گل ہوچکاتھا۔ لے دے کے روم اور فارس میں تہذیبی عظمت کے قمقمے جہاں تہاں ٹمٹمارہے تھے۔ خود عرب کی صورتِ حال اچھی نہیں تھی۔روز بہ روز بد سے بد تر ہوتی جارہی تھی۔ وہاں عاد و ثمود کے ادوار اورسبا، عدن اور یمن کے سایے میں تہذیب و تمدن کی جو روشنی کبھی نمودار ہوئی تھی، اسے بھی گل ہوئے ایک زمانہ بیت چکاتھا۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر انقلاب کی حیثیت سے یکّہ وتنہا اُٹھے۔ ایسے نیک اور حساس لوگ تو دنیا میں لاتعداد پیداہوئے، جنھیں بدی سے نفرت تھی،اور وہ سماج اور معاشرے سے بدی کو دور کرنے کا جذبہ بھی رکھتے تھے، لیکن بدی سے برسرپیکار یا دست و گریباں ہونے کی ہمت اُن میں نہیں تھی۔ وہ اپنی جان وایمان کے تحفظ و سلامتی کے لیے پورے ماحول سے کنارہ کش ہوکر غاروں اور کھوہوں میں جوگی اور راہب بن کر پناہ گزیں ہوگئے اور پوری عمر اِسی حال میں گزاردی۔ مگر رسولِ کائناتﷺ  کو زندگی کایہ رویہ قطعی گوارا نہیں تھا۔ وہ اپنی ہی عافیت اور بھلائی کے خواہاں نہیں تھے۔ بل کہ تمام انسانوں کی جان وایمان کا تحفظ اور زندگی کے ہر میدان میں اُن کی فلاح وکام رانی اُن کے پیش نظر تھی۔ انسانیت کی نیّا کو طوفانی موجوں میں ہچکولے کھاتے چھوڑکر محض اپنی جان یا ایمان کا تحفظ و سلامتی اُن کامطمح نظر کبھی نہیں رہا۔ آپﷺ  نے بدی کے ہلاکت خیز طوفانوں سے نبرد آزما ہوکر ساری اولادِ آدم کے لیے نجات و فلاح کا راستا ہم وار کیا اور تہذیب و تمدن کی کشتی کی پتوار سنبھالی۔ پھر اسے ساحلِ مراد کی طرف رواں کردیا۔

رسول کائناتﷺ  نے انسانوں کی اصلاح و تعمیر کاکام یوں ہی کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہوکر نہیں شروع کردیا۔ بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا اور منصوبہ بند کام تھا۔آپ نے مدتوں غارِ حرا کی تنہائیوں میں غورو فکر کیا اور اپنا اور اپنے گردو پیش کے حالات کا مطالعہ کیا۔ لیکن کوئی عملی قدم اُس وقت تک نہیںاُٹھایا، جب تک کہ وحی الٰہی سے آپ کاقلب منور نہیں ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کو منکشف نہیں کردیا۔ پوری کائنات کا خالق، حاکم اور مالک صرف ایک اللہ ہے، دنیا کے تمام انسان اس کے بندے ہیں، سب کو اُسی ایک اللہ کی عبادت اور بندگی کرنی چاہیے، اُسی کو حقیقی حاکم، فرماں روا اور سب کاملک و مختار سمجھنا چاہیے اور اسی کی خوش نودی کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ یہی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور سچائی ہے۔ لاالہ الااللہ میں یہی پیغام ہے۔ عرب پر یہ بات کامل طورپر واضح ہوگئی تھی کہ محمد،’ لاالہ الااللہ‘کہہ کر ہمیں کس بات کی دعوت دے رہے ہیں اور ہمارے اندر کس قسم کی تبدیلی لاناچاہتے ہیں۔

رسولِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے معزز قبیلے بنی ہاشم میں ۹/﴿بعض روایات کے مطابق۲۱/﴾ربیع الاول قمری کو پیر کے دن صبح صادق کے وقت پیداہوئے۔ یہ نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا۔ ولادت کے بعد آپﷺ  کی والدہ حضرتِ آمنہ نے آپ کے دادا جناب عبدالمطلب کوپوتے کی خوش خبری سنائی۔ والد محترم عبداللہ ولادت سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ پوتے کی ولادت کی خبر عبدالمطلب کے لیے بے پناہ فرحت و شادمانی کی خبر تھی۔ لختِ جگر عبداللہ کی جواں مرگی سے عبدالمطلب کے دل پر جو کاری زخم لگاتھا،اس کے اِندمال کی بہترین صورت پیدا ہوگئی ۔ عبدالمطلب پوتے کو خانۂ کعبہ میں لے گئے، درازیِ عمر و بلندیِ درجات کی دعا کی، اللہ کاشکر ادا کیا اور ’’محمد‘‘ نام رکھا۔ پھر عرب کے دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کرادیا۔

عرب کے شہری باشندے اپنے بچوں کو اِس غرض سے شہر سے دور بدوی عورتوں کے حوالے کردیتے تھے۔ تاکہ انھیں دیہات کی صاف و تازہ ہوا ملے اور ان کے جسم اور اعصاب مضبوط و توانا ہوجائیں۔ آپ نے ماں کے بعد سب سے پہلے ثویبہ کا دودھ پیا۔ اس کے بعد عبدالمطلب نے انھیں حلیمہ سعدیہ کے حوالے کردیا۔ حلیمہ بنت ابی ذویب، قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون تھیں۔ اُن کے شوہر حارث بن عبدالعزی بھی قبیلہ بنی سعد سے تعلق رکھتے تھے۔ حلیمہ سعدیہ نے بڑی محبت سے آپ کو دودھ پلایا، پالا پوسا اور ابتدائی تربیت کی۔ دوسال پورے ہوجانے پر حلیمہ نے دودھ چھڑادیا۔ لیکن حلیمہ نے حضرت آمنہ کی اجازت سے دودھ چھڑانے کے بعد بھی تقریباً دو سال محمد کو اپنے ہاں رکھا اور انھیں اچھی سے اچھی اور مفید غذا بہم پہنچاتی رہیں۔

ابھی آپ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ عمر کے چوتھے سال میں داخل ہوئے تھے کہ آپ کے ساتھ شقِّ صدر کا واقعہ پیش آیا۔ وہ اس طرح کہ ایک دن آپﷺ  بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، حضرت جبریل ؑ  آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑکر زمین پر گرادیا، آپ کے سینے کو چاک کیا، دل کونکالا، پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا: ’یہ شیطان کا حصہ ہے۔‘ دل کو طشت میں رکھ کر اُسے زم زم کے پانی سے دھویا اور پھر اُسے اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ آپ کے ساتھ کھیلنے والے بچے یہ سب دیکھ کر سخت حیرت اور گھبراہٹ کے عالم میں دوڑے ہوئے حلیمہ کے پاس پہنچے اور اُنھیں پوری کہانی سنائی۔ پورے محلے میں شور ہوگیاکہ محمد کو ایک اجنبی نے قتل کردیا۔ تھوڑی دیر میں محمد بھی پہنچ گئے۔ آپ اِس واقعے سے کافی متاثر تھے، چہرے کا رنگ بھی بدلاہواتھا۔ حلیمہ بے حد متاثر ہوئیں۔ ان کو اس واقعے کے بعد محمد کے بارے میں خطرہ محسوس ہونے لگا، اُنھوں نے آپ کو آپﷺ  کی ماں کے سپرد کردیا۔ پھر آپ چھے سال کی عمر تک اپنی والدۂ محترمہ ہی کی آغوشِ شفقت میں رہے۔ اِسی دوران میں آمنہ کے دل میں خواہش پیداہوئی کہ وہ ’یثرب‘ ﴿مدینہ﴾ جاکراپنے محبوب متوفّیٰ شوہر عبداللہ کی تربت کی زیارت کریں۔ چناںچہ وہ اپنے یتیم بیٹے محمد کو لے کر اپنی خادمہ ام ایمن اور سرپرست و خسر عبدالمطّلب کی معیت میں یثرب تشریف لے گئیں۔ وہاں تقریباً ایک مہینا قیام کیا، پھر واپس ہوئیں۔ لیکن ابھی وہ کچھ ہی دور چلی تھیں کہ بیمار پڑگئیں۔ اس بیماری نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ابوا میں اُن کا انتقال ہوگیا۔

آمنہ کی وفات کے بعد عبدالمطلب نے اپنے یتیم ویسیر پوتے کی پرورش کی۔ لیکن ابھی ماں کو گزرے دو ہی برس ہوئے تھے کہ دادا بھی چل بسے۔ دادا کے انتقال کے بعد آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی سرپرستی فرمائی۔ عبدالمطلب نے مرتے وقت اپنے بیٹے ابوطالب کو وصیت کی تھی کہ’محمد کا خیال رکھنا، انھیں کوئی تکلیف نہ پہنچنے پائے۔‘ ابوطالب نے باپ کی وصیت کا حق ادا کردیا۔ بھتیجے کو بڑی عزت سے رکھا، ہمیشہ ساتھ رکھتے، کہیں جاتے تو ساتھ لے جاتے۔ محمد کے آگے اُنھیں نہ اپنی فکر تھی اور نہ اپنے بچوں کی۔

رسولِ کائناتﷺ  ابھی عمر کے پندرہویں سال میں داخل ہوئے تھے کہ قریش اور قیس عیلان کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ چوں کہ اس جنگ میں حرم اور حرام مہینے دونوں کی حرمت چاک کی گئی تھی، اس لیے تاریخ میں اس جنگ کو ’جنگ فجار‘کے نام سے موسوم کیاگیاہے۔ آپﷺ  نے بھی اِس جنگ میں اپنے چچا کے ساتھ شرکت کی، اپنے چچا ابوطالب کو تیرتھمانے کا کام بھی انجام دیا۔ لیکن اپنی فطری اور طبعی شرافت و نرم خوئی کے باعث آپﷺ  نے کسی پر خود ہاتھ نہیں اُٹھایا۔

آئے دن کی باہمی جنگوں اور حربِ فجار سے عرب کا امن و سکون غارت ہوچکاتھا۔ معیشت بھی تباہ ہوچکی تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر جنگ وجدال اور قتل و غارت گری کی نوبت آجاتی تھی اور انتقام در انتقام کا یہ سلسلہ نسلوں تک جاری رہتاتھا۔ بے قصور کم زوروں کو زبردست اورطاقت ور قبائل اور اُن کے سردار انسانیت سوز مظالم کاشکار بناتے تھے۔ اس لیے امن و سلامتی اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک اصلاحی تحریک چلائی گئی۔ اس اصلاحی تحریک کی ابتدائی شکل ایک انجمن کی تھی۔ انجمن کے مقاصد میں بدامنی کے خاتمے، مسافروں کے تحفظ، ناداروں کی پُشت پناہی اور ظلم وستم کے انسداد کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔ اس تحریک اور معاہدے کے روحِ رواں ’فضل‘ نام کے تین افراد تھے۔ اسی لیے اس معاہدے کو تاریخ میں ’حلف الفضول‘ کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ انجمن کی اس سرگرمی میں انسانیت کے دردمندو بہی خواہ کی حیثیت سے ﴿حضرت﴾ محمد ﷺ نے بھی اپنے عہدِ جوانی میں حصہ لیا اور بعثت کے بعد بھی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر اب بھی کوئی مجھے اس انجمن کے نام سے اُنھی مقاصد کے لیے بلائے، جن کے لیے اس کا قیام عمل میں آیاتھا تو میں اس کی مدد اور تعاون کو اپنا اوّلین فریضہ تصور کروںگا۔ اس واقعے سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ کوئی انسان خواہ کسی بھی جماعت، تنظیم یا تحریک سے جڑا ہوا ہو، عام انسانوں کی فلاح و بہبود اور اُن کے مفاد میں جو بھی کام ہورہاہو، اس میں تعاون دینا چاہیے۔ اس سلسلے میں جماعتی مصالح کو دیوار بناکر خاموشی یا بے تعلقی کی روش اختیار کرنا اعلیٰ اخلاقی وانسانی قدروں سے ہرگز میل نہیں کھاتا۔

رسولِ کائنات﴿ﷺ﴾ کی پوری زندگی محنت،جدوجہد اور جفاکشی سے عبارت ہے۔ عنفوان شباب میں آپ نے بکریاں چرائیں، بنوسعد کی بکریاں چَرائیں اور مکے کے بعض دوسرے قبیلوں کی بھی۔ اِس دوران میں آپ کی دیانت، امانت اور نیک چلنی کے تذکرے اکثر زبانوں پر آتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کی مشہور، معزز اور مال دار خاتون خدیجہ نے اپنے مال کی تجارت کے لیے آپﷺ  سے رابطہ قائم کیا اور کافی سامان تجارت دے کر آپﷺ  کو شام روانہ کیا۔ جب آپﷺ  شام سے مکے واپس ہوئے تو خدیجہ کو اتنافائدہ ہواکہ وہ آپ سے بے حد متاثر ہوئیں۔ اس لیے کہ انھوں نے اپنے مال میں ایسی برکت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ خدیجہ کا غلام میسرہ بھی شام کے سفر میں آپ کے ہم راہ تھا۔ وہ آپﷺ  کی امانت و دیانت، اخلاق و کردار اور اندازِ فکر سے بہت متاثر تھا۔ اس نے بھی آپﷺ  کے حسنِ اخلاق، معاملہ فہمی اور طرزِگفتار تمام تفصیلات خدیجہ کو سنائیں۔ خدیجہ کو ایسا محسوس ہواکہ اُن کا گوہر مطلوب اُنھیں دست یاب ہوگیا۔ عرب کے بڑے بڑے سرداروں اور رئیسوں نے اُن سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی ان لیکن کے پیام کو انھوں نے قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ خدیجہ کے دل میں یہ خواہش موج زن ہوئی کہ وہ محمد کی زوجیت میں آجائیں۔ انھوں نے اپنے دل کی بات اپنی سہیلی نفیسہ بنت منبہ سے کہی۔ نفیسہ نے جاکر آپﷺ  سے گفت وشنید کی۔ آپ راضی ہوگئے اور اپنے چچاؤں کے سامنے بات رکھی۔ اُنھوں نے خدیجہ کے چچا کے سامنے بات رکھی اور شادی کا پیام دیا۔ دونوں طرف سے رضامندی کے بعد شادی ہوگئی۔ اس وقت آپ کی عمر پچیس برس تھی اور خدیجہ کی چالیس برس۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں، وہ شرک، کفر، بت پرستی اور رسوم وتوہمات کاماحول تھا، ذہن وفکر کی تاریکی محمد کے لیے سخت تشویش ناک اور پریشان کن تھی۔ آپﷺ  ایک ایک عمل اور ایک فعل کاجائزہ لیتے تھے اور سوچتے تھے کہ یہ کیا اور کیوں ہورہاہے۔ دیر تک اِسی عالم خیال میں ڈوبے رہتے تھے کہ کس کی راہ درست ہے اور کس کی نادرست، کون حق پر ہے اور کون باطل پر اور حق کیاہے یا کہاں ہے؟ وغیرہ۔ لڑکپن کا زمانہ کھیل تماشے کا ہوتاہے، لیکن آپ کو کھیل تماشے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ بے کار باتوں اور فضول کاموں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہمیشہ حق کی تلاش اور اس کی تبلیغ واشاعت کی دھن رہتی تھی۔

آپ کے بچپن کا ایک بڑا بصیرت افروز واقعہ ہے: کعبے کی دیواریں بن رہی تھیں۔ بچے خوشی خوشی پتھر ڈھورہے تھے تاکہ کعبے کی دیوار اُٹھانے والوں میں اُن کا بھی نام آجائے۔ ڈھوتے ڈھوتے تھک گئے تو بچوں نے اپنے تہہ بند اتارکر کندھوں پر رکھ لیے، تاکہ پتھر کندھوں پر رکھنے میں سہولت رہے۔ اس عمل سے بچوں کو بڑا آرام ملا۔ اب انھوںن ے مزید ذوق و شوق کے ساتھ پتھر ڈھونے شروع کردیے۔ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ بھی اُن پتھر ڈھونے والوں میں تھے۔ آپ کے چچا نے کہا: محمد! دیکھو، ان بچوں نے اپنے تہہ بند اپنے کندھوں پر رکھ لیے، اس سے انھیں آرام مل رہاہے۔ یہ بڑی آسانی سے پتھر ڈھورہے ہیں۔ تم بھی اپنا تہہ بند کھول کر اپنے کندھوں پر رکھ لو۔ ابھی تم بچے ہو۔ چچا کے کہنے سے آپ نے بھی اپنا تہہ بند اپنے کندھوں پر رکھنے کاارادہ کرلیا۔ لیکن آپ عام بچوں کی طرح نہ تھے۔ ان سے یکسر مختلف تھے۔ آپ کو مستقبل کا شرم وحیا کا معلّم و مبلغ ہوناتھا۔ چناںچہ آپﷺ  نے جوں ہی تہہ بند کھولنے کا ارادہ کیا، وفورِ غیرت سے بے ہوش ہوکر گرپڑے۔

آپﷺ  کا بچپن بھی عام بچوں سے مختلف تھا اور جوانی بھی سب سے جداگانہ تھی۔ آپ ہر وقت انسانوں کی فلاح اوربھلائی کی فکر میں رہتے تھے، ان کی اصلاح و تعمیر کی تدبیریں سوچتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی عرب کے مشہور بازار عکاظ، مجنہ اور ذی الحجاز جاتے۔ یہ بازار کیا، انسانوں کا سمندر ہوتے تھے۔ طرح طرح کے لوگ وہاں آتے تھے، ہر بازار نہایت ہماہمی اور چہل پہل کا ہوتا تھا۔ آدمیوں کے اِس ہجوم میںایک دوسرے کو بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا بھرپور موقع ملتاتھا۔ ایک دوسرے کے عقائد و نظریات بھی سامنے آتے تھے۔ ذہن وفکر کے مختلف زاویوں کو بھی جاننے میں مدد ملتی تھی۔ ان بازاروں میں شعرو سخن کی محفلیں بھی آراستہ ہوتی تھیں، جہاں پرشعرا اور سخن ور اپنے اسلوبِ سخن وری کے جوہر دکھاتے تھے، خطابات اور تقریروں کا سلسلہ رہتاتھا، مقررین اور خطبا اپنی خطابت و طلاقتِ لسانی کی داد حاصل کرتے تھے اور اپنے اپنے نظریہ و فکر کی ترویج و تبلیغ میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے تھے۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو دیکھتے، ان کامشاہدہ بھی کرتے تھے اور خود بھی فکرو خیال کی دنیا میں سیرکرتے رہتے تھے۔ جب تنہائی میں بیٹھتے تو ہر بات کا تجزیہ کرتے، حق و باطل اورخیرو شر کے درمیان خطِّ امتیازکھینچتے، جو بات صحیح معلوم ہوتی، اُسے ذہن نشیں کرلیتے اور جو غلط ہوتی اُسے دور ڈال دیتے تھے۔

آپﷺ  کو شروع ہی سے باطل معبودوں سے اس درجہ نفرت تھی کہ لات وعزّیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارا نہ تھا۔ آپ اپنی قوم میں شیریں کردار، فاضلانہ اخلاق اور کریمانہ عادات و اطوار کے لیے مشہور و ممتاز تھے۔ آپ سب سے زیادہ بامروت و خوش اخلاق، سب سے زیادہ معزز ہم سایہ، سب سے بڑھ کر دور اندیش وراست گو، سب سے زیادہ پاک نفس، سب سے زیادہ پابندِ عہد اور سب سے بڑھ کر امانت دار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ  ’صادق‘ و ’امین‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔

رسولِ کائنات﴿ﷺ﴾ کی عمر کے ساتھ ساتھ قوم اور آپ کے درمیان کاذہنی و فکری فاصلہ بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ آپﷺ  تنہائی پسند ہوگئے۔ پھر یہ تنہائی پسندی گوشہ نشینی کے درجے میں آگئی۔ آپﷺ  ستّو پانی لے کر مکے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ’’حرا‘‘ نام کے ایک پہاڑ کے غار میں اوقات کا بڑا حصہ گزارنے لگے۔ کبھی کبھی آپﷺ  کی زوجۂ محترمہ حضرت خدیجہؓ بھی آپ کے ساتھ ہوجاتیں اور غارِ حرا سے قریب ہی کسی جگہ موجود رہتیں۔ رمضان بھر آپﷺ  کا وہیں قیام رہتا تھا۔ وہیں آنے جانے والے غریبوں اورمسکینوں کو کھانا کھلاتے اور باقی اوقات یادِالٰہی اور کائنات کے مظاہر ومشاہد پر غوروفکر فرماتے تھے۔ اپنی قوم کے اندرپائے جانے والے شرکیہ عقائد اور ان کے رسوم و توہمات کے سلسلے میں ہمیشہ فکرمند رہتے تھے۔ لیکن آپﷺ  کے سامنے زندگی کاکوئی ایسا صاف و واضح راستا نہ تھا، جس پر خود بھی چلتے اور اپنی قوم کو بھی اس کی دعوت دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر آپﷺ  کا وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت و رہ نمائی کی دعا مانگنے میں گزر تا تھا۔

رسول کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب عمر کی چالیس سیڑھیاں عبور کرچکے تو خواب کی صورت میں نبوت کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ آپﷺ  جو بھی خواب دیکھتے، وہ من و عن صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ یہ صورت حال چھے ماہ تک رہی۔ اس کے بعد آپﷺ  حرا کے غار میں خلوت نشیں تھے کہ سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام قرآنِ حکیم کی چند آیات لے کر آپﷺ  کے پاس آئے اور آپﷺ  کو منصبِ نبوت سے سرفراز کیا۔ یہ واقعہ رمضان المبارک کی اکیسویں شب میں پیش آیا۔

ہو ا یہ کہ غارِ حرامیں جبریلؑ  آپﷺ  کے پاس آئے اور کہا: ’اِقرأ‘ ﴿پڑھ﴾، آپﷺ  نے فرمایا: میںاَن پڑھ ہوں۔ جبریلؑ  نے دوبارہ کہا: اِقرأ ﴿پڑھ﴾، آپ نے پھر وہی جواب دیا: میں اَن پڑھ ہوں۔ جبریلؑ  نے تیسری بار پھر آپ کو پکڑکر دبوچا اور چھوڑکر کہا:

اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ  خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ  اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ  الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ

’پڑھ اپنے رب کے نام سے، جس نے پیداکیا، اس نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب نہایت بزرگ وبالا ہے۔ جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم دیا، اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتاتھا۔‘

اس واقعے کے بعد آپ گھر تشریف لائے۔ آپﷺ  کا دل دھک دھک کررہاتھا۔ حضرت خدیجہؓ  سے فرمایا: ’مجھے چادر اڑھادو، مجھے چادر اڑھادو۔‘ اُنھوںنے آپﷺ  کو چادر اڑھادی۔ کچھ دیر میں خوف و دہشت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور آپﷺ  نارمل ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ   کو پورا واقعہ سنایا اور فرمایا: یہ مجھے کیا ہوگیاہے؟ مجھے تواپنی جان کے لیے خطرہ محسوس ہورہاہے۔ حضرت خدیجہؓ  نے تسلی دی اور فرمایا: آپ مطمئن رہیں۔ کچھ نہیں ہوگا۔ واللہ آپ کو اللہ تعالیٰ رُسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، درماندوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں تہی دستوں کا بندوبست کرتے ہیں، مہمانوں کی میزبانی اور مصائب پراعانت کرتے ہیں۔

اِس کے بعد حضرت خدیجہؓ  آپﷺ  کو اپنے برادرِ عمّ زاد وَرقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزّیٰ کے پاس لے گئیں۔ ورقہ دورِ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے۔ اس وقت وہ بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ آپﷺ  نے ورقہ کے سامنے پورا واقعہ دہرایا۔ ورقہ نے سب کچھ سننے کے بعد کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ  پر نازل کیاتھا۔ کاش میں اس وقت توانا ہوتا اور کاش میں اس وقت زندہ رہتا، جب آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔ آپﷺ  نے دریافت فرمایا: کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا: ہاں! جب بھی کوئی اِس طرح کا پیغام اپنی قوم کے لیے لے کرآتا ہے، جس طرح کہ تم لائے ہوتو اس کی قوم اس کے درپے آزار ہوجاتی ہے۔ اگر مجھے تمھارا زمانہ مل گیا تومیں ضرور تمھاری مدد کروںگا۔‘

مکّے کو ہمیشہ مقام تقدس حاصل رہاہے۔ یہ کعبے کے پاسبانوں کابھی مرکزتھا اور بت پرستوں اور بتوں کے نگہبانوں کا بھی۔ اس لیے دوسرے مقامات کی بہ نسبت یہاںاصلاح کا کام زیادہ دشوار تھا۔ ایسی صورت میں آپﷺ  نے یہ مناسب سمجھاکہ ابتداً میں دعوت و تبلیغ کا کام خاموشی کے ساتھ انجام دیاجائے۔ تاکہ اہلِ مکہ کے سامنے اچانک کوئی ہیجان خیز یا تشویش ناک صورتِ حال نہ پیش آئے۔

رسولِ کائنات ﷺ کے بچپن اور جوانی کی زندگی اہلِ مکہ کے سامنے ایک بے داغ و بے غبار آئینے کے مانند صاف و شفاف تھی۔ اہلِ مکہ اور دور ونزدیک کے دوسرے لوگ آپﷺ  کی اعلیٰ اخلاقی خوبیوںاور خوش معاملگیوں سے اس درجہ متاثر تھے کہ ہمیشہ آپﷺ  کو ’صادق‘ و ’امین‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

آپﷺ  نے شروع شروع میں اپنے عزیزوں، قریبوں اور جان پہچان کے لوگوں کو حق کی طرف بلایا، وہ اعزّہ و اقارب اور جان پہچان کے لوگ جن کے چہروں پر آپﷺ  خیر اور بھلائی کے آثار دیکھ چکے تھے اور جن کے بارے میںآپﷺ  کو کامل یقین تھا کہ وہ خیرمزاج اور حق پسند واقع ہوئے ہیں۔ اِن میں ایک طبقہ ایسے لوگوں پر بھی مشتمل تھا، جو ہمیشہ سے آپ کی عظمت و تقدس پر ایمان رکھتے تھے۔ آپ کو سچّائی اور امانت داری کا روشن مینار تصّور کرتے تھے۔

رسول کائنات ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا نام آپﷺ  کی زوجۂ مطہرہ حضرت خدیجہ الکبریٰ کا آتا ہے۔ وہ آپﷺ  کی بیوی تھیں، بیوی صحیح معنوں میں شوہر کی ہم راز ومزاج شناس ہوتی ہے، شوہر کی تمام خوبیاں اور خامیاں اس کے سامنے ہوتی ہیں، اُسے اِس بات کی پوری خبر ہوتی ہے کہ شوہر جو کچھ کہہ رہاہے، اس میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے اور یہ بھی کہ وہ خود اس کسوٹی پر کتنا پورا اترتا ہے۔ کسی بیوی کا اپنے شوہر کی نبوت پر ایمان لانا، غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ  کے ساتھ پندرہ برس گزرجانے کے بعد یہ مرحلہ آیا۔ اِس طویل عرصے میں خدیجہؓ  نے اپنے شوہر کی بھرپور جوانی بھی دیکھی تھی اور آپﷺ  کے شب و روز کے معمولات و مشاغل بھی اُن کے سامنے تھے اور اُنھوںنے اپنے شوہر کی زندگی کی گہرائیوں میں خوب جھانک کر دیکھاتھا۔ خدیجہؓ  جیسی ذہین، نیک اور پاک باز بیوی اپنے شوہر کی نبوت کی خبر سنے اور حرا کے غار کا ’واقعہ ٔ اقرأ‘ اس کے علم میں آئے اور وہ کسی وسوسے میں مبتلا ہوجائے؟ یہ ممکن نہیں تھا۔ اُنھوںنے سب سے پہلے آپﷺ  کی نبوت پراپنے یقین کا اظہارکیا۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ﴿اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں﴾ کہا اور ایمان لے آئیں۔

حضرت خدیجۃ الکبریؓ  ٰکے بعدبڑے اور پختہ عمر کے لوگوں میں سب سے پہلے یہ شرف رسولِ کائناتﷺ  کے نہایت قریبی ساتھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے حصّے میں آیا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ  عرب کے معزز و معتبر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُنھوںنے آپ کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اُن تک آپﷺ  کی نبوت کی خبر پہنچی تو اُنھوںنے تصدیق کی۔ ایک موقعے پر رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا:

’میں نے جس کو بھی اِسلام کی دعوت پیش کی، ابتداً اس کے دل میں کچھ تردد پیدا ہوا، البتہ ابوبکر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ میں نے جوں ہی اُنھیں دعوت دی، اُنھوں نے بغیر کسی تردد و تامل کے قبول کرلیا۔‘

حضرت ابوبکرصدیقؓ  نے نہ صرف یہ کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیا، بل کہ جی جان سے اس کی اشاعت میں لگ گئے اور ہر مرحلے میں آپﷺ  کے شبانہ بہ شانہ رہے۔ حضرت عثمانؓ ، حضرت زبیرؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ  اور حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ  اُنھی کی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔جوانوں اور کم عمروں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ  دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ علیؓ  آپﷺ  کے عمّ زاد تھے، آپﷺ  کے شفیق چچا ابوطالب کے بیٹے تھے اور آپﷺ  کی تربیت میں رہتے تھے۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ اُنھیں ذاتِ رسول کو بہت قریب سے دیکھنے اور ہر پہلو سے سمجھنے اور پرکھنے کا بھرپور موقع ملاہوگا۔ اِس لیے اُن کے قبولِ اسلام کی اہمیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔

آزاد کردہ غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہؓ  دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، زید کی پرورش کاشانۂ نبوت میں ہوئی تھی۔ اُنھوں نے اس گھر کی غلامی کو آزادی پر ترجیح دی اور یہ ثابت کردیاکہ اِس گھر میں کوثر وتسنیم کی ندیاں بہہ رہی ہیں، محبت و شفقت کے چشمے پھوٹتے ہیں، جن کے سامنے ماں باپ کی محبت بھی نہیں ٹھہرسکتی۔ زید محبوبِ رسولﷺ  کے لقب سے بھی یاد کیے جاتے تھے۔

اسلامی دعوت کے ابتدائی دور میں جو لوگ حلقہ بہ گوشِ اسلام ہوئے، ان میں حضرت بلال حبشیؓ  بھی ہیں۔ اُن کے بعد امینِ امت حضرت ابوعبیدہ عامر بن جراحؓ ، حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد، حضرت ارقم بن ابی الارقمؓ ، حضرت عثمان بن مظعونؓ  اور ان کے دونوں بھائی ﴿حضرت قدامہؓ  اور حضرت عبداللہؓ ﴾، حضرت ابوعبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبدِ منافؓ ، حضرت سعید بن زیدؓ  اور ان کی بیوی ﴿حضرت عمر کی بہن فاطمہ بن خطاب﴾ ، حضرت خباب بنت ارتؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ  اور دوسرے کئی ساتھی مسلمان ہوئے۔ یہ لوگ مجموعی طورپر قریش ہی کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد جماعت در جماعت مرد اور عورتیں اسلام میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ مکّے میں اسلام کا نام اجنبی نہیں رہا۔ حالاں کہ یہ سب لوگ چھپ چھپاکر مسلمان ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چھپ چھپاکر ہی ان کی رہ نمائی اور تعلیم کے لیے اپنے پاس بلاتے تھے۔

آغازِ اسلام میں جو وحی آئی، اس میں نمازکا بھی حکم تھا۔ ابنِ حجر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ  کے صحابہ واقعۂ معراج سے پہلے بھی قطعی طورپر نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ البتہ موجودہ نماز پنج گانہ سے پہلے کوئی نماز فرض ہونے میں اختلاف ہے۔ حضرت زید بن حارث سے روایت ہے کہ : ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب ابتدأ وحی آئی تو حضرت جبریلؑ  نے آپ کو وضو کا طریقہ سکھایا۔ جب وضو سے فارغ ہوئے توایک چلّو پانی لے کر شرم گاہ پر چھینٹا مارا۔‘ آپﷺ  اور آپ کے صحابہؓ ، نمازوں کے اوقات میں گھاٹیوں کی طرف چلے جاتے تھے اور اپنی قوم سے چھپ کر نماز ادا کرتے تھے۔

مختلف واقعات اور قرائن سے پتا چلتاہے کہ ابتدائی مرحلے میں اگرچہ دعوت و تبلیغ کاکام انفرادی طورپر اور چھپ چھپاکر ہورہاتھا، لیکن قریش اس سے قطعی طورپر بے خبر نہ تھے، چوں کہ کام کی کوئی اجتماعی شکل نہیں سامنے آئی تھی، اس لیے اُنھوںنے اسے قابل توجہ نہ سمجھا۔

تین سال تک تبلیغِ اسلام کا کام انفرادی اور خفیہ طورپر ہوتا رہا۔ ایمان لانے والوںکی تعداد بہت مختصر تھی۔ لیکن رسولِ کائناتﷺ  تعداد کی کمی اور حالات کی عدم مساعدت سے نہ گھبرائے نہ مایوس ہوئے۔ اس لیے کہ آپﷺ  کے سامنے اللہ کافرمان ’لَاتَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ‘ ﴿اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو﴾ روشن اور تابندہ تھا۔ آپ نے خالص نامساعد حالات اور دشمنانہ ماحول میں اللہ کے بندوں کی دنیوی واُخروی فلاح و کام رانی کے لیے، اُن تک اللہ کے دین کی دعوت پہنچانے کا کام جاری رکھا۔ رفتہ رفتہ لوگ آپﷺ  کے ساتھ جڑتے گئے اور شجر اسلام میں نئی نئی شاخیں پھوٹتی گئیں۔ یہاں تک کہ اہلِ ایمان کی ایک جماعت تیار ہوگئی۔ یہ جماعت اخوت اور تعاون پر قائم تھی اور اللہ کے پیغام کو اللہ کے ایک ایک بندے تک پہنچانے کے لیے ساعی وکوشاں تھی۔سچ کہاہے ایک شاعر نے:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

جب اللہ تعالیٰ کی آیت ’وانذرُ عشیرتک الاقربین‘ ﴿اپنے قریبی قرابت داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے﴾ نازل ہوئی توآپﷺ  نے ایک دن اپنے تمام اہلِ خاندان کو جمع کرکے اُنھیں خطاب کیا اور دین کی طرف آنے کی دعوت دی۔ خطاب سنتے ہی آپﷺ  کے چچا ابولہب نے سخت برہمی کا اظہار کیا، غصّے سے بھرپور لہجے میں کہا: ’تَبّلَکْ لِہٰذَا دَعَوْتَنَا‘ ﴿خدا تجھے غارت کرے، کیا تو نے ہمیں اِسی لیے بلایاتھا؟﴾ پورے مکّے میں مخالفت و دشمنی کی آگ بھڑک اُٹھی اور ہر طرف سے لعنت و ملامت کے پتھر آنے لگے۔ لیکن رسولِ کائناتﷺ کسی بھی مخالفت و دشمنی یا لعنت و ملامت کی پروا کیے بغیر دعوت و تبلیغ کے کام میں لگے رہے۔ آپﷺ  کی حکیمانہ دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں مخالفت و معاندت کے تند وتیز طوفانوں کے باوجود ایمان والوں کی تعداد میں بہ تدریج اضافہ ہوتا رہا، حضرت بلال حبشیؓ ، حضرت صہیب رومی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عثمان بن مظعون، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت خباب بن ارت اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسے ان گنت لوگ یکے بعد دیگرے آستانۂ نبوت پر حاضر ہوکر ایک اللہ کی الوہیت و ربوبیت اور محمد ﷺ کی رسالت و نبوت کا اقرار کرکے حلقہ بہ گوشِ اسلام ہونے لگے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد عمِّ رسول حضرت حمزہؓ  اور حضرت عمر بن خطاب بھی ایمان لانے والوں میں شامل ہوگئے۔ اِن دونوں بزرگوں نے اپنی جرأت و بہادری سے اسلام کو جو تقویت بخشی، اس کو اسلام کی تاریخ میںکبھی فراموش نہ کیاجاسکے گا۔ حضرت عمرؓ  کے اسلام لانے کے بعد پہلی بار مسلمانوںنے کعبے میں جاکر کھلّم کھلّا باجماعت نماز ادا کی۔ اسی لیے حضرت عمرؓ  اسلامی تاریخ میں فاروق کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔

جوں جوں اسلام قبول کرنے والوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا، مخالفین اسلام کی مخالفتوں اور دشمنیوں کاسلسلہ بھی دراز سے دراز تر ہوتاگیا۔ ایمان لانے والوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کی لکڑیاں توڑی گئیں۔ رسولِ کائناتﷺ  دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والوں کو روحانی غذا فراہم کررہے تھے، ان کے نفس کا تزکیہ فرمارہے تھے، نہایت موثر اور گہری تربیت سے اُنھیں آراستہ فرمارہے تھے، اور اُنھیں اذیتوں پر صبر کی تلقین فرماتے تھے۔ اس کانتیجہ یہ تھا کہ اُن کی دینی پختگی فزوں تر ہوتی گئی، وہ شہوات سے کنارہ کشی، رضائے الٰہی کی راہ میں جاں سپاری، جنت کے شوق، علم کی حرص، دین کی سمجھ، نفس کے محاسبے، جذبات کو دبانے، ہیجانات کی لہروں پر قابو پانے اور صبر وسکون میں انسانیت کانادرۂ روزگار نمونہ بن گئے۔

اسلام کی یہ پھیلتی اور پھیلتی ہی چلی جانے والی روشنی کفرو شرک کی ظلمتوں کے پرستاروں کے لیے سخت تکلیف دہ اور تشویش ناک تھی۔ مخالفت کے طوفان میں مزید تندی پیدا ہوگئی۔ یہاں تک کہ اہلِ اسلام پر مکّے کی زمین تنگ نظر آنے لگی۔ بالآخر اُنھوںنے ہجرت کا قصد کرلیا۔ اللہ کی رضا و خوش نودی کے حصول اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے گھر بار اور مال و جائداد کو چھوڑکر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانے کا نام ہجرت ہے۔ اللہ کے رسولﷺ  نے صورتِ حال کی نزاکت کے پیش نظر اپنے مخلص و فداکار ساتھیوں سے فرمایا: اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو چاہیے کہ اپنے کام کے لیے کوئی دوسری جگہ تلاش کریں۔ تاکہ وہاں ظالموں سے نجات مل جائے اور ہم اپنا کام چین اور سکون سے انجام دے سکیں۔ صحابہ کرام اللہ کے رسول کااشارہ پاکر افریقہ کے مشہور ملک حبشہ کی طرف چل پڑے۔ اس لیے کہ ان کے علم کے مطابق ، وہاں کا بادشاہ نجاشی اگرچہ عیسائی مذہب کا پیروتھا، لیکن وہ نہایت عادل، انصاف پسنداور رحم دل تھا۔ نجاشی نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ بڑی عزت سے انھیں بسایا اور اُنھیں ہر طرح سے آرام وآسایش پہنچانے کی کوشش کی۔ کفارِ قریش کو خبر ہوئی تو وہ چراغ پا ہوگئے۔ انھیں یہ خوف لاحق ہوگیاکہ اگر مسلمانوں کو وہاں سے تقویت ملنے لگے گی تو وہ اپنے مشن میں کام یاب ہوجائیںگے۔ انھوںنے نجاشی کے پاس اپنے دو سفیر بھیجے کہ اُسے مسلمانوں کی طرف سے بدگمان کریں۔ لیکن اس نے ان کی کہی ہوئی باتوں پر یقین نہیں کیا۔ تحقیق حال کے لیے مہاجرین ﴿مسلمانوں﴾ کو طلب کیا۔ مسلمانوں کی مہاجر جماعت میں حضرت جعفرؓ  بھی شامل تھے۔ انھوں نے سب کی نمایندگی کرتے ہوئے بتایا:

’’اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل، بُت پرست ، بدکار، مردار کھانے والے اور پڑوسیوں کو ستانے والے تھے۔ باہم جھگڑنا، ایک دوسرے کا دل دکھانا اور کم زوروں کو ستانا ہمارا روز کا معمول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت و رہ نمائی کے لیے ہم میں سے ایک ایسے شخص کو رسول بناکربھیجا، جسے ہم اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے۔اس کی اچھائی اور پاک بازی سے خوب واقف تھے۔ اس نے ہم کو سچّے دین کی دعوت دی اور بتایاکہ ہم تمام انسانوں کو صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہیے، سچائی، امانت داری اور صلہ رحمی کا راستا اپنانا چاہیے، ظلم، بدکاری اور دل آزاری سے پرہیزکرنا چاہیے۔ ہم نے اللہ کے اُس رسول کو سچامانا اور جو کچھ اس نے بتایا اس کو تسلیم کرلیا۔ یہی ہمارا وہ جرم ہے، جس کی وجہ سے ہماری قوم ہم سے ناراض ہوگئی اور ہمیں طرح طرح سے اذیت پہنچانے لگی۔ جب ہم پر عرصۂ حیات تنگ ہوگیا تو ہم نے آپ کے ملک کا رخ کیا۔ تاکہ ظلم وستم کا سایہ سر سے ٹل جائے اور ہم چین اور سکون کے ساتھ اپنے اس فریضے کو انجام دے سکیں جو ہم سب کے خالق ومالک نے ہم پر عائد کیاہے۔‘

اس کے بعد حضرت جعفرؓ  نے شاہ حبش ﴿نجاشی﴾ کی فرمایش پر سورہ مریم کی چند آیتیں تلاوت کیں۔ شاہِ حبش آیتیں سن کر بہت متاثر ہوا۔ اس پر رقّت طاری ہوگئی۔ اتنا رویاکہ اس کی ڈاڑھی بھیگ گئی۔ دربار میں موجود دوسرے پادریوں کے بھی دل پگھل گئے اور ان کی بھی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ نجاشی بے اختیار بول اٹھا: ’خدا کی قسم یہ اور عیسیٰ کاکلام دونوں ایک ہی چشمے کی دو نہریں ہیں۔‘ چنانچہ اس نے سفیرانِ قریش کو ناکام و نامراد واپس کردیا۔

یہ کفار کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔ اب انھوں نے خفیہ منصوبے بنانے شروع کیے۔ تاکہ دینِ اسلام اور اس کے ماننے والوں کا خاتمہ ہوسکے۔ وہ بھیانک رات بھی آگئی جس میں مشرکوں نے محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی گھات میں بیٹھنے کا عزم کیاتھا۔ انھوں نے اس مکان کو گھیرے میں لے لیا، جس میں آپ محوِ استراحت تھے۔ سب کے ہاتھوں میں خطرناک اور مہلک ہتھیار تھے۔ چوں کہ زنانہ مکانوں میں گھسنا عربوں کی روایت و تہذیب کے منافی تھا، اس لیے وہ باہر ہی موقعے کی تاک میں رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی حفاظت کی۔ آپﷺ  کو غیب سے خبر مل گئی کہ باہر ان کی موت کا سامان ہورہاہے۔ آپﷺ  کے برادر عمّ زاد حضرت علی آپﷺ  کے پاس تھے۔ آپﷺ  نے اُن سے فرمایا:

’ علی! دشمن قتل کے ارادے سے مکان کو گھیرے ہوئے ہیں، میرے لیے اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آگیاہے میں آج مدینہ روانہ ہوجاؤںگا ، تم میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سورہو۔ اِن شاء اللہ  تمھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ صبح اُٹھ کر تم فلاں فلاں کو یہ امانتیں واپس کردینا اس کے بعد تم بھی مدینے آجانا۔‘

حضرت علی بہ خوشی راضی ہوگئے۔ آپﷺ  نے انھیں فی امان اللہ کہا۔ سیدھے حضرت ابوبکرؓ  کے گھر پہنچے اور انھیں اپنے ہم راہ لے کر سفر ہجرت پر روانہ ہوگئے۔

رسولِ کائناتﷺ کی زندگی کا مکّی عہد ہمارے لیے جرأت وہمت، صبرو ثبات اور استقامت و پامردی کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ یہ عہد ہمیں مخالفت و معاندت کے تُند و تیز طوفانوں میں حکمت و بردباری کے ساتھ اپنی کشتی کو ساحلِ مراد تک لے جانے کا درس دیتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ رسولِ کائنات کی زندگی کایہ روشن و تاب ناک عہد دنیا کے تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ اور سامانِ امیدو رجا ہے۔ **

فروری 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau