Opens in a new tab

مصنوعی ذہانت کے دور میں اسکول کی ضرورت و معنویت

مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں تبدیلی کی ایک ایسی لہر پیدا کردی ہے جس کے اثرات تعلیم پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ آج چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹو اے آئی ٹول کے ذریعے چند سیکنڈ میں کسی بھی موضوع سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں، پیچیدہ تصورات کو سمجھا جاسکتا ہے، مضامین اور پروجیکٹ تیار کیے جاسکتے ہیں، کوڈنگ کی جاسکتی ہے اور نئی مہارتیں سیکھی جاسکتی ہیں۔ علم تک رسائی اس قدر آسان اور تیز ہوگئی ہے کہ تعلیم کے روایتی تصور پر ازسرنو غور ناگزیر ہوگیا ہے۔ اگر معلومات ہر وقت اور ہر جگہ دستیاب ہیں، تو پھر اسکول، استاد اور روایتی تعلیمی نظام جس میں معلومات کی فراہمی کو بھی اولیت حاصل ہے پھر اس نظام میں اے آئی کے بعد کیا رہ جاتا ہے ؟ ؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو آج کے تعلیمی نظام کے سامنے کھڑا ہے اور جس کا تعلق محض ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ تعلیم کے بنیادی مقصد سے ہے۔

تعلیم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بڑی تکنیکی تبدیلی کے وقت انسانی ضرورت کے بعض شعبوں کے ختم ہوجانے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ کیلکولیٹر کے آنے پر یہ سوال اٹھا کہ جب مشین حساب کرسکتی ہے تو ریاضی سیکھنے کی ضرورت کیا ہے۔ کمپیوٹرائزیشن کے دور میں بھی خدشہ پیدا ہوا کہ مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی۔ لیکن ٹیکنالوجی نے انسانی ضرورت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ کام کی نوعیت کو تبدیل کیا۔ اسی طرح اے آئی بھی تعلیم کے طریقۂ کار کو بڑی حد تک بدل سکتی ہے، مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ تعلیم یا اسکول کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

مستقبلیات کے معروف مفکر ایلوِن ٹافلر نے بھی برسوں پہلے تعلیم کے مستقبل میں بڑی تبدیلیوں کا تصور پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ روایتی کیمپس اور ادارہ جاتی تعلیم کا موجودہ ڈھانچہ تبدیل ہو، بچے اپنی رفتار سے سیکھیں، اپنی پسند کے استاد کا انتخاب کریں اور امتحان کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئے۔ آج مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی ان تصورات کو کسی حد تک حقیقت کے قریب لاتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ اس تبدیلی کے دوران ہم تعلیم کو صرف معلومات کے حصول تک محدود نہ کردیں۔

درحقیقت معلومات اور تعلیم ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ معلومات حاصل کرنا تعلیم کا ایک حصہ ہے، پوری تعلیم نہیں۔ تعلیم کا تعلق معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھنے، پرکھنے، درست موقع پر استعمال کرنے اور اس کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر کرنے سے ہے۔ انسان تعلیم کے ذریعے اپنے آپ کو دریافت کرتا ہے، اپنی سوچ میں تبدیلی لاتا ہے، دوسروں کو سمجھنا سیکھتا ہے اور اپنے علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لانے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس پورے عمل میں صرف معلومات کافی نہیں ہوتیں۔ ایک ایسے استاد، رہ نما اور رول ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے جو طالب علم کی شخصیت سازی میں اپنا کردار ادا کرے۔

یہیں آکر اے آئی اور استاد کے کردار میں بنیادی فرق واضح ہوجاتا ہے۔ اے آئی سوال کا جواب دے سکتی ہے، مختلف معلومات سامنے لاسکتی ہے اور طالب علم کی رفتار اور ضرورت کے مطابق سیکھنے کا مواد فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن ایک استاد بچے کے رویے، جذبات، کم زوریوں، صلاحیتوں اور حالات کو سامنے رکھ کر اس کی رہ نمائی کرسکتا ہے۔ مشکل وقت میں حوصلہ دینا، ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا کرنا، غلطی پر اصلاح کرنا، اچھے کام پر حوصلہ افزائی کرنا اور انسانی تعلق قائم کرنا ایسے پہلو ہیں جو تعلیم کو محض معلوماتی عمل سے بلند کرتے ہیں۔ اس لیے اے آئی کے دور میں استاد کا کردار ختم ہونے کے بجائے معلومات فراہم کرنے والے سے بڑھ کر مینٹر، گائیڈ اور رول ماڈل کا ہوسکتا ہے۔

اے آئی ذاتی نوعیت کی تعلیم کے امکانات بھی پیدا کررہی ہے۔ ہر طالب علم کی صلاحیت، رفتار اور ضرورت مختلف ہوتی ہے اور ٹیکنالوجی انفرادی ضرورت کے مطابق تعلیمی مواد فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر بچے ہر سوال کا جواب خود تلاش کرنے کے بجائے ہر بار اے آئی سے لینے لگیں  گے تو ان کی اپنی فکری صلاحیت کا کیا ہوگا؟اے آئی پر ضرورت سے زیادہ انحصار تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قدرت کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسی لیے مستقبل کے اسکولوں میں معلومات یاد کرانے سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ بچے معلومات کو پرکھنا، سوال اٹھانا، مختلف امکانات پر غور کرنا اور اپنے فیصلے کی بنیاد تلاش کرنا سیکھیں۔

تعلیم میں ایک ایسا علم بھی شامل ہے جو محض کتاب، انٹرنیٹ یا ڈیٹا سے حاصل نہیں ہوتا۔ انسان اپنی زندگی، تجربات، مشاہدات، تعلقات اور حالات سے جو کچھ سیکھتا ہے، وہ اس کی عملی بصیرت کا حصہ بنتا ہے۔ کسی پیچیدہ انسانی مسئلے کا حل صرف معلومات سے نہیں نکلتا؛ اس میں تجربہ، احساس، اخلاقی شعور اور حالات کی سمجھ بھی شامل ہوتی ہے۔ اے آئی بڑی مقدار میں ڈیٹا کا تجزیہ کرسکتی ہے، لیکن انسانی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو اسی انداز میں محسوس نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم میں انسانی تجربے اور عملی زندگی سے سیکھنے کی اہمیت برقرار رہے گی۔

اے آئی کا اثر اسکول کے ساتھ ساتھ کوچنگ اور مسابقتی امتحانات کے نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے، اس میں ممکن ہے کہ مستقبل میں طالب علم اپنے بہت سے سوالات اور شبہات کا فوری جواب اے آئی کے ذریعے حاصل کرسکیں۔ اس سے روایتی کوچنگ کے بعض کردار تبدیل ہوسکتے ہیں۔ لیکن تعلیم کو محض سوال اور جواب تک محدود کرنا پھر وہی بنیادی غلطی ہوگی۔ سیکھنا ایک سماجی عمل بھی ہے، جس میں استاد اور طالب علم کا تعلق، ساتھیوں کے ساتھ تعامل، گفتگو، تعاون اور عملی تجربہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم اے آئی کے تعلیمی استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے اہم مسئلہ ڈیجیٹل رسائی کا ہے۔ اگر ایک طرف اے آئی جدید تعلیم کے نئے دروازے کھول رہی ہے تو دوسری طرف ملک کے بہت سے اسکول اب بھی بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ بعض اسکولوں میں بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل موجود ہیں۔ ایسے میں اے آئی پر مبنی تعلیم کا فائدہ ہر بچے تک یکساں طور پر کیسے پہنچے گا؟ خصوصاً دیہی علاقوں، سرکاری اسکولوں اور اردو میڈیم اداروں کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے۔

اس صورت حال میں تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کی ترجیحات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکول کی عمارت بنانا یقیناً ضروری ہے، لیکن آج کے دور میں بجلی، انٹرنیٹ، اسمارٹ بورڈ، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ جیسی ڈیجیٹل سہولیات بھی تعلیمی بنیادی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایک سادہ اسکول بھی اگر مناسب ڈیجیٹل وسائل سے لیس ہو تو اس کے طلبہ کو دنیا بھر کے معیاری تعلیمی مواد تک رسائی مل سکتی ہے۔ حکومت کی سطح پر بھی ڈیجیٹل تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ صرف وسائل رکھنے والے بچوں تک محدود نہ رہے۔

یہی پہلو اے آئی کو تعلیمی عدم مساوات کم کرنے کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے۔ مہنگے نجی اسکولوں اور کوچنگ اداروں تک رسائی نہ رکھنے والے طلبہ اگر مناسب ڈیجیٹل سہولیات اور رہ نمائی حاصل کرسکیں تو وہ بھی معیاری تعلیمی مواد سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ یوں اے آئی تعلیمی مواقع میں ایک حد تک مساوات پیدا کرنے، شمولیت بڑھانے اور تعلیمی خلا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ڈیجیٹل سہولت اور ڈیجیٹل خواندگی دونوں کو عام کرنا ہوگا۔

اے آئی کے ساتھ مستقبل کی ملازمتوں کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ والدین اور طلبہ کے لیے یہ تشویش فطری ہے کہ آج کی کون سی ملازمتیں مستقبل میں باقی رہیں گی اور کون سی نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اس کا قطعی جواب فی الحال ممکن نہیں، اس لیے تعلیم کو صرف موجودہ ملازمتوں کے لیے بچوں کو تیار کرنے کے بجائے ایسی بنیادی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں جو بدلتے ہوئے حالات میں بھی کام آئیں۔ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی قابلیت، مؤثر ابلاغ اور علم کو عملی صورت میں استعمال کرنے کی صلاحیت مستقبل کی اہم مہارتیں ہوں گی۔

اس تناظر میں امتحان کے موجودہ تصور پر بھی نظرثانی ضروری ہوگی۔ صرف یہ جانچنا کہ طالب علم نے کتنا مواد یاد کیا ہے، اے آئی کے دور میں کافی نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ وہ اپنے علم کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ ریاضی کے کسی فارمولے کو یاد کرنا ایک بات ہے اور اسے حقیقی زندگی کے مسئلے پر لاگو کرنا دوسری۔ انجینئرنگ یا کسی دوسرے شعبے میں بھی محض معلومات کافی نہیں؛ مسئلے کو سمجھنا، اس کا تجزیہ کرنا اور عملی حل تلاش کرنا زیادہ اہم ہوگا۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اے آئی تمام انسانی کاموں کی جگہ لے لے گی۔ دنیا میں ایسے بے شمار شعبے موجود ہیں جہاں عملی مہارت، انسانی رابطہ، مشاورت، جذباتی معاونت اور جسمانی موجودگی بنیادی ضرورت ہیں۔ پلمبنگ، مشاورت اور متعدد خدمات اس کی مثالیں ہیں۔ ٹیکنالوجی کام کی نوعیت تبدیل کرسکتی ہے، لیکن انسانی ضرورت کو مکمل طور پر ختم کرنا اس کا لازمی نتیجہ نہیں۔

علم نافع کا حصول بھی تعلیم کا اصل مقصد ہونا چاہیے؛یعنی  ایسا علم جو فرد اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو اور زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے۔ اس کے ساتھ ایسی قابلِ منتقلی مہارتیں پیدا کرنا بھی ضروری ہے جنھیں ایک شخص ایک ادارے یا شعبے سے دوسرے ادارے یا شعبے میں استعمال کرسکے۔ یہی صلاحیت بدلتی ہوئی دنیا میں انسان کو نئی صورت حال سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

آخرکار اے آئی کے دور میں اسکول کی معنویت اسی وقت واضح ہوگی جب ہم اسکول کو صرف کتابیں، کلاس روم، امتحان اور نمبر دینے والے ادارے کے طور پر دیکھنا چھوڑ دیں۔ اسکول بچے کو دوسروں کے ساتھ رہنا، تعلق قائم کرنا، تعاون کرنا، اختلاف کو سمجھنا، جذبات کا اظہار اور نظم و ضبط کے ساتھ زندگی گزارنا بھی سکھاتا ہے۔ انسان صرف معلومات رکھنے والی مشین نہیں۔ اس کے اندر احساس، جذبات، اقدار اور تعلقات ہیں۔ تعلیم کا  ایک حقیقی مقصد ان انسانی صلاحیتوں کو سنوارنا بھی ہے۔

اس لیے مستقبل کا مثالی اسکول وہ نہیں ہوگا جو اے آئی سے مقابلہ کرے، بلکہ وہ ہوگا جو اے آئی کو ایک مؤثر تعلیمی وسیلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انسان کی ان صلاحیتوں کو زیادہ مضبوط کرے جنھیں مشین مکمل طور پر اپنے اندر پیدا نہیں کرسکتی۔ اے آئی معلومات فراہم کرسکتی ہے، سیکھنے کو آسان بناسکتی ہے اور تعلیمی عمل کو ذاتی نوعیت دے سکتی ہے، مگر اسکول کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس معلومات کے ساتھ بچے کو کیسے سوچنا، کیسے فیصلہ کرنا، کیسے تعلق قائم کرنا اور کیسے ایک ذمہ دار، باکردار اور مفید انسان بننا ہے۔

شاید مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم کا سب سے بڑا ہدف یہی ہوسکتا  ہے کہ ہم بچوں کو مشین سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کے مقابلے میں نہ لگائیں، بلکہ انھیں اس قابل بنائیں کہ وہ مشین سے حاصل ہونے والی معلومات کو سمجھ سکیں، پرکھ سکیں اور انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کرسکیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسکول کی ضرورت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد پہلے سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

مصنوعی ذہانت کے دور میں اسکول کی ضرورت و معنویت

حالیہ شمارے

اکتوبر 2026

شمارہ پڑھیں

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223