فکری استقامت کی ضرورت

’’مقاصدِ شریعت نامی کتاب کے پس منظر میں‘‘

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اس کائنات کا نظام تغیراور مسلسل تغیر پر مبنی ہے بقول علامہ اقبال:

ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں

یہ تبدیلیاں جیسے کائنات کی اشیائ میں ہوتی رہتی ہیں، اسی طرح انسان کے حالات میں بھی۔ انھی تبدیلیوں کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ مال و دولت، علم ودانش اور قوت و اقتدار کسی ایک گروہ کے ہاتھ میں ہمیشہ نہیں رہتا، بل کہ اس میں بھی مسلسل تبدیلیوں کا عمل جاری رہتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کو کہاہے:

وَتِلْکَ الٔایَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ﴿آل عمران:۱۴۰﴾

اور ایسا ہونا ضروری بھی تھا، کیوں کہ اگر ایک قوم یا ایک خاندان مسلسل بہتر حالت میں ہوتو اس میں بندگی کی بجاے اپنی خدائی کااحساس پیداہونے لگتاہے۔وہ کم زور قوموں کو اس طرح روندنے لگتی ہے، جیسے ہاتھی چینٹیوں کے بِل کی پروا نہیں کرتا، وہ اپنی سوچ کو پوری دنیا پر جبر کے ساتھ نافذ کرنا چاہتاہے۔ انسانوں کو غلام بنانے اور ان سے پرستش کرانے میں اسے لذت محسوس ہوتی ہے۔ دنیا کی مختلف قومیں یہ رویہ اختیار کرچکی ہیں۔ خود ہندستان کم و بیش دو سوسال تک برطانوی استعمار کے جورو ظلم کا شکار رہاہے۔

مغربی استعمار اور مسلمانوں کا ردِّ عمل

انسان کی نفسیات یہ ہے کہ جب کوئی گروہ جنگ کے میدان میں شکست کھاجاتاہے اور اقتدار سے محروم ہوتاہے تو اس کی سوچ میں بھی تبدیلی آنے لگتی ہے۔ حالات میں عموماً تین قسم کاردعمل سامنے آتا ہے۔ کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں، جن کو یہ شکست انتہائی نفرت اور غضب میںمبتلاکردیتی ہے، نھیں فاتح قوم کی ہر چیز بُری لگتی ہے، ان کی تہذیب و ثقافت، ان کی زبان، یہاں تک کہ ان کے پروان چڑھائے ہوئے علوم وافکاربھی۔ دوسرا گروہ وہ ہے، جو احساسِ خودشکستگی سے دوچار ہوکر مرعوب ہوجاتاہے۔ اس کو اپنی ہر چیز کمتر اور فاتحین کی ہر چیز بہتر معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی ہزیمت اور پسماندگی کاصحیح تجزیہ کرنے سے محروم ہوتاہے۔ اس کی مثال عالم اسلام میںاتاترک مصطفی کمال اور مصر و شام وغیرہ کے حکمران ہیں، جنھوںنے اپنی اسلامیت و مشرقیت کو اپنی ہار کا سبب سمجھا۔ یہاں تک کہ ترکی میں پہلے سے مروج ٹوپی کی بجائے ’’ہیٹ‘‘ پہننے کا حکم دے دیاگیا اور مصر کے بعض چوٹی کے اہل علم کہنے لگے کہ ڈاڑھی اسلامی شعار نہیں ہے، بل کہ یہ عربوں کی قدیم ثقافت کاحصہ ہے۔تیسرا گروہ ان دونوں کے درمیان ہے، جو نہ بے جا نفرت کرتا ہے کہ فاتح کی اچھی چیز بھی اُسے بُری لگنے لگے اور نہ اس میں ایسا احساسِ کم تری ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھے اور فاتح قوم کے سامنے گدائی کاکشکول بڑھائے۔

گزشتہ چار سوسال سے مغرب کی صنعتی ترقی اور عالم اِسلام کے حکمرانوں کی ان ترقیات کی طرف سے غفلت اورباہمی خانہ جنگی کی صورت حال نے پورے عالم اسلام اور امت مسلمہ کو سیاسی پسپائی سے دوچار کیا۔ اس کے نتیجے میں جہاں جہاں استعماری طاقتوں نے اپنے اقتدار کاتخت بچھایا، یہی تین ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ انگریزوں سے ایسی نفرت کرتاتھاکہ اُسے ان کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا، مظفر نگر کے ایک درویش صفت بزرگ عالمِ دین کا واقعہ متعدد لوگوں نے نقل کیاہے کہ مسجد اور مندر کا مقدمہ ایک انگریز مجسٹریٹ کے اجلاس میں تھا، اس نے کوشش کی کہ ہندو اور مسلمان دونوں فریق کسی ایک شخص کی ثالثی پر متفق ہوجائیں اور دونوں فریق ان کے فیصلے کو قبول کرلیں۔ بالآخر ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں گروہوں کاان بزرگ پر اتفاق ہوگیا، لیکن انھوںنے عدالت میںحاضر ہونے کی یہ شرط رکھی کہ میں انگریزکا منھ نہیں دیکھوںگا، مجسٹریٹ نے اس شرط کو منظور کرتے ہوئے ان کو دعوت دی اور پس پردہ رہ کر ان کا بیان سنا۔بظاہر یہ ایک واقعہ ہے، لیکن اِس سے اُس مزاج کی نشاندہی ہوتی ہے، جو حالات کے ردعمل کی وجہ سے اس وقت ایک گروہ میں پیداہوگیاتھا۔ چنانچہ اسی کے نتیجے میں ایک تعداد انگریزی زبان پڑھنے تک کی مخالف تھی۔

دوسرا گروہ وہ تھا، جو یورپ کی ہر چیز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیارتھا، وہ مغربی علوم اور مغربی تہذیب و افکار کے فرق کو محسوس نہیں کرسکا، چنانچہ ہندستان کی ایک مشہور شخصیت نے جدید علوم کی تعلیم کے لیے ایک اہم ادارہ قائم کیا، جو کالج سے یونیورسٹی بنا اور اس میںکوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر یہ ان کا ایسا احسان ہے، جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ ان کا مقصد مسلمانوں  کو تعلیمی اور معاشی اعتبار سے اونچا اٹھاناتھا اور وہ اپنے مقصد میں پوری طرح مخلص تھے۔ لیکن وہ بھی مرعوبیت اور احساس کمتری سے آزاد نہیں رہ سکے۔ انھوں نے مغربی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی ثقافت کی طرف بھی مسلمانوں کو دعوت دینی شروع کردی اور مغرب کے مادی افکار سے سمجھوتا کرنے لگے۔

اس طرح کی باتیں ان کی تفسیر اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں، جو اسلام کے معتبر شارحین کے مسلّمات اور کتاب و سنت کی صراحتوں کے خلاف ہیں۔ یہ گروہ بڑی تعداد میں مسلمانوں میں رہاہے اور اشتراکیت کے زوال کے بعد گو اس طبقے میں کمی ہوئی ہے، لیکن عالمی سطح پر خاص کر مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمان دانشوروں پر اس کی چھاپ اب بھی اچھی خاصی ہے۔

ہندستان میں شروع ہی سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی رہی ہے، جو ان دونوں کے درمیان اعتدال کے راستے پر تھے، نہ انھوںنے مغرب سے ایسی نفرت کی کہ ان کی ہر چیز کو شجرۂ ممنوعہ سمجھا اور نہ ان سے ایسے مرعوب تھے کہ مغربی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب اور مغربی افکار و نظریات کے سامنے بھی سرجھکادیں۔ ہندستان میں علمائ اور دینی شعور رکھنے والے دانشوروں کی غالب تعداد اسی مزاج کی حامل رہی، اس کی ایک مثال شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندیؒ ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے، لیکن عصری تعلیم کی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد انھوں نے رکھی۔ مولانا محمد علی جوہر اور ان کے رفقائ کا گروہ ان کا دست و بازو بنا۔

احساس کمتری اور مرعوبیت میں مبتلا گروہ آج بھی عالم اسلام میں اور خود ہندستان میںموجود ہے۔ ہندستان میں اس وقت کئی نام نہاد دانشور اس بیماری کا شکار ہیں۔ دہلی میں بھی ایک قانون داں جو پہلے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین رہ چکے ہیں، برابر شریعتِ اسلامی کے بار ے میں اظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں۔ ایسے افراد کو وہ اسلام مطلوب ہے، جس پر مغربی مفکرین کو کوئی اعتراض نہ ہو، چاہے اس کے لیے اس کی کتنی ہی تراش و خراش کیوں نہ کرنی پڑے۔

مقاصد شریعت اور تعبیرِ دین

دانشور حضرات میںایک گروہ ان محلص مسلمانوں کا بھی ہے، جن کی پرورش مغربی ماحول میں ہوئی ہے اور جن کا مطالعہ زیادہ تر مغربی مصنفین کا رہاہے۔ یہاں تک کہ انھوںنے اسلامی علوم و افکار کو بھی بڑی حد تک مغرب کے اہل قلم کے واسطے سے پڑھاہے۔ مخلص ہونے کے باوجود غیرشعوری طورپر انھیںاسلام کے بعض ایسے احکام کے سلسلے میں جھجک محسوس ہوتی ہے، جن کو مغربی مصنفین قدامت پرستانہ، غیرمہذب یا غیر انسانی قرار دیتے ہیں۔ چوں کہ اسلام سے ان کا مخلصانہ روحانی تعلق  ہے، اس لیے وہ دین کی مخالفت تو نہیں کرسکتے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دین و شریعت کی ایسی تعبیر کی جائے کہ مغرب کا شکوہ دور ہوجائے اور اُس کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔ اس طرزِ فکر کے حاملین میں بہت سے پڑھے لکھے اصحاب علم، اصحاب نظر اور اصحاب قلم موجود ہیں، عالم اسلام میں خاص کر مغرب میں آباد عرب فضلا میں اس کا اثر زیادہ ہے اور ادھر کچھ عرصے سے یہ فکر برصغیر میں بھی دستک دے رہی ہے۔

اس گروہ کے افکار کا تجزیہ کیاجائے تو دوباتیں خا ص طور پر قابل ذکر معلوم ہوتی ہیں: اُن کا یہ خیال ہے کہ کسی مسئلے پر امت کا اجماع و اتفاق ایسی دلیل نہیں ہے کہ اس کے خلاف جانے کی گنجایش نہ ہو اور فقہائ کے ایسے شاذ اقوال جن کو امت میں قبولیت اور پزیرائی حاصل نہیں ہوئی، اُن کو قبول کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اُس طرزِ فکر میں بظاہرنہ قرآن کا انکارہے، نہ حدیث کا اور نہ سلف کے اجتہادات سے یکسر بے نیازی ہے، لیکن اگراس تصور کی گہرائی میں جایاجائے تو اس سے نصوص کی ایسی تشریح و توضیح کادروازہ کھلتا ہے، جس میں الفاظ کے پیچ و خم اور منطقی موشگافیوں سے کام لے کر قرآن وحدیث کی عبارتوں کاایسامفہوم متعین کیاجاسکتا ہے، جو دین کے بنیادی مزاج و مذاق کے خلاف ہو۔

اِس گروہ کادوسرا خیال یہ ہے کہ احکامِ شریعت میں اصل اہمیت شریعت کے عمومی مقاصد کو حاصل ہے اور وہ ہیں: دین، جان، مال، نسل اور عقل کاتحفظ یہ بات بنیادی طورپر غلط نہیں، لیکن اصل مسئلہ عملی زندگی میں ان مقاصد کے حصول کاہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن وحدیث میں کوئی حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے، کسی امر کی بابت صحابہ اور سلف صالحین کاتعامل منقول ہے، لیکن آج ایک انسان کی عقل فیصلہ کرتی ہے کہ یہ حکم شریعت کے مذکورہ فلاں مقصد میں رکاوٹ ہے، تو کیا اس کی یہ سوچ قابلِ قبول ہوگی؟ یہ بہت بنیادی سوال ہے۔ کیوں کہ کل ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آج کی مصروف کاروباری دنیا میں پانچ وقت نماز پڑھنا مالی مفادات کے تحفظ میں رکاوٹ ہے، اس لیے یا تو اس کو محدود کرنا چاہیے یا اس کے اوقات بدلنے چاہئیں۔ اسی طرح شریعت کے مختلف احکام کے بارے میں ایسی تاویلات کی جاسکتی ہیں کہ اس کے بعد صرف اسلام کا نام ہی رہ جائے گا اور اس کی حقیقت گم ہوکر رہ جائے گی۔

پڑوسی ملک پاکستان میںایک زمانے میں ڈاکٹر فضل الرحمن اور مولانا شاہ جعفر پھلواروی وغیرہ نے اس طرح کے تصورات پیش کیے تھے، اور خود ساختہ صدر مملکت ایوب خاں مرحوم نے اس ناکردنی کو انجام دینے کے لیے ایک مستقل ادارہ‘‘ادارہ ثقافت اسلامیہ’’ کی بنیاد رکھی تھی۔ پاکستان کے اہل علم نے اس پر سخت اعتراضات کیے ، جن میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ پیش پیش تھے۔ اس مخالفت کے نتیجے میں یہ تحریک دم توڑگئی، لیکن عائلی  قوانین کے سلسلے میں صدارتی آرڈیننس اب بھی برقرار ہے، جس میں کئی دفعات صریح طورپر شریعت اسلامی کے خلاف ہیں۔

’’مقاصدِ شریعت‘‘ نامی کتاب

اس وقت میرے سامنے ایک بڑے فاضل، معروف مؤلف اور اسلامی اقتصادیات کے ماہر ڈاکٹر محمدنجات اللہ صدیقی کی نئی شائع شدہ تالیف ‘‘مقاصد شریعت’’ ہے۔ ان کی یہ کتاب پہلے پڑوسی ملک میں شائع ہوئی ہے۔ جس ادارے نے شائع کیاہے، اس کو وہاں کے متدین علمی حلقوں میں کچھ زیادہ پزیرائی حاصل نہیں ہے۔ ہندستان میں جِس ادارے نے اسے شائع کیاہے، غالباً اُسے کتاب کے اختلافی ہونے کااندازہ تھا۔ اس لیے ادارے نے حرف آغاز میں اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ مؤلف کے نقطہ نظر کو ادارے کا نقطہ نظر نہ سمجھاجائے۔ البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ کیا کسی ذمہ دار ادارے کی جانب سے صرف اتنا سا لکھ دینا کافی ہے؟ اپنے مزاج اور افتادِ طبع کے خلاف مختلف اہل علم کی خواہش اور یاد دہانی پر یہ حقیر اسی لیے قلم اٹھارہا ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کی تحریر ہے، جس کا نام علم و تحقیق کی دنیا میں ایک معتبر نام ہے، جسے عالمی سطح پر ایوارڈ مل چکا ہے۔ اسلامی معاشیات میں جس کی خدمات قابلِ تحسین ہیں اور اس کتاب میں محض کسی جزوی مسئلے پر گفتگو نہیں ہے، بل کہ یہ کتاب شریعت اسلامی کے بارے میں ایک ایسا دروازہ کھولتی ہے، جس کو بد دین لوگ اپنا ہتھیار بناسکتے ہیں۔

اس کتاب مقاصد شریعت میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے کچھ اصولی مسائل کو اٹھایا ہے اور کچھ فقہی جزئیات پر گفتگو کی ہے۔ اصولی مسائل میں ایک بحث یہ کی گئی ہے کہ عام طورپر قانون شریعت کے پانچ مقاصد بیان کیے جاتے ہیں، دین کی حفاظت، جان کی حفاظت، نسل کی حفاظت، مال کی حفاظت اور عقل کی حفاظت۔ لیکن شریعت جن انسانی مصلحتوں کے لیے نازل کی گئی ہے، ان کو محض ان پانچ مقاصد تک محدود کردینا درست نہیں۔ بل کہ اور بھی بہت سی چیزیں مقاصد میں شامل ہیں، جیسے: انسانی عزو شرف اور عدل و انصاف کاحصول، ازالۂ غربت، سماجی مساوات کاحصول وغیرہ۔ ‘‘حفاظت’’ کے لفظ سے صرف منفی مصلحتوںکا اظہارہوتا ہے، مثبت مقاصد کا نہیں۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے، جن حضرات نے قوانین شریعت کے پانچ مقاصد بتائے ہیں، جیسے امام غزالی(رح)، امام الحرمینؒ وغیرہ، انھوںنے اپنے زمانہ کے حالات اور ضرورتوں کو مدنظر رکھا ہے، لیکن غور کیاجائے اور ان پانچوں مقاصد کے دائرے کی وسعت کو سامنے رکھاجائے تو آج جن چیزوں کو بنیادی حقوق کے نام سے یاد کیاجاتا ہے، اِن مقاصد کے دائرے میں آجاتے ہیں۔جیسے: جان کی حفاظت میں انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ انسانی حیثیت اور شرافت کی بقا بھی شامل ہے اور مال کی حفاظت میں تقسیم دولت کامنصفانہ انتظام اور سماجی ناانصافیوں کو دور کرنا بھی شامل ہے۔ اس طرح اسلامی قانون کے ماہرین نے وسیع تر مفہوم کے حامل پانچ ایسے عنوانات کا انتخاب کیا ہے، جو قریب قریب پوری انسانی زندگی کی دینی اور دُنیوی مصلحتوںکااحاطہ کرتے ہیں۔

اسی طرح فقہائ اسلام کا تصور یہ ہے کہ مضرت اور نقصان کو دور کرنے کی اہمیت منفعت کو حاصل کرنے سے بڑھ کر ہے، اسی لیے بہت سے احکام کو منفی طورپر بیان کیاجاتاہے، حالاں کہ وہ مثبت پہلو بھی شامل ہوتے ہیں، مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ مذہب کے معاملے میں جبرو اکراہ نہیں ہونا چاہیے تو ہم دوسرے لفظوں میںمذہبی آزادی کامطالبہ کرتے ہیں، جو ایک مثبت پہلو ہے۔ اس لیے گزشتہ فقہائ نے جو تعبیر اختیار کی ہے، اس کو ناقص اور نامکمل نہیں کہاجاسکتا، لیکن اگر مزیدتشریح و توضیح کے لیے ان مقاصد کی فہرست بڑھادی جائے جو شرعی قوانین سے مطلوب ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے۔

عمومی مقاصد اور منصوص احکام

البتہ قابل غور امر یہ ہے کہ مصنف کی تحریر سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شریعت کے متعین احکام کے مقابلے میں عمومی مقاصد کی اہمیت زیادہ ہے۔ یعنی اگر کوئی حکم قرآن وحدیث سے ثابت ہو، لیکن وہ کسی زمانے میں شریعت کے ان مقاصد کے خلاف محسوس ہو ﴿جو علمائ نے اپنے اجتہاد سے اخذ کیے ہیں﴾ تو ان ثابت شدہ احکام کو تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

’’کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ شریعت کا کوئی حکم کسی خاص حالت میں مقاصد شریعت کے خلاف نتائج کاحامل نظرآتا ہے، ایسا ہوتو نیا حکم ایجاد کیاجائے گا جو شریعت کے مقصد کے مطابق ہو‘‘﴿مقاصد شریعت، ص: ۲۱﴾

اگراسلامی قانون کے بارے میںاس اصول کو مان لیاجائے تو اس کے مضمرات بہت خطرناک ہوںگے۔ مثلاً میراث میں بعض حالات میں مردوں کے مقابلے میںعورتوں کو نصف حصہ دیاگیا ہے۔ اب ایک آواز اٹھ رہی ہے کہ شریعت کاایک مقصد سماجی مساوات قائم کرنا بھی ہے۔ آج کل عورتیں بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرتی ہیں۔ دولت کے حاصل کرنے میں دونوں کا رول برابر ہے، اس لیے بیٹا اور بیٹی، باپ اور ماں اور شوہر اور بیوی کے حقِ میراث میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کی صرف بیٹیاں ہی ہوں تو بیٹیوں کا حصہ دینے کے بعد کچھ حصہ مرنے والے کے بھائی بہن کو بھی پہنچتا ہے۔ اب کہاجارہا ہے کہ اُس زمانے میں مشترک خاندان کاتصو رتھا اور انسان کی مالی ضروریات کی کفالت میں بھائیوں اور بہنوں کابھی حصہ ہواکرتاتھا، اس لیے انھیں میراث میں حصہ دیاگیا، آج کل ایسا نہیں ہوتا، اب سماجی مساوات کا تقاضا یہ ہے کہ جیسے بیٹے تنہا والدین کے پورے ترکے کے مالک ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح بیٹیاں بھی والدین کے پورے ترکے کی مالک ہوں اور والدین کا ترکہ ان لڑکیوں کے چچائوں، پھوپھیوں، ماموئوں اور خالائوں کی طرف نہ جائے۔

اسی طرح کہاجاتاہے کہ عدل وانصاف اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہے اور مرد کو طلاق کا حق دینا اور عورتوں کو اس حق سے محروم رکھنا انصاف کے خلاف ہے۔ ابتدائی عہد میں مرد شریعت کی حدود کے پابند تھے اور عورتیں تعلیم سے بے بہرہ تھیں، اس لیے اس طرح کاحکم دیاگیا، اب یا تو عورتوں کو بھی طلاق کاحق دینا چاہیے کیوں کہ وہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں اور تعلیم کی وجہ سے قوتِ فیصلہ کی حامل ہیں یا پھر مردوں سے بھی یہ اختیار سلب کرلینا چاہیے اور عدالت کو طلاق کا حق سونپ دینا چاہیے۔ کیوں کہ آج کل مردخدا ناترسی کی وجہ سے طلاق کے معاملے میں بہت زیادتی کرنے لگے ہیں۔

مصلحتوں کی بنا پر احکام شریعت میں تبدیلی کے مطالبے کی یہ محض چند مثالیں ہیں۔ یقینا مؤلف کتاب بھی اس کے قائل نہیں ہوںگے اور یہ مثالیں فرضی نہیں ہیں، بل کہ یہ وہ باتیں ہیں جو تجدد پسند حضرات کی طرف سے اٹھائی جاتی رہی ہیں۔ اگر اصولی طورپر یہ بات مان لی جائے کہ شریعت کے متعین جزوی احکام بھی عمومی مقاصد و مصالح کے تحت بدل سکتے ہیں تو اس کا اثر صرف پرسنل لائ ہی تک محدود نہیں رہے گا۔ بل کہ تمام شعبہ ہائے قوانین پر اس کااثر پڑسکتا ہے۔ جو لوگ تجارتی مقاصد کے لیے لیے گئے قرضوں پر سود کو جائز قرار دیتے ہیں، وہ یہی کہتے ہیں کہ سود کی حرمت کا مقصد غریبوں کے استحصال کو روکناہے اور تجارتی قرضوں میں یہ علّت نہیں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ حج میں کثیر اخراجات صَرف کرنے کے بجائے اِس رقم کو ملّی ترقی کے کاموں پر خرچ کیاجانا چاہیے، بازار کے اوقات کی رعایت کرتے ہوئے بغیر سفر کے بھی ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشا کو ایک ساتھ ادا کرنے کی گنجایش ہونی چاہیے وغیرہ۔ غور کیجیے کہ اس طرح احکام شریعت میں تحریف و تبدیلی کا کتنا بڑا راستہ کھل جائے گا۔

یہ بات پیش نظر رکھنے کی ہے کہ شریعت کے منصوص احکام قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت ہیں۔ جب کہ شریعت کے مقاصد اور اس کی مصلحتیں اجتہاد و استبناط کے ذریعے متعین کی گئی ہیں، جن میں غلطی کا احتمال ہے۔ سماج میں پیش آنے والے مسائل کے ضمن میںاِن مقاصد کی رِعایت ملحوظ رکھنا بھی قیاس واجتہاد پر مبنی ہے، جن میں غلطی کاپورا پورااحتمال ہے۔ پھر مصلحتوں میں ٹکڑائو اور تصادم بھی پایاجاتا ہے۔ ایک ہی عمل بعض اوقات ایک مصلحت کو حاصل کرنے میں معاون ہوتاہے اور دوسری مصلحت کے حاصل کرنے میں رکاوٹ۔ جیسے شراب کی تجارت معیشت کے فروغ میں معاون ہے، آج شراب کی کمپنیاں مالی اعتبار سے مستحکم کمپنیاں شمار کی جاتی ہیں۔ لیکن یہی دین و اخلاق کے لیے نقصان دہ ہے۔ صحت کے لیے تباہ کن ہے اور انسان کی عقل کو متاثر کرنے والی شے ہے۔ اس لیے اگر محض شریعت کے عمومی مقاصد کو قرآن وحدیث میں صراحتاً مذکور احکام کے مقابلے میں ترجیح دی جانے لگے تو نفس پرست طبیعتیں قانون شریعت کی کیا درگت بنائیںگی، یہ محتاج بیان نہیں۔ اللہ تعالیٰ جزاے خیر عطا فرمائے فقہائ سلف کو ،کہ یہ اندیشے ان کی نگاہ میںتھے اور وہ فکر ونظر کے سلسلے میں پیداہونے والے امکانی انحرافات پر نظر کھتے تھے۔ اس لیے انھوںنے فتویٰ دینے کے اصولوںمیں اس بات کو شامل کرلیاکہ محض فقہی قواعد کی بنائ پر فتویٰ نہیں دیاجاسکتا۔ کیوں کہ یہ فقہی قواعد شریعت کے عمومی مقاصد کو بیان کرتے ہیں اور یہ ایسے نہیں ہوتے ہیں کہ ہر جگہ ان کااطلاق ہو۔ ان میں آپس میں تعارض بھی ممکن ہے۔

عقلِ انسانی کی نارسائی

ڈاکٹر صاحب کاایک اصولی موقف یہ ہے کہ ’’اجتہادکے اندر عقل ایک مؤثر کردارا ادا کرتی ہے‘‘﴿ص: ۲۵﴾ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام میں عقل کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور ہماراایمان ہے کہ شریعت کاکوئی حکم عقل ومصلحت کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ہندستان کے ایک بڑے مفکر کے بہ قول: ’’قرآن اللہ تعالیٰ کاقول ہے اور کائنات اللہ تعالیٰ کافعل اور اللہ تعالیٰ کے قول و فعل کے درمیان کوئی ٹکرائونہیں ہوسکتا۔‘‘ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان کی دوسری صلاحیتوں کی طرح عقل بھی نقص اور کوتاہی سے خالی نہیں۔ اس لیے اس اصول کو نہایت احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر عہد میں مختلف گمراہ لوگوں نے عقل کے نام پر قرآن و حدیث کے صریح احکام کاانکارکیا ہے، اس لیے اسلامی اعتقادات کے ماہرین ﴿جن کو متکلمین کہتے ہیں﴾ کے یہاں اس سلسلے میں بڑی بحثیں ہوئی ہیں کہ اجتہاد اور احکام شریعت کی تشریح میں عقل کاکیامقام ہے؟

اصل یہ ہے کہ کسی امر کا عقل کے خلاف ہونا اور بات ہے اور اس کا عقل سے ماورا اس کی پہنچ سے اونچا ہونا اور بات ہے، اگر کوئی حکم دین کی معتبر دلیلوں سے ثابت ہو، لیکن اُس کی مصلحت ہماری عقل کی گرفت میں نہ آئے تو ہمیں سمجھناچاہیے کہ بات تو وہی درست ہے جو قرآن وحدیث میں آئی ہے۔ لیکن ہماری عقل نارسا ہے ، وہ اس کی مصلحت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ چناں چہ ایسے احکام جن کی مصلحت سے ہم واقف نہیں ہیں اُن پر اس واقفیت کے بغیر ہی ہمارے لیے عمل کرنا بہرحال واجب ہے۔ بلاشبہ احکام شریعت کے اخذو استنباط میں عقل وفہم کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا، لیکن جب  کوئی بات واضح طورپر معتبر شرعی دلیلوں سے ثابت ہو تو وہاں قرآن و حدیث کے مقابلے میں عقل کو فیصل نہیں بنایاجاسکتا۔

تحقیق مناط

مصنف نے اس بات پر کافی زور دیاہے کہ ’’اجتہاد صرف علمائ کا کام نہیں ہے، عام مسلمانوں کو بھی اجتہاد کے عمل میں شامل کیاجانا چاہیے۔ ہاں یہ ہوسکتاہے کہ اجتہاد کی ایک قسم علمائ کے لیے مخصوص ہو‘‘﴿ص:۲۷،۲۸﴾ مصنف کی یہ بات راقم الحروف کے لیے حیرت انگیز ہے۔ معاشیات میں علماے معاشیات کی بات معتبر مانی جاتی ہے، عوام کی نہیں۔ میڈیکل مسائل میں، میڈیکل ڈاکٹروں کی بات قبول کی جاتی ہے نہ کہ عام لوگوں کی۔ ملکی قانون کی تشریح میں عدالتوں کی تشریح معتبر ہوتی ہے نہ کہ عوام کی۔ لیکن بیچاری شریعت ایسی مظلوم ہے کہ ہر آدمی اس پر رائے دے سکتا ہے اور ہر شخص اس کے بارے میں رائے زنی کا مجاز ہے۔ مصنف نے اس سلسلے میں علامہ ابواسحاق شاطبیؒ کی عبارت کاحوالہ دیاہے، لیکن یہ محض غلط فہمی ہے۔ اجتہاد اصطلاح میں قرآن وحدیث ، مماثلت ﴿قیاس﴾ اور مصلحت وغیرہ کی بنیا دپر احکام کے مستنبط کرنے کانام ہے اور اجتہاد کا محل ایسے مسائل ہیں، جو یقینی دلیلوں سے ثابت نہ ہوں، یعنی یا تو ان کا ذریعۂ ثبوت یقینی نہ ہو یا قرآن و حدیث میں اس کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، وہ ایک سو سے زیادہ معنوں کا احتمال رکھتے ہوں یا قرآن و حدیث میں اس صورت مسئلہ کے بارے میں کوئی وضاحت نہ ہو اور دو طرح کی مماثلتیں اور مشابہتیں پائی جاتی ہوں جو دو الگ الگ حکم کا تقاضا کرتی ہوں۔ یہ ہے اجتہاد کی حقیقت۔ اسلام کے اصول قانون پر لکھی گئی کتابوں میں پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ اس کاذکر کیاگیا ہے۔

علامہ شاطبیؒ نے اجتہاد کو اس کے اصطلاحی مفہوم کے بجائے وسیع مفہوم میں استعمال کیاہے، انھوںنے اجتہاد کی ایک شکل ’’تحقیق مناط‘‘ کو قرار دیاہے، ’’تحقیق مناط‘‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن یا حدیث میں ایک حکم دیاگیا، اس حکم کی وجہ ظاہر کردی گئی یا اجتہاد کرنے والوں نے اپنے اجتہاد سے اسے متعین کردیا اور اب یہ بات قرار پائی کہ جہاں جہاں بھی یہ وجہ پائی جائے گی، وہاں یہی حکم جاری ہوگا، جیسے شراب کو اس لیے حرام قرار دیاگیا ہے کہ وہ نشہ پیدا کرتی ہے، لہٰذا جو چیزیں نشہ پیدا کرنے والی ہوںگی وہ حرام ہوںگی۔ اب کسی زمانے میںکوئی نئی چیز ایجاد ہو اور ایک شخص باضابطہ عالم دین تو نہ ہو، لیکن وہ اس بات سے واقف ہو کہ فلاں چیز بھی نشہ آور ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس چیز سے بچے اور لوگوں کو بچائے۔ کیوں کہ جس سبب سے شریعت نے شراب کو حرام قرار دیاتھا، وہ واضح ہے اور وہ سبب یہاں بھی پایاجارہا ہے۔ اس کا نام ’’تحقیق مناط‘‘ ہے۔ اس میں احکام کا انستنباط اور اصطلاحی طورپر اجتہاد نہیں کیاجاتا، بلکہ فنّی طورپر واقف ہونے کی وجہ سے اجتہاد کے ذریعے جو حکم ثابت ہوچکا ہے، اس کو اس معاملے پر منطبق کیاجاتا ہے۔ اس کو آسان الفاظ میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ ’’حکم شرعی کو قرآن و حدیث سے مستنبط کرنا علمائ کاکام ہے، لیکن صورت مسئلہ سے واقفیت اُس معاملے کے ذریعہ بھی حاصل کی جاسکتی ہے، بل کہ بعض اوقات اس فن سے واقف معمولی تعلیم یافتہ لوگوں سے بھی‘‘ یہ فقہی اصطلاح کے اعتبار سے اجتہاد نہیں ہے۔

اصطلاحات کا اختلاف کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہوتا، لیکن بعض دفعہ بدنیت لوگ اس کا غلط استعمال کرلیتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسلم ممالک میں کہاجارہا ہے کہ پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں کو مجتہد تسلیم کرلیاجائے اور انھیں اجتہادی فیصلوں کی اجازت دی جائے۔ کچھ عرصہ قبل ترکی سے خبر آئی تھی کہ ترکی حکومت قرآن و حدیث کی جدید اور عصری تعبیر و تشریح کے لیے ایک ادارے کی تشکیل کررہی ہے۔ آج کل ممبران پارلیمنٹ کا علمی، اخلاقی اور دینی معیار کیا ہے؟ اور کسی قدر تبدیلی کے باوجود ترکی حکومت اسلامی تعلیمات کے بارے میں کیا فکر رکھتی ہے؟ یہ محتاج اظہار نہیں۔ اب اگر اجتہاد کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اس طرح کی بات قبول کرلی جائے جو مؤلف نے کہی ہے تو سوچیے کہ اس کاکتنا غلط استعمال ہوگا اور اسلام ہی کے نام پر اسلام کی کیسی تراش خراش ہوگی؟

چوں کہ عوام عربی زبان سے واقف نہیں ہیں اور ایسے شائقین اجتہاد کے مجتہد بننے میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس لیے ڈاکٹر صاحب کانقطہ نظر یہ ہے کہ اجتہاد کے لیے عربی زبان میں مہارت ضروری نہیں ہے۔ اس سلسلے میں انھوںنے علامہ شاطبیؒ  کی خصوصی اصطلاح یا تعبیر سے استدلال کیاہے۔ یہ بات اس لحاظ سے درست ہے کہ احکام شریعت کے استنباط کے لیے تو عربی زبان کاعلم ضروری ہے، لیکن صورت مسئلہ سے واقف ہونے اور مستنبط شدہ حکم کواس پر منطبق کرنے میں تعاون کے لیے عربی زبا ن سے واقفیت ضروری نہیں۔ لیکن جب آپ اس دوسرے کام کو اجتہاد کا نام دیں گے تو اس سے وہی غلط فہمی پیدا ہوگی، جس کا اوپر ذکر کیاگیا ہے۔ بہرحال مصنف نے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے حق اِجتہاد کے دعوے کو بار بار پیش کیا ہے اور ان کے نزدیک یہ طبقہ شرعی مسائل کے بارے میں ’’اپنی فکری توانائی اور مادّی وسائل ﴿کے استعمال﴾ میں امت کے پرانے روایتی عناصر پر فوقیت رکھنے کے سبب نئے غورو فکر میں زیادہ حصہ لے سکتا ہے‘‘﴿ص:۱۳۶﴾ مؤلف کو اس بات سے بڑی ناراضی ہے کہ ’’نئے پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد کی کوشش کو محض امت کے علمائ اور فقہا کا کام قرار دیاجائے اور باقی لوگوں کو اس بات پر قانع رکھاجائے کہ ان کا کام سمع و طاعت ہے‘‘۔ وہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں :

’’یہ سوچ درست نہیں، اس کی پہلی غلطی یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو ایک ایسے عمل میں شرکت سے محروم کرناچاہتی ہے، جس میں حصہ لینا ان کا نہ صرف حق ہے، بل کہ ان کی ذمہ داری ہے‘‘ ﴿ص: ۱۶۵﴾

مصنف کی اس وضاحت سے معلوم ہوتاہے کہ اجتہاد میں حصہ لینا عام مسلمانوں پر بھی فرض ہے۔ اس لیے یہ ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہے کہ اُن کو ایک فرض کی ادائی سے باز رکھاجائے ۔ نہ معلوم یہ فرضیت اوراستحقاق کس آیت یا حدیث سے ثابت ہے؟ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو مؤلف کے نزدیک شرعی مسائل میں دانشوروں کو اجتہادکرنے کا حق حاصل ہے اور دوسری طرف اسلامی بینکنگ اور اسلامی معاشیات کے بارے میں مؤلف کاخیال ہے کہ اس پر معاشی ماہرین کو غور کرناچاہیے۔ یہ علما کے بس کی بات نہیں، یعنی اجتہاد کے لیے تو عربی زبان سے اور اسلامی علوم سے براہ راست واقفیت ضروری نہیں، مگر اسلامی معاشیات کے لیے انگریزی زبان اور علم معاشیات سے براہ راست واقفیت ضروری ہے، بہ قول مؤلف :

’’ان کاموں کو صرف وہ لوگ انجام نہیں دے سکتے، جنھوں نے صرف دینی مدارس میں تعلیم پائی ہو، نہ یہ شریعہ اسکالرز کی اس نئی کھیپ کے بس کی بات ہے، جو اسلامی فائنانس کے طفیل پروان چڑھی ہے۔ اس میں ہر میدان کے تجربے والے، ہر اختصاص والے مردوں اور عورتوں، سب کے لیے کردار ادا کرنے کے کچھ کام ہیں‘‘ ﴿ص: ۳۲۱﴾

حضرت عمر ؓ کے طرزِ عمل سے استدلال

مصلحت کی وجہ سے قرآن وحدیث میں مذکورہ احکام میں تبدیلی کے سلسلے میں مؤلف نے حضرت عمرؓکے اس عمل سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ  تو مال غنیمت کو مجاہدین میں تقسیم کردیا کرتے تھے اور حضرت عمرؓ نے عرا ق کی مفتوحہ اراضی کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کی بجائے بیت المال کی عمومی ملکیت کو باقی رکھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ عمل قرآن وحدیث سے ہٹ کر نہیں تھا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلا لایاہے، وہ اللہ، رسول ، قرابت دار، یتیموں، مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، تاکہ ﴿دولت﴾ تم میں سے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے اور جو کچھ رسول تمہیں دیں، اسے قبول کرلو اور جس سے منع کریں اسے چھوڑدو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں‘‘﴿الحشر:۷﴾

آگے اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کے مزید مستحقین کاتذکرہ کرتے ہوئے آیت نمبر:۸ میں مہاجرین کا، آیت نمبر ۹ میں انصار کا اور آیت نمبر ۰۱ میں بعدمیں آنے والوں ﴿وَاللَّذِیْنَ جَآؤُ وا مِن بَعْدھِمْ﴾ کا ذکر کیا ہے، اس آیت سے جو بات واضح ہوتی ہے، وہ یہ کہ مال غنیمت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکو اختیاردیاتھا اور اس کاعمومی مصرف آپ ﷺ کے قرابت دار، اہل بیت کے ضرورت مند، مہاجرین اور انصار اور بعد میں آنے والوں کو قرار دیاگیا اور مصلحت یہ بتائی گئی کہ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہ رہ جائے۔ حضرت عمرؓ کایہی استدلال تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم سربراہ کی صوابدید پر ہے، یہ صرف مجاہدین کا حق نہیں، نیز اس میںمسلمانوں کی آنے والی نسلوں کاحصہ بھی ہے اور آنے والے لوگوں کو اس سے فائدہ اسی صورت میں پہنچ سکتا تھا کہ اس کو بیت المال کی ملکیت بنایاجائے، نیز اگر صرف فوجیوں میں اس کی تقسیم ہوجاتی تو یہ مقصد بھی فوت ہوجاتاکہ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہ رہ جائے۔

خود رسول ﷺکا عمل یہ تھا کہ اموال منقولہ یعنی جانور، روپے پیسے وغیرہ سے توآپ پانچواں حصہ بیت المال اوراپنی ضروریات کے لیے رکھ لیتے اور چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیتے اور غیرمنقولہ اموال یعنی زمین و مکان وغیرہ کی تقسیم اپنی صوابدید سے کرتے۔ چناں چہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سب سے بڑی جائیداد خیبر میں ملی۔ آپ ﷺ نے اس کا نصف حصہ اپنے تصرف میں رکھا اور نصف مسلمانوں میں تقسیم کردییا   ، جیساکہ ابودائودوغیرہ کی روایت میں ہے، خیبر کے بعد فدک کی زمین قبضے میں آئی، اسے آپ ﷺ نے اپنے تصرف میں رکھا، جس سے آپ ﷺ اپنی ضروریات پوری فرماتے تھے اور مسافروں اور مہمانوں پر صرف کرتے تھے۔ مکہ اور طائف فتح ہوا، مگر ان کی اراضی مجاہدین میں تقسیم نہیں کی گئی، اس لیے یہ سمجھنا کہ حضرت  عمرؓ نے مصلحت کی بنائ پر حضور کے عمل کو ترک کیاتھا، قطعاً درست نہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر صاحب کااستدلال ہے کہ ایک شخص نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اسے چھوڑدیا۔ حالاں کہ حضرت ابوبکرؓ نے  ایسے لوگوں سے جہادکیاتھا ، لیکن اگر غورکیاجائے تودونوں کاعمل حضورﷺ  کی حدیث پرہی مبنی ہے اور ان میں کوئی تضاد نہیں ہے، حضور ﷺ کے زمانے ہی میں ایک شخص نے زکوٰۃ دینے سے انکارکردیاتھا، آپ ﷺ نے اُس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، حضڑت ابوبکرؓ کے زمانے میں ایک دو فرد کے انکار کامسئلہ نہیں تھا، بل کہ پورا پورا قبیلہ انکار و بغاوت پر اترا ہواتھا۔ اگر ان کے خلاف سخت رویہ اختیار نہیں کیاجاتاتو یہ آیندہ ایک فتنے کی شکل اختیار کرلیتا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عمل اس حدیث پر مبنی تھا ، جس میں اس وقت تک لوگوں سے جہاد کا حکم دیاگیاہے، جب تک وہ ایمان نہ لائیں، نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ ادا نہ کریں۔ ‘‘لوگوں’’ کے لفظ سے اشارہ ہے جماعت کی طرف ، اور قتال سے اشارہ ہے کسی گروہ کی مسلح مخالفت کی طرف، کیوں کہ قتال یک طرفہ نہیں، دو طرفہ عمل ہے۔ عہد صدیقی میں یہ صورت حال پیش آئی کہ پورے پورے  قبیلے نے نہ صرف زکوٰۃ دینے سے انکارکردیا، بلکہ مسلح سرکشی پر اتر آئے۔ اس لیے دونوں کاعمل نص ہی پرمبنی تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ شریعت کے مصالح و مقاصد کی وجہ سے قرآن وحدیث کوچھوڑدیاگیا ہو۔

بے بنیاد اجتہادات

اب ایک نظر ہم عصر حاضر کے ارباب دانش کے ان اجتہادات پر ڈالتے ہیں، جن کا مصنف نے تائید و تحسین کے طورپر ذکر کیا ہے۔ ان میں سے کئی خواتین ہیں، کیوں کہ مؤلف کے خیال میں مسلم سماج کا نقشہ کچھ اس طرح ہے کہ ‘‘یہ کائنات مردوں کی آماجگاہ ہے اور عورتیں مردوں کے لیے بنائی گئی ہیں’’ ﴿ص: ۵۹﴾ چناں چہ لکھاگیاہے:

’’ہمارے زمانے میں ہوائی جہاز اور ریل گاڑی میں جہاں سیکڑوں مسافر موجود ہوتے ہیں، عورت کو خطرہ محسوس نہ ہوتو محرم کے بغیراس کے سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں‘‘ ﴿ص:۷۹﴾

غور کیجیے کہ آج بھی جہازوں اورٹرینوں میں دست درازی اور عصمت دری کے کتنے واقعات پیش آتے ہیں، بل کہ اب تک منظم طورپر نشہ پلاکر اور نشہ سنگھاکر ایسے جرائم کیے جاتے ہیں، جن سے ماضی میں لوگ ناآشنا تھے، ان حالات میں کیا یہ اجتہاد شریعت کی اس روح کے مطابق ہے، جو عورتوں کی عفت و عصمت کے تحفظ  سلسلے    میں انتہائی احتیاط چاہتی ہے؟ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی اور اس سے پہلے بھی لوگ بڑے بڑے قافلوں کی صورت میں سفر کرتے تھے اور اپنے اپنے قبیلے کے تحفظ کے سلسلے میں ان میں موجودہ دور کے مقابلے زیادہ حساسیت تھی۔ لیکن رسول اللہ  نے شرکائ سفر کی کثرت کو کافی نہیں سمجھا۔ یہاں تک کہ خود حجتہ الوداع کے لیے ایک خاتون نے اجازت چاہی، لیکن محرم کے نہ ہونے کی وجہ سے آپﷺنے اس کو شرکت کی اجازت نہیں دی۔ سوچیے کہ عہد نبویﷺکا ماحول زیادہ پُرامن تھا یا آج کاماحول؟ رسول اللہ ﷺ کو اس کا بخوبی اندازہ تھا کہ مستقبل قریب میں امن و امان کی فضا قائم ہوجائے گی، یہاں تک کہ آپﷺنے پیشین گوئی فرمائی کہ ایک بوڑھی عورت صنعا یمن سے شام تک کا سفر پورے امن کے ساتھ تنہا طے کرے گی، لیکن پھربھی آپﷺنے تاکید فرمائی کہ کوئی عورت محرم کے بغیر طویل سفر نہ کرے۔ اگر اس حکم کی اہمیت نہ ہوتی اور اس میں تبدیلی کی گنجایش ہوتی تو آپﷺفرماتے کہ طویل سفر میں اگر خطرات ہوں تب محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے، ورنہ نہیں۔ لیکن آپﷺنے ایسا نہیں فرمایا۔ کیوں کہ احکام عمومی حالات کے تحت دیے جاتے ہیں اور وہ حالات آج بھی تیزرفتار سواریوں، ٹرینوں اور جہازوں وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔

اسی طرح کا ایک اجتہاد یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان سیاسی جھگڑے نہ ہوں، امن وامان کی فضا ہو، وہاں اگر بیوی مسلمان ہوجائے اور شوہر اہل کتاب میں سے عیسائی یا یہودی ہو تو اس کا نکاح باقی رہے گا۔ بل کہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہاگیا ہے کہ مغرب کی مسلمان اقلیت کو اختیار دینا چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو عیسائی ویہودی مردوں کے ساتھ شادیاں کرنے کی اجازت دیں’’ ﴿ص:۱۷۸﴾ غور کیجیے کہ قرآن و حدیث نے یہ بات واضح کردی ہے کہ سوائے اس کے کہ مسلمان مرد یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کرسکتا ہے، مسلمان اور غیرمسلم کے درمیان نکاح کرنے یا نکاح کے باقی رہنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوسکتی، اور جن فقہا کی آرائ کو امت نے قبول کیا ہے، قریب قریب ان سب کا اس پر اتفاق ہے، بل کہ فقہائ نے تو مسلمان مرد کے کتابی عورت سے نکاح کو بھی پسند نہیں فرمایا ہے۔ حضرت عمرؓ نے تو اس سلسلے میں باضابطہ حضرت حذیفہؓ کو منع فرمایاتھا۔ کیا اس فکری انحراف کو اجتہاد کہاجاسکتا ہے؟

انھی اجتہادات میں یہ بھی ہے کہ ‘‘عورت کے مناصب حکومت پر فائزہونے میں کوئی حکم شرعی مانع نہیں ہے۔ ان مناصب میں صدر ملکت کاعہدہ بھی شامل ہے’’ اس کےبعد رسول اللہ ﷺ اس ارشاد کاکیا مفہوم ہوگاکہ ’’جو قوم اپنی باگ ڈور عورت کے حوالے کردے وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی‘‘    لن یفلح قوم ولوا امرھم امراۃ  ﴿بخاری،باب کتاب النبی کسری و قیصر،حدیث نمبر:۴۰۷۳﴾     ڈاکٹر صاحب ایک جگہ فرماتے ہیں  :

’’یہاں تک کہ بعض ایسے طورطریقے بھی رواج پاگئے، جو اسوۂ نبوی کے سراسر خلاف تھے، مثلاً عورتوں اور مردوں کا ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھانا، عورتوں کو سلام نہ کرنا یا اُن کے سلام کا جواب نہ دینا، عورتوں کو مساجد میں نہ آنے دینا وغیرہ، یہ مقامی عرف و عادات تھے، جنھیں دانستہ یا نادانستہ مسلم معاشرے نے اپنالیا‘‘﴿ص: 193﴾

گویا عورتوں اور مردوں کے اختلاط میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اجنبی مرد و عورت ایک دوسرے کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا سب کرسکتے ہیں۔ اگر اسلام کایہی مزاج ہوتا تو نماز میں آگے مردوں کی، درمیان میں بچوں کی اور پیچھے عورتوں کی صف کیوں رکھی جاتی؟ عورتوں کو کیوں حکم دیاجاتاہے کہ وہ راستے میں ایک کنارہ سے چلا کریں، بیچ سے نہ چلیں؟ کیوں ارشاد ہوتا کہ ان کاگھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے؟ خلفاے راشدین کی مجلس شوریٰ میں ان کو کیوں نہ شامل رکھاجاتا؟ ازواج مطہرات کو اپنے گھروں میں محدود رہنے کا کیوں حکم دیاجاتا؟ ﴿وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ﴾ ﴿الاحزاب: ۳۳﴾ اور پھر یہ بھی دیکھیے کہ مغربی معاشرے نے جب مردوں اور عورتوں کے اختلاط کو درست قرار دیا تو اس کے اخلاقی اثرات کیا مرتب ہوئے؟ کیا ہم اِس امت کو اسی سطح پر لے جاناچاہتے ہیں؟

مصنف کا خیال ہے کہ ’’عورتوں کا سر ڈھکنا محض ایک رواجی عمل تھا، کوئی شرعی حکم نہیں ہے‘‘  ان کا مشورہ یہ بھی ہے کہ ‘‘اس سلسلے میں مسلمانوں کو مغربی ملکوں سے محاذآرائی نہیں اختیار کرنی چاہیے‘‘ ﴿ص : ۱۹۴،۱۹۵﴾ حدیثوں میں صراحت موجود ہے کہ جوان عورتوں کا چہرہ اورہتھیلیوںکے سوا کوئی اور چیز نظرنہیں آنی چاہیے، نیز چہرے کے پردے کے بارے میں اختلاف رائے پایاجاتا ہے، وہ بھی اس صورت میں کہ فتنہ کااندیشہ نہ ہو، لیکن سر کے قابل ستر ہونے پر اجماع و اتفاق ہے، قرآن مجید میں ’’جلباب‘‘ ﴿گھونگھٹ﴾ اور ’’خمار‘‘ ﴿اوڑھنی﴾ کے استعمال کا حکم دیاگیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ سر کو شامل ہے، مصنف کاخیال ہے کہ ’’اوڑھنی صرف سینے پر ڈالنے کے لیے ہے‘‘ حالاں کہ یہ اس لفظ کے متوارث تشریح کے خلاف ہے اور اگر سر پہ اوڑھنی بھی نہ ہو اور چہرے کا پردہ بھی نہ ہوتو عورتوں کے اسلامی اور مغربی لباس میں فرق ہی کیا باقی رہ جاتا ہے؟ پھر یہ سمجھنا کہ فلاں مسئلے پر مغرب سے محاذ آرائی نہ ہونی چاہیے تاکہ تعلقات میں ہم آہنگی پیداہو، اپنے آپ کو دھوکے میں ڈالنا ہے۔ کیوں کہ مغرب کو ہر طرح کی اسلامی شناخت سے نفرت ہے اور قرآن مجید نے یہود ونصاریٰ کی نفسیات کو اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ جب تک تم ان کے طور طریقے کو قبول نہ کرلو، وہ تم سے راضی نہیں ہوسکتے۔

شاذ اقوال کی حیثیت

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کسی مسئلے میں شاذ و نامقبول قول کامل جانا دشوار نہیں، مگر جس قول کو امت کے معتبر فقہا نے رد کردیا ہو، وہ قابل قبول نہیں ہوتا۔ اس لیے امام اوزاعیؓ فرماتے ہیں کہ جس نے علمائ کے شاذ اقوال کو لیا، وہ دین کے دائرے ہی سے باہر ہوگیا: من أخذ بنوادرالعلماء خرج من الاسلام اور سلیمان تیمی نے فرمایا کہ اگر تم ہر عالم کی رخصت کو جمع کرتے جائوگے تو تم میں سارا شر جمع ہوجائے گا اأخذت بر خصۃ کل عالم اجتمع فیک الشر کلہ ﴿الموافقات: ۴/۰۷۱﴾

مصنف کے خیال میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی وہ کارروائی جس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے ، دہشت گردی ہے، ﴿ص:۷۸۲﴾ اسی طرح مصنف کی رائے کاحاصل یہ ہے کہ نیوکلیئر اسلحہ اور دوسرے خطرناک ہتھیاروں سے مسلمانوں کو یک طرفہ طورپر دستبرداری اختیارکرلینی چاہیے، ﴿ص: ۵۹۲﴾ غور کیجیے کہ مسلمانوں کے پاس اسلحہ سازی کی ٹکنالوجی ہی کس معیار کی ہے ؟ اور ان کو منصوبہ بند طور پر غلام بناکر رکھنے کی کوشاں قومیں کس طرح عالم اسلام کے خلاف تیاریاں کررہی ہیں؟ کہ کئی عرب ممالک مل کر چھوٹے سے اسرائیل کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ ان حالات میں کیا مسلمانوںکو اس قسم کا مشورہ دیاجاسکتا ہے، اور قرآن مجید میں جو حتی المقدور دفاع کے لیے تیار رہنے کا حکم دیاگیا ہے: ﴿وأَعِدُّو اْلَھُمْ مَّا اسْتَطَعتُم مِّن قُوَّۃٍ﴾ ﴿الانفعال:۰۶﴾ کیا یہ مشورہ اس سے ہم آہنگ ہے؟

غرض کہ ڈاکٹرمحمد نجات اللہ صدیقی کی کتاب مقاصدِشریعت، مجموعی طورپر یہ تأثر دیتی ہے کہ دنیوی مصلحتوں کے لیے قرآن وحدیث کے صراحت کردہ احکام میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے، حالاں کہ فقہائ کے یہاں یہ تسلیم شدہ اصول مانا گیاہے کہ جو مسائل قرآن وحدیث میں مصرح ہوں، ان کے مقابلے میں کوئی مصلحت  معتبر نہیں ہوگی : المشقہ      والحرج اِ نما یعتبر ان من موضع لانص فیہ، وأمامع النص بخلافہ فلا ﴿الأشباہ والنظائر مع غمز البصائر: ۱/۲۷۱

اس کتاب سے مجموعی طورپر یہ ذہن بنتاہے کہ کسی زمانے کے عرف اور رواج کی بنیاد پر بعض نصوص کو ترک کیاجاسکتا ہے۔ حالاں کہ ہمارے فقہائ کے یہاں عرف اور رواج معتبر ضرور ہے، لیکن قرآن وحدیث کے مقابلے میں نہیں : ولااعتبار للعرف المخالف للنص ﴿نشر العرف، ص:۱۱۴﴾

بعض ایسی باتیں جن کا قرآن و حدیث میں حکم دیاگیا ہے، ان کے بارے میں مصنف کا نقطہ نظر ہے کہ وہ عربوں کے رواج اور ان کے عرف پر مبنی ہیں اور وہ ہر دور میں واجب العمل نہیں، اگر اس بات کو مان لیاجائے تو پھر معاشرتی مسائل سے متعلق اسلام کی اکثر تعلیمات پر خط نسخ پھیراجاسکتا ہے۔

غرض مصنف کارجحان ایسے اجتہادات کی طرف ہے، جو مغرب کے تصور آزادی سے ہم آہنگ ہوں، چاہے وہ کتاب و سنت کی اس تشریح کے خلاف ہوں جس کو امت کے سواد اعظم نے قبول کیا ہے، یقینا اس کتاب سے فکری انحراف کا وسیع راستہ کھلتا ہے۔ ایک صاحب نظر، صاحب علم اور دینی حلقہ سے مربوط اور اسلامی نظام معیشت کی ترجمان شخصیت کی جانب سے ایسے افکار کا ظہور ہمیں علامہ اقبال کے ان اشعار کی یاد دلاتا ہے:

جلوہ اش مارا زمابیگانہ کرد   : سازمارا از نوابیگا کرد

ازدل ماآتش دیرینہ برد  : نورونار لا اِلہ از سینہ برد

اجتہاد اندر زمان انحطاط  :  قوم را برہم ہمی پیچد بساط

اجتہاد عالمان کم نظر  :  اقتدائ بررفتگاں محفوظ تر

﴿اس ’’مغرب‘‘ کے جلوہ نے ہم کو ہم سے ہی بیگانہ کردیا ہے، اس نے ہمارے ساز کو آواز سے محروم کردیا ہے، ہمارے دلوں سے قدیم آگ کو بجھادیاہے اور لااِلہ کی روشنی اور حرارت سینوں سے رخصت ہوگئی ہے، زمانۂ انحطاط میں اجتہاد، قوم کو منتشر کردیتا اور اس کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیتاہے، کم نظر عالموں کے اجتہاد کے مقابلے گزرے ہوئے لوگوں کی پیروی ہی زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔﴾

مئی 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau