Opens in a new tab

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نظریۂ شخصیت

(پہلی قسط)

انسان کائنات کی منفرد مخلوق ہے، جس میں جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتیں یکجا ہیں۔ وہ مادی دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب سے شعوری تعلق قائم کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ اس لیے انسان نہ محض حیوانی وجود ہے، نہ صرف عقلی وجود (Rational Being) اور نہ مجرد روح، بلکہ جسم، نفس، عقل، قلب، روح اور ارادے کا جامع وجود ہے۔ ان عناصر کا توازن اور باہمی ہم آہنگی ہی صالح، متوازن اور باوقار شخصیت کی بنیاد ہے۔

جدید نفسیات میں شخصیت کو عموماً جسمانی، ذہنی، جذباتی اور رویاتی (Behavioural) خصوصیات کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔ مختلف نظریات اس کی تشکیل میں وراثت (Heredity)، ماحول (Environment)، سماجی تجربات (Social Experiences)، سیکھنے (Learning)، لاشعور (Unconscious) اور محرکات (Drives) کو اہم قرار دیتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اسلامی تصور میں انسان ان سے کہیں زیادہ جامع ہستی ہے۔ اس کی شخصیت کا ایک اخلاقی وروحانی پہلو بھی ہے، جس میں اخلاقی رجحانات، جذبۂ عبودیت اور قوتِ ارادی اس کی فطری استعدادوں اور میلانات کو درست سمت دیتے ہیں۔

فطرت سے مراد وہ اصل اور پاکیزہ ساخت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ قرآن کہتا ہے: فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّینِ حَنِیفًا ۚ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ (الروم: 30)۔ یعنی انسان کو حق، خیر اور توحید کی فطری استعداد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَة، (ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے)۔ تاہم اس فطری استعداد کی نشوونما یا انحراف میں خاندان، تعلیم، معاشرہ، ماحول اور خود انسان کے اختیاری فیصلے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسلام انسان کو نہ مجبور محض سمجھتا ہے اور نہ مطلق خود مختار، بلکہ مشیئت الٰہی کے تحت ایک ذمہ دار صاحب اختیار اخلاقی ہستی (Free Moral Agent) قرار دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ (البلد: 10)،  (ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دیے)، اور إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (الدہر: 3)، ( ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔) اس لیے انسانی شخصیت مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ (Predetermined) نہیں ہے۔ اس کی تشکیل میں فطری استعداد کے ساتھ ارادہ، انتخاب، عمل، تربیت اور مجاہدۂ نفس بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

فکر و عمل کے محرکات

اسلام کے نزدیک انسانی شخصیت جامد (Static) نہیں بلکہ تربیت، اختیار اور عمل سے مسلسل ارتقا پذیر (Dynamic) ہے۔ انسان اپنے خیالات، اعمال، عادات اور قلبی کیفیات کے ذریعے اپنی شخصیت کو سنوارتا یا بگاڑتا رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن تزکیۂ نفس کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتا ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (الشمس: 9-10، کامیاب ہوا جس نے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کیا)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تصور میں شخصیت کی کامیابی کا معیار محض ذہانت، دولت، اقتدار یا سماجی مقام نہیں، بلکہ اخلاقی پاکیزگی اور تعلق باللہ ہے۔ شخصیت سازی کا اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ انسان کی عقل، جذبات، خواہشات اور اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اور باہم ہم آہنگ ہو جائیں۔

تصور انسان کی بحث میں فطرت (Nature)، مزاج (Temperament)، طبیعت (Disposition)، کردار (Character) اور شخصیت (Personality) باہم متعلق ہیں، لیکن ان کے مفاہیم الگ الگ ہیں۔ فطرت انسان کی مشترک خداداد ساخت ہے۔ مزاج اس کی پیدائشی جذباتی اور نفسیاتی کیفیت ہے۔ طبیعت اس کے عمومی رجحانات اور میلانات کو ظاہر کرتی ہے۔ کردار تربیت، عمل اور عادت سے بننے والے اخلاقی اوصاف کا نام ہے۔ شخصیت ان تمام عناصر کا منظم مجموعہ ہے۔ یہی مجموعہ انسان کو انفرادی تشخص (Identity)عطا کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص تیز مزاج ہو سکتا ہے۔ لیکن اچھی تربیت سے وہ اپنے اندر صبر اور ضبط کے اوصاف پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس کوئی شخص نرم طبیعت ہو سکتا ہے۔ لیکن دیانت داری اور ذمہ داری میں کمی کی وجہ سے اس کا کردار کم زور ہو سکتا ہے۔ گویا مزاج زیادہ تر پیدائشی ہوتا ہے۔ کردار بڑی حد تک اکتسابی (Acquired)ہوتا ہے۔جب کہ شخصیت ایک جامع تشکیلی عمل کے بعد ابھرتی ہے۔ یہ فطرت، مزاج،کردار،عقل، ارادہ، ایمان، علم اور عمل کے باہمی تعامل سے بنتی ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ کے دسویں باب میں ان پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق انسان کے خیالات، خواہشات اور عملی محرکات بے سبب پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے مختلف عوامل کام کرتے ہیں۔ ان عوامل میں فطرت، مزاج، عادت، ماحول اور روحانی اثرات اہم ہیں۔ پہلا عامل انسان کی فطری ساخت یا طبعی استعداد (Natural Disposition) ہے۔ یہ وہ بنیادی ساخت ہے جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ انسانی رویوں کی بنیادی جڑیں اسی پیدائشی ساخت میں ہوتی ہیں۔ دوسرا عامل مزاج (Temperament) ہے۔ مزاج فطری ساخت کے مقابلے میں زیادہ قابل تغیر ہے۔ خوراک اور مشروبات اس پر اثر ڈالتے ہیں۔ جسمانی صحت اور عمر بھی اسے متاثر کرتی ہے۔ روزمرہ معمولات سے بھی اس میں تبدیلی آسکتی ہے۔ تربیت اور حالات بھی اس کے اظہار اور شدت کو بدل سکتے ہیں۔ تیسرا عامل عادات ومعمولات (Habits and Customs) ہیں۔ انسان جس کام کو بار بار کرتا ہے، اس کا اثر اس کے نفس پر پڑتا ہے۔ ماحول اور طرز زندگی بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بار بار کیا جانے والا عمل رفتہ رفتہ عادت بن جاتا ہے۔ پھر یہ عادت نفس میں راسخ ہوجاتی ہے۔ اس طرح عادت شخصیت میں رچ بس جاتی ہے۔ چوتھا عامل روحانی ادراک ہے۔ بعض اوقات نفس ناطقہ (Rational Soul) جسمانی تقاضوں اور حیوانی خواہشات (Animalistic Impulses) کے غلبے سے نسبتاً آزاد ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ عالمِ بالا سے بعض خیالات اور کیفیات اخذ کرتا ہے۔ یہ اثرات انسان کے باطن کو روشن کرتے ہیں، قلب میں اطمینان پیدا کرتے ہیں، اور خیر کی طرف مائل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض خیالات منفی یا شیطانی اثرات سے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ جب نفس پست میلانات کی طرف زیادہ مائل ہو تو وہ ایسے اثرات قبول کرتا ہے۔ اس سے برے خیالات اور منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اثرات ناپسندیدہ اعمال کی تحریک بھی بن سکتے ہیں۔ شاہ صاحب نے خوابوں (Dreams) کو بھی اسی اصول کے تحت رکھا ہے۔ فرق یہ ہے کہ خواب کی حالت میں نفس کا تعلق ظاہری حواس اور جسمانی مشاغل سے نسبتاً کم ہوجاتا ہے۔ [The Conclusive Argument from God, Marcia K Hermansen, 1996, pp.78-79]

اختلاف طبائع اور مراتب کمال

شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس سے پہلے والے باب نہم میں انسانی شخصیت کا عمیق اور متوازن تجزیہ پیش کیا ہے۔ باب کے آغاز میں مذکور روایت کہ پہاڑ کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا ممکن سمجھو، مگر انسان کے خلق وسرشت کا بدل جانے پر یقین نہ کرو، کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم شاہ صاحب کا نظریہ صرف اسی ایک روایت پر قائم نہیں ہے۔ وہ صحیح حدیث النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ (لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی مانند ہیں) اور قرآنی آیت قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ  (بنی اسرائیل: 84، ہر شخص اپنی شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے) سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ رحمۃ الواسعہ (ص: 304) میں شاکلہ کو سجیہ، یعنی فطری عادت وطبیعت، کے مفہوم میں بیان کیا گیا ہے۔

شاہ صاحب نے انسانی فطرت، نفسیاتی مشاہدے اور اخلاقی فلسفے کو ایک مربوط تصور کے تحت جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک انسان کی داخلی قوتیں، اختلاف طبائع، روحانی ارتقا اور مراتب کمال (Degrees of Perfection) باہم مربوط ہیں۔ چناں چہ شخصیت کو سمجھنے کے لیے محض ظاہری اعمال کا جائزہ لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ باطنی قوتوں، ان کے باہمی تعلق اور درجہ بندی (Hierarchy of Faculties) کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ گرچہ تمام انسان ایک ہی فطرت پر پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی استعدادوں اور رجحانات میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ان کے عملی رویے بھی یکساں نہیں ہوتے۔ یہ اختلاف انسانی معاشرے میں تنوع پیدا کرتا ہے۔ یہی تنوع تمدنی ارتقا کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی انسان فطری طور پر خیر کے لیے پیدا ہوا ہے اور کوئی شر کے لیے۔ ہر انسان میں خیر کی استعداد موجود ہے۔ البتہ اس استعداد کا ظہور مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ اس پر فطری ساخت اثر انداز ہوتی ہے۔ تربیت اور ماحول بھی اسے متاثر کرتے ہیں۔ انسان کی اختیاری جدوجہد سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شاہ صاحب نے اسی حقیقت کو انسانی وجود کی بنیادی قوتوں کے تجزیے سے واضح کیا ہے۔

شخصیت کی داخلی ساخت

شاہ صاحب نے انسانی شخصیت کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور انسانی فطرت، اخلاق، معاشرت اور تمدن کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے انسان کے اندر کام کرنے والی مختلف قوتوں (Faculties) کا تجزیہ کیا۔ انسانی محرکات (Motivations) پر بھی غور کیا ہے۔ اور روحانی واخلاقی میلانات (Inclinations) کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک انسان ایک وحدت ہے۔ لیکن اس کے اندر کئی قوتیں بیک وقت سرگرم کار رہتی ہیں۔ یہ قوتیں کبھی ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ کبھی ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ کبھی ایک قوت دوسری کے مقابلے میں دب جاتی ہے۔ اگر ان کے باہمی تعامل میں توازن ہو تو شخصیت میں اعتدال پیدا ہوتاہے۔ ان کی درست ترتیب شخصیت کو مستحکم کرتی ہے۔ اس کے برعکس بے اعتدالی داخلی کشمکش پیدا کرتی ہے۔ یہی کشمکش اخلاقی انحراف کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے شخصیت کی اصلاح محض ایک عادت یا صفت کی اصلاح نہیں ہے۔ یہ پورے باطنی نظام کی درست تنظیم (Integration)کا نام ہے۔

شاہ صاحب نے انسانی وجود میں دو بنیادی قوتوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک ملکوتی قوت (Angelic Faculty)ہے، دوسری حیوانی قوت (Animal Faculty)ہے۔ ان دونوں کا باہمی تعلق ان کے نظریۂ شخصیت کا مرکز ومحور ہے۔ ملکوتی قوت انسان کی اعلیٰ روحانی، عقلی اور اخلاقی استعداد ہے۔ یہ اسے معرفت الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسے حق اور عدل کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہی قوت تقویٰ، علم اور حکمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ایثار اور خدمت خلق پر ابھارتی ہے۔ دوسروں کے حقوق کا شعور دیتی ہے۔ محاسبۂ نفس کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار کرتی ہے۔ اسے ملکوتی کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان فرشتہ بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم زوریوں کے باوجود انسان اپنے اندر ملکوتی صفات کا اثر لینے کی استعداد رکھتا ہے۔ وہ اطاعت، پاکیزگی اور خیر کو اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں حیوانی قوت (Animal Faculty)جسمانی اور دنیوی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ بھوک اور پیاس اسی فطری مطالبے ہیں۔ نیند اور جنسی خواہش بھی اسی کا حصہ ہیں۔ غصہ، خوف اور تحفظ ذات کا جذبہ بھی اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ مال کی طلب، افزائش نسل اور معاشی جدوجہد بھی اسی کے دائرے میں آتے ہیں۔ لیکن حیوانی قوت بذات خود بری نہیں ہے۔ یہ انسانی زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ خاندان اور معاشرے کی بقا بھی اسی سے وابستہ ہے۔

شاہ صاحب جسمانی خواہشات کو رد نہیں کرتے اور نہ ہی رہبانیت کو انسانی کمال سمجھتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ مادیت (Materialism) کے رجحان کو بھی قبول نہیں کرتے۔ انسان محض حیوانی خواہشات کا مجموعہ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک کمال خواہشات کو مٹانے میں نہیں، اصل کمال انھیں صحیح سمت دینے میں ہے۔ خواہشات کو عقل، وحی اور اخلاق کے تابع ہونا چاہیے۔ قرآن بھی خواہشات کو انسانی زندگی کا فطری حصہ قرار دیتا ہے (زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ۔ آل عمران: 14)، لیکن قرآن خواہشات کی غلامی سے روکتا بھی ہے (أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ۔ الجاثیہ: 23)۔ گویا خواہشات کا وجود فطری ہے، لیکن ان کا غلبہ بھی مطلوب نہیں ہے۔ انسانی کمال یہ ہے کہ خواہشات انسان کے تابع ہوں، انسان خواہشات کا تابع نہ رہے۔

شخصیتوں کا فطری تنوع

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی استعدادوں، صلاحیتوں اور طبائع میں فرق رکھا ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا (الزخرف: 32، ہم نے بعض کو بعض پر درجوں میں بلند کیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں)۔ یہ تفاوت صرف معاشی پہلو سے نہیں ہے۔ انسانوں کی استعدادیں (Capabilities) بھی مختلف ہیں، ان کی صلاحیتیں (Abilities) بھی یکساں نہیں ہیں، اور ان کی طبائع (Dispositions) میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ اگر سب انسان یکساں ہوتے تو تقسیم کار ممکن نہ ہوتی۔مختلف علوم وفنون وجود میں نہ آتے۔ قیادت اور خدمت کی مختلف صورتیں پیدا نہ ہوتیں۔ تمدنی ترقی بھی ممکن نہ ہوتی۔ اس لیے انسانی تنوع اجتماعی زندگی کی ضرورت ہے۔ یہ حکمت الٰہی کا مظہر ہے۔

اختلاف طبائع کا مطلب یہ نہیں کہ بعض انسان پیدائشی طور پر نیک اور بعض برے ہوتے ہیں۔ اسلام اخلاقی تقدیر کو پیدائشی بنیاد پر طے شدہ نہیں سمجھتا۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کو خیر وشر کا شعور عطا کیا گیا ہے (فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ الشمس: 8)۔ البتہ اس شعور کا عملی اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ مزاج اس پر اثر ڈالتا ہے۔ تربیت اور ماحول بھی اسے متاثر کرتے ہیں۔ انسان کی اختیاری کوشش سب سے اہم ہوتی ہے۔ اس لیے اختلاف طبائع کی وجہ سے اخلاقی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

مزاج انسان کی پیدائشی ساخت کا حصہ ہے۔ کردار اس مزاج کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ مثلاً دو افراد یکساں طور پر جرأت مند ہوسکتے ہیں۔ ایک اپنی جرأت کو حق اور عدل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ مظلوم کی حمایت کرتا ہے۔ دوسرا اسی جرأت کو ظلم اور غلبے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دونوں کا مزاج ایک جیسا ہے۔ لیکن کردار مختلف ہے۔ اسی طرح طبیعت کی حساسیت بھی مختلف رخ اختیار کرسکتی ہے۔ وہ رحمت اور ہمدردی میں ڈھل سکتی ہے۔ خدمت خلق کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن یہی حساسیت مایوسی اور خود ترسی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ فرق تربیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام مزاج کو مٹانا نہیں چاہتا۔ وہ اسے درست سمت دیتا ہے۔ شریعت کا مقصد سب انسانوں کو ایک سانچے میں ڈھالنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد مختلف طبائع کو خیر، عدل اور تقویٰ کے تابع کرنا ہے۔ صحابۂ کرامؓ کے مزاج بھی مختلف تھے۔ ان کی صلاحیتیں بھی الگ الگ تھیں۔ لیکن ان کے کردار میں ایمان مشترک تھا۔ تقویٰ مشترک تھا۔ اطاعت الٰہی ان سب کی مشترک قدر تھی۔ اختلافِ طبائع کا اثر صرف انفرادی شخصیت پر نہیں پڑتا۔ اس کا تعلق معاشرتی زندگی سے بھی ہے۔ کوئی علم وتحقیق میں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ کوئی تعلیم وتربیت میں۔ کوئی انتظام وقیادت (Administration and Leadership) میں۔ کوئی تجارت، صنعت اور حرفت میں۔ اور کوئی خدمت خلق میں نمایاں ہوتا ہے۔

جب افراد اپنی استعداد کے مطابق کام کرتے ہیں تو معاشرہ متوازن انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ ہر فرد اجتماعی زندگی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یوں معاشرہ ایک متوازن جسم کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کے برعکس غیر متوازن کردار مسائل پیدا کرتے ہیں۔ خواہش، تقلید یا سماجی دباؤ کو قبول کرکے انسان اپنی صلاحیت کو غلط رخ پر لے جاسکتا ہے۔ اس سے فرد میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ معاشرہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے شخصیت سازی میں طبائع کی پہچان ضروری ہے۔ ان کی تہذیب (Refinement) ضروری ہے۔ ان کی تنظیم (Integration) اور تزکیہ ضروری ہے۔ اس سے انسانی رجحانات کو صحیح سمت ملتی ہے۔ وحی، عقل اور اخلاق ان کی رہ نمائی کرتے ہیں۔ تب شخصیت اعتدال اور کمال کی طرف بڑھتی ہے۔

انسانی طبائع: کشمکش اور ہم آہنگی

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نظریۂ شخصیت میں انسانوں کو محض نیک اور بد کے خانوں میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔ شاہ صاحب انسانی مزاج (Temperament) کو اہمیت دیتے ہیں۔ باطنی قوتوں (Inner Forces) کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ روحانی استعداد (Spiritual Capacity) کو بھی شخصیت کی تشکیل میں اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ملکوتی اور حیوانی قوتوں کے درمیان کبھی کشمکش پیدا ہوتی ہے، اور کبھی ان میں ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ دونوں قوتوں کی شدت بھی ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتی۔ ان قوتوں کے درجات اور باہمی تعلق کی نوعیت کی وجہ سے شخصیت میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔ شاہ صاحب نے اسی بنیاد پر شخصیت کے آٹھ بنیادی نمونے بیان کیے ہیں۔

شاہ صاحب کے نزدیک انسان کی فطری ملکوتی اور حیوانی قوتوں کے باہمی تعامل سے شخصیت کی آٹھ بنیادی صورتیں بنتی ہیں۔ انسانوں کے کردار، صلاحیتوں، اعمال اور مراتب کمال کا اختلاف محض اتفاقی نہیں، بلکہ ان کی فطری ساخت (Natural Disposition) اور داخلی قوتوں کے تفاوت کا نتیجہ ہے۔ (رحمۃ اللہ الواسعہ:ص۳۱۱)

انھوں نے انسانی شخصیت کی باطنی قوتوں کو صوفیانہ اصطلاحات میں بیان کیا ہے۔ ان کے پیش کردہ نظریے کو تمثیل کے ذریعے زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ درج ذیل تمثیل میں سوار انسان کی ملکوتی استعداد ہے، گھوڑا حیوانی قوت، اور منزل ان دونوں کی باہمی کشمکش یا ہم آہنگی سے تشکیل پانے والی شخصیت کی علامت ہے۔ سوار اور گھوڑے کی قوت اور ان کے مابین کشمکش یا ہم آہنگی یہ طے کرتی ہے کہ انسان کس منزل اور مرتبۂ کمال تک پہنچے گا۔

اس دنیا میں انسان ایک مسافر کی مانند ہے جو ایک طویل سفر پر گامزن ہے۔ اس کے اندر ملکوتی قوت (Angelic Force) سوار کی مانند ہے جو منزل کو پہچانتی، راستہ چنتی اور سفر کو درست سمت دیتی ہے۔ جب کہ حیوانی قوت (Animal Force) گھوڑے کی مانند حرکت، توانائی، خواہش، غصہ، جرأت اور عملی قوت فراہم کرتی ہے۔ سفر کے لیے دونوں ضروری ہیں۔ سوار راستہ جانتا ہے مگر گھوڑا کم زور ہو تو منزل تک پہنچنا دشوار ہے۔ اور گھوڑا طاقت ور ہے مگر سوار کم زور ہو تو وہ بے قابو ہو سکتا ہے۔ کامیاب سفر کے لیے سوار کی درست رہ نمائی اور گھوڑے کی مناسب قوت، دونوں ہی ضروری ہیں۔

قوت مَلَکوتی کے بھی دو درجے ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ ایسے بصیرت مند سوار کی مانند ہے جو راستے کے ساتھ منزل اور پورے سفر کی حکمت کو بھی سمجھتا ہے۔ وہ حقائق کو مجموعی طور پر سمجھنے، اسماء وصفات الٰہی کی معرفت حاصل کرنے اور اعلیٰ اجتماعی مقاصد کی خاطر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی نسبت ملأ اعلیٰ (Highest Council) سے ہے۔ اس کے برعکس ادنیٰ درجہ ایسے سوار کی مانند ہے جو سفر کی پوری حکمت سے واقف نہیں ہے، لیکن احکام کی بجا آوری بلا چوں وچرا فورا کرتا ہے اور حیوانی قوت کو قابو میں رکھنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔

اسی طرح قوت حیوانی بھی قوی یا ضعیف ہوتی ہے۔ قوی حیوانی قوت (Strong Animal Disposition) ایک طاقت ور اور تیز رفتار گھوڑے کی مانند ہے، جس میں جرأت، بلند ہمتی، غصہ، غیرت، خواہش، مقابلے اور غلبے کا جذبہ نمایاں ہوتا ہے۔ یہ حیوانی قوت فی نفسہ شر نہیں ہے۔ درست رہ نمائی میں یہی قوت قیادت، جدوجہد اور بڑی ذمہ داریاں اٹھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن بے قابو ہو تو غصے، شہوت، جارحیت اور غلبہ پسندی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس ضعیف حیوانی قوت کم زور گھوڑے کی مانند ہے، جس میں خواہش، غصے، مقابلے اور غلبے کا جذبہ کم ہوتا ہے۔ اسی لیے مشکل حالات میں اس کی عملی قوت، جرأت اور بڑی ذمہ داریاں اٹھانے کی صلاحیت بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ان دونوں قوتوں کی بنیادی کیفیت بڑی حد تک پیدائشی (Innate) ہوتی ہے۔ لیکن تربیت اور اکتساب سے انھیں مضبوط، کم زور یا منظم کیا جا سکتا ہے۔ گویا ہر انسان کو سوار اور گھوڑا الگ الگ استعداد کے ساتھ ملتے ہیں، مگر تربیت اور ارادہ طے کرتے ہیں کہ وہ اپنا سفر کس انداز سے طے کریں گے۔

ان دونوں قوتوں کا باہمی تعلق بھی مختلف ہوتا ہے۔ کبھی ان میں کشمکش (Inner Conflict) ہوتی ہے؛ سوار ایک سمت جانا چاہتا ہے اور گھوڑا دوسری طرف کھینچتا ہے۔ قوت مَلَکوتی غالب ہو تو نفسانی خواہشات قابو میں رہتی ہیں، اور حیوانی قوت غالب ہو تو روحانی واخلاقی تقاضے دب جاتے ہیں۔ یوں انسان کی زندگی مسلسل داخلی کشمکش کا میدان بنی رہتی ہے۔ دوسری صورت باہمی ہم آہنگی یا اندرونی امتزاج (Inner Integration) کی ہے، جس میں سوار اور گھوڑا ایک ہی سمت میں چلتے ہیں۔ قوت ملکوتی عقل، عفت، سخاوت، پاکیزگی، اجتماعی خیر اور فکر آخرت کی طرف رہ نمائی کرتی ہے اور حیوانی قوت خود کو اعلیٰ مقاصد کے تابع کر لیتی ہے۔ یوں ایک متوازن مزاج (Integrated Temperament) والی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ اس عمل میں حیوانی قوت روحانی واخلاقی مقاصد کی مخالف نہیں بلکہ معاون بن جاتی ہے۔

ان قوتوں کے اعلیٰ وادنیٰ درجات اور ان کے باہمی تعلق کی بنیاد پر جیسا کہ عرض کیا گیا شاہ صاحب نے انسانی طبائع کے آٹھ بنیادی نمونے بیان کیے ہیں۔ ملکوتی اور حیوانی قوتوں کے مابین کبھی کشمکش کی صورت پیدا ہوتی ہے اور کبھی ہم آہنگی کی۔ کشمکش کی حالت میں ملکوتی قوت اعلیٰ یا ادنیٰ ہوسکتی ہے، جب کہ حیوانی قوت بھی قوی یا ضعیف ہوسکتی ہے۔ اس طرح آٹھ بنیادی صورتیں بنتی ہیں: چار صورتیں کشمکش کی حالت میں اور چار صورتیں ہم آہنگی کی حالت میں۔ یوں مجموعی طور پر انسانی شخصیت کے آٹھ نمونے سامنے آتے ہیں۔ تاہم انسانی شخصیت صرف انھی آٹھ اقسام کے اندر محدود نہیں ہے۔ دونوں قوتوں کے مختلف درجات اور باہمی امتزاج سے بے شمار درمیانی صورتیں بھی وجود میں آتی ہیں۔ اس لیے یہ آٹھ اقسام حتمی تقسیم نہیں ہیں۔ بلکہ انسانی شخصیت کو سمجھنے کے بنیادی نمونے ہیں۔

یہ اصول انسانی صلاحیتوں اور مراتب کمال کا فرق بھی واضح کرتا ہے۔ جس شخص کی حیوانی قوت زیادہ مضبوط ہو، خاص طور پر کشمکش کی حالت میں، اسے زیادہ مجاہدۂ نفس کرنا پڑتا ہے۔ گویا گھوڑا جتنا طاقت ور ہو، لگام بھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔ اعلیٰ ملکوتی استعداد انسان میں کمال کی زیادہ صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ دونوں قوتوں میں ہم آہنگی بھی ہو تو شخصیت زیادہ متوازن، پختہ اور بلند مرتبہ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف، اگر اعلیٰ ملکوتی قوت رکھنے والا شخص اپنی داخلی کشمکش پر قابو پا لے اور حیوانی بندشوں سے آزاد ہو جائے تو وہ معرفت اور گہرے علم کے اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کی کامیابی بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔ کم زور حیوانی قوت انسان کو سخت اور پُرخطر کاموں سے دور رکھتی ہے، جب کہ قوی حیوانی قوت اسے چیلنج قبول کرنے، جدوجہد کرنے اور بڑی ذمہ داریاں اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔

اگر اعلیٰ ملکوتی قوت کے ساتھ قوی حیوانی قوت بھی ہم آہنگ ہو تو ایسی شخصیت قیادت اور اجتماعی تدبیر کے لیے زیادہ موزوں ہوتی ہے۔ وہ بڑے فیصلے کرنے اور اہم ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے پاس منزل کا واضح شعور بھی ہوتا ہے اور اس تک پہنچنے کی قوت بھی۔ اس کے برعکس، اگر ادنیٰ ملکوتی استعداد کے ساتھ قوی حیوانی قوت ہم آہنگ ہو تو ایسا شخص جنگ، مشقت اور سخت عملی ذمہ داریوں کے لیے زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ وہ مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور بھاری عملی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شاہ صاحب ایک اور اہم نکتے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ متصادم قوتوں کا حامل شخص کبھی دنیا میں حد سے زیادہ منہمک ہو جاتا ہے، کبھی وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر تزکیۂ نفس اور دینی مشاغل کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسے اپنی زندگی میں اعتدال برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس،     ہم آہنگ شخصیت دنیا اور آخرت کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں سمجھتی۔ وہ اپنی عملی قوتوں کو اعلیٰ اخلاقی اور روحانی مقاصد کے تابع رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ دنیاوی ذمہ داریوں اور دینی تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔ یہی توازن اس کی شخصیت کو زیادہ پختہ، متوازن اور مؤثر بناتا ہے۔

اس تمثیل میں انسانی کمال کا بلند ترین نمونہ وہ ہے جہاں سوار کو منزل کا کامل شعور حاصل ہو اور گھوڑا بھی طاقت ور ہو۔ دونوں پوری ہم آہنگی کے ساتھ ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک انبیاء علیہم السلام اس اعلیٰ توازن کا کامل نمونہ ہیں۔ ان کے حقیقی وارث بھی اسی توازن کے مظہر ہوتے ہیں۔ ان میں روحانی بصیرت، اخلاقی پاکیزگی، عملی قوت اور اجتماعی قیادت یکجا ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی شخصیت کو بھی سنوارتے ہیں۔ ساتھ ہی دوسروں کی دینی اور دنیاوی رہ نمائی بھی کرتے ہیں۔

شاہ صاحب کے مطابق شخصیت نہ صرف سوار کا نام ہے اور نہ صرف گھوڑے کا۔ شخصیت دونوں کے باہمی تعلق سے تشکیل پاتی ہے۔ اس تعلق سے طے ہونے والا سفر شخصیت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ قوت ملکوتی سمت اور مقصد دیتی ہے، اور قوت حیوانی توانائی اور حرکت فراہم کرتی ہے۔ پیدائشی طبیعت دونوں کی بنیادی استعداد کیا ہے، اسے متعین کرتی ہے۔ تربیت اور مجاہدہ ان قوتوں کو سنوارتا ہے۔ اس لیے انسانی کمال حیوانی قوت کو مٹانے میں نہیں، بلکہ اصل کمال اسے ملکوتی قوت کے تابع رکھنے میں ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ دونوں قوتوں میں درست ہم آہنگی قائم رکھی جائے۔ اسی ہم آہنگی سے خواہش کو صحیح سمت ملتی ہے، طاقت منظم ہوتی ہے، عقل رہ نمائی کرتی ہے، اخلاق سنورتا ہے، روحانیت پروان چڑھتی ہے، اور یوں پوری شخصیت ایک اعلیٰ مقصد کی طرف گام زن رہتی ہے۔ طبائع کا اختلاف اسی تشکیل شخصیت کے نظام کا حصہ ہے۔ اسی سے انسانوں کے اعمال میں فرق پیدا ہوتا ہے، صلاحیتوں میں تنوع آتا ہے، اور مراتب کمال مختلف ہوتے ہیں۔ مولانا روم کا ایک شعر ہے:

اسب زیرک، زین زرین، مردِ را

اسپ را باید، ولی میرِ اسپ را

(گھوڑا خواہ کتنا ہی عمدہ اور زین کتنی ہی قیمتی ہو، ضرورت ایسے سوار کی ہے جو اس پر حکومت کرنا جانتا ہو)۔

تزکیۂ نفس اور شخصیت کی تعمیر

انسان مختلف مزاج، رجحانات اور استعدادوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن کیا وہ ہمیشہ اپنی فطری ساخت کا پابند رہتا ہے؟ شاہ صاحب کہتے ہیں، نہیں۔ مزاج بڑی حد تک پیدائشی ہوتا ہے، لیکن اخلاق اور کردار میں تبدیلی ممکن ہے۔ شخصیت بھی تربیت سے ارتقا پاتی ہے۔ مجاہدہ اور تزکیہ اسے سنوارتے ہیں۔ انسانی اختیار (Free Will) انسان کے اخلاقی فیصلوں اور مراتب کمال کی طرف سفر میں ہر جگہ جلوہ گر نظر آتا ہے۔ یہی بنیاد ہے انسان کی اخلاقی ذمہ داری اور جوابدہی کی۔

قرآن نے تزکیۂ نفس کو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا ہے: هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّيِّینَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّیهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعۃ:2)۔ اس آیت میں تعلیم کے ساتھ تزکیے کا ذکر ہے۔ اس سے علم اور تزکیے کا گہرا تعلق واضح ہوتا ہے۔ علم کے ساتھ باطن کی پاکیزگی ضروری ہے۔ نیت کی درستی بھی ضروری ہے۔ خواہشات کی تہذیب بھی ضروری ہے۔ تزکیے سے محروم علم تکبر پیدا کرسکتا ہے۔ وہ مفاد پرستی اور گمراہی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے اسلامی تصور شخصیت میں علم اور تزکیہ لازم وملزوم ہیں۔

تزکیہ کا لفظ ’’زکا‘‘سے نکلا ہے۔ اس میں پاکیزگی کا مفہوم بھی ہے، اور نشوونما کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اس لیے تزکیۂ نفس صرف برائیوں سے بچنے کا نام نہیں ہے۔ یہ خوبیوں کو پروان چڑھانے کا عمل بھی ہے۔ نفس کو رذائل (Vices) سے پاک کیا جاتا ہے، اور فضائل (Virtues) سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ شخصیت سازی کا عمل ہے۔ اس لیے نہ تو حیوانی قوت کو ختم کرنا مطلوب ہے، اور نہ ہی اسے ختم کرنا ممکن ہے۔ اصل ضرورت اس کی تطہیر اور تہذیب کی ہے۔ اسے منظم (Integrated)کرنا ضروری ہے، تاکہ ملکوتی قوت کی رہ نمائی میں کام کرتی رہے۔ اس طرح انسان خواہشات کا غلام نہیں رہتا، وہ اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ اسلام خواہش کو بذات خود گناہ نہیں سمجھتا کیوں کہ اصل مسئلہ خواہش کی بے اعتدالی کا ہے۔ مسئلہ اس کی بے لگامی ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِیلِ اللّٰهِ (سورہ ص: 26، خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمھیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی)۔ گویا مسئلہ خواہش کا وجود نہیں، بلکہ اس کا غلبہ ہے۔ خواہش عقل کے تابع ہو تو تعمیری قوت بنتی ہے۔ ایمان اور وحی اس کی رہ نمائی کریں تو اسے صحیح سمت ملتی ہے۔ لیکن خواہش غالب آجائے تو اخلاقی انحراف وبگاڑ اور ظلم وفساد پیدا ہوتا ہے۔

نفس کی اصلاح ایک تدریجی عمل ہے، اور مسلسل جاری رہتا ہے۔ انسان کو زندگی بھر محاسبۂ نفس (Self-Accountability) کی ضرورت رہتی ہے۔ اصلاح نفس (Self-Reform) ضروری ہے۔ ضبط نفس (Self-Discipline) بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ اسی لیے اسلامی روحانیت میں مجاہدہ اور مراقبہ اہم ہے۔ مجاہدہ خواہشات کو کچلنے کا نام نہیں ہے۔ اس کا مقصد انھیں جائز حدود میں رکھنا ہے۔ مراقبہ انسان کو اپنے باطن پر نظر رکھنا سکھاتا ہے۔ وہ اپنی نیتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اپنی کیفیات اور اعمال پر نظر رکھتا ہے۔ اس کیفیت کی اعلیٰ ترین صورت احسان ہے: أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ کیفیت نہ ہو تو یقین رکھو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔ یہ شعورحضوری (God-Consciousness) انسان کے باطن کو بیدار کرتا ہے۔ انسان کے اعمال صرف خارجی دباؤ سے منظم نہیں ہوتے، بلکہ اس کے اخلاق کی نگرانی اس کا اپنا باطن کرتا ہے۔ اس کے فیصلوں کو بھی یہی شعور سمت دیتا ہے۔ شاہ صاحب بتاتے ہیں کہ عبادت شخصیت سازی کا اہم ذریعہ ہے۔ نماز نظم پیدا کرتی ہے۔ خشوع اور انکسار سکھاتی ہے۔ تعلق باللہ مضبوط کرتی ہے۔ روزہ صبر پیدا کرتا ہے۔ ضبط نفس سکھاتا ہے۔ خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے۔ زکوٰۃ سخاوت اور ایثار پیدا کرتی ہے۔ حج مساوات اور اخوت کا شعور دیتا ہے۔ اجتماعیت کا احساس بھی مضبوط کرتا ہے۔ گویا عبادات محض مذہبی مراسم نہیں ہیں، بلکہ وہ باطنی قوتوں کی تربیت کرتی ہیں، اخلاق کو سنوارتی ہیں، اور شخصیت کی تکمیل میں مدد دیتی ہیں۔

اسی کے ساتھ شاہ صاحب کی نگاہ میں تزکیۂ نفس صرف انفرادی عمل کا نام نہیں ہے۔ اس کا ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ خاندان شخصیت پر اثر ڈالتا ہے۔ اساتذہ اور رفقاء بھی اسے متاثر کرتے ہیں۔ معاشرہ اور تہذیب بھی شخصیت سازی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ صالح ماحول خیر کو پروان چڑھاتا ہے۔ عدل اور دیانت کو رواج دیتا ہے۔ علم اور تقویٰ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس معاشرے کا بگاڑ تزکیے کے عمل کو دشوار بناتا ہے۔ اس لیے شخصیت سازی میں فرد اور معاشرہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ وپیوستہ ہیں۔ اس کے بعد شاہ صاحب نے شخصیت کے ارتقا کو مراتب کمال (Stages of Human Perfection) کی درجہ بندی کی ہے۔ تمام انسان تزکیے کے ایک ہی درجے پر نہیں ہوتے۔ ان کے روحانی مراتب مختلف ہوتے ہیں۔ اخلاقی اور عقلی ارتقا کے درجات مختلف ہوتے ہیں۔ انسان ان مراحل سے گزرتے ہوئے بتدریج کمال کی طرف بڑھتا ہے۔

شخصیت کا ارتقائی سفر

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نظریۂ شخصیت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ شخصیت کو جامد نہیں، بلکہ ارتقا پذیر اکائی گردانتے ہیں۔ انسان ایک مخصوص فطرت، مزاج اور استعداد کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، مگر اس کی شخصیت انھی حدود میں مقید نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل، ارادہ، اختیار، اخلاقی شعور اور ہدایت سے نوازا ہے تاکہ وہ تزکیۂ نفس کے ذریعے روحانی واخلاقی کمال کی طرف بڑھتا رہے۔ قرآن انسانی زندگی کے اسی مسلسل سفر کی طرف اشارہ کرتا ہے: يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِیهِ (الانشقاق: 6، یعنی اے انسان! تو اپنے رب کی طرف مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے بڑھ رہا ہے، پھر اس سے ملاقات کرے گا)۔ یہ جدوجہد جسمانی ومعاشی کوشش تک محدود نہیں ہے، بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی ارتقا کو بھی اس میں شامل ہے۔ یوں اسلامی تصور میں انسانی کمال کسی جامد مقام کو چھو لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ مسلسل ارتقا اور تزکیے کا سفر ہے۔ شاہ صاحب کی مجموعی فکر سے انسانی شخصیت کے روحانی واخلاقی ارتقا کے درج ذیل چند بڑے مراحل سامنے آتے ہیں:

ابتدائی مرحلے میں انسان کی زندگی زیادہ تر حیوانی ضروریات اور فوری خواہشات کے تابع ہوتی ہے۔ اس کی توجہ خوراک، آسائش، مال، شہرت، غلبے اور ذاتی مفاد پر مرکوز رہتی ہے۔ عقل بھی عموماً انھی خواہشات کی تکمیل میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کیفیت کے غلبے سے حرص، حسد، تکبر اور خودغرضی جیسے اوصاف پیدا ہو تے ہیں۔ قرآن اس کیفیت کو نفس امّارہ (Commanding Self) سے تعبیر کرتا ہے: إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ (یوسف: 53، یعنی بے شک نفس برائی پر بہت ابھارتا ہے)۔ یہ انسانی وجود کی ایک کیفیت ہے، مگر اسلام انسان کو اس سطح سے بلند ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

دوسرا مرحلہ اخلاقی بیداری اور حساسیت کا ہے۔ اس صورت میں عقل اور ضمیر انسان کو اپنے اعمال کے محاسبےپر آمادہ کرتے ہیں۔ وہ غلطی کرتا ہے، مگر اسے اپنی کوتاہی کا احساس بھی ہوتا ہے اور اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن اس کیفیت کو نفس لوّامہ (Self-Reproaching Soul) سے تعبیر کرتا ہے: وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (القیامہ: 2، اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی)۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب توبہ، تزکیہ اور تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں ایمان، علم، اخلاق اور عمل مکمل ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں۔ نیکی بوجھ کے بجائے طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے۔ عبادت رسم کے بجائے اللہ تعالیٰ سے شعوری تعلق پیدا کرتی ہے۔ اخلاق دکھاوے سے پاک ہو کر کردار میں رچ بس جاتا ہے اور علم محض معلومات نہیں بلکہ حکمت بن جاتا ہے۔ اس مرحلے میں ملکوتی قوت حیوانی قوت کی مؤثر رہ نمائی کرتی ہے، شخصیت اعتدال وتوازن حاصل کرتی ہے، اور انسان نفس مطمئنہ (Tranquil Soul) کی منزل سے قریب ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم اسی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ؛ ارْجِعِی إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً                                       (الفجر: 27–28، اے اطمینان پانے والے نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے)۔ لہذا، شخصیت کا کمال باطنی سطح پر ہم آہنگی میں پنہاں ہے۔ عقل، قلب اور روح میں ہم آہنگی ہو۔ نفس، جذبات اور خواہشات منظم ہوں۔ اعمال رضائے الٰہی کے تابع ہوں۔ یہی توازن انسان کو باطنی پاکیزگی اور قلبی سکون عطا کرتا ہے، جسے قرآن نفس مطمئنہ سے تعبیر کرتا ہے۔ اس حالت میں ظاہر وباطن، علم وعمل، ایمان واخلاق اور خواہش وعقل میں پوری ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے، اور شخصیت خارجی دباؤ کے بجائے داخلی کیفیت کا مظہر ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی کمال (Human Perfection) کا مطلب مزاجوں کی یکسانیت اور ایک ہی طرح کی شخصیت سازی نہیں ہے۔ بلکہ ہر مزاج کا اپنی انفرادیت کے ساتھ رضائے الٰہی کا تابع ہونا اور متوازن رہنا اصل مقصود ہے۔ (مضمون کے اگلے حصے میں انسانی شخصیت کے حوالے سے جدید نفسیات اور شاہ صاحب کے نظریات کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نظریۂ شخصیت

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223