قرآن کا علمی انقلاب

ڈاکٹر ابو ذر اصلاحی

اگر اس کائنات میں انقلاب لفظ ’کُن‘ (اِذَا اَرَدْنَاہُ اَن نَقُولَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ) سے لایا گیا ہے تو انسانیات (Humanities) میںانقلاب قرآن سے برپا کیا گیا ہے ۔ قرآن نے جتنے بڑے پیمانے پر اس روئے زمین پر انقلاب برپا کیا ہے اس کا تصور بھی محال ہے ۔ پروفیسر فلپ کے حتی بڑی صداقت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی کتاب ’تاریخ عرب‘ میں لکھتا ہے :

’’تھوڑے عرصے میں اتنے بڑے انقلاب سے دنیا ہمیشہ ناآشنا رہی ہے ، اورآئندہ بھی دنیا کی تاریخ نا آشنا ہی رہے گی ۔ عربی انقلاب صرف ایک معجزہ تھا ۔‘‘

قرآن وہ پہلی کتاب ہے جس نےانسان کو اوہام وتخیلات ، فسادات و خرافات اورجمود و تعطل سے آزاد کرکے علم ، عقل، تجربہ اور تدبر کی راہ پر ڈالا ۔ ورنہ شرک(Polytheism) اور الحاد (Atheism)  نے وہ تباہی مچائی تھی کہ لوگ اس کے تصور تک کوگناہ سمجھتے تھے۔ کلیسا نے تو باقاعدہ قانون بنا رکھا تھا کہ عقل کی کسوٹی پر ہرچیز کوپرکھنےو الامذہب کا باغی ہے ۔ لہٰذا ایسے مجرموں کودردناک سزائیں دی جا ئیں ۔ خود یونان جودنیا کا فکری رہ نما ئی کررہا تھا ، اس کا یہ حال تھا کہ وہاں کے مذہبی رہ نما اس چیز کے خلاف تھے کہ عقل کا بھی کوئی دخل ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود سقراط ہے جس نے عقل کی راہ پر انسانیت کواس جملے سے ڈالنے کی غلطی کی کہ ’اے انسان !اپنے کوپہچان ‘اس کشادہ نظری کی راہ پر ڈالنے کا  نذرانہ اسے اس مشکل میں ملا کہ اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا اوراسے ذلیل کرنے کے لئے یونان کے رہ نما ؤ ں کی طرف سے یہ جھوٹا بہانہ گھڑا گیا کہ یہ بے دینی پھیلا رہا ہے اوراپنی تعلیم کے ذریعے سے نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے ۔ اسی طرح سے ’گلیلیو‘ کوزمینی نظریۂ گردش کی تائید میں اس وقت کی خود ساختہ شریعت نے بدعت قرار دے کر بھرے دربار میں زمین پر ماتھا رگڑ کر معافی مانگنے پر مجبور کیا ۔تب اس بیچارے کی جان بچ سکی اس طرح کی بہت سی داستانیں تاریخ میں درج ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ شرک تھا، جوعقل اوراجتہاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ اسی سے جہالت کووہ تقویت مل رہی تھی کہ جوچیز پلّے نہ پڑرہی تھی وہ معبود کا درجہ لیتی چلی جارہی تھی—۔سورج اور چاند ہماری زمین کی طرح  سیارے ہیں لیکن بعض شر ک نے سمجھا دیا کہ یہ ہمیں حرارت  اورروشنی دیتے ہیں اس کا مطلب کہ یہ ضرور کوئی دیوتاہیں، لہٰذا ان کی عبادت کرو۔ پہاڑ زمین کے توازن کوقائم رکھنے کے لیے جمائے گئے ہیں لیکن شر ک نے کہا کہ یہ پربت مہاراج ہیں جن کے اندر بھگوان بستا ہےاس لئے اس کی پوجا پاٹ شروع کردو۔ سمندر دہکتی ہوئی زمین کوسرد رکھنے کے لیے ، روئے زمین پر پانی  پھیلانے کے لئے ، کشتیاں چلانے اورسفر کرنے کے لئے بچھائے گئے ہیں لیکن شرک نے سمجھایا کہ یہ بھی کسی بھگوان ہی کا روپ ہے ۔ یہ اپنی طغیانی سے ہمیں نقصان نہ پہنچائے ،اس لیے اسکو خوش رکھنے کے لیے اس کی آغوش میں اپنی بیٹی کی بلی چڑھا دیا کرو۔ سب سے زیادہ روشن خیال ملک یونان کا یہ حال تھا کہ وہاں کےلوگ اپنی جہالت میں دریا کودیوی تسلیم کرتے تھے ۔ حد یہ تھی کہ ان کے ہاں کی کنواری لڑکیاں سب سے پہلے اپنے کنوارے پن کو دریا کی نذر کرتی تھیں ۔ مزید عورت کوحاملہ بنانے کے لیے بھی اس کا پانی پلایا جاتا تھا ۔

پیڑ پودے انسانی زندگی کو  سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہیں ۔ ان سے پھلوں کے ساتھ آکسیجن حاصل ہوتی ہے ۔ لیکن شر ک نے سمجھا دیا کہ اس کی پتیاں ہردم ہلتی رہتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ اس کے اندر خدائی روح حلول کئے ہوئے ہے۔ اس لئے اسے بھی دیوتا ما ن کر، اگربتی اورلوبان سلگا کر او ر جل  دے کر اسکی چھتر چھایا حاصل کرو ۔ الغرض شرک نے قدم قدم پر جہالت کا وہ بازار سجایا تھا کہ انسان بھگوانوں کی تعداد میں اضافہ کیے چلا جارہا تھا اور خود کو  اعلیٰ مقام سے گرا کر اسفل سافلین میں پہنچ گیا تھا ۔ آرنلڈ ٹوائن بی لکھتا ہے :

’’ یہ زمین انسان کے لیے ماںکی حیثیت رکھتی تھی ۔ اس پرپھیلے ہوئے حیوانات ، جمادات ، نباتات حتی کہ معدنیات سب کے اندر خدائی اوصاف ڈال دیے گئے تھے ، چشمے ، ندیاں، پہاڑ، سمندر، زلزلے ، بجلی ، گھن گرج اورچمک سب کے سب دیوی اوردیوتا تھے۔ توہم پرستی کی ان تمام مشکلوں کوختم کرنے کا سہرا صرف توحید(Monotheism) کوحاصل ہے ۔ جس نے مظاہر فطرت کومعبود کے مقام سے اتار کر مخلوق کا درجہ دیا اوراس کی تسخیر کا فن سکھایا ۔‘‘ (Reader Digest-1974)

قرآن نے انسان کے تراشے ہوئے تمام اصنام کوتوڑ پھینکا ۔ اس نے توحید کا دھماکہ کیا ، اس نے اعلان کیا کہ اللہ ایک ہے ، وہ تمام چیزوں کا خالق، مالک اور حاکم ہے ۔ اس کی خالقیت ، مالکیت اور حاکمیت  میں کسی کا کوئی دخل نہیں ۔پیڑ، پہاڑ، زمین اورسمندر توکیا انبیاء ، اولیاء ، ملائکہ اورجنات کوبھی کوئی اختیار نہیں ۔ اس کا حکم کائنات کے ایک ایک ذرّے پرچلتا ہے ۔ اس آواز کا سننا تھا کہ انسانی عقل میں ایک بھونچال آگیا، اسکی فکر میں ایک زلزلہ برپا ہوگیا ۔ پھر وہ اس قدر بڑھا کہ اس کے سامنے اب محسو سیت (Perceived) کو نہیں    بلکہ معقولیت (Reasonableness) کولا کھڑا کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس عقل کے بَل پرغور کرکے انسان جس چاند کوپوجتا تھا اس پر کمندیں ڈالنے لگا، جن سیاروں کی پر ستش کرتا تھا ان پر پہنچنے کے لیے بے چین ہوا تھا ۔ جس چیز کی گود میں اپنے بچے کی بلی دیا کرتا تھا اب اس کی چھاتیوں کوچیر کر بجلی بنانے لگا۔  یہ شرف دنیا میں صرف قرآن کوحاصل ہے کہ اس نے اپنی تعلیم سے ا نسا نی دل ودماغ کوعلم وعقل کے قریب کرکے ان کے افکار واعتقاد کواس قدر جلوہ الٰہی کے قریب کردیا کہ ر و ئے زمین پر اس کی کوئی نظیر نہیں ۔ یہ چیز کائنات کے دھماکے سے بڑا دھماکہ ثابت ہوئی ۔ایک مغربی مورخ ’ہنری پیرن‘ (Henry Pirenne) بڑی حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے لکھتا ہے :

’’اسلام نے زمین کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ۔ اس نے تاریخ  کے روایتی ڈھانچے کواُٹھا کر پھینک دیا ۔‘‘

یہ قرآن کا احسان ہے کہ اس نے انسان کوعقل وبینائی کی راہ پر ڈالا ، غوروفکر کا نیا طرز دیا ، تحقیق و تفتیش کا زاویہ بخشا ، انسان کوہرطرح کی جہالتوں سے نکال کر مظاہرِ فطرت(Netural Phenomena) کا مطالعہ کراکر ایک نئی دنیا کا مشاہدہ کرایا ۔ یہ اعزاز دنیا کی کسی کتاب کوحاصل نہیں ۔ ’ڈی پورٹ‘ (Deport) بہت خوب کہتا ہے :

’’قرآن کا عطا کردہ نظام زرتشتی نظام سے پاک تر ، موسیٰ کی شریعت سے آزاد تر اورعقل سے قریب تر ہے ۔‘‘

اس چیز کوتسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ قرآن سراپا ایک ایسا علمی ، عقلی ، اورتفصیلی صحیفہ ہے جس میں قیامت تک روٗنما ہونےو الے سبھی اسرار ورموز کی نشان دہی کردی گئی ہے ، کہ اس کی روشنی میں انسان خدا کی قربت حاصل کرسکے ۔ قرآن کہتا ہے :وَلَقَدْ جِئْنٰہُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ  عٰلی عِلمِ (الاعراف : ۵ ۲ )  ’’  ہم نے انہیں ایک ایسی کتاب  عطا کی ہے جسے اپنے علم کی بناپر تفصیلی بنادیا ہے ۔‘‘ نیز ارشاد ہے :   وَمَا مِنْ غَاۗىِٕبَۃٍ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ(النمل:۷۵) ’’زمین وآسمان کا کوئی راز ایسا نہیں ہے جواس واضح کتاب میں موجود نہ ہو۔‘‘

اسی لیے انسان کو مطالعۂ قرآن کے ساتھ مطالعۂ کائنات کا بھی حکم دیاگیا ہے ۔ یہ حکم سائنسی نظریات سے آگاہی کے لیے نہیں دیا گیا ہے ۔ بلکہ اس لیے ہے کہ قرآن جوکچھ کہہ رہا ہے اسے ماورائی (Transcendental) نہ سمجھا جائے ۔ بلکہ انسان اپنے عقل وشعور کواستعمال کرکے قدم قدم پراللہ کی خلقت ، اس کی حکمت ، اس کے جاہ وجلال کا مشاہدہ کرے ، اوراس کی قربت حاصل کرے ۔ چنانچہ اس  نے غور وتدبر پر زوردیا ہے اوراس کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ، مثلاً تدبرون، تذکرون ، تفکرون، یبصرون، یعلمون ، یفقہون ، یعقلون وغیرہ وہ کہیں برجستہ کہتا ہے :اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللہُ مِنْ شَيْءٍ (الاعراف:۱۸۵) ’’کیا ان لوگوں نےآسمان وزمین کے انتظام پرکبھی غور نہیں کیا اورکسی بھی چیز کو جوخدا نے پیدا کی ہیں انہیں غو ر سے دیکھا نہیں ۔‘‘ یہ حکم محض اس لیے دیا گیا تا کہ انسان عقل وشعور کی دنیا میں آئے اورتمام موجودات میں خدا کی خدائی تلاش کرکے اس کا صالح بندہ بنے۔

لیکن افسوس کہ جس امت کو قرآن دے کر انقلاب برپا کرنے والی امت بنایا گیا تھا اس نے اس انقلاب کی بساط ہی لپیٹ دی اورخودکو محضـ فقہی اورعباداتی احکام تک محدود کرلیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قصو ں   کی بھر مار ہوگئی، گھڑی ہوئی کہانیاں ، کرامات اورافسانے عام ہونے لگے ۔ اہل یورپ نے ہماری ہی میراث پر ریسرچ اورتحقیق کر کے دنیا کی لگام اپنے ہاتھ میں لے لی اور اپنے کارناموں کی بدولت وہ عقل کے بادشاہ ہوگئے اورہم عاجز، ہم غور کریں کہ کیا تقریباً چھ سو سالوں سے ہم نے کوئی ایسا علمی وفنّی کارنامہ انجام دیا ہے کہ دنیا ہماری طرف متوجہ ہو۔ ہم ایک سوئی کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہیں ۔ صرف پٹرول بیچ کر کھارہے ہیں ۔

ایک زمانہ تھا جب ہم دنیا میں علم کی شمعیں جلارہے تھے ۔ سب سے بڑا علمی مرکز اندلس بنا ہوا تھا کہیں سے ’ابن فومانس‘ نکلا، جس نے ایسا گھر تیار کیا جس میں زمین وآسمان اورستاروں کی ہیئت سمجھائی جاتی تھی کہیں سے ’ابن المقنع‘ اُٹھا جس نے ایک ایسا مصنوعی چاند بنایا تھا جس کی روشنی اٹھائیس میل تک جاتی تھی جبکہ اس کی مشین ایک کنویں میں فٹ تھی۔کہیں سے ’الکندی ‘ اُٹھا جس نے آواز کی لہروں کافلسفہ پیش کیا اوربتایا کہ یہ ہواؤں کے دوش پرچلتی ہیں۔ پھراسی بنیاد پر تحقیق وجستجو کے بعد ریڈیواور ٹیلی ویژن کی ایجادات سامنے آئیں۔ کہیں سے ’ابوالحسن‘ اُٹھا جس نے ستاروں کی گردش دیکھنے کے لیے دوربین کی ایجاد کی ۔ کہیں سے ’ابوالصلت‘ اُٹھا جس نے ایک ایسی مشین بنائی جس کے ذریعے سے سمندر میں ڈوبے ہوئے جہازوں کونکالا جاسکتا تھا ۔

اسی طرح کے بہت سے مسلم سائنٹسٹ گزرے ہیں جن کے نام ہماری تاریخ میں درج ہیں۔ اس کا اعتراف غیروں نے بھی کیا ہے ۔ The making of Humanityکا مصنف بریفالٹ (Briffault) لکھتا ہے :

’’یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن اثرات موجود نہ ہو ں  ۔  لیکن یہ اثر کہیں بھی اتنا واضح اوراہم نہیںجتنا کہ اس طاقت کے ظہور میں ہے جونئی دنیا کی مخصوص اور مستقل طاقت اوراس کی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے ۔ یعنی سائنس اورسائنسی اندازِ فکر ۔ عربوں کے تہذیبی اثر سے یورپی تہذیب میں زندگی کی اک نئی روح پڑی۔ یورپ کی نئی زندگی کا گہوارہ اٹلی نہیں، بلکہ اندلس تھا ۔ مدتوں تک بربریت کی بستیوں میں ڈوبے رہنے کے بعد یورپ جہالت اورذلّت کی تاریک گہرائیوں میں پہنچ چکا تھا ۔ جب عرب ممالک کے شہر بغداد، قاہرہ، قرطبہ اورطلیطلہ تہذیب اور تعلیم کے ترقی پذیر بنے ہوئے تھے ۔ (تشکیلِ انسانیت ،ص ۱۰۹ء ۱۸۸)

یہی بات مغرب کے ایک اورحقیقت پسند مستشرق Deutschنے لکھی ہے :

’’قرآن ہی وہ کتاب ہے جس کی مدد سے عربوں نے سکندر اعظم کی فتوحات سے بھی زیادہ کشادہ فتوحات کیں اورسلطنت روم سے بھی عظیم سلطنت قائم کی ۔ یہ قرآن ہی کی برکت تھی کہ انہوںنے ایسے وقت میں جبکہ چاروں طرف اندھیرا چھایا ہواتھا ، یونان کے علم وفن کو دوبارہ زندہ کیا ۔ مغرب کوفلسفہ ، طب، ہیئت اورموسیقی کا بہترین فن سکھایا اورگہوارۂ تہذیب کی نگہداشت کی ۔ ‘‘”The spirit of Islam,” Ameer Ali P,574

یہ اثر تھا قرآن کی ان انقلابی تعلیمات پرعمل کرنے کا ، جنہوںنے ہمیں پوری دنیا کا امام بنادیا تھا ۔ مگر جیسے ہی ہم نے ان پر عمل کرنا چھوڑدیا زمانے نے ہماری بساط ہی لپیٹ دی ۔قرآن کے اندر بیشک آج بھی اُسی  طرح سے انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت  موجود ہے جیسےپہلے تھی ۔ ایسے میں ہمارا اولین فرض ہے کہ پہلےہم خود مسلمان بنیں، ہرطرح کی خرابیوں سے اپنی سیرت وکردار کوپاک کریں اور علمی میدان میں ترقی کریں۔ اسی طرح ہمارا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے اور ہم اپنی کھوئی عظمت کودوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔

نومبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau