اجالوں کا سفر

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

قصہ آدمؑ  کا بیان (سورۃالبقرۃ :۳۰ – ۳۹) انسانوں کے بارے میں ایک عجیب و غریب دعوے سے شروع ہوتا ہے: خدا نے انسان کی تخلیق کی اور اسے زمین پر اپنا نائب بناکر بھیجا۔ انسانوں کی منفی تعیین سے بات شروع کرنے کے بجائے قرآن انسانی امکان کے بارے میں حیرت انگیز طور پر مثبت نقطہ نظر سے بات شروع کرتا ہے۔ جب فرشتوں نے فطری طور پر اس انتخاب پر سوال اٹھایا کہ وہ انسانوں سے بدرجہا بہتر تھے—انسان مفسد، باغی اور متشدد مخلوق ہے، جب کہ فرشتے معصوم اور خدا کے کامل مطیع و فرماں بردار— تو خدا کا جواب تھا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ بایں ہمہ قرآن نے فرشتوں کے سوال کو یہاں مسترد نہیں کیا، کیوں کہ جو سوال انھوں نے اٹھایا تھا وہ انتہائی اہم اور موزوں تھا۔ اگلی ۹آیات میں قرآن اس کا جواب پیش کرتا ہے، اور اس معمے کے کلیدی اجزا انھی آیات میں مضمر ہیں۔

قرآن کا پہلا نکتہ، جس پر بات شروع کرنا بذات خود ایک حیران کن امر ہے، یہ ہے کہ انسان انتہائی عقلی مخلوق ہیں، یہی بات کہیں نہ کہیں ان کا مقصدِ تخلیق بھی ٹھہرتی ہے۔ پھر یہ کہتا ہے کہ مرد و خواتین اخلاقی وجود ہیں—باشعور وجود—جنھیں حق و باطل کی حس ودیعت کی گئی ہے۔ انھیں خیر و شر کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور پھر ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ چناں چہ خدا نے انسان کو اخلاقی راستی و باطل کا شعور بخشا اور فیصلے لینے کی آزادی ودیعت کی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کو ان کی غلطیوں کا احساس کرنے اور ان سے رجوع ہونے کی صلاحیت بھی عطا کی گئی ہے۔ قصہ آدم ؈سے ایک اور اہم نکتہ یہ بھی نکلتا ہے کہ انسانوں کو زمین پر دکھ درد برداشت کرنا ہوں گے کیوں کہ فرشتے کہتے ہیں کہ انسان زمین پر‘‘فساد برپا کریں گے اور خوں ریزیاں کریں گے’’ اور خدا انسان کو کہتا ہے کہ ‘‘ اب تم سب یہاں سے اُتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔’’ تاہم یہ بات واضح ہے کہ قصہ آدم و حوا کے قرآنی ورژن میں زمینی زندگی کی آفات اور انسانوں کو پیش آنے والی مصیبتیں انسانوں کی سزا کے طور پر نہیں، بلکہ یہ مصائب تو خدا کے منصوبے  ہی کا حصہ ہیں۔ یہ قصہ انسانی زندگی میں خدائی ہدایت کے کردار اور درگزر اور ان کو رد کرنے کے الم ناک نتائج پر بھی زور دیتا ہے۔

مجھے احساس ہوا کہ اس قصے سے میں بہت زیادہ نتائج اخذ کر رہا ہوں۔ ممکن ہے قرآن نے فرشتوں کے جواب میں جو نئے موضوعات پیدا کیے، ان میں سے بعض کو سمجھنے میں مجھے مغالطہ ہوا ہو۔ ہوسکتا ہے میرا فرسِ تخیل اس گلشن کی گل گشت میں کچھ زیادہ ہی آزاد رو واقع ہوا ہو، یا شاید ایام طفلی سے میرے ذہن میں جو خلجان تھا وہ اس بیانیے کو نئی روشنی میں دیکھتا ہو۔ تاہم میرے مذکورہ نتائج کی تصدیق میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ جب میں نے قرآن کے مطالعے میں مزید پیش رفت کی تو پایا کہ یہ واقعی زمین پر انسانی ارتقا میں عقل، اختیار و ارادہ، غلطی، توبہ، دکھ، خدائی ہدایت اور درگزر کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکا یہ سب کیوں کر بھلا کسی حتمی نصب العین کی تکمیل کا ذریعہ بنتے ہیں جو کسی واقعی خدا کی موجودگی میں ممکن نہ تھا۔

کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے

‘‘بیٹا، خدا بہت مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔’’

‘‘اگر وہ اتنا ہی مہربان ہے تو وہ زمین پر اتنے دکھ درد اور مصائب کیسے دیکھ سکتا ہے؟’’

میری والدہ اور میرے درمیان یہ مکالمہ کئی مرتبہ پیش آیا، اور لگتا ہے کہ جب سے میں نے اپنی فیملی کو بتایا ہے کہ میں ملحد ہوچکا ہوں، یہ گفتگو تواتر سے ہونے لگی۔

‘‘بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں ہم اپنے محدود ذہنوں سے کبھی نہیں سمجھ سکتے۔’’

‘‘میں جانتا ہوں، میں یہ ہزار بار سن چکا ہوں۔’’میں والدہ کو اکتاہٹ بھرے انداز میں جواب دیتا۔

‘‘جب بھی خدا کے عقیدے پر کوئی معقول اور مدلل اعتراض کیا جاتا ہے، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہماری عقل اس کے افعال کی حکمت کو سمجھنے کے لیے بہت محدود ہے۔ جو چیز مجھے زچ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ خدا کے وجود کے خلاف ہر قسم کے عقلی دلائل لا رہے ہیں، اور ہمیشہ ان سے جواب میں کہا جاتا ہے کہ ان کے دماغ اس بات کو سمجھنے کے لیے بہت چھوٹے ہیں— اور وہ اسے جوابی دلیل کے طور پر قبول بھی کر لیتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے اس سے وہ شک کرنا چھوڑ دیں گے؟’’

‘‘ہر شخص کے ذہن میں زندگی میں کبھی نہ کبھی شک ابھرتا ہی ہے۔ جب میں تمھاری عمر کی تھی تب مجھے بھی شک ہوتا تھا۔’’

‘‘تو پھر آپ اب تک خدا پر یقین کیسے کر رہی ہیں؟ اگر ہمیں کسی جہاز کے پائلٹ پر شک ہو تو ہم جہاز پر چڑھتے ہی نہیں۔ اگر ہمیں کسی دکان کے سامان پر شک ہو تو ہم اسے خریدنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر ہمیں کسی سیاست داں کی دیانت داری پر شک ہو تو اسے ووٹ نہیں دیتے۔ لیکن مذہب کے معاملے میں؟ ہمارے پاس بیسیوں مضبوط وجہیں ہیں اس پر شک کرنے کی، تب بھی لوگ اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ کیا مذہب لوگوں کا برین واش کردیتا ہے، یا پھر لوگ ابدی تعذیب پر شرط بد کر ایسی بات کی اندھی تقلید کیے چلے جاتے ہیں جس کا کوئی سرپیر ہی نہیں؟’’

‘‘عقیدہ خدا کا ایک تحفہ ہے جیف۔ جب تمھیں اس کا احساس ہوگا اس وقت تمھارے دل میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔’’

‘‘تو پھر خدا ہر شخص کو یہ تحفہ کیوں نہیں دیتا؟ وہ مجھے ہی یہ تحفہ کیوں نہیں دے دیتا؟’’

‘‘تمھیں عقیدے کے لیے خود کوشش کرنی ہوگی، بیٹا۔’’

‘‘میں نہیں جانتا۔ ایسا لگتا ہے گویا آپ کہہ رہی ہیں کہ میں شک کرنا بند کردوں، اپنے فطری جھکاؤ کو نظر انداز کردوں اور خود پر عقیدے کا جبر مسلط کرلوں۔ کیا یہ خود اپنی برین واشنگ کرنا نہیں ہوا؟’’

میری والدہ کہتیں: “فکر مت کرو، جیف، تمھیں ایک دن خدا ضرور ملے گا۔’’

‘‘آپ کو اس بات پر اتنا یقین کیسے ہے؟’’

وہ مسکرا کر جواب دیتیں: ‘‘کیوں کہ میری نانی کہا کرتی تھیں کہ پودے کی ڈنٹھل جس طرف مڑجاتی ہے، درخت اسی جانب پروان چڑھتا ہے۔’’

◇◇◇

جب فرشتوں نے تخلیقِ انسان کی خبر پر تعریض کی تو انسانوں کی سب سے پہلی فضلیت جسے خدا نے فرشتوں کے سوال کے جواب میں پیش کیا وہ انسانی عقل تھی۔ قرآن کی بات کا نچوڑ یہ ہے کہ انسانوں کی یہ خصوصیت خدا کی نظر میں فرشتوں کی معصومیت سے زیادہ قدر رکھتی ہے۔ یعنی ابتدا ہی سے قرآن یہ بات واضح کردیتا ہے کہ خدا نہ تو انسانوں سے فرشتہ بننے کی توقع رکھتا ہے اور نہ ایسا چاہتا ہے، بلکہ انسان اپنی تمام تر غلطیوں، لغزشوں، کم زوریوں اور تضادات کے ساتھ فرشتوں سے بھی عظیم تر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور انسانی عقل اس درجے پر فائز کرانے میں ان کی ممد و معاون ہوتی ہے۔ انسان کی روحانی جستجو میں عقل کو اس درجہ اہمیت دیے جانے پر مجھے انتہائی حیرت ہوئی۔ میں ہمیشہ یہ مانتا رہا تھا کہ عقل بالآخر عقیدے کے خاتمے کا سبب بنتی ہے، لیکن یہ کتاب تو کہتی ہے کہ عقیدہ ختم ہوجاتا ہے اگر عقل کو نظر انداز کیا جائے یا صحیح طور سے برتا نہ جائے!

قرآن کا منطقی اور بسا اوقات معلمانہ لہجہ اس کی بڑی خوبیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ایک بنیادی موضوع یہ ہے کہ لوگ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز یا مسترد کرتے ہیں اور مذہب میں فساد کا موجب بنتے ہیں کیوں کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ قرآن اپنے منکرین کے بارے میں کہتا ہے کہ ‘‘انھوں نے عقل سے کام لینے سے انکار کردیا ہے’’، ‘‘وہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے’’ ‘‘ قرآن ان سے پوچھتا ہے: ‘‘کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟’’  خدا نے نشانیاں، عبرتیں اتاریں اور انذار  پیش کیے تاکہ ‘‘شاید تم [منکرین] عقل سے کام لو۔’’

قرآن کے نقطہ نظر سے عقل اور عقیدہ ویسے ہی  دوست ہیں جیسے بے عقلی اور غلط عقیدگی، اور یہ انھی خطوط پر اس تصادم کو قائم کرتا ہے: ‘‘سیدھا راستہ گم راہی سے ممتاز کردیا گیا ہے’’  قرآن سے سبق لینے والے وہی لوگ ہیں ‘‘جو حقیقت میں دانش مند اور عقل رکھنے والے ہیں۔’’

انسانی روحانی ارتقا میں سیکھنا ایک کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ قرآن اپنے قاری کو ابھارتا ہے ‘‘پڑھو’’ کہ ‘‘تمھارے رب نے قلم استعمال کرنا سکھایا’’ اور اس کے ذریعے ‘‘انسانوں کو وہ سکھایا جو وہ شاید نہ جان سکتے۔’’ (سورۃ العلق:۱-۴) زندگی، فطرت، تاریخ اور قرآن میں خردمندوں کے لیے ‘‘نشانیاں’’ اور ‘‘عبرتیں’’ موجود ہیں۔  قرآن سو سے زیادہ مرتبہ واضح کرتا ہے کہ اس کے نزول کا مقصد ‘‘کھول کر بیان کردینا ہے۔’’خدا انسانوں کو براہ راست بھی سکھاتا ہے اور بالواسطہ بھی، اور بعض اوقات اتنے خفیف طریقے سے بھی کہ ہمیں اس کی ہدایت کا پتہ نہیں چلتا۔(سورۃالعلق: ۴-۵)  اس طرح وہ ہمیں مختلف طریقوں سے آزماتا بھی ہے۔

چوں کہ انسانی تخلیق میں حیاتِ ارضی کو ایک تعلیمی مرحلے کی طرح دکھایا گیا ہے، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یوم حساب کو قرآن میں بالکل اکادمی رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کالج کیمپس میں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد گریجویشن ڈے سے مختلف نہیں ہے۔ انسانوں کی تین زمروں میں درجہ بندی کی جائے گی۔ (سورۃ الواقعہ:۷)۔ ایمان کے پہلے درجے میں وہ ہوں گے جنھوں نے خدا کی فرماں برداری میں نمایاں کام یابی حاصل کی ہوگی، اور انھیں خدا کے سب سے قریب لایا جائے گا۔دائیں ہاتھ کے لوگ وہ ہوں گے جو آگے والوں کے درجے تک اگرچہ نہیں پہنچ سکے ہوں گے تاہم حیات ارضی کے دوران انھوں نے ٹھیک ٹھاک کارکردگی نبھائی ہوگی۔ انھیں پاس کرکے جنت میں داخلہ دے دیا جائے گا۔ بائیں ہاتھ والے لوگ وہ ہوں گے جو زندگی کے امتحان میں فیل ہوچکے ہوں گے اور اگلی زندگی میں انھیں اس کا دردناک انجام بھگتنا ہوگا۔ سب لوگوں کے تمام اعمال کا ریکارڈ، جس میں معمولی سے معمولی عمل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا، سامنے لایا جائے گا۔ گناہ گار لوگ اس دن شدید دہشت زدہ ہوں گے کیوں کہ انھیں اپنا انجام نظر آئے گا (سورۃ الکہف: ۴۹)۔ ناکام لوگوں کے چہرے خجالت اور وحشت سے اترے ہوں گے، جب کہ کام یاب لوگوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہوں گے (سورۃ الغاشیہ: ۱-۱۶) کام یاب لوگوں کو ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے مسرت سے دوسروں کو دکھاتے پھریں گے۔ ناکام لوگوں کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جسے وہ اپنی پشت کے پیچھے چھپائیں گے (سورۃ الحاقہ: ۱۹-۳۰؛سورۃ الفجر: ۱۰)۔ کام یاب لوگ نامہ اعمال ملنے پر جوش ِمسرت میں اپنے اہل خانہ کی طرف لپکیں گے، لیکن ناکام لوگ بے طرح ماتم کناں  ہوں گے۔ (سورۃ الفجر: ۷-۱۱)

قرآن عقیدے کے لیے عقلی اپروچ کی حوصلہ افزائی کے لیے دیگر وسائل کا بھی استعمال کرتا ہے۔ ایک عمومی امتیازی بیانیہ پیغمبروں اور ان کی قوموں کے درمیان عوامی مکالمے کا ہے، جس میں پیغمبرِ وقت کو عقلی برتری حاصل ہوتی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں ایسے کئی مکالمات کا تذکرہ ملتا ہے۔  جب ابراہیم علیہ السلام وقت کے بادشاہ کو کہتے ہیں کہ ان کا خدا وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے تو جابر بادشاہ کہتا ہے کہ وہ بھی یہ کام کرتا ہے۔ تب ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ان کا خدا وہ ہے جو سورج کو مشرق سے اگاتا ہے، اگر تو قادر ہے تو اسے مغرب سے طلوع کرکے دکھا (سورۃ البقرۃ: ۲۵۸)۔ اسی طرح جب ابراہیم  ؈کی قوم کے سردار ان پر شکنی کا الزام عائد کرتے ہیں، جو واقعی انھوں نے کی تھی، اور ان سے پوچھتے ہیں کہ اس کا قصوروار کون ہے، تو ابراہیم علیہ السلام اس تنہا بت کی جانب اشارہ کردیتے ہیں جسے انھوں نے دانستہ چھوڑ دیا تھا۔ سردار فوراً اس عقلی آزمائش کو سمجھ جاتے ہیں کہ اگر وہ کہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کا بیان مضحکہ خیز ہے تو ان بتوں کی عبادت بھی مضحکہ خیز ٹھہرتی ہے جنھیں وہ خود اپنے ہاتھوں سے تراش کر خدائی  کی مسند پر بٹھاتے ہیں۔ (سورۃ الانبیاء-: ۵۱-۷۱)

قرآن عام فکری غلطیوں کی نشان دہی کے لیے قصوں اور تمثیلوں کا کثرت سے استعمال کرتا ہے۔ مفصل شواہد کی بنا پر غلط نتیجے کیسے اخذ کیے جاتے ہیں، قرآن اس کی مثال اس طرح پیش کرتا ہے:

‘‘اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اُسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔’’(سورۃالاعراف: ۱۷۶)

یعنی ایک لاپروا شخص کہے گا کہ کتا اس لیے زبان لٹکائے ہوئے ہے کہ اسے کسی نے لات ماری ہوگی کیوں کہ حملہ کرنے پر کتے ایسا کرتے ہیں، اس حقیقت کا لحاظ کیے بغیر کہ وہ عام حالات میں بھی زبان لٹکائے رہتے ہیں۔

سورہ کہف میں قرآن بتاتا ہے کہ لوگ غیرمفید تفصیلات پر کس طرح بحث و جدال کرتے ہیں۔

‘‘کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو ! اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو۔ ’’(سورۃ الکہف: ۲۲)

انسانی مصائب کو بیان کرنے والے قصہ موسی و خضر میں (سورۃالکہف: ۶۰-۸۲) قرآن دکھاتا ہے کہ موسی علیہ السلام ناکافی شواہد کی بنیاد پر کس طرح بار بار غلط نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگ بھی ایسا ہی  کرتے ہیں۔  (جاری)

ستمبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau